Urdu Novels Yaar Deewane Zeela Zafar

Yaar Deewane Novel by Zeela Zafar – Episode 3

Yaar Deewane Novel by Zeela Zafar
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
یار دیوانے از ژیلہ ظفر – قسط نمبر 3

–**–**–

”حمزہ۔۔۔۔۔“ وہ اپنے کمرے میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر آفس کا کام کررہا تھا جب حریم اسکےکمرے میں آئی
”کیا ہوا؟“ اس نے مصروف سے انداز میں پوچھا
”چائے۔۔۔۔“ اس نے چائے کا کپ اسے دیا۔ اس نے کپ لے کر ٹیبل پر رکھ دیا
”حمزہ تم مجھ سے ناراض ہو نا؟“ حریم نے پوچھا
”نہیں۔۔۔۔۔“ اس نے مختصر سا جواب دیا
”سوری۔۔۔۔۔ مجھ سے غلطی سے منہ سے نکل گیا تھا۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتی تھیں۔ پتہ نہیں کیسے۔۔۔۔“ وہ کہتے کہتے رو پڑی
”کوئی بات نہیں حریم۔۔۔۔ میں تم سے ناراض نہیں ہوں“ حمزہ نے کہا
”تو پھر مجھ سے بات کیوں نہیں کررہے؟ اور تم نے ایسا کیوں کہا تھا کہ آج سے میں تمہاری بہن نہیں ہوں؟“ حریم نے اسکے برابر صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
”جیسے تم نے غصے میں وہ بات کہی تھی ویسے ہی غصے میں، میں نے بھی کہہ دیا تھا لیکن کیا میرے کہہ دینے سے تمہارا میرا رشتہ ختم ہوجائیگا؟“ حمزہ نے پوچھا تو اس نے نفی میں سرہلایا
”تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہے نا۔۔۔۔ بس یہ کافی ہے۔ بس حیدر سے ایسی کوئی بات مت کہنا کیونکہ ہم تو تمہارے اپنے ہیں، ہم تمہاری غلط باتوں کو بھی معاف کردیں گے لیکن حیدر۔۔۔۔ ضروری نہیں ہے کہ اسکا اور اسکے گھر والوں کا دل بھی ہماری طرح بڑا ہو“ حمزہ نے سمجھایا تو حریم کا سر جھک گیا۔ وہ کیا بتاتی کہ وہ حیدر کو کیا کیا کہہ آئی ہے؟۔
”چائے جلادی ہے کیا چڑیل؟“ حمزہ نے چائے کا پہلا گھونٹ بھر کر برا سا منہ بناتے ہوئے پوچھا
”نہیں تو۔۔۔۔“ وہ حیران ہوئی
”واپس لے جاٶ اسے۔۔۔۔ میں نے نہیں پینی اتنی کڑوی چائے بلکل اپنے منہ جیسی بنائی ہے“ حمزہ نے چائے کا کپ پٹختے ہوۓ کہا
”تم۔۔۔۔۔تم جان بوجھ کر ایسا کرتے ہو۔ اتنی ہی بری لگ رہی ہے تو جاکر خود بنالو“ جواباً وہ بھی غصے سے بولی
”کیوں؟ میں کیوں بناٶں؟یہ میرا نہیں تمہارا کام ہے۔ جاکر دوبارہ بناکر لاٶ۔ چلو اٹھو شاباش۔۔۔۔“ حمزہ نے کہا تو وہ پاٶں پٹختی ہوئی اٹھی
”دوبارہ بھی ایسی ہی بناکر لاٶں گی دیکھ لینا“ وہ غصے سے کہتی باہر نکل گئی۔ جب کہ حمزہ ہنس رہا تھا۔ چائے بری نہیں تھی لیکن کیا کریں۔۔۔۔۔بہن کو تنگ کرنے میں جو مزہ ہے وہ دنیا کے کسی دوسرے کام میں کہاں ہے؟

”حیدر۔۔۔۔۔۔۔۔“ حیدر اپنی نئی گاڑی کے پاس کھڑا تھا جو کل ہی اسے اسکے بابا نے گفٹ کی تھی۔ تب ہی ماریہ باہر آئی۔
”کیا ہوا ماریہ؟“ حیدر نے اسے باہر آتا دیکھ کر پوچھا
”آج میں گھر واپس جارہی ہوں۔ کیا تم مجھے ڈراپ کردوگے؟“ اس نے حیدر سے پوچھا
”لیکن تم تو صفدر کے ساتھ۔۔۔۔۔“ حیدر بولتے بولتے رکا۔ اسکی نظریں رشنا کے ساتھ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی حریم پر پڑی۔ وہ سمجھ گیا کہ ماریہ کیا کرنا چاہتی ہے
”ہاں ہاں شیور۔۔۔۔ میں فارغ ہی ہوں۔ ابھی تمہیں ڈراپ کردیتا ہوں“ حیدر نے خاصی بلند آواز میں کہا تو حریم کی نظریں اس پر پڑیں۔
”صرف ڈراپ؟۔۔۔۔ تم مجھے آئیسکریم بھی کھلاٶ گے۔ یہ تمہاری نئی گاڑی کی خوشی میں ہوگا“ ماریہ نے دھونس جماتے ہوۓ کہا
”جی جی بلکل۔۔۔۔جو حکم آپ کا“ حیدر نے مسکراتے ہوئے اسکے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا تو وہ بیٹھ گئی۔حریم نے حیرت زدہ چہرے کے ساتھ ان دونوں کو مسکراتے ہوئے اور پھر گاڑی میں بیٹھ کر جاتے ہوئے دیکھا تھا۔
”یہ ماریہ کیسے ہنس ہنس کر بات کررہی تھی حیدر کے ساتھ؟ اور حیدر کو دیکھو ذرا، ہمیں تو ٹریٹ دینے سے انکار کردیا اور اسکے ساتھ کیسے آئیسکریم کھلانے کے جارہا ہے؟“ رشنا نے ناگواری سے کہا تھا
”چھوڑو ان دونوں کو۔۔۔۔ تم بتاٶ یہ ثنا کہاں ہے؟“ حریم نے بات بدل دی
”ثنا کا آج ٹیسٹ ہے تو وہ لیٹ آئے گی یونیورسٹی سے۔۔۔۔۔۔“ رشنا بتانے لگی جب کہ حریم کا ذہہن بار بار حیدر اور ماریہ کو سوچ رہا تھا
————————-*——————-*———————
”بھائی انہوں نے ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ ہمارا کیا قصور تھا“ وہی سنسان سڑک، وہی سرد موسم،وہی رات کی تاریکی اور ہانیہ کی وہی آواز اسکے کانوں میں گونج رہی تھی۔ وہ نیند میں کروٹیں بدل رہا تھا
”میں نہیں جانتا ہانی۔۔۔۔۔ میں نے تو ہر ممکن کوشش کی تھی کہ انہیں ہم سے کوئی شکایت نہ ہو لیکن پھر بھی۔۔۔۔“ عمر نے مایوسی سے کہا
” بھائی میں سچ کہہ رہی ہوں۔ میں نے چوری نہیں کی“ ہانیہ روہانسے لہجے میں بولی
”مجھے پتہ ہے ہانی۔۔۔۔تم نے کچھ نہیں کیا انہوں نے الزام لگایا ہے تمہارے اوپر“ وہ بولا تو ہانیہ چپ ہوئی۔ کافی دیر تک وہ دونوں خاموش چلتے رہے۔
”بھائی اب ہم کہاں جائینگے؟“ اس نے پھر پریشانی سے پوچھا
”مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔۔۔مجھے کچھ نہیں پتہ۔۔۔۔مجھے کچھ نہیں پتہ۔۔۔۔۔“ وہ چلاتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔ کمرے میں اندھیرا تھا۔ اس نے اردگرد نگاہیں دوڑائی پھر سکون کا سانس لیا۔ وہ اپنے کمرے میں تھا۔ اس نے سائیڈ لیمپ آن کیا۔ پھر جگ سے گلاس میں پانی ڈالا۔
پانی پی کر وہ بیڈ کراٶن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ کافی دیر تک وہ کراٶن سے سر ٹکائے ایسے ہی بیٹھا رہا۔ پھر اس نے سائیڈ ٹیبل کا دراز کھولا اور اس میں سے ایک تصویر نکالی۔ اور اسے نظروں کے سامنے کیا
”سوری ہانی۔۔۔۔۔ میں کچھ نہیں کرسکا تمہارے لیے۔۔۔ میں بہت بےبس ہوگیا ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں کیوں زندہ ہوں؟“ وہ تصویر سے باتیں کررہا تھا۔ رات کے تین بجے تھے لیکن نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور جاچکی تھی۔
———————–*———————–*——————-
”شفا۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ شفا ابھی ابھی کالج سے آئی تھی اور اپنے گھر کی جانب بڑھ ہی رہی تھی جب اسے علی نے روک لیا
”کیا ہوا؟“ شفا نے بےزاری سے پوچھا
”میرا ایک کام کردوگی؟“ اس نے انتہائی شرافت سے شفا سے پوچھا
”بولو کیا کرنا ہے؟“ دھوپ اسکے چہرے پر پڑ رہی تھی اسی لیے اس نے ہاتھوں سے ماتھے پر چھجا بنا رکھا تھا۔
”یہ اسائیمنٹ تم لے جاکر روشن آرا کو دے آٶ۔ اور اسے کہنا کہ یہ حمزہ نے دیا ہے۔ اسے یہ بھی بتانا کہ حمزہ نے معذرت کی ہے کہ پچھلے کچھ دنوں کی مصروفیات کے باعث وہ اسائیمنٹ والی بات بلکل ہی بھول چکا تھا لیکن اب اسکو یاد آگیا ہے۔ لیکن ابھی بھی اسے کہیں جانا تھا اس لیے اس نے تمہارے ہاتھوں بھجوا دیا ہے“ علی نے تفصیل سے کہا
”تم۔۔۔۔جھوٹ بول رہے ہو، یہ حمزہ نے نہیں بھیجا ہے“ شفا نے اطمینان سے کہا
”بلکل۔۔۔۔۔تم صحیح کہہ رہی ہو۔حمزہ تو اس بات کو بھول بھی چکا ہے کہ روشن آرا نے اس سے اسائیمنٹ مانگا تھا“ اس نے ڈھٹاٸ سے جواب دیا
”تو پھر تم کیوں اسکی مدد کررہے ہو اور وہ بھی حمزہ کا نام لے کر؟“
”تمہیں لگتا ہے کہ میں اسکی مدد کررہا ہوں؟“ علی نے شرارت سے پوچھا
”ٹھیک ہے سمجھ ئی۔ لیکن میں کیوں تمہارا کام کروں؟ تم خود بھی تو دے سکتے ہو اسے؟“ شفا نے پوچھا
”کیونکہ میری بات پر وہ یقین نہیں کرے گی۔ لیکن تم تو اسکی دوست ہو نا تمہاری بات مان لے گی۔“
”ویسے۔۔۔۔۔۔۔۔“شفا نے کچھ سوچا ”ٹھیک ہے میں تیار ہوں۔ ویسے بھی پرسوں حریم کے نکاح والے دن اس نے میرے بولنے پر بہت اعتراض کیا تھا لیکن اب مزہ آئیگا۔ میں بھی اس سے بدلہ لوں گی اور اسے۔۔۔۔۔“
”بس بس۔۔۔۔۔کتنا بولتی ہو تم؟“ علی نے اسکی بات کاٹتے ہوئے کہا۔شفا نے اسے گھورا
”لاٶ دو۔۔۔۔۔“ اس نے علی سے فائل مانگی تو اس نے فائل اسکے حوالے کردی۔
” کام ہوجائیگا“ شفا نے مسکراتے ہوئے کہا اور رشنا کے گھر کی طرف بڑھ گئی۔
———————-*——————–*———————–
”آپ کے انتظار میں دس سال گزر گئے بابا۔۔۔۔کب آئے گے آپ؟“ رشنا حسرت سے اپنے باپ کی تصویر کو دیکھ رہی تھی۔ جس میں انہوں آرمی کی وردی زیب تن کی ہوئی تھی اور مسکرارہے تھے۔
”میں آپ کو کتنا یاد کرتی ہوں۔ بھیا کہتے ہیں کہ آپ شھید ہوچکے ہیں۔ لیکن پتہ ہے بابا۔۔۔۔۔ مجھے یقین نہیں آتا۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ زندہ ہیں۔ میرا دل کہتا ہے کہ آپ کو کچھ نہیں ہوا۔ آپ بہت جلد واپس آئینگے۔ مجھے یقین ہے“ وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی۔
”کیا سوچ رہی ہو گڑیا؟“ کیپٹن رضا نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا
”کچھ نہیں بس بابا کو یاد کررہی تھیں“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”مجھے تمہیں کچھ بتانا تھا۔۔۔۔“ رضا نے سنجیدگی سے کہا۔ وہ یونیفارم میں ملبوس تھا اور ہاتھ میں سفری بیگ اٹھا رکھا تھا۔
”جی بھیا کہیے؟“ اس نے پوچھا
”مجھے ایمرجینسی میں ڈیوٹی پر بلایا گیا ہے اور مجھے ابھی جانا ہے۔ تو میں ابھی نکل رہا ہوں تم مما کا خیال رکھنا“
”لیکن کیوں بھیا؟ ابھی تو آپ آئے تھے؟“
”میں بس دو دن کی چھٹی پر آیا تھا۔ ویسے بھی رات تک مجھے چلے ہی جانا تھا لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر مجھے صبح ہی جانا پڑرہا ہے“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا
”لیکن بھیا۔۔۔۔۔“ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی
”لیک ویکن کچھ نہیں۔۔۔۔تم مما کا خیال رکھو گی۔اپنی پڑھائی پر دھیان دو گی اور اگر میں واپس نہ آٶں۔۔۔۔۔تو مما کا سہارا بنو گی“ وہ جانے سے پہلے ہمیشہ یہی کہتا تھا
”خدا حافظ۔۔۔۔۔“ وہ اسکے سر پر ہاتھ رکھتا اپنا بیگ اٹھاتا باہر نکل گیا۔
”خدا حافظ۔۔۔۔۔“ رشنا نے اداسی سے کہا تھا۔ رضا کے جانے کے بعد وہ اگلے دو گھنٹوں تک وہیں بیٹھی رہی تھی۔ وہ شاید مزید کئی گھنٹے وہیں بیٹھی رہتی ،جب بیل بج اٹھی۔۔۔۔۔
”اب کون آگیا؟“ وہ حیرت سے کہتی دروازے پر آئی۔ وہاں شفا کھڑی تھی
”ارے شفا تم۔۔۔۔۔اندر آٶ“ رشنا نے خوشدلی سے کہا
”نہیں یار۔۔۔۔مجھے جلدی گھر پہنچنا ہے وہ تو راستے میں عل۔۔۔۔میرا مطلب حمزہ مل گیا تھا اس نے مجھے کہا کہ یہ اساٸیمنٹ تمہیں دے دوں۔“ شفا نے کہتے ہوۓ فائل بڑھائی
”لیکن وہ خود کیوں نہیں آیا دینے؟“ رشنا نے فائل لیتے ہوئے حیرت سے پوچھا
”اسے کوئی کام تھا ضروری۔۔۔۔اسی لیے مجھے دے گیا“
”اوہ۔۔۔۔چلو میں اسے تھینکس کہہ دوں“ رشنا نے ہاتھ میں پکڑے موبائل کی سکرین آن کی۔
”نہیں نہیں۔۔۔۔۔“شفا ہڑبڑا کر بولی
”کیا ہوا ہے؟“ رشنا مزید حیران ہوئی
”وہ۔۔۔۔وہ حمزہ نے کہا تھا کہ وہ پہلے ہی دیر ہونے کی وجہ سے تم سے شرمندہ ہے تو تم اسے تھینکس بول کر مزید شرمندہ مت کرو“ شفا نے جلدی جلدی جھوٹ بولا اور دل ہی دل میں علی کو کوسا جو اسے اس مشکل میں پھنسا گیا تھا
”اوہ چلو ٹھیک ہے۔۔۔۔“ رشنا نے کہتے ہوئے فائل کے شروع کے دو تین صفحات پلٹ کر دیکھا تو وہاں سب کچھ ٹھیک ہی تھا۔
”چلو شکریہ تمہارا۔۔۔“ رشنا نے مسکراتے ہوئے فائل بند کردی
”چلو میں چلتی ہوں۔ خدا حافظ“ شفا کہتی ہوئی چلی گئی
———————-*——————*————————
وہ سکون سے کار ڈرائیو کررہا تھا۔
”حیدر۔۔۔۔تمہارے اس مشن کے چکر میں کہیں میں حریم کی نظروں میں بری نہ بن جاٶں“ ماریہ نے فکر مندی سے کہا۔ وہ حریم کی آنکھوں میں ان دونوں کے لیے ناپسندیدگی واضح دیکھ چکی تھی۔
”ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ میں آخر میں سب بتا دوں گا اسے“ حیدر نے سے تسلی دی
”تم میرے اچھے دوست ہو۔ اسی لیے مدد کررہی ہوں تمہاری، ورنہ میں ایسے کام نہیں کرتیں“ اس نے نروٹھے انداز میں کہا تو وہ ہنس دیا
”پتہ ہے مجھے۔۔۔۔بہت شکریہ تمہارا“
”خیر یہ شکریہ تم مجھے آئیسکریم کھلا کر بھی کہہ سکتے ہو“
”وہ بھی کھلا دوں گا۔ لیکن۔۔۔۔پہلے تم مجھے یہ بتاٶ کہ تم حنان کو سچ میں پسند کرتی ہو؟“ حیدر نے پوچھا
”تو تمہیں کیا لگ رہا ہے میں مذاق کررہی تھیں“ اس نے خفگی سے کہا
”نہیں نہیں۔۔۔۔۔ وہ اچھا لڑکا ہے لیکن شاید تم اسکا آئیڈیل نہ ہو“ حیدر نے سنجیدگی سے کہا
”کیا مطلب؟“
”دیکھو ماریہ۔۔۔۔۔پلیز میری باتوں کا برا نہ ماننا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حنان کے نزدیک تم بولڈ ہو۔ اور اسے ایسی بولڈنیس پسند نہیں ہے۔ کیونکہ وہ اندر سے روایتی پٹھان ہے“ حیدر نے اسے سمجھایا
”تو تم مجھے بتاٶ نا کہ اسے کس طرح کی لڑکیاں پسند ہیں۔ میں ویسی ہی بننے کی کوشش کروں گی۔“ اس نے بےتابی سے پوچھا
”نہیں ماریہ، کبھی بھی کسی کے لیے اپنے آپ کو مت بدلنا، بلکہ تم جیسی ہو ویسے ہی سامنے والے کا دل جیت کر دکھاٶ“ حیدر نے اسے سمجھایا تو اس نے بس اثبات میں سرہلادیا
”چلو، آئیسکریم پارلر آگیا۔ بتاٶ کونسا فلیور لاٶں تمہارے لیے؟“ حیدر نے اسکا موڈ بحال کرنے کے لیے پوچھا
”چاکلیٹ۔۔۔۔“ وہ مسکرائی
”اوکے۔۔۔۔میں بس ابھی آیا“ وہ گیٹ کھولتا گاڑی سے اترگیا۔ جب کہ ماریہ سوچ رہی تھی کہ بھلے سے حیدر کی بات ٹھیک تھی کہ انسان کو کسی کے لیے اپنے آپ کو نہیں بدلنا چاہیے لیکن وہ ایسا کرے گی۔ وہ اپنے آپ کو ویسا ہی بنائے گی جیسا حنان چاہتا ہے۔
————————*———————*——————–
حیدر، حنان،ارسلان، حمزہ اور عمر اس وقت حیدر کی نئی گاڑی کے ساتھ کھڑے تھے۔ کوئی گاڑی کی قیمت اور ماڈل پوچھ رہا تھا، کوئی تعریفیں کررہا تھا تو کوئی گاڑی کے ساتھ سیلفایں لینے میں مگن تھا۔
”ارسلان! تجھے پتہ چلا کہ حنان کے بارے میں نئی نئی خبریں مل رہی ہیں۔“ حمزہ نے مخاطب ارسلان کو کیا تھا لیکن دیکھ وہ حنان کو رہا تھا
”کیسی خبریں؟“ وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
”انجان نہ بن۔۔۔۔۔“ ارسلان نے بھی شرارت سے کہا
”کیسی خبر؟ مجھے بھی بتاٶ۔۔۔۔“ عمر شاید لاعلم تھا
”اپنا حنان زبردست قسم کا کارنامہ انجام دے کر آیا ہے کلیفیورنیا میں اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہونے دی اس نے“ حمزہ شرارتی سے انداز میں کہہ رہا تھا اور۔۔۔۔۔بس۔۔۔۔۔حنان کو ساری بات سمجھنے میں دیر نہ لگی
”تُو نے بکواس کی ہے ان سے؟“ اس نے حیدر کو گدی سے پکڑا
”بھئی میں نے کچھ نہیں کہا۔۔۔۔یہ سب اس علی کا کارنامہ ہے“ حیدر نے ہنستے ہوۓ گردن چھڑوائی تھی
”کوئی مجھے بھی بتائے گا کہ یہاں کیا ہورہا ہے؟“ عمر نے بےزاری سے پوچھا تھا
”ٹھہر۔۔۔۔۔میں بتاتا ہوں تجھے، دراصل ہوا ہی کہ بجو کی جو نند ہے ماریہ وہ۔۔۔۔۔۔“ حیدر نے اسے بتانا شروع کیا۔ عمر کا ریکشن نارمل ہی تھا وہ کسی بھی بات کو سیریئس لینے کا عادی نہیں تھا البتہ ارسلان اور حمزہ کی معنی خیز مسکراہٹ حنان کا خون جلانے کے لیے کافی تھی
”تو آپ اس سب کی وضاحت دینا پسند کرینگے؟“ حمزہ نے پوچھا
”بات سن۔۔۔۔۔اگر کوئی مجھے پسند کرتا ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ میں بھی اسے پسند کروں۔ اور ویسے بھی وہ ایک بےانتہا بولڈ لڑکی ہے اور مجھے ایسی لڑکیاں نہیں پسند۔۔۔۔۔۔“ حنان نے سنجیدگی سے کہا
”تو پھر کیسی لڑکیاں پسند ہیں خان صاحب کو۔۔۔۔۔۔“ علی ناجانے کہاں سے نازل ہوا تھا۔
”چلو بھئی۔۔۔۔ بس تیری ہی کمی تھی۔“ حمزہ نے اسے وہاں دیکھ کر کہا جبکہ حنان نے اسے کینہ توز نظروں سے دیکھا تھا
”ادھر آ کمینے۔۔۔۔“ حنان نے دانت پیستے ہوئے اسے اپنے پاس بلایا
”یہ کس طرح مخاطب کررہے ہیں آپ مجھے۔۔۔۔“ علی نے سنجیدگی سے پوچھا
”ارے میرے لال۔۔۔۔پیار سے مخاطب کیا ہے آپ کو۔۔۔میں ایسے ہی بُلاتا ہوں اپنے دوستوں کو“
”مطلب بلانے سے پہلے ہی ذلیل کردیتے ہو“ علی نے پوچھا
”یہ تُو کونسی خبریں اڑاتا پھر رہا ہے میرے بارے میں۔۔ وہ بھی بنا تصدیق کے؟“
”مجھے تو میرے ذرائع سے خبر ملی تھی“ علی نے بےنیازی سے کہا
”تُو سدھر جا بتارہا ہوں۔ تیری حرکتیں کسی کو بھی مروا سکتی ہیں“ حنان نے اسے وارن کیا
”تجھے تو خوش ہونا چاہیے کہ ایک عقلمند اور ذہین آدمی تیرا دوست ہے“ علی نے فکر سے کہا
”کون؟ عمر؟“ حنان نے مصنوعی ناسمجھی سے پوچھا تو علی کے علاوہ سب کے قہقہے بلند ہوئے تھے
”میری طرف بھی دیکھ لیا کر تیرا ہی دوست ہوں“ علی نے منہ بسورا
”تیرے جیسے دوست سے بہتر ہے بندا سُو دشمن پال لے“
”سُو دشمن سے بہتر ہے ایک دوست ہی رکھ لو میرے جیسا۔۔۔۔۔اور تیری گاڑی آئی ہے نا نئی۔۔۔ اب عزت کے ساتھ ٹریٹ دے“ علی نے پہلا جملہ حنان اور دوسرا حیدر سے کہا تھا
”بھول جا ٹریٹ کو۔۔۔۔۔“
”ٹھیک ہے کنجوس آدمی۔۔۔۔اب یاد رکھنا میں کیا کروں گا تیرے ساتھ“ علی نے اسے دھمکی دی تو وہ ہسنے لگا۔
رات کا اڑھائی بج رہا تھا۔ سب اپنے اپنے گھروں میں سکون کی نیند سورہے تھے۔ گلی کے کونے پر بیٹھا گارڈ بھی مست نیند سویا ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر لگتا تھا جیسے وہ نیند کی دوائی کھا کر سویا ہے۔۔۔۔۔اب اس بات کی واضع اطلاعات نہیں تھیں کہ دوائی اس نے خود کھائی ہے یا اسے کھلائی گئی ہے۔ ایسے ہی اندھیری رات میں اسٹریٹ لائیٹس کی پیلی روشنی میں آپ کو ایک ہیولا گلی میں چہل قدمی کرتا نظر آئے گا۔ جیسے وہ کسی کا بےصبری سے انتظار کررہا ہو۔
کالی جینز پر کالی ٹی شرٹ اور اس پر کالی لیدر کی جیکٹ پہنے، سر پر کالی پی کیپ لگائے وہ بےچینی سے یہاں وہاں دیکھ رہا تھا۔ کندھے پر ایک چھوٹا سا بیگ بھی ٹانگ رکھا تھا۔چند منٹ تک وہ ایسے ہی ٹہلتا رہا۔ پھر اسے اسٹریٹ لائیٹ سے دور ایک اور ہیولا نظر آیا۔ وہ ہیولا اسکی جانب بڑھنے لگا۔ اسے اپنی جانب آتا دیکھ کر اسکی نیلی آنکھوں میں چمک ابھری۔ جیسے ہی وہ ہیولا اسٹریٹ لائیٹ کے قریب پہنچا تو وہ واضع دکھائی دینے لگا۔ وہ شفا تھی۔۔۔۔۔
”کب سے انتظار کررہا ہوں اور تم ہو کہ اب پہنچی ہو“ علی نے اسکے پاس پہنچ کر خفگی سے کہا
”اتنی مشکلوں سے تو میں گھر سے نکلی ہوں۔“ جواباً وہ بھی خفگی سے بولی
”سامان لائی ہو ساتھ؟“ علی نے اس سے پوچھا
”ہاں ہاں لائی ہوں۔ اور تم کیا ڈکیتی مارنے جارہے ہو جو اسطرح کی ڈریسنگ کررکھی ہے؟“ شفا نے اسکے حلیے پر تنقید کی تھی
”یہ فیشن ہیں میڈیم۔۔۔۔ آپکو کیا پتہ؟“ علی نے بھڑک ماری جو شفا کو ایک آنکھ نہ بھائی تھی
”مجھے کیا کرنا ہے اب؟“ شفا نے بےزاری سے پوچھا۔ اسٹریٹ لائیٹ کی روشنی نے ان دونوں کو روشن کررکھا تھا۔
”میں یہ سامان لے کر حیدر کی گاڑی کے پاس جاوں گا۔ تم نے کرنا یہ ہے کہ تم گاڑی کے پاس کھڑی ہوکر آس پاس دیکھتی رہوگی اور جیسے ہی کسی کی بھی آہٹ سنائی دے تو مجھے ضرور بتاٶ گی، اوکے“
”اوکے۔۔۔۔“ اس نے سر ہلادیا۔ اب وہ دونوں اسٹریٹ کائیٹ سے دور حیدر کی گاڑی کے پاس تھے۔
علی گاڑی کے پاس بیٹھ کر اپنے ساتھ لاضے بیگ میں کچھ تلاشنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے بیگ میں سے ایک اوزار نکالا اور اسکی مدد سے گاڑی کا ٹائر کھولنے لگا۔
”جلدی کرو علی“ شفا سرگوشی نما آواز میں بولی
”صبر کرو لڑکی۔۔۔۔کر رہا ہوں“ علی نے کہتے ہوۓ گاڑی کا ٹائر باہر نکال دیا۔ پھر دوسرے ٹائر کی طرف بڑھا
”ایک ٹائر تو نکال دیا ہے اب دوسرے کے پاس کیوں جارہے ہو“ شفا نے اسے دوسرے ٹائر کے پس بیٹھتے دیکھ کر اچھنبے سے پوچھا
”تمہیں کیالگ رہا ہے اتنی رات کو میں صرف ایک ٹائر نکالنے کے لیے یہاں خوار ہورہا تھا؟“ وہ برا مان گیا
”ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ جو بھی کرنا ہے جلدی کرو“ شفا تھوڑی پریشان لگتی تھی
”دیکھو اگر تم ایسے ہی مجھے تنگ کرتی رہو گی ناں تو میں کام نہیں کروں گا۔“ علی اسے تنگ کرنے کو سارا سامان زمین پر چھوڑ کر سکون سے وہیں بیٹھ گیا
”نہیں نہیں۔۔۔۔۔ تم اپنا کام کرو میں اب کچھ نہیں کہوں گی“
”پکا؟؟؟“
”ہاں ہاں۔۔۔۔۔پکا“
”گڈ گرل۔۔۔اب ایسے ہی اچھی بچیوں کی طرح نگرانی کرتی رہو تاکہ میں اپنا کام کرسکوں“ وہ کہتا ہوا پھر سے اپنے کام میں مشغول ہوگیا۔ تھوڑی ہی دیر میں اس نےگاڑی کے چاروں ٹائر باہر نکال کر رکھ دیے تھے۔ چونکے گاڑی نئی تھی اور گلی میں، اور ٹاٶن کے داخلی دروازے پر گارڈز کی موجودگی کے باعث اسکے چوری ہونے کا بھی خدشہ نہ تھا سو، حیدر نے اس پر ٹریکر اور الارم نہیں لگایا تھا۔
”لاٶ اب اپنا بیگ دو۔۔۔۔“ علی نے شفا سے اسکا بیگ مانگا جو وہ اپنے ساتھ لائی تھی۔
”یہ لو۔۔۔۔۔۔“شفا نے اپنے ساتھ لایا بیگ اسکے حوالے کیا۔
علی نے بیگ کھولا اور اس میں سے پینٹنگ کا سامان باہر نکالا۔ پھر اس نے پینٹ برش کو کلر میں ڈبویا اور حیدر کی جان سے پیاری گاڑی کو نئے رنگوں سے روشناس کروانے لگا۔ پھر اس نے بیگ سے اسپرے پینٹ نکالا اور مختلف رنگوں سے نئے نئے ڈیزائن بناتا چلا گیا۔ جب گاڑی بلکل بھی اپنی اصلی حالت میں نہ رہی تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
”ہوگیا؟ اب چلے؟“ شفا نے پوچھا
”صبر لڑکی۔۔۔۔۔سب سے ضروری کام تو اب ہوگا“ علی نے کہہ کر اپنے بیگ میں ہاتھ ڈالا اور جب باہر نکالا تو اس میں سے ایک عدد تختی باہر آئی۔ جس پر بڑا بڑا سا لکھا تھا۔ ”گاڑی برائے فروخت“
وہ تختی علی نے گاڑی کے اوپر لگادی۔ اور ہاتھ جھاڑتے ہوئے اپنا بیگ اٹھانے لگا۔
”ویسے شفا۔۔۔۔تم نے مجھے اپنا اتنا مہنگا آرٹ کا سامان استعمال کرنے کیسے دے دیا؟“ علی بیگ اٹھا کر سیدھا کھڑا ہوا اور اس سے پوچھنے لگا
”تمہیں کیا لگتا ہے کہ یہ سامان میرا تھا؟“ شفا نے بھنویں اچکا کر شرارت سے پوچھا
”ڈونٹ ٹیل می کہ تم نے یہ چوری کیے ہیں“ علی بھی جواباً شرارت سے بولا
”ویسے میں نے یہ ثنا کے پاس سے چُرائے ہیں“
”تم نے ثنا کا سامان چوری کیا؟“ علی حیرت سے بولا
”ہاں۔۔۔۔“ اس نے بےنیازی سے بال جھٹکے
”ہائے کیوں؟“ علی نے صدمے سے چُور لہجے میں پوچھا۔ تو دونوں ہی قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔ ان دونوں کے قہقہوں سے گلی کے کونے پر سویا ہوا گارڈ ہربڑایا کر اٹھا
”کک۔۔۔کون ہے؟“ وہ آنکھیں ملتے ہوۓ پوچھنے لگا۔
”بھاگو علی۔۔۔۔۔“ شفا نے دبی آواز میں کہا اور اپنے گھر میں گھس گئی۔ علی بھی گاڑی کے چاروں ٹائر اٹھاتا دوڑتے ہوئے اپنے گھر میں چلاگیا
”کون تھا وہاں۔۔۔۔؟“ گارڈ نے پوری آنکھیں کھول کر دیکھا پر گلی میں کچھ بھی نہ تھا۔ جس جگہ حیدر کی گاڑی کھڑی ہوئی تھی وہاں اندھیرا تھا۔ جس کے باعث گارڈ گاڑی کی حالت دیکھ نہیں سکا۔ کچھ بھی غیر معمولی نہ پاکر اس نے کندھے اچکا دیے
”مگر میں سو کیسے گیا تھا؟“ اسے اچانک ہی خیال آیا تھا لیکن اسکا جواب اسکے پاس نہیں تھا
——————-*—————————*——————-
رات کا ایک پہر گزر چکا تھا۔ لیکن وہ ابھی تک جاگ رہی تھی۔ ایک ہی منظر بار بار نگاہوں کے سامنے گھوم رہا تھا۔ حیدر اور اسکے ساتھ مسکراتی ہوئی ماریہ۔۔۔۔۔
لیکن اسے کیوں برا لگ رہا تھا؟ حیدر جس کے ساتھ چاہے گھومے پھرے۔۔۔۔ وہ تو آذر سے محبت کرتی ہے نا؟۔۔۔۔اسکے ضمیر سے آواز آئی۔۔۔وہ کمرے میں بےچینی سے یہاں وہاں ٹہل رہی تھی۔۔۔۔
”کہیں حیدر نے میری اس دن کی باتوں کا برا تو نہیں مان لیا“ اس نے سوچا
”نہیں نہیں ۔۔۔۔۔۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ مجھ سے یہ کیوں کہتا کہ وہ ہمیشہ میرا انتظار کرتا رہے گا؟“ وہ بےبسی سے ناخن چبانے لگی
”تم کتنے جھوٹے نکلے حیدر۔۔۔۔چند دن میں بدل گئے“
”لیکن ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ میں غلط سوچ رہی ہوں۔ وہ دونوں صرف دوست ہوں۔ “ اس نے خود کو تسلی دی
”ہاں۔۔۔۔۔ضرور ایسا ہی ہوگا۔ میں خوامخواہ پریشان ہورہی ہوں۔ حیدر ایسا نہیں ہوسکتا وہ میرے علاوہ کسی اور کو پسند کر ہی نہیں سکتا“ چہرے پر ایک مغرورانہ سی مسکراہٹ پھیلی۔
اور ایسا سوچتے ہوئ وہ بھول گئی۔ کہ اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ آذر کو ساری زندگی نہیں بھولے گی۔ اسکی جگہ کسی اور کو نہیں دے گی۔ لیکن اس لمحے۔۔۔۔وہ بھول گئی کے آذر بھی کبھی اسکی زندگی میں ہوتا تھا۔ وہ تو بس حیدر کو سوچ رہی تھی۔ بس حیدر۔۔۔۔۔۔
ساری رات اس نے اسی کشمکش میں گزاری کہ کہیں حیدر اسے بھول تو نہیں گیا؟ کہیں وہ ماریہ میں انٹرسٹ تو نہیں لینے لگا؟ اور اگر لے بھی رہا ہے تو وہ حیدر کو کیوں سوچ رہی ہے؟ کیوں آخر کیوں؟ وہ کیوں آذر کو بھولنے لگی ہے؟ کہیں وہ آذر کی جگہ حیدر کو تو نہیں دینے لگی؟
یہ ساری سوچیں اس طرح اس پر حملہ آور ہوئی تھیں کہ نتیجتاً وہ بخار میں مبتلا ہوگئی۔
———————–*——————-*———————–
چودہویں رات کا چاند پوری آب و تاب سے آسمان پر چمک رہا تھا۔ وہ سمندر کے سامنے گاڑی روکے، بونٹ سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ رات کے وقت سمندر کی لہریں بہت تیز ہوتیں ہیں۔ سمندر کی لہروں کا شور، کان پڑی آواز تک سننے نہیں دیتا تھا۔ چاند کی چاندنی بھی اس سمندر کو منور کرنے کے لیے ناکافی تھی۔ عاشق مزاج لوگ اس منظر کے دیوانے ہوتے ہیں۔ لیکن اسے ان سب میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ تو اپنے اندر کا شور کم کرنے یہاں آیا تھا۔ سکون کی تلاش میں۔۔۔
جتنا گہرہ یہ سمندر تھا، اتنی ہی گہری اسکی سیاہ آنکھیں تھیں۔ جس میں ڈھیڑوں راز چھپے تھے۔ گہری نظروں سے سمندر کوتکتا وہ یہاں تھا ہی نہیں، بلکہ وہ تو کہیں اور ہی تھا
”جس تھالی میں کھایا وہیں چھید کیا تم نے۔۔۔۔۔“ وہ نک سک سے تیار خوبصورت عورت ہانیہ کو بازو سے کھینچتے ہوئے پوچھ رہی تھی
”میں سچ کہہ رہی ہوں آنٹی۔۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا“ دس سالہ ہانیہ روتے ہوئے بولی۔
”جھوٹی، مکار۔۔۔۔ میرے شوہر کے پاس اتنا فضول نہیں ہے کہ تم دونوں بہن بھائیوں پر خرچ کرے۔ لیکن پھر بھی میں نے تم دونوں کو اس گھر میں رکھا۔ اور تم نے میرے ہی گھر میں چوری کی؟ نکال میرے پیسے۔۔۔“ اس نے غصے کہتے ہانیہ کے منہ پر تھپڑ مارا تو وہ مزید رونے لگی۔
”یہ کیا کیا آپ نے؟ کیوں مارا ہانی کو؟“ عمر اسکے رونے کی آواز سن کر دوڑا ہوا آیا تھا
”تیری بہن نے میرے بچے کے پیسے چوری کیے ہیں“
”نہیں۔۔۔ میری بہن ایسا ہرگز نہیں کرسکتی“ بارہ سالہ عمر غصے سے بولا تھا۔ اور ہانیہ کو اپنے پیچھے کر لیا
”اچھا۔۔۔مجھے آنکھیں دکھائے رہا۔ ہے۔ میرے شوہر کے گھر میں رہ کر مجھے ہی غصہ دکھائے گا“ اس عورت کی بدزبانی اسکی خوبصورتی پر غالب آگئی تھی۔
”احسان نہیں کررہی ہمیں یہاں رکھ کر۔۔۔ ہم اپنے باپ کے گھر میں رہتے ہیں“ عمر چیخا تو وہ دنگ رہ گئی
”اچھا۔۔۔۔میرے اوپر چلائے گا تُو۔۔۔آنے دے تیرے باپ کو۔۔۔آج یا تو تم دونوں رہو گے یا میں۔۔۔“ وہ غصے سے کہتی وہاں سے چلی گئی
”عمر۔۔۔۔۔“ کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چونکا اور پیچھے مڑا وہاں حنان کھڑا تھا۔
”تم۔۔۔۔کیا کررہے ہوں یہاں پر؟“ عمر نے اس سے پوچھا
”یہ تو مجھے تم سے پوچھنا چاہیے کہ رات کہ اس پہر تم یہاں کیا کررہے ہو؟“ حنان نے اپنی رسٹ واچ اسکے سامنے کرتے ہوئے کہا تو عمر نے دیکھا کہ رات کے ڈھائی بج رہے تھے۔ سمندر میں اِکّا دُکّا لوگ ہی دکھائی دے رہے تھے
”ابے تُو کیا میرا پیچھا کررہا ہے؟“ عمر نے ہنستے ہوئے گاڑی سے ٹیک لگا لی۔
”بات مت بدلو عمر۔۔۔ مجھے بتاٶ کیا ہوا ہے“ حنان نے اسکے برابر میں کھڑے ہوتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا
”کچھ نہیں ہوا۔ بس گھر میں دل نہیں لگ رہا تھا تو یہاں آگیا“ اس نے آہستگی سے کہا
”تو گھر پر دل لگاٶ گے تو لگے گا ناں۔۔۔تم پرانی باتوں کو بھولنے کے کوشش کروگے تو ٹھیک ہوگے نا۔ خوش رہنے کی کوشش کیا کرو عمر“ سمندر پر چلنے والی تیز ہوا سے اب ٹھنڈ محسوس ہورہی تھی۔
”میں ٹھیک ہوں اپنی زندگی میں، پڑھ لکھ لیا ہے، جاب کرتا ہوں، کمارہا ہوں کافی ہے“۔
”یہ سب کافی نہیں ہے۔ انسان کو خوش رہنا چاہیے”
”مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے خوش رہنے کی“ وہ تلخ ہوا
”کیوں؟ تمہارا حق ہے خوش رہنے کا، تمہیں سب بھول کر اپنی زندگی میں آگے بڑھ جانا چاہیے“
”کیا بھول جاٶں؟ اور کِسے بھول جاٶں؟ اپنی بہن کو؟ میں ہانی کو بھول کر اپنی خوشیاں ڈھونڈنے نکل جاٶں۔ تو پھر میں کیا منہ دکھاٶں گا اسے؟ بدلہ تک نہیں لے سکا میں اسکا“ وہ پھٹ پڑا۔ گہری سیاہ آنکھوں میں دکھ کا سمندر موجزن تھا۔
”بدلہ لینا ضروری نہیں ہوتا عمر۔۔۔۔ کبھی کبھی کچھ باتوں کو اللّٰہ پر چھوڑ دینا چاہیے“ حنان نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے نرمی سے سمجھایا
”لیکن میں ہانی کی موت کو بھول نہیں سکتا۔ وہ بےآسرا پڑی رہی اور میرے پاس اسکے کفن تک کے پیسے نہیں تھے۔“ وہ بےسی سے بولا۔ حنان کے لیے اسے سمجھانا مشکل تھا۔ اسکی بھی بہنیں تھیں، وہ سمجھ زکتا تھا اسکا دکھ۔۔۔۔
”میں پھر بھی کہوں گا کہ جو بھی ہوا اسے اللّٰہ کی رضا سمجھ کر بھول جاٶ۔“ اس نے سمجھایا تو اس نے محض سر ہلادیا
”چلو اب گھر چلتے ہیں۔ بہت رات ہوگئی ہے“
”تم جاٶ میں آتا ہوں“ وہ تھوڑی دیر وہیں رکنا چاہتا تھا۔
”نہیں، میں تجھے لیے بغیر نہیں جانے والا، تُو جاکے اپنی گاڑی میں بیٹھ میں تیرے پیچھے پیچھے آرہا ہوں“ حنان اسے چھوڑ کر جانے پر راضی نہ تھا۔ مجبوراً عمر کو وہاں سے جانا ہی پڑا۔۔۔۔۔۔
————————*———————-*——————-
”مس رشنا۔۔۔۔آپکو ایچ۔او۔ڈی نے اپنے آفس میں بلایا ہے“ سی۔آر نے لائیبریری میں بیٹھی رشنا کو مخاطب کیا
”مجھے؟ پر کیوں؟“ اسے حیرت ہوئی
”پتہ نہیں شاید اسائیمنٹ کے حوالے سے کوئی بات کرنی ہے“ وہ کندھے اچکاتا وہاں سے چلاگیا۔
”مجھ سے کیا کام ہے؟“ وہ سوچتی ہوئی اپنا سامان سمیٹنے لگی اور پھر ایچ۔او۔ڈی کے آفس کی طرف چلی گئی۔
”مے آئی کم اِن سر؟“ آفس کے گیٹ پر کھڑے ہوکر اس نے پوچھا
”آیے۔۔۔۔“ہیڈ نے چشمہ اتار کر میز پر رکھا۔ انکے سامنے والی کرسی پر فزکس کے سر بھی تشریف فرما تھے۔ اور انکے ہاتھ میں رشنا کی اسائیمنٹ تھی
”جی سر آپ نے بلایا؟“ اس نے پوچھا
”بیٹا مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی۔“ ایچ۔او۔ڈی خفگی سے بولے تو وہ حیران ہوئی
”کیسی امید سر؟ میں سمجھی نہیں“
”یہ اسائیمنٹ آپ نے ہی بنایا ہے نا“ فزکس کے ٹیچر نے پوچھا
”جی جی میں نے ہی بنایا ہے“
”تو پھر آپ کو یہ بھی پتہ ہوگا کہ اس میں کیا ہے؟“
”کیا مطلب سر؟ اس میں ایل۔ای۔ڈی لاٸٹ کا فنکشن ہے“
”جی نہیں۔۔۔اس میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے“
”تو پھر کیا ہے سر؟“ رشنا سخت پریشان تھی
”آپ خود دیکھ لیں۔۔۔“ انہوں اسائیمنٹ اسکی جانب بڑھائی تو اس نے وہ تھام لی۔ پھر اس نے فائل کھول کر دو تین صفحے پلٹے تو وہ بلکل صحیح تھے۔
”سب تو صحیح ہے“
”ذرا آگے بھی دیکھیے“ سر نے طنز سے کہا
اس نے ایک اور صفحہ آگے بڑھایا تو اسکے چودہ طبق روشن ہوگئے اسکے بعد وہ جیسے جیسے صفحے آگے بڑھاتی گئی۔اسکا دماغ گھومتا چلاگیا۔ ہر صفحے پر کسی نہ کسی کارٹون کی تصویر پرنٹ کی ہوئی تھی۔ ایک صفحہ پر مکی ماٶس، ایک پر ٹوئیٹی، ایک پر ٹام اور جیری، ایک پر بگس بنی۔۔۔۔۔۔
”اب آپ اسکی وضاحت دینا پسند کرینگی؟“ سر نے پوچھا چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ ہنوز قائم تھی
”سس۔۔۔سر اصل میں وہ۔۔۔۔۔“ اسکے حلق میں کچھ اٹکا
”جی جی بتائیے ہم سن رہے ہیں“
”وہ اصل میں۔۔۔۔“
پھر اگلے آدھے گھنٹے رشنا نے بڑی مشکلوں سے ان کو سمجھایا کہ یہ اسائیمنٹ اس نے نہیں بنایا، اور اس بات پر اسے مزید ڈانٹ پڑی، بلاآخر بہت منت سماجت کے بعد ایچ۔او۔ڈی نے اسے مزید ایک دن کا وقت دے دیا۔جب وہ آفس سے باہر آئی تو سخت غصے میں تھی
”حمزہ۔۔۔۔۔تمہیں تو میں چھوڑوں گی نہیں۔۔۔“ اس نے کہتے ہوئے پرس سے موبائل نکالا اور حمزہ کا نمبر تلاشنے لگی۔
—————-*—————————–*——————–
”تمہارا بخار اتنا بڑھ گیا ہے۔۔۔۔منع بھی کیا تھا کہ ٹھنڈا پانی مت پیا کرو۔ لیکن تم سنتی کہاں ہو؟“ تحریم بیگم، حریم کے سر پر کھڑی اسے ڈانٹ رہی تھیں۔
”بس بھی کریں امی۔۔۔۔ وہ پہلے ہی بیمار ہے“ حمزہ نے حریم کے سر پر پانی کی پٹی رکھتے ہوئے کہا۔ حریم کو سخت بخار تھا۔ وہ صبح سے روئے جارہی تھی۔سب اس سے وجہ پوچھ پوچھ کر تھک گئے تھے لیکن وجہ تو اس بےچاری کو خود نہیں معلوم تھی کہ وہ کیوں رو رہی ہے۔ اسی وجہ سے حمزہ آج آفس بھی نہیں گیا تھا۔
”حمزہ میں ذرا ثنا کی امی کی طرف جارہی ہوں۔ تم گھر پر ہی ہو ناں تو اسکا خیال رکھنا میں بس تھوڑی دیر میں آتی ہوں“ وہ اسے کہتی ہوئی چلی گئی
”کیا ہوگیا ہے تمہیں؟ بخار تو سمجھ آتا ہے لیکن تم رو کس لیے رہی ہو؟“ حمزہ نے اس سے پوچھا۔ وہ تکیے سے ٹیک لگائے نیم دراز تھی
”کچھ نہیں ہوا“ اس نے آنسو پونچھتے ہوۓ کہا
”میں نہیں مانتا۔۔۔۔۔تم ایسے کبھی نہیں روتی، کوئی تو بات ہے؟ بتاٶ مجھے، حیدر نے تو کچھ نہیں کہا“ حمزہ نے پوچھا
”نہیں حمزہ۔۔۔۔ مجھے وہ کچھ کیوں کہے گا؟“ حریم نے حیرت سے پوچھا
”تو پھر کیوں رو رہی ہو؟“
”میں نے تم سے کہا ہے نا کہ کچھ نہیں ہوا۔ سونے دو مجھے اب“ حریم نےکہتے ہوئے کروٹ لے لی
”ٹھیک ہے تم سو جاٶ“ حمزہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ ابھی وہ لاٶنج میں پہنچا ہی تھا کہ اسکا موبائل بج اٹھا۔
”رشنا کالنگ“ کے الفاظ اسکرین پر جگمگا رہے تھے۔ اس نے حیران ہوتے ہوئے کال اٹینڈ کی۔۔۔۔
”ہیلو رشنا۔۔۔۔“
”تمہیں اگر میری مدد نہیں کرنی تھی تو منع کردیتے۔۔۔۔ایسا تو نہ کرتے میرے ساتھ، کون سے جنم کا بدلہ لیا ہے تم نے مجھ سے؟“ اسکی غصے سے بھرپور آواز سن کر حمزہ نے حیرت سے فون کو نظروں کے سامنے کرکے تصدیق کرنا چاہی کہ آیا وہ رشنا کی ہی کال ہے یا کسی اور کی؟
”کیا ہوگیا ہے رشنا؟ میں حمزہ ہوں۔ لگتا ہے تم کسی اور کو فون کررہی تھی لیکن غلطی سے مجھے کردیا“ حمزہ نے اطمینان سے کہا تو رُشنا کو آگ ہی لگ گئی
”تمہیں یہ خوش فہمی کیوں کر ہوئی کہ میں کسی اور کو فون کررہی تھیں؟ میں تم سے ہی بات کررہی ہوں۔ بتاٶں کیوں کا تم نے ایسا؟“
”کیا کیا ہے میں نے؟ کس کی بات کررہی ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا“
”اچھا؟؟؟ سمجھ نہیں آرہا تمہیں؟“ اس نےطنزاً کہا
”نہیں۔۔۔۔کس کی بات کررہی ہو؟“
”اسائیمنٹ کی؟“
”اوہ۔۔۔۔اچھا۔۔۔۔ سو سوری یار۔۔۔۔میں اپنے مسلوں میں بلکل بھول ہی گیا کہ تمہیں اسائیمنٹ بنا کر دینا تھا۔رئیلی سوری۔۔۔میں آج ہی رات“ وہ کچھ اور ہی سمجھا
”ایک منٹ۔۔۔۔کیا کہہ رہے ہو تم؟ تم نے تو مجھے اسائیمنٹ دے دیا ہے“
”میں نے؟“ وہ حیران ہوا
”ہاں۔۔۔اور شروع کے تین صفحات کے علاوہ سب پر کارٹون کی تصاویر تھیں اور وہ میں نے جمع بھی کروادیا“
”لیکن میں نے کب دیا تمہیں، اور میں ایسا کیوں کروں گا؟“
”کل ہی تو شفا کے ہاتھ بھجوایا تھا“ رُشنا کواب کسی گڑبڑ کا احساس ہورہا تھا
”تمہیں شفا نے یہ کہا کہ میں نے اسائیمنٹ بھیجا ہے؟“
”ہاں“
”اور تم نے مجھ سے پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا؟، حمزہ کو غصہ آیا
”اس نے منع کیا تھا کہ میں تمہیں تھینکس نہ کہوں کیونکہ۔۔۔۔“
”اف رُشنا۔۔۔۔۔حد ہوگئی۔۔۔اس نے کہا اور تم نے مان لیا۔کیا تمہیں نہیں پتہ کہ وہ بچپن سے ہی علی کی کرائم پارٹنر ہے؟“ حمزہ سخت لہجے میں چیخا
”ایم۔۔۔۔سوری،“ اس نے روہانسے لہجے میں کہا تو حمزہ کو افسوس ہوا
”کیا ٹیچرز نے ڈانٹا تمہیں؟“ نازک کانچ سی آنکھوں میں اب رُشنا کے لیۓ فکرمندی سماگئی تھی۔
”ہاں۔۔۔۔آدھے گھنٹے تک میری کلاس لی انہوں نے اور بہت مشکلوں سے کل تک کا وقت دینے پر راضی ہوئے
ہیں“
”تم فکر نہ کرو میں آج رات تک ہی تمہیں اسائیمنٹ بناکر دیتا ہوں۔اور میں خود آٶں گا دینے۔ پہلے آذر کی ڈیتھ اور پھر حریم کے نکاح وغیرہ کے مسلوں میں میرے ذہہن سے اسائیمنٹ والی بات نکل گئی تھی بلکل۔۔۔لیکن میں آج دے دوں گا“
”سچ۔۔۔“ وہ خوش ہوئی
”مچ۔۔۔“ وہ شریر ہوا
”تھینکس حمزہ۔۔۔تم بہت اچھے ہو“ حمزہ کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ آئی
”تم بھی بہت اچھی ہو۔۔۔۔ رپنزل“ حمزہ نے کہا اور پھر فون رکھ دیا۔
”رپنزل۔۔۔۔“ رشنا کے کانوں میں اسکے الفاظ گونجے تو بہت پیاری سی مسکان اسکے لبون پر بکھر گئی۔
جب وہ چھوٹی تھی تو حمزہ نے اسکے لمبے بالوں کے باعث اسے یہ خطاب دیا تھا۔ ظاہر ہے اس وقت وہ بھی چھوٹا ہی تھا۔ اور نازک سی، لمبے بالوں والی رشنا کو دیکھ کر اسے رپنزل یاد آتی تھی۔
”کیا بات ہے؟ آج تو اکیلے اکیلے مسکرایا جارہا ہے؟“ سامعہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے شرارت سے کہا
”تمہارا یہاں کیا کام ہے؟“ رشنا کو حیرت ہوئی کیونکہ سامعہ کا ماس کمیونیکیشن کا ڈپارٹمنٹ تھا جب کہ رُشنا اپلائیڈ فزکس کی اسٹوڈنٹ تھی
”کلاس بنک کرکے آئی ہوں۔ پتہ ہے وہ عاصم ہے ناں ہمارے ڈپارٹمنٹ کا۔۔۔۔اسے آج میں نے ٹھیک ٹھاک سنائی ہے۔ اور اسکی کمپلین بھی کرکے آئی ہوں ایچ۔او۔ڈی کو۔۔۔۔ بدتمیز کلاس کی لڑکی کو چھیڑ رہا تھا“سامعہ مزے سے اپنا کارنامہ بتارہی تھی
”پاگل تو نہیں ہوگئی ہو۔ جانتی بھی ہو وہ تنظیم کا لڑکا ہے اور خاصا بگڑا ہوا ہے“ رُشنا نے اسے ڈانٹا
”تو؟۔۔۔تنظیم کا ہے تو اسکا مطلب کسی بھی لڑکی کو چھیڑ سکتا ہے؟“
”تو تمہیں تو نہیں چھیڑا تھا ناں؟ کیا ضرورت تھی پرائے جھگڑے میں ٹانگ اڑانے کی؟“
”جانے بھی دو اس بات کو چلو آئسکریم کھاتے ہیں“ اس نے بات بدلنے کو کہا تو وہ محض اسے گھور کر رہ گئی۔
دوسری طرف حمزہ کتنی دیر مسکراتے ہوئے رُشنا کو ہی سوچتا رہا۔ آنکھیں بند کیے اس نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگالی۔ اور رُشنا کے بارے میں سوچنے ہی لگا تھا کہ ذہہن کے پردے پر علی کا عکس ناچتا ہوا سامنے آیا
”تیری محبت کے بیچ میں، میں موجود ہوں انکل جلالی“ علی کے عکس نے اسکا منہ چڑایا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ اسکا عکس ہر طرف ناچتا ہوا نظر آرہا تھا
”لاحول ولا قوة۔۔۔۔۔“ اس نے سر جھٹکتے ہوئے
دو تین بار لاحول پڑھا تو علی کا عکس غائب ہوا۔
”تجھے میں چھوڑوں گا نہیں کمینے۔۔۔۔“ حمزہ نے غصے سے سوچا
—————-*————————*————————-
حیدر شام کے وقت گھر سے باہر نکلا تو اسکی نظر اس گاڑی پر پڑی۔۔۔۔۔
”یہ کون ہے جو اپنی کھٹارا گاڑی میرے گیٹ پر کھڑی کر کے چلا گیا ہے؟“ اس نے کوفت سے سوچا۔ صبح وہ اپنی پرانی گاڑی پر ہی آفس گیا تھا کیونکہ نئی گاڑی ابھی رجسٹرڈ نہیں ہوئی تھی اور اسکا نمبر پلیٹ بھی نہیں آیا تھا۔ لہذا وہ فلحال اپنی پرانی گاڑی ہی استعمال کررہا تھا۔
”عجیب آدمی ہے گاڑی کا مالک بھی۔ گاڑی کے ٹائر نکال کر میرے گھر کے دروازے پر چھوڑ گیا۔ اس پر سے برائے فروخت کا بورڈ بھی لگا دیا۔بھلا بتاٶ ایسی بےکار گاڑی کون خریدے گا؟“ وہ سوچتے ہوئے گاڑی کے پاس آیا۔ لیکن گاڑی کے پاس پہنچ کر اسکے قدم تھمے۔۔۔۔۔۔ گاڑی کے بیک ویو مرر کے نیچے ایک چین لٹک رہی تھی۔ جس کے نیچے حرف “H” کا لاکٹا ہوا تھا۔ یہ چین اس نے کل ہی خرید کر لگائی تھی۔جسے دیکھ کر سب یہی سمجھتے تھے کہ H کا مطلب حیدر۔۔۔۔۔۔ لیکن صرف وہی جانتا تھا کہ H کا مطلب ہے حریم۔۔۔۔۔۔
”تو یہ۔۔۔۔۔یہ ۔۔۔۔۔میری گاڑی ہے؟“ اس نے خود کو مخاطب کرتے ہوئے بےیقینی سے کہا۔
”لیکن اسکی یہ حالت۔۔۔۔“ وہ آنکھیں پھاڑ کر گاڑی کو دیکھ رہا تھا۔ جگہ جگہ اسپرے پینٹ سے لکیریں بنی ہوئی تھیں۔ چاروں ٹائر غائب تھے۔ اس نے ایک آخری بار تصدیق کرنے کے لیے جیب سے چابی نکالی اور اسکے دروازے کے لاک میں ڈالی، اور۔۔۔۔۔دروازل کُھل گیا۔ تو یہ ثابت ہوا کہ گاڑی اسی کی تھی۔ وہ شاک لگنے کے سے انداز میں گاڑی کو دیکھ رہا تھا جب اسکے کانوں میں کسی کی آواز گونجی
”کنجوس آدمی۔۔۔۔۔اب یاد رکھنا کہ میں کیا کروں گا تیرے ساتھ؟۔۔۔“ اب اسے سب سمجھ آرہا تھا۔ بےیقینی کی جگہ غصے نے لے لی۔ اسکے اندر ابال اٹھنے لگا۔ جب ہی اسکی نظر گلی میں پاپ کارن والے کے پاس کھڑے علی پر پڑی۔ جو ناجانے کتنی دیر سے حیدر کو ہی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ انداز ایسا تھا جیسے وہ کسی سنیما میں بیٹھا فلم دیکھ رہا ہو اور کافی لطف اندوز ہورہا ہو۔
”کیسا ہے برو؟۔۔۔۔“ اس نے خود کو گھورتے حیدر کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتے ہوئے پوچھا۔ وقتاً فوقتاً وہ پاپ کارن والے کے کیبن سے پاپ کارن بھی نکال نکال کر کھا رہا تھا۔حیدر نے سخت نظروں سے اسے دیکھا اور گاڑی کے پاس سے ہٹ کر اسکی طرف قدم بڑھانے لگا
”لگتا ہے زیادہ ہی برا لگ گیا اسے، چل بیٹا علی۔۔۔۔بھاگنے کی تیاری کر لے“ علی نے خود سے کہتے ہوئے ہاتھ جھاڑے اور نیچے جھک کر جوتے کے تسمے باندھے لگا گویا وہ بھاگنے کے لیے پوری طرح ریڈی تھا۔ تسمے باندھ کر وہ سیدھا ہو تو حیدر اس سے چند قدم دور نظر آیا۔ اس نے حیدر کو آنکھ ماری اور دوڑ لگادی
”رُک جا کمینے۔۔۔۔۔۔“ حیدر بھی چیختے ہوئے اسکے پیچھے دوڑ پڑا۔ لیکن وہ علی کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔
اب علی آگے آگے تھا اور حیدر اسکے پیچھے پیچھے،
”رک جا علی میں تجھے کہہ رہا ہوں۔۔۔۔“ بھاگتے بھاگتے حیدر چیخا۔ علی دوڑ کر فوارے پر چڑھ گیا
”ارے پر میرا قصور کیا ہے؟“ اس نے اپنی نیلی آنکھوں میں معصومیت سموتے ہوئے پوچھا
”تیرا قصور تو میں تجھے ابھی بتاتا ہوں۔۔۔۔۔،“ حیدر بھی دوڑ کر فوارے پر چڑھا لیکن علی وہاں سے بھی بھاگ نکلا۔ بھر علی اسے اگلی دو گلیوں سے گھوما پھرا کر واپس لے آیا لیکن حیدر اسے نہیں پکڑ سکا۔ لہذا دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے وہ اسے خوب کوس رہا تھا۔ جب ہی علی کا پاٶں پھسلا اور وہ زمین پر گرا۔ اسی وقت حیدر نے اسے جالیا۔ اور اس پر چڑھ کر دو گھونسے اسے رسید کیے
”آہ۔۔۔۔۔بچاٶ۔۔۔۔۔معصوم بچے کو مار رہا ہے، دیکھنا بہت گناہ ملے گا تجھے“ علی نے دہائی دی
”معصوم بچہ؟۔۔۔۔۔بتا کیوں کیا تُو نے میری گاڑی کے ساتھ ایسا؟“ حیدر نے اسے گریبان سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔ وہ زمین پر گرا ہوا تھا اور حیدر اسی پر چڑھ کر بیٹھا ہوا تھا۔ گلی سے گزرتے لوگوں میں سے کوئی بھی حیران نہ تھا کیونکہ وہ لوگ انہیں بچپن سے ہی ایسے لڑتے مرتے دیکھتے آرہے تھے۔
”شرافت سے ٹریٹ کیوں نہیں دی۔ اگر ہمارے اوپر خرچ کردیا ہوتا تو آج گاڑی پر خرچ نہ کرنا پڑتا“ علی نے اسے آنکھیں دکھائی تو ایک اور زور دار قسم کا تھپڑ حیدر نے اسے رسید کیا
”آہ۔۔۔۔۔۔ ارے حریم تم۔۔۔۔پریشان مت ہو یہ ایسے ہی مذاق کررہا ہے میرے ساتھ۔۔۔۔،“ علی نے حیدر کے پیچھے دیکھتے ہوئے کہا تو حیدر نے بھی پیچھے مڑ کر دیکھا۔ پر وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ علی نے اسے دھکا دیا اور قہقہ لگا کر بھاگ نکلا۔
”بےغیرت۔۔۔۔۔“ حیدر نے دانت پیستے ہوئے کہا اور پھر سے اسکے پیچھے بھاگا۔ دوسری طرف گلی میں داخل ہوتے حمزہ کی نظریں علی پر پڑی تو اسکے اندر بھی غصے کا ابال اٹھا۔
”علی۔۔۔۔سالے ذلیل انسان۔۔۔۔۔تجھے تو میں آج چھوڑو گا نہیں۔۔۔۔“حمزہ نے اسے دیکھ کر غصے سے کہا تھا۔
”آٶ۔۔۔آٶ۔۔۔پکڑ سکتے ہو تو پکڑ لو۔۔۔۔۔“ علی نے چڑاتے ہوئے کہا اور بھاگا
”تیری تو۔۔۔۔۔“ حمزہ اسےکے پیچھے دوڑا۔
”پکڑ حمزہ اسکو۔۔۔۔چھوڑنا مت۔۔۔۔“ اسے اپنے پیچھے بھاگتے حیدر کی آواز سنائی دی۔۔۔۔
اب منظر کچھ یوں تھا کہ اچھلتا کودتا علی آگے آگے دوڑ رہا تھا جب کہ حیدر اور حمزہ اسے پکڑنے کے لیے
بےحال ہورہے تھے۔ بھاگتے بھاگتے علی کی نظریں اپنے گھر کے دروازے سے بائیک باہر نکالتے ارسلان پر پڑی تو اس نے اپنے قدم تیز کیے۔ ارسلان نے بائیک باہر کھڑی کر کے گھر کے اندر جانے کے لیے قدم بڑھائے ہی تھے کے کسی نے اسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر پیچھے کی طرف کھنچا اور خود گھر کے اندر گھس کر دروازہ لاک کرلیا۔ ارسلان ہکابکا رہ گیا۔
”یہ۔۔۔۔کیا؟۔۔۔ابے کون ہے؟ باہر نکل۔؟“ وہ دروازہ پیٹنے لگا
”اوئے۔۔۔۔ میں ہوں۔۔۔علی۔۔۔۔“ دروازے کے اندر سے آواز آئی
”تو تُو اندر کیا کرنے گیا ہے؟“ ارسلان نے پریشان ہوکر پوچھا لیکن علی کے جواب دینے سے پہلے ہی حمزہ وہاں پہنچا اور بری طرح ارسلان سے ٹکرایا۔وہ دونوں گرتے گرتے بچے۔ لیکن اگلے ہی لمحے اپنی بریکیں فیل کرتا حیدر ان سے ٹکرایا اور اس تصادم کے نتیجے میں تینوں ہی ایک ساتھ زمین بوس ہوئے تھے
”کیا کررہے ہو کمبختوں؟“ ارسلان چیخا کیوں کہ وہ دونوں اسکے اوپر ہی گرے تھے۔ حیدر جلدی سے اٹھا پھر حمزہ اور ارسلان کو ہاتھ دے کر اٹھایا۔
”اب مجھے بتاٶکہ تم لوگوں کو ہوا کیا ہے“ ارسلان نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے پوچھا
”ہم اس ذلیل کمینے علی کے پیچھے ہیں جو تیرے گھر میں چھپ کر بیٹھا ہے“ حمزہ نے غصے سے کہا
”پر کیوں؟۔۔۔“ اس نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا تو جواب میں ان دونوں نے باری باری اپنے ساتھ پیش آنے والی داستان کہہ سنائی۔
”سیریئسلی؟۔۔۔۔۔ہاہاہاہا“ ارسلان نے قہقہ لگایا تو ان دونوں نے اسے گھورا لیکن اسے فرق نہیں پڑا
”اسی لیے کہتے ہیں کہ شیطان دوست سے دانا دشمن بہتر ہے“ ارسلان نے کہا
”ابے شیطان نہیں نادان ہوتا ہے“ حیدر نے چڑتے ہوئے تصیح کی۔ اسی وقت ارسلان کے گھر کا دروازہ کُھلا اور علی مسکراتا ہوا باہر آیا۔ اس نے دونوں ہاتھ کمر کے پیچھے چھپا رکھے تھے
”تُو۔۔۔۔۔“ حمزہ اور حیدر ایک ساتھ اسکی طرف بڑھے آج وہ اسے چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھے۔ وہ دونوں جیسے ہی اسکی جانب بڑھے، علی نے اپنے ہاتھوں میں چھپا کیک آگے کیا اور ان دونوں گے منہ پر مل دیا۔۔۔۔وہ دونوں ہڑبڑا کر پیچھے ہوئے۔۔۔
”ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔“ علی قہقہ لگا کر بھاگ کھڑا ہوا
”میرا کیک۔۔۔۔۔“ ارسلان نے صدمے سے ان دونوں کے کیک سے رنگے چہرے دیکھے۔ یہ کیک اس نے امّی کی منتیں کرکے بنوایا تھا۔ اور رات میں اسے جی بھر کے کھانے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن افسوس علی کی رسائی ہر جگہ ممکن تھی۔۔۔۔۔
”تجھے تو میں آج چھوڑوں گا نہیں خبیث انسان۔۔۔۔۔“ ارسلان اسکے پیچھے غصے سے دوڑا۔ علی نے رک کر گلی میں کھڑے مالی کے کے ہاتھ سے پانی کا پائپ لیا اور اسکا رخ ان تینوں کی جانب موڑ دیا۔
”لو اپنے اپنے منہ دھو لو۔۔۔۔۔“ علی نے انکے اوپر پانی کی بوچھاڑ کردی
”تجھے اللّٰہ پوچھے گا کمینے۔۔۔۔۔“ تینوں اسے دہائی دے رہے تھے۔ اب علی نے موبائل نکالا اور فرنٹ کیمرا آن کرکے اپنی اور ان تینوں کی ویڈیو بنانے لگا
”بس بہت ہوگیا۔۔۔۔آج تو تُو قتل ہوگا“ ارسلان نے کہا اور وہ تینوں پھر سے اسکے پیچھے دوڑ پڑے۔۔۔
علی آگے آگے بھاگ رہا تھا اور ساتھ ساتھ قہقہے لگاتے ہوئے اپنی اور ان تینوں کی ویڈیو بنارہا تھا۔ جب کہ وہ تینوں اسے کوستے ہوئے اسکے پیچھے بھاگ رہے تھے
”آپ دیکھ سکتے ہیں دوستوں، یہ تین بھوت میرے بیچھے لگ چکے ہیں۔۔۔“ علی نے رُک کر کیمرے میں کہا اور پھر کیمرا بند کرکے موبائل جیب میں ڈالا۔ اور سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا۔اب اسے بھاگنا نہیں تھا۔ ان تینوں نے اسکے پاس پہنچ کر اپنے اپنے قدم روکے۔ اور حیرت سے علی کو دیکھا جو سنجیدہ سا نظر آرہا تھا۔
”کیا ہوا؟۔۔۔۔“ حیدر نے پوچھا تو علی نے اپنی نیلی آنکھیں چھوٹی کرکے ان تینوں کو غور سے دیکھا۔ اور۔۔۔۔۔اگلے ہی لمحے اس نے ہنسنا شروع کردیا اور ہنستے ہنستے زمین پر بیٹھ گیا۔ پہلے تو وہ تینوں خفگی سے اسے دیکھتے رہے لیکن چند لمحوں بعد ہی ان چاروں کے زندگی سے بھرپور مشترکا قہقہے اس گلی کے کونے کونے میں گونجنے لگے تھے۔۔۔۔۔
میرے دل کی یہ دعا ہے،کبھی دور تُو نہ جائے
تیرے بنا ہو جینا،وہ دن کبھی نہ آئے
تیرے سنگ جینا یہاں۔۔۔۔
تیرے سنگ مر جانا۔۔۔۔۔
یاد کرے گی دنیا۔۔۔۔۔۔
تیرا میراافسانہ۔۔۔۔۔
تیرے جیسا یار کہاں۔۔۔۔۔
کہاں ایسا یارانہ۔۔۔۔۔۔

مغرب کا وقت ہورہا تھا۔ سورج ڈوب چکا تھا لیکن آسمان پر ہلکی نیلاہٹ اب بھی واضح تھی۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی جاری تھی۔ جنوری کا مہینہ تھا۔ ویسے بھی ٹھنڈ بہت زیادہ تھی۔ بوندا باندی، آسمان کی نیلاہٹ اور اسٹریٹ لائیٹس کی پیلی روشنی نے منظر کو عجیب سی دلکشی سے نواز دیا تھا۔ ایسے میں وہ اونچے قد کا بھوری کانچ سی آنکھوں والا مرد۔۔۔۔۔ بلیک جینز پر وائٹ ٹی شرٹ، اور اس پر لائٹ براٶن جیکٹ ڈالے، ہاتھ میں ایک عدد فائل پکڑے، آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے رُشنا کے گھر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ علی بدتمیز نے آج شام اسے پانی میں بھگو دیا تھا جس کے باعث اسے زکام ہوگیا تھا۔ اسی وجہ سے اسکی ناک ہلکی ہلکی سی سرخ ہورہی تھی۔
رُشنا کے گھر پہنچ کر اس نے بیل بجائی اور دروازے سے تھوڑی دور اسٹریٹ لائٹ کی پیلی روشنی کے نیچے کھڑا ہوگیا۔ رُشنا باہر آئی تو اسکی نظریں سر جھکائے کھڑے حمزہ پر پڑی، وہ نظر لگ جانے کی حد تک پیارا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی وہیں آنے لگی جہاں وہ کھڑا تھا۔ قدموں کی آواز پر حمزہ نے نظریں اٹھائی تو جھکانا بھول گیا۔
بیلو جینز پر گھٹنوں تک آتا ترکش اسٹائل کا بلیک کوٹ پہنے، وہ اسکی طرف ہی آرہی تھی۔ بلیک نیٹ کے ڈوپٹے کا ایک سِرا بائیں کندھے سے آگے کی طرف لٹکا تھا اور دوسرا سِرا گردن سے گھما کر دائیں کندھے پر آگے کی طرف لٹکایا ہوا تھا۔ لمبے گھٹنوں کو چھوتے بال آج اس نے کھول رکھے تھے۔ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ حمزہ کے قریب پہنچی
”لے آئے فائل؟“ اس نے پوچھا تو حمزہ ہوش میں آیا
”آں۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔ہاں لے آیا۔ یہ دیکھو“ اس نے جلدی سے فائل رُشنا کو دی۔
”کھول کر دیکھ لو، کیا پتہ میں نے بھی علی جیسی کوئی حرکت کی ہو“ اس نے شرارت سے کہا
”نہیں۔۔۔۔۔مجھے تم پر بھروسہ ہے“ اس نے جس مان سے کہا تھا، حمزہ تو بس اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ پیلی روشنی نے ان دونوں کو منور کر رکھا تھا۔ بارش کی بوندیں ٹپ ٹپ گرتی مٹی کے ساتھ مل کر سوندھی سی خوشبو پیدا کر رہی تھی۔
”ایم سوری۔۔۔۔۔۔۔ “ اچانک ہی رُشنا نے کہا
”کس لیے؟“
”صبح میں نے بنا کچھ جانے تمہیں اتنا برا بھلا کہہ دیا“
”کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔تم کچھ بھی کہہ سکتی ہو“ اس نے کہا تو ایک پیاری سی مسکان رُشنا کے لبوں کو چھو گئی۔ اور اس لمحے حمزہ کو وہ کسی فیری ٹیل کی پری لگی تھی۔ جو بھولے سے دنیا میں آنکلی تھی۔
”کیوں؟“ اس نے سر چہرہ اٹھا کر حمزہ کو دیکھا
”کیونکہ۔۔۔۔کیونکہ تم بہت خاص ہو“ اس نے ہلکے سے کہا
”واٶ۔۔۔۔۔کتنے پیارے لگ رہے ہیں نا دونوں“ ثنا اس وقت حریم کے کمرے میں اسکی کھڑکی میں کھڑی ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی۔ جب اسکے منہ سے بےساختہ نکلا
”کون دونوں؟“ موبائل میں مصروف حریم نے حیرت سے پوچھا
”تمہارے بھائی اور بھابھی۔۔۔۔“ ثنا نے شرارت سے کہا
”بھابھی؟“
”ہاں آٶ۔۔۔۔آکر دیکھ لو“ اس کے کہنے پر وہ اٹھ کر کھڑکی پر آئی۔ مغرب کا وقت ختم ہوگیا تھا۔ آسمان پر اب بلکل ہی ہلکی سی روشنی رہ گئی تھی۔ بوندیں ہلکے ہلکے برس رہیں تھیں۔ اور اسٹریٹ لائٹ کی روشنی کے نیچے کھڑے وہ دونوں بھی اسی منظر کا حصہ لگتے تھے۔ حریم نے غور سے ان دونوں کو دیکھا، حمزہ بہت لمبا تھا، اور رُشنا پانچ فٹ میں بھی ایک انچ کم،۔۔۔ بمشکل ہی اسکے سینے تک پہنچتی تھی۔ لیکن۔۔۔۔۔وہ دونوں ایک ساتھ بہت خوبصورت لگتے تھے۔
حمزہ اس سے سر جھکا کر بات کرتا تھا۔۔۔۔۔۔
اور رُشنا اس سے سر اٹھاکر بات کرتی تھی۔۔۔۔
جیسے ایک اونچے، مضبوط شہزادے کے سامنے۔۔۔۔۔
ایک نازک سی، پیاری سی گڑیا کھڑی ہو۔۔۔۔۔
حریم نے دل ہی دل میں ان دونوں کی نظر اتاری اور پردے برابر کرتی اندر چلی آئی۔
”میں وعدہ کرتا ہوں حریم، کہ میں اپنے فیصلے پر کبھی نہیں پچھتاٶں گا“ کسی کا چٹانوں جیسا لہجہ اسکے کانوں میں گونجا تو ڈھیڑوں اداسیوں نے اسکے وجود کا احاطہ کرلیا۔ اس نے حیدر سے کوئی بات نہیں کی تو حیدر نے بھی پلٹ کر اسکی خبر نہیں لی تھی۔
”کیا ہوا حریم؟۔۔۔۔“ ثنا نے اسے اداس دیکھ کر پوچھا
”کچھ نہیں، تم چائے پیو۔۔۔“ حریم نے اسے ٹال دیا
————————*——————*———————–
وہ بس اسٹاپ پر کھڑی تھی۔ کل کی بارش کے بعد ٹھنڈ بڑھ گٸ تھی۔ اسکا پوائنٹ آج نکل گیا تھا لہذا اسے بس اسٹاپ تک پیدل آنا پڑا تھا۔اب وہ اسٹاپ پر کھڑی بس کا ہی انتظار کررہی تھی۔ناجانے کیا بات تھی کہ آج سڑک بےحد سنسان لگ رہی تھی۔
ارسلان آفس سے ہاف لیو (آدھی چھٹی) لے کر گھر واپس جارہا تھا جب اسکی نظریں ثنا پر پڑی۔ اسے بس اسٹاپ پر دیکھ کر وہ حیران ہوا۔ اوپر سے یہ علاقہ بھی کافی سناٹا تھا۔ اس نے گاڑی اسکے قریب لے جاکر روکی اور شیشہ نیچے اتارا
”ثنا۔۔۔۔۔تم یہاں کیا کررہی ہو؟“ اس نےاسے آواز دے کر پوچھا۔ وہ اسکی گاڑی کے قریب آئی
”یار۔۔۔۔میرا پوائنٹ نکل گیا ہے۔اس لیے بس کے انتظار میں یہاں کھڑی ہوں“ اس نے منہ بنا کر کہا تو ارسلان کو ہنسی آئی
”چلو میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں“
”کیوں؟۔۔تمہیں آفس نہیں جانا؟“ وہ مشکوک ہوئی
”وہیں سے تو واپس آرہا ہوں۔ گھر ہی جارہا تھا“
”اتنے جلدی آفس سے آگئے؟ خیریت؟“
”محترمہ پہلے آپ اندر بیٹھ جائے پھر باقی باتیں بھی کرلیجیے گا“ اس نے کہتے ہوئے ثنا کی طرف کا دروازہ کھولا تو وہ بیٹھ گئی۔ ارسلان نے غور سے اسے دیکھا۔آنکھوں پر نظر کا چشمہ، ناک میں چھوٹی سی نت، اور بالوں کی فرینچ چوٹی بنائے وہ بہت پرکشش لگتی تھی۔ دائیں بازو پر اوور آل ڈال رکھا تھا۔
”چلو ارسلان۔۔۔۔ میں بیٹھ گئی ہوں“ اس نے کہا
”ہاں چل ہی رہے ہیں۔۔۔۔“ ارسلان نے گاڑی اسٹارٹ کرنی ہی چاہی تھی، کہ اسکی گاڑی کے آس پاس اور پیچھے تین کالے رنگ کی گاڑیاں رکی اور ان میں سے ماسک پہنے چار افراد اترے اور چاروں طرف سے ان پر گن تان لی۔ وہ دونوں اس افتاد پر بوکھلا گئے
”باہر نکلو۔۔۔۔“ ان میں سے ایک نے ارسلان پر گن تانی
”آپ کو موبائل چاہیے۔۔۔یہ لے لیں“ ارسلان نے اپنا موبائل انکی طرف بڑھایا
”شرم کرو ارسلان۔۔۔۔تم ان سے ڈر رہے ہو۔ تمہیں تو اتر کر انکا منہ توڑ ینا چاہیے“ ثنا نے کہا
”ہیں؟۔۔۔“ ارسلان نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا
”کیا ہیں؟۔۔۔۔۔ میں کہہ رہی ہوں ارسلان تم انکو کچھ بھی نہیں دو گے“ اس نے انگلی اٹھاکر ارسلان کو وارن کیا
”پاگل مت بنو لڑکی۔۔۔۔یہ ڈاکو ہیں ڈاکو۔۔۔۔“ ارسلان نے اسے گھورا
”تو؟ ڈاکو ہیں تو ڈر کیوں رہے ہو اتر کر مارو انہیں“
”اف۔۔۔۔۔“اس نے اپنا سر پیٹا ”میں بالی وڈ کا ہیرو نہیں ہوں ثنا“
”بند کرو اپنی بکواس، ہمیں موبائل نہیں بلکہ تم چاہیے“ ڈاکو نے گن کی نالی ارسلان کے ماتھے پر چبھوتے ہوۓ کہا
”مم۔۔۔۔میں۔۔۔“اس نے تھوک نگلتے ہوۓ اپنے سینے پر انگلی رکھتے ہوئے تصدیق کرنی چاہی
”ہاں تُو۔۔۔۔اور تیرے ساتھ تیری یہ بہن بھی جائے گی“ ڈاکو نے ہنستے ہوئے کہا
”اوئے۔۔۔۔۔ یہ میری بہن نہیں ہے“ ارسلان برا مان گیا
”تو کیا گرل فرینڈ ہے؟“ اس نے رازداری سے پوچھا
”نہیں بھئی۔۔۔“
”ابے جو بھی ہو تجھے اس سے کیا ہے؟ باہر نکالو ان دونوں کو“ دوسرے ڈاکو نے غصے سے کہا
”کیوں؟۔۔۔ہم کیوں باہر نکلے؟“ ثنا بھی غصے سے چیخی
”یہ لڑکی بہت بول رہی ہے۔اسکا منہ بند کراٶ“ اس ڈاکو نے اپنے دوسرے ساتھی کو حکم دیا تو وہ ثنا کی طرف بڑھا
”میں جارہا ہوں تمہارے ساتھ۔۔۔۔اسکو کچھ مت کرنا پلیز“ ارسلان نے اسکی منت کی
”نہیں۔۔۔۔میں بھی تمہارے ساتھ جاٶں گی“ ثنا نے چیختے ہوۓ کہا
”ثنا میں پکنک پر نہیں جارہا ہوں۔ یہ بابا کے دشمن ہیں،“ ارسلان نے اسے سمجھایا۔ وہ جان گیا تھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔
”یہ تمہیں مار دیں گے ارسلان“ اچانک ہی ثنا کا لہجہ بھرایا
”اوئے۔۔۔۔۔یہ ایموشنل ڈرامہ بعد میں رچانا۔ ہم تم دونوں کو ہی لے کر جارہے ہیں۔ پاگل تھوڑی ہیں جو اس لڑکی کو ثبوت کے طور پر چھوڑ جائے۔ چلو گاڑی میں ڈالو ان دونوں کو“ ڈاکو نے اپنے ساتھی سے کہا تو مجبوراً دونوں کو ہی گاڑی سے اترنا پڑا۔ اور پھر ڈاکوٶں نے انکے ہاتھ باندھ کر انہیں گاڑی میں ڈالا اور وہاں سےچلے گئے۔ ارسلان کا موبائل اور گاڑی اسی سنسان سڑک پر رہ گئی تھیں
————————-*——————-*———————
سامعہ اپنی یونیورسٹی سے باہر آئی تو، ولید چوہدری (سامعہ کے والد) وہیں کھڑے اسکا انتظار کررہے تھے۔
”بابا۔۔۔۔۔“ وہ مسکراتے ہوۓ انکے پاس آئی۔
”کیسا ہے میرا بچہ؟۔۔۔“ انہوں نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے پوچھا۔
”میں بلکل ٹھیک۔۔۔۔۔ یہ بتائے کہ آج آپ کیسے آگئے مجھے لینے؟“
”میں یہی سے گزر رہا تھا تو سوچا تمہیں پِک کرتا ہوا جاٶں“ انہوں نے بتایا
”چلو اب گاڑی میں بیٹھو۔۔۔“ انہوں نے کہا تو وہ گاڑی میں بیٹھنے لگی
”رُکو۔۔۔۔“ کسی کی گرج دار آواز نے انکے قدم روک دیے۔ انہوں نے مڑ کر دیکھا تو وہاں پولیس کی دو گاڑیاں کھڑی تھیں۔ اور انہیں روکنے والا ایک پولیس کانسٹیبل تھا۔ ساتھ میں لیڈی پولیس کانسٹیبل بھی تھیں۔
”جی سر؟ کہیے کیا ہوا؟“ ولید صاحب نے حیرت سے پوچھا
”سامعہ چوہدری انکا ہی نام ہے؟“ اس نے انگلی سے سامعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ولید صاحب سے پوچھا
”جی جی۔۔۔۔یہی ہے آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟“
”ہمارے پاس انکے اریسٹ وارنٹ ہیں“ پولیس نے ایک لفافہ انکے سامنے لہرایا
”کک۔۔۔۔۔کیا۔۔۔۔کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ میری بیٹی کے خلاف کیسے وارنٹ آسکتا ہے“ انہیں یقین نہیں آیا
”عاصم غفور نے انکے خلاف فراڈ کا مقدمہ دائر کیا ہے اور ہمارے پاس وارنٹ ہیں“
”کیسا مقدمہ؟ کونسا فراڈ؟ میں نے کچھ نہیں کیا بابا“ سامعہ پریشان ہوئی
”گرفتار کرلو اسے“ اس نے لیڈی کانسٹیبل سےکہا
”نن۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔ یہ کیا کررہے ہیں آپ۔۔۔۔آپ مجھ سے بات کریں“ ولید صاحب نے انسپیکٹر سے کہا
”آپ کو جو بات کرنی ہے تھانے آکر کرلیجیے گا“ وہ کہتے ہوئے اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا
”چھوڑو مجھے۔۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا۔بابا۔۔۔۔۔پلیز انہیں روکے“ لیڈی کانسٹیبل سامعہ کو پولیس وین
میں ڈالنےلگی تو وہ روتے ہوئے چیخنے لگی
”چھوڑ دو میری بیٹی کو۔۔۔۔اس نے کچھ نہیں کیا“ ولید صاحب نے انکی منت کی پر لیڈی کانسٹیبل اسے گھسیٹتے ہوئے وین میں ڈال چکی تھیں۔
”میری بیٹی۔۔۔۔۔رک جاٶ۔ مت لے جاٶ اسے“ وین چل پڑی
”بابا۔۔۔۔۔بابا روکیں انہیں پلیز۔۔۔۔“ سامعہ روتے ہوۓ کہہ رہی تھی۔
”سامی۔۔۔۔میری بیٹی۔۔۔“ وہ جہاں تک وین کے پیچھے جاسکتے تھے، وہ گئے۔ لیکن ان کے قدم اس تیز رفتار وین کا ساتھ نہیں دے سکتے تھے۔
”سامی۔۔۔۔۔“ وہ دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے زمین پر بیٹھتے چلے گئے
—————-*—————————-*———————

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: