Woh Ik Lamha E Mohabbat Novel By Sumera Shareef Toor – Episode 3

0

وہ اِک لمحہ محبت از سمیرا شریف طور – قسط نمبر 3

–**–**–

وہ شدت سے رو پڑی تھی۔ نجانے یہ سب اس کے کن گناہوں کی سزا تھا۔
میں کچھ نہیں بولوں گی مجھے جانے دو پلیز۔‘‘ وہ سسک اُٹھی تھی اور بازل خان چند لمحے ’’کھڑا اس کو روتے دیکھتا رہا تھا اور پھر آہستگی سے کمرے سے نکل گیا تھا۔
لائٹ آف تھی ہسپتال کی اندرونی عمارت میں جنریٹرز کی آواز سے رات کی تاریکی اور سناٹے
میں ارتعاش سا پیدا ہوا تھا۔ تبھی ہسپتال کی عمارت کے سامنے داخلی گیٹ سے قدرے پرے ایک
گاڑی آ ُرکی تھی۔ اپنی ڈیوٹی پر معمور منور خان چونک گیا۔ پچھلے دنوں اسی طرح رات کے وقت
ایک گاڑی آئی تھی اور ڈاکٹر ربدا کو اُٹھا کر لے گئی تھی اور جب تک ہسپتال کا عملہ ہوشیار ہوتا
وہ گاڑی زن سے بھاگ گئی تھی۔ تب سے اس ہاسپٹل میں سیکیورٹی کا نظام پہلے سے زیادہ
چوکس ہو گیا تھا۔ ان دیکھے کیمرے نصب تھے مگر لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے صرف عمارت کا
اندرونی حصہ ہی جنریٹرز کی بدولت روشن تھا۔ داخلی حصہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔
منور خان نے دیکھا گاڑی کے پچھلے حصے سے کسی نے دروازہ کھول کر کسی وجود کو باہر دھکیلا
تھا۔ ایک پل کو اس کے ذہن میں یہی خیال آیا تھا کہ کوئی ایمرجنسی آئی ہے مگر اگلے ہی پل وہ
نقاب پوش شخص کو دیکھ کر چونک گیا تھا۔ گاڑی اس وجود کو زمین پر ڈال کر زن سے بھاگ گئی
تھی۔
بالکل چند دن پہلے والی صورتحال تھی بس اس بار فرق یہ تھا کہ اس دفعہ وہ کسی کو لے کر
جانے کی بجائے چھوڑ کر گئے تھے۔
منور خان بھاگ کر اس وجود کے پاس آیا تھا ٹارچ کی روشنی اس وجود پر ڈالی تو پتا چلا کہ وہ
نسوانی وجود ہے۔
اوئے یہ تو ڈاکٹر ربدا ہے۔ اس دن جو اغوا ہوا تھا۔‘‘ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔’’
یہ تو مر گیا ہے شاید…‘‘ آنکھوں پر نا صرف پٹی بندھی ہوئی تھی بلکہ دونوں ہاتھ بھی پشت پر ’’
رسی سے بندھے ہوئے تھے۔ بے حس و حرکت وجود کو دیکھ کر منور خان کی تشخیص یہاں تک
ہی تھی۔
پھر وہ اندھا دھند اندر بھاگا تھا اور پھر چند لمحوں بعد ہی ہسپتال کا عملہ گیٹ کے سامنے تھا۔
یہ تو زندہ ہے… بیہوش ہے۔‘‘ کسی ڈاکٹر نے اس کی نبض چیک کر کے کہا تو چہار سو کھلبلی ’’
مچ گئی تھی۔
اسٹریچر لائو… ہری اپ… اندر لے چلتے ہیں۔‘‘ اسی ڈاکٹر نے کہا تو کوئی اور پکارا۔’’
‘‘بٹ ڈاکٹر صاحب یہ تو پولیس کیس ہے۔’’
تو پولیس کیس سمجھ کر کیا اس کو ادھر ہی پڑا رہنے دیں۔ یہ تو بڑا غیر انسانی سلوک ہے۔‘‘ ’’
کوئی اور پکارا تھا اور پھر وہ لوگ اسے ہاسپٹل کے اندر لے آئے تھے۔ کچھ دیر میں پولیس اور
ہاسپٹل کے مالکان بھی پہنچ چکے تھے کیونکہ ڈا کٹر ربدا رات کی شفٹ میں ڈیوٹی آورز کے بعداسی گیٹ سے اغوا ہوئی تھیں اور اب اسی گیٹ پر مل گئی تھیں۔
وہ بیہوشی کی دوائیوں کے زیر اثر تھی۔ وہ رات کے آخری گھنٹوں میں ملی تھی۔ دوائیوں کا اثر
زائل ہونے میں کئی گھنٹے لگ گئے تھے صبح نو بجے کے قریب اسے ہوش آیا تو پولیس فوراً اس کا
بیان لینے کو سر پر موجود تھی۔
آپ کو کون لوگ لے کر گئے اور پھر واپس کیوں چھوڑ گئے۔‘‘ پولیس کا سربراہ پوچھ رہا تھا۔ اس ’’
کے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
مجھے نہیں پتا وہ کون لوگ تھے اور کیوں لے کر گئے تھے۔ مجھے کچھ نہیں پتا۔‘‘ وہ جو پہلے ہی ’’
اس درجہ اذیت میں مبتلا تھی پھر شدت سے رو دی۔
اس کا باپ چھن گیا تھا اب اس کے اندر اپنے باقی ماندہ خاندان کو برباد کرنے کا حوصلہ نہ تھا اس
کے ساتھ جو بھی ہو چکا تھا اب اسے حوصلے سے برداشت کرنا تھا یہ تو وہ اس تہ خانے سے نکلنے
سے پہلے ہی طے کر کے آئی تھی کہ اسے اب اس شخص کی ہر بات ماننی ہے۔
دیکھیں بی بی! یہ پولیس کیس بن چکا ہے۔ آپ کو شاید علم نہیں کہ آپ کے والد آپ کی ’’
گمشدگی کے سبب ہارٹ اٹیک کا شکار ہو کے دنیا سے ُرخصت ہو چکے ہیں۔ ہمیں بتائیں آپ کے
‘‘اغوا کرنے والوں کا کیا مقصد تھا اور پھر بغیر کسی ڈیمانڈ کے واپس کیوں چھوڑ گئے۔
میں سچ کہہ رہی ہوں مجھے کچھ علم نہیں۔ وہ کون لوگ تھے اور ان کا کیا مقصد تھا؟ ہاں اتنا ’’
جانتی ہوں کہ وہ کسی اور کی غلط فہمی میں مجھے اُٹھا کر لے گئے تھے اور پھر جب انہیں
حقیقت کا اندازہ ہوا تو وہ مجھے واپس چھوڑ گئے۔‘‘ بخش دین کا سکھایا ہوا سبق وہ دہرا رہی
تھی۔ ان سب لوگوں نے حیرت سے اسے دیکھا اس کے ارد گرد پولیس کے علاوہ ہسپتال کا عملہ
بھی تھا۔
وہ کس کی غلط فہمی میں آپ کو لے کر گئے تھے۔ کچھ پتا چلا اس شخصیت کے بارے میں جس ’’
کو اُٹھانا تھا۔‘‘ اس کے بیان نے اردگرد موجود لوگوں کے دلوں میں اک کھلبلی سی مچا دی تھی
اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔
‘‘وہ کس قسم کے لوگ تھے اگر آپ کے سامنے آئیں تو کیا پہچان لیں گی۔’’
مجھے ان کی شکلیں یاد نہیں ہیں۔ وہ ہمہ وقت نقاب کیے رکھتے تھے۔‘‘ پولیس آفیسر نے ’’
ہسپتال کے چیئر پرسن ڈاکٹر عبدالماجد صاحب کو دیکھا۔
میرا خیال ہے یہ واقعی غلط فہمی کی بنا پر کیا جانے والا اغوا ہے۔ خیر آپ مکمل میڈیکل رپورٹ ’’
‘‘تیار کر لیں۔ ہمیں ایک دو بار مزید چکر لگانا پڑے گا۔ بہرحال تفتیش تو کرنی ہے۔
مگر اس سارے واقعے سے میرے ہسپتال کی ساکھ بُری طرح مجروح ہوئی ہے۔ نیوز پیپرز نے اس ’’
واقعے کو بہت اُچھالا ہے۔ اب یہ نئی صورتحال آپ سمجھ سکتے ہیں میرے ہاں کام کرنے والیلیڈی اسٹاف اور آنے والی لیڈیز پیشنٹس کا اس کے متعلق کیا ری ایکشن ہو سکتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر
عبدالماجد کا ردعمل بُرا تھا۔ ربدا نے خوفزدہ نظروں سے سب لوگوں کو دیکھا۔
پلیز ڈاکٹر ربدا کی کنڈیشن آل ریڈی خاصی خراب ہے۔ مینٹلی نارمل نہیں ہیں یہ۔ آپ باہر چل کر ’’
ڈسکشن کر لیں۔‘‘ ڈاکٹر شہناز اس کے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لیتے ٹوکنے لگیں تو سب لوگ
روم سے نکل گئے تھے۔
ڈاکٹر ربدا کیا واقعی تمہیں نہیں علم کہ وہ کون لوگ تھے اور کس کو اُٹھوانا چاہتے تھے۔ یار ’’
تعاون کرو۔ تمہاری زندگی تو برباد ہو ہی گئی ہے کم از کم اس انجانے وجود کو ہی بچایا جا سکے۔‘‘
ڈاکٹر شہناز کہہ رہی تھیں وہ رو دی۔
میں سچ کہہ رہی ہوں ڈاکٹر مجھے کچھ پتا نہیں۔ پلیز میری فیملی کو بلوا لیں میں گھر جانا ’’
‘‘چاہتی ہوں۔
اوکے میں سر سے بات کرتی ہوں تم انڈر ابزرویشن ہو۔ پولیس اور سر کی اجازت پر ہی تمہاری ’’
فیملی کو اطلاع کی جا سکتی ہے۔ تم ریلیکس رہو۔ ذہن پر بوجھ ڈالنے کی قطعی ضرورت نہیں۔
اوکے۔‘‘ وہ اس کا چہرہ تھپتھپا کر باہر نکل گئی تھیں۔
وہ ہاسپٹل سے گھر آ گئی تھی۔ نومان، ثوبان اطلاع ملنے پر فوراً ہسپتال پہنچے تھے اور پھر ان کے
ساتھ وہ گھر آ گئی تھی۔ اس کی مکمل میڈیکل رپورٹ پولیس ایونٹ کے طور پر بالکل کلیئر آئی
تھی مگر مینٹلی کنڈیشن اس کی خراب ہی رہی تھی۔ اس کے ساتھ جو کچھ بھی ہو چکا تھا اس
سب صورتحال میں وہ ذہنی طور پر ڈسٹرب نہ ہوتی تو اور کیا ہوتا۔
ماما اور شارقہ کا رویہ اس کے ساتھ پہلے سے بڑھ کر کیئرنگ ہو گیا تھا مگر اسے سنبھلنے میں
اب بھی وقت لگتا۔
پاپا کے انتقال کے بعد وہ واحد ان کا سہارا تھی ماما عدت میں تھیں مگر اس حالت میں ماما اور
باقی سب اسے سنبھال رہے تھے۔ پھوپھو وغیرہ نے تمام تعلقات توڑ لیے تھے بلکہ دیگر رشتہ داروں
نے بھی پلٹ کر خبر نہ لی تھی ہاں اس کی واپسی پر ہر کوئی متجسس ضرور تھا۔ وہ دنیا کے
سامنے ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی تھی۔ اس نے ایک دو دن سنبھلنے کے بعد بینش کے گھر
کال کی تو اس کی ملازمہ نے پک کی تھی۔
بی بی صاحب کہہ رہی ہیں کہ وہ بات نہیں کرنا چاہتیں اور نہ ہی دوبارہ کال کیجیے گا۔ وہ اب ’’
آپ سے کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتیں۔‘‘ ربدا کئی لمحوں تک حیرت زدہ رہ گئی تھی۔ بینش
ایسی مطلب پرست لڑکی ہو گی وہ تصور تک نہیں کر سکتی تھی۔ کیا بینش آگاہ ہے کہ اسے اغوا
کرنے والا کون تھا۔ وہ مسلسل سوچتی رہی اور جی چاہا کہ بینش کے پاس ضرور جائے اور اس سےاس درجہ ظلم کی وجہ پوچھے۔
اس نے جس طرح پولیس کے سامنے لا علمی کا اظہار کیا تھا اب بھی اپنے گھر والوں سے بھی اس
نے چھپا لیا تھا کیا فائدہ پھر بتانے کا بھی۔ پاپا تو رہے نہیں تھے شارقہ، نومان اور ثوبان اس کے
سامنے ایک سوالیہ نشان بنے کھڑے تھے۔ رہ گئیں ماما وہ انہیں بتا کر پریشان نہیں کرنا چاہتی
تھی مگر اس نے دل میں پکا ارادہ ضرور باندھ لیا تھا کہ وہ بینش کے پاس ضرور جائے گی اور اس
ظلم کا سبب جاننے کی کوشش ضرور کرے گی۔
وہ پورے ایک ماہ بعد دوبارہ ہسپتال جوائن کر رہی تھی۔ ڈاکٹر شمسہ اسے دیکھ کر بہت خوش
ہوئی تھی۔ باقی سٹاف ممبران کا ردعمل بھی عجیب و غریب سا تھا۔ وہ اب ایک ماہ کے عرصے
میں آہستہ آہستہ لوگوں کے ردعمل کی عادی ہوتی جا رہی تھی۔ سو نظر انداز کیے ڈاکٹر شمسہ
کے ساتھ ہی بیٹھی رہی تھی۔
نو بجے کے قریب ڈاکٹر عبدالماجد آئے تو انہوں نے آتے ہی اسے بلوا لیا وہ سر کے آفس میں آئی تو
وہ منتظر ہی تھے۔
بیٹھیے۔‘‘ وہ خاموشی سے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔’’
آپ کے ساتھ ہونے والے حادثے کے دوران آپ کے والد صاحب گزر گئے۔ میں بس ہسپتال کی ’’
‘‘مصروفیات کی وجہ سے خصوصی طور پر تعزیت کے لیے نہ آ سکا۔
‘‘کوئی بات نہیں سر۔’’
آپ دوبارہ ہسپتال جوائن کر رہی ہیں کیا؟‘‘ وہ پوچھ رہے تھے۔’’
‘‘…جی سر’’
دیکھیں ڈاکٹر ربدا! یہ ایک چھوٹا سا پرائیویٹ ہسپتال ہے۔ آپ ایک ذہین اور قابل ڈاکٹر ہیں۔ ’’
ہماری کوشش ہوتی ہے کہ پبلک کو ایسا سٹاف مہیا کریں جو ہر لحاظ سے قابل اعتبار ہو۔‘‘ ڈاکٹر
عبدالماجد کہہ رہے تھے اور ڈاکٹر ربدا خاموشی سے انہیں دیکھ رہی تھی۔
آپ نے ہمارے ہاں تین ماہ کام کیا ہے۔ آپ ایک بہت اچھی ڈاکٹر بن سکتی ہیں۔ آپ میں بہت ’’
ایبلیٹز ہیں۔ بہت پوٹنشل ہے بٹ بیٹا۔‘‘ وہ ُرک گئے تھے۔
آپ کے ساتھ ہونے والے اس حادثے سے میرے اس ہسپتال کی ساکھ بہت بُری طرح متاثر ہوئی ’’
ہے۔ آپ کو کڈنیپ کرنے والوں کا جو بھی مقصد تھا مگر میرے ہسپتال کی بہت بدنامی ہوئی ہے
پبلک اور نیوز پیپرز نے اس حادثے پر سارا الزام ہمارے سر تھوپنے کی کوشش کی تھی وہ تو اللہ کا
شکر تھا کہ آپ کو چھوڑ دیا ان لوگوں نے اور ہماری بچت ہو گئی لیکن میں انتہائی معذرت کے
ساتھ کہہ رہا ہوں کہ میں آپ کو اب مزید اپنے ہسپتال میں نہیں رکھ سکتا۔سلیکشن پینل کے ممبران کی بھی یہی رائے ہے۔ یہ ہاسپٹل کی انتظامیہ کا مشترکہ فیصلہ ہے۔
ایم سوری۔‘‘ ربدا بے حس و حرکت بیٹھی رہ گئی تھی۔ نومان، ثوبان کے سکول کے اخراجات،
شارقہ نے آگے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینا تھا دیگر گھریلو اخراجات۔ اسے لگا کہ اس کی آنکھوں
کے سامنے اندھیرا آ گیا ہے۔
مگر سر…‘‘ اس نے کچھ کہنا چاہا تھا۔’’
میں مجبور ہوں ڈاکٹر ربدا! آپ کے حوالے سے بہت ہی سیریس قسم کا ایشو چل نکلا ہے۔ بے ’’
شک پولیس وغیرہ نے آپ کے بیان کے بعد آپ کی فائل بند کر دی ہے مگر پبلک آپ کی فائل بند
کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ میں اپنے سٹاف اور مریضوں کو صاف ستھرا اور ُپرسکون ماحول فراہم
کرنا چاہتا ہوں۔ پلیز آپ ہمارا پرابلم سمجھنے کی کوشش کریں۔‘‘ اس کی عزت نفس کو پامال کیا
جا رہا تھا۔ اس کے کردار و الفاظ پر شک کیا جا رہا تھا۔ وہ حیرت سے گنگ رہ گئی۔
یہ آپ کی پچھلے ماہ کی تنخواہ ہے۔ ساتھ ہی آپ کے پچھلے تین ماہ کے بقایا جات اور بونس ہے۔ ’’
رئیلی مجھے خود بہت ُدکھ ہے کہ میں خود ایک قابل ڈاکٹر کی خدمات سے محروم ہو رہا ہوں۔‘‘
انہوں نے اس کے سامنے سفید لفافہ رکھ دیا تھا۔
ربدا پھر بھی ساکت بیٹھی رہ گئی۔ یعنی اس کی سیاہ بختی کا آغاز ہو چکا تھا۔ دل چاہا کہ
سامنے بیٹھے شخص کو بے نقط سنا ڈالے مگر کس بنیاد پر۔ اس کو سرد و گرم سے بچانے والا اس
کا باپ اب اس دنیا میں نہیں رہا تھا اور نہ ہی اس کے پاس دولت جیسی طاقتور شے تھی جو اس
کے سب عیب چھپا لیتی۔ لوگوں کے منہ بند کر دیتی۔
آپ پلیز اب جا سکتی ہیں۔‘‘ کیسی بے رحمی تھی وہ تڑپ اُٹھی۔’’
یکھا
کچھ کہنا چاہا مگر زبان تالو سے چمٹ گئی آنسو بھری آنکھوں سے سامنے بیٹھے شخص کو د
اور جی چاہا کہ لفافہ اُٹھا کر اس شخص کے منہ پر دے مارے مگر مار نہ سکی۔ اس لفافے میں
موجود چند کاغذوں کی اسے اشد ضرورت تھی۔ بمشکل اپنے ُمردہ وجود کو لیے اُٹھی تھی۔
اپنا بیگ اور چادر لینے وہ ڈاکٹر شمسہ کے روم میں آئی تو وہ اسے دیکھ کر چونک گئی۔
ڈاکٹر ربدا! کیا ہوا؟‘‘ اس نے فوراً اس کا ہاتھ تھام کر کرسی پر بٹھایا ورنہ وہ شاید یہیں گر جاتی۔’’
پلیز بتائو کیا ہوا؟ تمہیں تو عبدالماجد صاحب نے بلوایا تھا نا… پلیز ٹیل می کیا کہا انہوں نے۔‘‘ وہ ’’
پوچھ رہی تھی اور ربدا شدت سے رو دی۔
انہوں نے مجھے یہاں سے فارغ کر دیا ہے۔‘‘ شمسہ نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔’’
‘‘مگر کیوں؟’’
وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے سٹاف اور مریضوں کو ایک صاف ستھرا اور ُپرسکون ماحول دینا چاہتے ’’
ہیں۔‘‘ ڈاکٹر شمسہ پل میں ساری بات سمجھ گئی۔اوہ… ویری بیڈ…‘‘ ُدکھ سے اس نے ربدا کا ہاتھ تھام لیا۔’’
ڈاکٹر شمسہ امیر دولت مند باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ اس کا ارادہ اپنا ہسپتال اسٹیبلش کرنے
کا تھا مگر اس سے پہلے وہ تجربے کے لیے جاب کر رہی تھی۔ وہ اس کے گھر کے مسائل سے اچھی
طرح آگاہ تھی۔ بینش اس کی سکول فیلو تھی جبکہ شمسہ میڈیکل میں اس کی دوست تھی۔
اس نے تمام لوگوں کی طرح اس کے اغوا کا سن کر رابطہ ختم نہ کیا تھا۔ وہ سمجھ سکتی تھی کہ
ایسے حالات میں یہ جاب ربدا کی فیملی کا کتنا بڑا سہارا بن سکتی تھی۔ وہ خاموشی سے اس
کا ہاتھ دبادتی رہی۔
یہ عبدالماجد صاحب بڑے ڈپلومیٹ انسان ہیں۔ تم فکر نہیں کرو۔ انسان کچھ بھی کر لے مگر رہے ’’
گا تو انسان ہی نا۔ داتا تو نہیں بن جائے گا۔ ایک در بند ہو تو پروردگار کوئی اور در کھول دیتا ہے۔ تم
حوصلہ رکھو… اپنے گھر والوں کے لیے تم ہی واحد سہارا اور اُمید ہو۔ اگر تم ہی حوصلہ ہار گئیں تو
پھر ان کو کون سنبھالے گا۔ فکر نہیں کرو میں کل گھر آئوں گی تو مل کر سوچیں گے کہ کیا کرنا
‘‘ہے۔
کیسے فکر نہ کروں شمسہ، پاپا کی ڈیتھ کے بعد واجبات کے لیے ابھی تک کوئی کارروائی شروع ’’
نہیں کی گئی اور جو واجبات ہیں آخر وہ کب تک ہمارا ساتھ دیں گے۔ اوپر سے گھر خالی کر دینے کا
نوٹس۔ میں کل پاپا کے آفس گئی تھی۔ اپلیکیشن دے کر آئی ہوں کہ جب تک ماما کی عدت ہے
ہمیں اس گھر میں ہی رہنے دیا جائے مگر اس کے بعد ہم کہاں جائیں گے۔ شارقہ گریجویشن کے
بعد یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینا چاہتی تھی نومان ثوبان کے لیے پاپا نے نجانے کیا کیا خواب
دیکھے تھے اور میں میری تعلیم کے لیے پاپا نے اتنا کچھ کیا۔ ورنہ سفید پوش گھرانوں میں میڈیکل
تعلیم محض ایک خواب ہوتی ہے۔ انہوں نے میرے لیے اتنا کچھ کیا اور بدلے میں میری طرف سے
انہیں کیا ملا ذلت رسوائی۔ میں تو اپنی ہی نظروں میں گر چکی ہوں مجھے ایک ایسے جرم کی
سزا مل رہی ہے جو میں نے کیا ہی نہیں۔‘‘ شمسہ کا اپنا دل بھر آیا۔
اب میں چلوں گی۔ تم بہت اچھی ہو شمسہ تم نے اور لوگوں کی طرح مجھے دھتکارا نہیں۔ پتا ’’
نہیں اب کب ملنا ہو۔ ایک درخواست ہے کبھی کبھار ملتی رہنا… پلیز۔‘‘ کچھ دیر بعد خود کو
سنبھالتے اس نے ٹیبل سے اپنا بیگ اور چادر اُٹھا کر کہا تو شمسہ گم صم سی رہ گئی۔
میں ایسی نہیں ہوں اور نہ ہی میری فیملی ایسی سطحی سوچ کی حامل ہے۔ میں ضرور ملتی ’’
رہوں گی اور پھر اس میں تمہارا کیا قصور ہے۔ لوگ کچھ بھی سوچیں، جو مرضی کہیں میرا
تمہارا ایک دو دن کا ساتھ نہیں جو بدظن ہو جائوں اور رہی تمہارے ساتھ ہونے والے سانحے کی
بات تو پولیس بے شک فائل بند کر چکی ہے اگر تم کہو تو میں ری اوپن کروائوں۔ پتا تو چلے کہ وہ
‘‘کون لوگ تھے۔نہیں… جب ہم کچھ جانتے ہی نہیں تو کن کے خلاف اُٹھیں۔ یہ واقعی غلط فہمی کی بنیاد پر ’’
ہونے والا اغوا تھا۔ میں نے اپنا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔ پاپا کے بعد اب مزید کسی اور نقصان کی
میں متحمل نہیں ہو سکتی۔ میری فیملی ہی میرا سب کچھ ہے اور اپنے بہن بھائیوں کے لیے میں
نے اس قصے کو ہی ختم کر دیا ہے۔ اب میرے لیے اپنی ذات سے بڑھ کر اپنی ماما اور بہن بھائیوں
‘‘کا مستقبل اہم ہے۔
شمسہ نے ربدا کو دیکھا کبھی وہ کس قدر ُپراعتماد بہادر اور دو ٹوک انداز کی مالک ہوتی تھی۔
انتہائی ذہین اور قابل لڑکی آج زمانے کے سرد و گرم سہہ رہی تھی۔ حالات نے اسے کیا سے کیا بنا
ڈالا تھا۔ اسے اس پر بے حد ترس آیا۔
اوکے میں چلتی ہوں اب۔‘‘ چادر اپنے وجود کے گرد لپیٹ کر وہ اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔’’
میں کل ان شاء اللہ چکر لگائوں گی اور پھر مل کر سوچیں گے کہ آگے کیا کرنا ہے۔‘‘ شمسہ کی ’’
بات پر سر ہلاتی وہ کمرے سے باہر نکل آئی تھی۔
وہ بی بی جان کے بلانے پر کئی ماہ بعد حویلی آیا تھا اور اپنے بیٹے انیق کو دیکھ کر کیسے بکھر کر
رہ گیا تھا خوبصورت صحت مند انیق بہت کمزور ہو چکا تھا جب وہ چند دنوں کے انیق کو چھوڑ کر
گیا تھا تو وہ بہت صحت مند بچہ تھا اور اب بازل خان کے اندر ُدکھ پلنے لگے۔
ماں تو اس کی مر گئی تھی مگر جیتے جی اس نے اپنے بیٹے کو خود سے بھی محروم کر لیا تھا۔
بات سن پتر! اب تو کہیں نہیں جائے گا۔ تیرے باپ اور تیری لڑائی میں مجھ نمانی اور اس بچے ’’
کا کیا قصور ہے۔ ترس نہیں آ رہا تجھے اس پر… ماں کی محبت کا اگر احساس نہیں تو اس کی
جا
خاطر ہی ُرک …‘‘ بی بی جان آبدیدہ ہو گئیں تو اس کے اندر موجود ُدکھ لاوے کی طرح پھٹنے لگا۔
میں نے قسم کھا لی ہے بی بی جان جب تک میں ہر الزام سے بری نہیں ہو جاتا مجھ پر ہر طرح ’’
کی نعمت حرام ہے۔ میں یہاں رہتا ہوں تو اس حویلی کی وحشت مجھے کھانے کو دوڑتی ہے۔ گزرے
دنوں کی اذیت ناگن کی طرح ڈستی ہے۔ بی بی جان مجھے ہر طرف سارہ نظر آتی ہے۔ میں سب
برداشت کر گیا تھا۔ ہر الزام، ہر اذیت مگر سارہ کی وہ بے اعتبار نگاہیں بھولتی نہیں مجھے بی بی
جان! وہ بغیر کچھ کہے چلی گئی اور مجھے جیتے جی مار گئی۔ میرا جی چاہتا ہے کہ ہر طرف آگ
لگا دوں ہر چیز تہس نہس کر دوں۔ وہ جو میری ذلت کا سبب ہے اسے اپنے ہاتھوں سے زندہ درگور
کر دوں۔‘‘ بی بی جان کے دل پر کسی نے ہاتھ ڈال دیا۔
اتنے ماہ گزرنے کے باوجود اس کی ذہنی حالت وہی تھی۔
نہ پتر نہ… جذباتی نہیں ہوتے۔ غصہ عقل کو کھا جاتا ہے اور غصے میں انسان گناہ تک کر لیتا ہے۔ ’’
‘‘صبر سے کام لے۔ صبر سے پتر۔نہیں ہوتا صبر… آگ لگی ہے میرے اندر… کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا… کچھ سمجھ نہیں آتا بی بی ’’
جان کہ کیا کروں۔‘‘ بی بی جان نے اس کی پیشانی چوم لی۔
میں صدقے… میں قربان… ایسی باتیں نہ کرو ماں کے دل کو تکلیف ہوتی ہے۔ میں تو تمہارا ’’
اعتبار کرتی ہوں نا۔ یہاں سب تمہارا اعتبار کرتے ہیں۔ تیرے بھائی، بھابیاں سب تجھے جانتے ہیں۔
بس تیرے بابا کو غصہ ہے۔ تو دل پر مت لے۔‘‘ انہوں نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔
وہ اصول پسند ہیں۔ ظلم اگر مزارعے کے ساتھ بھی ہو تو برداشت نہیں کرتے۔ تو فکر نہ کر بڑی ’’
‘‘جلدی انہیں احساس ہو جائے گا کہ تم غلط نہیں ہو۔
کیا فائدہ ایسے احساس کا… ان کے احساس سے میری سارہ تو واپس نہیں آ جائے گی۔‘‘ اس کا ’’
لہجہ زہر خند تھا بی بی جان خاموش ہو گئیں۔
بی بی جان…‘‘ کچھ پل بعد اس نے پکارا تو انہوں نے اسے دیکھا۔’’
‘‘ہوں۔’’
وہ خطوط اور تصاویر کدھر ہیں؟‘‘ وہ چونکی تھیں۔’’
‘!‘میرے پاس ہیں۔ کیوں خیریت پتر’’
مجھے ضرورت ہے ان کی… میں بطور خاص اس لیے آیا ہوں کہ وہ ثبوت حاصل کروں۔ سارہ تو ’’
چلی گئی مگر میں ایک الزام لے کر زندگی نہیں گزار سکتا۔ میں پتا کرنا چاہتا ہوں کہ اس لڑکی نے
کیوں میرے ساتھ اتنا گھنائونا کھیل کھیلا۔‘‘ اس کی نس نس میں زہر پھیلا ہوا تھا۔ کس قدر
وحشیانہ انداز تھا۔ بی بی جان اُٹھیں۔
مگر اب کیا فائدہ ُتو مٹی ڈال سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ انہوں نے سرسراتے لہجے میں کہا تو وہ ’’
پھنکارا۔
ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے سے بس مجھ پر جھوٹا جرم ہی ثابت ہو گا۔ میں سب حقیقت جاننا ’’
‘‘چاہتا ہوں بی بی جان۔
ربدا لا علم تھی اور وہ اس کی لاعلمی پر اُلجھ گیا تھا کس قدر حیرت تھی اس کے ہر انداز میں۔ وہ
لڑکی استعمال کی گئی تھی یا واقعی بے قصور تھی وہ خود بھی اُلجھ گیا تھا اور اب وہ یہی
اُلجھن ہی تو سلجھانا چاہتا تھا۔
ڈاکٹر ربدا اس کی دھمکی پر جس طرح فوراً اس کا ساتھ دینے پر مان گئی تھی اور رہا ہونے کے
بعد اس نے اس کے خوف سے جو بھی بیان دیا تھا اس بیان نے اسے مزید اُلجھا دیا تھا۔ اگر وہ
محض اس کی دھمکی کے خوف سے غلط بیان دینے پر مجبور ہو گئی تو بھی ڈاکٹر ربدا کی
لاعلمی ہی اس کو اُلجھا گئی تھی ورنہ وہ شاید اسے کبھی رہا نہ کرتا۔ رفیق اس پر اور اس کے
گھرانے پر ابھی بھی نگاہ رکھے ہوئے تھا۔ اس کی اغوا کی فائل بند ہو چکی تھی۔ اگر وہ چاہتی تواس کا نام لے کر اسے کٹہرے میں کھڑا کر سکتی تھی خصوصاً بینش سے تو رابطہ کرنے کی
کوشش کرتی مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا تھا وہ اس ساری صورتحال سے اُکتا کر اصل ثبوت لینے
یہاں چلا آیا تھا اب وہ کچھ اور لائحہ عمل ترتیب دینا چاہتا تھا۔
تم ادھر ہی رہو گے نا؟‘‘ بی بی جان نے پوچھا تو اس نے انیق کو پیار کیا۔’’
‘‘پتا نہیں… انیق کو کون سنبھالتا ہے؟’’
‘‘شائستہ ہی دیکھتی ہے۔ ہر وقت اس کے پاس ہی رہتا ہے۔’’
‘‘تنگ تو نہیں کرتا انہیں۔’’
لو اتنا سا بچہ بھلا کسی کو کیا خاک تنگ کرے گا۔ بس اوپری دودھ سے بیمار ہو گیا تھا۔ ویسے ’’
بڑا صابر بچہ ہے۔ اپنی ماں کی طرح ہے۔ شائستہ کے ساتھ ہل گیا ہے۔ اچھا شگون ہے۔ کل کو
تمہاری بیوی آ جائے گی تو پریشان نہ ہو گی۔‘‘ بازل خان نے چونک کر بی بی جان کو دیکھا۔
‘‘کیا مطلب…؟’’
تیرے بابا چاہتے ہیں کہ اب تیری شادی کر دی جائے۔‘‘ انہوں نے نگاہیں چراتے انکشاف کیا تھا اور ’’
بازل خان حیرت زدہ رہ گیا تھا۔
ہر گز نہیں… آپ لوگوں نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا۔‘‘ وہ پھٹ پڑا تھا۔’’
سارہ کے بعد اب تو ساری عمر ایسے تو نہیں گزار سکتا۔‘‘ انہوں نے کہنا چاہا مگر اس نے ان کی ’’
بات کاٹ دی۔
بس بی بی جان! میری شادی کا خیال دل سے نکال دیجیے۔ سارہ کے بعد کوئی بھی اس کی ’’
جگہ نہیں لے سکتا۔ بے شک وہ مجھے سچائی بتانے کا موقع دئیے بغیر دل میں بے اعتباری لیے
اس دنیا سے چلی گئی مگر ہماری محبت کی نشانی میرا بیٹا ہمارا انیق زندہ ہے۔ میں نے کبھی
‘‘شادی نہیں کرنی اب۔
پر تیرے بابا تیرے چاچا سے بینش کے لیے بات کر چکے ہیں۔‘‘ وہ حیرت سے گنگ دیکھتا رہ گیا۔’’
بینش… مائی فٹ ایسی لڑکی پر میں کبھی نگاہ ڈالنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ آپ جانتی ہیں کہ ’’
میں نے پہلے بھی اس سے شادی سے کیوں انکار کیا تھا۔ وہ ایک ایسی بدتہذیب بگڑی ہوئی
لڑکی ہے جسے اپنی تو کیا کسی کی بھی عزت بے عزتی کا کوئی احساس نہیں۔ بطور کزن میں
تھا
اسے برداشت تو کر سکتا ہوں آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ جسے میں پہلے ریجیکٹ کر چکا
‘‘وہ اب پھر میری زندگی میں داخل ہو جائے۔ اٹس امپاسبل۔
پر پتر تیرے چاچا نے خود تیرے بابا سے بات کی تھی۔ تیرے بابا راضی ہیں وہ تھوڑی سی آزاد ’’
خیال لڑکی ضرور ہے مگر اب اتنی بھی بُری نہیں۔‘‘ انہوں نے سمجھانا چاہا۔
بی بی جان وہ آزاد خیال ہی نہیں بلکہ ماڈرن ازم کے نام پر ایک دھبہ ہے۔ اگر مجھے اسے قبول ’’ہی کرنا ہوتا تو میں برسوں سے طے ہوئی اپنی اور اس کی بات کو ختم کروا کر سارہ سے شادی نہ
کرواتا۔‘‘ اس نے زہر خند لہجے میں کہتے صاف انکار کر دیا تھا۔
‘‘میں نے تمہیں اسی لیے بلوایا تھا تیرے بابا صاحب بضد ہیں اس رشتے پر۔’’
بی بی جان مجھے مجبور مت کریں۔ یہ نہ ہو کہ میں انیق کو لے کر ہمیشہ کے لیے آپ لوگوں کی ’’
دنیا سے نکل جائوں۔ ہر چیز ہر رشتے سے میرا اعتبار اُٹھتا جا رہا ہے بی بی جان میں یہ سوچ بھی
نہیں سکتا کہ بینش نام کی تباہی کے گڑھے میں آپ بھی مجھے دھکیلنے والوں میں شامل ہو
سکتی ہیں۔‘‘ بی بی جان خاموش ہو گئی تھیں۔
آپ بابا صاحب کو صاف کہہ دیں میں نے اب کبھی شادی نہیں کرنی۔ نہ ہی بینش سے اور نہ ہی ’’
کسی ایکس وائی زیڈ سے۔ سارہ آپ لوگوں کے لیے غیر نہ تھی بینش اگر چچا کی بیٹی ہے تو وہ
پھوپھی زاد تھی بڑی حیرت ہو رہی ہے مجھے، اتنی جلدی آپ سارہ کو فراموش کیے بینش کا نام لے
‘‘رہی ہیں۔

Read More:  Peer e Kamil Novel By Umera Ahmed – Episode 4

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: