Urdu Novels Yaar Deewane Zeela Zafar

Yaar Deewane Novel by Zeela Zafar – Episode 2

Yaar Deewane Novel by Zeela Zafar
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
یار دیوانے از ژیلہ ظفر – قسط نمبر 2

–**–**–

”لڑکیوں۔۔۔۔ اب ذرا ڈھول چھوڑ بھی دو۔۔۔ کب سے اپنی بےسری آوازوں سے ہمارے کان کے پردے پھاڑ رہی ہو۔۔۔۔“ علی نے ڈھول پیٹتی سامعہ کے پاس پہنچ کر سب کو مخاطب کیا۔
”تم تو جیسے عاطف اسلم کے نواسے لگتے ہو ناں۔۔۔۔ خود کی آواز سنی ہے کبھی؟“ شفا نے حساب برابر کیا تھا
”بہت ہی خوبصورت آواز ہے میری۔۔۔ ٹہرو میں سناتا ہوں“ علی کہتے ہوۓ ڈھول لینے سامعہ کی جانب بڑھا تو اس نے جلدی سے ڈھول اپنے پیچھے کرلیا
”کوٸ ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ہم ابھی بہرے نہیں ہونا چاہتے“ سامعہ نے کہا۔ اس سے پہلے کہ علی کوٸ جواب دیتا ارسلان نے ڈھول سامعہ سے چھین کر اسکے حوالے کردیا
“لے علی۔۔۔۔۔تو بجا“ ارسلان نے کہا
”شکریہ جگر۔۔۔۔۔“ علی نے ڈھول لیتے ہوۓ کہا اور وہیں بیٹھ گیا جب کہ سامعہ کینہ توز نظروں سے ارسلان کو گھور رہی تھی۔ علی نے ڈھول پیٹنا شروع کیا تو حیدر، حمزہ، ارسلان، حنان اور عمر وہیں بیٹھ گۓ
کوٸ ایسا گیت گاٶ گوریوں
ذرا اپنا منہ تو دھو کر آٶ گوریوں
علی زور و شور سے گا رہا تھا
”ابے او۔۔۔۔ یہ کیا گارہا ہے “ حنان نے ایک چپت اسکے سر پر لگاٸ
”چل دوسرا گالیتا ہوں۔۔۔۔۔“ علی نے دانت نکالیں
میں جھولا جھولاٶں کس کو
میرا ساجن گیا ڈسکو
میرا ساجن گیا ڈسکو۔۔۔۔
علی مزے سے گارہا تھا اور سب ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگۓ تھے سواۓ حریم کے۔۔۔۔۔۔
”کیا ہوا دلہن۔۔۔۔ گانا اچھا نہیں لگا کیا؟“ علی نے معصومیت سے خود کو گھورتی حریم کو دیکھ کر پوچھا
”علی۔۔۔۔۔ میں نہیں چاہتی کے میں اپنی مایوں کے فنکشن میں تمہارا قتل کردوں۔ اس لیۓ کوٸ ڈھنگ کا گانا گاٶ یا اپنا منہ بند رکھو“ حریم نے غصے سے کہا
”انکل جلالی۔۔۔۔۔ دیکھ تیری بہن نے تیرے جگری یار کو منہ بند رکھنے کو کہا۔۔۔۔“ علی نے حمزہ کو مخاطب کرکے سخت روہانسے لہجے میں کہا تھا
”صیح کہا۔۔۔۔۔۔“ حمزہ نے سکون سے جواب دیا تو حریم کھلکھلا کے ہنسی۔ اور اسکی ہنسی نے کسی کے دل میں انگارے لگادیۓ تھے۔ یہ احساس کے وہ اب کبھی اسکو دیکھ نہیں پاۓ، اسکا دل ٹکڑے ٹکڑے کررہا تھا۔
————————*——————-*———————-
”آذر بیٹا!۔۔۔۔۔۔“ وہ اسٹڈی میں بیٹھا، حریم کی مایوں کی تصاویر دیکھ رہا تھا جو تھوڑی دیر قبل ہی حمزہ نے اسٹیٹس پر لگاٸ تھی۔
”جی امی۔۔۔۔“ آذر ادب سے کھڑا ہوگیا۔
”بیٹا تمہاری مامی کی کال آٸ تھی۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ وہاں وہ لوگ رتجگا منارہے ہیں۔ مجھے بھی بلارہے تھے تو تم مجھے چھوڑ آٶ ذرا“ وہ جانے کے لیۓ بلکل تیار لگتی تھیں۔
”ٹھیک ہے امی لیکن میں اکیلا گھر پر کیا کروں گا؟ مجھے بھی ساتھ لے جاۓ“ اس نے شرارت سے کہا تو اسکی امی نے اسکے سر پر ہلکی سی چپت لگاٸ
”کوٸ ضرورت نہیں ہے تمہیں جانے کی۔۔۔۔بس مجھے چھوڑ کر واپس آجانا“
”اوکے اوکے۔۔۔۔۔“ وہ منہ بناتا گاڑی کی چابی اٹھاکر پورچ میں آگیا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ بھلے امی منع کرے لیکن وہ تو حریم سے ضرور مل کر آۓ گا۔
————————*———————*——————–
جوڑے میں جوہی کی بھینی
بانہاں میں ہار سنگھار
کان میں جگ مگ بالی پتّا
گلے میں جگنو ہار
صندل ایسی پیشانی پہ
بندیا لاٸ بہار
گوری کرت سنگھار
گوری کرت سنگھار
آٸ مہندی کی یہ رات
ہے لاٸ سپنوں کی بارات
ڈیک پر دھیمی آواز میں گانا بج رہا تھا۔ مہمان جاچکے تھے اب صرف گھر کے افراد تھے جو لان میں بیٹھے گپے ہانک رہے تھے۔ تھوڑی دیر پہلے ہی حریم کی فون پر آذر سے بات ہوٸ تھی اور اسکا چہرہ اب جگمگا رہا تھا۔ علی صاحب کو جانے کیا سوجھتی کہ وہ ہر تھوڑی دیر بعد اٹھ کر بھنگڑے ڈالنے لگتے. پھر ارسلان اور عمر کو اسے پکڑ کر واپس اسکی جگہ پر بیٹھانا پڑتا۔ حریم کی ہنس ہنس کر حالت خراب تھی۔
حریم کی ہنسی سے نظریں چراتا وہ بھی انہیں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ بظاہر ہنس رہا تھا، خوش تھا لیکن اسکے دل میں کیسی آگ لگی تھی صرف وہ ہی جانتا تھا۔ لیکن وہ اسے دیکھ بھی نہیں سکتا تھا کہ اگر اسکی چوری پکڑی گٸ تو وہ حمزہ کو کیا جواب دے گا؟
”تُو کسے تاڑ رہا ہے؟“ ارسلان نے حمزہ کے برابر میں بیٹھتے ہوۓ کہا
”کسی کو بھی نہیں۔۔۔۔ میری بہن رخصت ہوجاۓ گی کل۔۔۔۔ اسے ہی دیکھ رہا ہوں“ حمزہ نے اسٹیج سے نظریں ہٹاتے ہوۓ کہا
”بہن کو یا اسکی دوست کو؟“ ارسلان نے حریم کے برابر بیٹھی رشنا کو دیکھتے ہوۓ حمزہ سےشرارت سے پوچھا
”دونوں کو۔۔۔۔“ اس نے ہنستے ہوۓ کہا۔ علی نے ڈھول پیٹتے اپنے ہاتھ روک کر غور سے حمزہ کو دیکھا
”تُو کیوں دانت نکال رہا ہے انکل جلالی؟“ علی نے اسے ٹہوکا دیتے ہوۓ پوچھا۔ حمزہ کو اس طرز تخاطب پر غصہ آیا تھا۔ ویسے ہی علی کی شام والی حرکت نہیں بھولی تھی اسے۔
”دیکھ۔۔۔۔۔میرا موڈ بہت اچھا ہے اور میں اسے تیرے منہ لگ کر خراب نہیں کرنا چاہتا۔ اسی لیۓ تُو یہاں سے دفعہ ہوجا“ کانچ سی براٶن آنکھوں میں خفگی واضع نظر آرہی تھی۔
”واہ۔۔۔۔کیا بات ہے۔ تھوڑی دیر پہلے تیری محبوبہ نے بھی یہی کہا تھا“ علی نے بلند آواز میں کہا تو حمزہ نے دہل کر اسٹیج کی طرف دیکھا۔ صد شکر کہ سب اپنی باتوں میں مگن تھیں
”اسکی دوستی مارواۓ گی ہم سب کو کسی دن“ ارسلان نے علی کو تھپڑ رسید کرتے ہوۓکہا تھا۔
وہ سب علی کا ڈانس شو انجواۓ کررہے تھے کہ دفعتاً حمزہ کا موباٸل بجا، کوٸ انجان نمبر تھا۔ حمزہ اٹھ کر اندر لاٶنج میں آیا تھا کیونکہ باہر اتنے شور میں بات کرنا آسان نہ تھا۔
”ہیلو۔۔۔۔۔۔“ حمزہ نے موباٸل کان سے لگا کر پوچھا۔
”جی جی آذر میرا ہی کزن اور وہ میری پھپھو ہیں۔ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟“ حمزہ نے دوسری طرف کی بات سن کر اچنبھے سے پوچھا
”کیا۔۔۔۔؟۔۔۔ایسے کیسے؟۔۔۔۔کون سے ہسپتال میں؟“ دوسری طرف کاجواب سن کر حمزہ کو شاک لگا تھا۔
”میں آرہا ہوں۔۔۔۔“ اس نے کہا تو دوسری طرف سے کال کاٹ دی گٸ۔ حمزہ کو لگا کے اسکے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہوچکی ہے۔ لاٶنج میں ایک ہنگامہ برپا تھا۔ علی اور شفا ڈھول کے لیۓ لڑ رہے تھے۔ لڑکیاں شفاکا ساتھ دے رہی تھیں جبکہ لڑکے علی کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ لیکن حمزہ کو نہ کچھ سناٸ دے رہا تھا نہ کچھ دکھاٸ دے رہا تھا۔ جو ابھی ابھی اس نے سنا وہ دل ماننے سے انکاری تھا۔ اسکی نظریں ہنستی مسکراتی حریم پر پڑی تو سارے حوصلے پست ہوگۓ۔
”یااللّٰہ!۔۔۔ میں کیسے بتاٶں گا اسے؟“ اس نے دل ہی دل میں خدا کو پکارا
”کیا ہوا حمزہ؟۔۔۔۔“ اشفاق صاحب اسے پریشان دیکھ کر اسکے پاس آۓ
”بابا وہ۔۔۔۔۔۔“ اسکے گلے میں آنسوٶں کا گولہ اٹک گیا تھا۔ آنکھیں ضبط کی شدت سے سرخ ہورہیں تھیں
حمزہ مجھے بتاٶ کیا ہوا ہے؟“ انکے دل کو انہونی کا احساس ہورہا تھا
”بابا۔۔۔۔پھوپھو اور آذر ہمارے گھر آرہے تھے جب ایک ٹرالر نے انکی کار کو ٹکر ماردی اور گاڑی درخت سے ٹکرا گٸ۔ بابا انکی لاشیں ہسپتال میں پڑی ہیں۔ چونکہ آخری بار میں نے آذر کو کال کی تھی اسی لیۓ ہسپتال والوں نے مجھے کال کی ہے“ اس نے بتایا تو اشفاق صاحب کے پیروں تلے زمین نکل گٸ۔
پھر تھوڑی ہی دیر میں یہ خبر تمام رشتہ داروں کو پتہ چل گٸ۔حمزہ،حنان،عمر اور اشفاق صاحب لاشیں لینے ہسپتال چلے گۓ کیونکہ حمزہ کی پھوپھو بیوہ تھیں۔ اور انکا صرف ایک ہی بھاٸ تھا اشفاق صاحب۔ تو تدفین انہیں کے گھر سے ہونی تھی۔
حریم کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہورہا۔ ثنا نے اسے لان کے اسٹیج سے اٹھوایا اور اندر لاٸ۔ اسے اپنے کمرے میں جانے کا کہہ کر واپس لان میں چلی گٸ۔ اور حریم۔۔۔۔۔۔ وہ واپس کمرے میں جانے کے بجاۓ اوپر جانے والی سیڑھیوں پر بیٹھ گٸ۔ اسے اتنا تو پتہ چل گیا تھا کہ آذر اور پھوپھو مر چکے ہیں۔لیکن دل یہ ماننے سے انکاری تھا۔
تھوڑی دیر میں آذر اور پھوپھو کی لاشیں وہیں آگٸ۔ شادی والے گھر میں کہرام مچ گیا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ اور حریم سیڑھیوں پر ساکت بیٹھی یک ٹک لاش کو دیکھ رہی تھی۔ فجر میں دونوں کا جنازہ گھر سے چلا گیا۔ تب جاکر تحریم بیگم (حریم کی والدہ) کو اسکا خیال آیا۔ وہ اسے ڈھونڈتے ہوۓ سیڑھیوں تک آٸ۔
”حریم بیٹا۔۔۔۔۔۔“ انہوں نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا۔ وہ ابھی تک پھولوں کے زیور سے سجی مایوں کے لباس میں ہی بیٹھی تھی۔ اس نے انہیں نظریں اٹھاکر بھی نہ دیکھا
”حریم گڑیا۔۔۔۔کچھ تو بولو“ وہ رو دیں۔ لیکن حریم ایسے ہی ساکت بیٹھی رہی
”اچھا اپنے کمرے میں چلو“ انہوں نے اسے اٹھنے کو کہا پر وہ ہلی تک نہیں۔۔۔۔ اسکے بعد ثنا، رشنا، سامعہ اور شفا نے اپنی سی کوششیں کرکے دیکھ لیں لیکن وہ ویسے ہی ساکت رہی۔ ایک لفظ بھی منہ سے نہ بولی
دل امید توڑا ہے کسی نے
سہارا دے کہ توڑا ہے کسی نے
————————-*——————*———————-
”حمزہ۔۔۔۔۔دیکھو حریم کب سے سیڑھیوں پر بیٹھی ہے۔نہ کچھ بول رہی ہے نہ کسی کی سن رہی ہے۔ تم جاکر سمجھاٶ شاید تمہاری ہی سن لے“ وہ لوگ تدفین کے بعد گھر واپس آچکے تھے۔ تعزیت کے لیۓ آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ انہیں تو آج حریم کو رخصت کرنا تھا۔ کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ حریم کے بجاۓ آذر اور پھپھو اس دنیا سے ہی رخصت ہوجاۓ گے۔ جن ہاتھوں سے حمزہ کو بہن کی ڈولی اٹھانی تھی وہ ان ہاتھوں سے ہی آذر کو دفنا کر آیا تھا۔ ابھی وہ لان میں سب کے ساتھ کھڑا تھا جب تحریم بیگم نے روتے ہوۓ اس سے کہا۔ وہ تو ابھی جان سے پیاری پھپھو اور دوست جیسے کزن کی موت کے صدمے میں تھا، وہ تو بھول ہی گیا تھا کہ اصل امتحان تو حریم کو سنبھلنا تھا۔ اسے اب عمر بھر یہ دکھ سہنا تھا۔
”حمزہ کیا سوچ رہے ہو؟ چلو، تمہاری امی تمہیں کچھ کہہ کر گٸ ہیں۔“ عمر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر متوجہ کیا۔ اس نے سرہلاتے ہوۓ خاموشی سے اندر کی طرف قدم بڑھا دیۓ۔ وہ لوگ بھی حمزہ کے پیچھے اندر آگۓ۔ بچپن کے دوست تھے۔۔۔ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ساتھ رہتے تھے۔
حمزہ نے لاٶنج میں قدم رکھے تو حریم اسے سیڑھیوں پر بیٹھی نظر آٸ۔ اس نے مایوں کا جوڑا ابھی تک زیب تن کیا ہوا تھا۔ زیور کے پھول سوکھ چکے تھے۔ لڑکیاں اسکے داٸیں باٸیں کھڑی اسے سمجھانے کی کوشش میں لگی ہوٸ تھیں۔ حمزہ نے اسکی طرف قدم بڑھا دیۓ۔ اسے دیکھ کر لڑکیاں وہاں سے ہٹ کر دور جاکھڑی
ہوٸ۔
”حریم۔۔۔۔۔۔“ حمزہ نے اسے پکارا۔ پر اسکے وجود میں کوٸ جنبش نہ ہوٸ۔ حمزہ گھٹنوں کے بل اسکے سامنے بیٹھ گیا۔
”حریم۔۔۔میری بات سنو۔“ حریم نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تو حمزہ کا دل کٹ گیا۔ کانچ سی براٶن آنکھوں میں دہشت ہی دہشت تھی۔
”اٹھو۔۔۔۔اپنے کمرے میں چلو“ حمزہ نے اسے اٹھنے کو کہا پر وہ اسے انہیں ساکت نظروں سے دیکھتی رہی جیسے اسے سمجھ نہ آیا ہو کہ حمزہ نے کیا کہا
”اٹھو شاباش۔۔۔“ حمزہ نے اسے پچکارتے ہوۓ اسکا ہاتھ تھاما اور اسے کھڑا کیا۔ وہ سیڑھیاں اتر کر فرش پر آٸ۔ ایک قدم چلی اور پھر۔۔۔۔۔۔۔ وہاں کھڑے ہر شخص نے اسے پورے قد کے ساتھ زمین بوس ہوتے دیکھا تھا۔
”حریم۔۔۔۔۔۔“ سب ایک ساتھ چیخے تھے۔ حمزہ نے جلدی سے اسکا سر اٹھا کر اپنے بازوٶں میں رکھا
”حریم کیا ہوا؟۔۔۔۔۔ آنکھیں کھولو“ اشفاق صاحب اور پحریم بیگم پریشان سے اسے ہوش میں لانے کی کوشش کررہے تھے۔ حمزہ نے اسے بازوٶں میں اٹھایا اور اسکے کمرے میں لےگیا۔ تحریم بیگم اور ثنا وغیرہ بھی اسکے پیچھے ہی چلی گٸ تھیں۔ اصل امتحان تو اب شروع ہوا تھا
———————–*——————–*———————-
وہ اپنے کمرے میں اداس سا بیٹھا تھا۔ اسکے دل نے یہ تو کبھی نہ چاہا تھا۔ اسکے دماغ کے پردے پر بہت سے مناظر چلنے لگے۔
مایوں کے جوڑے میں ہنستی مسکراتی حریم۔۔۔۔۔۔
مایوں کے ہی جوڑے میں، ساکت بیٹھی حریم۔۔۔۔۔
تیورا کر زمین پر گرتی حریم۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنا سر تھام لیا۔ دماغ میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں تھیں۔ وہ کرسی پر دونوں کہنیاں گھٹنوں پر ٹکاۓ، ہاتھوں میں سر گراۓ بیٹھا تھا۔ جب ہی اس کے کمرے کا دروازہ چرچرایا۔ کوٸ اندر داخل ہوا تھا۔ اس نے نظریں اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ جانتا تھا کہ کون ہوگا۔وہ اسکے برابر والی کرسی پر بیٹھ گیا۔
”اس سب میں تمہارا کوٸ قصور نہیں ہے۔ یہ سب تقدیر کے کھیل ہوتے ہیں۔“ صفدر کی آواز کمرے میں گونجی تو اس نے نظریں اٹھاکر اسے دیکھا۔ کیا نہیں تھا اسکی آنکھوں میں، دکھ، تکلیف، کرب، اذیت اور بہت کچھ۔۔۔۔
”میں نے اسے بچپن سے چاہا تھا صفی۔۔۔۔“ حیدر نے اس پر سےنظریں ہٹا کر زمین پر مرکوز کردیں۔
”لیکن جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ کسی اور کی امانت ہے، میں نے غلطی سے بھی اسکی تمنا نہیں کی۔۔۔۔۔ میں نے بس اللّٰہ سے ایک ہی دعا کی تھی کہ حریم جہاں رہے خوش رہے۔ میں نے کبھی اسکے لیۓ بدعا نہیں کی۔۔۔۔ اللّٰہ گواہ ہے صفی۔۔۔۔۔ میں نے آذر سے بھی کبھی حسد یا رقابت محسوس نہیں کی، میں تو اس پر رشک کرتا تھا۔ میں نے کبھی یہ نہیں چاہا تھا کہ ایسا ہوجاۓ۔“ حیدر دکھ سے کہہ رہا تھا۔ ایک آنسو آنکھوں سے بہہ نکلا۔ صفدر کو افسوس ہوا
”میں جانتا ہوں حیدر، اس میں تمہارا کوٸ قصور نہیں ہے یار!۔۔۔۔۔۔تمہیں اس وقت حمزہ کے پاس ہونا چاہیۓ تھا۔ وہ بھی تو پریشان ہے“
”حریم کی حالت نہیں دیکھی جاتی مجھ سے“ حیدر نے بےبسی سے کہا تھا
”جو بھی ہوا ہے بہت افسوسناک ہے لیکن اب حریم سمیت سب کو یہ حقیقت قبول کرنی ہی ہوگی۔ اور اللّٰہ سے اب بس حریم کے لیۓ صبر ہی مانگا جاسکتا ہے“ صفدر اسے سمجھارہا تھا۔ اور حیدر وہ بس حریم کی دہشت زدہ نظریں یاد کرکے دکھ میں گھرتا جارہا تھا۔

”کیوں ہوا میرے ساتھ ایسا؟ بنا کسی قصور کے مجھے اتنی بڑی سزا کیوں ملی؟ اللّٰہ آپ تو انصاف کرنے والے ہیں نا، میرے ساتھ کا انصاف ہوگا؟“ عمر جاۓ نماز پر کافی دیر سے بیٹھا ہوا تھا۔ دماغ میں متعدد سوالات گردش کررہے تھے۔ ایک پرانا مظر یادیوں کے پردوں پر چلنے لگا
”ہانی۔۔۔۔۔دیکھو میں تمہارے لیۓ کیا لایا“ عمر نے ہانیہ کو مخاطب کیا
”چاکلیٹ۔۔۔۔۔“ ہانیہ نے چہکتے ہوۓ عمر کے ہاتھ سے چاکلیٹ لے لی۔
”میں تمہارا بدلہ لوں گا ہانی۔۔۔۔۔ تمہیں انصاف ضرور ملے گا“ وہ دل ہی دل میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔ اپنے فلور کی سیڑھیاں اتر کر وہ نیچے والے فلور پر آیا۔ پچھلے کچھ دنوں سے سمیر چوہدری کی طبیعت خراب تھی۔ اس نے سوچا کہ انکا حال چال پوچھ لے۔ وہ ابھی لاٶنج میں پہنچا ہی تھا کہ اسکی نظر سامعہ پر پڑی۔ کھلے پلازو میں سفید کلر کی ہاف آسینوں کی ٹی شرٹ میں بغیر ڈوپٹے کے بیٹھی موباٸل میں مصروف تھی۔ ہمیشہ کی طرح عمر کا موڈ اسے دیکھ کر سخت خراب ہوا تھا۔
”انکل کہاں ہیں“ عمر نے اس سے پوچھا۔ لہجہ سخت تھا
”بابا تو سورہے ہیں“ اس نے مصروف سے انداز میں کہا۔ عمر کے جواب دینے سے پہلے ہی دروازے کی بیل بجی۔
”اس وقت کون آگیا؟۔۔۔۔دیکھتی ہوں“ وہ خود سے کہتی ہوٸ صوفے سے اٹھی۔
”کہاں جارہی ہو تم؟“ عمر کی سخت آواز اسکے کانوں میں پڑی تو اسکے قدم رک گۓ۔
”دروازے پر۔۔۔۔۔“
”اپنا حلیہ دیکھا ہے تم نے؟۔۔۔۔۔“ عمر نے چباچبا کر کہا
”جاکر حلیہ درست کرو، اور آٸندہ میں تمہیں ایسے کپڑوں میں نہ دیکھوں۔۔۔“ عمر نے اسے انگلی اٹھا کر وارن کیا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ جب کہ سامعہ حیران سی کھڑی تھی۔ اگلے ہی لمحے اسکی حیرانی کی جگہ غصے نے لے لی۔
”یہ۔۔۔۔ہوتا کون ہے مجھ پر حکم چلانے والا؟ میرے مرضی میں جیسے کپڑے پہنوں“ اسکو شدید غصہ آیا ہوا تھا
”آنے دو اسے سہی سے جواب دیتی ہوں“ اس نے دل ہی دل میں ارادہ کیا
”تم ابھی تک یہی کھڑی ہو،کیا کہا تھا میں نے تمہیں؟“ عمر کی آواز اسکے کانوں میں پڑی تو اسکی سانسیں رک گٸ
”مم۔۔۔۔میں بس۔۔۔جاہی رہی تھیں“ وہ کہہ کر جلدی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگ گٸ
————————–*——————–*——————-
حمزہ اپنے کمرے سے باہر آیا، تو اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ رات کے دو بج رہے تھے اور حریم لاٶنج کے صوفے پر بیٹھی ہوٸ تھی۔ انداز سے لگتا تھا جیسے کسی کا انتظار ہو۔ دو ہفتے ہوگۓ تھے آذر کو مرے ہوۓ وہ ایک بار بھی نہیں روٸ تھی۔
”حریم، تم جاگ کیوں رہی ہو؟“ حمزہ نے اسکے برابر بیٹھتے ہوۓ دریافت کیا تو اس نے نظریں اٹھاکر اسے دیکھا۔
”آذر کا انتظار کررہی ہوں“ اس نے کہا تو حمزہ شاکڈ رہ گیا۔
”یہ۔۔کک۔۔۔۔کیا کہہ رہی ہو تم؟“
”اس نے کہا تھا مجھے کہ میں تیار رہوں۔ وہ رات میں مجھے لینے آۓ گا پھر ہم دونوں آٸسکریم کھانے جاۓ گے۔ لیکن وہ ابھی تک آیا کیوں نہیں“ وہ پریشانی سے کہہ رہی تھی۔ حمڑہ کے گلے میں آنسوٶں کا گولہ اٹکا تھا۔
دور کسی گاٶں کی کچی بستی میں ایک چھوٹی سی بچی رات کو اپنے کمرے کی کھڑکی پر کھڑی منتظر نگاہوں سے آسمان کی جانب دیکھ رہی ہوتی ہے۔ٰاسے انتظار ہے کہ چاند کی پریاں آج رات اسکے کمرے میں اتریں گی۔ اور اس انتظار میں اسے نیند نہیں آتی ہے۔
”حریم!۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔تم جاکر سو جاٶ، جب۔۔۔۔۔جب آذر آۓ گا ناں تو میں تمہیں اٹھادوں گا“ حمزہ نے اسے کسی بچے کی طرح پچکارتے ہوۓ کہا۔
اور اس بچی کو بھی تو اسکے بڑوں نے یہی کہا تھا کہ سوجاٶ، جب پریاں آۓ گی تو ہم تمہیں جگا دیں گے۔
”میں نہیں سوٶں گی۔ اگر آذر آگیا اور میں سوتی رہ گٸ تو وہ کیا سںچے گا؟“ اور بچی نے بھی تو سونے سے انکار کردیا کہ اگر وہ سو گٸ اور پریاں واپس چلی گٸ تو ہ انکے دیدار سے محروم رہ جاۓ گی۔
حمزہ کو سمجھ نہیں آیا کہ اسے کیا کہے؟ اسے یہ کہہ دیتا کہ آذر مر گید ہے وہ کبھی نہیں آۓ گا تو اسکا دل ٹوٹ جاتا، اور اگر وہ ساری رات یہاں بیٹھی رہتی اور آذر نہ آتا تو۔۔۔۔۔امید ٹوٹ جاتی۔ اور بعض اوقات امید کا ٹوٹنا، دل کے ٹوٹنے سے زیادہ جان لیوا ہوتا ہے
”حریم۔۔۔۔“حمزہ نے اسے پکارا تو حریم نے اسکی آنکھوں میں دیکھا۔ کانچ سی نازک براٶن آنکھیں سرخ ہورہیں تھیں۔
”تم رو کیوں رہے ہو؟“ حریم نے حیرت سے پوچھا
”میں رو نہیں رہا۔ بس تم جاکر سوجاٶ“ حمثہ نے سختی سے اسے کہا۔ اور اس ضدی بچی کو بھی تو آخر میں ڈانٹ کر سلایا جاتا ہے جو پریوں کے انتظار میں جاگ رہے رہی ہے۔
”میں کیوں سوجاٶں؟“ وہ چیخی
”کیونکہ آذر مر چکا ہے حریم،“ حمزہ دھاڑا” تم کیوں نیہں مان لیتی؟وہ اب کبھی نہیں آۓ گا۔ مت کرو اسکا انتظار“ اس نے حریم کو کندھوں سے تھام کر جھنجھور دیا تھا۔ حریم کی آنکھوں میں آنسو آۓ۔ اور وہ سسکنے لگی۔ سسکیاں ہچکیوں میں بدل گٸ۔ حمزہ خاموش رہا۔ چلو، وہ روٸ تو۔۔۔۔۔۔۔ اسکے رونے سے تکلیف ضرور ہورہی تھی حمزہ کو، مگر یہ ضروری تھا۔ وہ نہ روتی تو ایک دن اسکے دماغ کی رگیں پھٹ جاتی۔ حمزہ نے اسے اپنے ساتھ لگالیا لیکن وہ روتی ہی رہی تھی۔
تو چاند کی پریوں نے کبھی نہیں آنا تھا۔۔۔۔۔۔
آذر نے بھی کبھی نہیں آنا تھا۔۔۔۔۔۔۔
انتظار۔۔۔۔۔لاحاصل۔۔۔۔۔۔بےانجام
————————*—————–*————————
صبح حمزہ سورة رحمٰن کی قرأت سے تلاوت کررہا تھا۔ وہ حافظ قرآن تھا۔ اور روزانہ صبح گھر میں اسکی خوبصورت آواز گونجتی تھی۔ حریم کو تلاوت کی آواز آٸ تو وہ بلاارادہ ہی اسکے کمرے کی جانب بڑھنے لگی۔
سورة رحمٰن، مریض کے پاس پڑھی جاۓ تو شفا۔۔۔۔۔۔۔
اسے سننے والے کو ایسا محسوس ہوتا ہے
جیسے جلتے پر پانی کی ٹھنڈی پھوار برس پڑی ہو۔۔۔۔۔۔
جیسے دھو میں جلتے وجود کو سایہ مل گیا ہو۔۔۔۔۔
جیسے تکلیفوں میں قید انسان کو آذادی مل گٸ ہو۔۔۔۔
حریم خاموشی سے اسکے کمرے میں رکھے صوفے پر بیٹھ گٸ۔ حمزہ تلاوت کرتا رہا اور وہ سنتی رہی۔ اسے سکون مل رہا تھا اللّٰہ کا کلام سن کر۔ اتنے دنوں کا بوجھ جیسے ہلکا ہورہا تھا۔ اس نے صوفے کے ہتھے پر سر رکھ دیا۔ اسکی تکلیفوں میں آرام پہنچ رہا تھا۔اور اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب وہ نیند کی وادی میں چلی گٸ۔
وہ بہت دنوں سے حمزہ کے گھر نہیں آیا تھا۔ حریم کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی اس سے،۔۔۔۔ لیکن آج جب دل بےچین ہوا تو وہ وہاں چلا آیا۔ وہ لوگ بچپن کے دوست تھے ایک دوسرے کے گھروں میں بنا دستک کے آجاتے تھے سواۓ حنان اور حمزہ کے گھر کے کیونکہ وہ بہنوں والا گھر تھا۔
حیدر نے دروازے پر دستک دی تو تحریم آنٹی نے دروازہ کھولا۔
”اسلام علیکم آنٹی!۔۔۔۔۔حمزہ کہاں ہے؟“
”وعلیکم اسلام، وہ اپنے کمرے میں ہے جاٶ تم جاکر مل لو“ انہوں اسے اجازت دیتے ہوۓکہا تو وہ سیدھا حمزہ کے کمرے کی طرف آیا۔ گھر میں حمزہ کی تلاوت کی آواز گونج ری تھی بلاشبہ اسکی تلاوت میں ایک تاثر تھی۔ حیدر اسکے کمرے کے دروازے پر ہی پہنچا تھا کہ اسکے قدم رک گۓ۔ حریم صوفے پر بےخبر سوٸ ہوٸ تھی۔ جیسے کوٸ مسافر دن بھر تھک کر رات کو پرسکون نیند سوجاتا ہے۔ اسکے چہرے پر بچوں جیسی معصومیت چھاٸ ہوٸ تھی۔ حمزہ کی تلاوت جاری تھی۔ اس نے حیدر کی آمد کو محسوس نہیں کیا تھا۔ حیدر الٹے قدموں واپس چلاگیا تھا۔ یہاں رکنا اسکے لیۓ محال تھا۔
تلاوت ختم کرکے حمزہ نے قرآن پاک بند کرکے چوما اور اسے شیلف میں رکھ کر حریم کے پاس آیا۔ وہ پرسکون نیند سورہی تھی۔ اس نے اپنے بیڈ پر پڑی چادر اٹھاٸ اور اسے اوڑھا کر باہر چلا گیا۔
وہ نیچے آیا تو تحریم بیگم ناشتہ تیار کرچکی تھیں۔
”حریم کہاں ہے؟“ انہوں نے اسے دیکھ کر پوچھا
”سوگٸ ہے وہ۔۔۔“ وہ ڈاٸینگ ٹیبل کی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا
”حیدر آیا تھا۔ کیا کہہ رہا تھا؟ کوٸ کام تھا کیا اسے تم سے؟“ انہوں نے پوچھا تو اس نے حیرت سے انہیں دیکھا
”حیدر آیا تھا؟ کب؟۔۔۔۔“
”کیا مطلب؟ تم نہیں ملے اس سے؟“ انہوں نے بھی اس سے حیرت سے پوچھا
”نہیں۔۔۔۔“
”اوہ۔۔۔۔ہوسکتا ہے تمہیں مصروف دیکھ کر واپس چلاگیا ہو“
”ہوسکتا ہے“ اس نے کندھے اچکا دیۓ
——————————-*————-*———————
روما ان دونوں بھاٸیوں کے لیۓ بڑی بہن نہیں بلکہ ماں کی جگہ تھی۔ اس نے ان دونوں کو حقیقتاً ماں بن کرہی پالا تھا۔ دو ہفتوں سے حیدر کی بےچینی اور بےقراری دیکھ کر صفدر نے آخر انکو کال کر کے بلا ہی لیا تھا۔ اب حیدر اسکی گود میں سر رکھے لیٹا ہوا تھا۔
”تم نے مجھے یہ سب پہلے کیوں نہیں بتایا تھا؟“ روما نے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوۓ پوچھا
”بتا دیتا تو آپ کیا کرلیتی بجو؟“ اس نے ہنستے ہوۓ پوچھا
”میں انکی منتیں کرلیتی۔ وہ کبھی انکار نہ کرتے“
”ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ وہ اسکے بچپن کا منگیتر تھا“
”تھا نہ۔۔۔۔اب تو نہیں ہے“ روما نے کہا تو وہ حیرت سے اٹھ بیٹھا
”کیا مطلب؟“
”میں اب جاکر اسے تمہارے لیۓ مانگ لوں گی“
”لیکن۔۔۔۔۔“ وہ ہچکچایا
”حمزہ کیا سوچے گا؟“ اسے نٸی فکر لاحق ہوگٸ
”اف۔۔۔۔۔حیدر تم اتنا کیوں سوچتے ہو؟ یہ میرا مسلہ ہے کہ میں انہیں کیسے مناتی ہوں۔ اب تمہیں بس ٹینشن نہیں لینی اوکے“ اس نے حیدر کو پیار سے سمجھایا
”تھینک یو بجو۔۔۔۔“ وہ خوشی سے اس سے لپٹ گیا
————————-*——————-*———————
ڈیڑہ ہفتے بعد
”بات سن!۔۔۔۔۔دلہا میں ہوں کہ تُو؟“ حیدر نے علی کو گھورتے ہوۓ پوچھا جو پچھلے ایک گھنٹے سے اسکے کمرے کے آٸینے کے سامنے کھڑا تیار ہورہا تھا
”تُو۔۔۔۔۔“ علی نے بےنیازی سے کہا
”تو پھر تُو کس خوشی میں اتنا تیار ہورہا ہے؟“
”میں شہہ بالا ہوں نا“ اس نے دانت نکالتے ہوۓ کہا
”تجھے کس نے کہا کہ تُو شہہ بالا ہے؟“ ارسلان نے حیرت سے پوچھا
”کسی کے کہنے کی ضرورت ہے ہی نہیں، مجھ جیسے خوبصورت بندے کے علاوہ اور کون شہہ بالا بن سکتا ہے؟ ان لوگوں کی شکلیں دیکھیں ہیں کیا؟“
”اچھا بھاٸ شہہ بالے! خدا کے لیۓ بس کردے اب ہمیں نکلنا بھی ہے“ حیدر نے اسکے سامنے ہاتھ جوڑ دیۓ تو جاکر اس نے آٸینے کی جان چھوڑی
آج حریم اور حیدر کا نکاح تھا۔ حنان اور عمر حمزہ کی طرف جاچکے تھے جب کہ ارسلان اور علی کو حیدر کے ساتھ جانا تھا لیکن علی صاحب کی تیاری ہی نہیں مکمل ہونے میں آرہی تھی۔
”جلدی چل لو بھاٸ تیرے سالے کی بار بار کال آرہی ہے“ ارسلان نے موباٸل دیکھتے ہوۓ کہا جہاں حمزہ کی کوٸ دسویں کال آچکی تھی۔
”میں تو تیار ہوں اس گدھے کی تیاری ہی ختم مہیں ہورہی تھی۔ چلو اب نکلتے ہیں“ اس نے علی کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا جو سکون سے سیلفی لینے میں مصروف تھا۔
”انجانی شادی میں علی بیگانہ“ ارسلان نے اپنی عادت کے مطابق محاورے کی ٹانگیں توڑ کر اسے معزور کردیا
”بیگانی شادی میں عبداللّٰہ دیوانہ۔۔۔۔۔“ حیدر نے حسبِ عادت اسکی تصیح کی تھی۔

سرخ ڈوپٹہ سر پر ڈالے، سفید چوڑی دار پاجامے اور سفید گھیردار خوبصورت سی فراک پہنے ہلکے سے میک اپ اور نازک سی جیولری پہنے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ اسکے کمرے میں لڑکیوں نے ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔
”حریم اتنی کیوٹ لگ رہی ہو تم۔۔۔۔۔کہ کیا بتاٶں“ شفا نے اسے گلے لگاتے ہوۓ کہا تو وہ دھیرے سے مسکرا دی۔
”یہ سامعہ نہیں پہنچی اب تک؟۔۔۔۔“ثنا نے پوچھا
”میڈیم نے زندگی میں پہلی بار تمیز کا سوٹ پہنا ہے۔ میں نے اسے خرید کر دیا تھا کل مارکیٹ سے ورنہ وہ تو کل بھی جینز اور کرتی خرید رہی تھی۔اب وہ تیار ہوگی، پھر میک اپ کرے گی جو کہ اسے کرنا تو آتا نہیں ہے۔ پھر ہیل والی سینڈل پہنے گی۔پھر بال بناۓ گی۔ یہ سب کرتے کرتے میڈیم کو گھنٹے لگ جاۓ گے آخر لڑکیوں والی ڈریسنگ جو پہلی دفعہ کررہی ہے۔ ویسے اسکو نا لڑکا ہونا چاہیے تھا، اور اسکی حرکتوں سے۔۔۔۔۔۔“
”بس کردو شفا کتنا پٹر پٹر کرتی ہو تم“ آئینے کے سامنے کھڑی آنکھوں پر کاجل لگاتی رشنا نے اسکی مسلسل بک بک سے تنگ آکر کہا۔
”ہاں بس میرے ہی بولنے سے مسلہ ہے، لیکن کیا کروں بغیر بولے میرا دن نہیں گزرتا۔ اور ویسے بھی بولنا میری مورثی بیماری ہے،۔ میری مما کو بھی یہ بیماری ہے، میری خالہ کو بھی اور میرے نانا ابو۔۔۔۔۔۔“
”بس کردو شفا۔۔۔۔“ ثنا نے اسکے آگے ہاتھ جوڑدیے۔ اسی وقت کسی نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
”لگتا ہے سامی آگئی۔۔۔۔“ رشنا نے کہتے ہوۓ دروازہ کھولا تو سامنے ایک ماڈرن سی لڑکی بلیک میکسی میں کھڑی مسکرا رہی تھی۔
”مجھے دلہن سے ملنا ہے“ اس لڑکی نے مسکراتے ہوۓ کہا
”پر آپ کون؟“ رشنا نے پوچھا
”میں روما بھابھی کی نند ہوں۔“ لڑکی نے مسکراتے ہوۓ کہا
”اوہ۔۔۔۔آیے۔آپ کو کبھی دیکھا نہیں ناں اسی لیے پوچھا تھا کہ آپ کون“ رشنا نے وضاحت دی
”ہاں میں کلیفورنیا میں رہتی ہوں۔ ابھی چھٹیوں پر آئی ہوئی تھیں تو بھابھی مجھے یہاں لے آئیں“ اس نے اندر داخل ہوتے ہوئے بتایا
”آپ کا نام؟۔۔۔۔۔“
”ماریہ۔۔۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ بات بات پر مسکرانا شاید اسکی عادت تھی
”ہیلو برائیڈ۔۔۔۔بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ“ اس نے حریم کے برابر بیٹھتے ہوئے تعریف کی۔
”تھینکس۔۔۔“ حریم نے دھیمی آواز میں کہا
دوسری طرف سامعہ نے لاٶنج میں قدم رکھے ہی تھے کے علی اسکے سر ہوگیا۔
”آج تم انسان کیسے بن گئی؟“ علی نے سخت حیرت زدہ لہجے میں اس سے پوچھا۔ مقصد اسکی ڈریسنگ پر طنز کرنا تھا۔
”میں شروع سے ہی انسان تھی علی! تمھیں شاید آج پتہ چلا ہے“ وہ پہلے ہی جھجھلائی ہوئی تھی اوپر سے علی صاحب اسکے سر پر نازل ہوگۓ تھے۔
”اچھا۔۔۔۔۔۔“ اس نے اچھا کو لمبا کھنچا ”تو مجھے کیوں تم آج ہی انسان لگ رہی ہو؟“
”کیونکہ تمہاری نظریں کمزور ہیں مسٹر“
عمر کسی کام سے وہاں آیا تھا۔ لیکن سامعہ کو دیکھ کر اسکے قدم تھمے تھے۔ نیوی بلیو کلر کی خوبصورت فراق میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ لیکن اگلے ہی لمحے عمر کو شدید غصہ آیا تھا۔ اسکا ڈوپٹہ شانوں پر ہونے کے بجاۓ گلے میں کسی پھندے کی طرح ڈلا ہوا تھا اور ڈوپٹے کے دونوں کونے پیچھے کی طرف لٹکے ہوئے تھے۔ بےشک علی کی نظریں خراب نہیں تھیں لیکن یہاں اور بھی بہت سے میلی نظروں والے لوگ موجود تھے۔ عمر کا خون کھول گیا تھا۔
”پتہ نہیں کیوں انکل نے اسے اتنی ڈھیل دے رکھی ہے“ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا، غصے کو ضبط کرتے ان تک پہنچا۔
”علی!۔۔۔ حیدر تجھے بلا رہا ہے“ اس نے علی کو مخاطب کرکےکہا
”کیوں خیریت؟“
”شاید کوئی کام ہے“
”اوکے۔۔۔۔“ علی سرہلاتا وہاں سے گیا تو سامعہ بھی جانے ہی لگی تھی کہ عمر نے اسے روکا
”تم روکو ادھر۔۔۔۔۔“ اس نے دبے دبے غصے سے کہا
”کیا ہوا؟“ سامعہ نے حیرت سے اسے دیکھا، گہری سیاہ آنکھوں میں سوائے سختی کے اور کوئی تاثر نہ تھا
”ڈوپٹہ تمیز سے لو جس طرح باقی لڑکیوں نے لے رکھا یہ فیشن کرنے کے لیے نہیں ہے، تن ڈھانپنے کے لیے ہے“ عمر نے اسی سختی سےکہا جو اسکے مزاج کا حصہ تھی۔ سامعہ کا غصہ بھی عود آیا
”تم۔۔۔۔۔تمہیں مسلہ کیا ہے میری ڈریسنگ سے؟ میں جس طرح بھی ڈوپٹہ لوں میری مرضی“ وہ بھی سختی سے بولی تو عمر کے ماتھے پر بل پڑے
”اسطرح لینے سے بہتر ہے پھینک آٶ اسے، یہ اوڑھنے کے لیۓ ہے گلے میں پٹھے کی طرح ڈالنے کے لیے نہیں ہے“
”لیکن۔۔۔۔۔۔“ وہ کوئی احتجاج کرنا چاہتی تھی جب عمر کی تیز آواز نےاسکی بولتی بند کردی
”بس اور کوئی بحث نہیں سننی مجھے۔۔۔۔۔ جو کہا ہے وہ کرو“ سامعہ سہم گٸ۔ اس نے جلدی سے ڈوپٹہ کھول کر شانوں پر پھلایا تو عمر ایک سخت نگاہ اس پر ڈال کر وہاں سے چلا گیا۔
”ہٹلر نہ ہو تو۔۔۔۔۔“ سامعہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی وہاں سے چلی گئی
————————*————————-*—————-
قاضی صاحب کمرے میں موجود تھے۔ تمام مرد حضرات لاؤنچ میں تھے جہاں دلہن کے بعد دلہے کا نکاح ہونا تھا۔ صرف حمزہ اور اشفاق صاحب ہی حریم کے کمرے میں تھے۔ لڑکیاں ایک سائیڈ پر ڈوپٹہ سر پر اوڑھے کھڑی تھیں۔ نکاح کی کاروائی شروع ہوئی۔ قاضی صاحب نے حریم کو مخاطب کیا
”حریم اشفاق، ولد اشفاق صدیقی، آپ کا نکاح۔۔۔۔۔۔۔“ قاضی صاحب نکاح کا کلمہ پڑھ رہے تھے جب حریم کے ذہہن کے پردے پر ایک منظر چلنے لگا
”اوہ گاڈ حریم۔۔۔۔۔ حیدر کا رشتہ تمہارے لیے آیا ہے۔ مجھے یقین نہیں آرہا۔ کتنے اچھے لگو گے تم دونوں ساتھ ساتھ“ ثنا اور رشنا کو جب حیدر کے رشتے کی خبر پہنچی تو وہ اسی وقت حریم سے ملنے چلی آئیں۔
”میرے سمجھ نہیں آرہا حریم کہ تم سوچنے میں اتنا وقت کیوں لے رہی ہو؟ روما آپی کو بات کیے ہوئے چار روز ہوگئے اب تک تو تمہیں جواب دے دینا چاہیے“ رشنا کچھ زیادہ ہی ایکسائٹیڈ تھی۔
”میں نے پہلے دن ہی جواب دے دیا تھا۔ بس امی اور ابو نے ہی میرا جواب ان تک نہیں پہنچایا“ وہ سکون سے بیڈ پر پیر پھیلائے بیٹھی تھی۔
”کیوں؟ کیا انکل آنٹی کو اعتراض ہے؟“ دونوں کو ہی حیرت ہوئی
”نہیں انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔“ وہ اسی سکون سے بولی
”تو پھر کیوں جواب نہیں دیا انہوں نے اب تک؟“
”کیونکہ میں نے انکار کردیا ہے“ اس نے بم پھوڑا تھا
”واٹ؟۔۔۔۔۔پر کیوں؟“ ثنا نے پوچھا
”کیونکہ میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی“
”کیوں حریم؟ آخر برائی کیا ہے حیدر میں؟“ رشنا نے پوچھا
” اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ مسلہ یہ ہے کہ میں آذر کی جگہ کسی اور کو نہیں دے سکتی“
”میں سمجھ سکتی ہوں حریم لیکن آذر اب مر چکا ہے تم اسے بھول جاٶ تو اچھا ہے۔اور ایک نہ اک دن تو تمیں شادی کرنی ہی ہے“ ثنا نے اسے سمجھانا چاہا
”کیوں؟ کیا شادی کرنا زندگی میں ضروری ہے؟ میں کبھی نہیں بھولوں گی آذر کو“
”روما آپی نے کہا ہے کہ حیدر کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ تم آذر کو یاد کرتی ہو یا اس سے آج بھی محبت کرتی ہو“
”اسے نہیں ہے تو کیا ہوا؟ مجھے تو اعتراض ہے۔ اور میں یہ شادی نہیں کروں گی۔پتہ نہیں امی ابو اتنی دیر کیوں کررہے ہیں انہیں انکار کرنے میں“ اسکے بعد ثنا اور رشنا اسے سمجھا سمجھا کر تھک گئی لیکن وہ نہ مانی۔
”کیا آپ کو قبول ہے؟“ نکاح خواہ کے الفاظ کانوں میں پڑے تو وہ خیالات کی دنیا سے باہر آئی
”قبول ہے۔۔۔۔۔“ اس نے کہا
”حریم اشفاق ولد اشفاق صدیقی۔۔۔۔۔“ نکاح خواہ نے دوسری مرتبہ نکاح کے کلمات دہرانہ شروع کیے تو ایک اور منظر اسکے ذہہن کے پردے پر چلنے لگا
حمزہ اسکے کمرے میں آتا ہے۔ وہ کتاب پڑھ رہی ہوتی ہے
”مجھے تم سے بات کرنی ہے“
”کہو۔۔۔۔۔“ وہ مصروف سے انداز میں کہتی ہے۔
”تمہارے ساتھ مسلہ کیا ہے؟“
”کون سا مسلہ“
”انجان مت بنو۔ تم اچھے سے جانتی ہو کہ میں کس کی بات کررہا ہوں۔ تم امی اور ابو کو جواب کیوں نہیں دے دیتی؟ وہ کب سے انتظار میں ہیں“ حمزہ نے کہا تو اس نے گہری سانس لیتے ہوئے کتاب بند کردی اور ہاتھ باندھ کر اسکے سامنے جا کھڑی ہوئی
”انہیں میرے جواب کا نہیں بلکہ میرے اقرار کا انتظار ہے ورنہ جواب تو میں بہت پہلے دے چکی ہوں“
”تم ایسا کیوں کررہی ہو حریم؟ حیدر میرا دوست نہیں بھائی ہے۔ وہ خوش رکھے گا تمہیں تم بچپن سے جانتی ہو اسے۔“
”لیکن میں اسے خوش نہیں رکھ سکوں گی حمزہ۔۔ تم لوگ سمجھتے کیوں نہیں ہو؟ میں آذر کے علاوہ۔۔۔۔۔“
”آذر۔۔۔آذر۔۔۔۔آذر۔۔۔بند کردو اب یہ آذر نامہ۔۔۔۔نہیں ہے وہ اس دنیا میں، تمہیں ایک نہ ایک دن شادی تو کرنی ہے۔ پھر حیدر سے اچھا اور کوئی آپشن ہے ہی نہیں“
”لیکن میں راضی نہیں ہوں۔ اور تم سے کس نے کہا کہ میں شادی کروں گی؟ میں ساری زندگی آذر کی یادوں کے سہارے گزار دوں گی“
”تم پاگل ہوچکی ہو؟ تم ساری زندگی اکیلے نہیں گزار سکتی۔ اور حیدر میرا دوست ہے اور میں گارنٹی دیتا ہوں کہ وہ کبھی تم سے یہ نہیں کہے گا کہ تم آذر کو بھول جاٶ۔ اور ہم ابھی تمہاری شادی نہیں کررہے ابھی صرف نکاح ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ تم آذر کو بھول جاٶ گی۔“
”تمہیں بہن سے زیادہ دوست پیارا ہوگیا ہے اب۔ یہ جانتے ہوۓ بھی کہ میں تمہاری بہن ہوں اور کسی کی منگیتر ہوں اس نے مجھ پر نظر رکھی اور تم اسی کی سائیڈ لے رہے ہو؟“
”ایسی بات نہیں ہے حریم!۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔ وہ اگر تم پر بری نظر رکھتا تو میں منہ نہ توڑ دیتا اسکا، وہ جانتا تھا کہ تم آذر کی منگیتر ہو تب ہی تو اس نے ایک لفظ نہیں کہا نہ ہی تم پر بری نظر رکھی، لیکن اب تو اس نے اتنی عزت کے ساتھ تمہارے لیے رشتہ بھیجا ہے۔ وہ میرا دوست ہے مجھے بھروسہ ہے اس پر، تم خوش رہو گی ایک بار میری بات تو مان لو۔ میں اسے مایوس نہیں کرسکتا“
”دوست؟۔۔۔۔۔ صرف دوست کی ہی فکر ہے تمہیں؟ یا یہ ڈر ہے کہ کہیں میں تم پر بوجھ نہ بن جاٶں؟ ایک کام کیوں نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔بیچ آٶ مجھے حیدر کے ہاتھوں“ وہ چیخی
”حریم۔۔۔۔۔۔۔“ حمزہ دھاڑا تھا، اسکا ہاتھ فضا میں بلند ہوا تھا لیکن اس نے اسے ہوا میں ہی روک لیا۔ حریم سہم کر پیچھے ہوئی تھی۔ اسے احساس ہوا کہ وہ کیا بول گئی ہے۔
حمزہ کی نازک آنکھیں اس وقت مارے جلال کے سرخ ہورہی تھیں۔ حریم کا غصہ میں بولا گیا جملہ اسکی غیرت پر تازیانے کی طرح لگا تھا
”تمہارے منہ سے یہ جملہ سننے سے بہتر ہوتا کہ مجھے موت آجاتی۔خیر۔۔۔۔۔۔۔۔جو دل چاہے کرو، لیکن۔۔۔۔۔۔آج کے بعد سے میں تمہارا بھائی ہوں نہ تم میری بہن“ وہ سرد لہجے میں کہتا وہاں سے چلاگیا۔ اور حریم اسے روک بھی نہ پائی۔ اس کو یقین نہیں آرہا تھا کہ حمزہ نے اس پر ہاتھ اٹھایا ہے۔ بےشک وہ غصے کا تیز تھا لیکن۔۔۔۔۔آج اسکی آنکھوں میں جو جلال اترا تھا وہ حریم نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ خوف کے مارے ساکت کھڑی تھی۔ اسے شدت سے احساس ہورہا تھا کہ اس نے غلط کہہ دیا ہے۔ یہ بھی غنیمت تھا کہ حمزہ نے صرف اس پر ہاتھ اٹھایا ہی تھا لیکن اسے مارا نہیں تھا ورنہ اسکا تو دل کررہا تھا کہ گلا ہی دبا دے حریم کا۔
”آپ کو قبول ہے؟۔۔۔۔۔۔“ نکاح خواہ نے دوسری بار اقرار لیا
”قبول ہے۔۔۔۔۔“ دوسری بار بھی اقرار ہوا۔
”حریم اشفاق ولد۔۔۔۔۔۔۔۔“ تیسری اور ایک آخری بار نکاح کے کلمات دہرائے جانے لگے، ذہہن میں ایک آخری یاد چلنے لگی
حمزہ اس سے کوئی بھی بات نہیں کررہا تھا۔شروع میں حریم نے سوچا کہ معافی مانگ لے گی لیکن پھر وہ خود کو حق بجاںب سمجھنے لگی۔ اسے ایسا لگنے لگا جیسے اسے پریشرائیز کیا جارہا ہے۔ حمزہ ناصرف اسے اگنور کررہا تھا بلکہ وہ تو اسکے سلام کا جواب تک نہیں دے رہا تھا۔ اس لیے اس نے معافی مانگنے کا ارادہ ترک کردیا۔وہ اس دن رات کو نیند سے اٹھ کر کچن میں گئی تھی۔ کچن کے برابر والے اسٹڈی روم سے اسکے امی اور ابو کی آوازیں آرہی تھیں۔ وہ دروازے کے پاس خاموشی سے کھڑی ہوگئی۔
”تم حریم کو سمجھاتی کیوں نہیں؟۔۔۔اس سے اچھا رشتہ اسے دوبارہ نہیں ملے گا“ اشفاق صاحب کی بےچین آواز اسکے کانوں میں پڑی
”میں پچھلے ایک ہفتے سے اسے سمجھارہی ہوں۔ پتہ نہیں روما ہمارے بارے میں کیا سوچتی ہوگی کہ ہم نے پورا ہفتہ گزر جانے کے باوجود بھی انہیں جواب نہیں دیا“ تحریم بیگم بھی پریشان لگتی تھیں۔
”وہ تو میری اتنی سمجھدار بیٹی تھی پتہ نہیں اسے کیا ہوگیا ہے۔ اسکی شادی ٹوٹی تھی تحریم۔۔۔۔یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ اب اسکے لیے جو بھی رشتہ آئے گا وہ کسی طلاق یافتہ ، رنڈوے یا دو بچوں کے باپ کا ہوگا۔ ایسے میں اگر حیدر جیسا لڑکا اور اسکی فیملی بخوشی حریم کو قبول کرنے پر تیار ہے تو یہ اللّٰہ کی طرف سے ہمارے لیے معجزہ، حریم کیوں نہیں سمجھتی اس بات کو؟ کیوں مسلے کھڑے کررہی ہے ہمارے لیے؟“ حریم کو اپنا باپ آج بہت بوڑھا لگا تھا۔
”میں کیا کروں؟ زبردستی تو نہیں کرسکتی ناں اسکے ساتھ؟“ تحریم بیگم بھی کم پریشان نہ تھیں۔ حریم کو ان سب کا ذمہ دار اپنا آپ ہی نظر آیا تھا۔ اس نے وہیں کھڑے کھڑے ایک فیصلہ کیا اور کمرے میں داخل ہوئی
”امی!۔۔۔۔ابو!۔۔۔۔“ اس نے ان دونوں کو مخاطب کیا
”حریم؟۔۔۔کیا ہوا بیٹا؟“ وہ اسے وہاں دیکھ کر حیران ہوئے
”آپ روما آپی کو ہاں کہہ دیں۔۔۔“ اس نے سپاٹ سے لہجے میں کہا
”کیا؟۔۔تم۔۔۔۔تم سچ کہہ رہی ہو بیٹا؟“ اشفاق صاحب نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا
”ہاں میں سچ کہہ رہی ہوں“ اس نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔ اس کے ایک جملے نے اسکے ماں باپ کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑا دی تھی۔
”اللّٰہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے“ تحریم بیگم فرطِ جذبات سے اسکی بلائیں لینے لگی لیکن وہ جواب میں مسکرا بھی نہ سکی تھی
”کیا آپ کو قبول ہے؟“
”قبول ہے۔۔۔۔۔۔“
”مبارک ہو آپ کو۔۔۔ یہ لیجیے یہاں ساٸن کردیجیے“ نکاح خواہ نے کہتے ہوۓ نکاح نامہ اسکی جانب بڑھا دیا جس پر حریم نے اپنے دستخط کردیے تھے۔ اشفاق صاحب نے اسے سینے سے لگا کر اسکے سر پر پیار کیا اور نکاح خواہ کے ساتھ دلہا کی رضامندی لینے باہر چلے گئے۔ تحریم بیگم اور لڑکیاں بھی اسے مبارک باد دے رہی تھیں لیکن حمزہ۔۔۔۔۔ وہ نکاح کی کاروائی کے دوران بھی ایک کونے پر کھڑا رہا اور نکاح کے بعد بھی اسے مبارک باد دئے بنا ہی باہر چلا گیا تھا۔
———————–*————————-*—————–
”ابے یہ نکاح خواہ کہاں رہ گیا؟ کیا تین چار دلہنوں سے گواہی لے رہا ہے؟“ علی نے صوفے پر اپنے برابر بیٹھے حیدر کے کان میں سرگوشی کی تو اس نے ایک زوردار قسم کا تھپڑ اسکے رسید کیا تھا
”ایک بات بتا۔۔۔شادی اسکی ہے تجھے کیوں جلدی ہورہی ہے بے؟“ حنان نے پوچھا
”میں نے بریانی کھانی ہے“ اس نے دانت نکالے
”بریانی کو بھول جا، نکاح کے بعد باراتیوں کے لائے ہوئے چھوارے ہی ملیں گے بیٹا!۔۔۔“ حمزہے نے لاٶنج میں داخل ہوتے ہوئے کہا
”تجھ جیسے کنجوس سے مجھے یہی توقع تھی انکل جلالی!“ علی نے منہ بسورتے ہوۓ کہا
”اوئے۔۔۔۔سیدھا ہوکر بیٹھ جا! قاضی صاحب یہی تشریف لارہے ہیں“ حمزہ نے صوفے پر سکون سے نیم دراز حیدر کو گھورتے ہوۓ کہا
”کیا؟۔۔۔۔نکاح ہوگیا کیا؟“ وہ جلدی سے سیدھا ہوکر بیٹھا۔
”جی۔۔۔۔“ تھوڑی دیر میں قاضی صاحب اندر داخل ہوئے تو مجبوراً علی کو حیدر کے برابر سے اٹھنا پڑا کیونکہ حیدر کی ایک جانب اشفاق صاحب بیٹھے تھے تو دوسری طرف حیدر کے والد۔۔۔۔
”حیدر اعوان ولد عارف اعوان آپ کا نکاح حریم اشفاق ولد اشفاق صدیقی سے بعوض حق مہر۔۔۔۔۔۔۔“ نکاح خواہ نے کلمات دہرانا شروع کیے تو حیدر کے ذہہن نے بھی چند دن پہلے کا واقعہ دہرانا شروع کردیا۔
”بجو! انہوں نے ابھی تک کوئی جواب کیوں نہیں دیا؟“ اس دن وہ رات کے کھانے پر روما کی طرف آیا ہوا تھا۔
”یہ تم حمزہ سے کیوں نہیں پوچھ لیتے؟“ روما نے شرارت سے کہتے ہوئے چائے کا کپ اسکی طرف بڑھایا تو اس نے منہ بناتے ہوئے اسے تھاما
”ہاں۔۔۔تاکہ وہ میرا سر پھاڑ دے“
”ہاہاہاہا۔۔۔۔۔ کیوں پھاڑ دے گا؟ جگری دوست ہے تمہارا“ روما پھر سے شریر ہوئی
”بہنوں کے معاملے میں کوئی بھائی دوست نہیں ہوتا“
”ہاں یہ تو ہے“
”اچھا اب بتا بھی دیں کہ انہوں نے کوئی جواب دیا کہ نہیں؟“ وہ جاننے کے لیے بےقرار تھا۔
”دیکھو حیدر ابھی تک تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔لیکن اسکی ایک وجہ ہے“ روما نے کہتے ہوۓ اپنی چائے کا کپ ٹیبل پر رکھا
”کیسی وجہ؟“ وہ حیران ہوا
”حریم نہیں مان رہی“ روما نے کہا تو حیدر کے چہرے پر ڈھیڑوں مایوسی چھا گئی تھی۔
”تم بدگمان مت ہو حیدر، ابھی ابھی وہ ایک بہت بڑے صدمے سے گزری ہے۔ اسکے لیے آسان نہیں ہے فوری طور پر یہ سب قبول کرنا لیکن تم فکر نہ کرو وہ سب لوگ اسے سمجھا رہے ہیں۔ اور اسکا یہی مطلب ہے کہ گھر میں سب تمہارے لیے راضی ہیں جب ہی ہمیں ابھی تک انتظار کروارہے ہیں، ورنہ تو وہ پہلے ہی انکار کردیتے۔ اور تم فکر نہ کرو۔ وہاں حمزہ ہے ناں۔۔۔وہ تمہارا کیس بہت اچھے سے لڑے گا“ آخر میں روما نے شرارت سے کہا۔ لیکن حیدر خاموش رہا
”حیدر!۔۔۔۔تم حریم کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ تمہیں ناپسند کرتی ہے یا وہ تمہیں ٹھکرا رہی ہے، وہ بس حالات کو قبول نہیں کرپارہی۔ تم پلیز اسے ٹائم دینا“
”میں سمجھ سکتا ہوں بجو“ اس نے مسکراتے ہوۓ کہا
”کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟“ نکاح خواہ نے رضامندی پوچھی
”قبول ہے۔۔۔“ رضامندی دے دی گئی۔
”حیدر اعوان ولد عارف اعوان آپ کا نکاح۔۔۔۔۔۔۔“نکاح خواہ نے پھر سے کلمات دہرانا شروع کیے۔ حیدر پھر سے چند دن پیچھے چلا گیا۔
اسکے نکاح کی تاریخ طے ہوگئی تھی۔ حیدر نے حریم سے ملنے کی کوئی خواہش ظاہر نہیں کی تھی لیکن۔۔۔ حریم نے اس روز اسے فون کیا۔کوئی اور وقت ہوتا تو حیدر کے لیے یہ عام بات ہوتی۔ وہ لوگ بچپن کے دوست تھے۔ آپس میں ملنا جلنا ہنسی مذاق چلتا رہتا تھا۔ لیکن اب حریم کی کال کا آنا اسکے لیے بہت خاص تھا۔
”ہیلو!۔۔۔۔“ اس نے فون کان سے لگا کر کہا
”کیا تم مجھ سے مل سکتے ہو؟“ حریم نے بنا سلام دعا کے پوچھا تھا
”اتنی جلدی؟۔۔۔۔ سلام دعا، حال چال پوچھنا بھی کسی چیز کا نام ہے“ حیدر نے شرارت سے پوچھا
”میں نے تم سے پوچھا ہے کہ تم مجھ سے مل سکتے ہو کہ نہیں؟“ جواب میں حریم نے جتنے سخت لہجے میں کہا تھا وہ حیران ہوا تھا۔
”کیا ہوا ہے حریم سب خیریت تو ہے؟“ اس نے تشویش سے پوچھا
”ٹھیک ہے میں فون رکھ رہی ہوں۔۔۔۔“ وہ غصے سے کہتی فون رکھنے ہی لگی تھی
”کہا ملنا ہے اور کب؟“ حیدر نے سنجیدگی سے پوچھا
”کل صبح، ٹاٶن کے پارک میں آجانا“ اس نے کہا تو حیدر نے گہری سانس لی
”ٹھیک ہے۔۔۔۔“ وہ بس اتنا ہی بولا۔ حریم نے بنا خداحافظ کہے فون رکھ دیا تھا لیکن حیدر کو اسکے رویے نے پریشان کردیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ حریم راضی نہیں تھی بلکہ اسے راضی کیا گیا تھا لیکن وہ اسکے اس رویے کی توقع نہیں کررہا تھا۔
”آپ کو قبول ہے؟“ دوسری مرتبہ رضامندی لی گئی
”قبول ہے۔۔۔۔۔“ دوسری مرتبہ بھی رضا مندی دے دی گٸ
”حیدر اعوان ولد عارف اعوان آپ کا نکاح حریم۔۔۔۔۔۔۔“ آخری بار کلمات دہرائے جانے لگے۔ ایک آخری بار اس نے پھر سے چند دنوں پرانا واقعہ ذہہن میں دہرانا شروع کیا
وہ پارک میں موجود تھا۔ صبح کے وقت چند ہی افراد پارک میں ہوتے تھے۔ وہ حریم کا انتظار کررہا تھا۔ اسے یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ حریم اس سے کیا بات کرنا چاہتی ہے۔ وہ پریشان سا گھاس پر یہاں وہاں ٹہل رہا تھا۔ اس پارک میں کھیلتے ہوئے انکا بچپن گزرا تھا۔
اسے حریم سامنے سے آتے ہوئے دکھائی دی۔ تو رک کر ایک جگہ کھڑا ہوگیا
”اسلام علیکم! کیسی ہو؟“ حیدر نے اسکے پاس آنے پر پوچھا
”وعلیکم اسلام! میں ٹھیک ہوں۔۔۔“ کل کی نسبت اس نے آج صحیح سے جواب دیا تھا۔
”کیا بات کرنی تھی تمہیں مجھ سے؟“ حیدر نے آرام سے پوچھا
”تم کیوں شادی کرنا چاہتے ہو مجھ سے؟“ اس نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا۔ پارک میں ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ صبح کی شبنم کی بوندیں ابھی تک گھاس پر پڑی تھیں۔ فضا میں سوندھی سوندھی سی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ سورج کی کرنیں نیلے آسمان سے جھانکتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کررہی تھیں کہ تھوڑی دیر میں سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمکے گا۔
”کیونکہ میں۔۔۔۔پسند کرتا ہوں تمہیں۔۔۔“ کوئی اور وقت ہوتا تو حیدر پوری داستان محبت لکھ دیتا لیکن اس وقت حریم کا رویہ حیران کن تھا اسی لیے وہ تحمل سے کام لے رہا تھا
”کب سے؟“ اتنی ہی سنجیدگی سے پوچھا گیا
”بچپن سے۔۔۔۔“
”یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں کسی اور کی منگیتر ہوں اور وہ بھی بچپن سے“ اس نے بچپن سے پر زور دیتے ہوئے کہا
”ہاں۔۔۔۔“ مختصر سا جواب آیا
”تم جانتے ہو کہ یہ کتنی غلط حرکت ہے؟“
”میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔۔۔“
”تم کیسے کہہ سکتے ہو یہ؟“
”کیونکہ میں نے تم پر اگر بری نظر رکھی ہوتی تو میں غلط ہوتا۔۔۔۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ تم کسی اور کی امانت ہو، میں تمہیں حاصل کرنے کی کوشش کرتا تو میں غلط ہوتا۔۔۔۔۔ میں نے تو کسی کو پتہ تک نہیں چلنے دیا کہ میں تمہارے لیے کیا جذبات رکھتا ہوں۔ حتٰی کہ اپنے دوستوں کو بھی نہیں۔۔۔۔ لیکن اب جب کہ تم آذر کی امانت نہیں رہی تو میرا حق ہے کہ میں تمہیں عزت کے ساتھ مانگوں۔ اور مجھے نہیں لگتا کہ میں نے کچھ بھی غلط کیا“ اس نے اطمینان سے کہا
”صحیح کہا تم نے۔۔۔۔۔میں آذر کی امانت نہیں رہیں“ حریم نے سر ہلاتے ہوئے کہنا شروع کیا ”لیکن میرا دل آج بھی آذر کا ہی ہے اور تم اس میں کبھی بھی جگہ نیہں بنا پاٶ گے۔ میں آذر سے محبت کرتی تھیں اور کرتی رہوں گی۔ میرا ساتھ تمہیں کوئی خوشی نہیں دے گا حیدر اور بہت جلد۔۔۔۔۔تم پچھتانے لگو گے“ اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا تھا
”خیر یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لیکن ایک بات کی گارنٹی میں تمہیں دے دیتا ہوں حریم!۔۔۔وہ یہ کہ میں تمہیں کبھی بھی آذر کو بھولنے کہوں گا نہ ہی تم سے اسکی جگہ مجھے دینے کو کہوں گا، میں تم سے محبت کرتا تھا اور کرتا رہو گا۔ بدلے میں چاہے جانے کی فرمائش بھی نہیں کروں گا۔ میں تم سے نہیں کہوں گا کہ مجھے خوش رکھو لیکن میں تمہیں دنیا کی ہر خوشی دینے کی کوشش کروں گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں حریم، کہ میں اپنے فیصلے پر کبھی نہیں پچھتاٶں گا“ کیا چٹانوں جیسی مضبوطی تھی اس مرد کے لہجے میں۔۔۔۔ حریم بس دیکھ کر رہ گئی
”لیکن میں تم سے کبھی محبت نہیں کروں گی۔“ اس نے انگلی اٹھا کر اسکی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا
”دیکھتے ہیں۔۔۔۔“ حیدر نے چیلینجنگ انداز میں کہا تو وہ پاٶں پٹختے ہوئے باہر نکل گئی جب کہ وہ زخمی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اسے وہاں سے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا
”کیا آپ کو قبول ہے؟“ آخری بار رضامندی لی گئی
”قبول ہے۔۔۔۔“ رضامندی دے دی گئی
”یہاں دستخط کریں۔۔۔۔“ نکاح نامہ آگے بڑھایا گیا۔ اس نے تھام لیا
۔ وہ بہت خوش تھا۔
دستخط ہو گئے تھے۔
ہر طرف مبارک باد کی صدائیں گونجنے لگی۔
سب سے پہلے عمر نے اسے گلے لگا کر مبارک باد دی۔ پھر صفدر آیا۔
”مبارک ہو مجنوں۔۔۔۔“ اس نے بھائی کے کان میں شرارت بھری سرگوشی کی تو وہ مسکرا دیا۔ پھر حنان نے گلے لگا کر مبارک باد دی۔ پھر ارسلان صاحب آئے۔۔۔۔
”اب تُو شوہروں کی قوم میں شامل ہوچکا ہے حالانکہ کتنا کہا تھا لیکن سب بے سود۔۔۔ سانپ کے آگے بین بجانے کا کوئی فاٸدہ ہوتا ہی کب ہے؟“ اس نے اپنے مخصوص انداز میں محاورے کا ستیاناس کرتے ہوئے اسےمبارک باد دی تھی۔
”بھینس کے آگے بین بجاتے ہیں“ حیدر نے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے تصیح کی تھی۔ پھر حمزہ کی باری آئی تو اس نے اسے گلے لگایا
”اپنی جان سے پیاری بہن دی ہے تجھے۔۔۔۔ اگر کبھی اسے رلایا ناں تو میرے ہاتھ سے گھونسا کھانے کے لیے تیار رہنا۔۔۔“ حمزہ نے اسے مبارباد دینے کے بجائے دھمکی دی تو وہ ہنس دیا۔
”اوکے برو۔۔۔۔“ اس نے حمزہ کو تسلی دی۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر۔۔۔۔۔۔باری آئی۔۔۔۔۔ علی مرتضٰی کی۔۔۔۔
اس نے حیدر کو ناصرف گلے لگایا بلکہ اسے اوپر اٹھالیا۔۔۔۔
”ابے کیا کررہا ہے۔؟“اسکا دم گھٹا تو وہ چیخا۔ علی صاحب کا مبارک باد دینے انداز بھی منفرد تھا۔
”بہت مبارک ہو دلہے میاں۔۔۔۔۔“ علی نے کہا۔
”اوئے مجھے نیچے اتار کمینے۔۔۔۔“ سب کا ہنس ہنس کر برا حال تھا۔ حنان کے کیمرے نے اس منظر کو محفوظ کرلیا تھا۔ علی نے اسے نیچے اتار دیا۔
”چل اب بتا ٹریٹ کب دے رہا ہے؟“ علی نے پوچھا
”آگیا نا اپنی اوقات میں۔۔۔۔۔“
”ہاں آگیا۔۔۔اب جلدی بتا رات کا کھانا کھلانے کہاں لے جارہا ہے؟“
”بس یہیں۔۔۔۔میرے گھر کی ڈائینگ ٹیبل تک۔۔۔“ حیدر نے خاصے سکون سے کہا تھا
”کنجوس آدمی۔۔۔۔ ریسٹورینٹ میں ٹریٹ لیح بغیر تو چھوڑیں گے نہیں۔۔۔“ علی کی ڈھٹائی عروج پر تھی۔
”بھول جا بیٹا۔۔۔۔کوئی ٹریٹ نہیں مل رہی۔۔۔“ حیدر بھی آج اسکی نہیں سننے والا تھا۔
”علی میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔۔ مجھے بھی ٹریٹ چاہیۓ۔“ شفا کی آواز پر سب کی گردنیں مڑی تھیں
”چلو جی۔۔۔۔ایک اور بھوکی آگئی۔۔“ ارسلان نے بےزاری سے کہا
”کیوں بھئی؟ بھوکی کس خوشی میں؟ ہمیں تو ٹریٹ چاہیے بس۔۔۔“ شفا نے سکون سے کہا
”تم لوگوں کو کس نے دعوت دی ہے بل بتوڑیوں۔۔؟“ علی نے پوچھا
”علی۔۔۔۔بدتمیزی نہیں کرو“ ثنا چیخی
”ہائے کیوں؟“ علی نے آنکھیں پھاڑ کر پوچھا
”چھوڑو ثنا اس سے بات کرنا دنیا کا بیکار کام ہے۔“ رشنا نے ثنا کو مخاطب کیا
”اور تم لوگ یہ بےکار کام شوق سے کرتی ہو“ وہ بھی علی تھا
”حیدر جلدی بتاٶ کب دے رہے ہو ٹریٹ؟“ رشنا نے اسے نظرانداز کرتے ہوۓ حیدر سے پوچھا
”نہیں دے رہا وہ ٹریٹ۔۔۔یہ صرف لڑکوں کی دعوت ہے روشن آرا۔۔۔“ علی نے جواب دیا
”کیا ہوگیا ہے تم لوگوں کو؟ کیوں شور مچایا ہوا ہے؟“ حنان کسی کام سے باہر گیا تھا واپس آیا تو ان لوگوں کو لڑتے دیکھ کر حیران ہوا۔
”تمہارا دوست ہمیں ٹریٹ دینے سے انکار کررہا ہے“ کافی دیر سے خاموش کھڑی سامعہ نے کہا۔ اسکے برابر میں ماریہ کھڑی تھی۔ حنان کی آواز پر اسکی نظریں اٹھیں تو جھکنا بھول گئی۔ گرے شلور کرتے میں ملبوس، سوٹ کی ہم رنگ آنکھیں اور مسکراتا ہوا چہرہ، بلاشبہ وہ بےحد ڈیشنگ تھا۔
”مسٹر حنان۔۔۔۔“ ماریہ نے اسے مخاطب کیا تو وہ چونک کر مڑا
”آپ حنان خان ہیں نا۔۔۔۔آپ کلیفورنیا یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔؟“ ماریہ نے اس سے پوچھا
”میں وہاں پڑھتا نہیں تھا، بس ایک سمسٹر کے لیے بطور ایکسچینج اسٹوڈنٹ گیا تھا“ حنان نے کندھے اچکاتے ہوۓ بتایا
”میں ماریہ۔۔۔۔۔۔ جب آپ ماسٹرز کررہے تھے تب میں بیچلر میں نیو آئی تھیں۔“ اس نے مسکراتے ہوئے بتایا تو حنان سرہلایا اور واپس حیدر کی جانب متوجہ ہوا
”تیرے ابا نے تیرے لیے ایک سرپرائیز رکھا ہے“ وہ حیدر سے کہہ رہا تھا جب کے ماریہ کا چہرہ بجھ سا گیا تھا۔ اسکی آنکھوں میں تو سناشائی کی رمق تک نہ تھی۔
علی نے ان دونوں کی گفتگو کافی غور سے سنی تھی اور اب اپنی نیلی آنکھیں چھوٹی کیے ماریہ کو جانچ رہا تھا جسکی نگاہیں ہر تھوڑی دیر بعد بھٹک کر حنان پر جا ٹکتی تھیں۔ علی کو سب سمجھنے میں دیر نہ لگی تھی۔
علی کو پتہ چل گیا۔۔۔۔۔ برا ہوا۔۔۔۔۔۔ اب تو پورے محلے کو معلوم ہوجانا ہے۔۔۔۔ علی اور اس خبر کو چھپا کر رکھے۔۔۔۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔۔۔ اس کا بس چلے تو اس خبر کو عالمی سطح پر اٹھا دے
———————-*———————*———————-
”مجھے بتا علی، اب میں کیا کروں؟“ حیدر بےبس سا علی سے پوچھ رہا تھا۔ اس وقت علی، حیدر کے گھر پر تھا
”صبر کر لڑکے۔۔۔۔ ابھی تیرے نکاح کو چوبیس گھنٹے نہیں گزرے اور تو نے ہار مان لی؟“ علی نے چپس کھاتے ہوئے اسے لتاڑا
”نہیں یار۔۔۔۔۔ میں نے ہار نہیں مانی، میں بس پریشان ہوگیا ہوں۔ حریم نے مجھ سےملنا تو دور مجھ سےبات تک کرنا گورا نہیں کی“
”دیکھ۔۔۔۔۔یہ عورتیں ناں ٹیڑھی ہڈی ہوتیں ہیں۔ انہیں سیدھا کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ یہ عورتیں۔۔۔۔۔“ علی نے کہنا
”مجے لیکچر نہیں سننا۔۔۔۔۔ مسلے کا حل بتاٶ۔۔۔۔“ حیدر نے بےزاری سے کہا۔
”بڑا ہی کوئی بےصبرا ہے بھائی تُو۔۔۔۔۔ٹہر میں حل کرتا ہوں تیرا مسلہ لیکن۔۔۔۔ پہلے تو اپنی بہن کی نند کو بلا۔۔“
”کیوں؟۔۔“ حیدر نے اچھنبے سے پوچھا
”تجھے اپنا مسلہ حل کرنا ہے کہ نہیں؟“
”اچھا بلاتا ہوں۔۔۔۔“
تھوڑی دیر بعد لاٶنج میں ماریہ بھی موجود تھی اور علی،حیدر اور اسے کافی سنجیدگی سے کچھ سمجھا رہا تھا جسے وہ دونوں سرہلاتے ہوئے سن رہے تھے۔
”تو پھر تم دونوں تیار ہو؟“ علی نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
”ہاں۔۔۔ میں تو تیار ہوں۔ حیدر سے پوچھ لو“ ماریہ نے رضامندی دے دی
”یار! حریم کیا سوچے گی؟“ حنان نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا
”ٹھیک ہے پھر تو روتا رہ۔۔۔۔“ علی ہاتھ جھاڑتے ہوئے کھڑا ہونے لگا
”اوکے اوکے۔۔۔۔ میں تیار ہوں“ حیدر نے جلدی سے کہا
”کیا ہورہا ہے گائیز؟“ حنان نے اندر داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔ اسے دیکھ کر ماریہ کا چہرہ کھل اٹھا۔
”کیسے ہیں خان صاحب؟“ علی نے شرارت سے پوچھا
”ہاں ہاں میں ٹھیک۔۔۔۔“
”کیسے ہیں آپ حنان؟“ ماریہ نے بھی تکلفاً پوچھا
”الحمدللّٰہ۔۔۔۔۔“ حنان جواب دیتے ہوۓ حیدر کے ساتھ بیٹھ گیا۔
”اور دلہے صاحب! کیسے مزاج ہیں؟“
”ٹھیک ہی ہوں“ اس نے بےزاری سے کہا تو وہ حیران ہوا
”کیا ہوا سب خیریت؟“
”تو مس ماریہ آپ حنان کی یونیورسٹی میں پڑھتی تھیں؟“ علی نے بات بدلنے کی خاطر بلند آواز میں پوچھا
”میری یونیورسٹی نہیں تھی وہ۔۔۔۔۔ میں نے بتایا ہے کہ میں صرف ایک سمسٹر کے لیے گیا تھا وہاں“ حنان نے تصیح کی۔ ملازمہ وہاں چائے رکھ کر جاچکی تھی۔
”ٹھیک ہے ایک سمٹر ہی صحیح۔۔۔ لیکن تو وہاں گیا تو تھا نا۔۔۔۔ تو ماریہ آپ یہ بتائیے کہ اس حنان نے وہاں کون کون سے کارنامے انجام دئیے تھے؟“ علی نے شرارت سے پوچھا۔ حنان نے مسکراتے ہوئے چائے کا کپ منہ سے لگا لیا جبکہ حیدر بےزار سا ہی بیٹھا تھا۔
”یہ بہت ہی بریلیئنٹ اسٹوڈنٹ تھے۔ لیکن صرف چند ایک اسٹوڈنٹز کے علاوہ کسی سےبات تک کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔“ اس نے بتانا شروع کیا جب کہ حنان مسکراتے ہوئے اسے سن رہا تھا۔ اسکی مسکراہٹ نے اسکی خوداعتمادی کو بڑھا دیا تھا۔
”مجھ سمیت ناجانے کتنی ہی لڑکیوں کا حنان پر کرش تھا۔ لیکن یہ تو کسی کو نظر اٹھاکر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا تھا“ چائے نے حنان کا منہ جلادیا تھا۔ اسے امید نہیں تھی کہ وہ اتنے سکون سے یہ سب بھی کہہ دے گی۔
”تو کیا تمہیں بھی یہ پسند تھا؟“ حیدر کو دلچپسی ہوئی۔ جب کہ حنان خاموشی سے چائے پی رہا تھا
”تھا؟ مجھے آج بھی یہ پسند ہے۔ بلکہ میں تو تب ہی اسے پرپوز کردیتی لیکن تب تک حنان اپنا سمسٹر مکمل کر کے چلاگیا تھا“ وہ بےحد بولڈ لڑکی تھی لیکن حنان کو یہ بولڈنیس پسند نہیں تھی۔ اسکے تیوری پر بل پڑے تھے۔
”میں چلتا ہوں حیدر۔۔۔۔“ حنان کہتا ہوا اٹھ کھڑا۔ حیدر سمجھ گیا تھا کہ اسے برا لگا ہے۔
”ٹھیک ہے۔۔۔ خدا حافظ“ حیدر نے کہا،حنان ماریہ پر ایک نگاہ غلط بھی ڈالے بغیر ہی باہر نکل گیا
”کیا اسے برا لگا؟“ ماریہ نے پوچھا
”یہ پاکستان ہے ماریہ۔۔۔۔ یہاں ان سب باتوں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا“ حیدر نے اسے سمجھایا
”پر میں نے تو وہی کہا جو سچ تھا۔کیا سچ بولنا بھی غلط ہے؟“
”نہیں ایسی بات نہیں ہے۔“ حیدر کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن علی نے اسکی بات کاٹتے ہوئے ماریہ کو مخاطب کیا
”کیا تم سچ میں حنان کو پسند کرتی ہو؟“ علی نے نیلی آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے پرسوچ نظروں سے اسے دیکھا
”ہاں۔۔۔۔ میں سچ میں اسے بےحد پسند کرتی ہوں“ ماریہ نے کہا
”فکر مت کرو بہن۔۔۔۔ میں ہوں ناں،۔۔۔۔ میں تمہارے لیے اسے راضی کرکے ہی رہوں گا“ علی نے اسے تسلی دی تو حیدر نے اپنا سر پیٹ لیا کیونکہ وہ علی کی آنکھوں میں ناچتی شرارت دیکھ چکا تھا
”تم واقع اسے راضی کرلو گے؟“ اس نے امید سے پوچھا
”ہاں ہاں بلکل۔۔۔بس تم حیدر کا مسلہ حل کردو۔“ علی نے کہا جب کہ حیدر یہ سوچ رہا تھا کہ علی کہ دماغ میں اب کیا چل رہا ہے؟
——————-*———————–*———————-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: