Urdu Novels Yaar Deewane Zeela Zafar

Yaar Deewane Novel by Zeela Zafar – Episode 9

Yaar Deewane Novel by Zeela Zafar
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
 یار دیوانے از ژیلہ ظفر – قسط نمبر 9

–**–**–

“یہ تیاری کس خوشی میں ہورہی ہے ماما؟” شفا نے ڈاکٹر شانزے سے پوچھا۔ وہ صبح اٹھ کر ناشتہ کرنے کچن میں آئی تو وہاں زبردست قسم کے پکوان بن رہے تھے۔
“آج شاہ ویز بھائی اور روحا آپی آرہے ہیں” اس نے مصروف سے انداز میں بتایا۔
“تو ماما وہ تو تقریبا روزانہ ہی آتے ہیں۔ آج کیا خاص بات ہے؟” اسکو کچھ گڑبڑ کا احساس ہورہا تھا۔
“آج خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنا بیٹے شاہ زر کے لئے تمہارا باقاعدہ رشتہ مانگنے آرہے ہیں” انہوں نے بم پھوڑا تھا۔
“کیا؟ لیکن ماما یہ کیسے ہوسکتا ہے؟” اس نے پریشانی سے پوچھا
“کیا مطلب کیسے ہوسکتا ہے؟ شاہ ویز بھائی نے تو بچپن سے ہی تمہیں مانگا ہوا تھا۔”
“لیکن ماما۔۔۔۔۔”
“اچھا میں ہسپتال جا رہی ہوں، تم ناشتہ کرلو اور شام تک تیار رہنا” وہ عجلت میں کہتی ہوئی باہر نکل گئی۔
“اوہ نو۔۔۔۔۔ یہ نہیں ہوسکتا، میں ایسا نہیں ہونے دونگی” اس نے کہا اور جلدی سے اٹھی۔ اسکے گھر میں وہ لوگ اور اسکے چاچو شاہ رخ رہتے تھے، بلکل برابر والے گھر میں ہی اسکے دونوں تایا شاہ میر اور شاہ ویز رہتے تھے، اور انکے بلکل برابر والے گھر میں شفا کے جڑواں چاچو شاہ زین اور شاہ زیب اپنی بیویوں کے ساتھ رہتے تھے۔ مطلب تینوں گھر ایک ساتھ ہی جڑے ہوئے تھے اور تینوں کے لان کے درمیان میں ہی آنے جانے کے لئے دروازہ تھا تاکہ ضرورت پڑنے پر گلی سے نہ جانا پڑے۔ وہ اسی دروازے سے انکے گھر میں داخل ہوئی۔ کانوں میں علی کی آواز گونج رہی تھی۔
“میری کرائم پارٹنر سے ترقی کر کہ میری لائف پارٹنر بننا پسند کرو گی؟” نگاہوں کے سامنے علی کا شرارتی چہرہ گھوم گیا۔
“میں چھوٹے بابا سے بات کروں گی، وہ مجھ سے بہت پیار کرتے ہے بابا سے بھی زیادہ وہ میری بات مان جائیں گے۔” اس نے دل ہی دل میں کہا اور لاؤنچ تک پہنچی لیکن دروازے پر پہنچ کر اسکے قدم تھمے تھے۔ اندر سے کسی کی اونچی آواز میں بات کرنے کی آواز آرہی تھی۔ وہ حیران سی آوازوں پر غور کرنے لگی
“بابا آپ میرا رشتہ بغیر مجھ سے پوچھے کیسے کر سکتے ہیں؟” یہ آواز شاہ زر کی تھی۔ شفا سانس روکے سنے گئی۔
“میں نے بچپن میں ہی اسے مانگ لیا تھا شاہ زل سے، اب میں اسے انکار نہیں کر سکتا۔ کیا منہ دکھاؤں گا میں اپنے بھائی کو؟” شاہ ویز نے پوچھا
“یہ میرا مسلہ نہیں ہے، آپ نے رشتہ مانگا تھا اب آپ ہی انکار کریں گے؟”
“یہ کس طرح بات کر رہے ہو تم؟” پاس بیٹھے شاہ میر نے اسے ڈانٹا
“بڑے بابا آپ ہی سمجھائے نا انکو، مجھے نہیں کرنی ہے شفا سے شادی” وہ بےبسی سے بولا
“کیوں آخر برائی ہی کیا ہے اس میں؟” شاہ ویز نے غصّے سے پوچھا
“اسکا ہاتھ۔۔۔۔۔ جس میں اتنا بڑا نقص ہے۔ جب مجھ میں کوئی کمی نہیں ہے تو میں ایسی لڑکی سے شادی کیوں کروں جس میں اتنا بڑا عیب ہو؟” شاہ زر کی بات پر اسکا پارہ آسمان پر چڑھ گیا تھا
“زبان بند رکھو اپنی، تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ بات کہنے کی؟” شاہ ویز نے کی تیز آواز پر وہ ایک لمحے کے لئے خاموش ہوا
“تو کیا کروں میں؟ آپ کو اپنی بھتیجی کے آگے اپنی سگی اولاد بھی نظر نہیں آتی” وہ آج بدتمیزی پر اترا ہوا تھا۔
“بس بہت ہوگیا شاہ زر۔۔۔ جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔” شاہ میر نے اسے وہاں سے جانے کو کہا
“جا رہا ہوں، لیکن ایک بات سن لیں آپ میں شفا سے شادی نہیں کروں گا” وہ پاؤں پٹختے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔
“بچوں سے پوچھے بغیر اتنا بڑا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔اب ہم شاہ زل کو کیا جواب دیں گے۔ کتنا برا لگے کہ وہ لوگ ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے اور ہم منع کر دیں گے۔” شاہ میر نے کہا
“مجھے شاہ زر کے انکار سے اتنا دکھ نہیں پہنچا جتنا اسکی بات سے پہنچا ہے” شاہ ویز نے دکھ سے کہا۔
“وہ بچہ ہے، غصّے میں ایسا کہہ کر گیا ہے دیکھنا تھوڑی دیر بعد خود آئے گا تمہارے پاس معافی مانگنے۔” شاہ میر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھایا
“ہاں لیکن۔۔۔۔۔” شاہ ویز کچھ کہنا چاہتا تھا کہ اسکی نظریں دروازے پر پتھر بنی کھڑی شفا پر پڑی، وہ سانس لینا بھول گیا۔
“شفا۔۔۔۔۔” شاہ ویز نے بےیقینی سے اسے دیکھا۔ اسکی آنکھوں سے آنسوؤں بہہ رہے تھے، اور وہ دائیں ہاتھ سے اپنا بایاں بازو مسل رہی تھی۔
“شفا تم یہاں کب آئی؟” شاہ میر نے اس امید پر اس سے پوچھا کہ شاید وہ ابھی ہی وہاں آئی ہو۔ اور شاید اس نے کچھ نہ سنا ہو۔ شاید! ۔۔۔۔۔۔ لیکن وہ جواب دینے کے بجاۓ دوڑتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔
“شفا رکو۔۔۔۔۔” شاہ ویز نے اسے روکنا چاہا پر وہ جا چکی تھی۔
“یہ کیا ہوگیا؟” شاہ ویز سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا تھا۔
وہ اندھا دھند دوڑتی ہوئی آرہی تھی اس وقت اسے کچھ یاد نہیں تھا، نہ علی، نہ شاہ ویز، نہ ہی کوئی اور، وہ بھاگی جا رہی تھی کہ جب ہی اسکی ٹکر سامنے سے آتے شہیر سے ہوئی۔
“ارے۔۔۔۔ گڑیا کیا ہوا؟” وہ بیچارہ گھبرا گیا
“کچھ نہیں بھیا۔۔۔۔۔” اس نے آنسوؤں پوچھتے ہوئے کہا۔
” شفا گڑیا تم رو رہی ہو؟” شہیر نے حیرت سے پوچھا
“نہیں۔۔۔۔۔”
“جھوٹ مت بولو سچ بتاؤ کیا ہوا ہے؟”
“بھیا۔۔۔۔ مجھ میں یہ نقص کیوں ہے؟” شفا نے اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ سے پکڑ کر اسکے سامنے کیا اور اس سے پوچھا
“ایسی باتیں کیوں کر رہی ہو؟”
“میں کیوں باقی سب کے جیسی نہیں ہوں؟ کیوں میں اپنا ہاتھ زیادہ دیر استمعال نہیں کر سکتی؟ کیوں میں ہوں میں ایسی؟ کیوں معذور ہوں میں؟” وہ رو دی، شہیر کا دل کٹ گیا
“ایسے کیوں کہہ رہی ہو؟ آج سے پہلے تو تمہیں کبھی یہ احساس نہیں ہوا پھر آج ایسا کیوں؟ کسی نے کچھ کہا ہے کیا؟”
“کوئی کچھ کیوں کہے گا؟ مجھے خود کو پتا ہے کہ میں ایک معذور لڑکی ہوں، میں چاہے کچھ بھی کرلوں لیکن میرے اندر کا یہ نقص کبھی مجھے عام انسان کی طرح جینے نہیں دیگا” وہ روتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔ شہیر پریشان سا کھڑا تھا۔ جب کہ اسٹڈی روم کے دروازے پر کھڑا شاہ زل سن ہو کر رہ گیا تھا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اسکی ہر دم ہنسنے بولنے والی بیٹی آج ایسی بات کریگی، وہ مرے مرے قدم اٹھاتا اسٹڈی ٹیبل تک آیا اور اسکے سامنے رکھی کرسی پر ڈھہ گیا۔
“کیوں ہوں میں ایسی؟ کیوں معذور ہوں میں؟” شفا کی آواز اسکا دل چیرنے لگی تھی۔ ذہن کے پردے پر ماضی کی یادیں کسی فلم کی طرح چلنے لگی تھی۔ وہ اس وقت میں چلا گیا تھا جب شفا دو سال کی تھی۔
———-+* ———-+* ———-+* ———-+* ———-
شاہ زل گھر آیا تو ہر سو سناٹا چھایا ہوا تھا۔ وہ خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گیا۔ دونوں بچے اپنی ماں کے ساتھ نانی کے گھر گئے ہوئے تھے۔ اور باقی سب یقیناً سو رہے تھے۔ وہ کمرے میں جانے کے بجائے وہیں لاؤنچ میں رکھے صوفے پر لیٹ گیا اور اسے پتا ہی نہیں چلا کب اسکی آنکھ لگ گئی۔ تھوڑی دیر بعد شاہ میر وہاں سے گزرا تھا، اسے دیکھ کر شاہ میر کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔ اسکا یہ بھائی سب سے زیادہ نفاست پسند اور سلیقے مند تھا لیکن آج وہ صوفے پر سویا ہوا تھا؟ نہ ہی اس نے کپڑے بدلے تھے اور نہ ہی جوتے اتارے تھے۔ یہ تو شاہ میر کو کافی دنوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ کچھ پریشان سا ہے لیکن پریشانی کی نوعیت اتنی زیادہ تھی کہ اسے اپنا ہوش بھی نہ رہے اس بات کا اسے اندازہ نہیں تھا۔ وہ بنا آواز پیدا کئے اسکے پاس گیا اور اسکے پیروں سے جوتے اتارے۔ پھر اسکے ہی بیڈ روم سے ایک چادر لے کر آیا اور اسے اوڑھا کر واپس جانے لگا ہی تھا لیکن شاہ زل کی آنکھ کھل گئی اور وہ اٹھ بیٹھا۔ شاہ میر اسے اٹھتا دیکھ کر واپس پلٹ آیا۔
“میں یہاں کیسے سو گیا؟” اس نے شاہ میر سے سوال کیا
“پتا نہیں میں آیا تو تم سوے ہوئے تھے۔”
“اچھا۔۔۔۔۔” اس نے گردن سہلاتے ہوئے کہا۔ وہ جب بھی پریشان ہوتا تھا اسی طرح غائب دماغ ہوجاتا تھا۔ چیزیں رکھ کر بھول جاتا تھا۔ اسکے جب بھی ایم بی بی ایس کے امتحانات ہوتے تھے وہ ایسا ہی غائب دماغ ہوجاتا تھا۔ وہ بہت کم گو ہونے کے باعث اپنے مسلے کسی کو بتاتا بھی نہیں تھا۔ شاہ میر خاموشی سے اسکے سامنے والے صوفے پر بیٹھا
“مجھے بتاؤ شاہ زل کے کیا مسلہ ہے تمہارے ساتھ؟” اس نے بلکل اچانک ہی اس سے پوچھ لیا
“کک۔۔۔۔۔ کچھ نہیں۔ مجھے کیا مسلہ ہوگا؟” وہ گڑبڑا گیا
“تجھے جھوٹ بولنا بھی نہیں آتا، سچ سچ بتا کیا ہوا ہے؟ کیوں پریشان ہے اتنا؟” وہ اتنی آسانی سے جان چھوڑنے والا نہیں تھا
“کیا شانزے سے کوئی جھگڑا ہوا ہے؟”
“نہیں۔۔۔۔” اس نے مختصر جواب دیا
“پھر؟”
“میں ہسپتال کی دوسری بلڈنگ بنوا رہا ہوں نا۔۔۔۔ تو تب سے کچھ لوگ مجھے مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں” اس نے آرام سے بتایا لیکن شاہ میر کو تو شاک لگا تھا
“کیا مطلب؟ وہ تمہیں دھمکیاں دے رہے ہیں اور تم اب بتا رہے ہو؟ کون لوگ ہیں وہ؟”
“پتا نہیں کون لوگ ہیں۔ بس کہہ رہے ہیں کہ ایک کروڑ روپے دے دو ہمیں ورنہ ہسپتال نہیں بننے دیں گے۔” شاہ زل نے بتایا۔
“تم پریشان نہیں ہو سب ٹھیک ہوجائے گا”
“میں انکی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا اگر میں نے انکو ایک بار پیسے دے دیے تو وہ بار بار پیسے مانگے گے اور میں بار بار انکی ناجائز باتیں نہیں مان سکتا۔ لیکن۔۔۔۔”
“لیکن کیا؟۔۔۔”
“انہوں نے آج اپنے کچھ لوگوں کو بھیج کر ہسپتال پر حملہ کروایا تھا۔ ان لوگوں نے لڑائی جھگڑا اور تھوڑ پھوڑ بھی کی ہے ہسپتال میں اور ساتھ ہی مجھے جان سے مارنے کی دھمکی بھی دے کر گئے ہیں۔ مجھے اپنی نہیں بس شانزے اور بچوں کی فکر ہے”
“اتنا سب کچھ ہوگیا اور تم اب بتا رہے ہو؟” شاہ میر اٹھ کھڑا ہوا
“پریشان نہ ہو بس دھمکی دے رہے ہیں وہ لوگ، کچھ کر نہیں سکتے”
“شاہ زل تمہیں گھر میں رہنا چاہیے جب تک یہ معاملہ ٹھنڈا نہ ہوجائے۔”
“نہیں شاہ میر میں کسی سے ڈر کر گھر نہیں بیٹھ سکتا” اس نے دو ٹوک لہجے میں کہا تھا۔
“تم گھر میں کسی کو بتانا مت پہلے ہی ڈیڈ کی طبیعت سہی نہیں رہتی”
“اچھا ٹھیک ہے۔ ابھی تم جا کر سو جاؤ۔ بعد میں بات کرتے ہیں اس پر” شاہ میر نے کہا کیوں کہ یہ بات کرنے کا سہی وقت نہیں تھا۔ لیکن اسے نہیں پتا تھا کہ سہی وقت آنے سے پہلے ہی انھیں وہ دن دیکھنا پڑے گا جو انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا۔
اگلے دن وہ گھر کے پورچ میں کھڑا ہسپتال جانے کے لئے اپنی گاڑی کھول رہا تھا۔ اسی وقت شاہ ویز بھی وہیں آگیا۔
“اتنا سب کچھ ہوگیا اور تم نے مجھے بتایا بھی نہیں؟” اس نے شاہ زل سے پوچھا
“تمہیں کس نے بتایا؟” اس نے حیرت سے اسے دیکھا
“شاہ میر نے”
“میں نے اسے منع بھی کیا تھا”
“کیا مطلب تمہارا؟ ہم کیا غیر ہیں تمہارے لئے؟” شاہ ویز کو غصّہ ویسے ہی جلدی آتا تھا۔
“ایسی بات نہیں ہے۔ بس میں سب کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا” اس نے آہستہ سے بتایا۔
“اب کیا کرو گے؟” شاہ ویز کو پھر اسکی فکر ہوئی۔
“کرنا کیا ہے؟ جیسے پہلے ہسپتال جاتا تھا اب بھی ویسے ہی جاؤں گا۔” اس نے کندھے اچکا دیے۔
“اپنا خیال رکھنا، اور کوئی بھی مسلہ ہو تو ضرور بتانا” شاہ میر کی نسبت اس نے اسے ہسپتال جانے سے روکا نہیں تھا۔ کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ اگر شاہ زل نے کہا ہے کہ وہ ہسپتال جائے گا تو پھر وہ جا کرہی رہے گا اسے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ وہ اسے خدا حافظ کہہ کر اپنی اپنی گاڑی کی جانب مڑا ہی تھا کہ شاہ زل نے اسے روکا
“شاہ ویز۔۔۔۔۔”
“ہاں کیا ہوا؟”
“تم شفا سے بہت پیار کرتے ہو ناں”
“یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے؟”
“مجھ سے بھی زیادہ؟”
“ہاں تم سے بھی زیادہ، بلکہ مجھے تو یہ بھی بھول جاتا ہے کہ وہ تمہاری بیٹی ہے میری نہیں” اسکی بات سن کر شاہ زل مسکرایا
“پھر مجھ سے وعدہ کرو کہ اگر مجھے کچھ ہوجائے تو تم شفا سے اتنی ہی محبت کرو گے” اس نے جتنے آرام سے کہا تھا شاہ ویز کا دل اتنی ہی زور سے دھڑکا تھا۔
“پاگل ہوگیا ہے کیا؟ کچھ نہیں ہورہا تجھے۔۔۔۔” شاہ ویز نے اسے ڈانٹنے والے انداز میں کہا
“مطلب تم اسے اتنا پیار نہیں کرو گے؟” شاہ زل نے شرارت سے کہا
“میں ہمیشہ اسے اتنا ہی پیار دونگا۔ بلکہ ہم دونوں ہی دیں گے۔”
“پکّا؟”
“ہاں۔۔۔۔لیکن تو کیوں پوچھ رہا ہے؟”
“تاکے میں سکون سے مر سکوں”
“رکھ کر تھپڑ لگا دونگا اگر اب مرنے مارنے کی بات کی تو”
” چل مذاق کر رہا تھا۔ سیریس مت ہو” شاہ زل نے ہنستے ہوئے کہا
“دوبارہ نہ کرنا ایسی بات”
“اچھا نہیں کروں گا” اس نے یقین دلانے والے انداز میں کہا اور پھر گاڑی میں بیٹھ گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ ہسپتال کے لئے نکل گیا تھا۔
———————–*** ———————–*** ———-
وہ اسٹوڈیو سے گھر واپس جا رہا تھا۔ ابھی اسکا لنچ ٹائم تھا تو اس نے سوچا کہ گھر آکر ڈیڈ کی طبیعت معلوم کر لے۔ وہ گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا جب اسکے پاس شاہ زل کی کال آئی۔
“ہیلو۔۔۔ بول شاہ زل کیا ہوا؟” اس نے فون کان سے لگاتے ہوئے پوچھا
“زین تُو کہاں ہے؟” اسکی پریشان کن آواز آئی
“میں گھر جا رہا ہوں۔ راستے میں ہوں”
“تیرے راستے میں ہسپتال پڑتا ہے ناں۔۔۔۔ تُو وہاں سے شانزے کو پک کر لے اور اسے بھی اپنے ساتھ گھر لے جا۔”اس نے تیزی سے کہا
” سب خیریت تو ہے کیا ہوا ہے؟” شاہ زین پریشان ہوا تھا۔
“میں تجھے ابھی نہیں سمجھا سکتا۔ تُو بس شانزے کو گھر لے جا اور میں شفا کو لینے جا رہا ہوں” کل رات شانزے اپنے میکے سے گھر واپس آئی تھی تو شفا کی خالہ نے اسے ضد کر کہ اپنے ساتھ روک لیا تھا۔
“ٹھیک ہے تُو فکر نہ کر میں بھابی کو لے لیتا ہوں لیکن ہوا کیا ہے؟” وہ حقیقی معنوں میں پریشان ہوگیا تھا۔
“میں بعد میں بات کرتا ہوں” اس نے کال کاٹ دی۔ وہ ہیلو ہیلو ہی کرتا رہ گیا۔ اتنا تو اسے سمجھ آہی گیا تھا کہ کوئی مسلہ ہے لیکن کیا؟ یہ اسے معلوم نہیں تھا۔
دوسری طرف شاہ زل کو فون کال کرکہ دھمکی دی تھی کہ ہم تجھے کچھ نہیں کہہ رہے لیکن تیری بیوی یا بیٹی کو آج ضرور مار دیں گے۔ شہیر تو اسکول میں تھا اسکی فکر نہیں تھی لیکن، شفا اپنے نانا کے گھر پر تھی اور شانزے ہسپتال میں وہ ایک وقت میں کسی ایک کو لے سکتا تھا، اسی لیے وہ شفا کی طرف چلا گیا اور شانزے کو لینے کے لیے شاہ زین کو بھیج دیا۔ تھوڑی دیر میں وہ اپنے سسرال میں موجود تھا۔
“آپ اسکو اتنے جلدی لے کر جا رہے ہیں۔ تھوڑی دیر تو ہمارے پاس رہنے دیتے” شفا کی خالہ نے اسے شاہ زل کے گود میں دیتے ہوئے شکوہ کیا۔
“بس کیا کروں؟ ڈیڈ کی طبیعت خراب ہے۔ وہ اسے بلا رہے ہیں۔”شاہ زل نے جلدی سے جھوٹ گھڑا اور شفا کو گاڑی میں بیٹھا کر وہاں سے نکل گیا اسے بس گھر پہنچنے کی جلدی تھی۔ لیکن آج اسکے نصیب میں گھر پہنچنا نہیں لکھا تھا۔ اس نے سگنل پر گاڑی روکی تھی۔ اور اسی وقت کسی نے چاروں جانب سے اسکی گاڑی پر فائر کھول دیا تھا۔ گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں شفا کی رونے کی آواز دب رہی تھی۔ شاہ زل نے اسکا سر نیچا کر دیا تھا لیکن فائرنگ کرنے والے نے شیشہ توڑ کر اسکی گاڑی کے اندر تک فائر کیا تھا۔ شاہ زل کہ جسم سے خون کی ندی بہہ رہی تھی۔ اسے نہیں پتا تھا کہ اسے کہاں کہاں گولیاں لگی ہیں۔ اسکی آنکھیں بند ہورہی تھی اور جو آخری تکلیف دہ چیز اس نے دیکھی تھی وہ شفا کہ جسم سے بہتا خون تھا جس نے اسکے صاف ستھرے کپڑوں کو داغ دار کردیا تھا۔
—–+* —–+* —–+* —–+* —–+* —–+* —–+*
اس نے اپنے آفس میں داخل ہو کر فائل میز پر رکھی اور خود کرسی پر بیٹھ کر ٹی وی آن کردیا۔ وہاں کوئی خبر چل رہی تھی۔ اس نے آواز تیز کی اور جھک کر ٹیبل پر رکھا لپ ٹاپ آن کرنے لگا۔ اسکی نظریں اور دھیان لیپ ٹاپ پر ہی تھا۔ ٹی وی کی جانب اسکی توجہ نہ تھی۔
“اب آپ کو تازہ ترین خبر دیتے چلیں کہ گلشن اقبال میں ایک گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے۔ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں بیٹھا شخص اور ایک بچی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ دونوں افراد کو باپ بیٹی بتایا جا رہا ہے۔ باپ کو تشویش ناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔” نیوز اینکر کی تیز آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی۔
“ایک تو اس ملک سے ناجانے ان نامعلوم افراد کا خاتمہ کب ہوگا؟” وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔
“ہمیں ہمارے ذرائع نے یہ اطلاع دی ہے کہ باپ کا نام شاہ زل خان اور بیٹی کا نام شفا شاہ زل بتایا جا رہا ہے۔ زخمی شخص نجی ہسپتال میں ڈاکٹر ہیں۔اور انکا اپنا ذاتی ہسپتال بھی ہے۔ گاڑی پر چاروں جانب سے فائرنگ۔۔۔۔۔۔” نیوز اینکر چلا چلا کر خبر پڑھ رہی تھی جب کہ شاہ ویز کی سانسیں اٹک گئی تھیں۔اس نے اسی وقت شاہ زل کو فون کیا تھا لیکن نمبر بند تھا۔ اس نے چینل کا نام دیکھا
“یہ تو وہی چینل ہے جہاں شاہ زین اور شاہ زیب ہوتے ہیں۔” اس نے جلدی سے شاہ زین کو فون ملایا
“ہاں شاہ ویز بولو” اس نے فون اٹھا کر پوچھا
“زین،۔۔۔شاہ زل کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی ہے۔ ”
“کیا؟۔۔۔” وہ تقریباً چیخ ہی پڑا تھا۔
“پلیز مجھے معلوم کرکہ بتاؤ کہ شاہ زل کون سے ہسپتال میں ہے؟”
“مم۔۔۔۔۔ میں دیکھتا ہوں” اس نے فون کاٹا اور جلدی سے شاہ زیب کو کال ملائی۔ وہ بھی یہ خبر سن کر سن ہوگیا وہ کیوںکہ چینل کہ آفس میں ہی تھا تو اس نے جلدی سے معلوم کروا لیا کہ شاہ زل کو کونسے ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔ہسپتال کا نام معلوم ہوتے ہی اس نے شاہ ویز کو کال ملائی۔
“ہاں شاہ ویز۔۔۔۔ وہ لوگ اسے اسکے اپنے ہوسپیٹل ہی لے کر گئے ہیں۔ تو جلدی وہاں جا میں بھی آرہا ہوں” وہ فون کاٹ کر مڑا ہی تھا کہ اسکی نظریں شانزے پر پڑی جو ساکت نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“بھا۔۔۔ بھابھی” اسکی سانسیں اٹکی تھی گلے ہی لمحے وہ تیورا کر زمین پر گر پڑی تھی۔
“بھابھی۔۔۔” وہ چیخا تھا۔ سوہا اور صفا بھاگتے ہوئے آئی تھی۔
“شانزے۔۔۔۔کیا ہوا ہے؟ اٹھو” روحا نے اسکے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔
“اسے ہوا کیا ہے؟”صفا نے پوچھا تو جواب میں وہ سب کچھ بتاتا چلا گیا۔
———————–*** ———————–***
اس نے زندگی میں کبھی اتنی ریش ڈرائیونگ نہیں کی تھی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ اس نے کتنے سگنل توڑے تھے اور کتنی دفع وہ مرتے مرتے بچا تھا۔ اسے بس یاد تھا تو یہ کہ اسکا بھائی مر رہا ہے اور اسے وہاں پہنچنا ہے۔ اسکے کانوں میں شاہ زل کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
“بس بس صرف گیارہ ماہ ہی بڑے ہو۔ فضول میں رعب مت جھاڑو”
“ہَاہاہاہا۔۔۔۔ تم اور روحا سے۔۔۔۔۔ ہاہاہاہا۔۔۔۔” اسکے زندگی سے بھرپور قہقہ شاہ ویز کے کانوں میں گونج رہے تھے۔
“اب تو اسے پاگل مت بولنا سمجھا۔۔۔۔۔ بھابھی ہے تیری”
“تم شفا سے بہت پیار کرتے ہو نا؟ مجھ سے بھی زیادہ؟” شاہ زل کا آج صبح کا پوچھا ہوا سوال اسے یاد آیا۔
“تاکے میں سکون سے مرسکوں” اسکی آنکھوں سے آنسوؤں لڑیوں کی صورت بہہ رہے تھے جسے وہ بےدردی سے رگڑ رہا تھا۔ بلاآخر وہ طویل راستہ ختم ہوا اور وہ ہوسپیٹل پہنچ گیا۔ کوریڈور میں ہی سے شاہ میر سر پکڑے بیٹھا نظر آیا۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس تک پہنچا۔
“شاہ میر، کیا ہوا ہے شاہ زل کو؟ کیسا ہے وہ؟” اس نے بےچینی سے پوچھا تو شاہ میر نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔
“وہ اب خطرے سے باہر ہے۔ اسےبروقت ہسپتا پہنچا دیا گیا تھا اسی لئے وہ بچ گیا۔ ڈاکٹر نے آپریٹ کر کہ گولیاں نکال دی ہیں۔ لیکن۔۔۔۔۔” وہ رکا
“لیکن کیا؟”
“شفا کے بازو پر جو گلی لگی ہے اس نے اسکی ہڈی چور چور کر دی ہے” یہ سن کر شاہ زل کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی۔
“مم۔۔۔۔ میں چھوڑوں گا نہیں ان لوگوں کو، عدالتوں میں گھسیٹوں گا انھیں۔۔۔۔” وہ غصّے سے بولا۔
“اور میں میڈیا پر اس خبر کو اتنا چلاؤں گا کہ حکومت کو ایکشن لینا ہی ہوگا” شاہ زین کی آواز پر ان دونوں نے مڑ کر دیکھا۔ شاہ زین، شاہ زیب اور شاہ رخ بھی وہیں آگئے تھے۔ چار گھنٹے ان لوگوں نے کانٹوں پر گزارے تھے۔ گھر میں امانت صاحب کی طبیعت بہت خراب تھی جبکہ ہوش میں آتے ہی شانزے ہوسپیٹل آئی تھی اسے روکنا کسی کے بس میں نہیں تھا۔ سوہا بھی اسکے ساتھ ہی آگئی تھی۔ چار گھنٹے بعد شاہ زل کو مکمل ہوش آیا تھا۔ ہوش میں آتے ہی اس نے سب سے پہلے شفا کا پوچھا تھا
“وہ ٹھیک ہے تم فکر نہ کرو” شاہ میر نے نرمی سے کہتے ہوئے اسکا سر سہلایا تھا۔
“مجھے اس سے ملنا ہے” وہ اٹھنے لگا۔
“نہیں شاہ زل تمہیں ٹانکے آئے ہیں ابھی مت ہلو” شاہ زین نے اسے روکا۔
“نہیں مجھے جانا ہے” وہ بضد تھا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔ لیکن تھوڑی دیر۔۔۔۔” شاہ میر نے اسے شرٹ پہنائی۔ وہ اٹھا، جسم میں درد کی ٹسیں اٹھی تھیں لیکن اسے پروا نہیں تھی۔ شاہ میر اور شاہ زین اسے دو طرف سے سہارا دے کر شفا کہ وارڈ تک لائے۔ جیسے ہی وہ وارڈ میں داخل ہوا اسکو لگا کسی نے اسکے کلیجے پر چھرا پھیر دیا ہو۔ ننھی سی شفا کا ہاتھ پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ ناک میں کھانا پہنچانے کے لئے نلکی لگی ہوئی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا بیڈ کے پاس آیا اور گھٹنوں کے بل اسکے سامنے بیٹھا۔ وہ اتنی تکلیف میں ہونے کے باوجود بھی اسے دیکھ کر ہنس دی تھی۔ کمرے کے ایک کونے میں بیٹھی شانزے سسک رہی تھی۔ شاہ زل نے جھک کر شفا کے ماتھے پر پیار کیا۔ ایک آنسوں اسکی آنکھوں سے بہہ نکلا تھا۔ شاہ ویز تو دیکھ ہی نہیں پا رہا تھا شفا کو اس حال میں، وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔ شاہ میر آگے بڑھا اور اسے کندھوں سے تھام کر اٹھایا۔
“چلو شاہ زل۔۔۔ زین اور شانزے ہیں شفا کے پاس” اس نے سر ہلایا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ دو قدم ہی آگے بڑھا ہوگا کہ شفا نے اسے پکارا
“بابا۔۔۔۔” وہ مڑ کر نہیں دیکھ سکا بلکہ تیزی سے باہر آگیا۔ روم سے باہر آتے ہی اسکے قدم ڈگمگاۓ تھے۔ وہ گر جاتا اگر شاہ ویز اسکو تھام نہ لیتا۔
“سنبھال کے۔۔۔۔” شاہ ویز نے کہا۔ وہ جواب دینے کے بجاۓ اسی کے گلے لگ کر رو پڑا۔
دنیا میں سب زیادہ پیاری چیز اولاد ہوتی ہے۔۔۔۔۔
اور اولاد کی تکلیف انسان سے برداشت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔
——-** ——-** ——-** ——-** ——-** ——-**
“آپ کی بیٹی ٹھیک تو ہوگئی ہے لیکن۔۔۔۔۔ اسکے بائیں ہاتھ میں ساری زندگی کے لئے نقص آگیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زخم بھر تو جائے گے مگر وہ اب عام انسان کی طرح اپنا ہاتھ استعمال نہیں کر پائے گی۔ وہ اس ہاتھ سے زیادہ وزن نہیں اٹھا سکتی، اپنے ہاتھ کو زیادہ اونچا نہیں اٹھا سکتی، اس سے زیادہ موومنٹ نہیں کر سکتی اور سردیوں میں اسکے ہاتھ میں بہت زیادہ درد بھی ہوگا۔” ڈاکٹر کی باتیں وہ سر جھکا کر سن رہا تھا۔ وہ خود بھی ایک ڈاکٹر تھا اور اچھے سے جانتا تھا کہ مستقبل میں شفا کو کیا کیا پریشانیاں جھیلنی پڑے گی۔ ڈاکٹر تو اپنی کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔ کمرے صرف وہ اور شاہ ویز رہ گئے۔ آج شفا نے ڈسچارج ہونا تھا۔
“مجھے تم سے کچھ مانگنا ہے شاہ زل” شاہ ویز اچانک ہی بولا
“کیا؟” وہ حیران ہوا
“میں شاہ زر کے لئے شفا کو مانگنا چاہتا ہوں”
“وہ تمہاری بیٹی ہے جیسا تمہیں ٹھیک لگے” اس نے مختصر سا جواب دیا تھا۔
اس دن کے بعد سے شفا اس گھر کی بلا شراکت غیرے شہزادی بن گئی تھی۔ کبھی وہ شاہ زین کے کندھے پر چڑھی ہوتی تو کبھی شاہ ویز کے پیٹھ پر بیٹھی ہوتی، کبھی شاہ میر کی گود میں بیٹھ کر کھانا کھا رہی ہوتی تو کبھی شاہ زیب کے ساتھ کھیل رہی ہوتی۔ اسے کسی نے یہ احساس ہی نہیں ہونے دیا کے اس میں کوئی کمی ہے۔
“بابا۔۔۔۔۔۔” اس نے چونک کر آنکھیں کھولی۔ اسکے گھٹنوں کے پاس شاہ زر سر جھکائے بیٹھا تھا۔
“میں تم سے بات نہیں کرنا چاہتا” اس نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔
“مجھے معاف کردیں بابا۔۔۔۔ مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ آپ کو تو پتا ہے میں غصّے میں کچھ بھی بول دیتا ہوں۔”
“تم شفا سے شادی نہیں کرنا چاہتے؟” اس نے پوچھا
“نہیں۔۔۔۔” اس نے سر جھکائے جھکائے کہا
“ٹھیک ہے۔۔۔۔” وہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
“کہاں جا رہے ہیں آپ؟”
“شاہ زل کے پاس، ”
“آپ نے مجھے معاف کیا؟”
“پہلے میرا بھائی مجھے معاف کر دے پھر میں بھی تمہیں معاف کردوں گا” وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا۔ شاہ زر خاموشی سے بیٹھا رہا
“فکر مت کرو۔۔۔۔ معاف کر دے گا وہ تمہیں” شاہ میر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی تو وہ محض سر ہلا کر رہ گیا۔ دوسری طرف شاہ زل راکنگ چیئر پر آنکھیں موندے بیٹھا تھا۔ جب کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اس نے چونک کر آنکھیں کھولی۔
“مجھے معاف کردینا” اس نے شرمندہ لہجے میں کہا۔ شاہ زل اٹھا اور اسکے گلے لگ گیا۔
“ہمارا رشتہ اتنا کمزور نہیں ہے کہ اتنی ذرا سی بات پر ٹوٹ جائے” اس نے کہا
“شفا کہاں ہے؟” شاہ ویز نے پوچھا
“اپنے کمرے میں”
“میں مل کر آتا ہوں اس سے” شاہ ویز نے کہا اور شفا کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
——-** ——-** ——-** ——-** ——-** ——-**
وہ خاموش سی بیٹھی تھی۔ اچانک ہی اسے کوئی خیال آیا تو اس نے اپنا موبائل اٹھایا اور علی کو کال ملائی۔ اس نے فورا فون اٹھایا۔
“صبر کر لو لڑکی کہا ہے نا شام میں آرہا ہوں دادی کے ساتھ” علی کی شریر آواز کانوں سے ٹکرائی۔
“علی۔۔۔۔۔” اس کے گلے میں آنسووں کا گولہ اٹکا
“کیا ہوا شفا؟ تم رو رہی ہو؟ ابھی رخصتی تھوڑی ہورہی ہے تمہاری جو رو رہی ہو” علی کبھی سنجیدہ نہیں ہوسکتا تھا۔
“علی تم مت آؤ” اس نے روتے ہوئے کہا۔
“کیوں؟”
“میں تمہارے قابل نہیں ہوں؟”
“یہ تم سے کس نے کہا؟”
“مجھے پتا ہے، میرے ہاتھ میں نقص ہے اور میں کیسے۔۔۔۔۔” علی نے اسکی بات کاٹی۔
“مجھے تو یاد ہی نہیں تھا کہ تمہارے ہاتھ میں نقص ہے”
“اب یاد آگیا نا۔۔۔۔۔ اب منع کردو”
“اب تو زبان دے دی ہے اب مکر نہیں سکتا پہلے بتانا تھا نا” اس نے سنجیدہ ہونا سیکھا ہی نہیں تھا۔
“تم فکر نہ کرو تمہاری دادی کو میں سمجھا دوں گی” اس نے آہستہ سے کہا تو علی قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔
“شفا۔۔۔۔ قسم سے ایسی باتیں کرتی ہوئی تم دیوداس کی زنانہ ورژن لگ رہی ہو” وہ ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا۔
“آخر تمہارے ساتھ مسلہ کیا ہے؟” شفا نے اسکے مسخرے پن سے چڑ کر کہا۔
“اگر مجھے تمہارے ہاتھ کہ کسی نقص کی پروا ہوتی نا تو میں تمہیں اپنا کرائم پارٹنر ہی نہ بناتا بلکہ میں تم سے دوستی ہی نہیں کرتا۔ مجھے ان سب باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تم جو ہو، جیسی ہو، مجھے ویسے ہی پسند ہو۔ اپنے آپ کو کسی سے کم نہ سمجھو اس ہاتھ سے تم نے وہ سارے کام کئے ہیں جو باقی لڑکیاں نہیں کر سکتی۔” علی کی باتوں نے اسکو اطمینان پہنچایا تھا۔
“کہیں تم مجھ پر ترس تو نہیں کھا رہے؟” اس نے اپنی آخری غلط فہمی بھی دور کرنی چاہی۔
“مجھے ترس کھانا ہوتا تو تم سے شادی کبھی نہیں کرتا۔ ایک بات یاد رکھنا تم دنیا کی سب سے الگ لڑکی ہو۔ تم سب سے منفرد ہو اور مجھے اپنی زندگی میں منفرد لڑکی ہی چاہیے۔ اور رہی بات نقص کی تو میرے اندر بھی ایک نقص ہے” علی نے راز داری سے کہا۔
“کونسا نقص؟” وہ حیران ہوئی۔
“دماغی نقص۔۔۔۔” اس نے شرارت سے کہا تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
“شاباش۔۔۔ اب ایسے ہی ہنستی رہنا ورنہ تمہاری روتی صورت دیکھ کر کہیں میری دادی ڈر ہی نہ جائے” علی نے شرارت سے کہہ کر فون رکھ دیا۔ وہ اب بہت خوش تھی، بہت زیادہ خوش۔۔۔۔اسی وقت کسی نے اسکے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
“کون ہے؟ آجاؤ” اس نے مصروف سے انداز میں کہا تو شاہ ویز دروازہ کھول کر اندر آگیا۔
“چھوٹے بابا آپ؟”
“ہاں میں۔۔۔ اپنی گڑیا سے ملنے آیا ہوں” اس نے شفا کے برابر میں بیٹھتے ہوئے کہا
“تم مجھ سے ناراض تو نہیں ہو نا؟” اس نے پوچھا
“میں آپ سے ناراض ہو سکتی ہوں؟” اس نے پوچھا
“نہیں۔۔۔” شاہ ویز نے یقین سے کہا
“بکل۔۔۔۔” وہ کہتے ہوئے شاہ ویز کے گلے لگ گئی۔
———————–*** ———————–*** —–*
شام کو علی کی دادی انکے گھر رشتہ لے کر پہنچی تھی۔ امانت صاحب تو بہت ہی خوش تھے۔ لیکن۔۔۔۔۔
“آنٹی! ہمیں آپ کا پوتا ایک شرط پر قبول ہوگا۔ وہ یہ کہ کل یہ پورا دن ہمارے ساتھ گزارے گا اور ہم سب اس کا امتحان لیں گے” شاہ میر نے کہا تو علی نے حیرت سے دیکھا
“مطلب؟”
“ارے چھوڑو مطلب کو۔۔۔۔۔ تم لوگوں کو اسکا جو امتحان لینا ہے لے لو۔ اور بیٹا کچھ سیکھا کر ہی بھیجنا اسکو” علی کو یقین ہوگیا تھا کہ اسکی دادی سوتیلی ہیں۔
“کس قسم کا امتحان ہوگا میرا؟” اس نے سنبھل کر پوچھا
“وہ تمہیں کل پتا چلے گا۔ ہاں ہم تمہیں امتحان کا طریقہ کار بتا دیتے ہیں۔ پہلا امتحان شاہ میر لے گا۔ اور اگر تم اس امتحان میں کامیاب ہوگئے تو وہ اس کاغذ پر اپنے دستخط کرے گا۔ پھر یہ کاغذ لے کر تم میرے پاس آؤ گے۔ اور میں تم سے دوسرا امتحان لوں گا۔ اگر تم اس میں پاس ہوگئے تو پھر شاہ زل امتحان لے گا اور اسی طرح باقی دونوں بھی، ہر امتحان دینے کے لئے پچھلے میں کامیاب ہونا شرط ہے” شاہ ویز نے اسے طریقہ کار سمجھایا۔
“اور اگر میں ناکام ہوگیا تو؟” اس نے پوچھا
“وہ دروازہ ہے وہاں سے واپس چلے جانا” شاہ ویز نے اسے دروازے کا راستہ دکھایا
“اور یہ امتحان کب ہوں گے؟”
“سب کے سب کل”
“مطلب ایک ہی دن میں پانچ امتحان؟”
“شکر کرو کہ شاہ رخ یہاں نہیں ہے ورنہ تمہارے پانچ کی جگہ چھ امتحان ہوتے” شاہ زین اسکی حالت سے محفوظ ہورہا تھا۔
“خیر وہ یہاں ہوتے تو آپ لوگوں نے تب بھی مجھ سے پانچ امتحان ہی لینے تھے کیوں کہ گھر کا چھوٹا بچہ ہونے کہ جرم میں آپ لوگ انھیں منہ بھی نہیں لگاتے” علی نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا تو امانت صاحب کو ہنسی آگئی۔
“تمہیں بڑا پتا ہے؟” شاہ زیب نے چڑ کر پوچھا
“جی۔۔۔۔ پوری ہسٹری پڑھ کر آیا ہوں آپ لوگوں کی” اس نے شرارت سے کہا۔
“تم سے کس نے کہا کہ تمہارے پانچ امتحان ہوں گے؟” اس آواز پر سب کی گردنیں مڑی تھیں۔ لاونچ کے دروازے پر شاہ رخ سفری بیگ پکڑے کھڑا تھا۔
“تم آگئے؟” شاہ زین نے کچھ زیادہ ہی خوشی سے پوچھا
“ہاں۔۔۔۔ میری اکلوتی بھتیجی کا رشتہ طے ہورہا ہے اور میں ہی نہ ہوں؟ چلو بیٹا اب تیاری کر کہ آنا” شاہ رخ بھی وہیں صوفے پر بیٹھ گیا۔
“آہ۔۔۔۔ مشکل وقت میں سارے دشمن ایک ہوجاتے ہیں۔” علی نے دکھ سے کہا۔
“خیر۔۔۔۔ کل مجھے کسی وقت آنا ہے؟”
“صبح آٹھ بجے” شاہ ویز نے کہا
“اور واپسی کب ہوگی؟”
“رات آٹھ بجے”
“مطلب کل بارہ گھنٹے میں آپ لوگوں کی تحویل میں رہوں گا” علی نے پوچھا
“ہاں۔۔۔۔”
“ٹھیک ہے پھر۔۔۔۔ تیار ہو کر آئیے گا میرے جلاد صفت سسرز۔۔۔۔ کیونکہ کل بارہ گھنٹے آپ سب نے میرے ساتھ جو گزارنے ہوں گے۔ خدا حافظ فادرز ان لاؤس۔۔۔۔” وہ ماتھے تک ہاتھ لے جا کر ان سب کو خدا حافظ کہہ کر چلا گیا۔ اور ان لوگوں کی شکلیں دیکھنے والی تھیں۔
ایک طرف امانت صاحب یہ سوچ کر خوش ہورہے تھے کہ چلو کوئی تو آیا جو انکے ٹیڑھے بیٹوں کو گھوما کر رکھ دے گا۔
جب کہ علی کی دادی یہ سوچ کر خوش ہورہی تھیں کہ کوئی تو ہے جو انکے پوتے کو سیدھا کر کہ رکھ دے گا۔
ایک طرف وہ سب بھائی ۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف اکیلا علی ۔۔۔۔۔۔
آگے کیا ہونے والا تھا؟ ۔۔۔۔۔۔
——-** ——-** ——-** ——-** ——-** ——-**
“یہ لو تمہارے نوٹس۔۔۔۔۔” حمزہ نے اسکے ہاتھ میں نوٹس دیے تھے۔
“تھنک یو حمزہ تمہیں نہیں پتا مجھے اسکی کتنی ضرورت تھی” رشنا نے نوٹس لیتے ہوئے خوشی سے کہا۔ وہ دونوں اس وقت گلی میں کھڑے تھے۔
“مجھے پتا تھا اسی لئے تو لایا ہوں” حمزہ نے شرارت سے کہا
“تمہیں کیسے پتا تھا؟” اس نے حیرت سے پوچھا۔
“تمہاری ہر ضرورت کا مجھے پتا ہوتا ہے رپنزل۔۔۔۔” کانچ سی براؤن آنکھوں میں انوکھی سی چمک تھی۔ رشنا کے چہرے پر شرمیلی سی مسکان آگئی۔
“یہ وہاں کیا ہورہا ہے؟” قریب ہی بینچ پر سامعہ کے ساتھ بیٹھی علینا نے اس سے پوچھا
“خاموش محبت۔۔۔۔۔” سامعہ نے چپس کھاتے ہوئے مزے سے کہا۔
“کیا مطلب؟” وہ سمجھی نہیں
“تمہیں نہیں پتا؟ یہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ لیکن پتا کیا؟ دونوں ہی اپنے اپنے منہ سے نہیں پھوٹتے۔۔۔۔” اس نے بےزاری سے کہا۔
“کیا پتا ایسا نہ ہو؟” علینا نے پتے کی بات کہی۔
“ایسا ہی ہے، اور سب کو پتا ہے بس یہی دونوں منہ بند کئے بیٹھے ہیں۔ حمزہ غصّے کا اتنا تیز ہے لیکن رشنا کے آگے اسکا سارا غصّہ اڑن چھو ہوجاتا ہے۔ اور رشنا اپنے ہر کام کے لئے حمزہ کو ہی پکارتی ہے۔” اس نے بتایا
“اوہ۔۔۔۔لیکن دونوں کتنے پیارے ہیں نا” علینا نے کہا۔
“ہاں سو تو ہے” سامعہ نے بھی تائید کی۔
“اچھا میں چلتی ہوں۔ پیپر کی تیاری بھی کرنی ہے۔ پہلے ہی شادیوں کے چکر میں اتنا نقصان ہوگیا ہے پڑھائی کا” رشنا نے کہا۔
“ہاں ٹھیک ہے تم جاؤ۔ اور اچھے سے پڑھنا” حمزہ نے مسکراتے ہوئے کہا
“خدا حافظ۔۔۔۔” وہ کہہ کر جانے کے لئے مڑ گئی۔ حمزہ اسکی پشت کو دیکھتے ہوئے گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔ لمبے بالوں کی پونی کمر پر جھول رہی تھی۔
“شاہ رخ خان والا سین کریں؟” علینا نے سامعہ کے کان میں شرارت سے کہا
“کونسا سین؟” وہ حیران ہوئی
“وہی۔۔۔۔ پلٹ پلٹ پلٹ والا۔۔۔۔” اس نے شریر مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو اسے سمجھ میں آگئی۔
“آں۔۔۔ہاں۔۔۔۔”
“اگر اسکو حمزہ سے محبت ہوئی تو وہ ضرور پلٹے گی” علینا نے شاہ رخ خان کی نقل اتاری۔
“چلو دیکھتے ہیں یہ کتنے دیر میں پلٹتی ہے؟” سامعہ نے بھی کہا
“میرے خیال سے دس سیکنڈ میں، چلو پھر گنتی شروع کرتے ہیں۔۔۔ ایک۔۔۔۔ دو۔۔۔ تین” علینا نے گننا شروع کیا۔ وہ چند قدم آگے بڑھ چکی تھی۔
“ابے یہ تو پلٹی ہی نہیں” سامعہ نے مذاق اڑایا
“پلٹے گی بیٹا۔۔۔۔ چھ ساتھ۔۔۔” علینا کی گنتی جاری تھی۔ رشنا اپنے گھر کے دروازے پر پہنچ چکی تھی۔
“کب پلٹے گی؟”
“پلٹنے ہی والی ہے۔ نو۔۔۔۔ دس۔۔۔۔” جیسے ہی اس نے دس کہا رشنا نے پلٹ کر حمزہ کو دیکھا۔ ان دونوں کے منہ کھلے کہ کھلے ہی رہ گئے وہ دونوں تو تفریح کر رہی تھیں انھیں کیا معلوم تھا کہ وہ سچ میں پلٹ جائے گی۔
اس نے حمزہ کو دیکھا، وہ اسے دیکھ کر پورے دل سے مسکرایا تھا۔ وہ گھبرا کر اپنے گھر میں گھس گئی۔
“اوہ۔۔۔ہو۔۔۔۔” ان دونوں نے شرارت سے ایک دوسرے سے کہا اور ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس دیں۔
ہم تم سے نہ کچھ کہہ پائے
تم ہم سے نہ کچھ کہہ پائے
لگتا ہے ڈر کہ، بات یہ دل کی
دل میں نہ رہ جائے
امتحان نمبر 1:
وہ ٹھیک آٹھ بجے شفا کے تایا کے گھر پر موجود تھا۔ سب سے پہلے اسکا ٹاکرا شہیر سے ہوا۔
“سلام سالے صاحب۔۔۔۔” علی نے اسکو بلند آواز میں سلام کیا۔
“وعلیکم السلام ! کیسے ہو؟” اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا
“بہت بےغیرت ہوں۔ آپ سنائیں؟” شہیر ہنس دیا
“میں ٹھیک ہوں۔ بڑے بابا کچن میں تمہارا انتظار کر رہے ہیں جاؤ مل آؤ” وہ کہتے ہوئے چلا گیا
“یہ کچن میں میرا انتظار کیوں کر رہے ہیں؟” اس نے سوچا۔
“خیر ہےدیکھ لیں گے انکو بھی” وہ کہتا وہ کچن میں آیا جہاں شاہ میر چیئر رکھ کر بیٹھا اسی کا انتظار کر رہا تھا۔
“ہیلو سسر جی۔۔۔۔۔” علی کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ بلیو جینز پر ریڈ ٹی شرٹ پہنے اور سر پر ریڈ پی کیپ لگائے وہ شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“ہیلو کیا ہوتا ہے؟ سلام کرتے ہیں۔” شاہ میر نے جتایا
“سلام سسر جی” اس نے فوراً سے کہا
“وعلیکم۔۔۔۔”
“یہ وعلیکم کیا ہوتا ہے سسر جی؟ سلامتی تو پوری بھیجیں”
“تم مجھے پر آدھی سلامتی بھیجو اور میں مفت میں تم پر پوری سلامتی بھیج دوں؟” شاہ میر نے اسکے صرف سلام کہنے پر چوٹ کی۔
“سوری سسر جی۔۔۔۔” اس نے جھٹ کان پکڑے
“یہ تم بار بار مجھے سسر نہ کہو ابھی تم ہمارے داماد نہیں بنے”
“بننے میں زیادہ وقت بھی نہیں لگے گا۔”
“اچھا زیادہ فضول نہ بولو، اپنا کام سنو” شاہ میر نے اسکی فور جی کی رفتار سے چلتی زبان سے تنگ آکر کہا۔
“کیا کرنا ہے مجھے؟” اس نے سکون سے پوچھا
“میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم میری بیٹی کے لئے ناشتہ اور کھانا وغیرہ بنا سکتے ہو یا نہیں؟ اسی لئے تم آج میرے لئے ناشتہ بناؤ گے”
“بس اتنی سی بات میں ابھی آپ کے لئے ٹوس گرم کرتا ہوں اور چائے بنادیتا ہوں۔”
“وں ہوں ۔۔۔۔۔ مجھے ٹوس اور چائے نہیں بلکہ پراٹھا اور فرائی انڈا چاہیے۔ کیوں کہ شفا بھی روز یہی ناشتہ کرتی ہے۔ اب جس دن اسکا ناشتہ بنانے کا دل نہیں ہوگا تو کیا وہ بھوکی رہے گی؟ تمہیں کم از کم ناشتہ بنانا تو آنا چاہیے”
“جس دن اسکا دل نہیں ہوگا ناشتہ بنانے کا، اس دن ہم باہر سے آرڈر کر لیں گے۔ سمپل! ۔۔۔” اس کندھے اچکاتے ہوئے کہا
“میری بیٹی باہر کا کھانا نہیں کھاتی” اس نے چبا چبا کر کہا
“تو میں کوک رکھ لونگا” ہر مسلے کا حل موجود ہوتا تھا اسکے پاس، شاہ میر کھڑا ہوا اور دو قدم چل کر اسکے قریب آیا۔
“میں لاؤنچ میں ہوں مجھے پندرہ منٹ میں ناشتہ لا کر دو” اس نے بات ہی ختم کردی اور چلتا بنا۔
“چلو۔۔۔۔ پہلے چائے بناتا ہوں” اس نے پاس پڑا پین اٹھایا اور اس میں ایک کپ پانی ڈال کر اسے چولہے پر چڑھا دیا۔ پھر جیب سے موبائل نکال کر شفا کو کال کرنے لگا۔ ایک دو بیل جانے کے بعد ہی اس نے فون اٹھا لیا۔
“ہیلو شفا۔۔۔۔”
“کہو؟ کیسا جا رہا ہے امتحان؟” اس نے شوخی سے پوچھا
“بہت زبردست ۔۔۔ میری حالت اس بہو کی سی ہوگئی ہے جو اپنی ساس نندوں کے نرغے میں پھنس جاتی ہے” اس نے منہ بسورتے ہوئے کہا تو وہ ہنس پڑی۔
“ہنسنا بعد میں، پہلے یہ بتاؤ کہ چینی، دودھ اور پتی کہاں ہے؟”
“چینی دودھ اور پتی سنگ کے اوپر والے کیبنٹ میں ہے جب کہ چائے کے کپ الٹے ہاتھ کے دوسرے کیبنٹ میں ہیں”
“اوکے۔۔۔۔” اس نے فون کان سے لگائے ہی کیبنٹ کھولا۔
“شفا یہاں تو صرف مسالے ہیں”
“کیا؟ تم ٹھیک سے دیکھو”
“نہیں میں اندھا ہوں کیا؟”
“مطلب بڑے بابا نے سیٹنگ بدل دی؟” اس نے پر سوچ لہجے میں کہا
“بڑے سمارٹ ہیں یار تمہارے تایا تو؟ خیر میں بھی علی ہوں، فکر نہ کرو” اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور فون کاٹ دیا۔ اس نے تھوڑی محنت کہ بعد سارا سامان ڈھونڈ ہی لیا۔ اور تھوڑی دیر بعد وہ شاہ میر کے سامنے حاضر تھا۔ جو بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا
“یہ لیجیے آپکا گرما گرم ناشتہ۔” علی نے ٹرے اسکے سامنے رکھی تو اس نے اخبار سائیڈ پر رکھ کر اپنے سامنے رکھی ٹرے دیکھی اور اگلے ہی لمحے اسے جھٹکا لگا۔ ٹرے میں دو عدد ٹوس اور ایک کپ چائے پڑی تھی۔
“یہ کیا ہے؟” اس نے حیرت سے پوچھا
“ناشتہ ہے سسر جی”
“میں نے تم سے یہ ناشتہ مانگا تھا؟” اس نے غصّے سے پوچھا
“نہیں۔۔۔۔ لیکن جو آپ نے مجھ سے مانگا تھا وہ مجھے بنانا نہیں آتا” وہ سکون سے کہتے ہوئے شاہ میر کے سامنے بیٹھ گیا۔
“تو پھر تم جا سکتے ہو”
“جی جی۔۔۔۔ چلا جاؤں گا لیکن پہلے آپ اس کاغذ پر اپنے دستخط کر دیں” اس نے شاہ ویز کا دیا ہوا کاغذ اسکے سامنے کیا
“کیوں؟ تمہیں میں نے جب پاس ہی نہیں کیا تو میں دستخط کیوں کروں؟”
“پاس تو آپ کو مجھے کرنا ہی ہوگا” اس نے اطمینان سے کہا
“ورنہ کیا کرلو گے؟” وہ بھی اتنے ہی آرام سے بولا
“ورنہ میں جاؤں گا امانت انکل یعنی آپ کے ڈیڈ کے پاس اور انکو بتاؤں گا کہ ہائی بلڈ پریشر کا مریض ہونے کے باوجود اپ نے آج انڈا پراٹھا کھانے کی فرمائش کی ہے۔ جب کہ کل رات بی پی شوٹ کر جانے کی وجہ سے آپ چار گھنٹے ہوسپیٹل میں گزار چکے ہیں۔ اور پھر جو ہوگا وہ تو آپ اچھے سے جانتے ہیں نا” علی نے آنکھوں میں شرارت سموتے ہوئے پوچھا۔
“تم۔۔۔۔۔ تم مجھے دھمکی دے رہے ہو؟” اس نے بےیقینی سے پوچھا
“جی بلکل۔۔۔۔۔” وہ ڈھٹائی سے بولا۔
“جاؤ بتاؤ۔۔۔۔ میں بھی دیکھتا ہوں کہ وہ تمہاری بات پر کیسے یقین کرتے ہیں۔ کیوں کہ تم بھول رہے کہ تم نے نہ ہی انڈا بنایا ہے اور نہ ہی پراٹھا تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ میں نے ایسا کہا ہے؟” وہ بھی ایک عرصے نیب میں جاب کرکہ آیا تھا۔
“وہ ہی تو سسر جی۔۔۔۔۔ میں دادا جان سے کہوں گا کہ۔۔۔۔ آپ نے مجھ سے پراٹھے اور انڈے کھانے کی فرمائش کی لیکن کیوں کہ میں ایک نیک لڑکا ہوں اور آپ کی بہت فکر کرتا ہوں اسی لئے میں نے آپ کو وہ ناشتہ بنا کر ہی نہیں دیا۔ اور آپ تو جانتے ہے کہ آپ کے والد صاحب غصّے میں کسی کا بھی لحاظ نہیں کرتے۔ اور جہاں تک رہی بات یقین کرنے کی تو وہ یقین ضرور کریں گے کیوں کہ آپ تقریبًا روزانہ ہی ایسی فرمائش کرتے ہیں اور اس عمر میں بھی ان سے ڈانٹ کھاتے ہیں۔ اور وہ اپنی اولاد کو اچھے سے جانتے ہیں” شاہ میر کی شکل دیکھنے لائق تھی۔
“تم آخر چاہتے کیا ہو؟” اس نے چبا چبا کر پوچھا
“زیادہ کچھ نہیں بس آپ کے سائن۔۔۔۔” اس نے عاجزی سے کہا اور کاغذ شاہ میر کی جانب بڑھایا۔ شاہ میر نے ایک غصیلی نگاہ اس پر ڈالی اور اسکے ہاتھ سے کاغذ جھپٹا۔
“یہ لو۔۔۔۔۔” شاہ میر نے سائن کر کہ کاغذ اسے واپس کیا۔
“تھنکس سسر جی ۔۔۔۔ ناؤ انجوائے یور بریک فاسٹ”
(Now enjoy your break fast)
وہ کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور کمرے سے باہر جانے لگا۔
“مجھ سے تو دستخط لے لئے ہیں لیکن یہ بتاؤ، شاہ ویز سے کیسے لو گے؟ وہ تو تم سے کبھی نہیں ہار سکتا” شاہ میر نے طنز سے کہا
“دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔” وہ مسکراتے ہوئے باہر نکل گیا۔ اسکے جانے کے بعد شاہ میر نے ایک نظر ناشتے کو دیکھا اور اگلے ہی لمحے ہنس پڑا۔ انکے گھر کو ایسے ہی داماد کی ضرورت تھی۔
“مطلب آپ راضی ہیں؟” اگلے ہی لمحے علی کا منہ دروازے سے نمودار ہوا تھا۔
“تم گئے نہیں؟” وہ حیران ہوا
“نہیں۔۔۔ آپ کے ہنسنے کی آواز سن کر واپس آگیا۔ جلدی بتائیں آپ دل سے راضی ہیں؟” اس نے آنکھیں پٹٹتاتے ہوئے معصومیت سے کہا تو وہ پھر سے ہنس دیا
“ہاں ہاں راضی ہوں۔” شاہ میر نے ہنستے ہوئے کہا
“لو یو سسر جی۔۔۔۔” وہ اسے فلائنگ کس دیتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔ جب کہ اسکے جانے کے بعد شاہ میر کتنی ہی دیر بیٹھا ہنستا ہی رہا تھا
———-+* ———-+* ———-+* ———-+* ———
وہ اپنے روم میں بیٹھی ناخن فائل کر رہی تھی جب حمزہ وہاں داخل ہوا
“حمزہ۔۔۔۔۔ تم کب آئے؟” وہ اسے دیکھ کر خوش ہوئی۔
“بس تمہاری یاد آرہی تھی تو چلا آیا” وہ کہتے ہوئے حریم کے برابر میں بیٹھ گیا۔
“ابھی کل ہی تو ملی تھیں میں تم سے” وہ حیران ہوئی
“کل ملی تھی نا، آج تو نہیں ملی۔ خیر میں تمہیں لینے آیا ہوں۔”
“تم نہ بھی آتے تو میں آہی جاتی” آمنے سامنے گھر ہونے کی وجہ سے روزانہ ہی حریم وہاں آجاتی تھی۔
“ہاں آجاتی اور پھر ایک دو گھنٹے میں واپس بھی چلی جاتی۔ میں تمہیں لے کر جا رہا ہوں اور اب تم تین چار دن سے پہلے واپس نہیں آؤ گی”
“تین چار دن تو زیادہ ہو جائیں گے”
“کوئی نہیں، میں نے کہہ دیا کہ تم رک رہی ہو تو بس اب تمہیں رکنا ہی ہوگا”
“اچھا بھئی! ٹھیک ہے، پہلے میں حیدر سے پوچھ لوں”
“کیا مطلب؟ اس سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟”
“وہ میرا شوہر ہے اس سے اجازت لئے بنا کیسے جا سکتی ہوں؟” جی ہاں، یہ وہی حریم تھی جس نے حیدر کو ڈرا کر رکھا ہوا تھا۔
“اچھا ۔۔۔۔۔ ، اب وہ اتنا بڑا ہوگیا ہے کہ تم اس سے اجازت لوگی؟” حمزہ نے حیرت سے پوچھا
“حمزہ! بدتمیزی نہیں کرو”
“کوئی ضرورت نہیں ہے اس سے اجازت لینے کی، بہت زیادہ بھی ہوا تو فون کر کہ اطلاع دے دینا بس ۔۔۔۔۔۔”
“چلو میں بتا دیتی ہوں اسکو” اس نے ہنستے ہوئے کہا
“خود سے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب وہ خود فون کرے تو بتا دینا” حمزہ نے گویا احسان کیا
“تمہیں کیا ہوگیا ہے؟”
“مجھ سے حیدر کی اتنی عزت برداشت نہیں ہو پارہی”
“ہاہاہا۔۔۔ ” حریم ہنسنے لگی
“اچھا اب چلو بھی۔۔۔۔”
“مجھے سامان تو باندھنے دو”
“سامان کی فکر نہیں کرو۔ ایسے ہی چلو، سامان تمہارا پرسنل ملزم لے آئے گا”
” میرا پرسنل ملازم کون؟” حریم حیران ہوئی۔
“حیدر اعوان ۔۔۔۔ ” حمزہ نے مزے سے کہا
“بس کردو کب سے برائیاں کئے جا رہے ہو اسکی، کچھ تو خیال کرو بہنوئی ہے وہ تمہارا” وہ برا مان گئی۔
“ہاہاہا۔۔۔۔ میڈم پہلے وہ میرا دوست ہے” اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
“اچھا چلو اب، دیر ہورہی ہے” اس نے ٹائم دیکھتے ہوئے کہا تو حریم پرس اٹھانے چل دی۔
——-** ——-** ——-** ——-** ——-** ——-**
امتحان نمبر 2:
شاہ میر سے جان چھڑانے کے بعد وہ سیدھا لان میں آیا جہاں شاہ ویز بیٹھا ہوا موبائل میں مصروف تھا۔
“السلام علیکم!۔۔۔۔” علی نے ادب سے اسے سلام کیا تو اس نے موبائل پر سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔ پھر ہاتھ میں باندھی اپنی گھڑی کی جانب دیکھا جو اس وقت صبح کے پونے نو بجا رہی تھی۔
“وعلیکم السلام! تمہیں میں نے نو بجے بلایا تھا اور تم پونے نو پر آگئے؟”
“جی پچھلے امتحان سے جلدی فارغ ہوگیا نا اسی لئے”
“ڈسیپلن نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے کہ نہیں؟ جو وقت دیا ہے اس سے پندرہ منٹ پہلے آئے ہو تم، یہ کونسا طریقہ ہے؟ ” علی بھونچکا رہ گیا۔ لوگ دیر سے آنے پر ڈانٹتے ہیں اور یہ اسے پہلے آنے پر سنا رہا تھا۔
“خیر۔۔۔ اب تم نے غلطی کر ہی دی ہے تو سزا بھی بھگتنا ہوگی”
“کیسی سزا؟” اس نے پوچھا تو شاہ ویز اٹھا اور جیبوں میں ہاتھ ڈال کر اسکے مقابل کھڑا ہوا۔
“میں تم سے ڈھائی سو پش اپس لگوانے کا ارادہ رکھتا تھا اور یہی تمہارا امتحان تھا لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ اب تم وقت سے پہلے آئے ہو تو تمہیں پانچ سی پش اپس لگانی ہوں گی”
“وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن پش اپس سے ہوگا کیا؟ مطلب یہ کہ میں نے شاہ میر انکل کے لئے ناشتہ بنایا۔ یہ بات سمجھ آتی ہے کہ وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ میں انکی بیٹی کے لئے کھانا پکانے کا کام کر سکتا ہوں یا نہیں لیکن، پش اپس سے آپ کی بیٹی کا کیا تعلق؟”
“تعلق ہے۔ میں اچھے سے جانتا ہوں کہ صرف سو پش اپس میں ہی تمہاری جان ہلکان ہوجائے گی پھر تم غصّہ کرنے لگو گے اور چڑچڑے ہونے لگو اور یہی میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ تمہیں کتنی دیر میں غصّہ آتا ہے اور تم غصے میں کیسا ردعمل دیتے ہو۔ دوسرے لفظوں میں تم میری بیٹی پر غصّہ کرنے کی غلطی کر سکتے ہو یا نہیں۔”
“لیکن پانچ سو؟”
“کیوں تم پانچ سو پش اپس بھی نہیں لگا سکتے میری بیٹی کے لئے؟ جانتے ہو میں نے اپنی بیوی کی خاطر چھت سے چھلانگ لگائی تھی” اس نے فخر سے کہا
“ہاں پیٹ پر رسی باندھ کر”
“تمہیں کس نے بتایا”
“کہا تو ہے کہ پوری ہسٹری پڑھ کر آیا ہوں آپ لوگوں کی”
“زیادہ بکواس نہیں کرو بس یہ بتاؤ کہ پش اپس لگا سکتے ہو کہ نہیں؟”
“ٹھیک ہے پھر، میں پش اپس لگانے کو تیار ہوں۔ آپ نے سہی کہا کہ شفا کے شوہر کو کم از کم بھی پانچ سو پش اپس تو لگانی آنی چاہیے بھلے سے شفا کے تایا پچاس پش اپس بھی نہ لگا سکیں” اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا تو شاہ ویز کو آگ ہی لگ گئی۔
“کیا مطلب ہے تمہارا ہاں؟ میں اس عمر بھی تم سے زیادہ فٹ ہوں۔”
“وہ تو آپ کہہ رہے ہیں۔ لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ آپ بڈھے ہوچکے ہیں اور آپ پچاس پش اپس بھی نہیں لگا سکتے۔”
“میں ابھی تمہیں سو پش اپس لگا کر دکھاتا ہوں”
“آپ لگا ہی نہ لیں”
“تم دیکھتے جاؤ”
“رہنے دیں، فضول میں بے ہوش ہی نہ ہوجائے آپ” علی نے مذاق اڑایا
“میں نے کہا نا کہ میں لگا سکتا ہوں”
“اور اگر آپ سو پورے نہیں کر پائیں تو؟”
“تو میں تم سے امتحان لئے بنا ہی سائن کر دوں گا”
“مکر مت جائے گا”
“میں زبان کا پکّا ہوں اور تم۔۔۔۔ ادھر آؤ اور میرے ساتھ پش اپس لگانا شروع کرو” شاہ ویز نے دونوں ہاتھ زمیں پر جمائے۔ علی بھی اسکے برابر میں آیا۔ اب دونوں پش اپس لگانے کے لئے تیار تھے۔
“ایک دو تین ۔۔۔۔۔۔ سٹارٹ” علی نے کہا اور دونوں نے ایک ساتھ پش اپس لگانےشروع کر دیے۔ اور علی کا کہا سچ ثابت ہوا۔ شاہ ویز شوگر کا مریض تھا اور اس نے آج صبح ناشتہ بھی نہیں کیا تھا وہ پچاس پش اپس پر ہی نہ صرف ڈھیر ہوا بلکہ بے ہوش ہی ہوگیا۔ علی نے جلدی سے پانی لا کر اسکے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔
“میں کہاں ہوں؟” شاہ ویز نے چکراتے سر کہ ساتھ پوچھا۔
“عبدالله! تمہارا پتا گر چکا ہے۔ اور تم اس وقت عالم عروہ میں ہو۔ تمہارے اعمال بہت برے ہونے کی وجہ سے ہم تمہیں دوزخ میں بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں عبدالله” علی نے سنجیدہ لہجے میں کہا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔
“یہ کیا بکواس ہے؟” اس نے غصّے سے پوچھا
“آپ چیلنج ہار چکے ہیں سسر جی ۔۔۔۔۔ اب ذرا یہاں اپنے سائن کردیں” اس نے کاغذ شاہ ویز کی طرف بڑھایا تو اس نے جھپٹتے ہوئے کاغذ اس سے لیا۔
“پین۔۔۔۔” علی نے جیب سے پین نکال کر اسے دیا اس نے وہ بھی تقریباً جھپٹتے ہوئے ہی لیا
“سنو سسر جی، سنو سسر جی
سنو سسر جی، اب ضد چھوڑو
مان لو میری بات”
علی نے لہک لہک کر گانا شروع کیا
“شٹ اپ۔۔۔۔” شاہ ویز نے اسے غصّے سے کہا تو وہ چپ ہوا۔ اس نے سائن کر کہ کاغذ اسکی جانب بڑھائے اور کھڑا ہوا علی بھی کھڑا ہوگیا
“یہ لو اور دفع ہو یہاں سے ۔۔۔۔۔۔ ” علی نے سنجیدگی سے کاغذ اس سے لیا۔ وہ بہت سنجیدہ تھا
“لگتا ہے برا مان گیا” شاہ ویز کو اپنے لہجے کی سختی کا احساس ہوا لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اسکے سامنے کھڑے انسان کو اوپر والے نے انتہائی ڈھیٹ قسم کی مٹی سے بنایا ہے۔ وہ کاغذ لے کر جانے لگا لیکن اگلے ہی لمحے وہ پلٹا اور شاہ ویز کے سامنے آکر کھڑا ہوا۔
“کیا ہوا؟” شاہ ویز نے حیرت سے پوچھا لیکن ۔۔۔۔۔۔۔
سنو سسر جی،
اب ضد چھوڑو مان لو میری بات،
دلہن تو جائے گی دولہے راجہ کے ساتھ
دلہن تو جائے گی دولہے راجہ کے ساتھ”
علی نے بھنگڑے ڈالتے ہوئے گانے کا بقیہ حصّہ مکمّل کیا اور ناچتے، گاتے، بھنگڑے ڈالتے وہاں سے چلا گیا
“بےغیرت۔۔۔۔۔۔” شاہ ویز نے دانت کچکچاتے ہوئے لان میں رکھی ٹیبل پر ہاتھ مارا تھا۔
—–+* —–+* —–+* —–+* —–+* —–+* —–+*
“تم سچ کہہ رہے ہو حمزہ؟” حریم نے حیرت سے اس سے پوچھا
“ہاں۔۔۔ امی اور ابّو شام میں جائیں گے اور تم بھی جاؤ گی ان کے ساتھ” حمزہ نے بتایا
“مجھے تو یقین نہیں آرہا کہ میں اپنے بھائی کے لئے اپنی بیسٹ فرینڈ کا رشتہ لے کر جاؤں گی” اس نے خوشی سے کہا تو وہ مسکرایا
“اچھا اب تم نکلو یہاں سے مجھے تیار بھی ہونا ہے” حریم نے اسے وہاں سے چلتا کیا۔
“جا رہا ہوں۔۔۔” وہ اٹھ کر باہر آیا تو اسکے موبائل پر کال آنے لگی اس نے دیکھا تو حیدر فون کر رہا تھا۔
“ہیلو۔۔۔۔” اس نے موبائل کان سے لگا کر پوچھا
“میری بیوی کو اغوا کر کہ کہاں لے گیا ہے تو؟” حیدر کی شریر آواز آئی۔
“تمہاری بیوی میرے قبضے میں ہے۔ اگر اسے سہی سلامت دیکھنا چاہتے ہو تو واپسی پر ایک عدد لارج سائز کا پیزا لیتے آنا۔”
“اوکے برو ۔۔۔۔۔ “اس نے ہنستے ہوئے کہا اور فون کاٹ دیا۔ وہ بھی ہنس دیا
—–+* —–+* —–+* —–+* —–+* —–+* —–+*

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: