Urdu Novels Yaar Deewane Zeela Zafar

Yaar Deewane Novel by Zeela Zafar – Last Episode 10

Yaar Deewane Novel by Zeela Zafar
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
 یار دیوانے از ژیلہ ظفر – آخری قسط نمبر 10

–**–**–

امتحان نمبر 3:
وہ شاہ میر کے گھر سے نکل کر شاہ زل کے گھر آیا۔ سامنے ہی شفا صوفے پر بیٹھی کانوں میں ہیڈ فون لگائے گانے سننے میں مصروف تھی۔
“یہاں میں اس کے لئے ہلکان ہو رہا ہوں اور یہ بیٹھی گانا سن رہی ہے” اس نے جل کر سوچا اور اسکے پاس آیا۔
“ہیلو میڈم۔۔۔۔۔” اس نے شفا کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلایا تو اس نے جلدی سے ہیڈ فون کانوں سے اتارا۔
“تم یہاں؟ ” وہ حیران ہوئی۔
“تیسرا امتحان دینے آیا ہوں”
“واقعی؟ تم پہلے دو میں پاس ہوگئے؟”
“علی مرتضیٰ کبھی فیل نہیں ہوسکتا” اس نے شان بےنیازی سے کہا
“یہ تو ہے” شفا نے تائید کی
“ویسے تمہارے ابّا بھی کیا تمہارے تایاوں کی طرح ہیں یا ان کے اندر تھوڑی انسانیت پائی جاتی ہے؟” اس نے راز داری سے پوچھا تو شفا نے اسے گھورا
“بابا اسٹڈی روم میں بیٹھے ہیں۔ جا کر مل لو”
“اوکے۔۔۔۔” وہ اسٹڈی روم میں چلا آیا۔ جہاں شاہ زل اسی کا ویٹ کر رہا تھا۔
“آگئے تم؟” اسے دیکھ کر شاہ زل نے خوشی سے پوچھا
“السلام و علیکم انکل کیسے ہیں آپ؟” وہ ادب سے کہتا اسکے سامنے بیٹھا
“یہ لو چائے پیو اور کچھ کھالو۔” اس نے کھانے کی ٹرے جس میں کچھ کیک وغیرہ رکھے ہوئے تھے اور ایک کپ چائے اسکی جانب بڑھائی۔
“اللہ‎ کا شکر کسی کو تو میرا خیال ہے۔ قسم سے صبح سے کچھ نہیں کھایا” علی نے کیک کا ٹکڑا منہ میں ڈالتے ہوئے کہا
“مجھے معلوم تھا۔” شاہ زل ہنسا
“آپ میرا کیا امتحان لیں گے؟” اس نے چائے کا سپ لیتے ہوئے پوچھا
” تم بس مجھے یہ بتاؤ کہ تم میری بیٹی کو خوش رکھو گے نا؟” اسکی بات پر علی مسکرایا اور کپ ٹیبل پر رکھا
“جتنا خوش آپ نے رکھا ہے نا اسے، اس سے سو گنا زیادہ رکھوں گا” کیا یقین تھا اسکے لہجے میں،
“اور اگر ایسا نہیں ہوا؟”
“تو میری گردن ہوگی اور آپ کا ہاتھ”
“مجھے تم سے یہی امید تھی” شاہ زل اٹھ کھڑا ہوا تو وہ بھی اٹھا اور پھر شاہ زل نے اسے گلے لگا لیا۔ علی کو ایک لمحے کے لئے اپنا باپ یاد آیا تھا۔ اسکی ہر کامیابی پر وہ بھی اسے ایسے ہی گلے لگاتے تھے۔
“ابو ۔۔۔۔ ” اسکے منہ سے بے ساختہ پھسلا تھا
“ہاں؟ وجہ سے کچھ کہا” شاہ زل نے پوچھا
” کچھ نہیں بس اموشنل کر دیا آپ نے مجھے، چلیں اب سائن کر دیں یہاں” اس نے ہنستے ہوئے کاغذ اسکے حوالے کیا۔ تو شاہ زل نے فوراً اپنے دستخط کر دیے
“باقی کے امتحانات کے لئے بیسٹ آف لک” شاہ زل نے مسکراتے ہوئے کہا تو اس بار علی اسکے گلے لگ گیا
———** ———** ———** ———** ———**
Dont copy paste without my permission
#یار_دیوانے
#از_ژیلہ_ظفر
#سکینڈ_لاسٹ_حصہ
#PART_2
وہ پانچوں دوست اس وقت گلی میں کرسیاں ڈالے بیٹھے تھے۔
“یہ کیا حمزہ تو نے آج ہی کہ آج منگنی بھی کر والی اور ہمیں اب بتا رہا ہے” ارسلان نے ناراضی سے کہا
“منگنی نہیں بھائی۔۔۔۔ بس بات طے ہوئی ہے” حمزہ نے کولڈ ڈرنک کا کین منہ سے لگاتے ہوئے کہا۔
“چلو تمہارا مسلہ حل تو ہوا” حنان نے ہنستے ہوئے کہا۔
“ہاں میرا تو ہوگیا لیکن اب آپ بھی اپنا بندوبست کرلیں خان صاحب” اس نے بھی ہنستے ہوئے جواب دیا
“میں نے قسم کھائی ہے کہ علی سے پہلے اپنی شادی نہیں کروں گا”
“ویسے ہے کہاں وہ؟” حیدر کو اسکی کمی محسوس ہوئی۔
“سسرال گیا ہوا ہے امتحان دینے” ارسلان نے بتایا
“وہاں بھی چونا لگا رہا ہوگا سب کو” حیدر کی بات پر سب کا مشترکہ قہقہ گونجا تھا
” گائز! تم سب کو پتا ہے نا علی نے کیا کہا ہے؟” عمر نے ان سب کو اپنی جانب متوجہ کیا
“ہاں ہاں ہم تو تیار ہیں لیکن پہلے وہ خود تو آجائے” ارسلان نے جواب دیا
“آجائے گا وہ بھی، چند گھنٹے سکون کے نصیب ہوئے ہیں اسے تو انجوائے کرنے دو” حمزہ نے کہا
“لیکن یاد بڑا آرہا ہے وہ” حیدر نے کہا تو سب نے تائید کی۔
“چلو پھر تم سب تیار رہنا وہ کسی بھی وقت آجائے گا” عمر نے کہا
———————–*** ———————–***
امتحان نمبر 4:
“مجھے یقین نہیں آرہا کے میرے بڑے دونوں بھائیوں نے تمہیں پاس کیسے کر دیا؟ شاہ زل تو چلو ٹھیک ہے۔ لیکن شاہ میر اور شاہ ویز بھی تم سے ہار گئے؟ امپوسسبل۔۔۔۔۔” شاہ زین اپنے ہاتھ میں وہ کاغذ پکڑے کہہ رہا تھا جس میں اسکے تینوں بڑے بھائیوں کے سائن ہوئے تھے۔
“یقین نہ آنے والی بات نہیں ہے ویسے، علی کوئی امتحان ہار ہی نہیں سکتا” اس نے فخر سے کہا
“خیر۔۔۔۔۔ میں تو تمہیں اتنی آسانی سے پاس نہیں کروں گا”
“آپ کے بڑوں نے بھی یہی کہا تھا۔”
“تم نے کرنا یہ ہے کہ یہ سارے کے سارے سوٹ ایک گھنٹے کے اندر اندر استری کرنے ہیں۔” شاہ زین نے شہادت کی انگلی سے صوفے پر رکھے کپڑوں کے ڈھیر کی جانب اشارہ کیا۔
“کیا گھر کے ملازموں کے کپڑے بھی لے آئے ہیں؟” کپڑوں کی تعداد دیکھ کر اسکی زبان میں کھجلی ہوئی۔
“نہیں یہ سب گھر کے ہی کپڑے ہیں۔ چلو جلدی کرو تمہارے پاس صرف ایک گھنٹہ ہے۔” شاہ زین کہہ کر باہر نکل گیا۔ سامنے ہی شاہ زین کا بیٹا بیٹھا ہوا ہنس رہا تھا۔
“ادھر آ سالے ۔۔۔۔ ” علی نے اسے اپنے پاس بلایا
“سالا کیوں کہا مجھے؟” وہ برا مان گیا۔
“کیوں کہ میرا اور تیرا یہی رشتہ ہے پگلے۔۔۔۔”
“ایک کام کر یہ سارے کپڑے لے کر دھوبی کے پاس جا اور اس سے ارجنٹ میں سارے پریس کروا کر لے آ۔ چل جا شاباش”
“لیکن میں آپ کی مدد کیوں کروں؟”
“کیوں کہ میرے پاس تمہاری وہ ویڈیو ہے جس میں تم اپنے اوچھے دوستوں کے ساتھ سیگریٹ پی رہے تھے۔ بولوں تو دکھاؤں؟” علی نے پوچھا اور اسکی شکل دیکھنے لائق تھی۔
“بلکہ میں تمہیں کیوں دکھاؤں؟ تمہارے ابّا کو واٹس ایپ کر دیتا ہوں وہ خود ہی دیکھ لیں گے” علی جیب سے موبائل نکالنے لگا
“نہیں نہیں علی بھائی۔۔۔ میں جا رہا ہوں اسے لے کر” وہ جلدی سے سارے کپڑے ایک موٹری میں باندھنے لگا۔
“اور سن۔۔۔۔ آدھا گھنٹے کے اندر ہی استری کروا کر واپس لانا۔ اور جتنے پیسے مانگے کہنا علی بھائی کے کھاتے میں لکھ لو”
“وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن بابا کو پتا چل گیا تو؟” اس نے خوف زدہ لہجے میں کہا
“انکا بندوبست بھی کر لوں گا میں۔ تم بس جاؤ اور جلدی واپس آؤ ” علی نے کہا
“ہونہہ ۔۔۔۔۔ بلیک میلر”وہ پاؤں پتختہ ہوا باہر چلا گیا۔ اسکے جانے کے بعد علی نے جیب سے موبائل نکال کر شفا کو کال ملائی۔
“ہیلو شفا، مجھے تمھاری ہیلپ چاہیے”
“کیسی ہیلپ؟” وہ حیران ہوئی۔
“کچھ بھی کر کہ اپنے شاہ زین چاچو کو اپنے پاس بلاو اور ایک گھنٹے سے پہلے انھیں یہاں مت آنے دینا”
“بس اتنی سی بات؟ میں ابھی چاچو کو اپنے ساتھ لوڈو کھیلنے بلاتی ہوں۔ ایک گھنٹے سے پہلے واپس نہیں آئیں گے وہ”
“گڈ۔۔۔۔”علی نے کہہ کر فون رکھ دیا اسکا کام ہوگیا تھا اب وہ سکون سے بیٹھا گیم کھیل رہا تھا۔ دوسری طرف شاہ زین کو شفا نے ایک گھنٹے تک اپنے ساتھ کھیل میں لگائے رکھا۔ اور جب وہ واپس آیا تو، اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔ سارے کپڑے استری ہو چکے تھے۔ وہ آنکھیں پھاڑے ان استری شدہ کپڑوں کو دیکھ رہا تھا۔ جب ہی علی چلتا ہوا اسکے پاس آیا اور ادب کے ساتھ کاغذ اسکے سامنے پیش کیا
“چاچو سائن۔۔۔۔” علی نے معصومیت سے کہا تو اس نے ناچاہتے ہوئے بھی سائن کر دیا۔ دستخط ہو جانے کے بعد علی نے کاغذ فولڈ کرکہ جیب میں ڈالا اور شاہ زین سے کچھ اس طرح گویا ہوا۔
“یہ کپڑے میں نے نہیں بلکہ دھوبی نے استری کئے ہیں۔اور آپ کہ بیٹے نے اس میں میری مدد کی ہے۔ میں چیٹنگ کر کہ پاس ہوا ہوں۔ اور میں جانتا ہوں یہ بہت غلط بات ہے۔ لیکن کیا کروں اگر میں ایسا نہ کرتا تو آپ کو بتاتا کیسے کہ آپ کا بیٹا غلط لڑکوں میں اٹھ بیٹھ رہا ہے اور سیگریٹ بھی پینے لگا ہے” علی نے انتہائی سنجیدگی سے کہا تھا لیکن اسکی آنکھوں میں ناچتی بےپناہ شرارت وہ دیکھ نہیں سکا تھا۔
“تم نے مجھے چیٹ کیا؟” وہ حیران سا بولا
“جی ۔۔۔۔۔ “اس نے ڈھٹائی سے کہا۔
” تمہیں پتا ہے یہ کتنی غلط حرکت ہے۔؟”
“ہے نہیں تھی، اور تب تک تھی جب تک میں نے آپ کو بتایا نہیں تھا کہ میں چیٹنگ کرکہ پاس ہوا ہوں۔ لیکن کیوںکہ اب میں نے آپ کو سچائی بتا دی ہے تو یہ بےایمانی نہیں ہوئی۔” اس نے شان بےنیازی سے کہا۔
“تم۔۔۔۔ ” وہ دانت کچکچاتے ہوئے بولا
“میں بہت اچھا لڑکا ہوں۔ یہی کہنا چاہ رہے تھے نا آپ؟ مجھے پتا ہے” اس نے ڈھٹائی کی انتہا کر دی تھی۔
“بہت ہی بےشرم ہو” شاہ زین نے تاسف سے سر ہلایا۔ اور وہ بھول چکا تھا کہ ایک زمانے میں وہ بھی اپنے باپ سے بےشرمی کا طعنہ سنتا تھا۔
“جس نے کی شرم اسکے پھوٹے کرم، چلتا ہوں خدا حافظ۔۔۔۔ ” اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور شاہ زین کو ہکا بکا چھوڑ کر چلا گیا۔
“تم سگریٹ پیتے ہو؟” اس نے اپنے بیٹے سے پوچھا
“بابا وہ ۔۔۔۔۔۔۔ بس تصویر لینے کے لئے ہاتھ میں لی تھی۔ پی نہیں تھی قسم سے ۔۔۔۔” اس نے ڈرتے ہوئے کہا تو شاہ زین نے جوتا اتار لیا۔
“تمہاری تو ۔۔۔۔۔۔ ” اس نے اسے جوتا پھنک کر مارا لیکن وہ بھاگ نکلا تھا
—–+* —–+* —–+* —–+* —–+* —–+* —–+*
امتحان نمبر 5:
“میں امتحان دیتے دیتے نہیں تھکا اور آپ لوگ لیتے لیتے تھک گئے؟” وہ شاہ زیب کے سامنے موجود تھا جو کہیں باہر سے آیا تھا اور تھکا ہوا تھا۔
“بکواس نہیں کرو، اور اپنا کام سنو”
“بتائیں کیا کام ہے میرا؟”
“تم نے یہ ناول پڑھنا ہے اور تمہارے پاس صرف دو گھنٹے ہیں۔ اسکے بعد میں تم سے کچھ سوالات کروں گا اور تمہیں جواب دینا ہوگا۔”اس نے کہتے ہوئے ایک ناول اسکی جانب بڑھایا۔ اس نے لے لیا اور شاہ زین چلا گیا۔ دو گھنٹے بعد جب شاہ زیب واپس آیا تو وہ سکون سے بیٹھا میچ دیکھ رہا تھا۔
“تم نے پڑھ لیا؟”
“ہاں؟ آپ سوال پوچھیں” اسکے بعد وہ اس سے کئی سوال کرتا گیا اور علی بلکل درست جواب دیتا گیا۔
“حیرت ہے؟ تم نے دو گھنٹے میں ہی سارے کا سارا ناول پڑھ لیا۔” اس نے خوشی سے کہا
“تو پھر سائن بھی کر دیجیے” اس نے کاغذ اسکے حوالے کیا۔
“ہاں ہاں کیوں نہیں۔۔۔۔۔” اس نے باخوشی اپنے دستخط کر دیے۔ علی نے کاغذ واپس لیا اور اسے دیکھ کر مسکرایا
“تم مسکرا کیوں رہے ہو؟” شاہ زیب کو کسی گڑبڑ کا احساس ہوا۔
“آپ کو معلوم ہے کہ میں نے ناول نہیں پڑھا؟” اس نے شیطانیت سے بھرپور لہجے میں کہا
“کیا مطلب؟ اگر تم نے نہیں پڑھا تو جواب کیسے دیے؟”
“کیوں کہ جو سوال آپ نے مجھ سے پوچھے ہیں وہ آپ کو شفا نے لکھ کر دیے تھے۔ اور چونکہ آپ نے ناول خود بھی نہیں پڑھا اور جواب بھی آپ کو شفا نے ہی لکھ کر دیے ہیں تو اس نے مجھے وہ سارے جواب سینڈ کر دیے تھے۔” اس نے سکون سے کہا
“تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے اور اتنے سکون سے بتا بھی رہے ہو؟” وہ دھاڑا
“دیکھیں میں نے آپ کو اور شاہ زین چاچو دونوں کو ایک ہی طرح سے بیوقوف بنایا ہے۔ اب پوچھیں کیوں؟”
“کیوں؟” اس نے حیرت زدہ لہجے میں کہا
“کیوں کہ آپ دونوں جڑواں ہیں ناں” اس نے ہنستے ہوئے کہا
“تمہیں میں چھوڑوں گا نہیں” اس نے غصّے سے کہا
“اب کیا فائدہ؟ اب تو آپ نے سائن کردیے” وہ اسے منہ چڑاتا ہوا وہاں سے بھاگ نکلا جب کے شاہ زیب دل ہی دل میں بیچ و تاب کھاتا رہ گیا۔
—–+* —–+* —–+* —–+* —–+* —–+* —–+*
امتحان نمبر 6:
وہ شاہ رخ کے سامنے کھڑا تھا۔ اس وقت شام کے چھ بج رہے تھے مطلب اسکا امتحان ختم ہونے میں صرف دو گھنٹے باقی تھے۔
“آپ نے میرے لئے کونسا امتحان سوچا ہے میرے آخری سسر جی؟” اس نے شاہ رخ سے پوچھا
“یار سچ کہوں تو میں نے تمہارے لئے کوئی امتحان نہیں سوچا” اس نے صاف گوئی سے بتایا
“تو پھر آپ یہاں اپنے سائن کر دیں”
“کیوں؟”
“کیوں کہ میں نے آپ پر ایک احسان کیا ہے”
“پتا ہے مجھے تم کونسے احسان کی بات کر رہے ہو اور سچ پوچھو تو وہ کوئی احسان نہیں تھا۔ جوڑے تو آسمانوں پر بنتے ہیں۔” اس نے سکون سے کہا
“بیشک آسمانوں پر بنتے ہیں لیکن زمین پر تو میں نے ہی ملایا ہے نا، اگر میں نہ ہوتا تو آپ دونوں نے آسمانوں پر ہی ملنا تھا” علی کی حاضر جوابی پر اسکا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔
“جلدی سائن کر دیں۔ صبح سے اپنے دوستوں سے نہیں ملا” علی نے کاغذ اسے دیا
“تم سے کوئی نہیں جیت سکتا” شاہ رخ نے اعتراف کیا۔ اور کاغذ پر اپنے سائن کر دیے۔ علی نے سکون کا سانس خارج کیا اور کاغذ دائیں ہاتھ سے لیتے ہوئے بایئں ہاتھ کی کہنی اسکے کندھے پر ٹکا کر بولا
سنو سسر جی، سنو سسر جی
سنو سسر جی، اب ضد چھوڑو
مان لو میری بات
اس نے گانا ادھورا چھوڑ کر دروازے کی طرف اشارہ کیا تو شاہ رخ نے دروازے کی طرف دیکھا جہاں ڈھول کی تھاپ پر پورا پلٹن بھنگڑے ڈالتا ہوا آرہا تھا۔ حمزہ، حیدر اور ارسلان بھنگڑے ڈال رہے تھے ساتھ میں حنان کو بھی گھسیٹ لیا تھا۔ عمر ان لوگوں کی ویڈیو بنا رہا تھا۔ علی بھی بھاگ کر انکے پاس گیا اور بھنگڑے ڈالنے لگا
دلہن تو جائے گی دولہے راجہ کے ساتھ
دلہن تو جائے گی دولہے راجہ کے ساتھ
شاہ رخ ہنستے ہنستے رکوع میں چلا گیا تھا۔ گلی سے گزرتے لوگ رک رک کر یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
“یہاں کیا ہورہا ہے؟” کسی آدمی نے رک کر عمر سے پوچھا
“ڈانس ۔۔۔۔ ” اس نے ویڈیو بناتے ہوئے جواب دیا
“وہ تو مجھے بھی دکھ رہا ہے۔ لیکن ہو کس خوشی میں رہا ہے۔”
“علی کے سسرال والوں نے اسکا رشتہ قبول کر لیا ہے۔”
“صرف رشتہ قبول کرنے کی خوشی میں اتنا دھمال؟ بارات لے کر جائے گا تو تب کیا کرے گا؟” وہ آدمی گرتے گرتے بچا تھا۔
“علی کی شادی ہے آسان بات تھوڑی ہے۔” عمر نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔ اگلے ہی لمحے علی نے اسے بھی اپنے ساتھ گھسیٹ لیا تھا۔ اب وہ سب بھنگڑے ڈال رہے تھے۔ صرف علی کے اندر یہ صلاحیت تھی کے وہ بےجان محفل کو بھی کشت زعفران بنا دیتا تھا۔
سنو سسر جی، اب ضد چھوڑو
مان لو میری بات
دلہن تو جاۓ گی دولہے راجہ کے ساتھ
دلہن تو جائے گی دولہے راجہ کے ساتھ

علی کی تاریخ طے ہو چکی تھی۔ شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں۔ اس دن بھی علی گھر میں فرنیچر سیٹ کروا رہا تھا کہ سمو پھوپھو آگئی۔ وہ اسکی منہ بھولی پھوپھو تھیں لیکن گھر کہ ہر معاملے میں ٹانگ اڑانا اپنا فرض سمجھتی تھیں۔ وہ گھر میں چیختی چھینگاڑتی ہوئی داخل ہوئی تھیں۔
“آئے ہائے۔۔۔۔۔ مجھے تو غیر سمجھا سب نے کسی نے بتانا تک گوارا نہیں کیا اور اسکا رشتہ طے کردیا۔” انہوں نے مگر مچھ کے آنسوں بہاتے ہوئے کہا۔
“ہاے سمو۔۔۔۔ تجھے کارڈ بھجوا تو دیا تھا علی کے ہاتھوں” قریب بیٹھی دادی نے کہا
“مجھے کون سا کارڈ بھیج دیا آپ نے؟ ارے ۔۔۔۔۔ مجھے تو محلے والوں سے خبر ہوئی ہے” انہوں نے شکوہ کیا جب کہ علی وہاں سے بھاگنے کی تیاری کر رہا تھا۔
“علی ۔۔۔۔۔۔ تو نے کارڈ نہیں دیا ہے تھا اسکو؟” دادی نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا
“وہ دادی۔۔۔۔۔ کارڈ تو میں نے علینا کو دے دیا تھا” اس نے جھوٹ بولا تو دادی نے فورا علینا کو بلایا
“جی دادی؟” علینا نے وہاں آکر پوچھا
“تو نے سمو کو شادی کا کارڈ نہیں دیا تھا؟”
“دادی میں نے علی کو دے دیا تھا” اس نے جلدی سے کہا
“وہ کہہ رہا ہے کہ اس نے تمہیں دیا تھی تم کہہ رہی ہو کہ تم نے اسکو واپس دے دیا۔ نہیں تم لوگ مجھے یہ بتاؤ کہ تم لوگ کارڈ کے ساتھ کھیل رہے تھے یا میرے ساتھ کھیل رہے ہو؟”
“دونوں کے ساتھ” علینا نے زیر لب کہا
“نہیں نہیں دادی ہم نے دیا تھا کارڈ، لیکن سمو پھوپھو گھر پر نہیں تھی تو ہم نے گارڈ کو دیدیا تھا۔ اب پتا نہیں اس نے انکو کیوں نہیں دیا” علی نے لاعلمی سے کندھے اچکا دیے۔
“یہ حیثیت ہے میری کہ میں گھر پر نہیں تھیں تو گارڈ کو کارڈ دے کر چلے گئے” انہوں نے واویلا کیا۔
“چلو چھوڑو ان سب باتوں کو، اب تم آگئی ہونا تو اب شادی تک یہیں رہنا” دادی حکم صادر کر کے چلی گئی۔ لیکن جہاں سمو پھوپھو خوشی سے نہال ہوگئی تھیں وہیں ان دونوں بہن بھائی کے منہ مارے صدمے کہ کھل گئے تھے۔
“بات سن لڑکے تو اتنا خوش کیوں ہے؟” سمو پھوپھو نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
“ظاہر ہے پھوپھو میری شادی ہے خوش تو ہونگا ہی نا” اس نے بےزاری سے کہا
“تو کون سا تمہاری شادی ابھی ہے؟ خیر سے پورے دو دن ہیں”
“تو پھوپھو دو دن باقی ہیں انسان خوش بھی نہ ہو؟’ علینا نے حیرت سے پوچھا
” بھئی قبل از وقت انسان کو خوش نہیں ہونا چاہیے۔ دو دن بہت ہوتے ہیں۔ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ دلہن گھر سے بھاگ سکتی ہے، سسرال والے انکار کر سکتے ہیں،دلہن پارلر سے اغوا بھی ہوسکتی ہے، دلہن مر بھی تو سکتی ہے” انہوں نے سکون سے کہا تو علی کے سر پر لگی اور تلووں پر بجھی، اس پہلے کے وہ کوئی کرارا سا جواب دیتا علینا بول پڑی
“ہاں علی، پھوپھو سہی تو کہہ رہی ہیں۔ انسان کو پہلے سے اتنا خوش نہیں ہونا چاہیے، دو دن بہت ہوتے ہیں اور دو دنوں میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ مثلاً پھوپھو مر سکتی ہیں، پھوپھو کی طلاق ہوسکتی ہیں، پھوپھو بیوہ ہوسکتی ہیں، پھوپھو اغوا ہوسکتی ہیں، پھوپھو کا ایکسیڈنٹ ہوسکتا ہے، پھوپھو کو فالج ہو سکتا ہے۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے” علینا کی برق رفتاری سے چلتی زبان نے جہاں سمو پھوپھو کی بولتی بند کی تھی وہیں علی بھی آنکھیں پھاڑے اپنی بہن کو دیکھ رہا تو جو ہمیشہ سے اس سے دس جوتے آگے رہی تھی۔
“اللہ‎ توبہ ۔۔۔۔۔ کتنی زبان دراز لڑکی ہے” سمو پھوپھو نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا جب کہ علی کے کلیجے میں ٹھنڈ پڑھ گئی تھی۔
“واہ پھوپھو ۔۔۔۔۔ آپ کہے تو سہی اور میں کہوں تو زبان دراز؟” علینا کی بات پر وہ لاجواب ہوگئیں۔ اور جب کوئی جواب نہیں بچا تو انھیں برا بھلا کہتی وہاں سے واک آوٹ کر گئی۔
“یہ تو چلی گئی۔ اب دادی کو کیا جواب دیں گے؟” علینا نے پوچھا
“دادی کی فکر نہ کرو میں انھیں سمجھا دوں گا۔ تم بس تیاری کرو شادی کی” علی نے سکون سے کہا۔
—–+* —–+* —–+* —–+* —–+* —–+* —–+*
وہ علی کی شادی کے لئے جو سوٹ لے کر آیا تھا اس میں کوئی مسلہ آرہا تھا۔ اسی لئے اسے چینج کروانے آج مال آیا تھا۔ سوٹ چینج کروا کر جب وہ شاپ سے باہر آیا تو اسکی نظریں فوڈ کورڈ سے باہر نکلتی ماریہ پر پڑیں۔ جس نے بلیک کلر کے عبایا پر پنک کلر کا حجاب لیا ہوا تھا۔ حنان ایک لمحے کے لئے اسے پہچان ہی نہ سکا۔ اس نے حنان کو دیکھ لیا تھا۔ اسی لئے اسکے پاس آئی۔
“السلام علیکم! کیسے ہو؟” اس نے حنان سے پوچھا
“میں ٹھیک ہوں۔ تم سناؤ؟” حنان نے حیرت سے پوچھا
“میں بھی ٹھیک ہوں۔ کل واپس جا رہی ہوں کیلی فورنیا تو سوچا کچھ شاپنگ ہی کرلوں۔تم پر نظریں پڑی تو سوچا حال احوال پوچھ لوں۔ خیر چلتی ہوں۔ ” وہ کہہ کر آگے بڑھنے لگی
“ماریہ ۔۔۔۔۔” حنان نے اسے روکا
“ہاں؟” وہ حیران ہوئی۔
“آئی ایم سوری ۔۔۔۔۔ میں کچھ زیادہ ہی روڈ ہوگیا تھا۔ میں نے آجتک کسی لڑکی سے ایسے بات نہیں کی لیکن کیا کرتا؟ مجھے لگنے لگا تھا کہ تم میرے سر پر سوار ہورہی ہو۔ میں زچ ہونے لگا تھا۔ اسی لئے تم سے اس لہجے میں بات کر گیا۔ اگر تم ہرٹ ہوئی ہو تو مجھے معاف کردینا” کیا لمحہ تھا۔ جب وہ اللہ‎ کو بھول گئی تھی تو اللہ‎ نے اسے اسی انسان کے ہاتھوں ذلیل کروایا تھا۔ اور آج جب وہ اللہ‎ کی سننے لگی تھی تو اللہ‎ نے اسے اسی انسان کے ہاتھوں عزت بخش دی تھی۔ وہ پرانی والی ماریہ ہوتی تو یقیناً یہ سب سن کر خوش ہوتی لیکن آج اسے ان سب باتوں سے کوئی خوشی نہیں مل رہی تھی۔
“کوئی بات نہیں حنان، میری ہی غلطی تھی۔ تم نے جو کیا سہی کیا”
“نہیں ماریہ، میں نہیں چاہتا کے تم یہاں سے اپنا دل میری طرف سے خراب کر کہ جاؤ”
“نہیں میرا دل کسی کی طرف سے خراب نہیں ہے۔ تم پریشان نہ ہو۔ خدا حافظ” وہ اسے خدا حافظ کہہ کر چلی گئی۔
ان فاصلوں کا، یہ فیصلہ کیوں دل نے میرے کر لیا
خود ہی نہ جانے کیسے جیئے گا ہوکے یہ تم سے جدا
وہ پارکنگ میں آئی تو اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ اسکی گاڑی ڈرائیور سمیت غائب تھی۔ اور سامنے ہی اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا صفدر مسکرا رہا تھا۔
“تم یہاں؟ اور میری گاڑی کہاں ہے؟” اس نے پوچھا
“تمہارے ڈرائیور کو میں نے واپس بھیج دیا اور سوچا میں تمہیں گھر ڈراپ کر دوں”
“تم نے خوامخواہ زحمت کی”
“کوئی زحمت نہیں ہوئی مجھے، آؤ بیٹھو” اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا تو وہ بیٹھ گئی۔ صفدر گاڑی گھر لے جانے کے بجائے سمندر لے آیا۔
“ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟” اس نے حیرت سے پوچھا
“ایسے ہی، میرا دل چاہ رہا تھا تو تمہیں بھی لے آیا” وہ کہہ کر گاڑی سے باہر نکلا تو ماریہ کو بھی باہر آنا پڑا۔
“تم حنان سے ملی تھی؟” گاڑی سے ٹیک لگائے صفدر نے اچانک سے پوچھا
“ملی نہیں تھی بس ملاقات ہوگئی تھی، لیکن تمہیں کیسے پتا؟” اس نے حیرت سے پوچھا
“اس بات کو چھوڑو، میں تمہیں ایک اور بات بتاتا ہوں”
“بتاؤ ۔۔۔۔۔”وہ کہہ کر گیلی ریت پر چلنے لگی۔ صفدر بھی اسکے پیچھے چلنے لگا
“جب آپ کو وہ انسان نہ ملے جسے آپ چاہتے ہوں تو کسی ایسے انسان کو حاصل کر لینا چاہیے جو آپ کو چاہتا ہو” اس کی بات پر ماریہ نے گردن موڑ کر اسے دیکھا اور پھر ہنس کر دوبارہ سے چلنے لگی
“ہنسی کیوں؟”
“مجھے کون چاہے گا؟”
“میں ۔۔۔۔۔” جتنے سکون سے اس نے کہا تھا۔ ماریہ کو بریک ہی لگا تھا۔
“کیا مطلب؟” وہ ایک جھٹکے سے پیچھے مڑی
“کیا میں بجو سے تمہاری اور میری شادی کی بات کر سکتا ہوں؟” اس نے بنا تہمید کے پوچھا
“گھر چلتے ہیں بہت دیر ہوگئی ہے” اس نے کہا اور اسکے برابر سے ہوتی ہوئی گاڑی کے پاس آکر دروازہ کھولنے لگی۔
“مطلب تمہاری طرف سے انکار ہے؟” اس نے مایوسی سے کہا
“گھر چلو گے تو روما بھابھی سے بات کرو گے نا” اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔ جب کہ صفدر پہلے اسکی بات سمجھنے کی کوشش کرنے لگا اور جب سمجھ آگئی تو خوشی سے نہال ہوگیا تھا۔
—–+* —–+* —–+* —–+* —–+* —–+* —–+*
وہ دن بھر کام کرکہ اتنا تھک گیا تھا کہ دوپہر میں ہی سونے لیٹ گیا تھا۔ جب اسکی آنکھ کھلی تو شام ہوچکی تھی۔ وہ منہ پر پانی مارتا نیچے آیا تو حیران رہ گیا۔ وہاں حنان اپنے امی ابو اور بڑی بہن کے ہمرا موجود تھا۔ سامنے والے صوفے پر دادی بیٹھی تھیں اور چہرے سے بہت ہی زیادہ خوش لگتی تھیں۔ وہ حیران سا وہاں آیا۔
“السلام علیکم! آپ سب یہاں؟” اس نے پوچھا
“وعلیکم السلام! کیسے ہو بیٹا؟” ڈاکٹر عفان نے پوچھا
“میں بلکل ٹھیک انکل آپ سنائیں کیسے آنا ہوا؟”
“وہ تم اپنی دادی سے پوچھ لینا” انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
“چلیں ٹھیک ہے۔ حنان تُو ذرا باہر تو آنا” اس مسکراتے ہوئے حنان کو آنکھ سے باہر آنے کا اشارہ کیا اور خود وہاں سے چلا گیا۔
“بابا جان ۔۔۔۔۔” اس نے تھوک نگلتے ہوئے اپنے باپ کو دیکھا
“ڈر کیوں رہے ہو؟ تمہارا ہی دوست ہے کچھ نہیں کہے گا” انہوں نے ہنستے ہوئے اسے تسلی دی
“اور اگر کچھ کہا تو میری یہ لاٹھی ہے نا” علی کی دادی نے بھی اسے تسلی دی تھی۔ وہ سر ہلاتا باہر آیا۔ لان میں کھڑے علی کو ہر بات بخوبی سمجھ آرہی تھی۔ وہ علی تھا، کوئی عام لڑکا نہیں، اسکی آنکھیں باریک سے باریک چیز کو بھی پکڑ لیتی تھی۔ حنان کے گھر والوں کا آنا اور علینا کا وہاں سے غائب ہونا، ٹیبل پر مٹھائیوں کے ڈبوں کے ساتھ پیک ہوئے پھل کا رکھا ہونا۔ وہ سب جان گیا تھا،حنان باہر آیا تو کافی حد تک اپنی گھبراہٹ پر قابو پا چکا تھا۔
“ہاں علی کہو؟” اس نے علی سے پوچھا
“تمہارے گھر والے ہمارے گھر کس لئے آئے ہیں؟” اس نے سنجیدگی سے پوچھا اور حنان کا سانس رک گیا۔ اتنا سنجیدہ اس نے علی کو زندگی میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔
“وہ ۔۔۔۔۔۔ کہا تو ہے کہ دادی سے پوچھ لینا” اس نے اٹکتے اٹکتے کہا
“دادی سے کیوں؟ میں نے تجھ سے پوچھا ہے تُو بتا” اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔ حنان کو پریشانی نے آگھیرا۔
“علی میرے گھر والے ۔۔۔۔۔” وہ رکا۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیسے بتائے کہ وہ اسکی بہن کا رشتہ لے کر آیا ہے۔ بیشک علی من موجی تھا لیکن بہن کے معاملے میں ہر بھائی کی غیرت جاگ جاتی ہے۔
“تیرے گھر والے علینا کا رشتہ لائے ہیں؟ ہیں نا؟ یہی بات ہے نا؟ تو نے میری بہن پر نظر رکھی ہاں؟” وہ غصّے سے کہتا حنان کی طرف بڑھا۔
“نہیں علی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں رشتہ ضرور لایا ہوں لیکن میں نے اس پر بری نظر ہرگز نہیں رکھی میں تو ۔۔۔۔۔۔۔” وہ گھبرا کر وضاحت دینے لگا
“ارے تو ڈر کیوں رہے ہیں خان صاحب، میں آپ کو مار تھوڑی رہا ہوں؟” علی نے مسکراہٹ دباتے شرارت سے کہا تو وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگا اور اگلے ہی لمحے علی کے فلک شگاف قہقہوں نے اسے سب سمجھا دیا تھا۔
“کمینے ڈرا دیا تھا تُو نے مجھے ۔۔۔۔۔۔” اس نے علی کی کمر پر ایک زور دار دھپ رسید کی تھی
” ہاہاہا۔۔۔ تیری شکل دیکھنے والی تھی۔ کتنا ڈرپوک ہے یار تُو؟” وہ ہنستے ہوئے زمیں پر بیٹھ گیا تھا۔
“تو تُو نے ایکٹنگ بھی تو ایسی کی تھی” اب حنان بھی ہنس رہا تھا۔ بلاشبہ علی ایک منجھا ہوا ایکٹر بن سکتا تھا۔ علی آنسوں پوچھتے ہوئے کھڑا ہوا
“آئیے خان صاحب! گلے تو مل لیں” اس نے حنان سے کہا تو وہ ہنستے ہوئے اسکے گلے لگ گیا۔
ان سب کے جانے کے بعد علینا اور دادی ساتھ بیٹھی تھیں۔ دادی اس سے پوچھ رہیں تھیں کہ اسے حنان کا رشتہ قبول ہے یا نہیں۔ اسی وقت علی بھی وہاں آیا اور بلند آواز سے بولا
“دادی مجھے یہ رشتہ منظور نہیں ہے”
“تجھ سے پوچھ کون رہا ہے؟ ” دادی دو سیکنڈ نہیں لگاتی تھیں اسے ذلیل کرنے میں،
“لیکن دادی میں علینا کا بھائی ہوں” اس نے منہ بسورا
“تو؟ کیا کروں پھر؟ نہیں تو مجھے یہ بتا تجھے اعتراض کیا ہے؟” دادی نے پوچھا
“وہ میرا بہنوئی بن جاۓ گا تو مجھے اسکی عزت کرنا پڑے گی اور وہ مجھ سے نہیں ہوگی” اس نے بےبسی سے کہا تو دادی سمیت سب ہنس پڑے تھے۔
—–+* —–+* —–+* —–+* —–+* —–+* —–+*
علی اور شفا کی مایوں الگ الگ ہوئی تھی۔ لڑکی والوں کی طرف لڑکوں کے آنے پر پابندی تھی البتہ لڑکے والوں نے ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی تھی۔ مایوں کا فنکشن ہوجانے کے بعد سارے لڑکے علی کے گھر پر بیچلر نائٹ منا رہے تھا۔
“کوئی گانا وانا تو گا علی، کچھ تو رونق لگے” ارسلان نے علی کو مخاطب کیا
“تو بھنگڑے ڈال کر محفل لگا دے” حنان نے اسکا مذاق اڑایا
“یہ بھنگڑا آپ کا سالہ ہی اچھا کر سکتا ہے خان صاحب” اس نے جواب دیا
“چلو میں کچھ گاتا ہوں” علی نے ڈھول ہاتھ میں پکڑتے ہوئے کہا۔
“تجھے قسم ہے علی، یہ ساجن گیا ڈسکو والا گانا مت گانا” حیدر نے اسکے آگے ہاتھ جوڑے۔
“ٹھیک ہے کچھ اور گانا گا لیتا ہوں،” علی نے کہا اور گانا شروع کیا
بن ساجن جھولا جھولوں
میں وعدہ کیسے بھولوں
“ابے تجھے ساجن کو جھولا جھلانے کا کیا شوق ہے؟” حمزہ نے اسکے سر پر تھپڑ رسید کیا۔
“تو تم لوگ بتا دو کیا گاؤں؟” اس نے پوچھا۔ اس سے پہلے کوئی جواب دیتا، حریم، سامعہ اور ثنا وہاں داخل ہوئی۔
“کیا ہوا بھابھیوں؟ اپنے شوہروں کے بغیر دل نہیں لگ رہا تھا جو یہاں آگئی؟” علی نے معصومیت سے پوچھا
“ہم علینا کو لینے آئے ہیں” ثنا نے چبا چبا کر کہا
“ہائے کیوں؟” علی نے پوچھا تو اس اف کہہ کر منہ موڑ لیا۔
“ویسے ایک انسان کو لینے تین تین لوگ کیوں آئے ہیں؟” وہ منہ بند کر کہ رہ ہی نہیں سکتا تھا۔
“تین آئے یا بارہ تمہیں اس سے کیا؟” حریم نے اسکی بکواس سے چڑ کر کہا۔ علینا بھی وہاں آگئی۔
“اچھا علی میں جا رہی ہوں، دادی کا خیال رکھنا” اس نے علی کو تاکید کی اور وہ لوگ وہاں سے چلی گئی۔ علی بھی اٹھ کر جانے لگا۔
“تو کہاں جا رہا ہے بے؟” عمر نے اس سے پوچھا
“بس ابھی آیا” وہ کہہ کر جلدی سے بھاگا
“شفا سے بات کرنے جا رہا ہوگا” حیدر نے اسکا مذاق اڑایا
“علی کی شادی تو ہورہی ہے، تُو کب شادی کر رہا ہے حنان؟” حمزہ نے اس حنان سے پوچھا
“تیرے بعد”
“یہ کیسی شرط ہے؟”
“جیسی بھی ہے، بس شرط ہے۔ جب میرے سارے دوست گھر بار والے ہوجائیں گے تب ہی شادی کروں گا” اس نے کہا
“یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی تجھے نا ۔۔۔۔۔ ” حمزہ کچھ بول رہا تھا کے کسی نے پیچھے سے آکر اسکا سر بالوں سے پکڑا اور پورے کا پورا منہ ابٹن سے بھرے کٹورے میں دے دیا۔ حملہ اتنا اچانک تھا کے حمزہ کچھ سمجھ ہی نہ پایا۔ اس نے جیسے ہی کٹورے سے منہ باہر نکلا اسکی شکل دیکھ کر سب کا مشترکہ قہقہ پڑا تھا۔ اسکا پورا منہ ابٹن میں ڈوبا ہوا تھا۔
“یہ کیا کیا کمینے؟ تھو ۔۔۔۔ تھو” اس نے منہ سے ابٹن تھوکتے ہوئے کہا
“تیرا بھلا کیا ہے، یہ ابٹن لگا کر تیرے منہ بھی روشن آرا کی طرح روشن روشن ہوجاۓ گا” اس نے مزے سے کہا
“تجھے ابھی بتاتا ہوں” وہ آنکھیں ملتا اٹھا اور اسی کٹورے میں سے ابٹن لے کر تیزی سے علی کی جانب بڑھا۔ علی فورا سامنے سے ہٹ گیا اور ساری کی ساری ابٹن اسکے پیچھے بیٹھے عمر کو لگ گئی۔ اور اسکے منہ کا آدھا حصّہ ابٹن زدہ ہوگیا
“یہ کیا کیا حمزہ تو نے” اس نے ہاتھ سے گال پر لگی ابٹن صاف کرتے ہوئے پوچھا
“اوہ ۔۔۔۔ سوری یار میں تو علی کو لگا رہا تھا۔” وہ معذرت کرنے ہی لگا تھا کہ حیدر اٹھا اور عمر کے پاس آیا۔
“جب آدھے منہ پر لگا ہی دی ہے تو باقی پر بھی لگا لو” اس نے کہتے ہوئے اسکے باقی رہ جانے والے منہ پر بھی ابٹن مل دی تھی۔وہ بیچارہ اپنا دفاع بھی نہ کرسکا۔
“رک تجھے ابھی بتاتا ہوں۔” عمر اٹھا اور کٹورے میں سے ابٹن نکال کر اسکے منہ پر مل دیا۔ اتنی دیر میں حمزہ نے باقی ابٹن ارسلان کے منہ پر لگا دی تھی۔ اب بس حنان اور علی ہی بچے تھے۔ علی حنان کے برابر میں کھڑا ہوا۔ حنان کو پتا تھا کہ وہ اسکے ساتھ یہ حرکت نہیں کرے گا۔ لیکن وہ غلط تھا۔ اس نے ابٹن سے بھرا ہاتھ اسکے منہ پر ملا اور بولا
“سوری خان صاحب،۔۔۔۔۔ میں جیت گیا میں نے سب کو ابٹن لگا دی۔ یا ہو” وہ خوشی سے اچھل رہا تھا۔ اس بار اس نے ان سب رسموں سے دور رہنے والے حنان اور عمر کو بھی نہ چھوڑا تھا۔
“تجھے تو میں ابٹن لگاؤں گا سالے” حنان نے ابٹن اسکے منہ پر لگانے کے لئے اٹھائی لیکن وہ بھاگنے لگا۔ اسی وقت حمزہ اور حیدر نے اسے دونوں بازوں سے پکڑ کر حنان کے سامنے کیا
“نہیں خان صاحب ایسا مت کرنا،” وہ ہاتھ پیر مار رہا تھا۔
“اب آیا نا بکرا، بلڈنگ کے نیچے” ارسلان نے طنز کیا
“اونٹ پہاڑ کے نیچے” حیدر نے تصیح کی، عمر علی کی ویڈیو بنا رہا تھا جب کہ حنان چیختے چلاتے علی کو ابٹن لگا رہا تھا

دو سال بعد
“میں اور علی باہر جا رہے ہیں سودا سلف لینے، یہ علی تو اتنا بھلکڑ ہے کہ ساری اہم چیزیں بھول کر بےکار چیزیں اٹھا لاتا ہے۔ اسی لئے مجھے ساتھ جانا پڑ رہا ہے۔ تم پلیز ولی کو سنبھال لینا” شفا نے دس ماہ کے ولی کو علینا کی گود میں دیتے ہوئے کہا
“تم بلکل فکر مت کرو میں اسے سنبھال لوں گی” اس نے یقین دہانی کرائی تو شفا مطمئن ہو کر چلی گئی۔ اسکے جانے کے بعد علینا نے ولی کو لاؤنچ میں کھلونوں کے ساتھ چھوڑا اور خود کچن میں اسکا فیڈر بنانے کے لئے آئی۔ اس نے فریج کھول کر دودھ نکالا اور فریج بند کرنا بھول گئی۔ پھر پلٹ کر نیچے والے کیبنیٹ سے جھک کر پتیلی نکالنے لگی۔ وہ پتیلی نکال کر جیسے ہی اٹھی اسکی چیخ نکل گئی۔ دس ماہ کا ولی فریج کے اندر گھس کر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ دوڑ کر اسکے پاس گئی اور اسے باہر نکالا
“یہ کیا کر رہے تھے بیٹا آپ؟ چلو یہاں بیٹھو” اس نے فریج بند کر کے ولی کو گود میں اٹھایا اور اسے سلیب پڑ بیٹھا دیا۔ اور خود دوسری طرف رکھی پتیلی میں دودھ نکالنے لگی۔ ولی گھٹنوں اور ہتھیلیوں کے بل چلتا چولہے پر چڑھا۔(صد شکر کے چولہا آن نہیں تھا) پھر وہاں سے آٹے کے ڈبّے پر چڑھ کر اس سے بھی اوپر کیبنٹ کی چھت پر پہنچ گیا۔ علینا دودھ لے کر چولہے کے پاس آئی تو اسکے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ ولی وہاں سے غائب تھا۔
“یا اللہ‎! یہ کہاں گیا؟” اس نے خود سے پوچھا
“تا ۔۔۔۔” ولی کی آواز پر اس نے گردن اٹھا کر دیکھ تو اسکا سر ہی گھوم گیا۔
“تم اوپر کیا کر رہے ہو؟ ٹہرو میں ابھی اتارتی ہوں تمہیں” وہ جلدی سے چیئر لے کر آئی اور اس پر چڑھ کر ولی کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن وہ گھٹنوں اور ہتھیلیوں کے بل تیزی سے چلتا کیبنٹ کی دوسری جانب آگیا
“ولی بیٹا ادھر آؤ” اس نے اسے اپنے پاس بلایا پر وہ نہیں آیا۔ وہ نیچے اتری اور دوسری طرف چیئر رکھ کر اس پر چڑھی لیکن ولی بدتمیز وہاں سے بھی بھاگ کر واپس پہلے والی جگہ پر آگیا۔ تھوڑی دیر کی بھاگ دوڑ کے بعد علینا نے اسے پکڑ ہی لیا۔ اور واپس سلیب پر بیٹھا کر اسے ڈانٹنے لگی۔
“بہت گندے بچے ہو آپ، ایسے کرتے ہیں؟ ہاں؟” وہ اس سے پوچھ رہی تھی لیکن اس نے اپنے برابر میں رکھے ٹرے سے ایک انڈا اٹھایا اس سے پہلے کے علینا اس سے انڈا واپس لیتی اس نے وہ ہی انڈا اس کے سر پر مار دیا۔ اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔ ولی زور زور سے تالیاں بجا رہا تھا۔ جب کے کچے انڈے کی زردی علینا کے سر سے بہہ رہی تھی۔
وہ بیچاری پچھلے پندرہ منٹ سے اسے سلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اپنے سر سے آتی انڈے کی بو اس سے برداشت نہیں ہورہی تھی۔ وہ جلد از جلد اسے سلا کر نہانے کا ارادہ رکھتی تھی لیکن وہ تھا کہ سو کر ہی نہیں دے رہا تھا۔
“سو جا میرے بچے پلیز سو جا ناں” علینا نے کہا تو وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگا جیسے اسکا مذاق اڑا رہا ہو۔ اسی وقت حنان وہاں آیا۔
“یہ تمہیں کیا ہوا؟” اس نے علینا کو دیکھ کر پوچھا
“بہت برا ہوا ہے۔ اس بچے نے میرا حال برا کر دیا ہے” اس نے روہانسے لہجے میں کہا۔ اور اسے ساری بات بتا دی۔
“اچھا اسے مجھ دو اور اپنا سر دھو کر آؤ” حنان نے ولی کو اسے سے لیا تو وہ اسے چھوڑ کر نہانے چلی گئی۔ حنان نے اسے کاٹ میں لٹایا اور اسکے منہ سے فیڈر لگا دیا۔ وہ فیڈر پیتے ہوئے اپنی گول گول نیلی آنکھوں سے اسے ٹکر ٹکر دیکھ رہا تھا۔ حنان کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔
“کتنے پیارے ہو تم؟” حنان نے اسکے گال کھینچتے ہوئے کہا۔ وہ ہوبہو اپنے باپ کا کاپی تھا۔ وہ لوگ اسے پیار سے جونیئر علی کہتے تھے۔ وہ دودھ پیتے پیتے سو گیا۔ حنان نے اسکے منہ سے فیڈر ہٹایا۔ وہ بےخبر سویا ہوا تھا۔ حنان کے سیل پر کوئی ضروری کال آنے لگی تو وہ اٹھ کر باہر چلا گیا۔ اسکے جاتے ہی ولی نے آنکھیں کھولی، اسکی نیلی آنکھوں میں شرارتی سے چمک ابھری تھی۔
علینا نہا کر باہر آئی تو کاٹ خالی تھا اور حنان بھی غائب تھا۔ وہ سمجھی کہ حنان،ولی کو باہر لے کر گیا ہوگا۔ وہ تولیے سے بال خشک کرتی لاؤنچ میں آئی تو حنان کسی سے فون پر بات کر رہا تھا۔
“ولی کہاں ہے؟” علینا نے اس سے اشارے سے پوچھا
“اندر سو رہا ہے” اس نے بھی اشارے سے بتایا۔ وہ بھاگ کر واپس کمرے میں گئی۔
“کہاں ہو ولی؟” وہ کمرے میں کہیں نہیں تھا۔ کمرے کے ایک کونے میں لوہے کا بیڈ رکھا تھا۔ولی صاحب اسکے نیچے چھپے بیٹھے تھے۔
“ولی میرے بچے! باہر آؤ میری جان” علینا نے بیڈ کے نیچے جھانکتے ہوئے کہا لیکن وہ باہر نہیں آیا۔ بیڈ لوہے کا تھا زیادہ بھاری نہ تھا اسی لئے علینا نے اسے ایک طرف سے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اوپر اٹھایا۔
“چلو ولی باہر آؤ” اس نے بیڈ کو اٹھائے اٹھائے کہا۔ لیکن وہ باہر آنے کے بجائے کھڑا ہوگیا۔ اب علینا بری طرح پھنس گئی تھی۔ نہ ہی وہ بیڈ کو نیچے رکھ سکتی تھی نہ اپنی جگہ سے ہٹ سکتی تھی۔
“علی تمہاری اولاد بھی تمہارے جیسی ہی ہے” اس نے بےبسی سے کہا۔ وہ اس وقت کو کوس رہی تھی جب اس نے ولی کو سنبھالنے کی ذمہ داری اٹھائی تھی۔
“حنان، حنان جلدی یہاں آؤ” حنان بھاگتا ہوا اندر آیا
“ہاں کیا ہوا؟”
“اسے بیڈ کے نیچے سے نکالو” علینا نے کہا
“کسے؟” اس نے حیرت سے پوچھا
“ولی کو اور کسے؟”
“پر وہ تو یہاں نہیں ہے”
“کیا؟” علینا نے بیڈ واپس نیچے رکھا۔ اسے خبر ہی نہیں ہوئی اور وہ باہر نکل چکا تھا۔
“اسے دیکھو حنان پتا نہیں وہ کہاں گیا ہوگا” حنان جلدی سے باہر بھاگا جب کہ علینا وہیں بیٹھ کر اپنا بازو سہلانے لگی۔
حنان نے پورا گھر دیکھ لیا وہ کہیں نہیں تھا۔ گھر کا مین گیٹ کھلا ہوا تھا۔ وہ جلدی سے گلی میں گیا اور وہاں جا کر تو اسکے پیروں تلے زمیں نکل گئی۔ وہاں تین کتے دائرے کی صورت میں بیٹھے قیلولہ فرما رہے تھے اور ولی صاحب انکے درمیان میں بیٹھے ہنس رہے تھے۔ حنان آہستہ آہستہ چلتا ہوا کتے تک آیا اور ہاتھ بڑھا کر ولی کو اپنی طرف کھینچنے لگا لیکن اسی وقت ایک کتا اٹھا اور حنان پر بھونکنا شروع ہوگیا وہ گھبرا کر پیچھے ہٹا۔
“اب میں کیا کروں؟” اس نے پریشانی سے سوچا پھر اسکے ذہن میں ایک خیال آیا اور وہ گلی کی دوسری جانب سے مڑ کر وہاں آیا لیکن جتنی دیر میں وہ واپس آیا ولی وہاں سے غائب تھا۔
“اب یہ کہاں گیا؟ کہیں کتوں نے تو نہیں کھا لیا؟ نہیں نہیں ۔۔۔۔ اگر کتوں نے ایسا کیا تو علی انکو کھا جائے گا” حنان نے سوچا اور واپس اندر آیا۔ ولی لاؤنچ میں بیٹھا علینا کے بیگ کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ حنان نے سکھ کا سانس لیا۔ اگلے ہی لمحے علینا اپنے کمرے سے باہر آئی اور اپنے بیگ کے ساتھ کھیلتے ولی کو دیکھ کر اسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا کیوں کہ وہ اسکے بیگ میں سے سارا میک اپ کا سامان نکال کر تباہ کر چکا تھا۔ علینا وہیں غش کھا کر گر پڑی۔ حنان بھاگ کر اسکے پاس آیا۔
“علینا اٹھو ۔۔۔۔۔ اٹھو علینا ۔۔۔۔۔۔ اب اٹھ بھی جاؤ کب سے سو رہی ہو؟” وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔
“صبح کے بارہ بج چکے ہیں، آج میری شادی ہے اور تم گدھے گھوڑے بیچ کر سورہی ہو؟” علی نے اسے اٹھتا دیکھ کر کہا۔ علینا نے یہاں وہاں دیکھا، وہ اپنے کمرے میں تھی اور آج علی کی شادی تھی۔
“تو وہ سب خواب تھا” وہ بڑبڑائی
“کیا سوچ رہی ہو؟ نیچے ڈیکوریشن والے آچکے ہیں۔ تم نے ناشتہ کرنا ہے پھر پارلر جانا ہے۔ اٹھ بھی جاؤ اب”
“ہاں میں آرہی ہوں تم جاؤ”
“ٹھیک ہے جلدی آؤ” علی کہتا ہوا باہر نکل گیا۔
“بہت ہی ڈراونا خواب تھا” وہ جھرجھری لیتی اٹھ گئی۔
—–+* —–+* —–+* —–+* —–+* —–+* —–+*
علی نے اپنی شادی کی خوشی میں نہ صرف گھر بلکہ پوری گلی برقی قمقموں اور تازہ پھولوں کی لڑیوں سے سجادی تھی۔ تمام لڑکیاں حتی کہ علینا بھی شفا کے ساتھ ہال میں تھی۔ بارات آگئی تھی لیکن دولہا اور اسکے دوست ابھی تک غائب تھے۔
“آخر یہ لوگ کب آئیں گے؟” حریم نے بے زاری سے پوچھا وہ لوگ اس وقت برائیڈل روم میں موجود تھیں۔
“یقیناً علی صاحب کوئی نیا کارنامہ انجام دے رہے ہونگے” رشنا نے کہا۔ اسی وقت کمرے میں لگی ایل ای ڈی اسکرین پر ایک منظر ابھرا اسے دیکھ کر ان لوگوں کی بولتی بند ہوگئی۔
“یہ۔۔۔۔ یہ کیا ہے؟” شفا نے حیرت زدہ لہجے میں کہا
“یہ آپ کا دولہا ہے۔ چلو باہر چل کر دیکھتے ہیں” علینا نے پہلا جملہ شفا سے اور دوسرا باقی سب سے کہا تھا۔ اور شفا کے علاوہ وہ سب ہال کی اینٹرینس پر آگئی۔
سامنے ہی سڑک پر دو ہیوی بائیک کے درمیان ایک ٹرک چلتی ہوئی آرہی تھی۔ٹرک کو انتہائی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا کہ دیکھنے والے عش عش کر اٹھے تھے۔ دونوں ہیوی بائیک کو عمر اور حنان چلا رہے تھے۔ ٹرک کو حمزہ ڈرائیو کر رہا تھا۔ جب کہ ٹرک کے پچھلے حصّے پر ساؤنڈ سسٹم پر گانا لگا ہوا تھا، جس پر حیدر، صفدر، ارسلان اور دولہے صاحب علی بھنگڑے ڈال رہے تھے۔ ٹرک کے پیچھے ڈھول والے بھی ڈھول بجاتے ہوئے آرہے تھے۔
سہرا باندھ کہ میں تو آیا رے
ڈولی بارات بھی ساتھ میں، میں تو لایا رے
اب تو نہ ہوتا ہے ایک روز انتظار
سوہنی آج نہیں تو کل ہے تجھ کو
بس میری ہونی رے
تینو لے کہ میں جاونگا
دل دے کہ میں جاونگا
ٹرک ہال کے دروازے پر رکی تھی۔ سب لڑکوں نے کالی شیروانی پہن رکھی تھی جب کہ علی نے آف وائٹ شروانی زیب تن کی ہوئی تھی۔ ٹرک کے رکتے ہی حیدر، صفدر اور ارسلان تو انسانوں کی طرح نیچے اترے تھے لیکن علی نے وہیں سے جمپ ماری تھی۔ اور اسکے زمین پر قدم رکھتے ہی چاروں طرف سے آتش بازی کا شاندار مظاہرہ ہوا تھا۔ وہ پانچوں منہ کھولے دیکھ رہی تھیں۔ جیسے ہی علی ہمرا اپنے دوستوں کے دروازے پر پہنچا وہ سب کی سب اسکا راستہ روک کر کھڑی ہوگئی۔
“کیا ہوا؟” حیدر نے پوچھا
“علی ہمیں نیگ چاہیے” حریم نے علی کے سامنے ہاتھ پھیلائے
“نیگ کیا ہوتی ہے؟” اس نے پوچھا
“نیگ وہ پیسے ہوتے ہیں جو تم ہمیں ابھی دوگے” رشنا نے اسے بتایا
“لیکن میں تو تم لوگوں کو کوئی پیسے نہیں دے رہا۔ تم سے کس نے کہا روشن آرا؟”
“علی شرافت سے پچیس ہزار روپے ہمارے ہاتھ پر رکھ دو” ثنا نے کہا
“ہائے کیوں؟” علی نے پوچھا تو ثنا بس اسے گھور کر رہ گئی۔
“دیکھو بھابھیوں اور میری اکلوتی بہن، میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ میں خالی جیب یہاں آیا ہوں” اس نے مصنوئی بےچارگی سے کہا
“خالی جیب والے انسان کو ہم دلہن لے جانے نہیں دیں گے” علینا نے فوراً کہا
“آہ۔۔۔۔ بھائی سے غداری” علی نے اسے گھورا۔
“ہاں۔۔۔۔”اس نے سکون سے جواب دیا
“دیکھو پچیس ہزار میں تین زیرو آتے ہیں۔ اور زیرو کی کوئی ویلیو نہیں ہوتی لہٰذا بچے پچیس روپے تو ارسلان تیرے پاس پچیس روپے ہیں؟” اس نے ارسلان سے پوچھا
“ہیں برو۔۔۔۔”
“چلو پھر ان سب فقرنیوں میں پانچ پانچ روپے بانٹ دو”
“بیٹا پچیس ہزار روپے لئے بغیر تو ہم تمہیں اندر جانے نہیں دیں گے”
“اوکے ۔۔۔۔۔ پھر شفا اور قاضی صاحب کو باہر بلوا دو۔”اس نے سکون سے کہا۔ لیکن وہ لوگ نہیں مانی۔ آخر بحث طویل ہوتی گئی اور اچانک ہی علی دل پر ہاتھ رکھ کر زمین پر جھکتا گیا۔
“یااللہ! ۔۔۔۔ علی کیا ہوا تمہیں؟” وہ سب گھبرا کر اسکی جانب بڑھیں۔ دروازہ خالی ہوگیا تھا۔ اسی وقت علی سیدھا ہوا اور بولا
“چلو بھائیوں راستہ صاف ہے” اس نے نعرہ مارا اور اس سے پہلے کے وہ ساری کچھ سمجھتیں وہ سب ہال میں گھس چکے تھے۔ وہ سب ارے ارے ہی کرتی رہ گئی۔
—–++ —–++ —–++ —–++ —–++ —–++ —–++
حنان کولڈ ڈرنک کا گلاس ہاتھ میں لئے کھڑا تھا اور ہال کا جائزہ لے رہا تھا۔ علی اور شفا اسٹیج پر تھے۔ ایک طرف عمر اور سامعہ، آفاق صاحب سے کچھ کہہ رہے تھے اور وہ مسکراتے ہوئے ان دونوں کے سر پر ہاتھ رکھ رہے تھے۔ ایک جانب حریم حیدر کو ڈانٹ رہی تھی کہ خبردار، جو اس نے کولڈ ڈرنک کو ہاتھ بھی لگایا کیوں کہ دو دن سے اسے بخار تھا۔ حیدر سر جھکائے شرافت سے ڈانٹ کھا رہا تھا۔ حمزہ اور رشنا سیلفی لینے میں مصروف تھے، ارسلان اور ثنا اسٹیج پر تھے۔ جب کہ علینا حنان کی بی جان اور بہنوں کے نرغے میں بیٹھی مسکرا رہی تھی۔ صفدر اور ماریہ روما کے ساتھ کھڑے کسی بات پر ہنس رہے تھے۔ حیدر نے صبح ہی انکی منگنی کی خبر سنائی تھی۔ماریہ بھی کیلی فورنیا واپس نہیں گئی تھی۔ اب سب کچھ اپنی جگہ پر پرفیکٹ تھا۔ وہ مسکراتے ہوئے کولڈ ڈرنک پی رہا تھا۔ جب ہی اسکو ارسلان نے آواز دے کر اسٹیج پر بلایا۔ اسٹیج پر اب وہ سارے دوست علی کے ساتھ سیلفی لینے کے لئے کھڑے تھے۔ حنان بھی وہاں آیا تو حیدر نے موبائل اوپر اٹھایا تاکے تصویر لی جا سکے
“اوئے میں نہیں آرہا اس میں”
“ابے میرا سر کٹ رہا ہے”
“میری جگہ تو بناؤ” سب کی آوازیں آنے لگی۔
“بھائیوں میرا ہاتھ اتنا لمبا نہیں ہے” حیدر نے غصّے سے کہا
“لا مجھے دے پھر” عمر نے اس سے موبائل مانگا
“نہیں میں ہی لوں گا سیلفی” وہ بھی ضد پر اڑھ گیا۔
“لا مجھے دے حیدر، میرا ہاتھ لمبا ہے” حمزہ نے اس سے مانگا تو اس نے بنا کسی بحث کے موبائل اسے دے دیا
“واہ بھئی! عمر نے مانگا تو منع کر دیا اور حمزہ کو فوراً دے دیا۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ ساری خدائی ایک طرف جورو کا بھائی ایک طرف” ارسلان نے طنز سے کہا تو سب نے مڑ کر اسے دیکھا۔ جو جہاں تھا وہیں ساکت ہوگیا۔
“کیا ہوا؟ کچھ غلط کہہ دیا؟” اس نے گھبرا کر پوچھا۔ اور اگلے ہی لمحے وہاں سیٹیاں اور تالیاں بجنے لگی۔
“مبارک ہو، مبارک ہو۔۔۔۔۔ ارسلان نے سہی محاورہ بول دیا” علی نے خوشی سے کہا تو سب ہنسنے لگے۔ ارسلان خجل ہوگیا تھا۔ پھر حمزہ نے ایک شاندار اور یادگار تصویر کلک کی اور اس منظر کو ہمیشہ کے لئے اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیا۔
مل کے بتائیں جو پل ہم کبھی
فضائیں یہ کھل سی اٹھیں
جوان مرد ہمّت سے ہے زندگی
ہوائیں یہ کہنے لگی
حسین یہ سماء، جھومے یہ جہاں
گائیں زمیں آسماں
او میرے یار
تو میرا پیار
صد رہے تو سلامت
تیری میری یہ دوستی
یوں ہی رہے تاقیامت
—-+* —-+* —-+* —-+* —-+* —-+* —-+* —-+*
پندرہ دن بعد
وہ دونوں راکاپوشی کے سامنے تھے۔ چاروں طرف اونچے اونچے پہاڑ کھڑے تھے اور خون جماتی سردی تھی۔ یہ انکا آج آخری دن تھا یہاں، اسکے بعد انھیں واپس کراچی جانا تھا۔ اونچی نیچی پتھریلی سطح پہ وہ دونوں ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔
“میں بہت بور ہورہا ہوں۔ کوئی ایونٹ وغیرہ ہونا چاہیے۔ تاکہ کوئی تفریح تو ہو” علی نے شفا کے پیچھے چلتے ہوئے کہا تو وہ مڑی اور حیرت سے اسے دیکھا
“آگے حمزہ کی شادی ہے پھر علینا اور حنان کی، اتنے سارے تو ایونٹ ہیں۔ اور کیا تفریح چاہیے؟”
“نہیں یار! یہ سب نہیں، کچھ انوکھا کرنا مجھے جیسے۔۔۔۔۔” علی رکا
“جیسے؟” اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
“تمہارے دادا رنڈوے ہیں نا؟” علی نے اچانک سے پوچھا
“کیا بدتمیزی ہے یہ؟” شفا نے اسے گھورا مگر وہ اپنی ہی کہے جا رہا تھا
“اور میری دادی بھی بیوہ ہیں، کیوں نا ہم ان دونوں کی شادی کرادیں؟” علی نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ پوچھا
“یہ کیا فضول کی بکواس ہے علی؟” وہ بےزاری سے کہتی واپس چلنے لگی
“ارے میری بات تو سنو، بہت مزہ آئے گا” وہ اسکے پیچھے آنے لگا۔
“مجھے ایسے کسی کام میں دلچسپی نہیں ہے”
“کیوں بھئی؟ جب بڑے بچوں کی شادیاں کروا سکتے ہیں تو کیا بچے بڑوں کی شادی نہیں کرواسکتے؟ذرا سوچو تو کتنا مزہ آئے گا دادا اور دادی کی شادی میں”
“تم پاگل ہو چکے ہو علی مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سنی” وہ کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے تیز تیز چلنے لگی۔
“ارے بہت مزہ آنے والا ہے، پہلے دادا دادی پھر عمر کے ابّو اور پھر حیدر کے ابّو بھی تو رنڈوے ہیں۔ ہم ان سب کی شادیاں کروا ئیں گے اور پتا کیا ۔۔۔۔۔۔۔” علی کی زبان نان اسٹاپ چل رہی تھی۔ شفا کانوں پر ہاتھ رکھے چل رہی تھی۔ اور دل میں سوچ رہی تھی کہ
“یہ علی کبھی نہیں سدھر سکتا”
آپ کو کیا خیال ہے؟

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: