Urdu Novels Yaar Deewane Zeela Zafar

Yaar Deewane Novel by Zeela Zafar – Episode 5

Yaar Deewane Novel by Zeela Zafar
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
 یار دیوانے از ژیلہ ظفر – قسط نمبر 5

–**–**–

آرمی والوں نے انہیں وہاں سے ہیلی کاپٹر کے زریعے ریسکیو کر لیا۔ جاتے ہوئے انہوں نے انکل فیضی کا ڈھیروں شکریہ ادا کیا۔ ہیڈ کوارٹر پہنچ کر انہوں نے گھر فون کر کے اپنی خیریت کی اطلاع دی اور یہ بھی بتایا کے تھوڑی دیر میں وہ کراچی جانے والی بس میں سوار ہو جاۓ گے، اور کل صبح تک کراچی میں ہونگے۔
اگلے دن بس اسٹینڈ پر انہیں لینے خالد صاحب اور ڈاکٹر مہتاب دونوں آئے تھے۔ وہ دونوں انہیں لے کر جب ٹاؤن پہنچے تو تقریبا سب ہی انکے انتظار میں کھڑے تھے، جیسے ہی گاڑی گلی میں رکی ثنا دروازہ کھول کر باہر آئی اور بھاگتی ہوئی اپنی امی سے جا لپٹی۔ خالد صاحب نے ارسلان کی طرف کا دروازہ کھولا تو حمزہ اور عمر نے اسے آگے بڑھ کر سہارا دیا۔
“ارسلان میرا بچہ۔۔۔۔” راحمہ بیگم اسے دیکھتے ہی تڑپ اٹھی۔
“امی، ۔۔۔۔” ارسلان بچوں کی طرح انکے گلے لگ گیا۔ وہ بار بار اسے پیار کرتی، ارسلان بار بار انکو تسلی دیتا لیکن انہیں یقین نہ آتا، وہ پھر اسے اپنے ساتھ لگا لیتی اور خوب پیار کرتی، اور ساتھ ساتھ روتی جاتی تھیں۔ پاس کھڑا علی اس منظر کو غور سے دیکھ رہا تھا جب ہی اسے لگا جیسے آس پاس کے لوگ غائب ہوگۓ ہوں۔ اور وہ کئی سال پیچھے چلا گیا ہو جب وہ ایک آٹھ سال کا بچہ تھا۔
اسی گلی میں اسکی ماں اسے پریشانی کے عالَم میں ڈھونڈ رہی تھی،
“کیا ہوا بھابی؟ آپ پریشان لگ رہی ہیں؟ ” اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی سبزیاں لیتی رشنا کی امی کی نظریں ان پر پڑی تو پوچھا
” یہ علی پتا نہیں کہاں چلا گیا ہے؟ میں کب سے ڈھونڈ رہی ہوں۔ ابھی ناشتہ کر رہا تھا کے اچانک سے اٹھ کر باہر نکل گیا”
” ایک تو یہ لڑکا کبھی ٹک کر ایک جگہ بیٹھتا ہی نہیں ہے۔ چلو تم پریشان نہیں ہو، یہی ہوگا ابھی آجاے گا۔” انہوں نے علی کی ماں کو تسلی دی
“بس اللہ‎ کرے خیریت سے آجاے، صبح صبح پتا نہیں کیا شرارت سوجھی ہے اسے جو یوں ناشتہ چھوڑ کر باہر نکل گیا” وہ ہنوز پریشان تھیں
“وہ دیکھیں بھابی آگیا علی۔۔۔۔۔” رشنا کی امی نے گلی میں داخل ہوتے علی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
“اوہ۔۔۔۔ شکر اللہ‎ کا” انہوں نے سکھ کا سانس لیا لیکن پھر اگلے ہی لمحے وہ شدید غصّے سے اسکی طرف بڑھیں
“آج تو اسکی سہی سے خبر لیتی ہوں” انہوں نے کہا تو رشنا کی امی ہنستے ہوئے اپنے گھر میں چلی گئی
” کہاں گئے تھے تم؟۔۔۔ہاں؟۔۔۔۔” انہوں نے علی کے کان مروڑتے ہوئے پوچھا
“ابّو کی گاڑی دو گلی آگے جا کر بند ہوگئی ہے وہی دیکھنے گیا تھا۔ آہ۔۔۔۔ امی کان تو چھوڑیں” اس نے چیختے ہوئے کہا
” پر تمہیں کیسے پتا کے تمہارے ابّو کی گاڑی خراب ہوگئی ہے؟ ” انہوں نے اسکا کان چھوڑتے ہوئے حیرت سے پوچھا تو علی شرارت سے مسکرایا
” پہلے آپ اپنا کان ادھر لائے۔۔۔” علی نے اشارے سے انکو اپنے پاس بلایا تو وہ گھٹنے کے بل اسکے سامنے بیٹھ گئی اور اپنا دایاں کان اسکے منہ کے قریب کرتے ہوئے بولی
“بتاؤ؟ کیسے پتا چلا؟ ”
“میں نے ناں۔۔۔۔۔ ابّو کی گاڑی کی بیٹری کا وائر نکل دیا ہے۔” اس نے شرارت سے کہا تو اسکی امی نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔ ایک آٹھ سال کا بچہ گاڑی کے ساتھ یہ سلوک کرے،۔۔۔ ناممکن بات تھی، لیکن وہ علی تھا۔۔۔۔۔ وہ کچھ بھی کر سکتا تھا
“ایسا کیوں کیا تم نے؟ ”
“کیوں کے صبح ابّو نے آپ کو ڈانٹا تھا” صبح ناشتے
کی ٹیبل پر علی کی امی نے شاپنگ پر جانے کی بات کی تھی تو اسکے ابّو نے غصے میں انہیں ڈانٹ دیا تھا، حلانکہ وہ ایسے نہیں تھے لیکن انکی دوسری بیوی سے انکے حالات کشیدہ چل رہے تھے تو اسکا غصّہ یہاں نکل گیا تھا
” لیکن بیٹا یہ بہت بری بات ہے” علی کی امی نے اُسے سمجھایا، جِسے سمجھانا ناممکنات میں آتا تھا
” مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا کے کوئی میری امی سے تیز آواز میں بات کرے پھر چاہے وہ میرے ابّو کیوں نہ ہیں” اس نے منہ بسورتے ہوئے کہا تو اسکی امی کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔
“اچھا۔۔۔۔” انہوں نے اچھا کو لمبا کھینچا اور پھر علی کو گدگدانہ شروع کردیا تو وہ کھلکھلاتے ہوئے انکے سینے سے لگ گیا
” میرا بچہ۔۔۔۔” انہوں نے اسے خود میں بھینچ لیا
” واہ۔۔۔ کیا کہنے ہیں؟ کیا لاڈ پیار ہورہا ہے ماں بیٹے میں؟ ” مرتضی صاحب کی آواز پر دونوں نے سر اٹھا کر دیکھا
“شیطان۔۔۔۔ تم نے میری گاڑی خراب کی ہے ناں۔۔۔۔۔ لیکن بیٹا میں آپ کا ہی باپ ہوں، دو منٹ میں ٹھیک کرلیا میں نے اسے” انہوں نے ہنستے ہوئے علی کی نیلی آنکھوں میں جھانکا
“مجھے آپ سے بات نہیں کرنی” وہ سینے پر ہاتھ باندھتا ان سے دور جا کھڑا ہوا
“کیوں بھئی؟ میں نے کیا کیا ہے؟ ”
” آپ نے میری امی کو ڈانٹا” اس نے منہ بسورتے ہوئے کہا
“اچھا چلو پھر ہم آپ کی امی سے سوری کہہ دیتے ہیں۔ سوری آئمہ”
“ایسے نہیں۔۔۔۔۔۔پہلے آپ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھے گے اور پھر کان پکڑ کر میری امی کو سوری بولے گے” علی جب بھی کوئی غلط کام کرتا تھا تو مرتضی اسے ایسے ہی سزا دیتے تھے، آج اسے بھی موقع مل گیا تھا۔
“اچھا۔۔۔۔ جو حکم آپکا” مرتضیٰ کہتے ہوئے گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئے اور اپنے دونوں کان پکڑ لئے۔ آئمہ اس ساری کروائی کے دوران ہنستی ہی رہیں
“سوری آئمہ میں صبح بہت روڈ ہوگیا تھا۔” انہوں نے کہا اور اس سے پہلے کے وہ کوئی جواب دیتیں علی بول پڑا
“چلے امی ہم ناشتہ کرنے چلتے ہیں اور جب تک امی، آپ ابّو کو معاف نہیں کردیتی یہ یہیں کان پکڑ کر بیٹھے رہے گے”
“شیطان کہیں کہ۔ ۔۔چھوڑو گا نہیں میں تمہیں” مرتضیٰ نے اسے آنکھیں دکھائی
“خبردار جو میرے معصوم بچے کو کچھ بولا تو” آئمہ نے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا
“معصوم؟؟۔۔۔” مرتضیٰ نے صدماتی کیفیت میں کہا
” ہاں ناں۔۔۔ اتنا پیارا بچہ تو ہے میرا۔۔۔۔” انہوں نے علی کو پیار کرتے ہوئے کہا تو وہ بھی ان سے لپٹ گیا۔
اور ماں کی وہ خوشبو، علی کو آج بھی اپنے آس پاس محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔۔۔
انکا شفقت بھرا لِمس، وہ کبھی بھولا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
انکا علی کے لئے پریشان ہونا، جب بھی اسے یاد آتا تو وہ مسکرا اٹھتا۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ماں ہی تو تھی، جو اتنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اب تو ڈھونڈنے سے بھی وہ کہیں نہ ملتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اب وہ کتنی بھی دیر سے گھر آتا۔۔۔۔۔ اسکے لئے پریشان ہونے والی ماں نہیں ہوتی تھی۔۔۔۔۔۔
اب اسے سزا دینے والا باپ بھی منوں مٹی تلے جا سویا تھا۔۔۔۔۔۔۔
ماں کا پیار سے اسے اپنے ساتھ لپٹانا اسے یاد آیا تو وہ بےاختیار مسکرا اٹھا
“اوئے۔۔۔۔ہیرو، کہاں گم ہے؟” حنّان کی آواز نے اسے واپس حال میں لا کھڑا کیا تھا۔ ارسلان اب اپنے گھر جا چکا تھا۔ گلی میں اب اکا دکا لوگ ہی رہ گئے تھے۔ علی گہری سانس لیتا اسکی جانب مڑا
” میں سوچ رہا تھا کے۔۔۔۔۔۔کیوں ناں میں ماریہ سے جا کر یہ کہوں کہ۔۔۔”اس نے ڈرامائی وقفہ دیا جب کے ماریہ کے نام پر حنّان کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
“کہ۔۔۔۔خان صاحب تمھارے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوب چکے ہیں۔۔۔۔۔” علی کہتے ساتھ ہی بھاگا کیوں کے اس نے حنّان کو آستینیں چڑھاتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔۔۔۔
“رک تجھے بتاتا ہوں ابھی” وہ علی کے پیچھے بھاگا مگر علی اسے چکمہ دے گیا
ایسا ہی تھا وہ۔۔۔۔۔۔
اپنے دکھ کسی پر عیاں نہیں کرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگوں کو ہنسانے کے لئے دنیا میں آیا تھا۔۔۔۔۔۔
رلانے کے لئے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
————————–*———————–*—————-
“میں نے تمہیں بہت یاد کیا بیٹا” ارسلان اگلے دن اپنی امی کی گود میں سر رکھے لیٹا تھا۔ اور وہ اسکے بال سہلاتے ہوئے کہہ رہی تھیں
” صرف تین دن دور رہا ہوں میں آپ سے اور آپ اتنا پریشان ہوگئی۔؟”
” ہاں تو نہ ہوتی کیا؟ کچھ خبر نہیں تھی تمہاری،۔۔۔۔اتنا ڈر گئی تھی میں” انہوں نے بتایا تو وہ مسکرا اٹھا
“اچھا یہ بتاؤ، تمہارا پاؤں کیسا ہے؟”
“بہتر ہے پہلے سے،”
“مجھے تو ثنا کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیے، اگر وہ بر وقت تمہارا علاج نہ کرتی تو؟”
“ویسے امی شکریہ ادا کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے میرے پاس” وہ اٹھ کر بیٹھا
“وہ کیا؟ ”
“جس لڑکی نے آپ کے بیٹے کی اتنی خدمت کی ہے، کیوں نہ ہم اسے ہمیشہ کے لئے اپنے گھر لے آئے؟” اس نے شرارت سے پوچھا
“اپنے گھر کیسے لے آئے؟ ” وہ اسکی بات سمجھی نہیں
“اپنی بہو بنا کر۔۔۔۔۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا
“ارسلان۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔ تم سچ کہہ رہے ہو؟ ” انہوں نے بےیقینی سے پوچھا
“ہاں امی۔۔۔۔ کیوں وہ آپ کو اچھی نہیں لگتی کیا؟ ”
” نہیں نہیں۔۔۔۔۔وہ تو بہت پیاری بچی ہے اور سچ پوچھو تو مجھے بہت خوشی ہوئی یہ جان کر کے تم اس سے شادی کرنا چاہتے ہو”
“تو پھر آپ کب بات کریں گی”
“صبر کرو لڑکے، اتنی بھی کیا جلدی ہے؟ ” انہوں نے اسکے سر پر ہلکے سے چپت لگائی
“چلو اب یہ سوپ پی لو” انہوں نے سوپ کا پیالہ اسکی طرف بڑھایا
“نہیں امی، مجھے نہیں پینا”
“کیا مطلب نہیں پینا؟ پورا ختم کرنا ہوگا”
“پر مجھے یہ سوپ زہر لگتا ہے” اس نے منہ بسورتے ہوئے کہا
“ارسلان ضد نہ کرو”
“کیا ہو رہا ہے؟ ” علی نے اسکے کمرے میں قدم رکھتے ہوئے پوچھا۔ اسکے پیچھے عمر، حیدر، حنّان، اور حمزہ داخل ہوئے
“دیکھو بیٹا اسے، کل سے اس نے کچھ نہیں کھایا ہے، اور ابھی بھی میں سوپ بنا کر لائی ہوں لیکن اسکے نخرے نہیں ختم ہورہے” انہوں نے لگے ہاتھوں علی سے اسکی شکایت کی تو سب ہی مسکرا دیے
“کیا ہے بھئی، کیوں تنگ کر رہے ہو آنٹی کو؟” عمر نے اسے مصنوئی غصّے سے ڈانٹا
“یار، مجھ سے نہیں کھایا جاتا یہ مریضوں والا کھانا”
“آنٹی آپ جائے ہم اسے کھلا دیں گے” علی نے راحمہ بیگم سے کہا
“ہاں سہی ہے، تم ہی کھلاؤ اب اسے” وہ سوپ کا پیالہ علی کو پکڑاتی باہر نکل گئی
“چل اب چپ چاپ کھا لے ورنہ ہم تجھے مار مار کر کھلائے گے” علی نے سوپ کا چمچ اسکے منہ کے پاس لے جاتے ہوئے کہا
“خبردار جو میرے ساتھ زبردستی کی، دور رکھو اسے مجھ سے ورنہ سارا تمھارے منہ پر ہی الٹ دونگا” ارسلان نے اسے دھمکی دی
“کیسے الٹ دے گا؟ چل علی تو کھلا اسے میں ویڈیو بناتا ہوں اسکی” حمزہ نے کہتے ہوئے جیب سے موبائل نکالا
“دیکھو میں کہہ رہا ہوں مجھے تنگ مت کرو”
“لے میرا منا، کھا لے ۔۔۔۔ شاباش” علی نے چمچہ اسکے منہ کے قریب کیا تو اس نے منہ دور ہٹا لیا
“ایسے نہیں مانے گا یہ، علی تو اسے لوری سنا تب کھائے گا یہ” حیدر نے مفت مشورہ دیا تھا۔
“میں قتل کردونگا تم سب کا” وہ بےبسی سے چلایا
“پہلے اٹھ کر کھڑا تو ہوجا لنگڑے” حمزہ نے لقمہ دیا جب کے حنّان اور عمر بیٹھے ہنس رہے تھے
“چل کھا لے شاباش۔۔۔۔۔
چوں چوں کرتی چڑیا آئے
پہلا پہلا دانا لاۓ
کتنی مرچیں گھلوں؟
منا چمچ سے کھا جائے” علی نے لوری گاتے ہوئے سوپ سے بھرا چمچ اسکے منہ میں ٹھونس دیا ،
“کمینو۔۔۔۔۔اللہ‎ پوچھے تم لوگوں کو” وہ انہیں دہائیاں دے رہا تھا جب کے باقی سب کا ہنس ہنس کر برا حال تھا۔ بلاخر علی نے اسے پورا سوپ کھلا کر ہی دم لیا
“پیر کیسا ہے تمہارا؟” جب ارسلان نے پورا سوپ ختم کر لیا تو عمر نے پوچھا
“اللہ‎ کا شکر ہے کہ کوئی ایک تو انسان کا بچہ میرا دوست ہے” ارسلان نے دکھ بھرے لہجے میں کہا تو وہاں قہقہ پڑا تھا
“ابے ایک بات بتا، تو خود تو پھنسا ہی پھنسا تھا۔ لیکن ساتھ میں ثنا کو پھنسانے کیا ضرورت تھی؟ “حنّان نے پوچھا
“میں نے کہاں پھنسایا بھائی؟ میں نے تو بس اخلاق میں لفٹ دی تھی مجھے کیا پتا تھا اسی دن اغوا ہوجاؤں گا، ویسے یہ وہی والی کہاوت ہوگئی کہ
ہم تو مرے صنم ، ساتھ میں تمہیں بھی ماردیا” ارسلان نے کہاوت کی ٹانگیں چور چور کر کے اسے ساری زندگی کے لئے معذور کردیا جب کے باقی سب نے اپنا سر پیٹ لیا
“اچھا ہوا بھائی کہ تو خود وہاں سے بھاگ گیا ورنہ تیرے محاورے سن سن کر اس ڈکیت نے یا تو خود کو گولی مار لینی تھی یا پھر تجھے” علی نے کہا، لیکن ارسلان نے اسے اگنور کردیا
“بات سن کمینے، تو کتنے مزے سے بیٹھا دانت نکال رہا ہے ناں، میرے بغیر نکاح بھی کرلیا۔ انتظار بھی نہیں کیا۔ کیسا دوست ہے تو” ارسلان نے عمر کو لتاڑا
“نہیں تو تیرے بغیر نکاح حرام ہوجاتا کیا؟ ” عمر نے پوچھا
“ہائے۔۔۔۔۔مطلب ایک دوست لاپتہ ہے اور یہاں کسی کو پروا ہی نہیں تھی”
“ایسی بات نہیں ہے یار، وہ بس حالات ہی ایسے ہوگئے تھے” عمر نے وضاحت دی
“نہیں بس اب میں تجھ سے ناراض ہوں”
“شاباش ارسلان! ایسے ہی ناراض رہنا اس سے اور تب تک نہیں ماننا جب تک یہ ہمیں ٹریٹ نہ دے دے” علی نے پرجوش انداز میں کہا تو عمر نے اسے گھورا
“اوے۔۔۔۔ تیرا مسلہ حل ہوا؟ ” ارسلان نے حمزہ سے پوچھا
“ہاں ہوگیا اللہ‎ کے کرم، سے ورنہ اس کمینے نے تو مجھے پھنسوانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی” حمزہ نے سکون سے چپس کھاتے علی کو دیکھا اور اسے جواب دیا
“کونسا مسلہ؟” عمر ہمیشہ کی طرح لاعلم تھا۔ حیدر نے اسے رشنا اور حمزہ کے ساتھ کی جانے والی علی کی ساری کروائی کہہ سنائی
“سدھر جا کمینے کتنی بار کہا ہے تجھے” حنّان نے ساری بات سننے کے بعد کہا
“دیکھ تو قیامت آنے کی دعا مانگ لے کیوں کے تیری یہ خواہش قیامت کے بعد ہی پوری ہوسکتی ہے” علی نے مزے سے کہا
“اور آپ بتاۓ خان صاحب، آپکا مسلہ کہاں تک پہنچا؟ ”
“میرا کونسا مسلہ؟” حنّان نے حیرت سے پوچھا
“ماریہ کی بات کر رہا ہے” حیدر نے بتایا تو اس نے نہایت ہی برا سا منہ بنا لیا
“تم لوگ اس ٹوپک کو ختم کروگے؟” اس نے خفگی سے پوچھا
“ٹھیک ہے لیکن یہ تو بتا کہ۔۔۔۔۔” ارسلان کچھ اور بھی پوچھنا چاہتا تھا جب عمر نے اسکی بات کاٹی
“بس کر دے بھائی، ساری خبریں کیا آج ہی لے گا؟ کل کے لئے بھی کچھ چھوڑ دے”
“ٹھیک ہے یار نہیں پوچھتا”
“چھوڑ ان سب کو، تو مجھے یہ بتا کہ تو روشن دان سے بھاگا کیسے؟” علی نے وہ بات آخر پوچھ ہی لی جو کب سے اسے بے چین کر رہی تھی ۔
“اصل میں ہوا یہ کے جب۔۔۔۔۔” ارسلان نے ساری داستان شروع سے سنانا شروع کردی۔
————————-**——————–**—————
“سامعہ چپ کرجاؤ یار، اب جو اللہ‎ کو منظور ہوتا ہے وہی ہوتا ہے ناں، ہم اسے بدل تو نہیں سکتے” ثنا نے اپنے کندھے پر سر رکھے روتی سامعہ کو کہا۔ جیسے ہی اسے ولید انکل کی موت اور اسکے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی خبر ملی تو وہ اسکے پاس ڈوری ڈوری آئی
“پر مجھے صبر نہیں آتا، مجھے۔۔۔۔مجھے یقین ہی نہیں آتا کہ، ۔۔۔۔۔ بابا نہیں ہیں” وہ ہچکیوں سے رودی
“میں اکیلے رہ گئی ہوں ثنا میرا کوئی نہیں رہا”
“کیسی باتیں کر رہی ہو یار، ہم تمہارے اپنے نہیں ہیں کیا؟” شفا نے اسکے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا اس وقت وہ سب اسکے کمرے میں موجود تھیں
“سامی۔۔۔ دیکھو اگر اسے ہی روتی رہو گی تو بیمار پڑھ جاؤ گی” رشنا نے بھی اسے سمجھایا۔
“لو سامی، یہ کھانا کھا لو، تم نے صبح بھی ٹھیک سے ناشتہ نہیں کیا تھا” حریم کافی دیر سے اسے کھانا کھلانے کی ہی کوشش کر رہی تھی
“تم خود کو اکیلے نہ سمجھو یار، ہم سب ہے ناں تمھارے ساتھ۔” ثنا نے اسکا کندھا سہلاتے ہوئے کہا
“پتا نہیں میں نے کونسا گناہ کیا تھا”
“ایسے نہیں کہتے، چلو اب آنسوں پونچھو اور کھانا کھاؤ” شفا نے اسکے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تو اس نے محض سر ہلا دیا
“اپنے رونے دھونے میں میں نے تمہارا حال تو پوچھا ہی نہیں، کیسی ہو تم؟” سامعہ کی نظر جب ثنا پر پڑی تو اسے احساس ہوا کہ وہ کافی کمزور لگ رہی ہے۔
“میں بلکل ٹھیک ہوں میری فکر نہ کرو، بس اپنا خیال رکھو” ثنا نے مسکراتے ہوئے کہا
“چلو یار، تم لوگ باتیں کروں، میں چلتی ہوں” حریم جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی
“اتنے جلدی جا رہی ہو؟” رشنا نے پوچھا
“یار امی گھر پر نہیں ہیں اور حمزہ بھی بس گھر آنے ہی والا ہے اسے کھانا گرم کر کے دینا ہوگا، کیوں کے صاحب آفس سے آتے ہی اپنا یارانہ نبھانے ارسلان کے پاس چلے گئے” اس نے ہنستے ہوئے کہا اور پھر سامعہ سے گلے مل کر اسے اپنا خیال رکھنے کی تلقین کر کے باہر آگئی۔
وہ ابھی گھر سے باہر نکلی ہی تھی کے اسکی نظریں گلی میں کھڑے حیدر پر پڑی۔ جو خود ارسلان کے گھر سے باہر نکل رہا تھا۔ وہ بلا ارادہ ہی اسکے پاس چلی آئی
“کیسے ہو حیدر؟ ” حریم نے اسکے پاس جا کر پوچھا تع وہ حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگا
“آن۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ میں ٹھیک ہیں، تم سناؤ کیسی ہو؟ ” حیدر نے عام سے انداز میں کہا۔ حلانکہ حریم کو اگنور کرنا اسکے لئے بےحد مشکل تھا
“میں بھی ٹھیک ہوں۔ تم کہیں جا رہے ہو؟ ” اس نے بات کرنے کے غرض سے پوچھا
“نہیں۔۔۔کہیں نہیں۔۔۔۔”
“حمزہ بتا رہا تھا کے علی نے تمہاری گاڑی کا بہت برا حال کیا ہے؟ “اس نے اسی لئے پوچھا کے شاید اس موضوع پر تو حیدر کچھ بولے گا ورنہ وہ تو ہر بات کا مختصر جواب دے رہا تھا۔
“ہاں۔ وہ دراصل۔۔۔۔۔۔” حیدر کا موبائل بجنے لگا۔
“یہ کال بہت امپورٹنٹ ہے حریم، مجھے لینی ہوگی” اس نے معذرت خوانہ لہجے میں کہا
“ہاں ہاں۔ کیوں نہیں، تم اٹینڈ کر لو” حریم نے اجازت دی تو حیدر نے موبائل کان سے لگایا
“ہیلو ماریہ کیسی ہو؟ ” وہ بات کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا جب کے حریم کو شاک لگا تھا
“تو ماریہ کی کال اٹینڈ کرنا اسکے لیے مجھ سے زیادہ اہم ہے؟ ” حریم کو لگا جیسے کسی نے اسے انگاروں پر لوٹا دیا ہو۔
“ابے، ماریہ کہاں سے یاد آگئی تجھے؟ میں ہوں صفدر” صفدر نے حیرت سے کہا
“مجھے پتا ہے، ۔۔۔”حیدر نے دبی دبی آواز میں جواب دیا
“تو پھر تو نے ماریہ کیوں کہا؟ ”
“رہنے دے تو نہیں سمجھ سکتا” وہ صفدر سے بات کرتا ہوا اپنے گھر میں داخل ہوگیا. حریم دکھ کے ساتھ اسے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ سب کچھ اپنے ہاتھوں سے گوانے کا مطلب اسے اب سمجھ آرہا تھا۔ اب تو وہ آذر کے فوبیے سے بھی باہر آچکی تھی۔ لیکن افسوس کے بہت دیر ہوچکی تھی یا پھر شاید۔۔۔۔۔۔۔
اسے ایسا لگاتا ہو؟۔۔۔۔۔
———————–** ———————–** ————–
“بہت افسوس ہوا مجھے۔۔۔ لیکن جانے والے کو کون روک سکتا ہے” علی فون کان سے لگائے بات کرتے ہوئے پارک میں چہل قدمی کر رہا تھا۔ دوسری طرف سے کچھ کہا گیا جسے سن کر اس نے سر ہلایا اور پھر اگلے ہی لمحے بولا
“اب تو انکا انتقال ہوہی گیا ہے تو۔ ۔۔۔۔۔۔ اب تو تم کراچی آجاؤ گی ناں؟” علی نے پوچھا۔ پھر دوسری طرف سے کچھ کہا گیا جسے سن کر وہ حقیقی معنوں میں اچھل پڑا
“کیا؟ لیکن ایک مہینے بعد کیوں؟ ابھی کیوں نہیں”
پھر سے دوسری طرف والے کی باری آئی
“اچھا۔۔۔۔۔لیکن جب ایک مہینے بعد بھی آنا ہی ہے تو پھر ابھی کیوں نہیں؟ ”
“مجھے بےصبرا نہ کہو، اتنا لمبا انتظار کیا ہے میں نے تمہارا” وہ منہ بسورتے ہوئے بولا
“وعدہ کرو کے چالیسویں کے بعد تم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے میرے پاس آجاؤ گی”
“گڈ۔۔۔۔ چلو پھر کل بات ہوتی ہے۔ اللہ‎ حافظ” علی نے فون کاٹ دیا۔
وہ پارک سے باہر نکلا لیکن اپنے بلاک جانے کے بجائے وہ دوسرے بلاک میں داخل ہوا جہاں تھوڑے بڑے گھر بنے ہوئے تھے۔ وہاں پہنچ کر وہ ایک گلی میں گیا جو اس وقت تقریبا خالی ہی تھی۔ صبح کا وقت تھا، ہر کوئی اپنے اپنے کام کاج پر نکلا ہوا تھا۔ ایسے میں ایک انکل اپنے گھر کا دروازہ کھولے باہر کرسی ڈالے بیٹھے سو رہے تھے۔ پاس ہی پرانے دور کا ایک ریڈیو رکھا ہوا تھا جس پر اسّی کی دہائی کا پرانا گانا چل رہا تھا۔ اتنا پرانا ہونے کے باوجود بھی اس ریڈیو کی آواز دور حاضر کے بفر سے بھی تیز تھی۔ مزے کی بات یہ تھی کے فل ساؤنڈ میں گانا چلا ہونے کے باوجود بھی انکل کی نیند میں کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔
“چند دن میں انسان کیا بنا رہا، دنیا والوں نے مجھے سچ مچ میں ہی انسان سمجھ لیا” اس نے اپنی پی کیپ درست کرتے ہوئے خود کلامی کی۔ پھر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا انکل کے قریب پہنچا جو مزے سے خراٹے بھر رہے تھے۔ اس نے انکی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلایا مگر انھیں کوئی فرق نہیں پڑا۔
“یہ شفا کہاں رہ گئی آخر؟ ” اس نے ہاتھ میں بندھی گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔ ریڈیو سے فل ساؤنڈ میں گانا بج رہا تھا
اتنی محبت سہہ نہ سکوں گا
سچ مانو زندہ رہ نہ سکوں گا
“کہاں رہ گئی تھی تم؟” جیسے ہی شفا وہاں پہنچی علی نے اس سے پوچھا
“یہ سب چھوڑو پہلے وہ کام کرو جو ہم کرنے آئے ہیں، اس سے پہلے کے انکل اٹھ جائے” شفا نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ٹوکری کو سمبھالتے ہوئے کہا
“ہاں چلو،۔۔۔۔” علی نے کہا اور وہ دونوں آرام آرام سے انکل کے گھر کے لان میں داخل ہوئے۔
“میں درخت پر چڑھتی ہوں تم نیچے ٹوکری پکڑ کر کھڑے ہوجاؤ” شفا نے لکڑی کی ٹوکری علی کو پکڑائی ور خود کینوں سے بھرے درخت پر چڑھنے لگی۔
تجھ کو سنبھالوں،یہ میرا ذمّہ
میں ہوں تو کیا ہے، جانے تمّنا
“پکڑو۔۔۔۔” شفا نے درخت پر چڑھ کر تین چار کینو پھینکے تو علی نے ٹکرا آگے کیا سارے کینو اس میں آگرے۔
“بس چار؟ کم از کم بھی 50 جمع کرنے ہیں ہمیں” علی نے ناراضی سے کہا
“دے رہی ہوں صبر کرو” اس نے غصّے سے کہا
اب جینا مرنا میرا، جانم تیرے ہاتھ ہے
میں نے کہا ناں صنم، اب تو میرے ساتھ ہے
شفا نے ایک ساتھ کئی کینو ہوا میں اچھال دیے۔ علی نے گڑبڑاتے ہوئے ٹوکری آگے کی۔ صدشکر کے سارے کینو ٹوکری میں ہی گرے زمین پر کوئی نہیں گرا۔ علی نے اسے غصّے سے۔ دیکھا جب کے شفا نے اسے مزے سے منہ چرایا
تو پھر سنبھال، یہ میں چلا
جانا کہاں، آ دل میں آ
قریباً پچاس کے قریب کینو جمع کرنے کے بعد وہ لوگ باہر نکلے، انکل ابھی تک سوئے ہوئے تھے۔ گانا ابھی تک چل رہا تھا۔ علی انکے پاس آکر رکا۔ اسکی آنکھیں شرارت سے چمکی
“وہاں کیا کرنے رکے ہو؟ چلو جلدی واپس، اس سے پہلے کے انکل اٹھ جائے” شفا نے دبی دبی آواز میں کہا
“بس ایک منٹ۔۔۔۔۔”اس نے جواب دیا اور ایک کینو ٹوکری میں سے نکال کر ہاتھ میں لیا۔
“آخر تم کر کیا رہے ہو؟ ”
“بتا رہا ہوں صبر۔۔۔۔۔” ۔جیسے ہی انکل نے نیند میں خراٹا لینے کے لئے منہ کھولا، علی نے ہاتھ میں پکڑا کینو انکے منہ میں ڈال دیا۔ انکی شکل دیکھ کر شفا کی ہنسی چھوٹ گئی۔ انکل نیند میں ہڑبڑانے لگے
“بھاگو شفا،۔۔۔۔” علی نے کہا اور دونوں بھاگتے ہوئے گلی سے باہر نکل گئے
“کک۔۔۔۔۔۔کون۔۔۔۔؟” انکل نیند سے اٹھے اور منہ میں رکھا کینو باہر نکالا۔
“یہ کینو کس نے رکھا یہاں؟” انہوں نے تعجّب سے کہتے ہوئے کینو باہر نکالا۔ اور پیچھے مڑ کر اپنے لان میں دیکھا تو انکے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ انکے کینو کے درخت کی چار سے پانچ ٹہنیاں خالی تھی۔
“یہ۔ ۔۔۔۔۔یہ کس نے کیا؟ ” وہ زور سے چیخیں لیکن وہاں جواب دینے والا کوئی نہ تھا۔ کیوں کے جواب دینے والے دونوں شیطان گلی کے باہر ایک گھر کی اوٹ میں ہوکر یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے اور ہنس رہے تھے۔ گانا ابھی تک بج رہا تھا
ساتھیا۔۔۔۔ تو نے کیا کیا؟
بہلیاں۔۔۔۔تو نے کیا کیا؟
میں نے کیا، تیرا انتظار۔۔۔۔
اتنا کرو نہ مجھے پیار۔۔۔۔
اتنا کرو نہ مجھے پیار۔۔۔۔

“ویسے تم نے ان کینو کا کرنا کیا ہے؟ ” شفا نے علی کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے پوچھا
“وہ سامنے زیر تعمیر عمارت نظر آرہی ہے؟ ”
“ہاں”
“وہاں جو مزدور کام کر رہے ہیں انکو دینے ہیں یہ۔ وہ بھی مفت”
“تو یہ تم اپنے پیسوں سے بھی خرید کر دے سکتے تھے۔ چوری کرنا ضروری تھا؟ ”
“اصل میں یہ بلڈنگ انہی انکل کی ہے جن کے گھر سے ہم یی کینو چوری کر کے لائے ہیں۔ ان کنجوس انسان کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ ایک اور گھر تعمیر کر والیں لیکن اتنا پیسہ نہیں کہ اپنے یہاں کام کرنے والے مزدوروں کو کم از کم ایک وقت کا کھانا ہی دے دیں۔ اوپر سے یہ انکل اپنے یہاں کام کرنے والوں سے بہت حقارت سے پیش آتے ہیں۔ انکو اتنی سزا تو ملنی چاہیے ناں۔ ” علی کہتا ہوا اس عمارت میں کام کرتے ہوئے مزدوروں کے پاس گیا
“آجاؤ بھائی لوگ، تمہارے مالک نے اپنے باغ سے تازہ تازہ کینو بھجوائے ہیں تم سب کے لئے” علی نے ان سب کو کہا تو سب جلدی جلدی وہاں آنے لگے۔ ان مزدوروں میں بچے، بوڑھے اور جوان سب شامل تھے۔
“ارے انکل۔۔۔۔۔کیا حال ہیں” علی نے ایک بوڑھے مزدور کو دیکھتے ہوئے کہا جو شاید افغانی تھے
“میں بکل ٹھیک ہوں”
“یہ لیں انکل کینو کھائے۔” علی نے کینو انکی طرف بڑھائے اور خود وہیں سڑک پر بیٹھ گیا انکل بھی ساتھ ہی بیٹھ گئے
“کیا بات ہے انکل؟ آج کل بڑے چمکتے دمکتے لگ رہے ہیں۔ کہیں دوسری شادی کا ارادہ تو نہیں” علی نے انھیں چھیڑا تو وہ جھینپ گئے
“نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں ہے” انکل نے کہا
“انکل۔۔۔۔۔بلشنگ،۔۔۔ ہاں؟ ۔۔۔۔۔ کچھ کچھ تو ہے” علی نے انھیں مزید چھیڑا
“ہٹ۔۔۔۔” وہ ہنستے ہوئے وہاں سے اٹھ گئے
“ہاں ہاں بھاگ لیں۔ لیکن ہم بھی پتا لگا ہی لیں گے” علی نے کہا پھر ایک چھوٹے بچے کی جانب متوجہ ہوا جو وہیں کام کر رہا تھا۔
” اوئے چھوٹو۔۔۔۔۔ کیا ہوا کینو ختم؟” اس نے پوچھا تو بچے نے سر ہلایا
“ابے تو اور لے ناں۔۔۔۔” علی نے ٹوکرے میں سے چار کینو اسکے حوالے کئے۔
شفا ایک سائیڈ پر کھڑی خاموشی سے علی کو دیکھ رہی تھی۔ اور بس دیکھے ہی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
کہاں سے آیا تھا وہ۔۔۔۔۔۔۔
شاید اللہ‎ نے اسے اسی لئے بنایا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ ہنستے کھیلتے سب کے مسلے حل کرجاتا۔۔۔۔۔
اور کوئی کریڈٹ بھی نہیں لیتا تھا۔۔۔۔۔
کسی کو معلوم ہی نہ ہو پتا۔۔۔۔۔۔
جیسے اس نے مذاق مذاق میں حیدر اور ماریہ کے ذریعے حریم کو آذر کی یادوں سے باہر کھینچ لیا تھا۔۔۔۔۔۔
جیسے اس نے ہنستے کھیلتے شفا کے چاچو اور اسکی خالہ کی شادی کروادی۔۔۔۔۔۔۔
جیسے اس نے لوری گاتے ہوئے ارسلان کو سارے کا سارا سوپ پلا دیا جو کے اسکے لئے پینا بہت ضروری تھا۔۔۔۔۔۔
جیسے اس نے ان کام کرتے مزدوروں کو اپنے ساتھ ہنسنے کھیلنے میں لگا دیا تھا۔۔۔۔۔۔
کیوں تھا وہ ایسا؟۔۔۔۔۔
کیوں ہر وقت ہنستا رہتا تھا؟۔۔۔۔۔
کیا اسے کبھی کوئی غم چھو کر بھی نہیں گزرا؟۔۔۔۔
یا وہ اپنے دکھ کسی پر عیاں نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
کس مٹی سے بنا تھا وہ؟۔۔۔۔۔۔
شفا ابھی تک اسی کو دیکھ رہی تھی۔ دل میں کہیں نرم نرم سی، مٹھی سی خوشی سر اٹھا رہی تھی۔ کسی مزدور نے پنجابی گانا “دانے پہ دانا” گانا شروع کیا تو باقی مزدور بچوں نے بھنگڑے ڈالنے شروع کردیے۔
“اوئے۔۔۔ہوئے۔۔۔۔۔ زبردست” علی نے سٹی بجائی اور جب سٹی سے بھی دل نہ بھرا تو ان بچوں کے ساتھ خود بھی بھنگڑے ڈالنے کے لئے کھڑا ہوگیا۔ اسے دیکھ کر باقی مزدور بھی وہاں آکر ناچنے لگے، پاس سے گزرتے لوگ رک رک کر اس منظر کو خوب انجوئے کر رہے تھے۔ شفا مسکراتے ہوئے علی کو ان سب کے ساتھ بھنگڑے ڈالتا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔ اور بس دیکھتی ہی جا رہی تھی۔ اور اسے دیکھنے میں اس حد تک گم ہوگئی تھی کے آس پاس کا بھی ہوش نہ رہا تھا۔
میرا نصیب ہے،۔۔۔وہ سامنے
کیوں ہورہی ہیں، حیرانیاں؟
تیرتے خواب سارے، ساحل پہ آجائیں
سیپیوں میں چھپا جو، وہ ہمیں مل جائے
کیسے کروں بیان؟، کیا چاہیے،
چھوٹے سے دل کو سب چاہیے۔
————* ————* ————* ————* ———-
ایک ماہ بعد۔۔۔۔۔۔۔
“تم دونوں کے لئے میرے گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے۔” آفاق فاروقی صاحب کی گرج دار آواز گھر میں گونج رہی تھی۔
“نہیں بابا ایسا نہ کریں، ہمیں گھر سے نہ نکالیں” دس سالہ ہانیہ نے التجا کی
“یہ تو چوری کرنے سے پہلے سوچنا تھا ناں۔ آفاق میں کہہ دے رہی ہوں، اگر آج تم نے ان دونوں کو گھر سے نہیں نکالا ناں، تو میں اپنے بچوں کے ساتھ یہاں سے چلی جاؤنگی۔ مجھے نہیں رہنا ان چوروں کے ساتھ” آفاق صاحب کی بیگم چلائی
“ہم چور نہیں ہیں۔ بلکہ تم چور ہو اور میری ماں کی قاتلہ بھی” عمر نے تیز آواز میں کہا تو آفاق صاحب کا زور دار تھپپر اسکے منہ پر پڑا
“بدتمیز زبان چلاتا ہے۔ نکل جا میرے گھر سے”
“مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے آپ کے گھر میں رہنے کا” وہ بارہ برس کا بچہ اس وقت اپنی عمر سے کئی گنا زیادہ بڑا لگ رہا تھا
“نکلو۔۔۔۔۔”آفاق صاحب نے ایک ہاتھ سے عمر کا بازو پکڑا اور دوسرے میں ہانیہ کا، پھر دونوں کو گھسیٹتے ہوئے گھر کے دروازے سے باہر لے آئے
“آج کے بعد اپنی شکل نہ دکھانا مجھے” انہوں غصّے سے کہتے ہوئے زور سے انکے منہ پر دروازہ بند کر دیا۔
“بھائی۔۔۔۔” ہانیہ روتے ہوئے عمر سے لپٹ گئے
“ہانیہ۔۔۔۔۔۔” وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ ہمیشہ کی طرح، وہ آج بھی خواب ہی دیکھ رہا تھا۔ صبح کے ساڑھے سات بج رہے تھے۔ وہ جلدی سے بستر سے اٹھا اور اور تیّار ہونے کے لئے باتھروم میں گھس گیا۔
نہانے کر تیّار ہونے کے بعد جب وہ باہر آیا تو اسکا موڈ بہت خراب تھا۔ جس روز وہ خواب میں ماضی کو دیکھتا تھا اس روز اسکا موڈ سخت خراب ہوتا تھا۔ اپنی بےبسی پر غصّہ آنے لگتا۔ ابھی بھی جب وہ باہر آیا تو سامعہ نے ناشتہ ٹیبل پر لگایا ہوا تھا۔ عمر کو مزید غصّہ چڑھ گیا۔ وہ کچن میں آیا
“مسئلہ کیا ہے تمھارے ساتھ؟” اسکی سخت آواز پر سامعہ نے مڑ کر اسے دیکھا
“کک۔۔۔۔۔۔کیا ہوا ہے؟”
“میں نے منع کیا ہے نہ تمہیں۔۔۔۔ مت کیا کرو یہ سب، نہیں عادت ہے مجھے ان سب کی”
“پر میں یہ سب کیوں نہ کروں؟ میں بیوی ہوں تمہاری” عمر کے سر پر لگی اور تلوے پر بجھی
“بات سنو تم، کوئی خوش فہمیاں پالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس دن تم اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئی اس دن طلاق دے دونگا تمہیں” عمر غصّے کہتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا۔
اسکے جانے کے بعد وہ اداس سی ٹیبل پر آکر بیٹھ گئی۔ عمر کے رویے کی وجہ جاننے سے وہ قاصر تھی۔ اس نے اپنے آپ کو اس حد تک بدل لیا تھا کے کسی کو یقین ہی نہیں آتا تھا کے یہ وہ ہی ایک ماہ پرانی سامعہ ہے۔ پھر عمر کو اسکی یہ تبدیلی نظر کیوں نہیں آتی؟ وہ گم صم سی بیٹھی ہوئی تھی۔ ناشتہ ٹھنڈا ہو چکا تھا لیکن اس نے ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔ اچانک ہی اسکے اندر پرانی والی سامعہ نے انگڑائی لی۔
“یار۔۔۔۔۔ آخر تمہیں ہو کیا گیا ہے؟ کیوں تم ایک انسان کے لئے اپنے آپ کو برباد کر رہی ہو؟ یہ تمہارا کام نہیں ہے۔ تمہارا کام تو آگ لگانا، فساد پھیلانا، پھڈے ڈلوانا ہے۔ اٹھو سامعہ اور پھر سے پہلے کی طرح بن جاؤ۔ صرف اپنا سوچو اور بھاڑ میں ڈالو اس عمر کو۔ ” وہ اٹھی اور ٹیبل پر پڑا ناشتہ گود میں لے کر بیٹھ گئی۔
“نہیں کھاتا تو نہ کھائے میں کیوں اسکے لئے بھوکی رہوں” اس نے کہا اور مزے سے ناشتہ کرنے لگی۔ آج پورے ایک ماہ بعد اس نے دل سے اور سکون سے ناشتہ کیا تھا۔
————-* ————-* ————-* ————-*——-
وہ آفس کے لئے بلکل تیّار تھا۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کا جائزہ لینے کے بعد اس نے اپنے اوپر پرفیوم اسپرے کیا۔ اور ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی گھڑی اٹھا کر کلائی پر باندھنے لگا۔ اسکی تیّاری مکمّل ہو چکی تھی۔ اس سے پہلے کے وہ کمرے سے باہر نکلتا اسکا موبائل بج اٹھا۔ اس نے اٹھا کر دیکھا تو کوئی انجانا نمبر تھا۔ اس نے کال اٹھائی
“ہیلو کون؟ ”
“ہیلو، حنّان بات کر رہے ہو؟” دوسری طرف سے آتی نسوانی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی تھی
“جی میں حنّان ہی ہوں۔ آپ کون؟”
“میں ماریہ”
“کون ماریہ؟ ” اسکی بےکانگی پر ماریہ خون کے گھونٹ بھر کے رہ گئی
“وہ ہی جو کیلیفورنیا یونیورسٹی میں پڑھتی تھی۔ روما بھابھی کی نند” اسکا تعارف سن کر حنّان کے ماتھے پر بل پڑے
“تمہیں میرا نمبر کہاں سے ملا؟”
“اسے چھوڑو یہ بتاؤ تم کیسے ہو؟”
“میں نے پوچھا ہے کہ میرا نمبر کہاں سے ملا؟”
“حنّان، مجھے روما بھابی نے دیا تھا”
“کیوں کال کی ہے؟” حنّان کے خشک لہجے نے اسکے حوصلے پست کردئیے تھے۔
“ایسے۔۔۔۔۔ہی۔ ۔۔۔۔بس تمہارا حال احوال پوچھنے کے لئے” اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا
“آر یو میڈ؟۔۔۔۔ تم نے صبح کے آٹھ بجے مجھ سے حال احوال پوچھنے کے لئے کال کی ہے؟” جتنے سخت لہجے میں اس نے کہا تھا، توہین کے احساس سے ماریہ کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔
“حنان، میں کیا کروں؟ میرا دل کر رہا تھا تم سے بات کرنے کو اسی لئے وقت کا بھی لحاظ نہیں کیا” اس کا دل کیا کے اپنا سر دیوار پر دے مارے۔ وہ لڑکی کسی دن اسے بدنام کر کے ہی چھوڑے گی۔
“لِسن، میرا اور تمہارا ایسا کوئی تعلق نہیں ہے جس کے تحت تم مجھے کسی بھی وقت کال کرلو اور وہ بھی صرف اس لئے کے تمہارا دل چاہ رہا تھا۔ آئندہ مجھے بنا کسی کام کے فون مت کرنا ورنہ میں تمہیں بلاک کردونگا” حنّان نے بےتاثیر لہجے میں کہنے کے بعد کال کاٹ دی۔ مارے غصّے کے اسکی سانس تک پھول رہی تھی۔
“بھائی۔۔۔۔۔۔” اسکی پندرہ سالہ چھوٹی بہن حمنہ کمرے میں داخل ہوئی۔
“ہاں کہو”
“آپ ناشتہ نہیں کرینگے کیا؟”
“ہاں۔ بس آہی رہا ہوں”
“اچھا سنے بھائی، آج رات کے کھانے پر زوبی اور ثوبی آرہیں ہیں۔ تو آپ ذرا جلدی آئیگا” حمنہ نے کہا تو یکدم ہی اسکا موڈ خوشگوار ہوگیا
“ارے واہ،۔۔۔۔ یہ تو بہت اچھی خبر سنائی تم نے، میں پوری کوشش کرونگا کہ جلدی آجاؤں” زوبیہ اسکی بڑی بہن تھی اور ثوبیہ اسکی جڑواں بہن تھی۔ دونوں ہی خیر سے اپنے اپنے گھر کی ہوچکی تھی۔ انکی آمد پر وہ ہمیشہ ایسے ہی خوش ہوا کرتا تھا۔
دوسری طرف ماریہ اپنے موبائل کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
“تعلق ہے نہیں تو کیا ہوا؟ میں بنا لونگی” اس نے دل ہی دل میں سوچا لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ ہمیشہ وہ نہیں ہوتا جی ہم چاہتے ہیں۔
—————* —————* —————* ————–*
پورا دن آفس میں اسکا دل کسی کام میں نہیں لگا تھا۔ بلاخر جیسے تیسے وقت گزرا اور گھر جانے کا وقت ہوگیا۔ وہ پارکنگ میں آیا اور اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا۔ سارے راستے اسے صرف سامعہ کی ہی فکر ہوتی رہی تھی۔
“آخر میں کیوں اسکے سامنے اتنا روڈ ہوجاتا ہوں۔ فضول میں غصّہ آجاتا ہے مجھے۔ اس بیچاری کا قصور کیا ہے؟” عمر نے خود کا احتساب کیا تو ہر طرف سے اپنا آپ ہی قصور وار نظر آیا۔
پچھلے ایک ماہ سے اسکا یہی حال تھا۔ وہ دیکھ رہا تھا کے سامعہ نے اپنے آپ کو بدل لیا ہے۔ وہ بنا کہے اسکی ہر ضرورت پوری پوری کردیتی تھی۔ اسکے لئے ناشتہ اسکے جاگنے سے پہلے ہی تیار ہوتا، گھر آتا تو وہ خاموشی سے اسکے لئے کھانا لگا دیتی، اسکے روز آفس جانے کے کپڑے استری کر کے اسکی الماری میں رکھے ہوتے۔ وہ پچھلے چودہ سال سے اپنے ہر کام خود سے کرنے کا عادی تھا۔ اسے اس بات کی عادت نہیں تھی کے کوئی اسکا خیال رکھے، وہ اس توجہ کا عادی نہیں تھا، وہ چڑچڑا ہونے لگتا اور اسے خود بھی نہیں پتا چلتا کے ایسا کیوں ہورہا ہے۔ پھر یہ غصّہ سامعہ پر نکلتا۔ اور وہ سر جھکاے چپ چاپ سنتی رہتی۔
“کہیں میں اسکا عادی تو نہیں ہورہا” اس نے سوچا۔ اسے نہیں یاد کہ پچھلے ایک ماہ میں اس نے اپنا کوئی بھی کام خود سے کیا ہو، سب سے بڑی بات تو یہ کہ وہ سامعہ جو کبھی بھی دوپٹہ نہیں لیتی تھی۔ اب وہ اسکے ہر سوٹ کا حصّہ ہوتا تھا۔اب وہ بنا پوچھے گھر کا دروازہ نہیں کھولتی تھی۔ بھر نکلتے ہوئے سر ڈھانپ کر جاتی تھی۔ یہ سب وہ کس کے لئے کر رہی تھی۔
کیا عاصم غفور کے خوف سے؟ نہیں ایسا ہرگز نہیں تھا۔ عاصم کے ساتھ وہی ہوا تھا جو ان سب نے سوچا تھا۔ اسکے لیڈر نے اسے پارٹی سے نکال دیا تھا، پارٹی سے نکلتے ہی پولیس والوں نے اس پر مختلف کیس کھول دیے۔ مجبورا اسے کیس واپس لینا پڑا۔ اور اب تو وہ ویسے بھی پولیس والوں سے چھپتا پھر رہا تھا۔
“مجھے سامعہ سے کس بات پر چڑ تھی؟ صرف اس بات کی ناں کہ اسے اوڑھنے پہننے کی تمیز نہیں ہے۔ لیکن اب تو اس نے اپنے آپ کو بدل ہی لیا ہے۔ مجھے اس سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ میں گھر جا کر اسے سوری کہہ دونگا” عمر نے دل ہی دل میں ارادہ کیا۔ گھر پہنچ کر اس نے سب سے پہلے جا کر کپڑے چینج کئے پھر باہر آیا تو دیکھا وہ کچن میں تھی۔ وہ خاموشی سے آکر ٹیبل کی کرسی گھسیٹ بیٹھ گیا اور اسکا انتظار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہ باہر آئی تو اسکے ہاتھ میں بریانی کی ایک پلیٹ اور دوسرے میں کوک کا گلاس تھا۔ وہ عمر کو نظر انداز کرتی ہوئی ٹی وی کے سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ گئی۔ پھر اس نے ریموٹ سے ٹی وی آن کیا اور پلیٹ سے چمچ بھر بھر کہ منہ میں ڈالنے لگی۔ عمر ہکا بکا رہ گیا۔ اگلے ہی لمحے وہ سخت غصّے سے اٹھتا اسکے پاس آیا
“یہ کیا حرکت ہے؟” اسکے سر پر کھڑے ہو کر اس نے پوچھا۔ اس نے ٹی وی کا والیوم کم کیا اور سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھا
“کیا ہوا؟” جتنے اطمینان سے اس نے پوچھا تھا عمر کو تو آگ ہی لگ گئی۔
“میں آفس سے تھک کر گھر آیا ہوں اور بجاۓ مجھے کھانا دینے کے تم یہاں خود ڈرامہ لگا کر بیٹھ گئی ہو”
“تمہیں بھی کھانا کھانا تھا؟ ” اس نے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے معصومیت سے پوچھا آج وہ عمر کو زچ کرنے پر تلی ہوئی تھی۔
“تو میں کیا بھوکا رہوں گا” اسے شدید غصّہ آرہا تھا
“دیکھو میں تمہارا کھانا لگا دیتی لیکن کیا کروں صبح تم ہی نے تو کہا تھا کے یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کے تمہیں ان سب کی عادت جو نہیں ہے۔ اور بہت جلد تم مجھے چھوڑ دو گے۔ ” عمر شرمندہ ہوا
“ایم سور۔۔۔۔۔” وہ معذرت کرنا چاہتا تھا لیکن سامعہ کی فل سپیڈ سے چلتی زبان نے اسے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا
“میں نے بھی سوچا کہ جب میں نے اور تم نے ساتھ رہنا ہی نہیں تو میں یہ سب کرکے اپنا وقت کیوں برباد کروں؟ اسی لئے میں نے تمہارا کھانا فرج میں ہی رکھا رہنے دیا ہے دل چاہے تو نکال کے گرم کرنا اور کھا لینا”
“کھانا پکانے کی بھی کیا ضرورت تھی وہ بھی نہ پکاتی میں خود بنا لیتا” اسے پھر سے تپ چڑھی تو اس نے سامعہ کو شرمندہ کرنا چاہا
“اوہ ہاں، سہی کہہ رہے ہو۔ ایک کام کرو، وہ کھانا جو میں نے تمہارے لئے پیک کر کے فرج میں رکھا تھا اسے نہ نکالو میں کل دوپہر کے کھانے میں کھا لوں گی۔ اور رہی تمہاری بات تو تم ایسا کرو کے اپنے لئے خود سے کچھ پکا لو” تھوڑی دیر پہلے جو نرم گوشہ سامعہ کے لیے اسکے دل میں پیدا ہوا تھا اس پر لعنت بھیجتا وہ پیر پٹختے ہوئے کچن میں چلا گیا۔ جب کے سامعہ مزے سے بیٹھی ہنس رہی تھی۔
————–** ————–** ————–** ————–
ارسلان کے گھر میں اس وقت ویسی ہی گہما گہمی تھی جیسی شادی والے گھروں میں نظر آتی ہے۔ حنّان، عمر اور حمزہ سامان سیٹ کرنے سے لے کر لاؤنچ کی سجاوٹ کا کام دیکھ رہے تھے۔ منگنی کا چھوٹا سا فنکشن تھا جو گھر میں ہی رکھا گیا تھا۔ ویسے تو ہمیشہ لڑکے والے لڑکی کے گھر رسم کرنے جاتے ہیں مگر یہاں تھوڑی سے تبدیلی کی گئی تھی وہ اس لئے کہ اسکی دو وجوہات تھیں۔ ایک یہ کے ثنا کے گھر پر فنکشن کرنے کی جگہ نہیں تھی۔ اور اگر فنکشن ہو بھی جاتا تو پھر سارا سیٹ اپ چھت پر کرنا پڑتا اور ارسلان اس وقت سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتا تھا، اور یہی دوسری وجہ تھی۔ مگنی کا فنکشن ہال میں اس لئے نہیں کیا گیا کہ بامشکل پچاس افراد ہی مدعو تھے اور پچاس افراد کے لئے ہال بک کروانا سراسر بیوقوفی تھی۔ سو تہہ یہی پایا کے فنکشن ارسلان کے گھر ہوگا اور دلہن صاحبہ پارلر سے تیار ہوکر ڈائریکٹ یہیں آئیگی۔
اب چونکے فنکشن یہیں تھا لہذا لڑکیوں کا ڈیرہ بھی یہی پر ہی تھا۔ حریم نہا کر ابھی پہنچی تھی، لان میں قدم رکھتے ہی اسکا پہلا ٹاکرا علی سے ہوا۔ اسے دیکھتے ہی حریم نے نہایت ہی برا منہ بنایا تھا۔
“یہ تمہاری شکل ہی ایسی ہے یا پھر مجھے دیکھ کر خاص طور پر ہوجاتی ہے؟”
“مجھے تم سے بات کر کے اپنا موڈ نہیں خراب کرنا، یہ بتاؤ کے حمزہ کہاں ہے؟”
“حمزہ اندر ہی ہے لاؤنچ میں” اس نے شرافت سے جواب دیا
“تو پھر اسکی گاڑی گھر پر کیوں نہیں ہے؟”
“وہ۔۔۔۔اسکی گاڑی تو تمہارا شوہر لے کر گیا ہے”
“وہ کیوں لے کر گیا ہے؟”
“ماریہ کو لینے گیا ہے وہ بھی تو فنکشن اٹینڈ کریگی ناں”
“تو اسے حیدر کیوں لینے گیا ہے؟ خود نہیں آسکتی تھی کیا؟” حریم نے غصّے سے پوچھا تو علی نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔
“میں کیا کہہ سکتا ہیں لیکن میرا تمھارے لئے ایک مشورہ ہے” اس نے سنجیدگی کی انتہا کردی
“کیسا مشورہ؟”
“حیدر پر ذرا نظر رکھا کرو، اسکی حرکتیں درست نظر نہیں آرہی مجھے” اس وقت ملک کے مایا ناز اداکار یہاں موجود ہوتے تو یقیناً اسکی اداکاری پر اسکا منہ چوم لیتے۔
“مطلب؟ کیا کہنا چاہتے ہو تم؟”
“بھئی اب اگر تم خود نہیں سمجھنا چاہتی تو میں کیا کر سکتا ہوں؟ ” علی کندھے اچکاتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔ اندر آکر علی نے زور دار قہقہ لگایا کہ سب حیران ہوگئے۔
“کیا دورے پڑ رہے ہیں بھائی؟” ارسلان نے پوچھا
“کچھ نہیں، تو نہیں سمجھ سکتا”
دوسری طرف حریم پریشان سی کھڑی تھی کہ یہ سب ہو کیا رہا ہے
“میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی حیدر کے تم اتنی جلدی بدل جاؤ گے” اس نے دل میں سوچا جب کے صبح سے پھولوں کی دکان پر خوار ہوتے حیدر کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کے علی نے اسکے لئے کیسا طوفان کھڑا کردیا ہے؟”
—————-** —————-** —————-** ——–
حریم لاؤنچ میں بیٹھی سلاد کی ٹرے سجا رہی تھی۔ عمر اور حنّان بھی تیار ہوکر کر وہیں آگئے تھے۔ سامعہ ان دونوں کے لئے جوس بنا لائی۔
“میرا جوس کدھر ہے؟” علی نے پوچھا
“تم نے کونسا پہاڑ توڑے ہیں جو جوس چاہیے؟” حنّان نے پوچھا
“پورے بارہ لیول کلیئر کئے ہیں میں نے کینڈی کرش کے، انگلیاں دکھ گئی ہیں میری اور۔۔۔۔اور تم پوچھتی ہو کہ میں نے کیا ہی کیا ہے” علی نے صدماتی کیفیت سے کہا
“ہوگیا؟” عمر نے بیزاری سے پوچھا
“نہیں ابھی نہیں ہوا۔ پہلے اپنی بیوی سے کہو میرے لئے بھی جوس بنائے”
“کوئی جوس نہیں مل رہا تجھے منہ بند کر کے بیٹھا رہ” حمزہ نے حریم کے برابر میں بیٹھتے ہوئے کہا
“سب مل کر ایک معصوم بچے پر ظلم کر رہے ہو۔ ہاے۔۔۔۔میں کہاں جاؤں؟” علی نے دکھ سے کہا
“اور عمر۔۔۔۔۔لان میں کرسیاں لگوا دی ہیں ناں؟” حمزہ نے سلاد کی پلیٹ سے بیک وقت تین چار کھیرے اٹھاتے ہوئے عمر سے پوچھا
“ہاں سب کام ہوگئے ہیں۔ یہ بتا ارسلان تیار نہیں ہوا اب تک؟” عمر نے جواب دیا
“نہ بھائی، وہ تو ابھی تک نہا ہی رہا ہے” اب کے حمزہ نے دو تین گاجریں اٹھائی تو حریم نے زور سے اسکے ہاتھ پہ مارا
“آہ۔۔۔۔۔کیا ہوا؟” وہ چیخا
“میں نے اتنی محنت سے ٹرے سجائی ہے حمزہ اور تم نے ساری خراب کردی”
“تو ٹرے سجانے کی ضرویات ہی کیا ہے انسان نے کھانا ہی تو ہے اور کون دیکھے گا کے یہ سجی ہوئی ہے یا نہیں”
“بےکار باتیں نہ کرو حمزہ تمہیں سلاد چاہیے۔ تو یہاں سے لے لو لیکن ٹرے خراب نہ کرو”
“حیدر تم؟۔۔۔۔” حمزہ نے جواب دینے کے بجائے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو حریم نے بھی وہیں دیکھا لیکن وہاں کوئی نہ تھا۔ اتنی دیر میں حمزہ نے ساری ٹرے بگاڑ دی اور وہاں سے بھاگ گیا
“حمزہ۔۔۔۔۔۔” وہ چیخی “تم بہت بدتمیز ہو” وہ غصّے سے بولی۔
“لاؤ دو میں سجا دیتی ہوں یہ” کافی دیر سے خاموش بیٹھی رشنا نے کہا
“واہ روشن آرا! اب حمزہ کے بگاڑے ہوئے کام تم سنوارو گی؟” علی نے جتنی معصومیت سے پوچھا تھا وہاں بیٹھے ہر شخص نے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی۔ اور اگر حمزہ یہاں ہوتا تو یقیناً اسے گلے لگا لیتا۔
“فضول بکواس نہ کیا کرو ہر وقت” رشنا نے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ کہا تھا
“اس میں کیا فضول تھا؟ میں نے تو۔۔۔۔” وہ کچھ بولنا چاہتا تھا کہ عمر نے اسکی بات کاٹی
“اچھا بس۔۔۔۔ ہر وقت دوسروں کو تنگ نہ کیا کرو؟” عمر نے اسے ڈانٹا
“تو پھر کیا کیا کروں؟ ” اس نے دانت نکالے
“کسی دن تو ان سب کے ہاتھوں قتل ہوگا دیکھنا” حمزہ پھر سے نمودار ہوا
“میرا تو پتا نہیں لیکن تو ضرور اپنی بہن کے ہاتھوں قتل ہوگا” علی نے جواب دیا۔ اسی وقت لاؤنچ کے دروازے سے حیدر داخل ہوا۔ وہ اپنے گھر سے تیار ہوکر آیا تھا۔
“تو لے آیا ماریہ کو؟” علی نے شرارت سے پوچھا تو حیدر نے حیران نظروں سے اسے دیکھا
“میں کیوں لینے جاؤں گا ماریہ کو؟” اس نے پوچھا
“تُو گیا تھا نا اسے پک کرنے” علی نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے اسے کچھ سمجھانا چاہا اور وہ سمجھ گیا۔ لیکن۔۔۔۔۔ حیدر اتنا پاگل نہیں تھا اس وقت وہ علی کی بات کی تصدیق کر کے اپنے سالے کے ہاتھوں قتل ہوتا لہٰذا نارمل انداز میں اس نے کہا
“پاگل ہوگیا ہے کیا؟ میں کیوں لینے جاؤں گا اسکو؟ میں تو صبح سے پھولوں کی دکان پر خوار ہورہا ہوں شام میں گھر آکر سوگیا تھا اور پھر تیار ہوکر یہاں آگیا” وہ کہتے ہوئے حنّان کے برابر میں بیٹھ گیا۔ اسکی بات سن کر جہاں حریم کے دل سے منوں بوجھ اترا تھا وہیں اس نے علی کو سخت کینہ توز نظروں سے دیکھا تھا۔ جو پوری ڈھٹائی سے بیٹھا ہنس رہا تھا۔
“ابے یہ ارسلان کدھر ہے؟” حیدر کو ارسلان کی کمی محسوس ہوئی تو پوچھا
“تیار ہورہا ہے” عمر نے جواب دیا۔ وہ سب ہی اپنے اپنے گھروں سے جا کر تیار ہو آئے تھے۔ سواۓ علی کے کیونکہ وہ عین وقت پر تیار ہونے جاتا تھا۔
“عجیب آدمی ہے یار، اسکی منگنی پر ہم سب کام میں لگے ہوئے ہیں اور اس نے پورا دن سوتے ہوئے گزر دیا اور اب تیار ہورہا ہے۔ ” حیدر کو افسوس ہوا تھا۔
“میں نے تیرے نکاح پر کتنا کام کیا تھا بھول گیا۔ اب اگر تجھے کرنا پڑ گیا تو کونسی آفت آگئی؟” ارسلان تیار ہوکر لاؤنچ میں داخل ہوا۔ لڑکیاں وہاں سے جا چکی تھیں۔ اب وہ ہی لوگ بچے تھے۔
“لو بھائیوں! لنگڑا دولہا تیار ہے” علی نے ہانک لگائی۔
“تو چپ کرجا” ارسلان نے اسے گھورتے ہوئے کہا
کچھ دیر میں ثنا بھی پارلر سے آگئی۔ ارسلان نے بہت کوشش کی اسے دیکھنے کی لیکن لڑکیوں نے اسے دیکھنے ہی نہیں دیا۔ اور پیچھے کے دروازے سے اسکا چہرہ دوپٹتے سے ڈھانپ کے اوپر کمرے میں لے گئی۔ تھوڑی دیر میں مہمانوں کی آمد بھی شروع ہوگئی۔
———–* ———–* ———–* ———–* ———–*

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: