Urdu Novels Yaar Deewane Zeela Zafar

Yaar Deewane Novel by Zeela Zafar – Episode 6

Yaar Deewane Novel by Zeela Zafar
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
 یار دیوانے از ژیلہ ظفر – قسط نمبر 6

–**–**–

منگنی کی رسم ادا کر دی گئی تھی۔ ارسلان اور ثنا ساتھ ہی بیٹھے تھے۔ آج انکا دن تھا ہر کوئی انکی تصویریں لینے میں مصروف تھا۔ مہمان ہاتھ میں کولڈ ڈرنک کے گلاس لئے مختلف جگہوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ ایسے میں بلو کلر کی میکسی میں وہ اپنے سے دور کھڑے حنّان کو دیکھ رہی تھی۔ جو علی اور حمزہ کے ساتھ کھڑا کسی بات پر ہنس رہا تھا۔ آج تمام دوستوں نے بلیک شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔ اور اس پر تو خوب جچ رہی تھی۔ صبح جس انداز میں اس نے ماریہ سے بات کی تھی اسکا دل کرچی کرچی ہوگیا تھا۔ لیکن اس نے بھی سوچ لیا تھا۔ وہ اسکو راضی کر کے رہے گی۔
“کیا سوچ رہی ہو ماریہ؟” حیدر نے اسکے برابر کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا
“کچھ نہیں۔۔۔۔” وہ زبردستی مسکرائی
“ایک بات کہوں؟”
“ہاں کہو”
“تم۔۔۔۔۔تم حنّان کو بھول جاؤ”
“کیا؟” ماریہ نے ساکت ہوتی نظروں سے اسے دیکھا۔
“پر کیوں حیدر؟ تم نے تو کہا تھا کہ تم میری مدد کروگے”
“ماریہ! سمجھنے کی کوشش کرو، حنان کوئی کھلونا نہیں ہے جسے حاصل کرنے میں، میں تمہاری مدد کروں۔ وہ جیتا جاگتا انسان ہے اور حقیقت یہی ہے کہ وہ تم میں انٹرسٹڈ نہیں ہے۔ تم۔۔۔۔۔۔تم چھوڑ دو اسے تمہیں اس سے اچھا انسان مل جائے گا” حیدر نے سمجھانے والے انداز میں کہا
“وہ مجھے پسند نہیں کرتا ناں۔ ” اس نے آنسوؤں کو پیتے ہوئے پوچھا۔ حیدر کو افسوس ہوا۔
“وہ میرا دوست ہے اور میں اسکے بارے میں اچھے سے جانتا ہوں۔ اسے تمھارے ٹائپ کی لڑکیاں نہیں پسند آتی۔ لیکن اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم بری لڑکی ہو۔ تم بہت اچھی ہو کبھی خود کو برا نہ سمجھنا” وہ پتا نہیں کیا سمجھانا چاہ رہا تھا اسے۔ ماریہ نے بس مسکرانے پر اکتفا کیا تھا۔ دور کھڑی حریم نے آگ برساتی نظروں سے ان دونوں کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔
وہ اپنے کرتے کی آستینیں فولڈ کر رہا تھا۔ کالی شلوار قمیض اس پر خوب جچ رہی تھی۔ دور سے دیکھنے پر وہ کوئی شہزادہ معلوم ہوتا تھا۔ آستینیں فولڈ کر کے وہ کمر پر ہاتھ بند کر کھڑا ہوگیا۔ نگاہیں سامعہ کو تلاش رہی تھیں۔ نجانے وہ کہاں تھی؟ ابھی وہ اسے ہی ڈھونڈ رہا تھا کے اسکا موبائل بج اٹھا۔ کوئی انجانا نمبر تھا۔ اس نے فون اٹھا کر کان سے لگایا
“ہیلو،۔۔۔”
“عمر بات کر رہے ہو؟” دوسری طرف سے پوچھا گیا
” جی میں عمر ہی ہیں آپ کون؟” اس نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا۔ گھر میں کافی شور ہورہا تھا لہٰذا وہ فون کان سے لگائے باہر آگیا۔
“اوہ تو تم وہ ہی ہو ناں۔۔۔۔ سامعہ کے شوہر؟” اس نے قہقہ لگاتے ہوئے پوچھا
“پر تم ہو کون؟ ” اس نے اسی سنجیدگی سے پوچھا
“تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں نے کیس واپس لے لیا تو اسکا مطلب میں ڈر گیا؟ نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔ عاصم سب کچھ بھول سکتا ہے لیکن اپنی بے عزتی نہیں بھول سکتا”
“تو تم ہو؟ مجھے کیوں فون کیا ہے؟” عمر نے سخت لہجے میں پوچھا۔
“یہ بتانے کے لئے کے آج کی رات تمہاری بیوی کی زندگی کی آخری رات ہے۔” وہ کمینی ہنسی ہنسا تھا۔
“کیا بکواس کر رہے ہو؟” عمر نے غصّے سے پوچھا
“سیدھی طرح بتاتا ہوں۔ تمہاری بیوی اس وقت جس فنکشن میں موجود ہے ناں۔ وہاں میرا ایک آدمی بھی ہے اور وہ اب سے کچھ دیر بعد تمہاری بیوی کو سب کے سامنے گولی مارے گا اور تم کچھ نہیں کر سکو گے”
“تم جھوٹ بول رہے ہو” وہ چیخا
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ گڈ لک ڈیر۔۔۔۔۔” عاصم نے کہتے ہوئے فون کاٹ دیا
“ہیلو ہیلو۔۔۔۔ڈیم اٹ” عمر نے غصّے سے پاؤں پٹخا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کی وہ کیا کرے۔
کیا وہ اندر جا کر سب کو کہہ دے کہ یہاں خطرہ ہے؟ نہیں۔۔۔۔۔ اس طرح تو سب خوفزدہ ہوجائیں گے۔ اور اگر عاصم کی بات جھوٹ نکلی تو وہ سب کے سامنے شرمندہ ہوجائے گا اور ساتھ ہی ارسلان اور ثنا کا فنکشن بھی خراب ہوجاۓگا۔ لیکن۔۔۔۔۔۔ اگر یہ سچ ہوا تو؟ وہ سامعہ کے لئے کوئی خطرہ نہیں مول لے سکتا تھا۔
“میرے اللہ‎ میں کیا کروں؟” اس نے پریشانی سے ماتھ مسلا۔
“مجھے خود ہی کچھ کرنا ہوگا” وہ سوچتا ہوا گھر کے اندر داخل ہوا۔ وہاں اس نے ہر ایک مہمان کو غور سے دیکھا کوئی بھی مشکوک بندا نہیں تھا۔ سارے ہی گلی کے لوگ اور ارسلان اور ثنا کی فیملی کے افراد تھے۔
“ہو سکتا ہے اس کا بندا یہاں نہیں ہو، اس نے صرف مجھے ڈرانے کے لئے یہ کہا ہو؟ لیکن اگر وہ سچ کہہ رہا ہوگا تو؟” وہ پھر سے لان میں آیا اور مین گیٹ پر بیٹھے گارڈ کے پاس گیا
“سنو۔۔۔۔۔اگر کوئی بھی انجان آدمی گھر میں داخل ہونے کی کوشش کرے تو اسے اندر نہ آنے دینا” عمر نے اسے سمجھایا
“کوئی مسلہ ہوا ہے صاحب؟” اس نے پوچھا
“نہیں نہیں۔ ۔۔۔میں بس اسی لئے کہہ رہا تھا کہ باہر بہت سناٹا ہے۔”
“اچھا صاحب سہی ہے” وہ سمجھ گیا۔ عمر مطمئن ہوگیا۔ وہ واپس اندر آکر ان سب کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ جو علی کی باتوں سے محفوظ ہو رہے تھے۔
“ایک بات تو بتاؤ ثنا، تم اپنے نکاح پر قبول ہے کی جگہہ کیا کہو گی؟ ہائے کیوں؟” علی نے شرارت سے پوچھا
“ہوگیا؟ کرلی بکواس؟” ثنا نے سنجیدگی سے پوچھا
“نہیں ابھی نہیں ہوا، تم مجھے یہ بھی بتاؤ کہ ارسلان کے محاورے تم برداشت کیسے کروگی؟” اس نے ایک نیا سوال پوچھا
“جیسے تمہیں ہم سب برداشت کر رہے ہیں بلکل ویسے ہی” ثنا کی جگہ ارسلان نے جواب دیا
“ویسے تو نے بچپن سے آج تک جتنے محاورے بولے ہیں اگر ان سب کو ایک جگہ جمع کرلے تو آرام سے ایک لغت ایجاد کر سکتا ہے “لغتِ ارسلان” علی کی بات پر سب کی ہنسی چھوٹی تھی۔
اچانک ہی گارڈ گھر کے اندر داخل ہوا کسی کی نظر اس پر نہیں پڑی تھی سواۓ عمر کے۔۔۔۔
“یہ یہاں؟ لگتا ہے کوئی خاص بات بتانے آیا ہوگا؟” عمر نے سوچا اور گارڈ کی طرف قدم بڑھائیں۔ ابھی اس نے پہلا قدم ہی اٹھایا تھا کہ اس نے دیکھا گارڈ نے اپنی جیب سے چھوٹی سی پستول نکالی ہے اور اسے لوڈ کر کے سامعہ پر پائنٹ کرلیا ہے۔ عمر پہلے تو ساکت ہوا لیکن اگلے ہی لمحے اسکے دماغ نے کام کرنا شروع کردیا۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصّے میں ہی وہ سامی کی طرف بڑھا اور اسے زور سے دوسری جانب دھکّا دیا۔ اسی وقت گارڈ نے ایک ساتھ تین فائر کئے۔ لیکن چونکہ عمر نے سامعہ کو دھکّا دے دیا تھا اسی لئے گولی اسے نہیں لگی۔ جو جہاں تھا وہیں ساکت ہوگیا۔ سامعہ دھکا لگنے سے پاس رکھی کھانے کی ٹیبل سے جا ٹکرائی تھی۔ اس نے ماؤف ہوتے دماغ کے ساتھ مڑ کر اسے جگہ دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے وہ کھڑی تھی۔ لیکن وہاں جو منظر اس نے دیکھا اس نے اسکے پیروں تلے زمین کھینچ لی۔ عمر کی گردن اور سینے سے خون کا فوارہ بہہ نکلا تھا۔ وہ لڑکھڑاتے ہوئے زمین پر بیٹھا۔
“عمر۔۔۔۔۔۔” سب سے پہلے حمزہ کا سکتا ٹوٹا تھا۔ وہ چلاتے ہوئے عمر کی طرف بڑھا تھا۔ گارڈ نے وہاں سے بھاگنے کے لئے قدم بڑھائے لیکن علی کے دماغ نے کام کیا اور اس نے جلدی سے اسے پکڑ کر اسکی پستول چھینی اور اسے قابو کر لیا حالانکہ اس تصادم کے نتیجے میں علی کو بھی نقصان پہنچ سکتا تھا لیکن قسمت نے اسکا ساتھ دیا تھا۔ حمزہ بھاگتے ہوئے عمر کے پاس پہنچا اتنی دیر میں وہ زمین پر گر چکا تھا۔ اسکے جسم سے بہتا لہو فرش کو داغدار کر رہا تھا۔
“عمر۔۔۔۔عمر کچھ نہیں ہوگا تمہیں۔ حنان ایمبولینس بلاؤ” حمزہ نے اسکا چہرہ تھپتھپاتے ہوئے کہا کیوں کہ اسکی آنکھیں بند ہورہی تھی۔ اب جاکے سب کو ہوش آیا تھا، ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی تھی۔ لوگ خوف زدہ ہو کر پیچھے ہٹ رہے تھے۔ حیدر اور علی نے گارڈ کو قابو کر لیا تھا اور اسے یکے بعد دیگرے کئی تھپڑ لگا دیے تھے۔
“عمر اٹھو۔۔۔۔۔ آنکھیں کھلی رکھو عمر پلیز۔۔۔۔۔” ثنا اسکے پاس بیٹھ کر اسے کہنے لگی۔ وہ آنکھیں کھلی رکھنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن جسم سے کافی خون بہہ چکا تھا۔ اسے آنکھیں کھولنے میں دشواری ہورہی تھی۔
“اسے جگائے رکھنا ہے، اسے بیہوش نہیں ہونے دینا” ثنا نے گھبرائی ہوئی آواز میں کہا۔
“عمر آنکھیں کھولو۔۔۔۔۔عمر” ارسلان بھی اسے جگائے رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“ہمّت کرو عمر۔۔۔۔۔ ایمبولینس بس آرہی ہے” حنان نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے تسلی دی۔ اس کی سانسیں اکھڑنا شروع ہوگئی تھی۔ سامعہ سن سی کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی اسے جیسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے۔
“ہا۔۔۔۔۔ہانیہ۔۔۔۔۔”عمر نے ہلکے سے کہا اور پھر وہاں کھڑے ہر انسان نے اسکی آنکھوں کو بند ہوتے دیکھا تھا۔
” عمر نہیں۔۔۔۔۔اٹھو عمر۔۔۔۔” حمزہ چیخا لیکن اسکی آنکھیں بند ہو چکی تھی۔
“عمر کیا ہوا ہے؟ اٹھو عمر۔۔۔۔” حنان بھی چیخ پڑا وہ اسکا جگری یار تھا۔
سب ساکت تھے۔۔۔۔۔۔
ڈرے ہوئے، سہمے ہوئے۔۔۔۔۔۔
عمر دنیا و مافیا سے بے خبر ہوچکا تھا۔۔۔۔۔
اور اس طرح آج رات دنیا کا یہ قیدی اپنی تمام تکلیفوں سے آزاد ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔۔
زندگی اپنے دکھوں سے آزاد کردیگی۔۔۔۔۔۔۔
وہ غم سہتے سہتے چلا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے سارے راز اپنے ساتھ لے کر ہی مر جایگا۔۔۔۔۔۔
اور بلآخر آج ایک دیوانہ خاموشی سے دنیا چھوڑ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“سامی۔۔۔۔۔ کچھ تو بولو۔” حریم نے صوفے پر ساکت بیٹھی سامعہ کے ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔ اس نے بے تاثیر نظروں سے حریم کو دیکھا اور بولی بھی تو صرف اتنا
“عمر۔۔۔۔”
“وہ ٹھیک ہوجاۓ گا۔ تم دعا کرو نا اسکے لئے” ثنا نے اسے نرمی سے سمجھایا لیکن اس نے نفی میں سر ہلایا
“نہیں میں۔۔۔میں دعا نہیں مانگو گی”
“کیوں؟” ثنا نے حیرت سے پوچھا۔
“جب میں میں پیدا ہوئی تو میری ماں مر گئی۔ پھر میں جیل چلی گئی اور میری وجہ س بابا بھی مر گئے۔ اور آج میری وجہ سے عمر بھی۔۔۔۔۔” اسکے گلے میں آنسوؤں کا گولہ اٹکا تھا۔
“میں۔۔۔۔میں بہت منحوس ہوں۔۔۔۔۔میں کسی کے لئے زندگی کی دعا نہیں کر سکتی۔ ”
“ایسے نہیں کہتے سامعہ۔۔۔۔ ان شااللہ‎ وہ ٹھیک ہوجائے گا بلکل” رشنا نے اسے تسلی دی۔ اس وقت وہ سب ثنا کے گھر پر تھے۔
“تمہیں اسکے پاس جانا ہے؟” حریم نے پوچھا
“نہیں۔۔۔۔” اس نے سختی سے کہا
“پر کیوں۔۔۔۔۔”
“میں وہاں نہیں جاؤں گی۔ میں اسے مرتا نہیں دیکھ سکتی” وہ بلک بلک کے رو دی تھی۔
“کچھ نہیں ہوگا اسے، ایسے مت سوچو” شفا نے اسے پانی کا گلاس پکڑاتے ہوئے کہا تھا لیکن وہ کسی کی نہیں سن رہی تھی۔ بس روۓ جا رہی تھی۔
————* ———-* ————*————* ————
حنان کے والد ڈاکٹر عفان اپنی ٹیم کے ہمرا آپریشن تھیٹر میں تھے۔ جہاں عمر اس وقت ہوش و حواس سے بیگانہ پڑا تھا۔ اسکی کنڈیشن کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا تھا۔ گارڈ نے تین فائر کئے تھے جس میں سے صرف دو گولیاں ہی اسے لگی تھیں۔ جن میں سے ایک گردن کا گوشت پھاڑ کر گزر گئی تھی اور جو گولی سب سے خطرناک ثابت ہوئی تھی وہ اسکے سینے پر لگنے والی گولی تھی۔ جو دل کے بےحد قریب لگی تھی۔ عمر کو خون کی بھی کمی ہو رہی تھی۔ علی اور حمزہ کا خون میچ کرگیا تھا سو انہوں نے اپنا خون اسے دیا تھا۔ وہ پھر بھی ہوش میں نہیں آرہا تھا۔
“تمہارا گارڈ کیا نیا تھا؟” کوریڈور میں کھڑے حنان نے ارسلان سے پوچھا
“ہاں۔۔۔۔۔” اس نے مختصر جواب دیا
“تم لوگوں نے اسے رکھنے سے پہلے چھان بن کی تھی؟” حیدر نے پوچھا
“پرانا گارڈ اپنے چھوٹے بھائی کی شادی پر گیا تھا تو جانے سے پہلے اسے دے گیا تھا۔ اس نے کہا تھا کے یہ اسکا کزن ہے۔ ہم نے اپنی جانب سے پوری چھان بن کروائی تھی پھر ناجانے ایسا کیسے ہوگیا”
“اس نے پولیس کو بیان دیا ہے کے عاصم کے آدمی نے چند دن پہلے اس سے ملاقات کی تھی اور اسے پیسے دے کر خرید لیا تھا۔ اور وہ سامعہ کو مارنے آیا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا ہے کے واردات سے کچھ دیر پہلے عمر اسکے پاس آیا تھا اور اسے کہا تھا کے کسی بھی مشکوک آدمی کو اندر داخل نہ ہونے دے” حمزہ نے تفصیل سے بتایا۔ یہ سب باتیں اسے خالد صاحب سے پتا چلی تھیں۔
“مطلب عمر کو یہ سب پہلے سے پتا تھا؟” علی نے پوچھا
“ہاں۔ شاید۔۔۔”
“مگر اسے کیسے پتا تھا کہ یہاں سامعہ پر حملہ ہونے والا ہے؟” وہ سب ہی حیران تھے۔
“یہی تو سمجھ نہیں آرہا” حمزہ نے پریشانی سے کہا. وہ لوگ پریشان سے کھڑے تھے، تبھی ڈاکٹر عفان باہر آئے
“بابا۔۔۔۔۔کیسا ہے عمر؟”حنان نے تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے پوچھا۔
“آپریشن کر کے گولی نکل لی ہے۔ ایک گولی گردن کو چھو کر گزر گئی تھی۔ وہاں ٹانکے آئے ہیں۔ پہلے تو اسکی ہارٹ بیٹ سہی نہیں آرہی تھی۔ اب ہارٹ ریٹ ٹھیک ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔”وہ رکے۔
“لیکن کیا بابا؟”
“اسکو ہوش نہیں آرہا۔ کل تک اسکا ہوش میں آنا ضروری ہے۔ دعا کرو اسے جلدی ہوش آجائے” وہ کہتے ہوئے وہاں سے چلیں گئے۔ وہ پوری رات ان لوگوں نے کانٹوں پر گزاری تھی۔ صبح جا کر کہیں عمر ہوش آیا تھا۔ ڈاکٹر نے انھیں اسکے خطرے سے باہر ہونے کی اطلاع دے کر اسے روم میں شفٹ کردیا تھا۔ روم میں شفٹ ہونے کے بعد حنان اس سے ملنے گیا تھا لیکن وہ دواؤں کے زیراثر سورہا تھا۔ گردن پر کالر اور ناک پر کھانا پہنچانے کے لئے نلکی لگی ہوئی تھی۔ صرف چند گھنٹوں میں اسکا یہ حال ہوگیا تھا۔ حنان کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا تو وہ باہر آگیا۔
رات میں عمر کو مکمّل ہوش آیا تھا۔ سب باری باری اس سے ملنے آئے اور پھر چلے گئے۔
سب نے اسے ہمت اور تسلی دی تھی لیکن علی۔۔۔۔۔۔۔
جب علی اس سے ملنے آیا تو اس نے عمر کو کچھ اس طرح مخاطب کیا کہ۔۔۔۔
“جلدی ٹھیک ہوجا بھائی۔۔۔۔۔ورنہ لوگ کیا کہیں گے کہ علی مرتضیٰ نے ٹوٹے پھوٹے لڑکوں سے دوستی کر رکھی ہے”
“ٹوٹے پھوٹے سے تیری کیا مراد؟” اس نے علی کو گھورتے ہوئے پوچھا۔
“ایک ارسلان لنگڑا ور دوسرا تو۔۔۔۔” اس نے مزے سے جواب دیا تھا تو وہ ہنس دیا
حنان سامعہ کو اسکے پاس چھوڑ کر چلا گیا۔ ویسے تو وہ اسے صرف عمر سے ملوانے لایا تھا۔ لیکن وہ ضد کر کے یہیں رک گئی۔ اور وہاں صرف ایک بندے کو رکنے کی اجازت تھی تو مجبوراً حنان کو واپس جانا پڑا۔ عمر کی ناک سے اب نلکی ہٹا دی گئی تھی۔ البتہ کالر ویسے ہی لگا تھا۔ حنان کے جانے کے بعد سامعہ نے عمر کو خفگی سے دیکھا
“تم جانتے تھے ناں کہ وہ مجھے مارنے آیا تھا۔”
“ہاں” اس نے مختصر جواب دیا
“تو پھر مجھے مرنے دیتے ناں۔۔۔۔خود کیوں سامنے آگئے؟”
“تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں مرنے دے سکتا تھا؟” اس نے الٹا سوال کیا
“کیوں نہیں مرنے دے سکتے تھے؟”
“کیوں بتاؤں؟” اس نے شرارت سے پوچھا۔
“بتاؤ ناں۔۔۔۔۔ کیوں نہیں مرنے دے سکتے مجھے؟”
“کیوں کہ۔۔۔۔۔کیوں کہ اگر تم مر گئی تو۔۔۔۔۔۔”وہ رکا، سامعہ منتظر تھی
“تو مجھے بریانی کون بنا کر کھلاۓ گا؟ میرے کپڑے کون استری کرےگا؟ میرے لئے ناشتہ کون تیار کرےگا؟ اور۔۔۔۔۔ میرے جوتے کون پالش کرےگا؟” سامعہ جو اس سے کچھ اور ہی سننا چاہتی تھی۔ اسکے جواب پر اسے منہ کھولے دیکھنے لگی۔
“کیا ہوا؟” عمر نے اسے ہونق بنے دیکھ کر پوچھا
“تم۔۔۔۔۔تم نے مجھے اس لئے بچایا تھا؟” اس نے بےیقینی سے پوچھا
“ہاں اسی لئے بچایا تھا۔ تم کیا سمجھ رہی تھی کہ مجھے تم سے محبّت ہوگئی ہے؟” اس نے سنجیدگی سے پوچھا لیکن آنکھوں میں ناچتی شرارت سامعہ نے دیکھ لی تھی
“مجھے ایسا کچھ نہیں لگ رہا” اس نے نظریں پھیرتے ہوئے جواب دیا
“اچھا۔۔۔۔میں تو سمجھا تھا کہ تمہیں ایسا ہی لگ رہا ہے۔ ویسے اگر تمہیں ایسا ہی لگ رہا ہوتا ناں تو پھر میں تمہیں بتاتا کہ۔۔۔۔ لیکن افسوس۔۔۔۔۔”عمر نے دکھ سے کہا
“کیا بتاتے؟۔۔۔۔۔” اس نے تجسس سے پوچھا
“نہیں تمہیں تو ایسا کچھ نہیں لگ رہا تو پھر میں تمہیں اپنے جذبات بتا کر کیوں اپنا وقت برباد کروں؟” عمر اسے زچ کررہا تھا اور ایسا کرتے وہ علی کا پکاّ والا دوست لگ رہا تھا۔
“نہیں بتانا تو مت بتاؤ۔۔۔۔۔جا رہی ہوں میں” وہ چڑ کر وہاں سے جانے لگی۔ ابھی وہ دروازے تک پہنچی ہی تھی کہ عمر کی آواز نے اسکے قدم زنجیر کئے
“سنو۔۔۔۔۔اگر تم ایسا سمجھ رہی ہوتی ناں تو میں تمہیں کہتا کہ۔۔۔۔۔۔ تم بلکل درست سمجھ رہی ہو” پہلے تو وہ ساکت کھڑی رہی پھر ایک جھٹکے سے پیچھے مڑی۔ اور بے یقینی سے اسے دیکھنا لگی جو اپنی مسکراہٹ دبانے کے چکروں میں تھا۔
“یہ۔۔۔۔۔یہ تم۔۔۔۔۔ کیا کہہ رہے ہو؟” اس نے بےیقینی سے پوچھا اور اسکے پاس آکر پاس رکھی کرسی پر بیٹھی۔
“میں یہ کہہ رہا ہوں کے مجھے تمھارے ہاتھ کی بنی بریانی ساری زندگی کھانی ہے” اس نے شرارت سے کہا تو کتنے ہی لمحے وہ اسے دیکھتی رہی۔۔۔۔۔ ہوش تو تب آیا جب عمر نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی
“میڈم۔۔۔۔۔۔ آپ سے پوچھ رہا ہوں؟ ساری زندگی اپنے ہاتھ کی بنی بریانی کھلاؤ گی مجھے؟” اس نے ایک اور بار پوچھا اور اس بار سامعہ نے دیر نہیں کی۔
“ہاں۔۔۔۔۔” اس نے جلدی سے کہا۔اور اگلے ہی لمحے دونوں کھلکھلا کر ہنس دیے تھے۔
———-* ————–*————–* ————-*———
ایک ماہ بعد۔۔۔۔۔
حنان کرتے کی آستینیں فولڈ کرتے ہوئے نیچے اتر رہا تھا۔ گرے آنکھوں کے ہم رنگ شلوار کرتے میں ملبوس ساری دنیا سے بےنیاز وہ کسی سلطنت کا شہزاہ لگتا تھا۔ وہ نیچے اتر کر لاؤنچ میں آیا تو وہاں بیٹھے افراد کو دیکھ کر اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ وہاں ایک صوفے پر ماڈرن سے انکل آنٹی کے درمیان ماریہ بیٹھی مسکرا رہی تھی۔ دوسرے صوفے پر اسکے اپنے ماں باپ بیٹھے تھے۔
“اسلام علیکم۔۔۔۔۔” اس نے ان سب کو سلام کیا۔
“وعلیکم اسلام بیٹا۔۔۔۔۔ یہ حیدر کی بڑی بہن کے سسرال والے ہیں” حنان کے والد نے تعارف کرایا تو اس نے محض سر ہلایا
“بابا میں ذرا باہر جا رہا ہوں۔ تھوڑی دیر میں آجاؤں گا” اس نے ڈاکٹر عفان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اس سے پہلے کے وہ کوئی جواب دیتا ماریہ کے والد بول پڑے
“ارے بیٹا ہم تو اسپیشلی آپ سے ملنے آئے ہیں اور آپ جا رہے ہیں”
“مجھ سے ملنے؟ پر کیوں؟” اس نے سنجیدگی پوچھا
“ماریہ بہت ذکر کرتی ہے آپ کا اور خاصی تعریفیں بھی کرتی ہے۔ تو ہم نے سوچا آپ سے مل لیں” ماریہ کے والد شفقت نے کہا۔ حنان کو سخت کوفت ہونے لگی تھی۔
“حیرت ہے۔۔۔۔۔ میں تو آپ کی بیٹی کو جانتا تک نہیں پھر یہ آپ سے میری تعریفیں کیسے کرتیں ہیں؟” اسکی بات پر جہاں شفقت صاحب نے پہلو بدلہ تھا وہیں ماریہ کے چہرے پر سایہ سا لہرایا تھا۔
“بابا جان۔۔۔۔ میں جاؤں؟”
“ویسے یہ اچھی بات نہیں ہے، ہم مہمان، خاص طور پر آپ کے بیٹے سے ملنے آئے ہیں اور آپ کے بیٹے کے لئے ہماری کوئی حیثیت ہی نہیں” ماریہ کی والدہ نے ناگواری سے کہا تھا۔
“بابا جان۔۔۔۔۔ عمر آج بہت دن بعد سب کے ساتھ بیٹھا ہے۔ میرا جانا ضروری ہے” اس نے ماریہ کی والدہ کو اگنور کرتے ہوئے اپنے بابا سے بات جاری رکھی تھی جس پر انکو تو آگ ہی لگ گئی تھی۔ خود ماریہ کو بھی توہین کا احساس شدت سے ہورہا تھا۔
“ہاں بیٹا آپ جاؤ، عمر کافی دن بعد صحتیاب ہوا آپ کو اسکے پاس جانا چاہیے” ڈاکٹر عفان نے اجازت دے دی تو وہ مسکرایا
“خدا حافظ۔۔۔۔” اس نے لاؤنچ میں بیٹھے افراد پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی اور باہر نکل گیا۔
“ہم بھی چلتے ہیں اب” اسکے جاتے ہی شفقت صاحب بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔
“آپ لوگ پہلی بار آئے تھے کھانا تو کھا کر جاتے” حنان کی والدہ نے اخلاقیات نبھاتے ہوئے پوچھا
“نہیں۔۔۔۔کھانا پھر کبھی کھاۓ گے۔ اگر دوبارہ آنا ہوا تو” ماریہ کی امی نے جواب دیا۔ ویسے بھی اب یہاں بیٹھنے کے لئے ماحول سازگار نہیں تھا۔ اور تھوڑی دیر میں وہ لوگ چلے گئے۔
دوسری طرف حنان علی کے گھر آیا تو اسکا موڈ سخت آف تھا۔ وہ سب لوگ علی کے گھر پر ہی جمع تھے۔
“کیا بات ہے خان صاحب۔۔۔۔بڑے غصّے میں لگ رہے ہیں آج تو؟” علی نے اسکا سرخ ہوتا چہرہ دیکھ کر پوچھا
“کچھ نہیں۔۔۔۔۔”
“نہیں نہیں۔۔۔۔۔کچھ تو ہوا ہے” ارسلان نے بھی تائید کی
“ہاں ہوا ہے۔۔۔۔۔تو یہ بتا حیدر تیری اس دوست کو چین نہیں ہے۔ پورے کنبے کے ساتھ میرے گھر پر آگئی ہے” اس نے جتنے غصّے سے کہا تھا سب کو ہنسی آگئی تھی۔ کیوں کہ وہ کم کم ہی غصّہ کیا کرتا تھا۔
“یار تم لوگ ہنس رہے ہو؟” اس نے حیرت سے پوچھا۔
“ہمیں پتا ہے تیرے گھر میں اس وقت تیرے سسرال والے آے ہوئے ہیں” علی نے مزے سے کہا
“شٹ اپ” ۔۔۔۔
“یہاں ہمیں لڑکیاں پوچھتی نہیں ہیں۔ اور ایک تو ہے۔۔۔۔۔” حمزہ نے افسوس سے کہا
“میرا دماغ پہلے ہی خراب ہوا ہے مجھے مزید تنگ نہ کرو”
“تو پھر ہم کیا کرے تیرے لئے؟” حیدر نے پوچھا
“میری جان چھوڑاو یار اس سے۔۔۔۔۔”
“یار میں نے تو سمجھا کر دیکھ لیا لیکن وہ خود پیچھے نہیں ہٹ رہی” حیدر نے بتایا
“بھائی جو وہ کہہ رہی ہے تو وہ کیوں نہیں کر لیتا؟” علی نے پوچھا تو اس نے کھنچ کر اسے کشن مارا
“تو ٹینشن کیوں لے رہا ہے یار؟ ایک لڑکی سے اتنا ڈر رہا ہے” عمر نے اتنی دیر میں پہلی بار اسے تسلی دی
“محبت تیری دہلیز پر چل کر آرہی ہے اور تو بھاگ رہا ہے” حمزہ نے افسوس کیا
“اؤ۔۔۔بھائ۔۔۔ مجھے نہیں سمجھ آتی یہ محبت وحبت” اس نے بیزاری سے کہا
“تجھے سمجھ نہیں آتی؟ چل عمر تو سمجھا دے تو نے تو اپنی بیوی کی محبت میں گولیاں کھائی ہیں گولیاں” علی نے لفظ “گولیاں” پر زور دیا تو وہاں قہقہ پڑا۔ جب کہ عمر نے اسے گھورا تھا۔
“چل کوئی بات نہیں تو حیدر سے پوچھ لے اسے بڑا تجربہ ہوگا محبّت کا” علی نے کہا تو حیدر گڑبڑایا۔ دوست کے سامنے بیٹھ کر اسکی بہن سے عشق کی داستان سناتا کیا؟ اسی لئے فوراً بولا
“نہیں بھائی۔۔۔۔۔۔ مجھے ایسے کوئی واہیات تجربات نہیں ہیں” حیدر نے جان چھوڑائی۔
“چل لنگڑے تو ہی بتا دے” اسکی توپوں کا رخ ارسلان کی جانب مڑا۔
“یہ لنگڑا کس کو بولا بے؟” وہ برا مان گیا
“تجھے اور کس کو؟” علی اور کبھی شرمندہ ہو۔۔۔۔ناممکن ۔۔۔۔۔
“میرے پیر کو ٹھیک ہوئے بھی زمانہ ہو چکا ہے”
“زمانہ ہو چکا ہو یا سالانہ لیکن چونکہ آپ ایک بار لنگڑے ہو چکے ہیں تو اب ساری زندگی میرے لئے لنگڑا ہی رہے گے۔ چل بتا اب، تو اسکردو اغوا ہوکر گیا تھا یا منگیتر ڈھونڈنے؟ میرا مطلب کب ہوئی محبت اور کیسے ہوئی” علی نے پوچھا
“مجھے کوئی محبت نہیں ہوئی۔ بس جو پسند آئی اس سے منگنی کرلی” ارسلان نے صاف دامن بچایا
“بھئی خان صاحب۔۔۔۔۔ آپ کے تو سارے ہی دوست بےغیرت ہیں مجھے چھوڑ کر۔۔۔۔۔ کوئی بھی آپ کی مدد کرنے کو تیار نہیں” علی نے حنان کو مخاطب کیا۔
“میرے بھائی مجھے محبت کی تعریف نہیں سنی کوئی اور بات کر” اس نے بےزاری سے کہا
“میں بتاؤں محبت کیسے ہوتی ہے؟” اس آواز پر سب نے گردانیں موڑ کر دیکھا تو وہاں علی کے گھر کا سولہ سالہ ملازم ہاتھ میں چاۓ کی ٹرے لئے کھڑا رہا۔
“تو بتاۓ گا؟ چل بتا لے” علی نے اسکو اجازت دی تو وہ چاۓ کی ٹرے لے کر آگے بڑھا
“جب محبت ہوتی ہے ناں۔۔۔۔تو
سب سے پہلے محبوب کے علاوہ اور کوئی نظر نہیں آتا۔۔۔۔۔
سخت گرمی میں بھی ہوائیں چلنے لگتی ہیں۔۔۔۔۔
دل میں گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں۔۔۔۔۔۔
اور آس پاس گانے بجنے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔” اس نے سب کو باری باری چاۓ کی پالیاں دیتے ہوئے کہا۔ وہ سب حیرت سے اسے ہی دیکھ رہے تھے سواۓ علی کے۔۔۔۔۔
“تالیاں بجا دو بھائیوں۔۔۔۔ بچے نے کل سے بڑی محنت لگا کر میٹرک کی اردو کی کتاب کی شاعری یاد کی ہے۔ داد دو اسے” علی نے تالی بجاتے ہوئے کہا۔ ملازم نے منہ بنا لیا
“آپ سے تو بات ہی نہیں کرنی چاہیے” وہ بولتا ہوا وہاں سے چلا گیا
“یہ بتا۔۔۔۔ کچھ کھلانے ولانے کا بھی ارادہ ہے یا صرف چاۓ پر ہی ٹرخائے گا؟” حمزہ نے علی سے پوچھا۔
“دیکھ ماں میری ہے نہیں، دادی بوڑھی ہو چکی ہیں، بہن سوتیلی ہے۔۔۔۔۔اور مجھے کھانا بنانا آتا ہی نہیں، اس لئے تم لوگ باہر سے آرڈر کرلو اور چونکے میرا باپ مر چکا ہے اور میں ایک یتیم اور غریب لڑکا ہوں سو تم لوگ بل بھی خود ہی بھر لینا” علی نے خاصے دکھی انداز میں اپنی غربت کا نقشہ کھینچا تھا
“ٹھیک ہے سب اپنا اپنا بل پے کرینگے اور علی کیوں کہ غریب ہے سو آج وہ ڈال روٹی پر ہی اکتفا کریگا” حمزہ نے اتنے ہی مزے سے کہا
“اور چونکے میں بھی حنان طرح کنوارہ ہوں تو میرا بل بھی وہی پے کریگا” وہ علی ہی کیا جو کسی سے ہار جائے
“تجھ سے یہی امید تھی کنجوس انسان” حیدر نے اسے لتاڑا
“کنجوس تو تم لوگ ہو کمینو۔۔۔۔ جو خود شادیاں اور منگنیاں کر کے بیٹھ گئے ہی لیکن مجال ہے جو ٹریٹ دی ہو مجھے۔۔۔۔۔” بات کو گھما پھرا کر مطلب پر لانے کا گن اس میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ باقی سب بس اپنا سر ہی پیٹ سکتے تھے۔ علی کا دوست ہونا کوئی معمولی بات تھوڑی تھی۔۔۔۔۔
بڑا ہی دل گردے کا کام ہے یہ۔۔۔۔۔۔
اسکے لئے بہت ساری ہمّت چاہیے۔۔۔۔۔۔
بہت سا صبر اور تحمل چاہیے۔۔۔۔۔
اور ایک عدد دماغ جسے آپ علی جیسے بندے کے ساتھ کھپا سکیں۔۔۔۔۔
———-* ———-* ———-* ———-* ———-*——-
آج صبح سویرے اسے حمزہ اور عمر کے ساتھ این۔جی۔او جانا تھا۔ وہ NGO ارسلان کی امی کا تھا۔ وہ لوگ بھی وہاں donation کرتے تھے۔ وہاں آج وومن ڈے منایا جا رہا تھا۔ جس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ منہ پر میک اپ تھوپ کے، مردانہ ڈریسنگ کر کے، اور ہاتھوں میں اسلام مخالف اور مردوں کو نیچا دکھانے والے پوسٹرز اٹھا کر سڑکوں پر نکل جاؤ۔ بلکہ یہاں وومن ڈے کا مطلب کچھ اور ہی تھا۔ یہاں اسلامی تعلیمات سے دور خواتین کو تعلیم دی جاتی تھی، انھیں بتایا جاتا تھا کہ اللہ‎ نے گھر کی چار دیواری میں اپنا آپ چھپا کر رکھنے والی عورتوں کو مجاھدین کے برابر درجہ دیا ہے۔ وہ عورتیں جن کا کوئی کمانے والا نہیں ہوتا تھا انکی امداد کی جاتی تھی اور انھیں ہنر سکھایا جاتا تھا۔ انھیں بتایا جاتا تھا کہ عورتیں سب کر سکتی ہیں لیکن سب کرنے کے لئے اسلامی تعلیمات کو بھول جانا غلط ہے۔ اپنے دائرے اور حدود میں رہتے ہوئے سب کیا جا سکتا ہے۔
انھیں مختلف ہنر سکھانے کے لئے رقم درکار ہوتی تھی۔ جو ڈونیشنز سے پوری کی جاتی۔ انہیں وہاں مختلف ہنر سیکھائے جاتے جیسے کسی کو سلائی کڑھائی سکھائی جاتی تو کسی کو کھانا پکانا تو کسی کو مہندی وغیرہ اور کسی کو بوتیک کورس۔
آج کے دن کافی زیادہ کام تھا، ایک ایونٹ رکھا گیا تھا جہاں اسٹولز میں غریب بچیوں کے ہاتھ کی بنائی ہوئی چیزیں رکھی گئی تھی۔ ارسلان اور حیدر وہیں پر تھے انھیں بھی جا کر اپنی طرف سے ڈونیشن کرنی تھی۔ وہ وہیں جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا جب اسکی والدہ کمرے میں آئی۔
“کیسا ہے میرا بیٹا؟” انہوں نے حنان سے پوچھا
“میں ٹھیک ہوں بی جان۔۔۔۔ بس جانے کی تیاری کر رہا ہوں” اس نے مسکراتے ہوئے کہا
“بیٹا یہاں بیٹھو، میں نے ایک بات کرنی ہے تم سے” انہوں نے اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ حیران ہوتا صوفے پر بیٹھا
“کوئی مسلہ ہوا ہے کیا؟” اس نے پوچھا۔ بی جان بھی وہیں بیٹھ گئی تھی۔
“بیٹا یہ بتاؤ کیا تمہارا ماریہ سے کوئی تعلق ہے؟ کیا تم اسے پسند کرتے ہو؟” ان کے سوال پر حنان کو جھٹکا لگا تھا
“نہیں بی جان میرا اس سے کوئی تعلق کیوں ہوگا”
“بیٹا جانتے ہو وہ لوگ کل گھر کیوں آئے تھے؟”
“کیوں؟”
“اپنی بیٹی ماریہ کا رشتہ لے کر وہ بھی تمھارے لئے” انہوں نے بم پھاڑا
“واٹ؟ یہ کیا بکواس ہے؟” وہ جھٹکے سے کھڑا ہوا۔
“بیٹا برائی اس میں نہیں ہے کہ انہوں نے تمہارا رشتہ مانگا، کوئی بھی کسی کو بھی پسند کرسکتا ہے۔ عورتیں بھی شادی کا پیغام بھیج سکتی ہیں لیکن بیٹا برائی اس بات میں ہے جو انہوں نے کل کہی تھی ہم سے”
“کیسی بات؟”
“انہوں نے اپنی طرف سے بات کا آغاز کیا کہ انکو تم اپنی بیٹی کے لئے پسند ہو اور ہمارے جواب سے پہلے ہی سب خود ہی تہہ کر لیا۔ کہ وہ تمہاری شادی اپنی بیٹی سے کروا کر تمہیں کیلی فورنیا کا مائیگریشن دے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے وہیں بھیج دیں گے کیوں کے انکی بیٹی اتنے سارے لوگوں کے ساتھ نہیں رہ سکتی اور۔ دوسرا یہ کہ اسے پاکستان بھی پسند نہیں۔ ہم نے خود سے کوئی جواب نہیں دیا کہ کیا پتا تم اسے پسند کرتے ہو۔”
“نہیں بی جان۔۔۔۔ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے کے بیٹے کی پسند ایسی ہو گی۔ آپ بابا جان سے کہیں کہ فوراً انھیں انکار کریں بس۔۔۔۔۔”
“ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔۔ اللہ‎ تمہیں خوش رکھے” وہ اس کے ماتھے پر بوسہ دیتی ہوئی باہر نکل گئی۔ انکے جاتے ہی حنان نے ماریہ کا نمبر نکالا اور اسے کال ملائی ایک ہی بیل پر فون اٹھا لیا گیا
“واہ بھئی۔۔۔۔آج تو بڑے بڑے لوگ ہمیں یاد کر رہے ہیں” اسکی شوخ آواز پر حنان کا خون مزید کھولا
“تمہاری ہمّت کیسے ہوئی میرے گھر آکر میرے ماں باپ سے ایسی گھٹیا بات کرنے کی” اس نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا تھا۔
“اتنا غصّہ کیوں کر رہے ہو؟ تم نے ہی کہا تھا ناں کا میں بنا۔کسی تعلق کے تمہیں فون نہیں کرسکتی۔۔۔۔تو بس اسی لئے میں نے سوچا کہ میں۔۔۔۔”
“جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔۔” وہ حلق کے بل چیخا تھا ماریہ کو سانپ سونگھ گیا
“تمہاری اتنی اوقات نہیں ہے کہ تم حنّان خان کی زندگی میں شامل ہو۔ آج تک میں تمہیں تمیز سے سمجھاتا آیا تھا لیکن نہیں۔۔۔۔۔ تم عورتوں کی اس قماش سے تعلق رکھتی ہو جنہیں تمیز کی زبان راس نہیں آتی۔ میں نے تمہیں کہا تھا کہ میرا پیچھا چھوڑ دو۔ میں تم میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں۔ کیوں سمجھ نہیں آتی تمھارے؟ تمھارے جیسی لڑکیوں پر میں تھوکنا بھی پسند نہیں کرتا۔ تمہیں کیا لگتا تھا کہ مائیگریشن کا لالچ دے کر تم مجھے خرید لوگی مس ماریہ شفقت؟ پہلے میں تمہیں ناپسند کرتا تھا لیکن تمہاری اس نیچ حرکت کے بعد میں تم سے نفرت کرنے لگا ہوں۔ آئی جسٹ ہیٹ یو۔۔۔” حنان غصّے آپے سے باہر ہوگیا تھا۔ وہ تمیز لحاظ سب بھول گیا تھا۔ اس نے پہلی بار کسی لڑکی سے اس لہجے میں بات کی تھی۔ سب کچھ کہنے کے بعد اس نے فون کاٹ دیا۔ اسکا دماغ گھوما کر رکھ دیا تھا اس نے، وہ شدید غصّے سے گھر سے نکلا اور سامنے کھڑی حمزہ کی گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھ گیا جو اسی کے انتظار میں وہاں کھڑا تھا۔ اسے زور سے گاڑی کا دروازہ بند کرتے دیکھ آپس میں محو گفتگو عمر اور حمزہ نے چونک کر اسے دیکھا
“کیا ہوا ہے بھائی؟ گھر سے مار کھا کر آیا ہے کیا؟” حمزہ نے پوچھا
“نہیں۔۔۔۔”
“پھر کیا ہوا موڈ کیوں آف ہے؟” عمر نے پوچھا
“کچھ نہیں ہوا تم لوگ چلو” اس نے بے زاری سے کہا تو دونوں حیران ہوئے کل رات جب وہ علی کے گھر سے واپس گیا تھا تو بلکل ٹھیک ٹھاک تھا پھر ابھی کیا ہوگیا
“ٹھیک ہے۔۔۔۔۔” حمزہ نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔
وہاں پہنچ کر انہوں نے ارسلان کی امی کی مدد کی، جتنے بھی سٹالز وہاں لگ رہے تھے انکی ڈیکراٹیوشن میں مدد کروائی، مہمان خصوصی کے لئے کرسیاں لگوائی اور جب تمام کام مکمّل ہوگیا تو سب باہر آگئے کیوں کے فنکشن عورتوں کا تھا اور مردوں کی وہاں کوئی ضرورت نہیں تھی۔ وہ لوگ این جی او کی عمارت سے منسلک باغ میں آگئے جہاں اچھی خاصی رونق لگی ہوئی تھی۔
“کیا خیال ہے اب گھر چلیں؟” حیدر نے پوچھا
“ہاں چلتے ہیں۔۔۔۔۔ اوہ نہیں یار۔۔۔ میرا والٹ تو اندر رہ گیا۔” ارسلان نے جیبوں میں ہاتھ مارتے ہوئے کہا
“جا لے کرآ جلدی” حمزہ نے کہا تو وہ حیدر کو اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے اندر چلا گیا۔ عمر فون پر کسی سے بات کرنے چلا گیا جب کے حمزہ وہاں لگے خوبصورت پودوں کے ساتھ سلفیاں لینے لگا۔ حنان اکیلا ہی کھڑا تھا جب اسکی نظریں یہاں وہاں بھٹکتی ہوئی ایک منظر پر ٹہر گئی۔ وہاں بہت سارے غریب بچے ننگے پاؤں کھڑے تھے اور کچھ زمین پر بیٹھے تھے۔ وہ سب میلے کچیلے ہو رہے تھے۔ قریب ہی ایک انیس بیس سالہ لڑکی کھڑی تھی۔ سفید چوڑی دار پاجامے کے ساتھ سفید گھیر دار فراک پہنے، دونوں کلائیوں میں بھر بھر کر سفید کانچ کی چوڑیاں اور سوٹ کا ہم رنگ دوپٹہ کندھے پر ڈالے وہ وہاں موجود ہر آنکھ کا مرکز تھی۔ نیلی آنکھیں اور شہد رنگ لمبے بال، وہ یقیناً کوئی فارنر تھی جو یہاں وومن ڈے اٹینڈ کرنے کے لئے پاکستانی لباس زیب تن کئے ہوئے تھی۔
اسکے ہاتھ میں ایک ہینڈی کیمرا تھا جس سے وہ ان بچوں کی ویڈیو بنا رہی تھی۔ حنان کو شدید غصّہ آیا وہ بلا ارادہ ہی اس لڑکی کے پاس گیا۔ لیکن وہاں پہنچ کر اسے حیرت ہوئی کے وہ فارنر لڑکی اردو زبان میں بچوں سے بات کر رہی تھی
“محترمہ یہ کیا کر رہی ہیں آپ؟” حنان نے اسے اردو میں مخاطب کیا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا
“بچوں کی تصاویر بنا رہی ہوں۔ پھر اخبار میں اپنے کالم کے ساتھ دونگی۔ ” اس نے مزے سے بتایا تو حنان کا غصّہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا
“تم پاکستانی نژاد غیر ملکی لڑکیاں خود کو سمجھتی کیا ہو؟ یہاں رہنا نہیں، یہ ملک پسند نہیں لیکن یہاں کی غریب عوام کا اشتہار پوری دنیا میں لگانے کے لئے آجاتی ہو۔ کیا لگتا ہے تمہیں پاکستانی کپڑے پہننے سے یا اردو بول لینے سے تم محب وطن ہوگئی؟ جو اپنے ملک کے عیبوں پر پردہ نہیں ڈال سکتا وہ اپنے ملک سے مخلص نہیں ہو سکتا۔ کوئی ضرورت نہیں ہے ان بچوں کی ویڈیو بنانے کی” حنان نے کہا اور کہتا ہی چلا گیا جب کے وہ لڑکی دم سادھے اسے دیکھ رہی تھی۔ حنان چپ ہوا تو وہ اطمینان سے بولی
“ہوگیا؟”
“ہیں؟” اس جواب کی توقع نہیں تھی حنان کو، اسی لئے حیران ہوا
“تمہاری تصویر بنائی؟ نہیں ناں۔۔۔ تو اتنا جذباتی کیوں ہورہے ہو؟ چِل کرو۔۔۔۔” وہ سکون سے کہتی ہوئی ایونٹ میں جانے کے لئے پلٹی لیکن پھر رکی اور دوبارہ مڑ کر حنان سے بولی
“ویسے مسٹر جذباتی۔۔۔۔ کیوں ناں ایک کالم تمہارے اوپر بھی لکھ دوں۔۔۔ بنام پاکستان کی جذباتی عوام۔۔۔۔” وہ چڑانے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولی اور تیزی سے بلڈنگ میں گھس گئی۔
“تم۔۔۔” حنان اسے پیچھے سے کچھ کہنا چاہتا تھا جب ہی حمزہ نے وہاں آکر اسے روکا
“حنان کیا ہوگیا ہے پاگل ہوگیا ہے کیا؟” اس نے حیرت سے کہا
“نہیں۔۔۔دماغ خراب ہوگیا ہے میرا۔۔۔۔” وہ غصے سے کہتا پارکنگ میں چلا آیا جہاں عمر پہلے سے ہی کھڑا تھا۔
“تجھے ہوا کیا ہے؟ کس بات کا غصہ ہے تجھے؟” حمزہ اسکے پیچھے پیچھے آیا تھا۔
“کیا ہوا؟” عمر بھی حیران ہوا
“یار تو نے فضول میں اتنی باتیں سنا دی اس لڑکی کو؟ پتا نہیں کون تھی؟” حمزہ نے پوچھا
“حنان پاگل ہوگیا ہے کیا؟ کس سے لڑ کر آرہا ہے؟” عمر نے پوچھا۔ جواب میں حمزہ نے ساری بات بتائی اتنی دیر میں حیدر اور ارسلان بھی وہاں آگئے۔
“ہوا کیا ہے تمہیں؟ کل تک تو بلکل ٹھیک ٹھاک نکلے تھے علی کے گھر سے پھر اب؟” حیدر نے پوچھا
“یار اصل میں۔۔۔” حنان نے صبح ہونے والی اپنی اور بی جان کی ساری گفتگو انھیں کہہ سنائی لیکن اب کی بار کوئی بھی نہیں ہنسا تھا
“یہ تو واقعی غلط حرکت ہے۔” ارسلان نے افسوس سے کہا
“یار بجو کے ساس سسر ایسے ہی ہیں وہ تو شکر ہے وہ یہاں نہیں رہتے ورنہ بجو کا دماغ بھی خراب کر کے ہی رکھنا تھا انہوں نے”
“تم نے اسے دانٹ دیا ناں۔ بس اب بات ختم، میرا نہیں خیال کہ وہ دوبارہ ایسی کوئی حرکت کریگی” عمر نے کہا
“پہلے بھی ڈانٹا تھا ایک بار لیکن اسکے عقل میں کوئی بات ہی نہیں آتی” حنان کا غصّہ کم ہونے میں نہیں آرہا تھا
“چل یار۔۔۔۔ تو ایک لڑکی سے ڈر گیا۔ دفع کر اسے دوبارہ ایسے نہیں کریگی” حمزہ نے کہا
“میں کسی سے نہیں ڈرا،”
“سہی بات ہے ایسے کسی کے پیچھے ہاتھ دھو کر نہیں پڑ جانا چاہیے” حیدر نے بھی تائید کی۔
“وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن یہ بتا اس لڑکی کا کیا قصور تھا جسے تو اندر اتنی سنا کر آیا ہے؟ جانتا ہے وہ امی کی کلائنٹ ہے” ارسلان نے کہا
“کبھی ملے گی تو معذرت کرلونگا، ابھی علی کے گھر چلتے ہے” حنان نے کہتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولا
“ویسے علی کمینے کی کمی بڑی محسوس ہو رہی ہے۔ وہ صبح ائیرپورٹ گیا تھا اپنی بہن کو لینے اسی لئے نہیں آیا۔ اب لمبی تانے سو رہا ہوگا” حیدر نے ہنستے ہوئے کہا اور سب ہی گاڑی میں بیٹھ گئے
“دوبارہ ملے گی تو معذرت کر لونگا” یہ جملہ بولتے ہوئے حنان نے یہی سوچا تھا کے کونسا دوبارہ اس لڑکی سے سامنا ہوگا، لیکن اسے نہیں معلوم تھا کے تقدیر نے اسکے لئے کیا سوچ رکھا ہے؟
————-** ————-** ————-** ————-**
“ہاں تو میری تین عدد بھابیوں، روشن آرا اور تم چڑیل۔۔۔۔” علی نے آخری لفظ شفا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ وہ پانچوں اس وقت علی کے گھر کے لان میں موجود تھی۔
“جلدی بکو، کیا کہنے بلایا ہے ہمیں یہاں؟” شفا کو اپنے لئے چڑیل لفظ پسند نہیں آیا تھا۔
“میں نے یہ بتانے بلایا ہے کہ کل رات ہم دوستوں میں یہ تہہ پایا تھا کہ عمر ہم سب کو آج رات کا کہنا باہر کھلا رہا ہے اپنے ایمرجنسی نکاح کی خوشی میں” علی نے مزے سے کہا
“لیکن عمر نے مجھے تو نہیں بتایا” سامعہ نے حیرت کہا
“کیوں کہ وہ تم سب کو سرپرائز دینا چاہتا تھا”
“اور تمہیں شرم نہ آئی اس کا سرپرائز خراب کرتے ہوئے؟” ثنا نے اسے شرم دلانا چاہی جوکہ ایک ناممکن کام تھا۔
“جس نے کی شرم اسکے پھوٹے کرم” علی نے مزے سے کہا
“لیکن میں۔۔۔۔۔” رشنا کچھ کہنا چاہتی تھی جب ہی حمزہ کی گاڑی علی کے گھر کے دروازے پر رکی اور اس میں سے وہ سب ایک ساتھ باہر نکلے۔
“آؤ بھائیوں آؤ۔۔۔” علی نے انھیں دیکھ کر نعرہ لگایا
“یہ تو نے خواتین کی پریس کانفرنس کس خوشی میں بلائی ہے؟” ارسلان نے ان سب کو وہاں دیکھ کر پوچھا
“آج وومن ڈے ہے ناں۔۔۔۔۔ تو یہ سب خواتین ایک ایک لائن کی تقریر کریں گی”
“جی نہیں۔۔۔۔۔ پتا ہے عمر اس نے نے یہاں ہمیں تمہارا سرپرائز خراب کرنے کے لئے بلایا تھا” شفا نے جلدی سے اسکی شکایت کی۔
” تو نے بتا دیتا۔۔۔۔” عمر نے اس سے پوچھا تو اس نے سکون سے سر ہلا دیا
“علی۔۔۔۔۔ ذرا اندر آنا۔۔۔۔” گھر کے اندر سے علی کی دادی کی آواز آئی تو وہ آرہا ہوں دادی کہتا اندر بڑھا۔
“تو پھر تم سب رات کو ریڈی رہنا۔” علی کے جانے کے بعد حیدر نے کہا
“لیکن عمر۔۔۔۔۔ میں نہیں جاسکتی کیوں کہ ماما بہت بیمار ہیں۔ اور میں انھیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتی” رشنا نے عمر کو مخاطب کیا
“تھوڑی دیر کی بات ہے رشنا تم آنٹی کو ثنا کے گھر پر چھوڑ دینا” سامعہ نے کہا
“نہیں یار میں نہیں جاسکتی”
“تو ٹھیک ہے ہم کسی اور دن چلے گے” عمر نے بات ہی ختم کر دی
“نہیں نہیں۔۔۔۔۔ تم لوگ جاؤ۔ میری وجہ سے اپنا پروگرام خراب مت کرو” رشنا نے جلدی سے کہا
“کیوں تم ہماری دوست نہیں ہو کیا؟ ہم کسی اور دن چلے گے۔ اور بس۔۔۔۔۔کسی کو کوئی اعترض؟” عمر نے سب سے پوچھا
“نہیں نہیں۔۔۔۔” سب نے خوش دلی سے کہا
“لیکن علی سے پوچھ لینا اس یقیناً اعترض نہیں بلکہ اعتراضات ہوں گے” ارسلان نے ہنستے ہوئے کہا اسی وقت گھر کے داخلی دروازے سے ایک گاڑی اندر داخل ہوئی۔
“ارے۔۔۔ چھوٹی بی بی آگئی۔” پاس کھڑا بوڑھا مالی خوشی سے کہتا ہوا گاڑی کی طرف بڑھا۔ سب کی نظریں گاڑی کی طرف اٹھی
“چھوٹی بی بی مطلب علی کی بہن؟” حریم نے پرسوچ انداز میں کہا۔ گاڑی کا دروازہ کھلا سب منتظر نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔
گاڑی کے دروازے سے علی کی بہن باہر اتری اور باہر نکل کر سب سے پہلے اس نے اپنے بال پیچھے کئے جو ہوا کی چھیڑ خانی سے آگے آگئے تھے۔
(جب محبت ہوتی ہے ناں تو سب سے پہلے تو محبوب کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا) حنان کو لگا آس پاس کھڑے سب لوگ کہیں گم ہوگئے تھے۔ صرف وہ رہ گیا اور سامنے کھڑی دودھیا رنگت اور نیلی آنکھوں والی وہ لڑکی جس کی شہد رنگ زلفیں ہوا سے یہاں وہاں اڑ رہی تھیں۔
(دل میں گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں) سفید چوڑی دار پاجامے پر سفید غیر دار فراک اور دونوں کلائیوں میں بھر بھر کر سفید کانچ کی چوڑیاں پہنے وہ حنان کے دل کی گھنٹیاں بجا گئی۔
(ہوائیں چلنے لگتی ہیں اور گانے بجنے لگتے ہیں) وہ آگے بڑھی تو اسکی نظریں حنان اور اسکے دوستوں پر پڑی، انہیں دیکھ کر اسکی آنکھیں حیرت سے کھلیں۔پھر وہ تیزی سے ان تک آنے لگی۔ حنان کو اپنے ارد گرد ہوائیں چلتی محسوس ہونے لگی۔ وہ حیران تھا اپنے دل کی اس حالت پر، ابھی کچھ دیر پہلے بھی تو وہ اس سے ملا تھا لیکن تب تو اسکی یہ حالت نہیں تھی لیکن اب۔۔۔۔۔۔
جسے وہ فارنر سمجھ رہا تھا وہ فارنر نہیں تھی۔۔۔۔
اس نے کم عمری میں ہی دنیا کے بیشتر ممالک کی سیر کر لی تھی۔
اس نے یورپ کا حسن دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔
اس نے پشاور کا حسن دیکھا تھا۔۔۔۔۔
اس نے پنجاب کا حسن بھی دیکھا تھا لیکن۔۔۔۔۔
یہ حسن نہ مغرب کا تھا نہ پنجاب کا اور نہ ہی پشاور کا۔۔۔۔۔
یہ حسن تو جنّت نذیر وادی کشمیر کا تھا۔۔۔۔۔
ہاں کشمیر اگر جنّت تھا، تو وہ اس جنّت کی حور تھی۔۔
“ابے یہ تو وہ ہی ہے جسے تو نے تھوڑی دیر پہلے ٹھیک ٹھاک سنائی تھی ایونٹ میں”حمزہ کی حیرت میں ڈوبی آواز اسے ہوش میں لے آئی۔۔۔۔۔
وہ انکے قریب پہنچی اور حنان کو حیرت سے دیکھا
“یار۔۔۔۔ تم کتنے جذباتی ہو؟ مطلب۔۔۔۔۔ مجھے دانٹ کر دل نہیں بھرا تو میری شکایت لگانے میرے گھر تک چلے آے؟ واؤ۔۔۔۔امیزینگ” اس نے ستائش سے کہا۔ کیا لڑکی تھی وہ کسی بات پر ناراض ہی نہیں ہوتی تھی۔ مسکرانا اسکا شیوہ تھا شاید۔۔۔۔
“تم۔۔۔۔۔یہاں؟” حنان کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا
“اب تم یہ نہ کہنا کہ میں گھروں میں ڈاکے ڈالنے کا کام کرتی ہوں اور تم مجھ جیسی ڈاکو لڑکیوں کو بہت اچھے سے جانتے ہو۔” اس نے ہنستے ہوئے کہا باقی سب تو اسے آنکھیں پھاڑے دیکھ رہے تھے۔
“علینا۔۔۔۔” علی نے لان میں داخل ہوتے ہوئے اسے پکارا
“آگئی تم؟” وہ خوشدلی سے پوچھتا اسکے برابر میں آکر کھڑا ہوا۔
“نہیں ابھی راستے میں ہوں اور کیوں کہ ٹریفک بہت جام ہے تو گھر پہچنے میں دیر لگے گی” اس نے مزے سے جواب دیا۔ ہاں۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔ وہ علی کی ہی بہن تھی۔
“ہاں۔ تو مسٹر جذباتی۔۔۔۔آپ اپنا تعارف کروانا پسند کریں گے؟” اس نے علی کے کندھے پر کہنی ٹکاتے ہوئے حنان سے پوچھا اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتا علی بول پڑا
“یہ سب میرے دوست ہیں اور۔۔۔۔۔ انفکیٹ تمھارے بھی کیوں کہ بچپن میں تم نے ان سب کے ساتھ کھیلا ہے۔ یہ حنان ہے، یہ حمزہ اور یہ حیدر، عمر اور ارسلان” اس نے پہلے ان سب کا انٹرو کروایا۔ پھر لڑکیوں کی طرف اشارہ کیا
“یہ سامعہ ہے، یہ حریم، شفا، ثنا اور رشنا” وہ علی کے کندھے پر ہاتھ ٹکائے ان سب کا تعارف سنتی رہی پھر رشنا کو مخاطب کر کے بولی
“یار رشنا۔۔۔۔ جب میں یہاں سے جارہی تھی تب تم دس سال کی تھی تو یہ بتاؤ اس کے بعد تم بڑی نہیں ہوئی کیا؟” اس نے رشنا کے قد کو نشانہ بنایا تھا لیکن رشنا نے برا نہیں منایا بلکہ وہ اسکی بات کا مفہوم سمجھ کر مسکرائی
“خیر مذاق تھا یہ۔۔۔ تم نے میرا کھانا گرم کیا برو؟” اس نے پہلے رشنا اور پھر علی کو مخاطب کیا
“ہاں کردیا۔۔۔۔” اس نے جواب دیا تو سب کے منہ کھل گئے۔ علی اور کام؟
“ویری گڈ۔۔۔۔۔” وہ اسے شاباشی دیتی اندر جانے لگی تب ہی علی نے پیچھے سے آواز لگائی
“دو گھنٹے پہلے گرم کیا تھا اپنے لیے ساتھ تمہارا بھی کردیا تھا تم نہیں تھی تو پھر فریج میں رکھ دیا نکال کر گرم کرکے کھا لینا” علی نے شرارت سے کہا تو وہ پلٹی، نیلی آنکھوں میں شرارتی سی چمک تھی۔ بلکل ویسے ہی جیسے علی کی آنکھوں میں ابھرتی تھی۔ اسکی شرارتی آنکھیں ہو بہو علی جیسی تھیں۔
“مجھے تم سے یہی امید تھی” اس نے ہنستے ہوئے کہا اور اندر چلی گئی اور باقی سب یہ سوچ رہے تھے کہ۔۔۔۔۔ علی تو علی اب اسکی بہن بھی؟
مطلب سیر اور سوا سیر ایک ساتھ۔۔۔۔۔
اب یا تو مزہ آئے گا یا پھر عذاب۔۔۔۔۔۔
رات کا ناجانے کونسا پہر تھا جب اسکی آنکھ کھلی۔ وہ اٹھ کر بیٹھی، شدید پیاس سے اسکا حلق خشک ہورہا تھا۔ وہ اٹھ کر بیٹھی اور بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر پڑا پانی کا جگ اٹھایا۔ وہ خالی تھا،
“اوہ۔۔۔ یہ تو خالی ہے۔ اسے بھر کر لاتی ہوں” اس نے دل میں سوچا اور بیڈ سے نیچے اتری۔ نیچے اتر کر وہ پیروں میں چپل پہن رہی تھی جب ہی اسکی نظر بیڈ کی دوسری جانب پڑی۔ حیرت کا شدید جھٹکا اسے لگا تھا۔
“ماما کہاں گئی؟” اس نے خود سے سوال کیا۔ وہ اپنی ماما کے ساتھ سوتی تھی۔ اس نے باتھروم میں جھانکا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔
“ماما اس وقت کہاں چلی گئی؟” رات کے دو بج رہے تھے وہ پریشانی سے کمرے سے باہر نکل کر لاؤنچ میں آئی۔ پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ لیکن نیچے والے فلور میں روشنی کی ایک لکیر کہیں سے داخل ہورہی تھی۔
“ماما۔۔۔۔۔” اس نے پکارا پر کوئی جواب نہیں آیا۔ وہ گھبراہٹ کا شکار ہورہی تھی۔ لیکن ہمت کر کے نیچے والے فلور پر آئی۔ وہ بھی اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا بس ایک کمرے کی لائٹ جلی ہوئی تھی، اور اسکا دروازہ آدھا کھلا ہوا تھا جس سے ہلکی ہلکی روشنی باہر آرہی تھی۔
“میں تو لائٹ بند کر کے سوئی تھی پھر کس نے؟۔۔۔۔۔لگتا ہے ماما یہاں ہیں۔” اس نے دل میں سوچا اور کمرے کی طرف بڑھنے لگی۔ لیکن دروازے کے پاس آکر اسکے قدم تھامے تھے کیوں کہ کمرے سے کسی کے بولنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ وہ وہیں رک گئی اور آوازوں پر غور کرنے لگی۔
“آپ ہمیشہ کے لئے واپس آگئے ہیں؟” کپٹن رضا کی پر امید آواز آئی۔
“ہمیشہ کے لئے تو نہیں، ہاں البتہ میرا وہ مشن پورا ہوگیا ہے تو دوسرے مشن تک میں فارغ ہوں” جواب میں جو آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی اس نے رشنا کے پیروں تلے زمین کھیچ لی تھی۔ وہ آواز اسکے بابا کی تھی۔ وہی باپ جسے پچھلے دس سالوں سے سب مردہ کہتے آرہے تھے۔ وہ دروازے پر ساکت کھڑی تھی۔
“ہم نے رشنا کو ہمیشہ یہی کہا تھا کے آپ مر چکے ہیں؟” اب کے رشنا کی ماما کی آواز آئی تھی۔
“سہی کیا۔۔۔۔۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے کسی بھی دشمن کو یہ خبر ہو کہ میں زندہ ہوں” انہوں نے جواب دیا
“حسن۔۔۔۔۔ وہ آپ سے مل کر بہت خوش ہوگی۔” عشنا بیگم کی آواز آئی۔
“صرف وہ ہی ہوگی آپ نہیں ہوئی مجھ سے مل کر خوش؟” انہوں نے شرارت سے پوچھا تھا۔
“بابا ہم سب نے اسے ہمیشہ یہی کہا کہ آپ زندہ نہیں ہیں؟” رضا نے کہا
“بلکل سہی کیا” انہوں نے مختصر جواب دیا۔ اسی وقت رشنا نے دھڑ سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئی۔ سب کی نظریں اس پر پڑی
“رشنا بیٹا تم جاگ رہی ہو؟” عشنا بیگم نے پوچھا پر اسکی آنکھوں سے آنسوں رواں تھے۔
“بابا۔۔۔۔۔” اس نے بریگیڈیئر حسن کو مخاطب کیا۔ وہ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔
“دس سال بابا۔۔۔ دس سال۔۔۔۔ بہت ہوتے ہیں کسی کا انتظار کرنے کے لئے۔ میں پاگلوں کی طرح آپکا انتظار کرتی رہی اور آپ۔۔۔۔ آپ کی نظر میں میری اتنی سی بھی اہمیت نہیں کہ آپ مجھے یہ پتا چلنے دیتے کہ۔۔۔ کہ آپ زندہ ہیں۔ آپ کو کیا لگتا تھا؟ مجھے پتا چل گیا تو میں آپ کے دشمنوں کو بتا دونگی؟ مجھ سے بابا؟ ایک بارہ سال کی بچی سے خدشات تھے آپ کو؟” اسکی آنکھوں سے انگارے نکل رہے تھے۔ رضا آگے بڑھ کر اسے سمجھانا چاہتا تھا لیکن حسن صاحب نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا
“آپ کو پتا ہے جب آپ چلے گئے تھے میں کتنے عرصے تک اسکول میں چھٹی ہونے پہ دروازے پر اس امید پہ کھڑی ہوتی تھیں کہ آج آپ مجھے لینے آئے گے۔ میں نے اپنی زندگی کے کتنے اہم دن آپ کے بغیر گزرے ہیں؟ میں نے اسکول پاس کیا کالج اور پھر گریجویشن۔۔۔۔۔کتنی بھی بار مجھے آپ کی ضرورت پڑی ہوگی اور آپ کی زندگی میں میری کوئی اہمیت ہی نہیں۔ سب کو پتا تھا کہ آپ زندہ ہیں پھر مجھ سے کیوں چھپایا گیا؟ مجھے کیوں جھوٹ بولا آپ سب نے؟ میں کیا آپ کی فیملی کا حصہ نہیں ہوں؟ مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی بابا۔۔۔۔۔ نہیں تھی مجھے آپ سے یہ امید۔۔۔۔۔اس سے تو اچھا تھا کہ آپ کبھی واپس ہی نہ آتے میں ساری زندگی گزر دیتی آپ کے انتظار میں کم از کم مجھے یہ تو نہیں پتا چلتا کہ آپ نے مجھے سچ سے انجان رکھا تھا۔ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کرونگی۔ کبھی نہیں۔۔۔۔۔” وہ روتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔ باقی سب دم سادھے کھڑے تھے۔ رشنا سے ان سب باتوںکی توقع کسی کو بھی نہ تھی۔
————*————** ————** ————*———
آج وہ کافی عرصے بعد اپنے آفس جانے کے لئے تیار ہوا تھا۔ وہ من موجی ضرور تھا لیکن اپنی لاپرواہ نہیں تھا۔ وہ فیکٹری اسی لئے نہیں جاتا تھا کے پیچھے دادی اکیلے ہونگی اور وہ انھیں نوکروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ وہ احساس کرنا جانتا تھا بس باقی سب کی طرح اظہار نہیں کرتا تھا۔ اب چونکے علینا آگئی تھی تو دادی کی طرف سے وہ بےفکر ہوگیا تھا۔ لہٰذا اب وہ آفس جا رہا تھا۔ پہلے وہ آفس تب ہی جاتا تھا جب کسی کلائنٹ سے ڈیل کرنی ہوتی یا فیکٹری کے لئے کوئی مشین وغیرہ خریدنی ہوتی۔ لیکن آج سے اس نے روزانہ آفس جانے کا وعدہ کیا تھا۔ بال بنانے کے بعد اس نے پرفیوم کی آدھی بوتل خود پر سپرے کی اور گھڑی کلائی پر باندھنے لگا۔ اسی وقت علینا ہاتھ میں ایک ڈونگا لئے اسکے کمرے میں داخل ہوئی اور اسے علی بیڈ پر رکھ کر اسکے پاس آئی۔
“واہ کیا بات ہے بھئی۔۔۔۔۔”اس نے علی کو دیکھ کر ستائش سے کہا تو وہ مسکرایا
“ایک کام کیوں نہیں کرتے؟ پانی وانی چھوڑو اور پرفیوم سے ہی نہانا شروع کردو” وہ آخر علی کی ہی بہن تھی۔ بھگو بھگو کر مارنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھی۔
“کل اوپر والی ٹنکی میں بھروا دونگا” مقابل بھی پھر علی تھا۔
“ویسے اتنا چنگھاڑتا ہوا پرفیوم مار کر گھر سے نہیں نکلنا چاہیے، چڑیلیں عاشق ہوجاتی ہیں” علینا نے اسے ڈرانا چاہا۔
“آہ۔۔۔۔۔ انسان کی بچیاں تو عاشق ہوئی نہیں چڑیلیں کیا خاک ہونگی” علی نے دکھ سے ہنکار بھرا
“ہاں تو ایسی شکلوں پر چڑیلیں ہی عاشق ہوتی ہیں، انسان کی بچیاں اندھی تھوڑی ہیں” آج علی کو پتا چل رہا تھا کے اپنے ہی جیسے انسان کو ہرانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔
“اچھا دیکھو میں نے تمھارے لئے سویاں بنائی ہیں۔ تمہیں پسند ہے ناں؟ گرم ہے آؤ جلدی سے کھا لو” وہ کہ کر ڈونگے کے پاس گئی اور اس پر سے ڈھکن ہٹا کر اس میں سے ایک پلیٹ میں علی کے لئے سویاں نکالنے لگی۔” علی اسے دیکھنے لگا۔ وہ پھر سے اپنے بچپن میں پہنچ گیا تھا جب وہ صبح اسکول کے لئے تیار ہوا کرتا تھا اور اسکی امی ایسے ہی اسکے لئے سویاں تیار کر کے اسکے کمرے میں لاتی تھی۔
“علی تم تیار ہوگئے؟ چلو آؤ جلدی سے سویاں کھالو گرم گرم ہیں” وہ اسے کہتی۔
“امی آپ اتنے مزے کی سویاں بناتی ہیں میرا دل کرتا ہے کہ روز کھاؤں” وہ منہ میں سویوں سے بھرا چمچ رکھ کر بولتا تو وہ ہنس دیتی
“اچھا اگر میں نہ رہی تو تمہیں سویاں بنا کر کون کھلاۓ گا؟” وہ پوچھتیں
“آپ مجھے ساری زندگی سویاں بنا کر کھلائیں گی۔ کہیں نہیں جا رہی آپ” وہ مزے سے کہتا
اور آج کتنے سال بعد اسکے لئے کسی نے سویاں بنائی تھی۔ لوگ کہتے ہیں کہ بڑی بہن ماں کے برابر ہوتی ہے لیکن علی کہتا تھا کہ بہن چاہے بڑی ہو یا چھوٹی وہ ماں کے برابر ہی ہوتی ہے۔ جب علینا ڈونگے میں سے اس کے لئے سویاں نکال رہی تھی تو ایک لمحے کو اسے ایسا لگا جیسے اسکی ماں سامنے کھڑی ہے۔ وہ بھی تو ہوبہو ایسی ہی تھیں۔ حلانکہ وہ آئمہ کی سوتیلی بیٹی تھی لیکن اس نے حیرت انگیز طور پر ناک نقشے آئمہ کے ہی چرائے تھے حتی کہ آنکھیں بھی آئمہ جیسی نیلے رنگ کی ہی تھی۔ دیکھنے والے اسے آئمہ کی ہی بیٹی سمجھتے تھے اور وہ بھی خوشی خوشی علینا کو اپنی بیٹی بتاتی تھی اور یہ بات علینا کی سگی ماں کو ناگوار گزرتی تھی۔
“او ہیرو۔۔۔۔۔ کہاں گم ہوگئے؟” علینا نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی تو وہ ہوش میں آیا
“میں سوچ رہا تھا کہ کافی دنوں سے تمہارے ہاتھ کی بنی بریانی نہیں کھائی” اس نے کہتے ہوئے سویوں سے بھرا چمچ اپنے منہ میں رکھا تھا تو اسکی مٹھاس اسکے منہ میں گھل گئی۔ وہی ذائقہ، وہی خوشبو، وہی مٹھاس جو اسکی ماں کے ہاتھوں بنی سویوں میں ہوتی تھی۔
“تو آج دوپہر کے کھانے میں تمہارے لئے بریانی بناؤ؟” اس نے پوچھا
“نہیں یار۔۔۔۔۔ کل رات کو میں نے دادی سے بھی بریانی کی فرمائش کی تھی تو کہنے لگی کہ اگلے ہفتے بناؤں گی۔ میں نے کہا علینا بنادیگی لیکن دادی نے صاف انکار کردیا کے نہیں مطلب نہیں ہی ہوتا ہے” وہ منہ بناتے ہوئے بولا تو وہ ہنس دی
“اور تم نے ہار مان لی؟”
“تمہیں تو ہی پتا ہے کہ تمہارے بھائی کی صرف دادی کے آگے ہی نہیں چلتی”
“اور جہاں علی کی نہیں چلتی وہاں علینا کی چلتی ہے” علینا نے شرارت سے کہا تو وہ بھی مسکرایا
“تو مطلب میری بریانی پکّی؟” اس نے پوچھا
“ہاں پکّی۔۔۔۔۔ چلو اب جلدی سے سویاں ختم کرو” اس نے علی کے سر پر چپت لگائی
“ہمم۔۔۔۔ بڑا ہوں میں تم سے” علی نے اسے آنکھیں دکھائی
“پتا ہے۔۔۔ پتا ہے۔۔۔۔۔۔” اس نے ہنستے اسکے سر پر ایک اور چپت لگائی تو وہ خود بھی ہنس دیا۔
مجھے ان لوگوں کا پتہ بتاؤ جو کہتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔
سوتیلے رشتوں میں کبھی محبت ہو ہی نہیں سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔
——–*——–*——–*——–*——–*——–*———*
ہلکے آسمانی رنگ کس لباس زیب تن کئے آج وہ دل سے تیار ہوئی تھی۔ ہاتھ میں سفید پھولوں کا ایک گلدستہ تھامے وہ حیدر کے گھر آئی ہوئی تھی۔ روما سے مل کر وہ اب اسکے کمرے کی جانب جا رہی تھی۔ نیلے لباس میں اسکی کانچ سی براؤن آنکھیں اور بھی زیادہ نازک لگ رہی تھی۔
دوسری طرف حیدر فون پر ماریہ سے بات کر رہا تھا اور یہ بلکل اتفاق ہی تھا۔
“کیا حالت بنالی ہے تم نے اپنی؟ مجھے دکھ ہوتا ہے تمہیں دیکھ کر” حیدر نے افسوس سے کہا ماریہ کل سے بخار میں تھی۔ اسکی اس دن والی حرکت پر صرف حنان ہی نہیں بلکہ حیدر بھی غصّہ تھا اسی لئے اس نے خود سے ماریہ کو فون نہیں کیا تھا بلکہ اسی نے حیدر کو کال کی تھی
“نہیں ماریہ ایسی بات نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جو بھی ہوا اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں یہ سب انکل اور آنٹی کا کیا دہرا ہے۔ ” حیدر کی آواز نرم ہوئی۔
“تم بہت اچھی ہو۔ کیوں اپنے آپ کو برا سمجھ رہی ہو۔ میں جانتا ہوں، میرے دل سے پوچھو تم بہت پیاری لڑکی ہو۔ اور تم خود کو اکیلا مت سمجھو میں ہمیشہ سے تمہارے ساتھ ہوں اور ہمیشہ رہ۔۔۔۔۔” بات کرتے حیدر کی نظریں دروازے پر پتھر بنی کھڑی حریم پر پڑی تو اسکو بریک لگا
“ماریہ میں تم سے بعد میں بات کرتا ہوں۔۔۔۔۔” اس نے کہتے ہوئے فون کاٹا۔
“حریم تم کب آئی؟” اس نے حریم کی براؤن آنکھوں میں دیکھتے ہوئے خوشگواری سے کہا جو کہ اس وقت ساکت کھڑی تھی۔
“میں تو تم سے۔۔۔۔۔ اپنے کہے ہوئے الفاظ کے لئے معافی مانگنے آئی تھی۔میں تو۔۔۔۔۔۔میں تو تمہیں بتانا چاہتی تھی کہ۔۔۔۔کہ میں نے جو بھی کہا تھا صرف غصّے میں کہا تھا کیوں کہ میں حالات کو قبول نہیں کر پارہی تھی۔ میرے لئے۔۔۔۔۔ وہ سب بہت جلدی تھا” وہ رک رک کر کہہ رہی تھی کیوں کہ شاید وہ۔۔۔۔۔وہ رو رہی تھی۔ حیدر دم سادھے کھڑا تھا
“میں تمہیں بتانا چاہتی تھی کہ مجھے تمہاری فکر ہوتی ہے۔ میں روزانہ تمہارے گھر سے نکلنے کا انتظار کرتی ہوں۔ تاکہ میں تمہیں دیکھ سکوں۔ میں تمہیں یہ بھی بتانا چاہتی تھی کہ میں صرف تمہیں سوچتی ہوں، میں بھول گئی ہوں آذر کو، یہ بتانا چاہتی تھی کہ تمہیں کسی اور لڑکی کہ ساتھ ہنستا دیکھ مجھے برا لگتا ہے۔ تکلیف ہوتی ہے مجھے۔۔۔۔۔ کیوں کہ مجھے ایسا لگتا تھا کہ حیدر صرف میرا ہے، اس پر صرف میرا حق ہے۔ میں چاہے اس سے لڑوں یا اسے برا بھلا کہوں وہ مجھے کبھی نہیں چھوڑے گا۔” اسکی آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی صورت بہہ رہے تھے۔ حیدر کی تو بولتی بند تھی۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ جو وہ سن رہا ہے وہ سب حریم نے کہا ہے۔ وہ ابھی ٹھیک سے خوش بھی نہیں ہو پایا تھا کہ حریم کی دکھی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی۔
“لیکن میں غلط سوچتی تھیں۔ تم میرے نہیں ماریہ کے ہو۔ تم نے اتنی آسانی سے۔۔۔۔۔۔اتنی آسانی سے میری جگہ کسی اور کو دے دی حیدر،۔۔۔ میں تمہیں اسکے لئے کبھی معاف نہیں کرونگی۔ کبھی نہیں۔۔۔۔۔” اس نے روتے ہوئے کہا اور ہاتھوں میں پکڑا گلدستہ وہیں زمین پر پھینکتی روتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔
“حریم۔۔۔حریم میری بات سنو۔” حیدر نے اسے پکارا مگر وہ تیزی سے وہاں سے چلی گئی تھی۔
“حریم ایسا کچھ نہیں ہے یار۔۔۔۔۔ تم کتنی بیوقوف ہو” اس نے آہستہ سے کہا اور زمین پر پڑا گلدستہ اٹھایا۔ حریم وہاں سے جا چکی تھی۔
“میں تمہیں منالوں گا۔” اس نے پھولوں کو سونگھتے ہوئے دل میں کہا اور مسکرا دیا۔
————** ————** ————** ————**
شام کا وقت تھا۔ وہ اداس سی پارک میں رکھی بینچ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ دل ہر چیز سے اچاٹ ہوچکا تھا۔ تب ہی آفس سے واپس آتے حمزہ کی نظریں اس پر پڑی۔ وہ گاڑی پارک کے باہر ہی روک کر اندر داخل ہوا۔ بہت سے بچے وہاں کھیل رہے تھے۔ بلیک پینٹ پر ڈارک براؤن شرٹ پہنے، براؤن کانچ سی آنکھوں والا وہ مرد ہر نگاہ کا مرکز تھا۔
“رشنا۔۔۔۔۔یہاں کیا کر رہی ہو؟” اسکی بینچ کے پاس پہنچ کر حمزہ نے اسے مخاطب کیا تو اس نے سرخ آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“کیا ہوا ہے؟ تم رو کیوں رہی ہو؟” وہ پریشان ہوگیا
“کچھ نہیں ہوا، تم یہاں سے جاؤ اور مجھے اکیلا چھوڑ دو” اس نے رخ موڑتے ہوئے کہا
“تمہارے بابا واپس آگئے ہیں؟ تمہیں تو خوش ہونا چاہیے اور تم رو رہی ہو؟” اس نے کہا۔ سب ہی کو خبر ہو چکی تھی بریگیڈئر حسن واپس آگئے ہیں۔
“نہیں ہوں میں خوش۔۔۔۔۔” اس نے غصّے سے کہا تو وہ حیران ہوا
“پر کیوں۔۔۔۔۔”
“کیوں کہ۔۔۔۔” اس کل رات والی ساری باتیں۔ حمزہ کو بتا دی
“تم نے آدھی ادھوری بات سنی اور اپنے بابا کو اتنا سب کچھ کہہ دیا؟” حمزہ نے افسوس سے کہا تو وہ ساکت ہوئی۔
“کیا تم نے سوچا ہے رشنا کہ وہ اپنے گھر سے دور اتنے سالوں تک اکیلے کیسے رہے ہوں گے؟ تمہیں صرف اس بات کا دکھ ہے کہ سب کو انکے زندہ ہونے کی خبر تھی سواۓ تمہارے، اگر انہوں نے تمہیں انجان رکھا ہے ناں تو یقین مانو اس میں کوئی مصلحت ہوگی۔ اللہ‎ کے بعد ماں باپ ہی ہوتے ہیں جو کبھی آپ کا برا چاہ ہی نہیں سکتے۔ تمہیں نہیں بتانے میں ہی تمہاری کوئی بھلائی ہوگی۔ اور تم نے تو اتنے سال تک انکا انتظار کیا تھا پھر تم کیسے اتنا برا سلوک کر گئی انکے ساتھ؟” حمزہ کی باتیں اسے سمجھ میں آرہی تھی۔
“میں اب کیا کروں؟” اس نے پوچھا
“جا کر ان سے معافی مانگو مجھے یقین ہے کہ وہ تمہیں معاف کر دیں گے” حمزہ نے کہا اور پھر اسے خدا حافظ کہتا واپس چلا گیا۔ اور وہ کتنی ہی دیر وہاں بیٹھی اسکی باتوں کو سوچتی رہی تھی۔
———* ———** ———** ———** ———**
وہ گھر میں داخل ہوئی تو وہاں کوئی نظر نہ آیا۔ وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں آگئی۔ کمرے میں آکر اس نے اپنی چادر اتار کر بستر پر پھینکی ہی تھی کے اسکی نظریں بیڈ پر پڑی ڈائری پر گئی۔ وہ حیران سی بیڈ پر بیٹھی، ڈائری اٹھائی تو ڈائری کے نیچے ایک لفافہ رکھا ہوا تھا۔ اس نے وہ لفافہ کھولا تو اندر ایک خط تھا اس نے خط کھولا اور پڑھنا شروع کیا
رشنا میری گڑیا!
کیا تم جانتی ہو میں ایک بہت ہی اصول پسند، سنجیدہ اور مغرور انسان ہوا کرتا تھا؟ مجھے گھر میں بھی ہر چیز میرے بناۓ ہوئے اصولوں کے مطابق چاہیے ہوتی تھی۔جب بھی میری ڈیوٹی کراچی میں ہوتی تھی اور میں شام کو گھر واپس آتا تھا تو گھر میں آنے کے بعد سواۓ سلام کے اور کوئی بات نہ کرتا۔ پہلے میں یونیفارم چینج کرتا، کھانا کھاتا اور پھر رات کو چائے پیتے ہوئے گھر والوں سے صرف ضروری باتیں کر لیتا۔ میری اس روٹین میں میری شادی کے بعد بھی کوئی فرق نہ آیا حتٰی کے رضا اور عون کے آنے سے بھی نہیں۔ وہ دونوں مجھ سے ایک حد میں رہ کر ہی بات کرتے تھے اور وہ حد بھی میری بنائی ہوئی تھی۔ پھر۔۔۔۔۔ پھر تم آئی۔
تم نے آکر مجھے بدل کر رکھ دیا۔ جب تم پیدا ہوئی تھی تب میں کراچی سے باہر تھا۔ میں نے تمہیں تب دیکھا جب تم سات ماہ کی تھی۔ چھوٹی سی گڑیا جیسی، میں تمہیں گود میں لیکر کتنی ہی دیر دیکھتا رہا۔ اور پھر اس دن کے بعد سے سب کچھ بدل گیا۔ میں جو کم کم بات کرتا تھا تمہارے ساتھ ہر وقت بولتا رہتا، میں نماز پڑھتا تو تم میری پیٹھ پر چڑھ کر بیٹھ جاتی، میں آتا تو تم اپنے واکر پر میرا انتظار کر رہی ہوتی تھی، میں جیسے ہی گھر پہنچتا تم مجھے دیکھ کر خوشی سے چہکنے لگتی اور میں جو کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کرتا تھا، تمہارے سامنے سارے اصول مجھے بھول جاتے تھے، میں ان ہی کپڑوں میں تمہارے پاس آتا اور تمہیں گود میں اٹھا کر پیار کرتا تو کبھی کندھے پر بیٹھا لیتا۔ تمہیں اپنی گود میں بیٹھا کر کھانا کھلاتا۔ کبھی فرش پر لیٹ جاتا اور تم اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے میرے سر کی مالش کرتی۔ میں جو تمہاری ماں سے بھی کم کم بات کیا کرتا تھا، تمہارے آنے کے بعد مجھے احساس ہوا کے جو رویہ میں نے تمہاری ماں کے ساتھ رکھا ہوا ہے اگر کل کو کوئی تمہارے ساتھ بھی ویسا ہی رویہ رکھے تو؟ تو کیا میں برداشت کر پاؤنگا؟ عشنا بھی تو کسی کی بیٹی ہے۔ اور اس دن میں نے اپنے رویے کو تبدیل کر لیا۔ میں اسکے ساتھ ہنستا بھی تھا اور باقی دونوں کے ساتھ کھیلتا بھی تھا۔ مجھے بھی احساس ہوا کے گھر کو گھر ہی رہنے دینا چاہیے۔ آرمی کا ٹریننگ سنٹر نہیں بنانا چاہیے۔ میری بیٹی کی محبّت نے مجھے بدل کر رکھ دیا اور تم کہتی ہو کہ میری نظر میں تمہاری کوئی حیثیت نہیں؟ کوئی اہمیت نہیں تمہاری؟ کیا ایسا ہوسکتا ہے؟”
رشنا کی آنکھوں سے ایک آنسو نکل کر کاغذ پر گرا تھا۔اس نے خط پڑھنا جاری رکھا
“پھر تم نے چلنا سیکھا، تم ہر دو قدم پر گر جاتی تھی اور میں تمہیں اٹھا لیا کرتا تھا۔ اور پھر جب تم نے بولنا سیکھا تو دنیا کی ساری باتیں تمہارے پاس موجود ہوتی تھی۔ تم اپنی معصوم زبان میں مجھے دن بھر کی روداد سناتی اور میں سنتا رہتا۔ مجھے آج بھی یاد ہے وہ دن جب تم پہلی بار اسکول گئی تھی۔ تم کلاس کی کھڑکی سے مجھے ہاتھ ہلاتے ہلاتے رو پڑی تھی۔ اور میں اور عشنا ہنستے ہوئے تمہیں تسلی دے رہے تھے۔
اور پھر میری زندگی میں وہ وقت آیا جب وطن کو میری ضرورت تھی۔ تب تم بارہ سال کی تھی۔ میں اپنی بارہ سالہ شہزادی کی تصویر اپنے ذہہن کے پردے پر محفوظ کئے گھر سے نکل پڑا۔ عون اور رضا تو کیڈٹ اکیڈمی میں محفوظ تھے پر مجھے تمہاری فکر رہتی تھی۔ کوئی میرے ارادے کمزور کرنے کے لئے تمہیں نقصان پہنچائے یہ میں نہیں چاہتا تھا۔ اسی لئے میں نے یہاں مشہور کروا دیا کھ میں مرگیا ہوں۔ تاکے اگر میرا کوئی دشمن ہو تو وہ یہی سمجھے کے میں مر چکا ہوں اور تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔ رہی بات یہ کے باقی سب کو کیسے پتا چلا تو بیٹا عون اور رضا تو آرمی میں ہیں انھیں میرے بارے میں پتا چل ہی جانا تھا اور تمہاری ماں، میری بیٹی تمہاری ماں بھی تمہاری ہی طرح انجان تھی۔ کاش کہ کل رات تم پوری بات سن لیتی۔
تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں بھول گیا؟ بھلا کوئی سانس لینا بھی بھول سکتا ہے کیا؟ میں نے دس سال دیار غیر میں گزرے ہیں بیٹی، تم نے یہاں ایک آزاد زندگی گزاری ہے لیکن میرے سر پر پل پل پکڑے جانے اور گرفتار ہوجانے کا ڈر رہتا تھا۔ میں مر جاؤں پروا نہیں، لیکن کوئی مجھ سے میرے ملک کے راز لے لے یہ مجھے گوارا نہیں۔ دس سال میں کتنے ہی رمضان کتنی عیدیں آئیں ہونگی لیکن میں نے کوئی تہوار نہیں منایا صرف اپنے ملک کی خاطر، میرے ذہن میں تمہاری بس ایک ہی تصویر تھی جسے یاد کرتے ہوئے میں یہ سوچتا تھا کہ اب تم اتنی بڑی ہوگئی ہوگی، اور اب اتنی، اس سال تم نے اسکول پاس کر لیا ہوگا اور اس سال گریجوشن، کبھی سوچتا کہ تم بڑی ہوکر اپنی دادی جیسی ہوگی، تو کبھی لگتا کہ تم بلکل اپنی ماں کی ہمشکل ہوگی۔ بس ایک شبیہ تھی ذہن میں تمہاری اسی کے سہارے دس سال گزر دیے اور جب میں گھر واپس آرہا تھا تب اتنا خوش تھا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتی، اپنی گڑیا، اپنی شہزادی اور اپنی لاڈلی بیٹی سے ملنے کی خوشی نے مجھے پھر سے جوان کر دیا تھا۔ لیکن مجھے نہیں پتا تھا کہ تم مجھ سے اتنی بدگمان ہوگی۔ میری بچی اگر تمہارے باپ سے کہیں کوئی غلطی ہوئی ہو تو اسے معاف کر دینا۔
فقط
تمہارا کم نصیب باپ
کب لوٹ کے آؤں
تیرا پیار میں پاؤں
راہ واں تج دیں آکھاں
رشنا نے روتے ہوئے خط بند کیا اور ڈائری اٹھائی۔ ڈائری کے ہر صفحے پر رشنا کی تصاویر چپساں تھی۔ کسی میں وہ دو دن کی تھی۔ کسی تصویر میں وہ انکی گود میں تھی، کہیں وہ اسے کھانا کھلا رہے تھے کہیں وہ انکے کندھے پر چڑھی ہوئی تھی۔ وہ اٹھی اور دوڑتے ہوئے نیچے والے فلور پر انکے کمرے میں گئی لیکن کمرہ خالی تھا۔
“کہیں بابا واپس تو نہیں چلے گئے؟” دل میں وہمے سر اٹھانے لگے۔ اسٹڈی روم میں آئی تو وہ وہیں تھے۔ راکنگ چیئر کی پشت سے سر ٹکائے آنکھیں موندے بیٹھے تھے۔ اس نے سکھ کا سانس لیا اور اگلے ہی لمحے روتی ہوئی انکے پاس گئی اور انکے سامنے فرش پر بیٹھ کر اپنا سر انکے گھٹنوں پر رکھ دیا۔ انہوں نے آنکھیں کھولی تو سامنے رشنا روتے ہوئے دکھی۔ اس بیٹی کی آنکھ میں آنسوں، یہ تو انہوں نے ہرگز نہیں چاہا تھا۔ انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور اسے پکارا
“رشنا۔۔۔۔۔” اس نے سر اٹھایا
“بابا مجھے۔۔۔۔۔ مجھے معاف کردیں۔ میں بہت بری ہوں” وہ ہچکیوں سے رودی۔
“تم میری سب سے اچھی بیٹی ہو” انہوں نے نے اسکے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے کہا
“چلو اب رونا نہیں” انہوں نے پیار سے کہا
“اب تو آپ کہیں نہیں جائے گے نا” اس نے پوچھا
“اگر وطن کو میری ضرورت ہوئی تو ضرور جاؤں گا” انہوں نے پیار سے کہا
“اب تمہیں ہنسانے کے لئے کیا کریں؟” رضا نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا
“بابا بھیا کی شادی کرا دیں” اس نے رضا کو چھیڑنے کے لئے کہا
“ہاں ہاں۔۔۔۔۔میں تو کب سے تیار ہوں” اس نے ڈھٹائی سے کہا تو سب ہنس دیے
“چلو سب باہر آؤ۔ میں نے چائے بنائی ہے” عشنا بیگم کی آواز آئی۔ آج رشنا کو اپنا گھر مکمل لگا تھا۔
————** ————** ————** ————**
علی گھر میں داخل ہوا تو بریانی کی خوشبو پورے گھر میں پھیلی ہوئی تھی۔ اسکا دل خوش ہوگیا۔ وہ کچن میں آیا تو علینا بریانی کے قورمے پر چاول پہلا رہی تھی۔
“جیو میری بہن۔۔۔۔۔” اس نے خوشی سے کہا
“تم چینج کر آؤ جب تک میں بریانی کو دم پر رکھ دوں” علینا نے اسے دیکھ کر کہا
“دادی نے کچھ کہا نہیں” اس نے فریج سے پانی کی بوتل نکالتے ہوئے پوچھا
“دادی کو ابھی تک پتا ہی نہیں ہے کہ گھر میں بریانی پکی ہے۔ کیوں کہ وہ صبح سے سمو پھوپھو کے گھر گئی ہوئی ہیں۔” اس نے بتایا تو علی نے نہایت ہی برا منہ بنا لیا۔ سمو پھوپھو انکی سگی پھوپھو نہیں تھی بلکہ در حقیقت وہ انکی کچھ بھی نہ لگتی تھیں۔ ایک بار راستے میں مرتضیٰ نے انھیں چوروں سے بچا لیا تھا تب سے وہ مرتضیٰ کی منہ بولی بہن بن گئی تھی۔ گھر کے ہر معملات میں دخل اندازی کرنا، ہر چیز پر بےجا تنقید کرنا انکا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ اس پر سے وہ زبان کی بھی بہت تیز تھی۔ علی سے تو انکی ویسے بھی نہیں بنتی تھی کیوں کہ وہ انھیں رکھ رکھ کر جواب دیتا تھا۔ اور پھر وہ جو فساد برپا کرتی کہ الامان۔۔۔۔۔ اسکے بعد علی کو دادی سے ڈانٹ پڑتی تھی اور اس وجی سے علی جب بھی انھیں گھر پر دیکھتا وہیں سے واپس مڑ جاتا۔
“اچھا جاؤ اب چینج کر کے آؤ” اس نے علی کو وہی جمے دیکھ کر کہا۔
“کیا کروں بریانی کی خوشبو جانے ہی نہیں دے رہی۔” وہ بےبسی سے بولا تو علینا نے اسے گھورا
“اچھا جا رہا ہوں” وہ ہنستے ہوئے چلا گیا۔ علینا بریانی کو دم پر رکھ کر لاؤنچ میں آئی ہی تھی کے دروازے کی گھنٹی بجی
“کہیں دادی نہ آگئی ہوں” اس نے سوچا اور دروازے کی طرف بڑھی۔ اس نے دروازہ کھولا تو سامنے حنان کھڑا تھا۔ حنان کو امید نہیں تھی کہ وہ دروازہ کھولے گی۔ کالے رنگ کے گھیر دار فراک میں ملبوس علینا کو دیکھ کر اسکا چہرہ کھل اٹھا۔ دونوں کلائیوں میں بھر بھر کر کانچ کی کالی چوڑیاں پہنی ہوئی تھیں۔ چوڑیاں اسے بہت پسند تھیں شاید۔۔۔۔۔نیلی آنکھوں میں حنان کو دیکھ کر شرارت چمکی تھی۔
“ارے مسٹر جذباتی تم؟” اس نے شریر مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے کہا
“میرا نام حنان ہے” حنان نے تصیح کی
“اوکے۔۔۔ مسٹر حنان جذباتی کس سے ملنا ہے تمہیں” اس نے مزے سے پوچھا
“دوسروں کا نام بگاڑنا تم دونوں بہن بھائیوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے کیا؟” حنان کو اس سے بات کرنے میں مزہ آرہا تھا۔
“نہیں۔۔۔۔۔ یہ ہماری فطرت ہے۔ خیر تم اندر آؤ علی اوپر ہے اپنے کمرے میں” وہ بتاتی ہوئی سامنے سے ہٹ گئی۔ تاکے وہ اندر جاسکے حنان اوپر جانے لگا ہی تھا جب علینا چیخی۔
“ہائے اللہ! میری بریانی۔۔۔۔” وہ فور جی کی سپیڈ سے بھاگتی ہوئی کچن میں گئی۔ اسکے بچپنے پر حنان مسکراتا ہوا علی کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
“ارے۔۔۔۔ارے خان صاحب آئے ہیں۔” وہ جیسے ہی علی کے کمرے میں داخل ہوا علی نے نعرہ لگایا۔ نیچے بہن اوپر بھائی، حنان کو سچ میں اپنا آپ مظلوم لگنے لگا تھا۔
“تم سے رات کے بارے میں پوچھنا تھا۔ میری گاڑی خراب ہوگئی ہے تو رات کو میں تمہارے ساتھ جاؤں گا” حنان نے کہا
“رات کو کہاں جانا ہے؟” علی نے ناسمجھی سے پوچھا
“عمر ہمیں ریسٹورانٹ لے کر جا رہا ہے بھول گیا کیا”
“اوہ ہاں۔۔۔۔۔میں بھول گیا تھا۔” وہ کہہ کر دراز میں کچھ تلاشنے لگا۔
“کیا ڈھونڈ رہا ہے؟”
“سگریٹ۔۔۔۔” اس نے جواب دیا
“تجھے کتنی دفعہ کہا ہے مت پیا کر” حنان نے خفگی سے کہا
“اور میں نے آپ کی سن لی” علی نے اسے چھیڑتے ہوئے دوسرا دراز کھولا تو پہلے تو حیران ہوا پھر مسکرایا
“کیا ہوا؟ کیا دکھ گیا دراز میں؟” حنان نے اسے وہیں جمے دیکھ کر پوچھا پھر اٹھ کر اسکے پاس آیا اور دراز میں جھانکا۔ دراز پوری خالی تھی اور اس میں ایک پرچی لگی ہوئی تھی جس پر کالے رنگ کے مارکر سے جلی حرف میں لکھا ہوا تھا
“سگریٹ نوشی صحت کے لئے مضر ہے۔ (وزارت صحت)”
“یہ کس نے کیا ہے؟” حنان نے پرچی نکالتے ہوئے پوچھا
“ظاہر ہے۔۔۔۔۔علینا نے۔۔۔لیکن میں بھی علی مرتضیٰ ہوں۔ میرے دماغ تک کسی کی رسائی ممکن نہیں۔” وہ کہتے ہوئے الماری کی جانب بڑھا اور ایک خفیہ دراز کھولنے لگا
“اوہ۔۔۔۔۔ تو تُو نے یہاں بھی سگریٹ چھپا کر رکھی ہے” حنان سمجھ گیا
“ہاں۔۔۔۔۔ یہ کیا۔۔۔؟” بولتے بولتے علی اچھل پڑا۔
“اب کیا ہوا؟” علی نے دراز سے ایک اور چٹ باہر نکالی جس پر لکھا ہوا تھا
“میں بھی علینا مرتضیٰ ہوں۔ تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں” پرچی پڑھ کر حنان کی ہنسی چھوٹ گئی۔ علی وہ چیٹ لے کر نیچے بھگا
“علینا۔۔۔۔علینا” وہ ٹیبل پر بریانی کی ٹرے رکھ رہی تھی۔
“کیا ہوا؟”
“یہ کیا ہے؟” علی نے پرچی اسکی آنکھوں کے کے سامنے لہرائی۔ حنان بھی وہیں آگیا تھا اسے ان دونوں کو لڑتے ہوئے دیکھنا تھا، اسے دیکھنا تھا کے تیتر اور بٹیر کی اس لڑائی میں کون فاتح ٹھرے گا؟
” کاغذ ہے” علینا نے چہرے پر وہ معصومیت سجا لی کہ جیسے علی اسے جانتا نہ ہو
“میری سگریٹ کہاں ہے؟”
“میں نے دے دی”
“کس کو دے دی؟ مجھے واپس لا کر دو فورا”
“بھئی اب تو میں نے دے دی نا۔ اور جسے دی ہے وہ کل آئے گا تو تم کل لے لینا اس سے واپس”
“لیکن تم نے دی کس کو ہے؟”
“مشعل جاوید کے شوہر کو”
“کون مشعل جاوید؟”
“جاوید مسیح کی بیوی”
“کون جاوید مسیح؟” وہ جھنجھلایا
“محلے کا نیا جمعدار”
“تم نے جمعدار کو دے دی” علی کو صدمہ پہنچا۔ جب کے حنان کا چہرہ ضبط سے سرخ ہورہا تھا۔ وہ کسی بھی وقت قہقہ لگا کر ہنسنے والا تھا
“ہاں، اور تم آیندہ اس گھر میں سگریٹ لاۓ ناں تو میں ان سب کے ساتھ بھی وہی حشر کرونگی” اس نے انگلی اٹھا کر وارننگ دی۔اس سے پہلے کے علی کچھ کہتا اس کی دادی وہیل چیئر گھسیٹتے ہوئے اندر داخل ہوئی۔
“اوہ شیٹ۔۔۔۔۔ دادی آگئی۔” علی نے پریشانی سے کہا۔ دادی کی نظریں بریانی پر پڑ گئی
“ہاے۔۔۔۔یہ بریانی کس نے بنائی میرے منع کرنے کے باوجود” انہوں نے کڑی نظروں سے ان دونوں کو دیکھا
“وہ دادی۔۔۔۔۔ میں آپ کو بتاتی ہوں” علینا نے دادی کو مخاطب کیا
“کل میرے خواب میں دادا آئے تھے۔”
“ہیں؟ کیا کہ رہے تھے؟” دادی نے جلدی سے پوچھا
“وہ یہیں۔۔۔۔۔ادھر ہی تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا دادا کچھ کھانے کو لاؤں؟ تو کہنے لگے نہیں بیٹا کھانا کھانے نہیں آیا، بس تمہاری دادی کو لینے آیا ہوں انہیں بلا دو” اسکی بات سن کر دادی اچھل پڑی
“آئے ہائے۔۔۔۔۔ مجھے کیوں لے جانے لگے وہ؟ ابھی میری عمر ہی کیا ہے” دادی بیچاری تو پریشان ہوگئی۔ جب کے باقی دونوں دم سادھے علینا کی آسکر ایوارڈ جیت لینے والی ایکٹنگ دیکھ رہے تھے۔
“وہ ہی تو دادی میں نے ان سے یہی کہا لیکن وہ آپ کو لے جانے پر بضد تھے بڑی مشکلوں سے اس شرط پر مانے ہیں کہ آج تم اپنی دادی کو میری خواہش پر بریانی بنا کر کھلاؤ تاکے انھیں یاد رہے کے میں انکا مرحوم شوہر انھیں جنّت میں بڑا یاد کرتا ہوں” علینا نے دکھ بھرے لہجے میں کہا تو دادی نے آنسوں پونچھے
“ہائے کم بختوں۔۔۔۔ اگر بریانی بنا ہی لی تھی تو کوئی اور جھوٹ بول دیتے، میرے مرحوم شوہر پر کیوں الزام دھر رہے ہو؟” انکی بات پر جہاں علینا کا منی کھلا تھا وہیں علی اور حنان کے منہ سے ہنسی کا فوارہ پھوٹا تھا۔
“اور تو کیا ہنس رہا ہے؟ ہیں؟ یہ سب تیرا کیا دھرا ہے” انہوں نے اپنی لاٹھی علی کے پاؤں پر ماری لیکن وہ ڈھیٹ بنا ہنستا رہا۔ یقیناً آپ ے سوچ رہے ہونگے کے دادی کو لاٹھی کی کیا ضرورت؟ کیوں کہ وہ وہیل چیئر پر تھی، لیکن یہ لاٹھی نما چھوٹا ڈنڈا وہ علی کی بروقت مرمت کے لئے رکھتی تھی۔
“تم دونوں کچھ بھی کرلو مجھے بیوقوف نہیں بنا سکتے۔چلو اب کھانا کھاؤ سکون سے” وہ کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔
“پتا ہے خان صاحب صبح کوئی کہہ رہا تھا کہ جہاں علی کی نہیں چلتی وہاں علینا کی چلتی ہے” علی نے مخاطب حنان کو کیا تھا لیکن چڑایا اس نے علینا کو تھا
“تمہیں تو میں ابھی بتاتی ہوں” علینا کہتی ہوئی علی کو مارنے لپکی لیکن وہ بھاگ نکلا۔ اب علی آگے آگے اور علینا پیچھے پیچھے تھی
“میں جا رہا ہوں دروازہ بند کر لینا” حنان نے ہنستے ہوئے کہا اور ان دونوں کو لڑتا چھوڑ کر باہر نکل گیا جو اب کشن سے ایک دوسرے کی دھلائی کرنے میں مصروف تھے۔
—————-** —————-** —————-** ——–

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: