Urdu Novels Yaar Deewane Zeela Zafar

Yaar Deewane Novel by Zeela Zafar – Episode 1

Yaar Deewane Novel by Zeela Zafar
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
یار دیوانے از ژیلہ ظفر – قسط نمبر 1

–**–**–

یاروں نے میرے واسطے کیا کچھ نہیں کیا
سو بار شکریہ، سو بار شکریہ
تم جیسے دوستوں کا شکریہ
یہ دل تمہارے پیار کا مارا ہے دوستوں
دنیا میں دو طرح کے رشتے ہوتے ہیں، ایک خونی اور دوسرا کاغذی۔ خونی رشتے ٹوٹ نہیں سکتے اور کاغذی رشتے ٹوٹ جاۓ تو جڑ نہیں سکتے۔۔۔۔ لیکن ایک رشتہ ایسا بھی ہوتا ہے جو نہ تو خونی ہوتا ہے اور نہ ہی کاغذی، یہ بےلوث رشتہ کبھی ٹوٹ بھی جاۓ تو پھر جڑ جاتا ہے۔
اور وہ ہوتا ہے دوستی کا رشتہ،
یہ جو دوست ہوتے ہیں نا۔۔۔۔۔ ان سے کبھی بھی تعریف یا ستاٸشی جملے کی توقع نہیں کرنی چاہیۓ کیونکہ وہ دوست ہی کیا جو تعریف کردے۔۔۔۔۔ لیکن یہ جاننے کے باوجود کے دوستوں نے سواۓ مذاق اڑانے کے کچھ نہیں کرنا ہم پھر بھی انہی کے پاس جاتے ہیں، کیونکہ دل انکے بغیر لگتا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔ یہ لڑتے بھی ہیں جھگڑتے بھی ہیں اور ناراض بھی ہوجاتے ہیں۔ لیکن یہ رشتہ ناں کبھی نہیں ٹوٹتا۔ دوستی چیز ہی ایسی ہے۔ جب ساتھ ہوں تو پتہ ہی نہ چلے کے وقت کیسے گزرا، اور جب دوستوں سے بچھڑ جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دوست کتنے اہم تھے ہمارے لیۓ، انکے ساتھ گزارا ایک ایک لمحہ، خوبصورت یاد بن کر ذہہن کے پردے پر نقش ہوجاتا ہے۔۔۔ یہ دوستی چیز ہی ایسی ہے۔۔۔
ایسے ہی کچھ دوستوں سے ملانے ہم آپ کو لے جارہے ہیں۔۔۔ ہادی ٹاٶن کراچی،
انتہاٸ خوبصورتی سے تعمیر کیۓ گۓ اس ٹاٶن میں داخل ہونے کے بعد آپ کو ایسا محسوس ہوگا کے آپ نے ایک الگ ہی دنیا میں قدم رکھ دیۓ ہیں۔ اسپتال سے لے کر، اسکول و کالج، اور پارک سے لے کر چڑیا گھر و ایمیوزمنٹ پارک،ڈانسک فاٶنٹن سے لے کر فارم ہاٶس و گالف کلب عرض ہر ایک چیز یہاں موجود ہے۔۔۔۔
اب ذرا اس ٹاٶن کی اسٹریٹ نمبر چودہ میں قدم رکھیں گے تو یہاں آپ کو ایک الگ ہی ماحول نظر آۓ گا۔۔۔ اس گلی میں کل بیس گھر موجود ہیں۔ اور ہر گھر کے افراد یہاں تقریباً پچاس سال سے رہاٸش پذیر ہیں۔۔۔۔۔۔
یہ اسٹریٹ رات اور شام کے وقت خوب پررونق ہوتی ہے کیونکہ اس گلی کے لوگ شام اور رات کے وقت ایک ساتھ بیٹھ کر خوب ہلہ گلا کرتے ہیں۔ یہ گلی کافی کشادہ ہے۔گلی کے عین وسعت میں انتہاٸ خوبصورت فوارہ لگا ہوا ہے جس میں رات کے وقت قمقمیں جگمگاتی ہے اور نہ صرف یہ بلکہ ہر فوارے سے ہر دو گز کے فاصلے پر داٸرے کی صورت میں کیاری بنی ہوٸ ہے۔ جس میں ہر موسم کے پھول کھلتے ہیں۔ یہ گلی یہاں کے رہنے والوں کی محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ایسی ہی ایک شام ہم آپ کو ملانے لے چلے گے یہاں کے رہنے والوں سے،۔۔۔۔ شام کے اس خوبصورت موسم میں جو انسان آپ کو فوارے پر چڑھا ناچتا ہوا نظر آرہا ہے نا۔۔۔۔ نہیں نہیں یہ پاگل نہیں ہے، بلکہ یہ تو دوسروں کو پاگل بنانے دنیا میں آیا ہے اسکا نام ہے،
علی مرتضٰی،۔۔۔
یہ صاحب ہیں نرالی انسان۔۔۔۔۔
یہ خاندانی طور پر خالص کشمیری ہیں
نیلی آنکھیں جن میں چمکتی شیطانیت۔۔۔۔۔
اس نرالی انسان کے کام بھی نرالی ہی ہیں۔۔۔
مثلاً۔۔۔ انسانوں کو تنگ کرنا، انسانوں کو تنگ کرنا اور بس۔۔۔انسانوں کو تنگ کرنا۔۔۔
قد اسکا ہے چھ فٹ ایک انچ۔۔۔۔
کشمیری حسن تو اس میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے لیکن اسکا یہ حسن اسکی شیطانیت کے آگے ماند پڑجاتا ہے۔۔۔ کیا دوست کیا دشمن کوٸی ایسا نہیں جو اسکی شرارتوں سے بچ پایا ہو۔۔۔۔۔۔
اب یہ جو دو افراد ایک ساتھ بینچ پر بیٹھے کسی بحث میں مشغول نظر آرہے ہیں ان میں سے ایک ہے۔۔۔۔
ارسلان بروہی،
یہ صاحب یں دماغ سے خالی انسان
یہ خاندانی طور پر بروہی ہیں۔۔۔۔
قد پورا پورا چھ فٹ۔۔۔۔
انکا پسندیدہ مشغلہ ہے۔۔۔۔ محاوروں کی ٹانگیں توڑنا۔۔۔
اشعار کا ستیاناس کرنا۔۔۔۔ اور ضرب المثال کا بیڑا غرق کرنا…….
اور جو خاصے لمبے چوڑے سے دوسرے انسان ہیں انکا نام ہے
حمزہ اشفاق صدیقی
یہ صاحب ہیں جلالی انسان
انکا ننھیال دودھیال سب ہی لاہور میں رہاٸش پذیر ہیں لیکن یہ صاحب پیدا کراچی میں ہوۓ ہیں۔۔۔
انکا قد اپنے تمام دوستوں میں سب سے اونچا ہے۔۔۔۔چھ فٹ اور چار انچ۔۔۔
اسکے پورے چہرے پر سب سے خوبصورت اسکی آنکھیں ہیں۔۔۔کانچ سی نازک براٶن آنکھیں۔۔۔۔۔ دیکھنے میں ایسا لگتا ہے کہ ہلکا سا کنکر بھی آنکھوں میں لگ گیا تو چور چور ہوجاۓ گی۔۔۔۔
لیکن اپنی آنکھوں کے برعکس ان صاحب کا مزاج بہت ہی جلالی ہے۔۔۔۔۔ جوبیس گھنٹے لڑنے مرنے کے لۓ تیار رہتے ہیں۔۔۔۔اپنی چھوٹی اور اکلوتی بہن سے تو اسکی بلکل نہیں بنتی۔۔۔۔ جہاں کوٸ بات انکے مزاج کے خلاف ہوٸ وہیں انکا غصّہ سوا نیزے پر پہنچ گیا۔۔۔۔۔
اب یہ جو ڈیشنگ سا بندہ خوب تیار شیار ہوا باٸیک سے اپنے گھر کے سامنے اترتا نظر آرہا ہے اور اترنے کے بعد کمپاٶنٹ میں بیٹھے اپنے دوستوں کے پاس جارہا ہے اسکا نام ہے،
حنان خان۔۔۔
یہ صاحب ہیں جمالی انسان….
جمالی اس لۓ کے یہ فیشن کے دلدہ ہیں۔۔۔
نت نٸے فیشن اور ایک سے ایک برانڈ کی چیزیں انکے پاس موجود ہوتی ہیں۔۔۔
خاندانی طور پر یہ پشاور کے پکے پٹھان ہیں۔۔۔۔۔
گرے کلر کی خوبصورت آنکھیں۔۔۔اور چھ فٹ ایک انچ قد۔۔۔۔۔
یہ صاحب بہت ہی نرم دل رکھتے ہیں۔۔۔۔
ہر وقت اپنے دوستوں کی مدد کو تیار رہتے ہیں۔۔۔۔
محبت وحبت پر یقین نہیں رکھتے۔۔۔۔
اب حنان نے جس بندے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسکو اپنی جانب متوجہ کیا ہے، جو کافی دیر سے کسی غیر مرٸی نقطے پر نگاہیں مرکوز کیۓ بیٹھا تھا اسکا نام ہے،
حیدر اعوان
یہ صاحب ہیں خیالی انسان۔۔۔۔۔
قد ہے چھ فٹ ۔۔۔۔۔ اور عقل ہے تھوڑی کم۔۔۔۔
جتنا وقت یہ سوچنے میں لگاتے ہیں۔۔۔۔۔ اتنے وقت میں انسان دنیا کی سیر کرکے واپس آجاۓ اور پھر سے سیر کو چلا بھی جاۓ۔۔۔۔۔
اپنی انہیں حرکتوں کے باعث بہت سے کاموں میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔۔۔۔۔
کیونکہ کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے یہ بہت سوچتے ہیں۔۔۔۔۔
انکے دوست احباب انکی سوچنے کی عادت سے سخت نالاں رہتے ہیں۔۔۔۔
خاندانی اعتبار سے یہ صاحب گجراتیوں میں شمار ہوتے ہیں۔۔۔
اور یہ جو سنجیدہ اور پروقار چہرے کے ساتھ بلیک شرٹ اور بلیک جینز( جسکی جیبوں میں انہوں نے ہاتھ ڈال رکھے ہیں،) پہنے، آستینیں کہنیوں تک فولڈ کیۓ سامنے سے آتے دکھاٸ دے رہے ہیں اور جسے وہاں موجود ہر لڑکی رک رک کر ضرور دیکھتی ہے، اسکا نام ہے،۔۔۔
عمر فاروقی
جاہ پناہ عالی انسان۔۔۔۔۔
شہزادوں جیسی آن بان رکھنے والے یہ صاحب واقعی کسی سلطنت کے شہزادے لگتے ہیں۔۔۔۔
ہنسنا انکی شان کے خلاف ہے لہذا صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کرتے ہیں اور یہ مسکراہٹ بھی شاذ و ناذر ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔۔۔۔۔
خاندای اعتبار سے یہ راجپوت واقعی ہوۓ ہیں۔۔۔۔
چھ فٹ دو انچ قد اور گہری سیاہ آنکھیں اسکے حسن کو چار چاند لگاتی ہیں۔۔۔۔
جب بھی کبھی یہ ساٸیڈ اسماٸیل (side smile) دیتا ہے یا اپنی آستینیں کہنیوں تک فولڈ کررہا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ آدھی لڑکیاں تو وہیں بے ہوش ہوجاتی ہیں۔۔۔
اب یہ لڑکی جو اپنے گھر سے نکلتی ہوٸی سیدھا فوارے پر چڑھے علی کے پاس پہنچ کر اسے منہ چڑھا کر واپس اندر بھاگ گٸی ہے اسکا نام ہے،
شفا شاہ زل خان۔۔۔۔۔
اسکا خاندان خاصا لمبا چوڑا ہے، اپنے تایاٶں اور چچاٶں کی تعداد جب یہ گننے بیٹھتی ہے تو خود ہی کنفیوز ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔
اماں اور ابا دونوں ہی ڈاکٹر ہیں اور اسکے بڑے تایا شاہ ویز جسے لوگ اکثر اوقات اسکا باپ سمجھ بیٹھتے ہیں کیونکہ شفا ان سے کچھ زیادہ ہی اٹیچ ہے۔۔۔ وہ ایڈوکیٹ ہیں۔۔۔۔ زبان اسکی راکٹ کی رفتار سے چلتی ہے اور جب چلتی ہے تو رکنا ہی بھول جاتی ہے۔۔۔۔
اب آپ کو بینچ پر کتاب ہاتھ میں لٸے بیٹھی ایک نازک سی لڑکی دکھاٸ دے گی۔ جسکی لمبی چٹیا، بینچ سے نیچے لٹک رہی ہوگی۔۔۔۔ اسکا نام ہے
رشنا مغل۔۔۔۔۔
مغل اس لیۓ کیونکہ شاید اسکے آبا و اجداد کا سلسلہ مغل خاندان سے جا ملتا ہو۔۔۔۔ بال تو کافی لمبے ہیں لیکن قد انکا بہت ہی چھوٹا ہے۔۔۔ٰکُل ملا کر چار فٹ اور گیارہ انچ۔۔۔۔۔ غصّہ انکے مزاج کا اہم جُز ہے۔۔۔۔۔ ہر وقت غصے میں ہی پاٸ جاتیں ہیں۔
اب ذرا پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو دو لڑکیاں آپ کو ایک ساتھ چہل قدمی کرتی ہوٸ اور باتیں کرتی نظر آۓ گی۔۔۔۔۔
ایک لڑکی جس کا قد پانچ فٹ نو انچ ہے۔۔۔ اسکا نام ہے ثنا۶ مہتاب۔۔۔۔۔ناک میں چھوٹی سی نت پہنے۔۔۔۔آنکھوں پر نظر کا چشمہ لگاۓ۔۔۔۔۔ خاصی خوش مزاج لڑکی ہے یہ۔۔۔ ڈاکٹر بننے کا شوق ہے اسی لیۓ ایم بی بی ایس کررہی ہے
اسکے برابر میں جو پیاری سی لڑکی ہے۔ اسکا نام ہے حریم اشفاق صدیقی۔۔۔۔۔
حمزہ کی چھوٹی اور اکلوتی بہن۔۔۔۔۔ وہی کانچ سی نازک براٶن آنکھیں۔۔۔۔ ویسے ہی نقوش۔۔۔۔ کوٸ انجان شخص بھی بتا سکتا ہے کہ یہ حمزہ کی ہی بہن ہے۔۔۔۔
ارے یہ کون ہے؟۔۔۔۔جینز پر شارٹ کرتی پہنے اور دوپٹے کی جگہ اسکارف کو گلے میں لپیٹے۔۔۔۔۔مالی سے جھگڑا کرتے اس لڑکی کا نام ہے
سامعہ چوہدری۔۔۔۔۔
اسکا پسندیدہ کام ہے بولنا، کھانا اور انسانوں کو تپانا۔۔۔۔ ہر وقت لڑکوں جیسے حلیۓ میںں پھرتی رہتی ہیں۔۔۔ اپنے ابّا کی لاڈلی بیٹی ہیں۔۔۔۔
حنان کی تین بہنیں ہیں ایک اس سے بڑی ایک اس سے چھوٹی اور ایک اسکی جڑواں۔۔۔۔ اسکےوالدین ڈاکٹر ہیں
حمزہ کے والدین کالج میں پڑھاتے ہیں۔۔۔۔۔
علی کے والدین کا انتقال ہوچکا ہے اور وہ اپنی دادی کے ساتھ رہتا ہے
حیدر کی امی نہیں ہیں۔۔۔۔۔ اسے اسکی بڑی بہن روما نے پالا ہے جسکی اب شادی ہوچکی ہے اسکے علاوہ حیدر کا ایک چھوٹا بھاٸ بھی ہے صفدر……
ارسلان اپنے ماں باپ کا اکلوتا ہے۔۔۔۔۔
اور رہا عمر تو اسکے ماں باپ، بہن بھاٸ حتٰی کے خاندان کا بھی کچھ پتہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی کو اپنے بارے میں بتاتا ہے۔۔۔۔ اسکے بارے میں بس یہ ہی معلوم ہے کہ آج سے تیرہ سال پہلے جب وہ بارہ سال کا تھا تب سامعہ کے والد اسے یہاں لے کر آۓ تھے اور اسے ایک کمرہ اپنے گھر کے اوپر والے فلور پر دے دیا تھا تب سے وہ یہی ہیں۔۔۔۔۔
ثنا۶ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہے
رشنا اپنی بیمار ماں کے ساتھ رہتی ہے۔۔۔ اسکے والد آٸ ایس آٸ کے ایجنٹ تھے اور ایک مشن میں لاپتہ ہوگۓ تھے جسکے بعد ان کا آج تک کچھ پتہ نہیں چلا۔۔۔ رشنا کا بڑا بھاٸ رضا بھی آرمی میں ہی ہے۔
سامعہ کی والدہ کا اسکی پیداٸش پر انتقال ہوگیا تھا۔ اسے اسکے بابا نے بہت پیار سے پالا ہے۔ اسکے گھر کے اوپر والے فلور پر ہی عمر فاروقی رہاٸش پذیر ہے۔۔۔۔۔
———————–*——————–*———————
”لڑکی اب بتا بھی چکو کہ ہمیں یہاں کیوں جمع کیا ہے؟“ علی پندرہ منٹ میں کوٸ ایک سو پچیسویں مرتبہ یہ سوال دہرا چکا تھا
”کہا ہے نا میں نے۔۔۔۔ رشنا کو آلینے دو پھر بتاٶں گی“ شفا نے جھجھلاتے ہوۓ کہا
”وہ پتہ نہیں کب آۓ گی؟ وقت کا تو احساس ہی نہیں ہے اسے“ خمزہ بھی بےزار لگتا تھا۔
”تم کم از کم یہ تو بتا دو کہ ہم سے کام کیا ہے؟“ ارسلان نے پوچھا
”لڑکوں آخر صبر نام کی بھی کوٸ چیز ہوتی ہے؟“ شفا نے آنکھیں نکالتے ہوۓ کہا۔ وہ سب اس وقت علی کے گھر کے لاٶنج میں موجود تھے۔ جب انہیں کوٸ اہم کام سر انجام دینا ہوتا تھا تو وہ لوگ یہی جمع ہوتے تھے، اور یہ روایت شفا کی قاٸم کردہ تھی۔ اس وقت بھی اسی نے سب کو ایمرجینسی میں بلایا تھا سواۓ حنان اور عمر کے۔۔۔۔
حنان گھر پر نہیں تھا اور عمر ایسے کاموں سے دور رہتا تھا۔فلحال رشنا کا انتظار ہورہا تھا۔ پانچ منٹ بعد رشنا داخل ہوتی دکھاٸ دی۔
”ارے روشن آرا!۔۔۔ تم اتنے جلدی کیوں آگٸی؟ تھوڑا آرام سے آتی ناں۔۔۔۔رات کا کھانا وغیرہ کھا کر“ علی نے دانت نکالتے ہوۓ رشنا سے کہا۔ یہ طنز بلکل نہیں تھا لیکن طنز جیسا ہی تھا
”تم سے کتنی دفعہ کہا ہے مجھے میرے اصلی نام سے بلایا کرو“ رشنا نے بیٹھتے ہوۓ اسے گھورا
”اصلی نام سے ہی تو بلایا ہے روشن آرا“ وہ کہاں باز آنے والا تھا
”گاٸز۔۔۔۔۔“ شفا نے تالی بجاکر سب کو اپنی جانب متوجہ کیا
”آج میں نے جس اہم کام کے لیۓ تم سب کو یہاں جمع کیا ہے وہ ہے۔۔۔۔۔۔“ شفا رُکی، سب منتظر نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہے تھے
”شاہ رخ چاچو کی شادی“ شفا نے بم پھوڑا۔ ایک لمحے کے لیۓ پورے کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ اور اگلے ہی لمحے قہقہوں کا طوفان بلند ہوا تھا لاٶنج میں۔۔۔۔
علی، حیدر، حمزہ اور ارسلان ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوگۓ تھے
”اس میں ہنسنے والی کونسی بات تھی؟“ ثنا نے بھنویں اچکا کر پوچھا
”یار ۔۔۔۔۔ اس عمر میں تمہارے چاچو کو کیا سوجھی ہے شادی کرنے کی؟ جب عمر تھی تب تو کنوارے ہی رہ گۓ اب بڑھاپے میں شادی کا خیال آرہا ہے“ علی نے ہنستے ہوۓ کہا
”ہاں! بڈھا گدھا لال لگام۔۔۔۔“ ارسلان نے تاٸید کی تو سب کی ہنسی کو بریک لگا
”اوۓ۔۔۔۔ گدھا نہیں گھوڑا ہوتا ہے“ حیدر نے اسکو گھورتے ہوۓ تصیح کی
”ہوگیا تم لوگوں کا؟ ہنس لیا دل بھر کے؟ اب میری بات سنو۔۔۔۔“ شفا نے سنجیدگی سے کہا
”نہیں پہلے تم بتاٶ اس بڑھاپے میں تمہارے چاچو کو لڑکی دے گا کون؟“ علی نے پوچھا
”ایکسیوز می!۔۔۔۔ یہ تم بار بار میرے چاچو کو بوڑھا مت کہو۔۔۔۔ ابھی عمر ہی کیا ہے انکی؟“ شفا تپ گٸی
”پورے بیالیس سال۔۔۔۔۔ اور اب تو انہیں کرکٹ سے ریٹاٸر ہوۓ بھی چار سال گزر گۓ۔ قومی ٹیم کے کوچ بن چکے ہیں اب بھی بوڑھا نہ کہے تو کیا کہے؟“ علی کے بجاۓ ارسلان نے پوچھا
”تو کیا ہوا؟ بیالیس سال کے بھی ہیں تو لگتے تو نہیں ہیں نا!۔۔۔ بلکہ تم سے بھی چار سال چھوٹے ہی دکھتے ہیں“ سامعہ نے مبالغہ آراٸ کی انتہا کردی۔ ٹھیک ہے شاہ رخ اپنی فٹنس کی وجہ سے اپنی عمر سے دس سال کم لگتا تھا لیکن اب وہ اتنا بھی چھوٹانہ تھا
”تم لوگ بات کو اتنا طول کیوں دیتے ہو؟ شفا تم بتاٶ کیا کہنا چاہتی ہو؟“ حریم نے ان لوگوں کو ڈانٹنے کے بعد شفا سے کہا
”شاہ رخ چاچو نے آج تک شادی کیوں نہیں کی جانتے ہو؟“ شفا نے پوچھا تو سب نے سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا
”کیونکہ وہ میری خالہ روشانے کو پسند کرتے ہیں“
”واٹ؟۔۔۔ تمہاری خالہ یعنی کے۔۔۔۔ شانزے آنٹی کی چھوٹی بہن؟“حریم نے شاک ذدہ لہجے میں پوچھا
”خالہ کا مطلب وہی ہوتا۔۔۔۔۔“ حمزہ نے اسے گھورا
”تو پھر انہوں نے ان سے شادی کیوں نہیں کی؟“ ارسلان نے پوچھا
”کیونکہ اسکی خالہ طلاق یافتہ ہیں“ رشنا نے جواب دیا
”طلاق یافتہ ہونے کا مسلہ نہیں ہے۔۔۔۔“ شفا نے کہا
”تو پھر کیا مسلہ ہے تم ہی بتا دو“
”دیکھو۔۔۔۔۔ چاچو میری خالہ کو پسند کرتے تھے۔ اور گھر میں کسی کو اعتراض بھی نہیں تھا۔ جب دادا انکا رشتہ مانگنے گۓ تو میرے نانا ابو نے معذرت کرلی کیونکہ خالہ کی منگنی بچپن سے ہوٸی ہوٸی تھی۔ اسکے بعد شاہ رخ چاچو مایوس ہوکر آسٹریلیا چلے گۓ سب نے سمجھا کہ وقتی پسندیدگی ہے چاچو سنبھل جاۓ گے لیکن ایسا نہیں ہوا“ شفا سانس لینے کو رُکی
”تو اب کیا مسلہ ہے؟ تمہاری خالہ کی تو ویسے بھی طلاق ہوچکی تھی وہ تب بھی ان سے شادی کر سکتے تھے“ علی سے صبر نہیں ہورہا تھا
”وہی بتارہی ہوں۔۔۔۔ پھر خالہ جانی کا نکاح ہوا لیکن افسوس انکے سسرال والے بہت کنزرویٹیو تھے۔ ان لوگوں کو پتہ چلا کہ خالہ کے لیۓ چاچو کا رشتہ آیا تھا تو انہوں نے راٸی کا پہاڑ بنادیا اس پر سے سونے پہ سہاگہ خالہ چاچو کی کریزی فین بھی تھیں اور انہوں نے اپنے کمرے میں انکے پوسٹرز تک لگا رکھے تھے۔ بات بڑھتی گٸی اور خالہ کی رخصتی سے پہلے ہی انکی طلاق ہوگٸی“
”تو تب شادی کرلیتے نا کیا مصیبت آگٸی تھی تمہارے چاچو کو؟“ علی نے کوفت سے اسے ٹوکا تو حیدر نے زوردار قسم کا تھپڑ اسکے سر پر جڑ دیا
”تُو اسے بات مکمل کرنے دے گا تو بتاۓ گی نا“
”اسکے بعد دادا ابو پھر سے انکا رشتہ لے کر گۓ اور نانا کو کوٸی اعتراض بھی نہ تھا۔ لیکن۔۔۔۔۔ خالہ جانی نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ اسطرح ان پر لگے الزاموں کی تصدیق ہوجاۓ گی اور لوگ انکے کردار پر انگلیاں اٹھاٸیں گے جو وہ کسی صورت برداشت نہیں کرسکتی۔ اس دن کے بعد سے نانا ابو، خالہ جانی کو سمجھا سمجھا کر تھک گۓ لیکن انہوں نے نہ تو چاچو سے شادی کی اور نہ ہی کسی اور سے۔۔۔۔ دوسری طرف چاچو نے بھی ساری زندگی کنوارے ہی رہنے کی قسم کھالی ہے۔۔۔۔۔ اب نانا ابو کی صحت دن بہ دن گرتی جارہی ہے اور وہ خالہ کے لیۓ بہت فکر مند ہیں۔“
”ویسے تم کتنا بولتی ہو ناں“ ساری باتوں کے جواب میں علی نے بس یہی کہا تو شفا نے اپنا ماتھا پیٹ لیا
”ہمیں بتاٶ کہ اب ہم کیا کریں؟“ حمزہ نے پوچھا
”تم لوگ کسی بھی طرح چاچو کو راضی کرو اور ہم خالہ کو مناتے ہیں۔ کچھ بھی ہوجاۓ یہ شادی تو ہو کرہی رہے گی۔ تم لوگ میرا ساتھ دے رہے ہو؟“
”بلکل۔۔۔۔۔“ سب نے ہم آواز ہوکر کہا
———————*———————–*———————
اندھیری رات میں وہ سر جھکاۓ اپنے سامنے پڑی اس لاش کو دیکھ رہا تھا جسکے کفن دفن کے لیۓ پیسے بھی اسکے پاس نہ تھے۔۔۔۔۔
وہ رو رہا تھا۔۔۔۔ اسے کندھا دینے والا بھی کوٸ نہ تھا۔
”یااللّٰہ میری اس معصوم بہن سے کونسا گناہ سرزد ہوا تھا جو اسکی لاش ایسے سڑک کنارے پڑی ہے اور اسکو کفن دینے تک کے پیسے نہیں میرے پاس۔۔۔۔“ وہ روتے ہوۓ خدا سے شکوہ کر بیٹھا۔۔ سنسان سڑک پر وہ اس لاش کے ساتھ بیٹھا تھا۔ خوف سے جسم کپکپا رہا تھا اور دکھ کی شدت سے اسکا دل پھٹنے کو تھا۔۔۔۔۔۔۔ لاش۔۔۔۔۔خوف۔۔۔۔۔دکھ۔۔۔۔سب کچھ گڈ مڈ ہورہا تھا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔۔۔ اس کا ماتھا پسینے سے بھیگ چکا تھا اور جسم ابھی تک کانپ رہا تھا۔ اس نے اطراف میں نظریں دوڑاٸ تو یاد آیا کہ وہ اپنے کمرے میں ہے اور راکنگ چیٸر پر بیٹھے بیٹھے وہ سو گیا تھا۔
وہ آہستگی سے اٹھا اور کمرے سے باہر آیا۔ لاٶنج کی گھڑی شام کے سات بجارہی تھی۔ وہ کچن میں داخل ہوا اور فریج سے بوتل نکال کر پانی پینے لگا۔ پانی پی کر وہ واپس کمرے میں آیا اور بالکونی پر جا کھڑا ہوا۔ نیچے کمپاٶنٹ میں اسے وہ سب علی کے گھر سے نکلتے ہوۓ دکھاٸ دیۓ تھے
”ضرور کوٸ نیا کارنامہ انجام دینا ہوگا“ عمر نے دل ہی دل میں سوچا
اگلے ہی لمحے اسکی نظر سامعہ پر پڑی تو اسے شدید غصہ آیا۔ وہ اپنے ازلی حلیۓ میں بغیر دوپٹے کے جینز اور شارٹ شرٹ پہنے علی سے لڑرہی تھی۔ عمر کے چہرے پر ناپسندیدگی کے واضح آثار دیکھے جاسکتے تھے۔ اسے سامعہ کے علی سے بات کرنے پر اعتراض نہیں تھا بلکہ اسے اسکے حلیۓ سے چڑ تھی۔ ڈوپٹہ اوڑھنا تو اس نے سیکھا ہی نہیں تھا۔
”انکل نے لاڈ پیار دے کر بگاڑ دیا ہے اسے“ عمر ناگواری سے کہتا واپس اپنے کمرے میں چلا گیا تھا
———————-*——————-*———————–
”چلو جاٶ ایک کپ چاۓ بناکر لاٶ“ گھر آکر حمزہ نے صوفے پر ڈھتے ہوۓ حریم پر حکم صادر کیا تھا
”ایکسکیوز می۔۔۔۔میں کیوں چاۓ بناٶ؟“ حریم نے پوچھا
”کیونکہ یہ تمہارا کام ہے۔۔۔۔۔“ اس نے اطمینان سے کہا
”میں نہیں بنارہی، تم خود بنالو بلکہ میرے لیۓ بھی ایک کپ بنا دیا“ حریم نے سکون سے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ کہا
”میں اور تمہارے لیۓ چاۓ بناٶں گا؟ تمہیں یہ خوش فہمی کیوں کر ہوٸ؟“ حمزہ نے اسی اطمینان سے کہا
”کیونکہ اب سے پورے دو ہفتے بعد میری شادی ہے مسٹر۔۔۔۔ بجاۓ اسکے کہ اپنی چند دن کی مہمان بہن کی خدمتیں کرو تم مجھے ہی آرڈر دے رہے ہو؟“
”تو شادی ہورہی ہے تو اسکا یہ مطلب تو نہیں کے تم ایک کپ چاۓ بھی نہیں بنا سکتی۔۔۔۔چلو اٹھو اور میرے لیۓ چاۓ بناکر لاٶ“ حمزہ نے غصے سے کہا
”کہا نا نہیں بنارہی“ وہ بھی آخر اسی کی بہن تھی۔
”تم تو ہو ہی کام چور۔۔۔۔۔ پتہ نھیں سسرال جاکر کیا کروگی“
”میں کام چور ہوں تو تم بھی سست اور کاہل ہو“ حریم نے کھینچ کر اسے کشن مارا تھا
”میں سست ہوں؟۔ہاں؟۔۔۔تم تو بدتمیز اور بےشرم ہو۔ جوتےکھاٶ گی اپنی ساس سے“ حمزہ نے وہی کشن اسے واپس مارا
”تمہارے منہ میں خاک۔۔۔۔“ حریم نے دوبارہ اسے وہی کشن مارا۔۔۔
اور چوں کہ اب جنگ چھڑ چکی ہے تو آپ لوگوں کی بہتری اسی میں ہے کہ یہاں سے چلتے بنے
———————*————————*——————–
”آہم۔۔۔آہم۔۔۔۔“ صبح چھ بجے شاہ رخ گراٶنڈ کے ٹریک پر جاگنگ کررہا تھا جب کسی نے اسکے پیچھے آکر گلا کھنکھارا۔ وہ ٹھٹکا اور پھر رک کر اپنے پیچھے دیکھا تو وہاں علی کھڑا نظر آیا،اسکے پیچھے سے ارسلان اور حیدر آتے دکھاٸ دے رہے تھے
”کیسے ہو علی؟“ شاہ رخ نے خوشگواری سے پوچھا
”میں بلکل ٹھیک ہوں آپ یہ بتاۓ کہ آپ نے اب تک شادی کیوں نہیں کی؟“ علی نے بغیر لگی لپٹی کے پوچھ ڈالا تو حیدر اور ارسلان کی سانسیں اٹک گٸی۔
شاہ رخ نے آنکھیں چھوٹی کرکے اسے دیکھا اور پھر ہنس پڑا
”ضرور شفا نے تمہیں اس مشن پر لگایا ہوگا؟“ شاہ رخ نے ہنستے ہوۓ پوچھا تو حیدر اور ارسلان کے منہ حیرت سے کھل پڑے البتہ علی ویسے ہی اطمینان سے کھڑا تھا
”تو اب آپ بتاۓ کہ آپ شادی پر کیوں راضی نہیں ہیں اور آپکو کس طرح راضی کیا جاۓ گا؟“ علی نے پوچھا
”شفا نے تمھیں سب بتادیا ہے؟“ اس نے پوچھا
”جی بلکل۔۔۔۔ سب کا سب“ علی نے اسکی تاٸید کی
”اس نے یہ نہیں بتایا کہ میں تو ہمیشہ سے ہی راضی ہوں۔۔۔۔“
”یہ بھی بتایا تھا۔ وہ تو بس یہ چاہتی ہے کہ اب وہ دوبارہ سے اپنی خالہ کوراضی کرنے کی کوشش کرے گی اور ہم تب تک آپ کو راضی کرلیں۔۔۔“حیدر نے جواب دیا
”اور شفا کو لگتا ہے کہ وہ اپنی خالہ کو منالے گی؟“ شاہ رخ نے پوچھا
”ایسا کوٸ کام نہیں ہے جو آپکی بھتیجی نہ کر پاۓ“ علی نے مسکراتے ہوۓ کہا تو حیرت کی زیادتی سے باقی دونوں کا منہ کنگ ہوگیا۔ یہ وہی علی تھا جس نے کبھی شفا کے منہ پر اسکی تعریف نہیں کی تھی
”تو ٹھیک ہے۔اسے کہو کہ اپنی خالہ کو راضی کرے۔ میں تو آج بھی اس سے شادی کرنے کو تیار ہوں“ شاہ رخ نے کندھے اچکاتے ہوۓ سنجیدگی سے کہا اور واپس مڑ گیا
”لو تو اسکا مطلب ہمارا کوٸ کام ہی نہیں تھا؟ یا ہمارا مشن فیل ہوگیا؟“ حیدر نے پوچھا
”ہاۓ!۔۔۔۔ گٸی بھینس گٹر میں۔۔۔“ ارسلان نے حسب توقع محاورے کی ٹانگیں توڑی تھیں
”گٹر میں نہیں پانی میں“
”گٹر میں پانی بھی ہوتا ہے۔“ علی نے کہا
”چلو چل کر شفا کو بتاتے ہیں“ علی نے کہہ کر قدم بڑھا دیۓ

خوبصورتی سے سجے لاٶنج کی داٸیں طرف کی دیوار تصاویر سے بھری ہوٸ تھیں۔ رشنا قدم قدم چلتی اس دیوار کے پاس آکھڑی ہوٸ۔ اور یک ٹک ان تصاویر کو دیکھنے لگی۔
یہ تمام تصویریں اسکے بابا، اسکے شہید بھاٸ عون اور اسکے بڑے بھاٸ رضا کی تھی۔ اسے یاد تھا جب وہ نو سال کی تھی تب اسکے بابا لاپتہ ہوگۓ تھے۔ انکی ایجینسی نے یہی کہا تھا کہ وہ شہید ہوگۓ ہیں۔ رضا،عون اور ماما نے شروع میں تسلیم نہیں کیا لیکن بعد میں انکی موت کو قبول کرلیا لیکن رشنا آج دس سال گزر جانے کے باوجود بھی دل میں یہ امید لیۓ بیٹھی تھی کہ شاید۔۔۔۔۔ شاید کسی دن اسکے بابا واپس آجاۓ گے۔ جس دن اسکے بابا لاپتہ ہوۓ اس دن سے آج تک وہ ایک بار بھی نہیں روٸی تھی۔ حتٰی کے عون کی شہادت پر بھی نہیں۔ رضا بھی اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے کٸی کٸی مہینوں بعد شکل دکھاتا تھا اور کبھی کبھی تو سال بھی گزر جاتا تھا اور اسکی کوٸ خبر نہیں آتی تھی۔
عون کی موت کے بعد اسکی ماما صدمے کے باعث بلکل خاموش ہوگٸیں تھیں۔ ہر وقت خاموش رہتی تھیں۔ وہ بلکل اکیلے ہوگٸ تھی لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری تھی۔وہ ہر حال میں خوش رہتی تھی۔
—————————-*——————*——————-
علی کمرے میں بیٹھا کسی غیر مرٸی نقطے پر نگاہیں مرکوز کیۓ بیٹھا تھا۔ اس وقت اسے علینہ شدت سے یاد آرہی تھی۔ علی کے باپ نے دو شادیاں کی تھیں ایک اسکی ماں سے اور ایک اپنی کزن سے، لیکن انکی دوسری شادی زیادہ عرصہ چل نہ سکی اور دس سال بعد ہی انکی طلاق ہوگٸ۔ انکی دوسری بیوی سے انکی ایک بیٹی علینہ تھی۔ جب وہ نو سال کی تھی تو یہیں رہتی تھی لیکن طلاق کے بعد اسکی ماں اسے اپنے ساتھ کشمیر لے گٸ۔ اور ایک سال بعد ہی انکا انتقال ہوگیا۔ وہ سال علی کے لیۓ بہت ہی منحوس ثابت ہوا تھا ایک تو اسکی بہن اس سے بچھڑ گٸی تھی اوپر سے اسی سال اسکی سوتیلی ماں کے انتقال کے دو ماہ بعد اسکے والد بھی ایک حادثے میں دنیا چھوڑ گۓ۔ علی کی ماں بہت نیک خاتون تھیں انہوں نے علینہ کو واپس گھر لانے کی کوشش کی لیکن اسکے ماموں نے اسے انکے حوالے کرنے سے سختی سے انکار کردیا تھا۔
اسکے بعد جب تک علی کی امی زندہ رہیں انہوں نے اپنی تمام کوششیں کرلی اسے یہاں لانے کی لیکن اسکے ماموں نے اسے آنے نہیں دیا۔ علی دو مہینے میں ایک بار کشمیر کا چکر لگا آتا اسطرح سال میں چھ بار اسکی علینہ سے ملاقات ہوجاتی تھی۔ یہ دیکھ کر کہ علینہ اپنے ماموں کے گھر میں خوش ہے، اس نے اسے کراچی لانے کا ارادہ ترک کردیا۔ علینہ کے ماموں کے انتقال کے بعد علی نے پھر سے کوشش کی اسے یہاں لانے کی لیکن اسکی مامی نے انکار کردیا اور علینہ بھی انکی ہر بات مانتی تھی۔ اسی لیۓ علی ایک بار پھر خاموش ہوگیا۔
”کیا سوچ رہا ہے میرا بچہ؟“ اسے کافی دیر سے خاموش دیکھ کر اسکی دادی نے دریافت کیا کیونکہ انکا پوتا خاموش بیٹھنے والوں میں سے تھا نہیں۔وہ اپنی وہیل چیٸر گھسیٹنے ہوۓ اسکے پاس آٸیں۔
”بس آپکی پوتی کو یاد کررہا تھا“ علی نے انکی گود میں سر رکھ دیا
”ویسے مجھے بھی بڑی یاد آرہی ہے اسکی“
”دادی یہ علینہ کی مامی کب مرے گیں؟“ علی نے پوچھا
”ہاۓ ہاۓ۔۔۔۔کیسی باتیں کررہے ہو؟“
”بھٸی اب وہ مریں گی تب ہی تو میں اپنی بہن کو یہاں لاسکوں گا نا“
”ایسے مت کہو۔۔۔۔لاکھ اختلافات صیح لیکن انہوں نے علینہ کو بہت پیار سے رکھا ہے،اور تم بھی تو جب کشمیر جاتے ہو تمہاری کتنی آٶبھگت کرتے ہیں“ دادی نے اسے سمجھایا
”ہاں لیکن جب تک وہ زندہ رہیں گی علینہ کو یہاں آنے نہیں دیں گی نا۔۔۔۔“ مرغے کی ایک ٹانگ طرح اسکی سوٸی وہیں اٹکی ہوٸ تھی
”تم کبھی نہ سدھرنا۔۔۔۔“ دادی اسکے سر پر ایک چپت لگاتی باہر چلی گٸ۔ علی تھوڑی دیر لیٹا رہا پھر اٹھ کر گھر سے باہر آگیا۔
فوارے کے قریب اسے حنان نظر آیا۔ وہ اپنی گاڑی سے اتر رہا تھا۔ علی اسکے پاس گیا
”خان صاحب!۔۔۔۔کدھر غاٸب ہیں آج کل؟“ علی نے قسم کھاٸ ہوٸ تھی کہ وہ کسی کو اسکے اصلی نام سے نہیں پکارے گا
”بس آفس میں کچھ کام زیادہ ہے آج کل۔۔۔۔۔تم کیوں پوچھ رہے ہو“ حنان نے گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوۓ خوشدلی سے کہا
”ایسے ہی۔۔۔۔نظر نہیں آرہا تھا نا تُو آج کل اسی لیۓ“
”دیکھ علی۔۔۔۔۔میرے پاس تیری طرح وراثت میں ملی میلیں تو چل نہیں رہیں کہ جب دل چاہا منہ اٹھاکر چل دیۓ آفس اور جب دل چاہا چھٹی کرلی، کوٸ پوچھنے والا ہی نہیں۔۔۔۔ کام کرنا پڑتا ہے ہمیں “ حنان نے اُسے سمجھایا، جِسے کبھی سمجھنا نہیں تھا
”صیح کہا بلکل۔۔۔۔۔“ وہ سرہلاتے ہوۓ بولا ”آخر تم غریبوں کو پیٹ پالنے کے لیۓ محنت مزدوری تو کرنی ہی پڑتی ہے“
”تیرا کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔۔“ حنان نے تاسف سے سرہلایا
”خیر میں گھر جارہا ہوں کھانا کھا کر آتا ہوں پھر بات ہوتی ہے۔۔۔“ حنان کہہ کر اپنے گھر چلا گیا تو علی نے اطراف میں نگاہیں دوڑاٸ۔۔۔۔شاید نیۓ شکار کی تلاش میں۔۔۔ اسے ثنا ہاتھ میں پینٹنگ کے ڈھیروں سامان پکڑی نظر آٸ۔ وہ مسکراتا ہوا اس تک گیا۔ بلاآخر اسے اسکا شکار مل ہی گیا تھا۔
”ہیلو مس! کہاں جارہی ہو؟“ علی نے پوچھا
”اوہ اچھا ہوا علی تم آگۓ۔۔۔ میں ابھی ابھی آرٹ کلاس لے کر آرہی ہوں۔ اور کچھ سامان وغیرہ خریدے ہیں۔ تم انہیں گھر پہنچانے میں میری مدد کردو“ ثنا نے منت آمیز لہجے میں کہا
”ہاۓ کیوں؟۔۔۔۔“ علی نےدل پر ہاتھ رکھتے ہوۓ پوچھا تو ثنا نے اسے گھورا۔ اب ہم آپ کو اس ”ہاۓ کیوں“ کی داستان مختصراً سناتے ہیں۔
قصہ یوں ہے کہ ایک بار ثنا کالج کے لیۓ گھر سے نکل رہی تھی کہ اچانک ہی ہڑتال کی کال ہوگٸی۔ علی اور حمزہ وغیرہ وہیں کھڑے تھے۔انہوں نے ثنا کو بتایا کہ کالج جانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اسٹراٸیک کی کال دے دی گٸی ہے۔ فوری طور پر ثنا کو کچھ سمجھ نہیں آیا اور گھبراہٹ میں اسکے منہ سے صرف اتنا نکلا
“ہاۓ کیوں؟۔۔۔“ اور اس وقت اسکے چہرے کے تاثرات ایسے تھے کہ اتنی سیریس سیچویشن میں بھی سب کی ہنسی چھوٹ گٸی۔
اس دن سے آج تک کسی بھی جگہ، کسی بھی وقت اور کسی بھی موقع پر جب علی کا دل چاہتا ہے وہ بلکل ویسے ہی ایکپریشن بنا کے، دل پر ہاتھ رکھ کر ثنا سے پوچھتا ہے کہ”ہاۓ کیوں؟“
”بدتمیزی نہیں کرو علی اور یہ سامان پکڑو۔۔۔“ ثنا نے دو تین شاپر اسے بھی پکڑاۓ جو اس نے شرافت سے پکڑ لیۓ، اور انتہاٸ تمیز سے اسکے ساتھ چلنے لگا۔ثنا کو حیرت تو ہوٸی اسکی اتنی شرافت پر لیکن اسے زیادہ سوچنے کا موقع نہیں ملا،
”ویسے مس ہاۓ کیوں!۔۔۔ تم ڈاکٹر تو بن ہی رہی ہو۔۔۔ پھر یہ پینٹر بننے کا شوق کب سے ہوگیا؟“ علی نے پوچھا
”تم سے کس نے کہا کہ ڈاکٹرز، پینٹر نہیں بن سکتے؟“
”کیونکہ انسان ایک وقت میں ایک ہی چیز بن سکتا ہے“ علی نے اپنی طرف سے عقلمندانہ بات کہی تھی
”جب ہی تم آج تک انسان نہیں بن سکے کیونکہ تم ایک وقت میں شیطان جو ہو“
”بس جی۔۔۔۔کبھی غرور نہیں کیا“ علی نے سعادت مندی سے کہا اور انہی باتوں کے دوران وہ ثنا کا بہت سا آرٹ کا سامان اپنی جیبوں میں منتقل کرچکا تھا۔
”ویسے علی اگر تم اجازت دو تو کیا میں تمہیں پینٹ کرسکتی ہوں؟“ گھر کے دروازے پر رک کر ثنا نے پوچھا
”ہاۓ کیوں؟۔۔۔۔“ علی نے خاصے جذباتی انداز میں پوچھا تھا۔ ثنا کا دل چاہا رکھ کے تھپڑ لگادے اسکے۔۔۔۔۔
”کیونکہ اسکی ٹیچر نے اسے کارٹون بنانے کو کہا ہے نا اسی لیۓ“ ثنا کے بجاۓ اپنے گھر کے دروازے سے نکلتی حریم نے جواب دیا
”اوہ۔۔۔۔۔تو پھر تم اپنے بھاٸ کو پیش کردو۔ اس سے اچھا کارٹون تو پوری دنیا میں کہیں نہیں ہے“ وہ علی ہی کیا جو کسی سے ہار جاۓ۔
”بنّو رانی جمعہ کو تمہارا نکاح ہے کبھی گھر پر بھی ٹِک جایا کرو“ ثنا نے حریم کو وہاں دیکھ کر چھیڑا
”بس یار رشنا کی طرف جارہی تھیں۔اسکے ساتھ پارلر جانا ہے۔ بیوٹیشن کا پتہ کرنے“ حریم نے ہنستے ہوۓ کہا
”لڑکیوں اگر بات چیت ہوگٸی ہو تو مجھ معصوم پر رحم کھاٶ، اور تم یہ سامان لے جا کر اندر رکھو“ علی نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔ ثنا نے اپنے گارڈ کو آواز دے کر بلایا اور علی کے ہاتھ سے سامان لے کر اسے پکڑایا پھر حریم کو خدا حافظ کہہ کر چلی گٸی
”کیوں بے۔۔۔۔۔دوسروں کو تنگ کیۓ بغیر سکون نہیں ملتا تجھے؟“ حنان نے پیچھے سے آکر اسکے سر پر چپت لگاٸ
”ارے خان صاحب آپ آگۓ؟“ علی چہکا
”نہیں راستے میں ہوں“
”چل ٹھیک ہے پھر جب پہنچ جانا تو بتادینا“ علی اطمینان سے کہتا آگے بڑھ گیا تو حنان مسکراتا ہوا اسکے پیچھے چل پڑا
—————————*———————*—————–
”خالہ جانی!۔۔۔۔۔آخر آپکو مسلہ کیا ہے؟ کیوں انکار کررہی ہیں آپ بار بار؟ اتنے اچھے تو ہیں چاچو“ شفا آج اپنے نانا کے گھر آٸی ہوٸ تھی اور تب سے اپنی خالہ کے سر تھی
”میں جانتی ہوں کہ تمہارے چاچو بہت اچھے ہیں لیکن بات یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔“ روشانے نے کہنا شروع ہی کیا تھا کہ شفا نے اسکی بات کاٹ دی
”بات یہ ہے کہ آپ اپنے سابقہ سسرال والوں سے ڈرتی ہیں۔ کیوں نہیں سمجھتی آپ؟ لوگوں کا کام ہے بولنا وہ تو بولے گے۔ کیا آپ کے سابقہ شوہر نے شادی نہیں کی؟ کیا وہ اپنی زندگی سکون سے نہیں گزار رہیں؟ تو پھر آپ کو بھی تو حق ہے نا“
”نہیں شفا بات وہ نہیں ہے“
”تو پھر کیا بات ہے؟“ شفا نے حیرت سے انہیں دیکھا
”ٹھیک ہے میں نے اس وقت اپنے سابقہ سسرال والوں کے الزامات سے ڈر کر انکار کردیا تھا لیکن مجھے جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا“
”تو پھر آپ نے بتایا کیوں نہیں؟“ شفا کو مزید حیرت ہوٸ
”کیونکہ میں شاہ رخ کے سامنے جانے کے قابل نہیں رہی تھیں۔ میں کس منہ سے اس سے معافی مانگتی جب کہ میں نے اتنی بری طرح اسے ریجیکٹ کیا تھا“
”اوہ خالہ۔۔۔۔۔“ شفا نے اپنا ماتھا پیٹ لیا ”آپ یہ سوچ کر اتنے سالوں سے خاموش بیٹھی ہیں۔ چاچو کے دل میں آپ کے لیۓ آج بھی اتنی ہی جگہ ہے بلکہ وہ تو اب بھی راضی ہیں۔ میں ابھی ان سے بات کرتی ہوں“ شفا نے خوشی سے کہا
”نہیں شفا۔۔۔۔ تم ایسا کچھ نہیں کروگی“
”پر کیوں؟“
”کیونکہ میں شاہ رخ سے نظریں ملانے کے قابل نہیں ہوں۔ میں نے اپنی زندگی کے ساتھ سمجھوتا کرلیا ہے اور اب تم بھی کچھ نہیں کروگی“
”پر خالہ۔۔۔۔“
”میں نے کہہ دیا نا۔۔۔۔نہیں تو نہیں“ شفا نے مایوسی سے انہیں دیکھا تھا۔
————————–*———————*——————
شام کا وقت تھا وہ سب لڑکے اسٹریٹ میں کرسیاں ڈالے بیٹھے تھے۔ رشنا اور حریم بینچ پر بیٹھی سامعہ اور علی کی بحث سن رہیں تھیں۔ اسی وقت ثنا اپنے گھر سے باہر آٸ اور سیدھا علی کے پاس پہنچی۔۔۔۔
”علی عزت کے ساتھ میرا سارا سامان مجھے واپس کرو“ وہ سخت غصے میں لگتی تھی
”کیا ہوگیا اتنا چلّا کیوں رہی ہو؟“ علی نے سکون سے پوچھا تو اسے آگ ہی لگ گٸ
”تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں کس سامان کی بات کررہی ہوں“
”نہیں میں تو نہیں جانتا تم کس سامان کی بات کررہی ہو“
”علی! تم نے میرا جو آرٹ کا سامان چوری کیا ہے وہ فوراً مجھے واپس کرو“ ثنا نے چبا چبا کر کہا
”اچھا وہ۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو میں نےبیچ دیۓ“ اس نے اطمینان سے کہا تو صدمے کے مارے ثنا کا منہ کھل گیا
”تم۔۔۔۔تم نے وہ بیچ دیۓ۔۔۔۔تم جانتے بھی ہو وہ کتنے مہنگے تھے“
”ہاں ہاں جانتا ہوں۔۔۔۔ قسم لے لو۔۔۔ایک روپے بھی کم میں نہیں بیچا۔جتنے کے تھے اتنی ہی قیمت پر بیچے ہیں“
”علی میں تمہیں جان سے مار دوں گی“ وہ دھاڑی
”ہاۓ کیوں؟“ علی نے حیرت سے کہا
”مار دو اسے ثنا، میں بھی تمہاری مدد کروں گی“ رشنا نے کہا
”نہ کرو روشن آرا۔۔۔۔ اگر میں مر گیا تو تمہاری ڈولی کون اٹھاۓ گا“ علی نے روہانسے لہجے میں کہا
”تم کیوں اٹھانے لگے میری ڈولی؟“ رشنا نے حیرت سے پوچھا
”کیونکہ تمہارے بھاٸ کا تو کچھ اتا پتہ تو ہوتا ہی نہیں، کیا معلوم وہ تمہاری رخصتی کے دن بھی اپنی ڈیوٹی پر ہو۔ تب کیا تمہاری ڈولی گھر کی دہلیز پر ہی رکھی رہے گی؟ نہیں میری بہن۔۔۔۔میں ایسا نہیں ہونے دوں گا“
”بہت فضول بولتے ہو تم“ رشنا نے اتنا ہی کہنے پر اکتفا کیا
”علی مجھے تنگ مت کرو۔۔۔۔“ ثنا خود پر سے توجہ ہٹتے دیکھ کر چلاٸ
”تم مجھ سے تنگ ہورہی ہو؟“ علی نے صدمے سے پوچھا
”ہاں۔۔۔۔۔“
”ہاۓ کیوں؟۔۔۔۔“ مقابل آخر علی تھا
”اف۔۔۔۔ “ اس نے بےبسی سے پیر پٹخے ”تم واپس دے رہے ہو کہ نہیں؟“
”کہا ناں بیچ دیۓ۔“
”کیوں بیچے؟“
” وہ میرا معاوضہ تھا۔میں نے اتنی گرمی میں تمہارا اتنا بھاری سامان اٹھایا اور اس پر سے بےمروتی کی انتہا دیکھو، بجاۓ مجھے چاۓ پانی کا پوچھنے کے اس نے دروازے سے ہی لوٹا دیا۔ ارے۔۔۔۔شکریہ تک نہیں کہا اس نے تیرے بھاٸ کو“ علی نے بھراۓ ہوۓ لہجے میں کہتے ارسلان کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
”اوۓ۔۔۔۔بہت تنگ کرلیا تُو نے اسے، چل اب اسکا سامان واپس کر دے جلدی“ ارسلان نے الٹا اسکے ہی سر پر ایک چپت لگادی
”چل تُو کہتا ہے تو کردوں گا“ علی نے سر سہلاتے ہوۓ کہا
”ابھی دو۔۔۔۔“ ثنا نے اسے راضی ہوتا دیکھ کر کہا
”صبر رکھو لڑکی۔۔۔ جب گھر جاٶں گا تو دے دوں گا نا“ علی نےکہا تو تب وہ سکون سے جاکر بینچ پر بیٹھی۔
”چوبیس گھنٹے ہر کسی کو تنگ کرتے رہتے ہو۔ اسکے علاوہ کوٸ کام نہیں ہے تمہارے پاس؟“ حنان نے ہنستے ہوۓ پوچھا تھا۔ حیدر، ارسلان اور عمر کو موباٸل پر کسی گاڑی کی ویڈیو دکھا رہا تھا جسے وہ مستقبل میں خریدنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ جب کہ حمزہ کرسی پر آدھا لیٹا، اور آدھا بیٹھا ہوا فیس بک اسکرول کر رہا تھا
”یہی تو میرا آفیشیل کام ہے خان صاحب۔۔۔“ اس نے دانت نکالے تھے۔ حنان کوٸ جواب دینے ہی لگا تھا جب شفا کی آواز نے سب کو اپنی جانب متوجہ کیا
”یار!۔۔۔۔۔ ایک مسلہ ہوگیا ہے“ شفا نے پریشانی سے کہا
”کیا؟ تمہاری خالہ کو شاہ رخ انکل کے بجاۓ شاہد آفریدی پسند آگیا ہے؟“ علی نے حیرت سے پوچھا
”فضول نہیں بولو علی!۔۔۔۔ میں اس وقت سیریس ہوں“ اس نے علی کو ڈانٹا تو وہ اچھے بچوں کو طرح ہونٹوں پر انگلی رکھ کر، سر جھکا کہ بیٹھ گیا
”اب کون سا نیا مسلہ ہوگیا؟“ حمزہ نے بےزاری سے پوچھا تھا نگاہیں البتہ فیس بک پر ہی تھیں۔
”ہوا دراصل یہ کہ آج میں خالہ کے پاس گٸ اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ شفا نے اپنے اور روشانے کی ساری گفتگو انکے گوش گزار کردی.
”مطلب جو ہم نے سوچا ویسا کچھ نہیں تھا؟“ حیدر نے حیرت سے کہا
”لوجی۔۔۔۔یہاں تو الٹی ستلج بہہ رہی ہے“ ارسلان نے کہا
”الٹی ستلج نہیں گنگا ہوتی ہے“ عمر نے اسے گھورتے ہوۓ سمجھایا تھا۔
”جو بھی ہوتی ہو،“ ارسلان نے ناک پر سے مکھی اڑاٸ تھی
”مجھے بتاٶ کہ اب کیا کرنا ہے؟“ شفا نے ان سب کو مخاطب کیا
”تم ایک کام کرو، اپنی خالہ کا گن پواٸنٹ پر نکاح کروادو“ کافی دیر سے خاموش بیٹھی سامعہ نے مفت مشورہ دیا تھا
”نہایت ہی فضول آٸیڈیا تھا“ شفا نے بےزاری سے کہا
”جب تمہاری خالہ راضی ہی نہیں ہیں تو ہم انکے ساتھ زبردستی تو نہیں کرسکتے نا“ عمر نے پہلی بار اس معاملے میں اپنی راۓ دی تھی۔
”آٸیڈیا۔۔۔۔۔“ اچانک ہی علی چیخا تھا
”زبردستی۔۔۔۔ہمم۔۔۔۔ اچھا مشورہ دیا تُو نے عمر“ علی نے اسے داد دی جب کے سب ناسمجھی سے اسے دیکھ رہے تھے۔
”کیا کہنا چاہتے ہو تم؟“ سب سے بےچین روح تو سامعہ کی ہی تھی
”وہ میں تمہیں نہیں سمجھا رہا۔ شفا!۔۔۔۔۔ تم اپنے نانا سے میری ایک ملاقات کرادو۔ سارے مسلے چٹکی بجا کر حل کردوں گا“ علی نے پہلے سامعہ پھر شفا کو مخاطب کیا
”لیکن تم کرنے کیا والے ہو؟“ شفا نے پریشانی سے پوچھا
”وہ کہہ رہا ہے نا کہ وہ کرلے گا۔ تو پھر وہ سچ میں کر لے گا۔ تم آم کھاٶں چھلکے نہ گنو“ ارسلان نے شفا کو سمجھایا
”ابے۔۔۔۔چھلکے نہیں گھٹلیاں“ حنان نے اسکے سامنے ہاتھ جوڑ دیۓ جیسے کہہ رہا ہو کہ بھاٸ بس کردے اور محاورے اب ہم سے برداشت نہیں ہوں گے
”لیکن اس کام کا معاوضہ لگے گا“ علی حسب توقع مطلب کی بات پر اتر آیا
”میرا وعدہ علی!۔۔۔۔ جب کام ہوجاۓ گا تو جو تم کہو گے وہ کروں گی“شفا نے کہا۔ علی مسکرایا۔
حمزہ کی اسکرول کرتی انگلیاں اچانک ہی تھمی تھیں اور وہ آنکھیں پھاڑ کر موباٸل کی اسکرین دیکھنے لگا۔
”علی۔۔۔۔۔ یہ تُو نے میری کونسی تصویر فیس بک بر اپلوڈ کردی“ حمزہ موباٸل کو دیکھتا سیدھا ہوا اور ہکا بکا انداز میں پوچھنے لگا
”وہی جو تُجھے نظر آرہی ہے“ علی نے اطمینان سے کہا۔ ایسا ہی تھا و بڑے سے بڑا کام کر کے بھی اسکے اطمینان میں ذرّہ برابر بھی فرق نہیں آتا تھا۔ باقی سب کی شکلوں سے لگتا تھا کہ وہ یہ تصویر پہلے سے دیکھ چکے ہیں سواۓ عمر کے۔۔۔
”کیا ہوا ہے حمزہ؟ “ عمر نے پوچھا
”یار۔۔۔پچھلے دنوں بارش کے دوران گھر کے سامنے جو کیچڑ جم گیا تھا۔ اور میں اسے صاف کررہا تھا، اس وقت اس کمینے نے میری تصویر کھینچ لی تھی اور آج اس نے وہ اپلوڈ کردی۔ اور سالے نے ایک سو پچاس لوگوں کو ٹیگ کیا ہے میرے علاوہ۔۔۔۔۔“ حمزہ نے دانت کچکچاتے ہوۓ کہا تو حریم اور رشنا کی ہنسی چھوٹ گٸ
”کیا ہوا حمزہ؟ اچھی نہیں لگی؟“ علی نے معصومیت سے پوچھا
”تجھے میں نےمنع کیا تھا نا کہ اسے کہیں بھی اپلوڈ مت کرنا“ حمزہ کی آنکھوں میں غصہ واضع نظر آرہا تھا مگر مقابل کو اس سے کوٸ فرق نہیں پڑتا تھا۔
”اور تجھے لگتا ہے میں تیری سن لوں گا انکل جلالی؟“ علی نے کہا تو حمزہ کا غصہ سوا نیزے پر پہںچ گیا۔ انکل جلالی کا خطاب اسے علی کا ہی عطا کردا تھا
”رک تجھے میں ابھی بتاتا ہوں“ حمزہ اسے مارنے لپکا لیکن وہ بھاگ نکلا۔ اب علی آگے آگے اور حمزہ اسکے پیچھے پیچھے دوڑ رہا تھا۔
جب کہ شفا سوچ رہی تھی کہ پتہ نہیں علی کیا کرنے والا ہے؟
————————*——————-*———————-
”وہ دیکھو! وہ جو بستر پر لیٹے ہیں وہ میرے نانا ہیں۔ اب تم جاکر ان سے بات کرو میں چاۓ لے کر آتی ہوں“
”صرف چاۓ نہیں کچھ کھانے کو بھی لانا“ علی کہتا ہوا اسکے نانا کے کمرے کی جانب بڑھ گیا
”اسلام علیکم نانا۔۔۔۔“ علی نے انکے بیڈ کے برابر رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوۓ انہیں سلام کیا تو وہ چونکتے ہوۓ اٹھے
”تم۔۔۔۔تم علی ہو نا؟ شفا کے پڑوسی؟“ انہوں نے علی سے پوچھا
”جی نانا میں وہی ہوں“
”کیسے آنا ہوا؟“ انہوں نے خوشدلی سے پوچھا
”اصل میں بات یہ ہے۔۔۔۔۔“ علی نے شفا کے مشن کی ساری روداد کہہ سناٸ
”اچھا۔۔۔۔ تو پھر اب تم کیا کرنا چاہتے ہو؟“ انہوں نے پوچھا
”میں جو کرنا چاہتا ہوں وہ آپکی مدد کے بغیر ممکن نہیں“
”کیسی مدد؟“
”کیا نانا؟۔۔۔۔آپ پاکستانی ڈرامیں بھی نہیں دیکھتے کیا؟“ علی نے شوخی سے پوچھا تو وہ ہنس پڑے
”نہیں بھٸ مجھ بوڑھے کو کیا دلچسپی ہوگی اس میں؟“
”آپ سے کس نے کہہ دیا کہ آپ بوڑھے بلکہ آپکو دیکھ کر تو میں احساس کمتری کا شکار ہورہا ہوں“
”اچھا اچھا مکھن نہ لگاٶ بتاٶ کیا کرنا ہے؟“ انہوں نے ہنسے ہوۓ پوچھا
” کرنا یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔“ علی نے بولنا شروع کیا اور جیسے جیسے وہ بتاتا گیا نانا ابو کا چہرہ کھلتا چلا گیا۔ اور جس وقت شفا چاۓ لے کر کمرے میں داخل ہوٸ تو وہ دونوں اتنی خوش مزاجی سے گپّے لگانے میں مصروف تھے جیسے بچپن کا یارانہ ہو۔
چاۓ کے دوران بھی علی کی زبان اور منہ چلتا ہی رہا جب کہ شفا یہ سب جاننے کے لیۓ بےچین تھی لیکن یہ منحوس علی منہ سے کچھ پھوٹنے کو ہی تیار نہیں تھا۔
”لیکن بیٹا!۔۔۔۔۔ تمہیں امانت اور شاہ رخ کو بھی تو راضی کرنا ہوگا“ باتوں کے دوران نانا ابو اچانک ہی بولے۔ شفا کے کان کھڑے ہوگۓ تھے۔
”اسکی آپ فکر ہی نہ کریں۔۔۔۔ بس اپنی اس نواسی کو کچھ مت بتایۓ گا“ علی نے اٹھتے ہوۓ کہا
”اوکے اوکے۔۔۔۔۔“ نانا نے ہنستے ہوۓ کہا تو وہ خدا حافظ کہتا باہر نکل گیا جب کہ شفا دل ہی دل میں بیچ و تاب کھا رہی تھی۔ جانتی تھی کہ نانا زبان کے کتنے پکے ہیں۔ اگر علی نے انہیں منع کیا تھا تو شفا کے لاکھ کوشش کرنے کے باوجود انہوں نے اسے کچھ نہیں بتانا تھا
———————*————————*——————–
اس وقت شفا اپنے کمرے میں لیٹی سخت کوفت میں مبتلا تھی۔ تھوڑی دیر پہلے ہی علی نے اسکے دادا اور چاچو شاہ رخ کو اپنے ساتھ ٹاٶن کے پارک میں بلایا تھا۔ اور شفا کو لانے سے سختی سے منا کیا تھا۔
”آخر یہ کرنا کیا چاہتا ہے؟“ وہ دل ہی دل میں سخت قسم کے تجسس میں مبتلا تھی۔ جب ہی اسکا فون بجا۔ اس نے اٹھا کر دیکھا تو سامعہ کی کال تھی
”کیسی ہو شفا؟ اور یہ علی صاحب کیا کرتے پھر رہے ہیں؟“ اس نے پوچھا
”وہی تو سمجھ نہیں آرہا یار۔۔۔صبح سے میرے نانا اور دادا کو باتوں میں الجھا کر رکھا ہوا۔“
”کیا مطلب؟ تمہیں نہیں پتہ وہ کیا کررہا ہے؟“ سامعہ نے پوچھا
”نہیں ناں۔۔۔۔ اور اس نے نانا اور دادا کو بھی کہا ہے کہ مجھے کچھ نہ بتاۓ۔ پتہ نہیں کیا چل رہا ہے اسکے شیطانی دماغ میں“ شفا منہ بسور کر بیٹھ گٸ
” فکر نہ کرو علی کررہا ہے نا تو کچھ زبردست ہی کرے گا“ سامعہ نے کہا اور پھر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد اس نے فون رکھ دیا
دوسری طرف پارک میں کھڑا علی امانت صاحب سے پوچھ رہا تھا
”تو کیسا لگا میرا آٸیڈیا؟“
”آٸیڈیا تو زبردست ہے۔ لیکن اس پر عمل کب ہوگا؟“ امانت صاحب نے پوچھا
”کل صبح جب آپ کے سمدھی ثقلین صاحب آپ کو کال کریں گے تب سے عمل شروع ہوگا“
”لیکن۔۔۔۔ یہ کچھ عجیب نہیں ہے؟“ شاہ رخ نے کچھ ہچکچاتے ہوۓ پوچھا
”تم نے اپنے وقت میں اس سے زیادہ عجیب حرکتیں کی ہیں“ امانت صاحب نے اسے ڈانٹ دیا
”اوکے انکل!۔۔۔۔پھر کل صبح تیار رہی گا“ علی ان دونوں سے ہاتھ ملا کر واپس چلا گیا۔ اب اسے کل صبح کا شدت سے انتظار تھا

رات کے اس پہر جب سب سکون کی نیند سو رہے تھے تب عمر اپنے گھر کی بالکونی میں کھڑا کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ سوچیں یادوں میں تبدیل ہونے لگی۔ اذیت ناک، اور جان لیوا یادیں۔
”بھاٸ ہم کہاں جارہے ہیں.اور ہم کب تک پہنچے گے، میں تھک گٸ ہو اب ۔۔۔۔۔“ عمر کے کانوں میں آواز گونجی اس نے سختی سے آنکھیں میچ لیں
”بس تم چلتی رہو۔“ عمر نے خود سے چھوٹی بہن کو کہا
”بھاٸ بھوک لگ رہی ہے۔“ بچی نے پھر کہا
”میں کچھ کرتا ہوں کھانے کے لیۓ۔۔۔۔ “ عمر نے بےبسی سے کہا لیکن وہ خود بہت پریشان تھا۔ سنسان سڑک پر وہ دونوں بہن بھاٸ کسی انجان منزل کی طرف رواں دواں تھے۔عمر کے موباٸل کی گھنٹی بجی تو وہ خیالوں کی دنیا سے باہر آیا۔ اس نے موباٸل دیکھا تو حنان کی کال تھی
”کیسے ہو عمر؟ اور ابھی تک جاگ کیوں رہے ہو؟“ حنان نے پوچھا
”نیند نہیں آرہی تھی۔ اور تجھے کیسے پتہ میں جاگ رہا ہوں؟“ عمر نے مسکراتے ہوۓ پوچھا
”میں نے ابھی تجھے دیکھا اپنے کمرے کی بالکونی پر کھڑا تھا نا تُو؟“
”ہاں۔۔۔۔۔“ عمر نے مختصر سا جواب دیا
”تُو بھول کیوں نہیں جاتا یار؟“ حنان نے نرمی سے پوچھا
”بھولنا آسان نہیں ہے“ عمر اپنی راکنگ چیٸر پر بیٹھ گیا
”کوشش تو کرو، ایسے تو بیمار پڑ جاٶں گے“ اس نے فکر مندی سے کہا تو عمر ہنسا
”چودہ سال سے زندہ ہوں۔ آج تک تو کچھ ہوا نہیں۔ اب کیا ہوگا“
”فضول باتیں نہ کیا کرو۔ چلو سو جاٶ جاکر اور اب جاگتے ہوۓ نظر نہ آٶ مجھے“ حنان نے اسے تاکید کی اور فون رکھ دیا۔ عمر بھی فون رکھ کر اٹھنے لگا کہ پھر اسکے کانوں میں آوازیں گونجنے لگی۔ میٹھی، نرم اور پیار بھریں آوازیں
”بھاٸ۔۔۔۔۔بھاٸ۔۔۔۔۔“ اسیے قدم زنجیرہوگۓ۔وہ سر پکڑ کر پھر سے وہیں بیٹھ گیا
—————————*—————*———————–
شاہ رخ، امانت صاحب، شانزے، روشانے اور شاہ زل اس وقت شفا کے نانا کے کمرے میں موجود تھے۔ جن کی حالت خاصی تشویش ناک تھی۔
”بابا! آپ کو ہوا کیا ہے کچھ تو بو لیں۔“ روشانے نے روتے ہوۓ ان سے پوچھا۔ انہوں نے اسے جواب نہیں دیا
”امانت بھاٸ۔۔۔ میری طبیعت بہت خراب ہے۔ ہوسکتا ہے آج ہی جان چلی جاۓ۔۔۔۔۔میری بیٹی کا خیال رکھیے گا“
”تو یہ ڈرامہ رچارہے تھے تم اتنے دن سے“ کمرے سے دور لاٶنج میں کھڑی شفا نے فون پر علی سے پوچھا
”میں نے۔۔۔۔۔میں نے کب ڈرامہ رچایا؟ میں نے تو ہنٹ دی تھی ڈرامہ کرنا تو تمہارے نانا کا کام تھا“ علی نے بےنیازی سے کہا
”تم فکر نہ کرو ثقلین۔۔۔۔ یہ اب سے میری بیٹی ہے۔ میں آج ایک بار پھر تم سے روشانے کا ہاتھ مانگتا ہوں“ امانت صاحب نے ان سے کہا
”مجھے کوٸ اعتراض نہ پہلے تھا نہ اب ہے۔ لیکن مجھے روشانے پر یقین نہیں رہا اسی لیۓ تم ابھی قاضی بلواٶ اور اسکا نکاح کراکے رخصت کرکے لے جاٶ“ انہوں نقاہت زدہ لہجے میں کہا
”بابا یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ میں۔۔۔۔۔“ روشانے نے کچھ کہنا چاہا
”اسے میری وصیت سمجھ کر مان لو ورنہ میں تم سے ناراض مر جاٶں گا“انہوں نے اسکی بات کاٹ دی
”یہ کا کہہ رہے ہیں بابا۔۔۔۔۔۔“
”تم مان رہی ہو یا نہیں“ انہوں نے فیصلہ کن لہجے میں پوچھا
”ٹھیک ہے۔۔۔۔“ اس نے سر جھکا دیا
اور بس۔۔۔۔۔پھر سب آناً فاناً ہوا اور قاضی بلوا کر دونوں کا نکاح بھی ہوگیا۔ نکاح کے بعد شفا نے اپنے چاچو اور خالہ کی ایک ملاقات کرادی جس کے بعد اسے یقین تھا کہ سب ٹھیک ہوجاۓ گا۔تھوڑی دیر میں علی بھی وہیں آن ٹپکا تھا۔
”دیکھا!۔۔۔۔۔کیسا کارنامہ انجام دیا میں نے؟ داد دو مجھے“ علی نے فخر سے گردن اکڑاے ہوۓ شفا سے کہا
”ہاں واقعی جو کام ہم نہ کرپاۓ تم نے کردیا“ شفا نے کھلے دل سے تعریف کی
”میرا معاوضہ؟“ علی نے پوچھا
”بولو کا چاہیۓ؟“ شفا نے پوچھا
”ابھی نہیں وقت آنے پر مانگو گا اور تب تم مُکری ناں تو یاد رکھنا۔۔۔۔۔۔۔“ علی نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا
”کیا یاد رکھنا ہاں؟“ شفا نے کڑے تیوروں کے ساتھ پوچھا
”تمہیں ناں۔۔۔۔۔گنجا دلہا ملے گا“ علی کہہ کے بھاگ نکلا
”علی۔۔۔۔“ شفا چیخی ” تمہاری بیوی بھینگی ہوگی دیکھنا“ شفا نے چیختے ہوۓ کہا تو علی رکا۔۔۔۔پھر اسے منہ چڑا کر پھر بھاگ نکلا۔
—————————–*—————*———————
”اوۓ۔۔۔۔۔ یہاں میری بہن کی مایوں ہے اور میں ہی ابھی تک تیار نہیں ہوا، حد ہے۔۔۔۔۔“ حمزہ نےغصے سے کہا۔ بےچارہ کب سے گھر کے کاموں میں گھن چکر بنا ہوا تھا اور یہاں کسی کو فکر ہی نہیں تھی۔ حیدر اور ارسلان تیار ہونےاپنے اپنے گھر گۓ ہوۓ تھے۔ حنان آفس میں ضروری کام کی وجہ سے پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ رات میں آۓ گا۔ عمر کا کچھ اتا پتہ نہیں تھا اور رہ گۓ علی صاحب۔۔۔۔ تو وہ سکون سے حمزہ کے بستر پر لیٹے موباٸل یوز کررہے تھے۔
”تو مایوں تیری بہن کی ہے نا۔۔۔۔تیری تو نہیں، تجھے کیا ضرورت تیار ہونے کی۔“ علی نے بےنیازی سے کہا تو حمزہ کو آگ ہی لگ گٸ۔
”تو پھر تیرا بھی یہاں کیا کام ہے؟ تُو دفعہ کیوں نہیں ہوجاتا یہاں سے؟“ اسے کچھ زیادہ ہی غصہ تھا
”کیا ہوا حمزہ؟ کیوں غصہ کررہے ہو؟“ عمر نے اسکے کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ پوچھا۔
”تُو کہاں تھا؟“ حمزہ نے اسے دیکھ کر پوچھا
”یار ایک کام تھا ضروری۔۔۔ وہیں گیا تھا۔ تم کیوں اب تک تیار نہیں ہوۓ؟“
”یہاں کام ہی نہیں ختم ہورہے“ حمزہ نے بےزاری سے کہا۔ عمر سمجھ سکتا تھا کہ اکلوتا بھاٸ ہونے کے ناطے اس بےچارے کو اکیلے ہی سارے کام دیکھنا پڑ رہے تھے
”تم ایک کام کرو۔۔۔تم تیار ہونے جاٶ میں باقی کے کام دیکھ لیتا ہوں۔“ عمر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی
”تھینکس یار۔۔۔۔۔ لیکن نیچے جو بندے اسٹیج سجارہے ہیں نا انہیں چاۓ منگوا کر دے دینا، صبح سے کام میں لگے ہوۓ ہیں۔“ حمزہ نے کہا
”اوکے۔۔۔۔۔۔۔“ عمر نے مسکراتے ہوۓ کہا
”یہ لے۔۔۔۔تیرا کُرتا“ علی اچانک ہی مسکراتا ہوا حمزہ کے پاس آیا اور اسکا استری شدہ کُرتا جو کے حریم نے ہی صبح استری کیا تھا، اسکے حوالے کیا
”بہت شکریہ تیرے احسان کا۔۔۔۔۔۔“ حمزہ کرتا چھپٹتے ہوۓ واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
”چل تو بھی آ۔۔۔۔۔“ عمر علی کو بھی ساتھ آنے کا اشارہ کرکے باہر نکل گیا۔۔
”انکل جلالی۔۔۔۔اب مزہ آۓ گا ناں۔۔۔۔“ علی دل ہی دل میں کہتا باہر نکل گیا۔
لان میں مایوں کا پورا انتظام ہوچکا تھا۔ کل حریم کا نکاح اور رخصتی تھی۔ حیدر، ارسلان اور حنان بھی آہی چکے تھے۔ لڑکیاں بھی تیار ہوٸ یہاں سے وہاں پھر رہی تھیں۔
”روشن آرا۔۔۔۔۔شادی حریم کی ہے اور دلہن تم بنی ہوٸ ہو؟ خیریت؟۔۔۔۔“ علی نے پاس سے گزرتی رشنا کو روکتے ہوۓ پوچھا
”بات سنو۔۔۔۔۔میرا موڈ بہت اچھا ہے اور میں تمہارے منہ لگ کر اسے خراب نہیں کرنا چاہتی۔“ رشنا نے بےزاری سے کہا
”ارے حمزہ۔۔۔۔۔ اچھا ہوا تم مل گۓ۔ تم سے ایک کام تھا۔“ حمزہ تیار ہوکر اسی وقت وہاں پہنچا تھا جب رشنا نے اسے پکارا
”ہاں۔۔۔۔ کہو؟“ حمزہ نے پوچھا
”مجھے میری فزکس کی ٹیچر نے اگلے مہینے تک ایل-ای-ڈی لاٸٹ کے فنکشن پر ایک اساٸمنٹ تیار کرنے کو کہا ہے۔ میں تو شادی میں بزی ہوں مجھے یاد نہیں رہا۔ تمہارے پاس تمہارے پرانے اساٸمنٹ پڑے ہوۓ ہیں نا۔۔۔۔وہ دے دو گے مجھے؟“ رشنا نے معصومیت سے پوچھا۔ اور وہ حمزہ جو اپنی چیزیں کسی کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دیتا، وہ فوراً راضی ہوگیا۔ اس معصومیت پر تو جان بھی قربان۔۔۔۔۔۔۔
”ہاں ہاں۔۔۔۔کیوں نہیں، میں شادی سے فارغ ہوجاٶں پھر خود لاکر دوں گا تمہیں۔۔۔۔“ حمزہ نے خوش دلی سے کہا جب کے علی نے آنکھیں مٹکاکر دونوں کو دیکھا تھا۔ نیلی آنکھوں میں شرارتی سی چمک ابھر کر معدوم ہوٸ تھی۔
”شکریہ۔۔۔۔“ رشنا کہتی ہوٸ واپس حریم کے کمرے کی طرف بڑھ گٸ تھی۔
”یار حمزہ۔۔۔۔۔ تیرے پاس پانچ ہزرا کا کھلا ہوگا؟“ حنان نے حمزہ سے پوچھا۔
”ہاں ہے۔ ایک منٹ دیتا ہوں۔“ حمزہ نے والٹ نکالنے کے لیۓ کُرتے کی جیب میں ہاتھ ڈالا تو کوٸ عجیب سی چیز اسکے ہاتھوں سے ٹکراٸ۔ اس نے وہ چیز باہر نکال کر آنکھوں کے سامنے کی تو حیرت سے اسکا منہ کھل گیا۔ وہ ایک چھپکلی تھی، اور وہ بھی بلکل اصلی۔ اگلے ہی لمحے وہ اسے پھنکتا، چیختا ہوا پیچھے ہٹا تھا۔ سب ہی اسکی جانب متوجہ ہوۓ تھے۔
”کیا ہوگیا؟۔۔۔۔“ حیدر نے اس سے پوچھا جبکہ وہ کینہ توز نظروں سے علی کو گھور رہا تھا۔
”کمینے۔۔۔۔تجھے میں چھوڑوں گا نہیں۔۔۔“ اس نے غصے سے علی کی گردن پکڑی
”ابے۔۔۔۔۔چھوڑ دے انکل جلالی میں مر جاٶں گا“ علی نے ہنستے ہوۓ کہا
”تو مرجا۔۔۔۔اچھا ہے ہماری جان چھوٹے گی تم سے“ حمزہ نے غصے سے کہا۔ گردن اسکے ہاتھ میں ہی تھی
”وہ دیکھ روشن آرا دیکھ رہی ہے۔۔۔۔۔۔“ علی نے ہاتھ سے پیچھے کی طرف اشارہ کیا۔ حمزہ نے مڑ کر دیکھا تو علی اسکی گرفت سے اپنی گردن آذاد کراتا بھاگ نکلا۔
سامنے سے حریم مایوں کے پیلے جوڑے میں، پھولوں کے زیور سے سجی چلی آرہی تھی۔ اسے ایک جانب سے رشنا اور دوسرے جانب سے ثنا نے تھام رکھا تھا۔ سامعہ اور شفا ہاتھوں میں مہندی کی تھالی لیۓ پیچھے پیچھے آرہی تھیں۔ ان دونوں نے لان میں پہنچ کر حریم کو اسٹیج پر بیٹھایا اور خود ڈھول لے کر نیچے بیٹھ گٸ۔
بڑی خواتین حریم کو ہلدی لگا رہی تھیں۔لڑکیاں ڈھول کی تھاپ پر گیت گنگنارہی تھیں۔ حریم بےتحاشہ خوش تھی۔ اسکی شادی اسکے بچپن کے منگیتر آذر سے ہورہی تھی۔ قہقہوں اور گانوں کی آواز ایک خوبصورت سا ماحول پیدا کررہی تھیں۔ ان سب میں دو آنکھیں ایسی بھی تھیں جو اپنے اندر ڈھیڑوں پیاس اور حسرت لیۓ۔۔۔۔ سامنے اسٹیج پر دلہن بنی بیٹھی حریم کو دیکھ رہیں تھیں۔
وہ تو بچپن سے چاہتا تھا اسے۔۔۔۔۔ لیکن افسوس وہ بچپن سے ہی کسی اور کی امانت تھی۔ اور آج وہ امانت، حقدار کے پاس پہنچنے کو تیار تھی۔ حریم کسی بات پر کھکھلاٸ تھی۔ اسکے دل میں کیل چبھی اور آنکھو میں کرچیاں چبھنے لگی تھیں۔ بہت سے ارمان اور بہت سے خواب ٹوٹے تھے۔ اور حریم۔۔۔۔۔۔۔ اپنی خوشیوں میں مگن اسے تو اس بات کا پتہ بھی نہ تھا کہ انجانے میں اس نے کسی کا دل توڑ دیا ہے۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: