Woh Ik Lamha E Mohabbat Novel By Sumera Shareef Toor – Episode 4

0

وہ اِک لمحہ محبت از سمیرا شریف طور – قسط نمبر 4

–**–**–

آپ مجھے وہ تصاویر اور خطوط دے دیں میں پہلے اس قصے کو کلیئر کرنا چاہتا ہوں۔ رہ گئی ’’
شادی کی بات تو بابا صاحب سے صاف کہہ دیں۔ مجھے شادی نہیں کرنی، اب… نہ کبھی بھی…‘‘
وہ دو ٹوک انکار کرتے بیٹے کو بازوئوں میں اُٹھائے بی بی جان کے کمرے سے نکلتا چلا گیا تھا۔
ایک در بند ہوا تھا تو اللہ نے ایک اور در کھول دیا تھا۔
شمسہ واقعی اس کے لیے ایک حقیقی اور غمگسار دوست ثابت ہوئی تھی۔ اس کے ایک جاننے
والے کی مسز گائنا کالوجسٹ تھیں ان کا شہر کے پوش ایریا میں اپنا کلینک تھا انہیں ایک فی
میل ہیلپر کی ضرورت تھی۔ شمسہ کے توسط سے اس کا مسئلہ حل ہو گیا تھا۔ بہت اچھی پے نہ
تھی مگر کچھ نہ ہونے سے یہ جاب بھی اچھی تھی۔ پھر پک اینڈ ڈراپ کی سہولت مسز آفریدی
دے رہی تھیں۔ کم از کم گھر کی ہانڈی روٹی تو چل ہی رہی تھی۔ وہ اس کے علاوہ کسی اچھی
جاب کے لیے مسلسل ہاتھ پیر مار رہی تھی۔ کئی جگہ اپلائی کر رکھا تھا مگر تجربہ نہ ہونے کی
بنیاد پر اس کی شاندار میڈیکل ڈگری بھی کسی کام نہ آئی تھی۔
ڈیوٹی آورز کے دوران وہ ادھر ہی تھی مسز آفریدی کے پاس ایک کیس آیا تھا۔ سیزیرین تھا وہ
مریضہ اور اس کے ساتھ آنے والوں کو دیکھ کر چونکی۔
یہ بینش کی بھابی تھیں ساتھ میں بینش کی والدہ بھائی اور والد تھے۔ اس کی والدہ سے
سرسری سی سلام ُدعا کے بعد وہ مسز آفریدی کے ساتھ روم میں چلی آئی۔ بینش کی بھابی کا
پہلا بچہ تھا وہ بھی سیزیرین کیس تھا۔ کیس سیریس تھا بچی اور ماں کی جان بمشکل بچ پائی
تھی۔ کیس کے بعد وہ روم سے باہر آئی تو وہاں ویٹنگ روم میں اپنے والدین کے ساتھ بینش بھیکھڑی تھی۔ اسے دیکھ کر بینش چونکی۔
کیسی ہو بینش…؟‘‘ وہ اس کے پاس چلی آئی اس نے ہاتھ بڑھایا تو بینش نے کچھ خائف ہوتے ’’
اس کا ہاتھ تھاما۔
ٹھیک ٹھاک… تم ادھر؟‘‘ ربدا نے محسوس کیا کہ وہ اس سے بات کرتے کچھ محتاط سی ہو گئی ’’
ہے۔
یس… میں آج کل ادھر جاب کر رہی ہوں۔‘‘ ربدا نے اسے بغور دیکھا تو وہ اسے کچھ کنفیوژ سی ’’
لگی۔
تم نے تو ہر رابطہ ختم کر ڈالا۔ مجھے تمہارے اس ردعمل پر حیرت تو ہوئی مگر پھر سوچا کہ تم ’’
بھی اس معاشرے کا ایک فرد ہو۔ تمہاری سوچ کیسے ان %99لوگوں کی سوچ سے مختلف ہو
سکتی ہے۔ اپنی زندگی میں ایسی مصروف ہوئی کہ تم سے ملنے پھر رابطہ کرنے کا وقت ہی نہیں
ملا مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں تم سے ملتی ہی نہیں۔ ملنا تو میں نے تم سے تھا اور بہت
‘‘کچھ پوچھنا بھی تھا۔
ک… کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ کچھ خائف ہو کر سختی سے کہا ربدا مسکرا دی۔ اس کے والدین ’’
قدرے فاصلے پر تھے مگر وہ بڑی گھبرائی ہوئی نظروں سے اپنے والدین کو دیکھ رہی تھی اور آواز
دبا کر بات کر رہی تھی۔
…‘‘مطلب تو مجھے بھی نہیں پتا مگر تم سے مطلب دریافت کرنا چاہتی تھی کہ’’
صاف بات کہو۔‘‘ اس نے تیزی سے ربدا کی بات کاٹ دی۔’’
تمہاری ایک کزن تھی سارہ کیا اس کی ڈیتھ ہو گئی ہے؟‘‘ ربدا نے صاف محسوس کیا کہ اس کے ’’
اس سوال پر بینش کا رنگ اُڑا تھا۔ اور پھر چند پل تک تو وہ بولنے کے قابل نہ رہی تھی۔
ہاں مگر تم کیوں پوچھ رہی ہو۔‘‘ آواز دبا کر اس نے پوچھا تھا۔’’
بس ویسے ہی…‘‘ ربدا مسکرائی تو اس نے عجیب نظروں سے ربدا کو دیکھا۔’’
‘‘تمہیں کیسے پتا اس کی ڈیتھ کا…؟’’
ایک نیوز پیپر میں پبلش ہوا تھا۔‘‘ وہ اُلجھ گئی اور پریشان نظروں سے ربدا کو دیکھا۔’’
‘‘کیا…؟’’
اٹس جوکنگ… تم سے ایک اور بات پوچھنی ہے۔ تمہاری اس کزن کے ہزبینڈ کا کیا نام تھا؟ چند ’’
ایک بار تمہارے گھر اور تمہارے ہی توسط سے ملاقات ہوئی تھی نا۔ بس ایسے ہی پوچھ رہی
‘‘ہوں۔
مجھے نہیں پتا جو بھی بات کرنی ہے صاف صاف کرو پہیلیاں مت بجھوائو۔‘‘ وہ ایک دم غصے ’’
سے بولی تو ربدا سپاٹ چہرہ لیے اسے دیکھے گئی۔تمہیں پتا ہے میرا اغوا ہو گیا تھا۔‘‘ اسی لہجے اور انداز میں اسے کہا۔’’
اور جانتی ہو مجھے کس نے اغوا کروایا تھا؟‘‘ ربدا نے بینش کی آنکھوں میں صاف اور واضح خوف ’’
محسوس کیا تھا۔
تم نے…‘‘ اگلے ہی پل ربدا نے کہا تو بینش منہ کھولے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھے گئی۔’’
مجھے تم نے کڈنیپ کروایا تھا۔‘‘ اس نے اپنے لفظوں کو دہرایا تھا۔’’
شٹ اپ…‘‘ بینش ایک دم چیخ کر بولی اردگرد موجود اس کی ماں باپ اور بھائی نے پلٹ کر اسے ’’
دیکھا۔
کیا بات ہے بیٹا؟‘‘ اس کی ماں قریب آ گئی تھی۔ ربدا نے مسکرا کر اس کی ماں کو دیکھا جبکہ ’’
بینش اپنے آپ کو کنٹرول کرتے نارمل ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔
کچھ نہیں مام! یہ ربدا اتنا عرصہ رابطہ نہ رکھنے پر ناراض ہو رہی تھی۔‘‘ ربدا نے بینش کا چہرہ ’’
دیکھا وہ آنکھوں میں عجیب سے تاثرات لیے کھڑی تھی۔
ڈاکٹر ربدا آپ کو میڈم بلا رہی ہیں۔‘‘ تبھی میڈ نے آ کر اطلاع دی تو وہ اسے دوبارہ ملنے اور ’’
تفصیلی بات چیت کرنے کا کہہ کر وہاں سے چل دی تھی۔
مائی فٹ…‘‘ ربدا کے جانے کے بعد بینش نے اسے دل ہی دل میں گالی دی تھی۔’’
ماما کی عدت کا عرصہ آہستہ آہستہ گزر ہی گیا تھا۔ آفس کی طرف سے دی گئی مہلت ختم ہوئی
تو وہ لوگ ایک پسماندہ سے علاقے میں چند ہزار کرائے کے گھر میں شفٹ ہو گئے تھے۔ یہ علاقہ اور
گھر بہت عام سا تھا مگر اتنا ضرور ہوا کہ وہ لوگوں کی تمسخرانہ نظروں اور تضحیک بھرے
سلوک سے بچ گئی تھیں اجنبی لوگ اجنبی علاقہ نومان اور ثوبان یہاں آ کر بہت ان ایزی فیل کر
رہے تھے مگر اس کے پاس اچھے علاقے میں گھر لینے کے وسائل نہ تھے بابا کے آفس کی طرف سے
ملنے والے واجبات اور ماما کی پنشن ضرور تھی۔ واجبات اس نے نومان اور ثوبان کے مستقبل کا
سوچتے ہوئے محفوظ کر لیے تھے جبکہ ماما کی پنشن سے گھر کا راشن نکل آتا تھا۔ رہ گئی وہ خود
تو اس کی محدود تنخواہ سے نومان ثوبان کے سکول کی فیس کے اخراجات بس کا کرایہ وغیرہ
نکل جاتا تھا شارقہ کا رزلٹ آ گیا تھا فرسٹ ڈویژن سے پاس ہو گئی تھی اس کے بے پناہ اصرار کے
باوجود اس نے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ اس کا ایک ہی موقف
تھا۔
پاپا کی ڈیتھ کے بعد ماما بہت بیمار رہنے لگی ہیں گھر کی دیکھ بھال کے لیے ایک فرد کی ’’
ضرورت ہے۔ آپ پر کتنا بوجھ ڈالیں ہم، کچھ میرا حق بھی بنتا ہے۔ اگر میرا موڈ بنا تو کسی بھی
‘‘سبجیکٹ میں پرائیویٹ ماسٹر کر لوں گی۔اور ربدا اس کے موقف پر خاموش ہو گئی تھی ماما حقیقت میں پاپا کی جدائی کے غم سے نڈھال
بہت بیمار رہنے لگی تھیں۔ ربدا کی طرح وہ ابھی تک حالات سے سمجھوتہ نہ کر سکی تھیں۔ اوپر
سے گھریلو حالات اور ربدا کے ساتھ ہونے والے حادثے نے انہیں بہت کمزور کر ڈالا تھا ایسی صورت
میں شارقہ کا م ٔوقف درست ہی تھا۔
وہ کلینک سے لوٹی تو شمسہ آئی بیٹھی تھی۔ ماما بھی شارقہ کے ساتھ شمسہ کے پاس ہی
براجمان تھیں۔
آج تم نے ہمیں کیسے یاد کر لیا؟‘‘ فون پر تو شمسہ سے روزانہ ہی بات ہو جاتی تھی مگر کتنے دن ’’
بعد اسے دیکھ رہی تھی اس گھر میں شفٹ ہونے کے بعد وہ پہلی بار آئی تھی۔
تمہاری طرح نہیں ہوں۔ بس میں تم سے سخت ناراض تھی۔ مگر تمہیں احساس ہی نہیں ’’
مجبوراً خود ہی ناراضی ختم کرنا پڑی۔‘‘ وہ مسکرا دی۔
شمسہ نے اسے آفر کی تھی کہ وہ ان لوگوں کے گھر انیکسی میں شفٹ ہو جائے مگر اس نے اس
کی آفر سے انکار کر دیا۔ اس پر وہ ناراض تھی۔ گھر کو تنقیدی نظروں سے دیکھتے اسے گھورا۔
‘‘اس سے زیادہ بیک ورڈ ایریا تمہیں نہیں ملا تھا۔ کتنے لو لیول کا گھر ڈھونڈا ہے تم نے۔’’
کیا کرتی پھر؟ اچھے علاقے میں ملنے والے گھر کی قیمت بھی بہت زیادہ تھی۔ اتنا کرایہ افورڈ ’’
‘‘نہیں کر سکتی تھی۔
میری آفر ابھی بھی برقرار ہے۔ آنٹی آپ ہی اسے سمجھائیں۔ ہم دوست ہی نہیں بہنیں بھی ہیں۔ ’’
ہمارے گھر کی انیکسی میں شفٹ ہو جانے میں کیا حرج ہے۔ ماما، پاپا بھی کئی بار اس سے بات
کر چکے ہیں مگر یہ مانتی نہیں۔‘‘ وہ ابھی بھی ناراض تھی۔
دیکھو بیٹا! یہ اچھا نہیں لگتا۔ اب جیسے بھی حالات ہیں خود ہی ہینڈل کرنا ہوں گے تم نے ربدا کو ’’
جاب دلوا دی یہ کیا کم احسان ہے۔‘‘ ماما نے کہا تو اس نے منہ بنا لیا۔
میں کچھ نہیں جانتی۔ اور یہ کوئی احسان نہیں رئیلی میری ماما بہت خوش ہوں گی وہ اتنی ’’
سوشل نہیں ہیں سارا سارا دن گھر میں اکیلی ہوتی ہیں اس طرح آپ کے آ جانے سے ان کی
تنہائی بھی بٹ جائے گی۔ پلیز آنٹی مجھے بہت ُدکھ ہو رہا ہے اس گھر میں آپ کو دیکھ کر پلیز
آنٹی آپ ہامی بھریں ربدا کو میں منا لوں گی۔‘‘ ربدا نے ماما کو دیکھا وہ شش و پنج میں مبتلا
تھیں۔
بیٹا! ربدا نے مجھ سے بات کی تھی مگر ہم انیکسی کا کرایہ افورڈ نہیں کر سکتے۔ تم ہماری ’’
کنڈیشن سے بے خبر نہیں ہو۔ اگر تم نے ربدا کو جاب نہ دلوا دی ہوتی تو شاید حالات اس سے بھی
بدتر ہوتے۔‘‘ ربدا نے ایک گہرا سانس لیا تو شارقہ نے بڑے غصے سے ربدا کو دیکھا۔
‘‘اب آپ لوگوں سے میں کرایہ لوں گی۔ اتنا گھٹیا سمجھ رکھا ہے ربدا تم نے مجھے۔’’مگر کرایہ ادا کیے بغیر رہنا تو ہم بھی اچھا نہیں سمجھتے۔‘‘ ماما نے ہی جواب دیا تھا۔’’
کتنی غیریت والی بات کی ہے اس کا مطلب ہے کہ آپ لوگ مجھے اپنی بیٹی نہیں سمجھتے۔‘‘ ’’
شمسہ فوراً اموشنل ہوئی تھی۔ ربدا نے ماما کو دیکھا جو فوراً شمسہ کی باتوں میں آ گئی تھیؒ ۔
‘‘نہیں ایسی بات نہیں ہے تم تو میرے لیے شارقہ اور ربدا کی طرح ہی ہو۔’’
تو پھر ٹھیک ہے۔ اگر میری بات قبول ہے تو میں ادھر آئوں گی ورنہ اب کبھی چکر نہیں لگائوں ’’
گی۔ کتنی بُری بات ہے ہم آپ سے کرایہ لیں گے۔ میری محبت، میرا خلوص آپ کو نظر ہی نہیں
آتا۔‘‘ ربدا نے دیکھا ماما پر اس کے الفاظ بڑی بُری طرح اثر انداز ہوئے تھے۔ اس کی سدا کی سیدھی
ماما فوراً اس کی جذباتی بلیک میلنگ میں آ گئی تھیں۔
ٹھیک ہے اگلے ماہ دیکھیں گے۔ اس ماہ کا کرایہ تو ادا کر چکے ہیں۔ مگر میری بھی ڈیمانڈ ہے کہ ’’
‘‘ہم کرایہ ضرور ادا کریں گے۔
ہائے آنٹی آپ واقعی بہت سویٹ ہیں۔ رہ گیا کرایہ تو وہ تو بعد کی بعد میں دیکھیں گے۔ جب ’’
ہمارے گھر شفٹ ہو جائیں گے تب۔‘‘ وہ فوراً خوش ہو گئی۔ ربدا نے ایک گہرا سانس لیا۔ اس علاقے
میں آ کر وہ بھی بہت بے سکون ہو گئی تھی۔ عجیب سا جاہل محلہ تھا۔ گلی میں ہر وقت دندناتے
اوباش لڑکے اور گھور گھور کر دیکھتے مرد۔
جبکہ ماما اور شارقہ تو سارا وقت گھر کے اندر ہی بند رہتی تھیں۔ انتہائی ضرورت ہوتی تھی تو
ماما ہی باہر نکلتی تھیں۔ وہ چند دنوں میں ہی ایسے ماحول سے خوفزدہ ہو گئی تھیں۔
اور میڈم تمہارے لیے ایک ایڈ ہے۔ یہ گورنمنٹ جاب کا اشتہار ہے۔ مختلف علاقوں میں ڈاکٹر کی ’’
ہیں۔ میں لے آئی تھی۔ یہ دیکھو اور اگر موڈ بنتا ہے تو اپلائی کر لو۔ پیکیج اچھا ہے۔ Vacantپوسٹ
ٹیسٹ اگر کلیئر ہو گیا تو پھر انٹرویو کے بعد ) (Writtenلمبا چوڑا پراسس نہیں ہے۔ ریٹن
سلیکشن ہو جائے گی۔ اگر سفارش وغیرہ کا مسئلہ ہوا تو اس کی تم فکر مت کرو۔‘‘ ماما کے بعد
یڈ
اس نے اب اس کی طرف ُرخ کیا تھا۔ ساتھ ہی بیگ سے اخبار نکال کر اس کو پکڑایا تو اس نے ا
دیکھا۔
یہ مختلف علاقوں میں گائوں کی سطح پر واقع ہاسپٹل میں فی میل اسٹاف کا ایڈ تھا۔ مگر یہ
علاقے تو سبھی بہت دور ہیں۔‘‘ ایڈ دیکھ کر اس نے شمسہ کو دیکھا۔
ڈونٹ وری ایک دفعہ گورنمنٹ ایمپلائی کے طور پر سلیکشن ہو جائے تو بعد میں تمہارا ٹرانسفر ’’
‘‘کروانا میری ذمہ داری ہے۔
‘‘نہیں یار میں اپنی فیملی کو اکیلے نہیں چھوڑ سکتی۔’’
اُف… ابھی کون سا تمہیں فوراً یہ جاب مل رہی ہے۔ ٹرائی کرنے میں کیا حرج ہے؟ اپلائی کر کے تو ’’
دیکھو۔ کئی کئی ماہ سلیکشن اور بعد کے پراسس میں لگ جاتے ہیں۔ اگر جاب مل بھی گئی تو‘‘تب تک آنٹی اور باقی سب ہمارے ہاں شفٹ ہو چکے ہوں گے۔
اچھا دیکھوں گی۔‘‘ اس کی اس تقریر پر اس نے ٹالنا چاہا تو وہ اسے گھورتے بیگ اُٹھا کر جانے کی ’’
نیت سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
دیکھنا نہیں اپلائی کرنا۔ فارم وغیرہ میں لا دوں گی اگر فل کرتے ہوئے ٹائم نہ ملے تو خود ہی فل ’’
کر کے بھیج دوں گی بٹ اپلائی ضرور کرنا ہے۔‘‘ وہ جاتے جاتے بھی تحکم سے ُرعب ڈالنے سے باز نہ
آئی تھی۔ اس کی محبت اور انداز پر وہ بے اختیار مسکرا دی تھی۔ سچ کہتے ہیں کہ
‘‘ ُپرخلوص دوست بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں۔’’
وہ اپنے سامنے تصویریں پھیلائے دیکھ رہا تھا۔ جوں جوں وہ تصاویر دیکھ رہا تھا اس کے اندر آتش
فشانی مادہ دوڑنے لگا تھا۔ ایک سرد و بربریت بھری کیفیت نے سر اُبھارا تھا۔
جو تصویر اس کے ہاتھ میں تھی وہ بغور دیکھ رہا تھا ساتھ ہی اسے یاد آیا کہ یہ کب کی تصویر
تھی۔ یہ اس کی بینش کے گھر ربدا نامی لڑکی سے پہلی ملاقات تھی۔ سارہ اور بینش کزن ہی نہ
تھیں بلکہ فرینڈز بھی تھیں اور بینش کے بھتیجے کی برتھ ڈے تھی اور حویلی سے خصوصی طور
پر دونوں ہی شامل ہوئے تھے۔
گہرے گرین سوٹ میں ملبوس وہ سادہ سے حلیے کے باوجود ڈاکٹر ربدا نامی لڑکی بہت ُپرکشش
اور خاص لگ رہی تھی۔ اپنے سادہ انداز میں ایک خاص وقار اور رکھ رکھائو لیے وہ وہاں شامل
تھی۔
وہ کسی کام سے باہر گیا تھا اور پھر واپس اپنی رو میں لائونج کے دروازے سے اندر داخل ہو رہا تھا
جب درمیان میں پردہ ہونے کی وجہ سے وہ دیکھ نہ پایا تھا وہ بھی دروازے سے شاید نکلنے لگی
تھی اور دونوں کا بُری طرح تصادم ہوا تھا۔ وہ گرنے لگی تھی جب اس نے بہ عجلت بغیر سوچے
سمجھے اس کی کلائی تھام کر اپنی طرف کھینچ کر گرنے سے بچایا تھا۔ بس وہی قربت کے چند پل
کیمرے کی آنکھ نے چرا لیے تھے۔
ہر نقش بہت واضح تھا ہر ُرخ بہت معنی لیے ہوئے تھا۔
تصویر پر پہلی نگاہ ڈالنے سے یونہی لگ رہا تھا کہ جیسے دونوں کسی خاص تعلق میں بندھے
اردگرد کے ماحول کو بھلائے ایک دوسرے کی قربت میں مست ہیں۔ وہ کیا کوئی بھی اس تصویر
پر پہلی نگاہ ڈالنے کے بعد کچھ بھی اخذ کر سکتا تھا اور اس لڑکی نے جس طرح اس تصویر کا
استعمال کیا تھا بازل شاہ کو لگا کہ اس کے اندر آگ دہکنے لگی ہے۔ اس نے سختی سے مٹھیاں
بھینچ لیں۔
یہ دوسری تصویر تھی سی گرین ہلکے پھلکے لباس میں وہ اس کی طرف دیکھ رہی تھی اور وہاس کے ساتھ ہی ایک ایسی جگہ پر بیٹھا ہوا تھا جو شاید پول تھا۔ اس لڑکی کے سر سے دوپٹہ اُترا
ہوا تھا اور اس کے لمبے گھنے بال پشت پر بکھرے ہوئے تھے۔
بازل خان یاد کرنے لگا کہ یہ سچویشن کہاں کی تھی؟ تصویر کے گرد بیک گرائونڈ تو اسے یاد نہیں
آ رہا تھا مگر جس پول کے کنارے چھوٹی سی دیوار پر وہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے وہ جانی پہچانی
ہی لگ رہی تھی۔ ربدا اپنے پائوں پول کے پانی میں ڈالے ہوئے تھی اس کا ایک ہاتھ بھی پانی کی
لہروں میں تھا۔ وہ یاد کرنے لگا کہ اس لڑکی سے وہ دوبارہ کب کہاں اور کیوں ملا تھا۔
پھر اس کے ذہن میں جھماکہ سا ہوا تھا۔
بینش اور اس کی بات بڑوں میں کافی عرصے سے طے تھی۔ وہ باہر سے تعلیم حاصل کر کے لوٹا تو
سب کا خیال تھا کہ اب شادی کر دی جائے مگر جب وہ بینش سے ملا تو وہ اسے بطور لائف پارٹنر
ذرا پسند نہ آئی۔ بچپن سے جوانی تک بہت کم ملاقات رہی تھی۔ دونوں میں سالوں بعد ملنا ملانا
ہوتا تھا تبھی وہ ملا تو اسے لگا بینش بہت ماڈرن بیباک اور شارپ لڑکی ہے۔ اسی دوران سارہ نظر
آئی تو ُحسن انتخاب اس کی طرف ہو گیا۔ اس نے بینش سے شادی سے صاف انکار کر دیا تھا جس
سے دونوں خاندانوں میں تعلقات منقطع ہو گئے تھے بابا صاحب بھی شاید بینش کی حرکتوں سے
خائف تھے انہوں نے اس کے انکارح پر احتجاج نہ کیا تھا اور یوں سارہ اس کی شریک حیات بن کر
اس کی زندگی میں چلی آئی تھی۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد بابا صاحب کی کوششوں سے دونوں
خاندانوں میں حائل خلیج ختم ہوئی تو چچا لوگوں نے دونوں کو انوائیٹ کیا تھا اور ان کا قیام دو
ہفتے تک چچا کے ہاں رہا تھا۔ تبھی چچا کے پوتے کی برتھ ڈے پر اس لڑکی سے پہلی ملاقات ہوئی
اور دوسری ملاقات ریسٹ ہائوس میں پکنک کے دوران ہوئی تھی۔
یہ پکنک بینش کی طرف سے ان لوگوں کے اعزاز میں دی گئی تھی جس میں ان دونوں کے علاوہ
بینش نے اپنی کچھ اور فرینڈز کو بھی انوائیٹ کیا تھا۔ تب سارہ اُمید سے تھی اور وہ لمحہ بہ
لمحہ اس کے ساتھ تھا۔ یہ تصویر پول پر بیٹھنے کے دوران کھینچی گئی تھی مگر جہاں تک اسے
یاد پڑتا تھا وہ کہیں بھی اس لڑکی کے ساتھ تنہا نہیں بیٹھا تھا۔ وہ ہر جگہ سارہ کے ساتھ تھا۔
سارہ اور اس لڑکی کی کچھ حد تک ہیلو ہائے ہو چکی تھی۔ وہ خاصی سلجھے ہوئے عادات و اطوار
کی مالک لڑکی تھی۔ پول کی دیوار پر پانی میں دونوں پائوں لٹکائے بیٹھی باتیں کر رہی تھیں سارہ
کے دائیں طرف وہ خود تھا اگر یہ اس وقت کی تصویر تھی تو اب درمیان میں سارہ ندارد تھی اور
تصویر میں بیک گرائونڈ کا منظر بھی اس ریسٹ ہائوس کا نہ تھا۔
یا تو یہ لڑکی بہت شارپ اور تیز تھی یا پھر تصویر میں بیک گرائونڈ کی چینجنگ کے ساتھ ساتھ
سارہ کی موجودگی بھی ختم کر دی گئی تھی۔
مائی گاڈ…‘‘ بازل نے اُلجھ کر تصویر ٹیبل پر پٹخ دی تھی۔’’جب پہلی بار اس نے یہ تصویریں دیکھی تھیں تو اس کے اندر کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی
صلاحیت باقی نہ رہی تھی۔ چند ماہ پہلے ملنے والی ایک اجنبی لڑکی اسے بھلا کیونکر یاد رہتی۔
اور دوسرا سب کا ری ایکشن ایسا شدید تھا کہ صاف بات اس کے کردار پر آ رہی تھی اور وہ اس
قدر کنفیوژ ہو چکا تھا کہ تصویروں کے موقع و محل پر غور کرنے کے قابل تک نہ رہا تھا اور اب جب
وہ سب تصویریں بغور دیکھ رہا تھا تو نجانے کیوں اسے بہت کچھ راز میں چھپا لگ رہا تھا جس
تک اس کی رسائی نہیں ہو پا رہی تھی۔
یہ تیسری تصویر کچھ فاصلے سے اور اندھیرے میں لی گئی تھی مگر کیمرے یا کھینچنے والے کا
کمال تھا کہ دونوں پر فلیش لائٹ کی روشنی نے تمام خدوخال کو واضح کرتے سچویشن خاصی
کنفیوژنگ سی بنا ڈالی تھی۔
ڈاکٹر ربدا زمین پر بیٹھی ہوئی تھی اور اس کا سر کسی قدر جھکا ہوا تھا اور وہ اس کے قریب کھڑا
اس پر چادر ڈالنے جھکا ہوا تھا۔ جس طرح ڈاکٹر ربدا کا سر جھکا ہوا تھا اگر کیمرے کی روشنی پر
برا ِہ راست اس کے چہرے پر نہ پڑ رہی ہوتی تو شاید سمجھتا کہ یہ کوئی اور لڑکی ہے۔ بیک
گرائونڈ بھی کچھ عجیب سا تھا وہ سوچنے لگا کہ وہ اس سچویشن میں اس لڑکی سے کب ملا
تھا۔
یہ تصویریں…‘‘ وہ سوچنے لگا تو پھر چونک گیا۔ اس کے ذہن کے پردے پر وہ رات پوری طرح چمک ’’
اُٹھی تھی۔
یہ یقینا اسی رات کی تصویر تھی جب اس نے اس لڑکی کو اس لوفر لڑکے سے بچایا تھا۔
او مائی گاڈ…‘‘ بازل خان نے اپنا سر تھام لیا۔’’
اس قدر مہارت سے تصاویر کو پس منظر بدل کر پیش کیا گیا تھا۔
بابا، سارہ لوگوں کا بھلا کیا قصور تھا تو خود اپنی ذات کے بارے میں شک و شبہے میں مبتلا ہو
چکا تھا اس نے بغور دیکھا۔ تصویر میں لڑکی کے چہرے پر کچھ آنسو تھے جو فلیش لائٹ میں
چمک رہے تھے۔
وہ کسی کام سے شہر آیا تھا اور رات چچا کے ہاں ٹھہرا تھا۔ اس رات گھر میں بینش کے علاوہ
کوئی بھی نہ تھا اور بینش کو بہت تیز بخار تھا۔ رات کے آٹھ بجے کا عمل تھا جب اس کے دروازے
پر دستک ہوئی تھی اس نے کھول کر دیکھا تو بینش کھڑی تھی۔
…‘‘تم’’
ہاں… مجھے بہت تیز بخار ہے۔ سر میں شدید درد ہو رہا ہے۔ پہلے بھی ایسا درد ہوتا تھا۔ ربدا ’’
میری فرینڈ جو ہے نا اس سے کنسلٹ کرتی ہوں اگر تم مائنڈ نہ کرو تو پلیز مجھے اس کے ہاسپٹل
لے چلو۔ میں نے کال کی تھی تو اس نے بتایا تھا کہ اس کی نائٹ ڈیوٹی ہے۔ وہ وہاں بزی ہے۔ گھرمیں کوئی نہیں۔ بھیا بھابی کے میکے ان کے ساتھ گئے ہوئے ہیں ممی اور پاپا بزنس ڈنر پر نکلے
‘‘ہوئے ہیں۔
اوکے… میں لے چلتا ہوں۔‘‘ وہ اسے ساتھ لے کر چلا گیا تھا وہ ہسپتال کی چار دیواری سے قدرے ’’
فاصلے پر ہی تھے جب وہ دونوں ایک نسوانی چیخ پر بے اختیار چونکے تھے۔
بازل پلیز گاڑی روکیں… دیکھیں کون ہے؟‘‘ بینش کے کہنے پر گاڑی روکی دائیں طرف تیز قدموں ’’
سے بھاگتی ایک لڑکی تھی اور اس کے پیچھے بھاگتا لڑکا۔
بازل خان فوراً باہر نکلا تھا تیزی سے آگے بڑھا وہ لڑکی ٹھوکر کھا کر گر گئی تھی۔ تبھی وہ لڑکا چاقو
نکالے اس کے ہاتھ سے بیگ چھین رہا تھا۔
چھوڑو لڑکی کو…‘‘ بازل خان نے فوراً آگے بڑھ کر اس لڑکے کو لات ماری تھی۔ چاقو اس کے ہاتھ ’’
سے چھوٹ گیا تھا اور پھر وہ لڑکا پرس وہیں چھوڑے اندھا دھند بھاگا تھا۔
آپ ٹھیک ہیں نا خاتون؟‘‘ وہ لڑکے کے پیچھے بھاگنے کے بجائے منہ کے بل گری لڑکی کی طرف ’’
متوجہ ہوا تھا۔ اس کے سر سے چادر اُتر چکی تھی۔ وہ ازحد خوفزدہ ہو گئی تھی۔
بینش کم ہیئر…‘‘ اس نے بینش کو مدد کے لیے بلوایا تھا مگر شاید اس تک آواز نہ پہنچی تھی وہ ’’
گاڑی سے نہیں نکلی تھی۔
آپ ٹھیک تو ہیں نا؟‘‘ اس کی چادر اُٹھا کر قدرے جھک کر اس پر ڈالتے اس نے پھر پوچھا تو اس ’’
کا جھکا ہوا سر فوراً اُٹھا تھا۔
آپ…؟‘‘ وہ لڑکی پتا نہیں اسے پہچانتی تھی کہ نہیں وہ ضرور چونک گیا تھا اسے لگا کہ جیسے ’’
یہ چہرہ دیکھا بھالا ہے۔
‘‘کون تھا وہ شخص؟’’
وہ لڑکا کب سے میرے پیچھے لگا ہوا تھا۔ پہلے بدتمیزی کرتا رہا اور پھر بیگ چھیننے کی کوشش ’’
کی میں نے مزاحمت کی تو میرے ہاتھ پر چاقو مار ڈالا۔‘‘ اس نے زخمی ہاتھ آگے کیا تو اس میں
تیزی سے خون بہہ رہا تھا۔
ارے آپ تو زخمی ہیں۔‘‘ بازل خان نے اسے بازو سے تھام کر کھڑا کیا اور پھر پاس ہی گرا بیک تھام ’’
کر اسے سہارے سے چلاتا گاڑی تک لے آیا تھا۔
ارے ربدا تم… کیا ہوا تمہیں تم تو ڈیوٹی پر تھیں؟‘‘ بینش بھی فوراً باہر نکل آئی تھی۔’’
ہاں پر گھر میں ماما کی طبیعت ٹھیک نہ تھی تو چھٹی لے کر گھر جا رہی تھی۔‘‘ وہ کہہ رہی ’’
تھی۔

Read More:  Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 51

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: