Urdu Novels Yaar Deewane Zeela Zafar

Yaar Deewane Novel by Zeela Zafar – Episode 7

Yaar Deewane Novel by Zeela Zafar
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
 یار دیوانے از ژیلہ ظفر – قسط نمبر 7

–**–**–

“نہیں حریم تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی حیدر ایسا نہیں کر سکتا” حمزہ نے اپنے سینے سے لگی روتی ہوئی حریم کو سمجھانے کی کوشش کی
“اس نے ایسا کیا ہے؟”
“دیکھو اگر اس نے سچ میں میری بہن کو دھوکہ دیا ہے ناں تو میں اسے چھوڑوں گا نہیں، لیکن ایک مرتبہ اسکی بھی پوری بات سننی چاہیے ناں” حمزہ نے اسکا سر سہلایا
“جاؤ پوچھ لو اس سے، وہ انکار نہیں کریگا” وہ روتی ہوئی اس سے الگ ہوئی۔ حمزہ کو دکھ ہوا۔ پتا نہیں حریم کے نصیب میں اتنے آنسوں کیوں تھے؟ اگلے ہی لمحے اسے شدید غصّہ چڑھا تھا۔ حیدر کی ہمّت کیسے ہوئی اسکی بہن کو رلانے کی؟ وہ اٹھ کھڑا ہوا
“کہاں جا رہے ہو؟” اسے اٹھتا دیکھ کر حریم نے پوچھا
“میں حیدر سے پوچھنے جا رہا ہوں کہ اگر یہی سب کرنا تھا تو میری بہن سے شادی کیوں کی؟” وہ غصّے سے کہتا باہر نکل گیا۔ حریم کو خوف محسوس ہوا۔ حمزہ غصّے کا تیز تھا اور حریم کے معاملے میں کچھ زیادہ ہی تھا؟ کہیں وہ حیدر سے جھگڑنا نہ شروع کردے؟ اب حریم کو سہی معنوں میں فکر ہورہی تھی۔
دوسری طرف حمزہ حیدر کے گھر پہنچا جہاں ارسلان، علی اور حیدر گھر کے باہر ساتھ ہی کھڑے تھے۔ وہ لوگ آج عمر کی طرف سے دی جانے والی دعوت میں ساتھ جا رہے تھے۔ حمزہ انکے پاس پہنچا
“یہ سب کیا ہے؟” حمزہ لاکھ غصّے کا تیز سہی، لیکن وہ اتنا جلالی نہیں تھا کہ پوری بات جانے بغیر ہی اس سے لڑ پڑتا ہاں لیکن اسکے چہرے پر سختی ضرور تھی۔
“کیا سب؟” وہ حیران ہوا۔
“یہ ماریہ کا کیا قصہ ہے؟”
“یار یہ سب علی کا آئیڈیا تھا۔” اسے سب سمجھ آگیا
“مطلب؟” اس نے ناسمجھی سے پوچھا
“دیکھو ہوا یہ کے میرے نکاح سے پہلے حریم نے۔۔۔۔۔۔۔” حیدر نے اسے ساری بات بتا دی۔ تو حمزہ ڈھیلا پڑا۔
“تو یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ فضول میں غصہ دلا دیا مجھے” حمزہ نے اسکے پیٹ میں گھونسا جڑ دیا
“چل معاف کر دے۔ ایسا نہیں کرتے تو حریم نے ساری زندگی آذر کو نہیں بھولنا تھا” حیدر ہنستے ہوئے بولا
“یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔میں یہ مشورہ نہ دیتا تو حریم نے کبھی ٹھیک نہیں ہونا تھا۔ ” علی نے فخریہ کہا
“ہاں تیری وجہ سے میری بیوی مجھ سے ناراض ہوگئی ہے۔ ” حیدر نے اسے گھورا
“ویسے علی کو کسی دن زہر دے کر مار دینا چاہیے۔ نہ رہے گا بانس نا بجے گی گھنٹی” آپ سمجھ تو گئے ہی ہونگے یہ ڈائلاگ کس نے بولا ہوگا
“تو پہلے اپنے محاورے درست کر لے لنگڑے” علی نے اسے لتاڑا
“لڑکوں تیار ہو؟” عمر اور حنان بھی وہیں آگئے
“ہم تو تیار ہے بھائی، خواتین کا کچھ اتا پتا نہیں ہے” ارسلان نے جواب دیا
“کس نے کہا ہمارا اتا پتا نہیں ہے۔ ہم بھی تیار ہیں” شفا کی آواز پر سب نے مڑ کر دیکھا تو وہ پانچوں وہیں تھیں اور بلکل تیار تھیں۔ حیدر نے دیکھا حریم کی آنکھیں سوجی ہوئی تھی
“چلو پھر نکلتے ہیں۔ ویسے علی تم علینا کو بھی لے آتے” عمر نے علی کو مخاطب کیا۔
“نہیں یار۔۔۔۔۔ اسے اپنی دوست کے گھر جانا تھا اسی لئے نہیں آئی” اس نے جواب دیا۔ باری باری سب گاڑی میں بیٹھنے لگے۔ کل تین گاڑیاں نکلی تھی وہاں سے، ریسٹورانٹ پہنچ کر سب نے خوش گوار ماحول میں کھانا کھایا۔ سواۓ حریم کے، اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کے حمزہ گھر سے اتنے غصّے میں نکلا تھا پھر اب حیدر سے اتنا ہنس ہنس کر کیسے بات کر رہا ہے؟
“پتا نہیں کونسی پٹی پڑھا دی ہے حیدر نے اسے” حریم نے دل میں سوچا۔ کھانا کھانے کے بعد جب سب پارکنگ میں آئے تو ثنا نے ارسلان سے گاڑی کی چابی لے لی
“ہم سب لڑکیاں ایک ہی گاڑی میں جائیں گی” ثنا نے کہا
“پہنچ کر بتا دینا” حمزہ کو فکر ہوئی۔
“اگر سہی سلامت پہنچ گئی تو ضرور بتاۓ گی” علی کی زبان میں کھجلی ہوئی۔
“بندے کی شکل اچھی نہ ہو تو اسے بات اچھی کر لینی چاہیے” رشنا نے برا سا منہ بنایا تھا۔
“اچھا روشن آرا!۔۔۔۔ اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟” علی نے پوچھا
“چلو بحث ختم کرو اور گھر چلو” عمر نے بحث ختم کروائی پھر تمام لڑکیاں ارسلان کی گاڑی میں بیٹھ گئی جو کہ ثنا ڈرائیو کر رہی تھی۔ حیدر، حمزہ اور ارسلان ایک ہی گاڑی میں تھے جو حیدر کی تھی۔ وہ لوگ بھی نکل گئے تھے۔
اب عمر، حنان اور علی رہ گئے تھے۔ وہ لوگ بھی بس نکل ہی رہے تھے۔ لیکن عمر کی گاڑی کا ٹائر پنکچر تھا۔ عمر نیا ٹائر لگانے لگا۔ جب ہی اسکی نظریں پارکنگ میں بیٹھے ایک بوڑھے فقیر پر پڑیں۔ جس کے کپڑے میلے کچلے اور کہیں کہیں سے پھٹے ہوئے تھے۔ وہ آنکھیں پھاڑ کر اس فقیر کو دیکھنے لگا
“تیری سگریٹ تو بند ہوگئی ہوگی؟” حنان اور علی، عمر کی طرف متوجہ نہ تھے
“ہاں ناں۔۔۔۔ علینا نے منع کر دیا سگریٹ پینے سے” اس نے منہ بنایا
“اور تو راضی ہوگیا” حنان نے پوچھا
بوڑھے فقیر کے قریب کسی نے تھیلی میں بند ہوا خراب کھانا پھینکا۔ کھانا ہر طرف بکھر گیا۔ فقیر زمین پر بکھرے کھانے کی جانب بڑھا
“کیسے نہ ہوتا راضی؟ ایک ہی تو بہن ہے میری اور وہ بھی اتنے عرصے بعد ملی ہے مجھے اسکی نہیں سنوں گا تو کس کی سنوں گا” علی کے لہجے میں بہن کے لئے صرف محبّت تھی۔ حنان کچھ کہنا چاہتا تھا تب ہی اسکی نظریں عمر پر پڑی جو کسی ٹرانس کی کفیت میں اس فقیر کے پاس جا رہا تھا۔
“عمر۔۔۔۔” حنان نے اسے آواز دی پر وہ نہ رکا
“یہ کہاں جا رہا ہے؟”علی نے پوچھا اور وہ دونوں اسکے پیچھے گئے تب تک عمر اس فقیر کے پاس پہنچ چکا تھا جو زمین پر بکھرے چاولوں کو اکھٹا کر رہا تھا۔ عمر نے اسکے قریب بیٹھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ فقیر نے چونک کر سر اٹھایا اور عمر کو دیکھا
“اب۔۔۔۔ابّو” عمر کے منہ سے نکلنے والے الفاظ نے اسکے پاس آتے حنان اور علی کے قدم زنجیر کر دیے۔ فقیر نے اسے غور سے دیکھا لیکن اسکی آنکھوں میں سناشائی کی رمق تک نہ تھی۔ وہ پھر سے چاولوں کی طرف متوجہ ہوا اور زمین پر پڑے چاولوں کو مٹھی میں بھر کر منہ میں ڈالنے لگا، عمر ہوش میں آیا
“ابّو۔۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہیں؟ چھوڑیں اسے” عمر نے انکے ہاتھ سے کھانا چھین کر دور پھینک دیا۔
“کک۔۔۔ کون ہو ۔۔۔۔۔تم” فقیر نے پوچھا
“آپ نے مجھے نہیں پہچانا؟ میں عمر۔۔۔۔” اس نے آنسوں پتے ہوئے کہا۔ حنان اور علی ساکت کھڑے تھے۔
“تم۔۔۔۔۔عمر۔۔۔میرے بیٹے ہو؟۔۔۔۔عمر میرا بیٹا۔۔۔ بیٹا۔۔۔۔میرا۔۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔عمر” وہ بے ربط گفتگو کر رہے تھے لیکن وہ عمر کو پہچان گئے تھے۔ اور اگلے ہی لمحے وہ زمین پر گر کر بیہوش ہوگۓ تھے۔
“کافی عرصے سے کھانا نہ ملنے کی وجہ سے انکی صحت خراب ہو چکی ہے۔ انکو شوگر بھی ہے اور سب سے بری خبر یہ کہ انھیں الزائمر بھی ہے۔ وہ کبھی کبھی چہرے پہچانتے ہیں اور کبھی بلکل ہی بھول جاتے ہیں۔ انھیں یہ بیماری کب سے ہے اس بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن انکی ابتدائی حالت کو دیکھتے ہوئے یہی لگتا ہے کے وہ الزائمر کے دوسرے دور سے گزر رہے ہیں۔ جہاں وہ چیزوں کے ساتھ ساتھ انسانی شکلیں بھی بھولنے لگے ہیں۔” ڈاکٹر عفان ٹیبل کی دوسری جانب بیٹھے عمر کو دیکھتے ہوئے کہہ رہے تھے۔ جس کے برابر میں ہی حمزہ اور حنان کھڑے تھے۔
“بابا جان اسکا کوئی علاج نہیں کیا؟” حنان نے پوچھا
“بدقسمتی سے الزائمر ان بیماریوں میں شامل ہے جن کا کوئی علاج نہیں۔ الزائمر کے مریض کے پاس زیادہ سے زیادہ سات یا دس سال باقی رہ جاتے ہیں۔ اور کیوں کہ انکی بیماری دوسرے اسٹیج پر ہے تو انکے پاس چار سے پانچ سال باقی ہیں۔” عمر خاموش بیٹھا تھا۔
“میں نہیں جانتا تمہارے اپنے باپ سے کیا اختلافات ہیں لیکن میں تمہیں یہی مشورہ دونگا کہ اس بوڑھے آدمی کو اس وقت تمہاری ضرورت ہے۔ انکے پاس زندگی کے چند سال ہی باقی ہیں۔ اب یہ تم پر ہے کہ تم انکے آخری وقت میں انکا سہارا بنتے ہو یا پھر انھیں مرنے کے لئے چھوڑ جاتے ہو۔ میری ڈیوٹی کا وقت ہوگیا ہے میں چلتا ہوں،” وہ کہتے ہوئے اپنے روم سے چلے گئے۔
“تم کیا کرو گے اب؟” حمزہ نے پوچھا۔ عمر کے والد کی خبر سن کر وہ لوگ بھی ہسپتال آگئے تھے۔
“پتا نہیں۔۔۔۔۔” اس نے آہستگی سے کہا وہ واقعی بہت پریشان تھا۔
“انہوں نے جو بھی کیا اسے اللہ‎ پر چھوڑ دو۔ اور وہ کرو جو تمہارا فرض ہے۔ میں بس یہی مشورہ دے سکتا ہوں” حمزہ بھی اپنی راۓ دے کر چلا گیا۔ پھر حنان اسکے پاس آیا۔ بلاشبہ وہ عمر کا بہترین دوست تھا۔
“تم مجھے بس اتنا بتاؤ کہ تم کیا چاہتے ہو؟ تم جو بھی فیصلہ کرو گے۔ میں تمہارے ساتھ ہوں” حنان کے الفاظ نے اسے تسلی دی تھی۔
“مجھے تو انکو اس حال میں دیکھ کر خوش ہونا چاہیے حنان، پھر مجھے کیوں دکھ ہورہا ہے؟” اس نے بےبسی سے پوچھا
“کیوں کہ خون کے رشتوں سے محبّت کبھی ختم نہیں ہوسکتی”
“تمہیں کیا لگتا ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟”
“یہ اللہ‎ کی طرف سے ایک اور آزمائش ہے تمہارے لئے، تم وہی کرو جو تمہارا دل کہے” حنان نے بس اتنا ہی کہا۔
تھوڑی دیر بعد وہ لوگ وارڈ میں موجود تھے۔ جہاں سے آفاق صاحب کو ڈسچارج کیا جا رہا تھا۔ وہاں صرف عمر کو جانے کی اجازت تھی۔وہ کمرے میں موجود ایک ایک چیز کو ٹکر ٹکر دیکھ رہے تھے۔ عمر انکے پاس پہنچا
“ابو۔۔۔۔ گھر چلے؟” اس نے ان سے پوچھا
“کس کے گھر؟” انہوں نے پوچھا
“آپ کے گھر” عمر نے انھیں کندھیں سے تھاما تو انہوں نے ایک جھٹکے سے اپنا آپ چھڑایا۔
“نہیں نہیں۔۔۔ میں اپنے گھر نہیں جاؤنگا۔ وہ مجھے مارے گا اور پھر سے گھر سے نکل دے گا۔ میں نہیں جاؤنگا وہاں۔۔۔۔۔تم دور ہٹو مجھ سے، تم مجھے وہاں نہیں لے جاؤ گے۔”
“کون مارے گا آپ کو؟ کون نکالے گا گھر سے؟” اس نے حیرت سے پوچھا
“مم۔۔۔۔ میرا بیٹا۔۔۔۔ فراز، وہ مارے گا مجھے، اور کھانا بھی نہیں دے گا۔ میں۔۔۔۔۔۔ میں نہیں جاؤنگا وہاں، ۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ نہیں جاؤنگا” انہوں نے کسی خوف زدہ بچے کی طرح چادر کو اپنی مٹھی میں دبوچا۔عمر کو ترس آیا تھا ان پر، وہ انکے سامنے بیٹھا اور پیار سے انکے دونوں ہاتھ تھامے
“آپ میرے گھر جاۓ گے، اور وہاں سے کوئی بھی آپکو نہیں نکالے گا۔”
“تم۔۔۔ تم کون ہو؟” وہ پھر سے اسے نہیں پہچان رہے تھے۔
“آپ کا بیٹا، عمر” اس نے نرمی سے کہا
“تم مجھے مارو گے تو نہیں؟” پتا نہیں کیا ہوا تھا انکے ساتھ جو وہ اتنے خوف زدہ تھے۔
“نہیں۔۔۔۔۔” اس نے اپنے آنسوں پیئے تھے۔
“تو پھر چلو” وہ اٹھنے لگے۔ عمر نے انکی مدد کی اور انہوں سہارا دے کر پارکنگ تک لے آیا۔ جہاں حنان گاڑی روکے کھڑا تھا۔ باقی سب جاچکے تھے۔ عمر نے آفاق صاحب کو پیچھے بٹھایا اور دروازہ بند کرکے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ آفاق صاحب پیچھے بیٹھے سیٹ بیلٹ سے کھیل رہے تھے، کھیل رہے تھے یا شاید اسے پہچاننے کی کوشش کر رہے تھے۔ جو بھی تھا لیکن وہ ذہنی طور پر یہاں نہیں تھے۔
“تو تم نے فیصلہ کر لیا؟” حنان نے عمر سے پوچھا جو پیچھے مڑا آفاق صاحب کو دیکھ رہا تھا
“ہاں،۔۔۔۔ میں نے سوچا تھا کبھی زندگی میں ابّو سے سامنا ہوا تو انکو سزا دونگا، لیکن۔۔۔۔۔۔ ان کے پاس دن ہی کتنے ہیں جو میں انہیں سزا دوں”
“تو تم انھیں وہاں بھی چھوڑ کر آسکتے تھے۔”
“میرا دل نہیں مانا تھا انکو اکیلا چھوڑنے کے لئے”
“تم جو کر رہے ہو بہت اچھا کر رہے ہو” حنان نے کہا تو عمر نے سر ہلا دیا۔
“مجھے بھوک لگی ہے” وہ اچانک سے بولے
“بس ہم گھر پہنچ رہے ہیں پھر آپ میرے ساتھ کھانا کھائے گے” عمر نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ پھر سے سیٹ بیلٹ سے کھیلنے لگ گئے۔
———-+* ———-+* ———-+* ———-+* ———*
آدھی رات گزر چکی تھی لیکن وہ ابھی تک لاؤنچ میں رکھے صوفے پر ہی بیٹھا ہوا تھا۔ آفاق صاحب اسکے کمرے میں سو چکے تھے۔ سامعہ اسکے برابر آکر بیٹھی اور ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ اسکے سامنے رکھا۔
“تم ٹھیک ہو؟” اس نے عمر سے پوچھا
“ہاں۔۔۔” اس نے مختصر جواب دیا۔
“میں جانتی ہوں تم اپنے دکھ کسی کے ساتھ نہیں بانٹتے، یا شاید میں اس قابل نہیں کہ تم مجھے اپنے دکھ بتاؤ” سامعہ نے دل میں سوچا اور اٹھ کر وہاں سے جانے لگی۔ جب ہی عمر کی آواز نے اسکے قدم زنجیر کئے
“سامی۔۔۔۔” اس نے پہلی بار اسے اسکے نک نیم سے پکارا تھا
“مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے” اس نے سامنے دیوار پر نظریں جمائے ہوئے کہا۔ سامعہ واپس اسکے ساتھ بیٹھ گئی۔
“میں بہت چھوٹا تھا۔ شاید چھ سال کا، جب میری ماں مر گئی تھی۔ اور ابّو نے دو دن بھی نہیں لگائے دوسری شادی کرنے میں” وہ ساری گھتیاں خود ہی سلجھانے بیٹھ گیا تھا۔
عمر اور ہانیہ دو ہی بہن بھائی تھے۔ ہانیہ اس سے دو سال چھوٹی تھی۔ وہ چھ سال کا تھا جب اسکی ماں ایک حادثے میں دنیا سے چلی گئی۔ ننھیالی رشتےداروں میں بس ایک خالہ اور ماموں ہی تھے اور دونوں ہی ملک سے باہر تھے۔ اس وجہ سے وہ دونوں میت میں نہ آسکے۔ عمر کی امی کے سوئم والے دن ہی اسکے ابّو ایک عورت کو گھر لے آئے اور ان سے کہا کے یہ آج سے تم دونوں کی ماں ہیں۔ وہ دونوں معصوم بچے اس عورت میں اپنی ماں کو ڈھونڈنا چاہتے تھے مگر اس عورت کے اندر ممتا نہیں تھی۔ وہ ہانیہ اور عمر کے ساتھ بہت برا سلوک کرتی اور انھیں بات بات پر مارتی ساتھ ہی ساتھ انھیں دھمکاتی بھی تھی کے اگر اپنے باپ کو شکایت کی تو اور زیادہ مارونگی۔ وہ لوگ خاموشی سے سہتے رہتے۔ اس کا بس چلتا تو انکا اسکول بھی بند کروادیتی لیکن آفاق صاحب نے اسکی یہ بات نہیں مانی۔ چھوٹی سی عمر سے ہی اس نے ہانیہ کے سر پر گھر کا بوجھ ڈال دیا تھا اور اپنے بچے بھی ہانیہ کو سنبھالنے دے دیتی۔
ایک دن آفاق صاحب بہت سا زیور خرید کر گھر لائے اور اپنی بیوی کو دیا اور کہا کہ
“اسے سنبھال کر رکھنا یہ زیور میں نے عمر اور ہانیہ کے لیے رکھا ہے۔ جب عمر بڑا ہوجائے گا تو اس زیور کو بیچ کر اسے باہر پڑھنے بھیجوں گا۔ اور ہانیہ کی اچھے گھر میں شادی کرواونگا۔ بلکہ میں تو سوچ رہا ہوں کہ ہانیہ کے نام پر ایک پلاٹ لے لوں تاکے اسکی شادی پر اسے دے سکوں۔ ایک ہی تو بیٹی ہے میری۔” وہ خوشی سے کہہ رہے تھے جب کے انکی بیوی کے دل میں انگارے لوٹ رہے تھے۔
“ہونہہ۔۔۔۔۔ اپنے بچوں کے لئے سب کچھ اور میرے بچوں کے لئے کچھ نہیں اس سے پہلے کے یہ اپنی جائیداد بھی عمر اور ہانیہ کے نام کردے مجھے ان دونوں کا پتہ صاف کرنا ہوگا” وہ دل ہی دل میں انھیں گھر سے رفو چکر کرنے کا پلان بنانے لگی اور ایک دن اسے موقع مل گیا۔ آفاق صاحب کی دوسری بیوی کا بھائی آیا ہوا تھا اور وہ اپنے دونوں بھانجوں کے لئے مہنگی چیزیں لیا تھا۔ آفاق کی بیوی نے وہ ساری چیزیں ہانیہ کی الماری میں چھپا دی۔ اس سے پہلے وہ کافی دنوں سے عمر اور ہانیہ کی بےجا شکایتیں لگا کر آفاق صاحب کو ان دونوں سے بدزن کر چکی تھیں۔ اس روز وہ بہت غصّے میں تھے۔ وہ ہانیہ کو چوری کے الزام میں مار رہی تھیں تو عمر بیچ میں آگیا تھا۔ اور ان سے لڑنے لگا آفاق صاحب اسی وقت گھر میں داخل ہوئے اور اسے اپنی بیگم سے لڑتا دیکھ انکا پارہ آسمان پر جا پہنچا انہوں نے عمر کو تھپڑ لگا دیا جواب میں عمر نے ان سے بھی بدتمیزی کی، لوہا گرم دیکھ کر آفاق کی بیوی نے ان دونوں کو گھر سے نکالنے کا حکم صادر کر دیا۔ اور آفاق صاحب نے ان دونوں کو گھر سے نکال دیا۔ وہ دونوں گھر کے دروازے پر بیٹھے رہے تھےکہ صبح تک آفاق صاحب انھیں یقیناً گھر بلا لیتے لیکن۔۔۔۔۔۔۔ رات کے تین بجے کے قریب اسکی سوتیلی ماں دروازے پر آئی اور ان سے کہنے لگی کہ “تمہارا باپ بہت غصے میں ہے، فوراً یہاں سے چلے جاؤ کیونکہ اگر اس نے دیکھ لیا ناں تو ٹانگیں توڑ دیگا تم دونوں کی،”
“ہم یہاں سے نہیں جائیں گے” عمر نے کہا
“ٹھیک ہے، میں آفاق کو کو بلاتی ہوں تاکہ وہ خود ہی تم دونوں کو مار مار کر یہاں سے بھگائے۔” یہ کہہ کر وہ آفاق کو آواز دینے ہی لگی تھی جب ہانیہ بولی۔
“نہیں آنٹی! ابّو کو مت بلائے، ہم جا رہے ہیں یہاں سے، چلو عمر” وہ کہہ کر عمر کو وہاں سے گھسیٹتے ہوئے لے جانے لگی۔ عمر بھی خاموشی سے چلنے لگا۔ انجان راستہ رات کا آخری پہر اور وہ دو چھوٹے بچے۔ کچھ پتا نہیں تھا کے اب آگے کیا ہونے والا ہے؟ دونوں نے دوپہر کے بعد سے کچھ نہ کھایا تھا۔ عمر اپنی بھوک تو برداشت کر رہا تھا لیکن ہانیہ۔۔۔۔۔ اس سے برداشت نہیں ہورہی تھی بھوک، چل چل کر پاؤں تھک گئے تھے۔ اتنے میں عمر کو ایک ڈھابہ نظر آیا۔ اس نے ہانیہ کو ڈھابے میں رکھی کرسی پر بٹھایا اور خود مالک کے پاس آیا۔
“مجھے ایک پلیٹ کھانا چاہیے”
“ایک پلیٹ چالیس روپے کی ہے” اس نے مصروف انداز میں جواب دیا۔ ڈھابے پر اتنا رش نہیں تھا۔
“پر میرے پاس پیسے نہیں ہیں” عمر نے سر جھکا کر کہا۔
“پسے نہیں ہے تو کیا مفت دے دوں؟”
“بس ایک پلیٹ دے دو میری بہن بھوکی ہے” بہن کے لئے عمر نے ساری خوداری اور عزت نفس بھلا دی تھی۔
“جاؤ بیٹا جاؤ۔۔۔۔ میں نے کوئی خیراتی ادارہ نہیں کھول رکھا یہاں”
“انکل پلیز۔۔۔۔۔”
“کہا ہے ناں جاؤ” وہ دھاڑا
“کیوں ڈانٹ رہے ہو بچے کو؟” اس آواز پر عمر نے گردن موڑ کر دیکھا تو وہاں ایک نفیس سے انسان کھڑے تھے۔
“ارے کچھ نہیں ولید صاحب!۔۔۔۔بس یہ بچہ ایسے ہی تنگ کر رہا تھا”
“بیٹا کیا چاہیے آپ کو؟” ولید صاحب نے اس سے پوچھا (وہ سامعہ کے والد تھے۔)
“انکل میری بہن کو بھوک لگی ہے مگر میرے پاس پیسے نہیں ہیں” اس نے سر جھکا کر کہا
“بیٹا آپ تو کسی اچھے گھر کے لگتے ہو، امی ابّو کہاں ہیں؟” عمر نے جواب نہیں دیا۔
“”ایک کام کرو دو پلیٹ کھانا ان بچوں کے لئے لگواؤ اور بل مجھ سے لینا” انہوں نے مالک کو مخاطب کیا پھر عمر کی طرف دیکھا
“کہاں ہے تمہاری بہن؟” انہوں نے اس سے پوچھا
“وہ وہاں بیٹھی۔۔۔۔۔۔” عمر نے دوسری طرف اشارہ کیا لیکن اگلے ہی لمحے اسے جھٹکا لگا، ہانیہ وہاں نہیں تھی۔
“ہانیہ۔۔۔۔۔ ہانیہ کہاں گئی؟” وہ پریشانی سے آگے بڑھا
“کیا ہوا بیٹا؟” ولید صاحب بھی اسکے پیچھے آئے
“انکل میری بہن نہیں ہے یہاں۔۔۔۔۔ ہانیہ۔۔۔۔ ہانیہ” وہ روتے ہوئے اسے پکارنے لگا
“بیٹا مل جائے گی وہ، تم فکر نہ کرو” ولید صاحب نے اسے تسلی دی۔
“ہانیہ۔۔۔۔۔” وہ رونے لگا۔ ولید صاحب نے اسکے ساتھ مل کر ہانیہ کو تلاشنا شروع کیا انھیں زیادہ محنت نہیں کرنا پڑی کیوں کہ ہانیہ کی لاش سامنے ہی قبرستان سے مل گئی تھی۔ کسی نے اسے اپنی ہوس کا شکار بنا کر اسکی گردن پر چھرا پھیر کر اسے قربان کردیا تھا۔ عمر آنکھیں میں بےیقینی لئے اپنی بہن کو دیکھ رہا تھا۔ ولید صاحب جلدی سے اپنی گاڑی سے ایک چادر لے آئے اور اسکی لاش کو چادر میں ڈھانپ کر ہسپتال لے گئے۔
عمر تڑپ تڑپ کر رویا تھا اس دن، ولید صاحب کو اس بچے پر ترس آرہا تھا وہ کسی اچھے گھر کا بچہ تھا اور یقیناً کسی مشکل میں پھنس گیا تھا۔ ہانیہ کو دفنانے کے بعد وہ عمر کے پاس آئے اور اس سے ساری بات معلوم کی اس نے سب بتا دیا۔
“بیٹا میں تمہارے باپ سے بات کروں؟” انہوں نے پوچھا۔
“نہیں۔۔۔۔ وہ قاتل ہیں میری بہن کے” وہ چیخا
“تو پھر تم کہاں جاؤ گے؟”
“آپ مجھے کسی یتیم خانے چھوڑ آئے” ولید صاحب کا دل نہیں مانا وہ اسے اپنے ساتھ ہی لے آئے۔
“لیکن انکل مجھے کسی کا احسان نہیں چاہیے” ولید کے گھر کے باہر کھڑے ہوکر اس نے کہا تھا۔ انھیں اس بچے کی آنکھوں میں خوداری نظر آئی تھی۔
“ٹھیک ہے، میں تمہیں یہاں کرائے پر رکھ لیتا ہوں۔” انہوں نے اسکی خودداری کو ٹھیس نہیں پہنچانی چاہی۔ عمر کو انہوں نے اسکول میں داخل کرایا اور وہاں سے وپسی پر وہ روزانہ ایک کتاب کی دوکان پر بیٹھنے لگا۔ جسکے اسے ماہانہ دو ہزار روپے ملتے تھے۔ رات کا کھانا ولید صاحب اسکے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی بھجوا دیا کرتے تھے۔ ولید صاحب نے اسے اسی اسکول میں داخل کیا جہاں گلی کے سارے بچے جاتے تھے۔ وہیں اسکی دوستی حنان سے ہوئی۔ اور حنان کے ذریعے باقی سب سے بھی ہوگئی۔ وہ کسی سے کچھ نہیں بولتا تھا بس خاموش رہتا تھا۔ لیکن علی کی شرارتیں نہ چاہتے ہوئے بھی اسے مسکرانے پر مجبور کر دیتی تھیں۔ سب کو بس اتنا معلوم تھا کہ عمر کی سوتیلی ماں نے اسے گھر سے نکل دیا تھا اور بھوک کے باعث اسکی بہن مر گئی تھی۔ اور یہ راز کے درحقیقت اسکی بہن “چائلڈ ایبیوس” کا شکار ہوئی تھی کسی کو نہیں پتا تھا۔ پھر جب عمر نے کالج پاس کر کے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو اس نے دکان پر بیٹھنا چھوڑ دیا اور اکیڈمی میں فزکس کے ٹیچر کے طور پر اسے نوکری مل گئی۔ وہ سب یونیورسٹی میں ساتھ تھے لیکن انکے ڈیپارٹمنٹ الگ الگ تھے۔ حیدر اور حمزہ اکنامکس میں ماسٹرز کر رہے تھے، علی بزنس ڈیپارٹمنٹ میں تھا، ارسلان نے کیمکل انجینرنگ لی تھی، جب کے حنان اور عمر ایک ساتھ ہی اپلائڈ فزکس میں ماسٹرز کر رہے تھے۔ ڈیپارٹمنٹس الگ ہونے کے باوجود وہ لوگ فارغ وقت میں یونیورسٹی میں ساتھ پاۓ جاتے تھے۔ ایک دن عمر قبرستان گیا ہوا تھا۔ حنان بھی اسکے پیچھے آگیا تھا۔ اس دن اس نے پہلی بار عمر کو روتے ہوئے دیکھا، وہ قبر سے باتیں کر ریا تھا اور اپنے باپ سے بدلہ لینے کا ذکر کر رہا تھا۔ اس نے عمر سے پوچھ لیا کہ حقیقت کیا ہے اور وہ چھپا نہیں سکا۔ اس نے حنان کو سب کچھ بتا دیا۔ اور حنان اسکا بہترین دوست ثابت ہوا تھا اس نے یہ راز آج تک اپنے سینے میں چھپایا ہوا تھا۔
اور آج اس نے سامعہ کو بھی اس راز میں شریک کر لیا تھا۔ یعنی کے وہ عمر کے دل میں وہ مقام حاصل کر چکی تھی جو عمر نے صرف چند ایک لوگوں کو دیا تھا۔
“عمر! تمہارے ابّو نے جو بھی کیا انکو اسکی سزا مل گئی ہے، تم باقی سب کو اللہ‎ پر چھوڑ دو اور اپنا فرض پورا کرو” ساری بات سننے کے بعد سامی نے کہا
“ہاں!۔۔۔۔۔ میں نے سب کچھ اللہ‎ پر چھوڑ دیا۔ ویسے بھی انکے پاس زندگی کے چند سال ہی ہیں۔ میں انکی خدمت کرنا چاہتا ہوں” اس کے لہجے میں سکون ہی سکون تھا۔
“میں آج کھانے میں کیا پکاؤں؟” اس نے بات بدلنے کے غرض سے پوچھا
“جو بنا دو گی کھا لوں گا”
“اچھا جی۔۔۔۔۔ تو پھر میں ایسا کرتی ہیں آج کھچڑی بنا دیتی ہوں” وہ کہتے ہوئے کھڑی ہوئی۔
“کیا کیا کیا۔۔۔۔۔کھچڑی؟ وہ کوئی کھانے کی چیز ہوتی ہے کیا؟ میں نہیں کھاؤں گا” عمر چیخا
“لیکن تم نے ابھی خود کھا تھا کے میں جو بناؤں گی تم کھا لو گے۔ اب تو کھانی پڑے گی” وہ اسکو منہ چڑاتے ہوئے بھاگ گئی۔ عمر ہنس پڑا تھا۔
————-** ————-** ————-** ————-**
صبح وہ دیر سے اٹھا تھا کیوں کہ اتوار کا دن تھا۔ ناشتہ کر کے وہ گلی میں آیا تو اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ سب اپنے اپنے گھروں سے باہر پریشان سے کھڑے تھے۔
“یہ صبح صبح یہاں کونسی کانفرنس ہورہی ہے؟” وہ حیران سا گھر سے باہر آیا۔
“کیا ہوا ہے انکل؟” علی نے گلی میں کھڑے حریم کے والد سے پوچھا
“آگئے تم؟ تمہارا ہی انتظار ہورہا تھا” انہوں نے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا
” میرا؟ پر کیوں انکل؟”
“یہ بتاؤ؟ آخر ہم نے تمہارا بگاڑا کیا ہے؟ کب جان چھوڑو گے ہماری؟” ڈاکٹر عفان نے پوچھا
“پر انکل میں نے کیا کیا ہے؟” اس نے پریشانی سے پوچھا
“کیا کیا ہے؟ وہ دیکھو۔۔۔۔۔۔ تمہارے علاوہ یہ حرکت اور کون کر سکتا ہے؟” انہوں نے اپنے گھر کے دروازے کی طرف اشارہ کیا تو علی نے بھی اس طرف دیکھا لیکن دروازے پر نظریں پڑتے ہی اسکے چودہ طبق روشن ہوگئے۔
حنان کے گھر کے دروازے پر “گھر برائے فروخت” کا پوسٹر چپساں تھا۔ پوسٹر پر رابطے کے لئے حنان کے والد کا نمبر بھی جلی حرف میں لکھا ہوا تھا۔
“لیکن یہ تو۔۔۔۔۔۔” وہ کچھ کہنا چاہتا تھا کے اسکی نظر گلی کے باقی گھروں کے دروازوں تک گئی۔ اور یہ دیکھ کر تو چراغوں میں روشنی ہی نہ رہی کہ ہر گھر کے دروازے پر “برائے فروخت” کا پوسٹر گھر کے مالک کے فون نمبر کے ساتھ لگا ہوا تھا۔
“پر یہ میں نے نہیں کیا”
“اچھا تو تمہارے علاوہ کوئی اور نمونہ بھی پایا جاتا ہے کیا؟” حمزہ کے ابّو نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ اگر یہ شرارت تھی بھی تو بےضرر تھی اور وہ لوگ اتنا غصّہ نہیں تھے اس پر۔۔۔۔۔
“کیا پتا کوئی جن جنات وغیرہ کا گزر ہوا ہی یہاں سے” علی نے بے نیازی سے کندھے اچکائے
“بیٹا تمہارے ہوتے ہوئے کوئی جن جنات یہاں سے گزرنے کی غلطی کر بھی نہیں سکتا” حیدر کے والد بولے۔
“ویسے علی، یہ کارنامہ تو نے کس وقت انجام دیا کیوں رات تک تو تُو ہمارے ہی ساتھ تھا؟” حنان بولا
“میرے بھائیوں اور انکے ابّا حضوروں! یہ کارنامہ میں نے انجام نہیں دیا۔ کیوں کہ اگر میں نے یہ کیا ہوتا تو صرف آپ سب کا نمبر نہیں لکھتا بلکہ کسٹمر کو یہاں لاکر گھر کو بیج بھی دیتا۔ قسم لے لیں یہ میں نے نہیں کیا” علی نے شرافت سے کہا تو سب ہنس پڑے
“تو پھر کس نے کیا؟ آپ کے علاوہ کون سا غنڈہ رہتا ہے یہاں؟” حنان نے پوچھا
“جس نے بھی کیا خان صاحب آپ اسکی فکر نہ کریں میں اسے دیکھ لوں گا۔ اور انکلس، ریلی سوری فور دیٹ”
“اگر تم نے نہیں کیا تو سوری کیوں بول رہے ہو؟” ڈاکٹر مہتاب نے پوچھا
“کیوں کے دل میں آپ لوگوں کو یہی لگ رہا ہے کہ یہ میں نے کیا ہے تو اسی لئے سوری بھی بول دیا۔ اب آپ سب لوگ گھر جائے میں ذرا اس بندے کو ڈھونڈوں جس نے یہ کیا ہے۔”
“چلو ٹھیک ہے۔ مل جاۓ تو ہمیں بھی بتانا” ہجوم چھٹ گیا۔
“یہ واقع تو نے نہیں کیا؟” حنان نے پوچھا لیکن علی جواب دینے کے بجاۓ اپنے گھر کی طرف بھاگا
“ابے کہاں جا رہا ہے؟” حنان نے پوچھا پھر کندھے اچکاتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔
گھر میں داخل ہو کر علی اس کے سامنے جا رکا جو صوفے پر سکون سے بیٹھی چائے پی رہی تھی۔ سامنے نگیٹس کی پلیٹ بھی رکھی ہوئی تھی۔
“ویل ڈن۔۔۔۔۔ میں تو سمجھا تھا کہ تم نہیں کر پاؤ گی یہ سب” علی نے پوچھا۔
“کیا سب؟” اس نے معصومیت سے پوچھا
“سب کے گھروں کو بیچنے کا ٹھیکہ کہاں سے ملا تمہیں” علی سکون سے پوچھتا ہوا اسکے برابر بیٹھ گیا۔
“نیا کاروبار شروع کیا ہے۔ تم چاہو تو تمہیں بھی پارٹنر شپ مل سکتی ہے۔” وہ اطمینان سے بیٹھی چائے پتی رہی۔
“ویسے مجھے تو لگا تھا کے تم دھمکی دے رہی ہو لیکن تم نے سچ میں کر دکھایا یار! ؟” علی نے پلیٹ سے نگیٹس اٹھاتے ہوئے پوچھا۔ علینا نے اس سے کہا تھا کے وہ گھر پر بور ہورہی ہے اسے کہیں گھومنانے لے جائے ورنہ پھر وہ ٹائم پاس کرنے کے لیے کوئی ایسا کام کرے گی جس کا الزام علی کے سر آئے گا۔
“کل سے کہہ رہی ہوں کہ مجھے کہیں شاپنگ پر لے چلو لیکن تم خود تو گھوم پھر کر آگئے مجال ہے جو بہن کا خیال بھی آیا ہو۔ بس بور ہورہی تھی تو سوچا یہی کام کرلوں اب وقت تو گزرنا تھا ناں” اس نے منہ بسورا
“لیکن تم نے یہ سب کیا کس وقت؟” اس نے پوچھا
“رات کے چار بجے۔۔۔۔۔” اس نے کیچپ میں نگیٹس ڈبو کر منہ میں ڈالا۔
“رات کے چار بجے اکیلے؟” علی حیران ہوا۔
“میرے ساتھ شفا بھی موجود تھی۔ بس فرق یہ تھا کے جو کام میں یہاں کر رہی تھی۔ وہ ہی کام وہ پچھلی گلی میں کر رہی تھی۔”
“مطلب دوسری گلی میں بھی یہی کیا ہے تم لوگوں نے؟ ویری نائیس۔۔۔۔۔۔ شفا کوبھی دوست بنا لیا تم نے؟” اس نے نگٹس کی ساری پلیٹ کھا لی تھی۔
“علی جب تجھے اندازہ تھا کہ یہ کام علینا نے کیا ہے تو باہر اتنی اداکاری کرنے کی کیا ضرورت تھی؟” لاؤنچ کے دروازے پر کھڑے حنان نے کہا وہ جانے وہاں کب آیا تھا۔
“کیوں کہ کسی نے یقین نہیں کرنا تھا کہ یہ کام علینا نے کیا ہے، خیر، ۔۔۔۔۔۔آئے خان صاحب آپ بھی ناشتہ کریں” علی نے حنان کو آفر کی
“نہیں میں چلتا ہوں۔ یہ بتانے آیا تھا تجھے کہ میں حمزہ کی طرف جا رہا ہیں وہیں آجانا وہاں سے عمر کی طرف چلیں گے۔ ” وہ جانے کے لئے مڑ گیا۔ علی نے اثبات میں سر ہلایا۔
“پتا نہیں یہ تینوں اور کیا کیا کریں گے۔” حنان نے جھرجھری لی اور آگے بڑھ گیا۔
تھوڑی دیر بعد ارسلان، حنان، حیدر اور علی، عمر کے گھر پر موجود تھے۔ عمر آفاق صاحب کو سوپ پلا رہا تھا اور وہ عمر کے موبائل سے کھیل رہے تھے۔ اسکے چہرے پر ڈھیروں اطمینان تھا۔
“حمزہ نہیں آیا؟” عمر کو حمزہ کی کمی محسوس ہوئی۔
“نہیں وہ کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔ سوچ رہا ہوں واپسی پر اسکے گھر چلتے ہیں” حیدر نے کہا
“بھائی تجھے اپنی بیوی سے ملنا ہے۔ تو اکیلے جا ناں ہم سب کو ساتھ میں کیوں لیکر جا رہا ہے” علی کی بات پر وہ خجل ہوا تھا۔
“میں تو ایسے ہی کہہ رہا تھا”
“میں تو سوچ رہا ہوں آج گلی میں کرکٹ کھیلتے ہیں” ارسلان نے مشورہ دیا
“لیکن تو کیسے کھیلے گا لنگڑے؟” علی نے پوچھا
“تیرا اور کوئی کام ہے دوسروں کی ٹانگیں کھینچنے کے علاوہ” اس نے بے زاری سے پیچھا
“اور بھی بہت سے کام ہیں کبھی اکیلے میں آؤ پھر بتاؤں گا۔ خیر۔۔۔۔۔ آپ سنائے کیسے ہیں انکل؟” علی نے آفاق صاحب سے پوچھا انہوں نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
“تم کون؟” انہوں نے پوچھا
“میں آپ کے بیٹے کا جگری یار۔۔۔۔۔” علی نے اپنا تعارف کروایا
“کونسا بیٹا؟” وہ حیران ہوئے
“یہ عمر ہے ناں آپ کا بیٹا،”
“میری تو ابھی شادی نہیں ہوئی اور تم میرے بیٹے سے بھی مل لئے” انکی بات پر جہاں عمر سمیت سب ہنسے تھے وہیں علی گرتے گرتے بچا تھا۔
“کیسی باتیں کر رہے ہیں انکل؟ اب تو آپ کے بیٹے کی شادی بھی ہوگئی ہے بس ولیمہ رہتا ہے”
“ہیں؟ کس کا ولیمہ؟” انہوں نے پوچھا
“عمر کا۔۔۔۔۔”
“کون عمر؟”
“آپ کا بیٹا،”
“تم میرے بیٹے کو کیسے جانتے ہو؟”
“ارے انکل ابھی تو بتایا ہے کے میرا دوست ہے وہ”
“لیکن تم کون؟” علی کا سر گھوم کر رہ گیا تھا۔ سب ہنس ہنس کر دھرے ہورہے تھے۔
———** ———** ———** ———** ———**
واپسی پر وہ لوگ کرکٹ کا سارا سامان لے کر گلی میں آگئے۔ حمزہ کا کچھ اتا پتا نہیں تھا ابھی تک۔
“چل پہلے حمزہ کے گھر چلتے ہیں۔ وہ آگیا ہوگا تو اسے بھی بلا لیں گے۔ ” علی نے کہا تو چاروں نے حمزہ کے گھر کی طرف قدم بڑھا دیے
“آپ بھی آجاۓ، آپ ہی کا سسرال ہے” علی نے حیدر کو گلی میں ہی کھڑے دیکھ کر شرارت سے کہا۔
“میں یہیں ٹھیک ہوں۔ حمزہ کو لے آؤ جلدی” اس نے کہا وہ حمزہ کے گھر اس لئے نہیں جانا چاہتا تھا کے وہ اچھے سے جانتا تھا کے علی نے حریم کے سامنے اسکو ذلیل کروا کر ہی چھوڑنا ہے۔ وہ چاروں گھر کے لان میں داخل ہوئے تو حیرت کی انتہا نہ رہی کیوں کہ حریم ایک بڑا سا سوٹ کیس گاڑی کی ڈگی میں رکھ رہی تھی اور ڈرائیور پاس ہی کھڑا تھا۔
“یہ کہاں جا رہی ہے؟” عمر نے پوچھا سب ہی حیران تھے۔ وہ شکل سے کافی غصّے میں لگتی تھی۔
“حریم! تم کہاں جا رہی ہو؟” علی نے شرافت سے پوچھا۔
“جہنّم میں، تمہیں ساتھ چلنا ہے؟” حریم نے اتنی زور سے کہا تھا کے وہاں کھڑے ہر فرد کو اپنے کانوں پر ہاتھ رکھنا پر تھا۔
“نہیں بہن۔۔۔۔ میں وہاں جا کر کیا کروں گا تم اکیلے ہی جاؤ” علی جلدی سے کہتا پیچھے ہٹ گیا۔
“گاڑی سٹارٹ کرو” اس نے ڈرائیور کو حکم دیا تو وہ “جی میڈم” کہہ کر دروازہ کھولنے لگا
“پر تم جا کہاں رہی ہو؟” عمر نے پوچھ ہی لیا۔
“ملک چھوڑ کر جا رہی ہوں ہمیشہ کے لئے، بتا دینا اس حمزہ کو بھی اور حیدر کو بھی” وہ چبا چبا کر کہتی گاڑی میں بیٹھ گئی۔
“کیا مطلب حمزہ کو نہیں پتا کیا کہ تم جا رہی ہو؟” حنان نے پوچھنا چاہا لیکن وہ گاڑی میں بیٹھ چکی تھی۔ اسکے بیٹھتے ہی ڈرائیور زن سے گاڑی لے اڑا۔
وہ لوگ تیزی سے باہر آئے۔
“یہ کون نکلا تھا گھر سے؟” حیدر نے ان لوگوں کو دیکھ کر پوچھا۔
“حریم۔۔۔۔”
“اچھا، لیکن تم لوگ اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہو؟” اس نے انکی پریشان صورت دیکھ کر پوچھا
“کیوں کے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہ ملک چھوڑ کر جا رہی ہے” حنان نے کہا
“کیا؟” حیدر سناٹوں میں رہ گیا تھا۔

دوپہر کا وقت تھا، کراچی شہر پر آج بادل خوب مہربان تھے۔ سورج صاحب نکلے تھے لیکن شرارتی بادل انکی روشنی زمین پر پہنچنے ہی نہیں دے رہے تھے۔ ایسے میں وہ پارک میں ایک بینچ پر تنہا بیٹھی خاصی اداس سی تھی۔ کل اس نے علینا کے ساتھ مل کر محلے کے گھروں پر “برائے فروخت” کا نوٹس لگایا تھا اور اسکے نتیجے میں ڈانٹ علی کو پڑی تھی۔ لیکن وہ پھر بھی خوش نہیں تھی۔
“مجھے ہوا کیا ہے؟” شفا نے خود سے پوچھا۔ اگلے ہی لمحے اسکے بائیں کندھے پر دھماکہ ہوا۔ اس نے حیرت سے گردن موڑ کر دیکھا تو اسکے بائیں کندھے پر اسکی چھوٹی سی ہمشکل بلیک کلر کی میکسی میں کھڑی تھی۔ اسکے سر پر دو عدد سنگھ لگے ہوئے تھے اور جسم سے انگارے نکل رہے تھے۔
“تم یہاں بیٹھی اداس ہوتی رہو لیکن اسے پروا بھی نہیں ہے۔ جب سے اسکی بہن آئی ہے وہ تو تمہیں بھول ہی گیا ہے” اس نے کہا۔ شفا ابھی اسی کو دیکھ رہی تھی جب اسکے دائیں کندھے پر دھماکہ ہوا۔ اس نے گردن دوسری طرف موڑی تو حیران رہ گئی۔ وہاں اسکی ایک اور چھوٹی سی ہمشکل سفید میکسی میں کھڑی تھی۔ اسکی پیٹھ پر دو عدد پنکھ لگے ہوئے تھے اور اسکے آس پاس سفید رنگ کی دھند چھائی ہوئی تھی۔
“ایسا ہر گز نہیں ہے۔ وہ شفا کو بھولا نہیں ہے بس اسکی بہن اتنے سالوں کے بعد آئی ہے۔ اسی لئے اسے ٹائم دے رہا ہے” اس نے نرمی سے کہا۔ شفا نے حیرت سے دونوں کو دیکھا اور اگلے ہی لمحے زور سے چیخی
“نہیں یار۔۔۔۔۔۔ اب تم دونوں بن بلائے مہمان بن کر میرے پاس بھی آیا کروگے؟” شفا نے ان دونوں سے پوچھا۔ یہ وہ فرشتہ اور شیطان تھے جو اسکے باپ شاہ زل کے پاس اسکے ہمشکل بن کر آیا کرتے تھے۔شفا نے اسکے بہت قصّے سنے تھے اپنے بابا سے۔۔۔
“تم پریشان نہ ہو، تم علی کی کرائم پارٹنر ہو۔ اسکا تمہارے بغیر دل کبھی نہیں لگے گا۔ دیکھنا وہ تمہارے پاس ضرور آئے گا۔” فرشتے شفا کی باتوں نے اسے تسلی دی۔
“اگر اسے آنا ہوتا تو وہ تین دن پہلے آتا نہیں تو کم از کم از کم تمہیں کال یا میسج تو کرتا۔ ہونہہ۔۔۔۔۔اس نے تو یہ بھی گوارا نہیں کیا” شیطان شفا سخت انداز میں۔ بولی۔
“ایسی بات نہیں ہے۔ وہ تمہارا بچپن کا دوست ہے کیا تم اس سے صرف تین دن نہ ملنے پر دوستی توڑ دوگی؟ نہیں تم ایسا نہیں کر سکتی” فرشتے شفا بولی
“بات دوستی کی نہیں ہے۔ شفا اس سے محبت کرتی ہے اور محبوب کا توجہ نہ دینا بہت غلط بات ہے۔ اب اگر وہ شفا سے ملنے آئے تو شفا کو چاہیے کے اسے نظر انداز کر دے اس سے بات ہی نہ کرے” شیطان شفا نے مشورہ دیا
“ہر گز نہیں۔۔۔۔۔ محبت میں تو محبوب کی بڑی بڑی غلطیاں معاف کرتے ہیں۔ اگر وہ شفا سے ملنے آئے تو یہ اس سے پہلے کی طرح ہی ملے گی۔” فرشتے شفا نے بھی مشورہ دیا
“نہیں وہ ایسا نہیں کریگی۔” شیطان شفا نے تردید کی۔
“وہ ایسا کریگی” فرشتے شفا سکون سے بولی
“وہ نہیں کریگی”
“وہ کریگی”
“نہیں کریگی”
“کریگی”
“بس کردو تم دونوں۔۔۔۔۔۔چپ۔۔۔۔ بلکل چپ۔۔۔۔ جاؤ یہاں سے” شفا نے انکے جھگڑے سے تنگ آکر غصّے دائیں بائیں ہاتھ جھلایا تو وہ دونوں غائب ہوگئے۔
“شفا۔۔۔۔۔ یہ تم نے جنات سے باتیں کرنا کب شروع کی؟” علی کی آواز پر وہ ایک جھٹکے سے کھڑی ہوئی۔
“تم۔۔۔۔۔ تم کب آئے؟” وہ حیران بھی تھی اور خوش بھی
“جب تم ایکسرسائز کر رہی تھی” اس نے شرارت سے کہا
“ایکسرسائز؟” اسے علی کی بات سمجھ نہیں آئی۔
“ہاں اپنی گردن کو بار بار دائیں بائیں گھما رہی تھی ناں۔۔۔۔کیا کوئی نئی ورزش ہے؟”
“نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔وہ بس ایسے ہی۔۔۔۔۔ تم یہاں مجھ سے ملنے آئے ہو؟” اس نے پوچھا
“نہیں تمہارے بھوت سے ملنے آیا ہوں۔ ظاہر ہے تم ہی سے ملنے آیا ہوں۔ تین دن سے تمہیں دیکھا نہیں ناں تو تمہاری کمی محسوس ہونے لگی تھی۔”
“کک۔۔۔۔۔ کیا؟ سچ میں تمہیں میری کمی محسوس ہورہی تھی؟” وہ حیرت اور خوشی کے ملے جلے احساس کے تحت پوچھا
“ہاں۔۔۔۔۔ لیکن تم اتنا خوش کیوں ہورہی ہو؟” اس نے شوخی سے پوچھا تو شفا گڑبڑائی۔
“نہیں۔۔۔۔ میں کیوں خوش ہونگی” اس نے نظریں چرائی۔
“اچھا سنو۔۔۔۔۔ آج رات بارہ بجے کے بعد علینا کی سالگرہ ہے۔ میں نے اپنے فارم ہاؤس پر اسکے لئے ایک سرپرائز پارٹی رکھی ہے۔ تم بھی مدعو ہو۔”
“اوہ۔۔۔۔ تو یہ مجھے دعوت دینے آیا تھا۔” اس نے دل میں اداسی سے سوچا
“اور کیوں کہ تم میری کرائم پارٹنر ہو تو تم میرے ساتھ مل کر کیک بناؤ گی۔”
“ٹھیک ہے میں بنادوں گی” اس نے نظریں جھکا،ئئے جھکاے ہی کہا
“میڈم میں نے کہا ہے میرے ساتھ مل کر” علی کی بات پر اس نے سر اٹھایا
“تم بناؤ گے؟” وہ حیران ہوئی۔
“ایسا کوئی کام ہے جو علی نہیں کر سکتا؟ ہم دونوں مل کر کیک بنائیں گے لیکن تمہارے گھر کے کچن میں، تاکہ علینا کو پتا نہ چلے۔” اس نے پلان ترتیب دیا
“تو پھر چلیں؟” اس نے شفا کو خاموش کھڑا دیکھ کر پوچھا
“کہاں؟”
“تمہارے گھر۔۔۔۔”
“ہاں ہاں۔۔۔۔۔ چلو” شفا نے جلدی سے کہا تو علی نے اسکے گھر کی جانب قدم بڑھا دیے
“دیکھ لو۔۔۔۔ اسے ابھی بھی صرف اپنی بہن کی فکر ہے، تمہاری نہیں” شیطان شفا اسکے کانوں میں بولی
“لیکن یہ بھی تو دیکھو وہ تمہارے پاس ہی آیا ہے ورنہ کیا وہ رشنا، ثنا اور سامعہ کے پاس نہیں جا سکتا تھا؟ انھیں بھی تو کیک بنانا آتا ہے” فرشتے شفا نے بھی اپنا فرض ادا کیا۔
“کیا ہوا رک کیوں گئی؟” علی کی آواز پر وہ دونوں اسکے پاس سے غائب ہوگئے۔
“ہاں۔ بس آہی رہی ہوں”
“آؤ جلدی۔۔۔۔” اس نے گہری سانس لے کر گھر کی جانب قدم بڑھا دیے۔
شفا کی کہانی۔۔۔۔۔۔
پرانا انداز۔۔۔۔
پرانے کردار۔۔۔۔۔
ایک فرشتہ۔۔۔۔
ایک شیطان۔۔۔۔۔
کیا ہوگا اسکا انجام۔۔۔۔۔
———-+* ———-+* ———-+* ———-+* ———*
“كمبختوں۔۔۔۔ تم لوگ کیا گونگے کا گڑ کھا کر بیٹھے تھے۔ جب وہ جا رہی تھی تو اسے روک نہیں سکتے تھے۔” انکل جلالی اس وقت پورے جلال میں آئے ہوئے تھے اور اپنے گھر کے لاؤنچ میں اپنے سامنے صوفے پر بیٹھے ان چاروں کو سخت سست سنا رہے تھے۔ اور وہ چاروں اچھے بچوں کی طرح سر جھکائے ڈانٹ کھا رہے تھے۔ کیوں وہ لوگ علی نہیں تھے جو حمزہ کو غصّے میں دیکھ کر بھی منہ بند نہیں رکھ سکتا تھا۔
“اور یہ علی کدھر غائب ہے؟ یہ سب اسی کا آئیڈیا تھا ناں۔؟” ثنا نے پوچھا۔ حریم کے جانے کی خبر سن کر ثنا، رشنا اور سامعہ بھی وہیں آگئی تھیں۔ بس وہ تینوں شیطان کا ٹولہ (جس میں اب علینا کو بھی گنا جانے لگا تھا) غائب تھا۔
“اسے غائب ہی رہنے دو تو اچھا ہے۔ یہ سب اسی منحوس کا کیا دھرا ہے” ارسلان نے کہا
“یار کچھ کر حمزہ۔۔۔۔ اس نے کہا ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر جا رہی ہے” حیدر نے پریشان کن لہجے میں کہا۔
“ملک چھوڑ کر نہیں گئی ہے وہ زیادہ سے زیادہ شہر سے باہرہی گئی ہوگی” حمزہ نے کہا
“لیکن تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو؟ اس نے تو کہا ہے کہ وہ ملک سے جا رہی ہے” حنان نے پوچھا
“وہ میری بہن ہے۔ اچھے سے جانتا ہوں میں اسے”
“لیکن اس نے تو ملک سے جانے کا ذکر کیا ہے” حنان بضد تھا۔
“ہو ناں آخر پٹھان، ابے گدھوں،۔۔۔۔۔ اپنی عقلیں کیا بیچ کر آگئے ہو؟ کوئی بندہ ایک ہی دن کے اندر ملک سے باہر جا سکتا ہے کیا؟ اور ملک سے باہر جا کر وہ کرے گی بھی کیا؟ زیادہ سے زیادہ سیالکوٹ گئی ہوگی۔ وہاں ہماری خالہ رہتی ہیں” حمزہ کی بات پر حنان خجل ہوا تھا۔ حمزہ غصّے میں کسی کا بھی لحاظ نہیں کرتا تھا۔ سب کو بےنقط سناتا تھا۔
“تو اب تم کیا کروگے؟” رشنا نے پوچھا
“وہ ہی تو نہیں پتا”
“یار کچھ کر ناں حمزہ” حیدر نے پھر سے کہا تو حمزہ نے اسے گھورا
“تو اپنا منہ بند رکھ، تجھے کیا میں نے کہا تھا علی کی باتوں پر عمل کرنے کو؟ جو اب بیٹھا رو رہا ہے میرے سامنے؟” حمزہ نے اسے ہی سنا دی
“پر میں نے تو کچھ نہیں کیا۔۔۔۔۔” حیدر منمنایا
اتنے میں لاؤنچ کا دروازہ دھاڑ سے کھلا اور اپنا سوٹ کیس ہاتھ میں پکڑے حریم اندر داخل ہوئی۔ سب کو سانپ سونگھ گیا۔
“تم واپس آگئی۔” سامعہ نے اس سے پوچھا تو حریم نے سر اٹھا کر دیکھا۔ ان سب کو وہاں دیکھ کر اسے شدید غصّہ آیا۔
“ہاں، فنی خرابی کی وجہ سے فلائٹ کینسل ہوگئی ہے۔ لیکن کوئی یہ نہ سمجھے کی میں واپس نہیں جا سکتی۔ چلی جاؤں گی میں کل ہی” اس نے بلند آواز میں کہا اور سوٹ کیس گھسیٹتے ہوئے اپنے کمرے کی کی جانب بڑھی تھی۔ حمزہ اسکے راستے میں آیا۔
“حریم۔۔۔۔ یہ کیا بچپنا ہے؟” حمزہ نے ڈانٹنے والے انداز میں کہا لیکن اسے پتا نہیں تھا کے یہ ڈانٹنا اب اسے مہنگا پڑنے والا ہے۔ حریم نے غضبناک نظروں سے اسے دیکھا۔
“کیا کہا تم نے؟ یہ بچپنا ہے؟” اس نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا تو حمزہ کی سٹی گم ہوگئی۔ حریم ان لوگوں میں سے تھی جو سال میں ایک بار غصّہ کرتے ہیں اور جب کرتے ہیں تو طوفان کھڑا کر دیتے ہیں۔حریم بھی جب غصّے میں ہوتی تھی تب طوفان کھڑا کر دیتی تھی، اور اس وقت حمزہ بھی اپنا منہ بند رکھتا تھا کیوں کے منہ کھولنے کی صورت میں کوئی بھی بھاری بھرکم چیز اسکے سر پر آکر لگنے کا اندیشہ رہتا تھا۔
“حریم!۔۔۔۔۔تم میری پیاری بہن ہو ناں۔۔۔۔ ایک بار بیٹھ کر سکون سے بات کرتے ہیں ناں” حمزہ منمنایا
“نہیں۔۔۔۔۔ بیٹھ کر بات اب نہیں ہوگی۔ بلکہ اب کوئی بات ہی نہیں ہوگی۔ میری طرف سے تم اور تمہارا وہ ذلیل، کمینہ اور خبیث دوست جہنّم میں چلیں جاۓ۔” اسکے لبوں سے جھڑتے پھول وہاں کھڑے ہر شخص کو حیران کر گئے تھے۔ جب کے اپنے لئے ایسے القابات سن کر حیدر کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔
“یار پلیز۔۔۔۔۔ ایک بار سن لو، کوئی غلط فہمی بھی تو۔۔۔۔۔” حمزہ کی بات منہ میں ہی رہ گئی کیوں کہ حریم دھاڑی تھی۔
“بس حمزہ۔۔۔۔۔۔ اب اگر تم نے اس خبیث انسان کی حرکتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اسے غلط فہمی کا نام دیا ناں تو میں تمہارا سر پھاڑ دونگی” جتنی زور سے اس نے کہا تھا وہاں کھڑے ہر فرد نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا تھا نہیں تو وہ بہرے ضرور ہوجاتے۔
“مسلہ تیرا ہے اور ڈانٹ اس بیچارے کو پڑ رہی ہے۔ تو جا کر خود کچھ کر اب” حنان نے حیدر کے کان میں سرگوشی کی تو وہ تھوک نگلتا ہوا آتش فشا بنی حریم کے پاس آیا اور حمزہ کے برابر میں کھڑا ہوا۔
“حریم! ایک بار میری بات سنو، جو ہوا اسے بھول جاؤ میں قسم۔۔۔۔۔۔۔۔۔” حیدر نے اٹک اٹک کر کہنا شروع کیا تھا لیکن حریم نے اسکی بات بھی پوری ہونے نہیں دی۔
“تم۔۔۔۔۔۔ بےشرم آدمی،۔۔۔۔۔ تمہارے باپ کی نوکر ہوں میں جو بھول جاؤں” وہ دھاڑی تو حیدر گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹا
“یہ عمران خان کی روح اسکے اندر کہاں سے آگئی؟” ثنا نے رشنا سے سرگوشی نما آواز میں پوچھا
“اور تمہاری ہمّت کیسے ہوئی میرے سامنے آنے کی ہاں؟ کس نے اجازت دی تمہیں؟” اس نے حیدر سے پوچھا جو اب حمزہ کے پیچھے چھپا کھڑا تھا کہ مبادا حریم اسکا قتل ہی نہ کردے
“جو بھی ہوا وہ سب غلط فہمی تھی بس اور کچھ نہیں” حیدر نے ایک اور غلطی کر دی حریم نے ایک لمحے کو اسے غضبناک نظروں سے دیکھا اور پھر اگلے ہی لمحے وہ بولی۔
“چلو۔۔۔۔۔ نکلو میرے گھر سے۔۔۔۔۔” حریم نے انگلی سے چٹکی بجاتے ہوئے اسے باہر نکلنے کا اشارہ کیا
“یہ تو مجھے گھر سے نکال رہی ہے یار” حیدر نے حمزہ سے کہا
“تو فکر نہ کر میں بات کرتا ہوں” اس نے اپنے پیچھے چھپ کر کھڑے حیدر کو تسلی دی پھر حریم کی جانب متوجہ ہوا
“حریم کتنی بری بات ہے۔ ایسے کسی کو گھر سے نکالتے ہیں کیا؟” حمزہ نے اسے ڈانٹنے کی ناکام کوشش کی
“اچھا۔۔۔۔۔ تمہیں بہت تکلیف ہورہی ہے؟ ٹھیک ہے پھر۔۔۔۔۔ تم بھی اسکے ساتھ ہی دفع ہو جاؤ۔ چلو نکلو تم دونوں اب” اس وقت حریم وہ جلاد استانی لگ رہی تھی جو بچوں کو مرغا بنائے بغیر سکون سے نہیں بیٹھتی اور وہ دونوں چھوٹے چھوٹے معصوم سے بچے لگ رہے تھے جو سر جھکائے اپنی استانی کی ڈانٹ کھا رہے تھے۔
“حریم پلیز یار۔۔۔۔۔ یہ میرا بھی گھر ہے” حمزہ پھر سے منمنایا
“تمہیں تو سب سے پہلے نکالنا چاہیے تھا کیوں کہ سارے فساد کی جڑ ہی تم ہو۔ چلو نکلو میرے گھر سے۔۔۔۔۔”
“نکل لے حمزہ اس سے پہلے کے دونوں قتل ہوجائے” حیدر اسکو گھسیٹتا ہوا وہاں سے لے گیا۔
” واپس مت آنا تم دونوں” حریم نے چیختے ہوئے کہا اور پیر پٹختی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
“اسکو ہوا کیا ہے؟” حنان نے حیرت زادہ لہجے میں کہا
“شاید جن چڑھ گیا ہے” سامعہ نے جواب دیا
دو منٹ بعد ہی لاؤنچ کے دروازے پر دو سر نمودار ہوئے
“بھابی چلی گئی؟” حمزہ نے سہمے ہوئے لہجے میں پوچھا
“تیری بھابھی کہاں سے ہوگئی؟” حیدر نے پوچھا
“تو میرا بھائی ہے تو حریم بھابھی ہی ہوئی نا” حمزہ نے جواب دیا۔ ارسلان کی نظریں ان دونوں پر پڑی تو اس نے شرارت سے ان دونوں کو دیکھا
“نکلنا آدم کا خلد سے سنتے آئے تھے لیکن
بےحد ذلیل ہو کر تیرے گھر سے ہم نکلے”
ارسلان نے ہمیشہ کی طرح شعر کی بھی ٹانگیں توڑی
“بہت بےآبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے” حیدر نے ہمیشہ کی طرح تصیح کی اور دونوں اندر داخل ہوئے۔
“حریم تو کچھ سننے کو تیار ہی نہیں، اب اسے کیسے سمجھائے؟” رشنا نے فکرمندی سے پوچھا
“دیکھو اسے حیدر کے علاوہ اور کوئی نہیں سمجھا سکتا۔ حیدر کو چاہیے کہ اس سے اکیلے میں ملے اور اسے ساری بات سمجھائے” کافی دیر سے خاموش بیٹھے عمر نے کہا
“نہیں نہیں۔۔۔۔۔ میں اس سے اکیلے میں نہیں ملوں گا اگر اس نے میرا سر پھاڑ دیا تو” حیدر گھبرایا
“اور حریم اس سے ملنے پر راضی بھی نہیں ہوگی” حمزہ نے کہا
“تو ہم ایسا کرتے ہیں کے حریم کو کسی ایسی جگہ پر بلاتے ہیں جہاں حیدر بھی پہلے سے موجود ہو لیکن ہم حریم کو بتائے گے نہیں” ثنا نے حل پیش کیا
” ہاں یہ سہی ہے۔۔۔۔۔ اس سے بھینس بھی مر جائے گی اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی” آپ کو پتا تو ہوگا یہ کون صاحب ہیں
“ابے سانپ کو لاٹھی مارتے ہیں” حیدر اتنے مشکل وقت میں (جو کے اسکے لئے مشکل تھا باقی سب تو انجوئے کر رہے تھے) بھی اسکی تصیح کرنا نہیں بھولا تھا۔
“لیکن سانپ کے آگے تو بین بجاتے ہیں” اس نے سر کھجایا
“بین بھینس کے آگے بجاتے ہیں” عمر نے سر پیٹا
“بین بھینس کے آگے بجاتے ہیں اور لاٹھی سانپ کو مارتے ہیں۔ آخر یہ محاورے کس نے ایجاد کئے تھے۔ میں بہت کنفیوس ہوجاتا ہوں یار۔۔۔۔” اس نے معصومیت سے کہا تو سب ہنس پڑے
——*———-*———–*——-* ———–*————*
وہ دونوں اس وقت شفا کے گھر کے کچن میں موجود تھے۔ شفا کی ماں سختی سے تائید کر کے گئی تھیں کے کچن گندا نہیں ہونا چاہیے۔
“سنو۔۔۔۔۔ کیک جب بیک ہوجائے تو اسکے اوپر ایک بندریا بنا کر بیٹھا دینا جو میک اپ کر رہی ہو” علی نے شفا کے ہاتھ سے کیک کا سانچہ لیا اور اسے اون میں ڈالا
“بندریا؟۔۔۔” شفا کو حیرت ہوئی۔
“ہاں بندریا، اب یہ مت کہنا کہ تم نہیں بنا سکتی۔ تم نے ارسلان اور ثنا کی منگنی پر کیک پر دولہا اور دلہن بنا کر بٹھائے تھے۔”
“وہ تو ٹھیک ہے۔ لیکن تم بندریا کیوں بنوا رہے ہو میں کوئی ڈزنی پرنسس بنا دونگی”
“نہیں۔۔۔۔۔ میں نے بندریا کہا ہے تو بندریا ہی بنے گی۔” وہ علی ہی کیا جو کبھی کوئی کام ڈھنگ سے کرے۔ وہ ٹوکرے میں رکھا سیب اٹھا کر سلیب پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ شفا بندریا بنانے کی تیاری کرنے لگی۔
“علی ذرا وہ دینا۔۔۔۔” شفا نے ہاتھ سے علی کے قریب رکھے چمچ کی جانب اشارہ کیا۔
“کیا وہ؟۔۔۔” اس نے سیب کھاتے ہوئے پوچھا
“ارے وہ۔۔۔۔۔” شفا کی زبان سے چمچ کا نام نہیں نکل رہا تھا۔
” کیا چاہیے؟ گولڈ لیف، گٹکا، ماوا، چرس؟۔۔۔۔” علی نے مطلوبہ چیزوں کے نام گنوائے تو شفا نے پلاسٹک کی پلیٹ اسکے سر پر ماری۔
“چمچ دو” اس نے علی کو گھورتے ہوئے کہا
“اچھا تو ایسے بولو ناں۔” علی نے سر سہلاتے ہوئے چمچ اسکے حوالے کیا
“بہت فضول بولتے ہو تم”
“کوئی نئی بات کرو” اس نے بےنیازی سے کہا
“تم نے یہ حرکتیں سیکھی کہاں سے ہیں؟” اس نے اپنے سامنے سلپ پر چڑھ کر بیٹھے علی سے پوچھا
“مجھے کون سیکھائے گا؟ ہاں البتہ میں کسی سے انسپائر ضرور ہوں” اس نے سیب کھاتے ہوئے جواب دیا
“کس سے؟” شفا حیران ہوئی کہ علی بھی کسی سے متاثر تھا۔
“تھا ایک لڑکا،جامہ کراچی میں پڑھتا تھا مجھ سے سینئر تھا”
“پر تھا کون؟”
“حمزہ حیدر علی، ایم این اے ظہور دلاور کا بیٹا”
“حمزہ حریم کا بھائی ہے، حیدر حریم کا شوہر ہے اور علی تم ہو” اس نے مذاق اڑایا
“یہ ایک ہی انسان کا نام ہے۔ اور وہ میرے ہی ڈیپارٹمنٹ میں پڑھتا تھا۔” علی برا مان گیا
“اوہ۔۔۔۔ مطلب تمہارے جیسا ایک اور نمونہ بھی ہے” اس نے ہنستے ہوئے پوچھا
“خبردار جو اسے نمونہ کہا تو۔۔۔۔۔۔ میں فین ہوں اسکا، اور وہ میرے جیسا نہیں ہے بلکہ میں اسکے جیسے بننے کی کوشش کرتا ہوں اور پتا ہے کیا؟ اسکے جیسا کوئی ہو ہی نہیں سکتا وہ اللہ‎ پاک کی یونیک کریئیشن ہے۔
THE one and only piece, out of this world”
اس نے خواب ناک لہجے میں کہا
“واو۔۔۔۔ اب تو مجھے بھی اس سے ملنا ہے” شفا کو حیدر سے ملنے کا اشتیاق جاگا تھا۔
“خانزادہ انڈسٹری کے باہر کھڑی ہوجانا۔ شاید دیدار ہوجائے”
“اب اتنا بھی شوق نہیں ہے ملنے کا کہ کسی انڈسٹری کے باہر جا کر کھڑی ہوجاؤں” اس نے منہ بنایا
“اچھا یہ لو، کیک تیّار ہے” شفا نے تیار شدہ کیک علی کو دکھایا
“لاؤ دو میں اس پر خود سے علینا کا نام لکھوں گا” علی نے اسکے ہاتھ سے کریم والی ٹیوب لی اور کیک پر اس سے نام لکھنے لگا۔
“کہا بھی تھا میں نے کہ اسے کوئی فکر نہیں ہے تمہاری، وہ بہت خودغرض ہے۔ صرف اپنی بہن کا خیال ہے اسے” شیطان شفا اسکے بائیں جانب نمودار ہوئی۔ اور فرشتے شفا دائیں جانب۔
“وہ خودغرض نہیں ہے۔ وہ ایک پیار کرنے والا انسان ہے۔ دیکھو تو ذرا اپنی بہن کے لئے کتنا خوش ہے” فرشتے شفا نے علی کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“وہی تو میں کہہ رہی ہوں کے اسے صرف اپنی بہن کی فکر ہے تم سمجھ لو یہ بات” شیطان شفا بضد تھی۔
“جسے اپنی سوتیلی بہن سے اتنی محبت ہے ذرا سوچو وہ اپنی بیوی سے کتنی محبت کرے گا؟” فرشتے شفا نے ایک اور نکتہ اٹھایا
“بیوی؟ ہاہاہاہا۔۔۔۔شفا صرف اسکی کرائم پارٹنر ہے۔ بیوی کبھی نہیں بن سکتی” شیطان شفا ہنسی۔
“تمہاری گردن میں کوئی چوٹ وغیرہ لگی ہے کیا؟” علی کی مشکوک آواز پر وہ دونوں غائب ہوگئیں
“نہیں۔۔۔۔۔۔نہیں تو” وہ جلدی سے بولی۔
“اچھا سنو، یہ کیک اپنے پاس رکھو رات میں فارم ہاؤس جاتے ہوئے لیتے آنا۔ میں ذرا علینا کو بتا آؤں کہ رات کو فارم ہاؤس جانا ہے” وہ جانے کے لئے کچن سے باہر آیا
“اوکے۔۔۔۔” شفا نے بس اتنا ہی کہا
“اور ہاں رات تک اپنی گردن ٹھیک کر لینا” علی ہنستا ہوا چلا گیا
“دیکھا تم نے، شکریہ تک بولنا گوارا نہیں کیا اس نے” شیطان شفا پھر نمودار ہوئی۔
“اپنوں کو کون شکریہ کہتا ہے۔ اس نے تمہیں اس لئے شکریہ نہیں کہا کیوں کہ وہ تمہیں اپنا سمجھتا ہے” فرشتے شفا بھی نمودار ہوئی۔
“بس کر دو تم دونوں۔۔۔۔۔” شفا زور سے چیخی تو دونوں غائب ہوگئے۔
“اف۔۔۔۔ پتا نہیں کیا ہوگیا ہے مجھے” وہ پاؤں پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔
دوسری طرف علی گھر آیا تو علینا ڈرائنگ روم میں
جائے نماز بچھا کر دعا مانگ رہی تھی۔ وہ ہمیشہ سے بلند آواز میں دعا مانگتی تھی۔
“یا اللہ‎۔۔۔۔۔ میرے نمونے بھائی کے لئے کوئی اچھی سی لڑکی بھیج دیں۔ جو اسے برداشت کر سکے۔ اب تو اسکے دوست بھی اپنے اپنے گھروں کے ہونے والے ہیں۔ اسکا بھی کوئی بندوبست کر دیں ناں اللہ۔ اور آپ کو تو پتا ہے ناں کے میرا بھائی کتنا پیارا ہے تو اسکے لئے بھی کوئی پیاری سی لڑکی رکھی گا‎” وہ زور و شور سے دعا مانگ رہی تھی۔ علی کو ہنسی آئی۔ وہ خاموشی سے چلتا ہوا اسکے برابر میں آکر بیٹھا اور اسکا چادر میں لپٹا سر پکڑ کر اپنے کندھے سے لگایا اور ایک ہاتھ سے اسکا سر تھپتھپانے لگا
“بس کردے پگلی۔۔۔۔ رلاۓ گی کیا” علی نے مصنوئی آنسوں پوچھتے ہوئے کہا۔
“کیا ہوگیا ہے علی؟ اتنی اچھی دعا مانگ رہی تھی میں تمہارے لئے” اس نے علی سے الگ ہوتے ہوئے منہ بنایا
“ہاں ہاں پتا ہے کتنی اچھی دعا مانگی تم نے میرے لئے، کیوں میری آزادی کی دشمن بنی ہو؟ ابھی تو میرے کھیلنے کودنے کے دن ہیں” علی نے منہ بسورا
“کھیلنے کودنے کے دن ہیں۔ “علینا نے اسکی نقل اتاری “اچھا سنو۔۔۔۔ کراچی کا موسم مجھے راس نہیں آرہا ہے۔ کھانسی ختم ہی نہیں ہورہی۔ تم میرے لئے کف سیرپ لے آنا” علینا نے کہا
“کف سیرپ کی کیا ضرورت ہے۔ تم رات میں جو چرس پیتی ہو ناں اسکو آج تھوڑی زیادہ مقدار میں لےلینا۔ کھانسی ٹھیک ہوجائے گی” علی نے مفت مشورہ دیا۔
“کیا ہوگیا ہے علی، میں چرس تھوڑی پیتی ہوں،کھپی چڑھاتی ہوں رات کو، کھپی” علی بھول گیا تھا کہ مقابل شفا نہیں تھی جو اسکی بکواس پر اسے پلیٹ مارتی۔ وہ علینا تھی، ہر بات کا الٹا جواب دینے کی عادی تھی۔
“اچھا سنو۔۔۔۔۔ رات کو تیار رہنا ہم سب لوگ فارم ہاؤس جائے گے”
“کیوں؟” وہ حیران ہوئی۔
“بس بہن تمہارے لئے ایک اچھا رشتہ دیکھا ہے۔ انہیں سے ملوانا ہے تمہیں” علی نے سنجیدگی سے کہا۔
“اتنی جلدی نہیں بیٹا۔۔۔۔۔ پہلے اس گھر میں میری بھابھی آئے گی، پھر میرے بھتیجے بھتیجی جو مجھے پھوپھو کہیں گے پھر کہیں میں اس گھر سے جاؤں گی” اس نے پلان ترتیب دیا
“مطلب تم نے بڑھاپے تک یہیں رہنا ہے” علی نے سر ہلاتے ہوئے کہا
“اور نہیں تو کیا؟ ابھی تو میرے کھیلنے کودنے کے دن ہیں” اس نے ایک بار پھر علی کی نقل اتاری تو وہ ہنسنے لگا
———–** ———–** ———–** ———–** ——*

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: