Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 1

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 1

عشق ایک داستاں ہے۔۔۔۔
محبت کے اسرار کی۔۔۔۔
انوار کے قیام کی۔۔۔۔
امرحہ اور عالیان کی۔۔۔

امرحہ پریم کا اگر کوئی لاڈ کا نام ہوتا تو وہ ‘ سرما کی دھوپ’ہوتا
پر سرخاب پر اڑ کر آتی، راج ہنسوں سنگ جھومتی،سنہری ذروں سے مرتسم سرما کی دھوپ اس کے سیاہ بالوں سے شناسائی بر تتی لاڈ کرنے لگی۔
ماحم(مہربانیاں) دھرتی پر قیام کیلیے اس سے اپنی ابتداء پر مسرور ہوئیں۔۔
سبزے کی وسعت پر فدا ہوتی اس نازنین کو اس نے سر اٹھا کر دیکھا اور اس مسکراہٹ سے مسکرا دی جو اس کے اختیار میں تو رہا کرتی تھی لیکن استعمال مہں نہیں۔۔۔۔۔
نئے وقتوں کی آمد نے اس کی سماعتوں کے سپرد وہ سرگوشیاں کیں جو وہ وقت کی گزرگاہوں سے احتراما چرا لائیں تھیں۔۔۔
اس کی۔۔۔وہ جو امرحہ ہے۔۔
لان کے کونے میں میں وہ ایسے بیٹھی ہے جیسے زندگی کی بساط پر وہ ایسا بے نام مہرا ہو جس سے مات دی جائے نہ چال چلی جائے۔۔ جو کونوں میں ہی بیٹھتی ہے۔۔کیونکہ اسے منظر عام پر آنے سے ڈر لگتا ہے۔۔
کیوں ڈر لگتا ہے؟
کیونکہ اسے ڈرایا جاتا رہا ہے اور پھر اس کی حیثیت اپنے ہی گھر میں کچھ ایسی سی ہے جیسے جھاڑو کی ہوتی ہے۔۔ضروری بھی اور ۔۔چھی۔۔۔گندی بھی۔۔
ایک طرف بیٹھی دادی زیر لب بڑبڑاتے ہوئے اپنے بالوں کا خود ہی مساج کر رہی ہیں۔انہوں نے دانیہ سے کہا تھا لیکن اس نے ایسے ظاہر کیا جیسے اس نے تو کچھ سنا ہی نہیں۔۔۔دادی نے کہا ہی نہیں۔۔۔اور وہ کامل توجہ سے رسالہ پڑھتی رہی ساتھ مالٹے کی پھانکیں بھی منہ میں ڈالتی رہی اور یہ سب کرتے وہ کچھ ایسی نظر آ رہی تھی کہ جیسے بے چاری لڑکی دانیہ کل ہی تو اپنے ایم فل سے فارغ ہوئئ ہے اور آج کچھ ذرا سی دنیا دار سی نظر آرہی ہے۔
اماں فون پر بات کر رہی ہیں اوع حماد کانوں میں ایرفون لگائے نیا نیا ریپ میوزک سے متعارف ہو رہا ہے۔۔۔۔کیونکہ اسے چلنے میں خاصی دشواری ہو رہی ہے اور اس کے دونوں ہاتھ ہوا میں میں ایسے مڑ مڑ کر لہرا رہے ہیں کہ خدانخاستہ اسےٹہلتے ٹہلتے مرگی کا دورہ پڑ رہا ہو۔۔ اور وہ کونوں میں خود کو چھپانے والی موبائل انٹرنیٹ پر مصروف ہے۔۔۔ نہیں نہیں، وہ کسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر نہیں ہے۔۔وہ کسی سے چیٹ بھی نہیں کر رہی۔۔۔ارے نہیں وہ گوگل امیجز پر ڈیزائنرز کے کپڑوں کے ڈیزائن بھی نہیں نوٹ کر رہی۔۔۔وہ تو۔۔۔وہ تو مانچسٹر یونیورسٹی کے پاکستان اسٹوڈنٹ سوسائٹی کے گروپ لیڈر کی ای میل پڑھ رہی ہے اور اس کے ہاتھ پیر ایسے کانپ رہے ہیں جیسے ابھی ابھی اسے فریزر سے نکال کر دھوپ میں رکھا گیا ہو۔۔۔یا جیسے اس کے کان میں کہا گیا ہو کہ جہاں تم بیٹھی ہو ٹھیک وہیں خزانہ دفن ہت۔۔چپکے سے نکال لو اور اب وہ یہ خزانہ چپکے سے نکال ہی لے گی۔۔۔ اس سے اپنی چیخ دبائے نہیں دب رہی۔۔۔اور یہ اس نے ہلکی سی چیخ مار ہی دی۔۔۔
سب سے پہلے تو دادی نے ہی اپنا ہاتھ روک کر اسے ناگواری سے دیکھا پھر سوائے دادا کے سب نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی اور اپنے انہماک کو قائم رہنے دیا۔
دادا جو توبتہ النصوح پڑھنے کی کوشش کر رہے تھے، اس کے پاس آئے۔
” امرحہ۔۔۔کیا ہوا؟”
پیارے دادا، صرف وہی پوچھتے تھے وہ دادا کے کان میں کھسر پھسر کرنے لگی۔تھوڑی دیر بعد دادا توبتہ النصوح سینے سے لگا کر کھڑے ہوئے اور سب کو سنانے جیسے انداز میں کہنے لگے۔۔۔
”آملے لینے ہیں منڈی سے۔۔ مجھ سے کہاں اٹھائے جائیں گیں اتنے۔۔امرحہ!تم آ جاو ساتھ”
”اسے لیے جا رہے ہیں۔۔۔مل گئے پھر۔۔۔منڈی بند ہو جائے گی یا پھر آگ لگی ہوگی منڈی میں” دادی نے اس کے متعلق اپنے خیالات کے اظہار میں دیر نہیں کی۔
”ہم دوسرے شہر کی منڈی میں چلے جائیں گیں۔۔اگر وہاں بھی آگ لگی ہوئی تو ہمارا انتظار نہ کرنا۔ہم شہر شہر،منڈی منڈی آگ لگا کر آئیں گے”
شہر شہر کیوں۔۔۔ملکوں ملک کیوں نہیں۔۔۔؟
ہاں بھئ اب تیار رہنا سب۔۔دنیا میں آگ بھڑکنے والی ہے۔
اب کی۔۔۔ کب کی بھڑک چکی۔ دادی نے ایسے کہا جیسے ایسا عظیم سچ نہ بولا تو ان پر کفر کا فتوی لگا دیا جائے گا۔
بی بی امرحہ نے ذرا گھور کر دادی کو دیکھا اور دادی نے اپنا رخ بدل لیا۔
تو کیا اب مجھے بھی بھسم کرے گی
انہوں نے خود پر آیات مبارکہ پڑھ کر پھونکیں۔بہت خوفزدہ رہتی تھیں اس کی نظروں سے دادی۔۔ سب ہی رہتے تھے-تباہی اور بربادی تھی نا وہ۔۔نیک شگونی کی دشمن، بد شگونی کی دوست کیونکہ عین اس کی پیدائش کے دن بڑے تایا چل بسے تھے۔۔پھوپھی پھوپھا کا کارایکسیڈنٹ ہو گیا۔۔چھوٹی پھپھو کے گھر شارٹ سرکٹ سے آگ لگ گئی اور سارے سازو سامان کو نگل گئی۔۔چچا کی بیٹی کی منگنی اس دن ہونا تھی تایا کی وفات سے ملتوی ہوگئی۔۔بعد ازاں رشتہ ہی ختم ہو گیا۔۔اور ماموں کے الیکٹرونکس کے اسٹور میں پورے چار لاکھ کی چوری ہو گئی۔ماموں صدمے سے 4 دن ہسپتال رہے۔امرحہ سے بڑے علی کی چھت سے گر کر بائیں ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔۔جس کی وجہ سے پورے 2 سال لنگڑا کر چلتا رہا۔۔ساتھ کے گھر کی ملائیکہ آپا بیوہ ہ و گئیں۔ان کے شوہر کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا۔۔۔ سامنے کے گھروالوں کی بہو کے مردہ بچے کی پیدائش ہوئی۔اور۔۔۔۔اور بھی بہت کچھ۔۔۔۔فہرست کافی لمبی تھی اور دن بدن لمبی ہوتی جا رہی تھی۔مثلا اگر کوئی کہتا۔
بس اماں جی۔اپنے دھیان میں تھی پتا نہیں چلا کب حاشر اپنا ہاتھ جلا بیٹھا
دادی پوچھتیں کیا دن تھا۔
منگل کا دن تھا۔۔آج ہی کے دن۔۔۔بلک بلک کر رویا میرا بیٹا۔۔۔میں بھی دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔’
‘اچھا منگل۔۔۔اور تاریخ کیا بنی’ تاریخ یہی دو۔’
‘اچھا ۔۔۔دو اور اوپر سے منگل۔۔مدیحہ بیٹا! منگل کی دو کو ہمیں یہ وبال نصیب ہوا تھا۔۔اس دنیا پر امرحہ عذاب بن کر آئی تھی۔۔۔ہمارے خاندان میں تو ہر تاریخ دو اور ہر دن منگل۔۔کیا کریں گناہوں کے عذاب بھی تو بھگتنے ہی پڑتے ہیں نا’
اگلی بار جناب حاشر کے ہاتھ جلنے کا قصہ بھی اس ‘نجس جنم پتری’ میں شامل کر دیا جاتا۔
اماں بھی ذرا خائف سی رہتیں اس سے۔۔۔اتفاق سے ہر سال لگ بھگ اسی دن ماموں کے اسٹور پر تین بار چوری ہو چکی تھی۔تنگ آ کر ماموں نے اسٹور ہی بیچ دیا اور دوسرا کاروبار کرنے لگے۔اماں کو بھولتا ہی نہیں تھا کہ کیسے ان کے بھائی کا چمکدار دمکتا شاندار سٹور بک گیا اور بھئئ صاحب کنگلے ہو گئے۔
ایک دادا تھے جو پانچ وقت نماز پڑھتے تھے اور صرف اللہ سے ڈرتے۔۔احادیث پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرتے۔۔جاہلانہ باتوں اور خیالات سے دور ہی رہتے۔۔۔ورنہ جمعرات کے جمعرات انکے گھر چراغ جلتے۔۔تین یا پانچ۔۔بس تاق۔۔جفت نہیں۔۔۔دادی مرنے والوں کے نام مخصوص جگہ چراغ روشن کرواتیں۔
‘لامذہب ہو سب کے سب۔۔کیا کبھی روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چراغ جلتے دیکھے ہیں۔۔ کیوں جلاف مذہب ایسے کام کرتے ہو؟’
دادی ہاتھ سے اشارہ کرتیں کہ جائیں اپنا کام کریں۔۔
بابا نے اعظم مارکیٹ میں قالین اسٹور کی نئے سرے سے آرائش کروائی تو افتتاح کے وقت ناریل پھوڑا۔۔۔اعظم مارکیٹ کے دوسرے مالکان محظوظ ہوتے رہے اور بابا صرف اتنا ہی کہتے رہے کہ وہ فلموں میں دیکھتے تھے تو انہیں بڑا اچھا لگتا تھا۔۔۔
‘کیا ہوا جو کر لیا تو۔۔ تم سب تو کسی لو خوش بھی نہیں دیکھ سکتے’۔۔ بابا نے ایسے کہا جیسے انکی دیرینہ خواب تکمیل کا مزاق اڑایا جانا انہیں پسند نہ آیا ہو۔۔
جمعرات کے جمعرات بریانی کی دیگیں تقسیم کرنے کی روایت بھی بابا کو بڑی عزیز تھی۔
دادا نے اک با کہا۔۔۔۔
گھر کےکاموں میں مدد کیلیے جو آپا آتی ہیں ان کی بچی کے کان کا آپریشن ہونا ہے۔بچی بہت تکلیف میں ہے زیادہ نہیں تو دو تین جمعراتوں کی بریانی کی دیگوں کے پیسے دے دو۔۔۔ کچھ کا انتظام میں کر دوں گا۔ایسے اس کا آپریشن ہو جائے گا’
بہت بحث ہوئئ۔۔بابا نے دادا کو لادین قرار دے دیا اور دادا نے بابا کو بے حس۔۔۔ خیر دیگیں تو پکتی رہیں آپا کی بیٹی کا کیسے بھی کر کے دادا نے آپریشن کروا دیا۔۔
تو بس یہ ماحول تھا گھر کا اور یہ حال تھا گھر والوں کا۔۔ غلط باتوں کو پکر کر بیٹھے رہتے۔۔دادا تو بہت بےزار اکتائے اکتائے رہتے لیکن کسی پر بس ہی نہیں چلتا تھا۔۔ زیادہ تر کتابیں پڑھتے رہتے یا دادا پوتی دونوں لاہور کی سڑکوں کو شرف چہل قدمی بخشتے رہتے۔۔
”نہیں ملے نا آملے” ۔ جب دونوں خالی ہاتھ واپس آئے تو دادی نے طنزا نہیں کہا بس وہ طنزا ہو گیادادا اور امرحہ دونوں زیر لب ہنس دیئے۔جس کام سے وہ گئے تھے وہ ہو گیا تھا۔
‘ہمیں تو کہہ کر گئے تھے دنیا میں آگ بھڑکا کر ہی واپس پلٹیں گے، اب ایسے کیسے واپس آگئے۔۔۔ یا آگ لگی ہے لیکن ہمیں دکھائی نہیں دے رہی۔۔’
دادا پوتی دونوں خاموشی سے منظر سے غائب ہو گئے۔۔
ایسا نہیں تھا کہ ایک دادی ہی اسے منحوس مانتی تھیں۔دادی اور اماں کی دیکھا دیکھی علی، حماد اور دانیہ بھی دادی کے کہے پر یقین کرنے لگے تھے۔۔۔کچھ اس لیے بھی کہ ان کی امرحہ سے بنی ہی نہیں تھی اور اس لیے بھیکہ امرحہ نے ان سے بنا کر رکھی ہی نہیں تھی ۔
علی کی ہیوی بائیک کے ساتھ کچھ ہو جاتا تو اس پو غصہ نکال لیتا۔ وہ بھی علی کو دو سنا کر چھپ کر رونے لگتی اور خود کو کوستی جاتی۔”میں منحوس ماری ۔۔ میں منحوس ماری”
دانیہ اماں کو چپکے سے کہتی
“میرے کپڑے لایا کریں تو امرحہ کو مت دیکھایا کریں پہننے سے پہلے جب اس کی نظر پڑ جاتی ہےتو مجھے زہر لگنے لگتے ہیں”
کسی تازہ ہوئی اپنی اور امرحہ کی لڑای پر وہ ایسے ہی غصہ نکالتی تھی
امرحہ غصے میں کپڑوں پر چکناہٹ کے سیاہی کے دھبےلگا دیتی اور وہاں لگاتی جہاں سے صاف ہو کر بھی صاف نہ ہوتا اور پھر رات بھر کو کہیں بیٹھ کے روتی رہتی
“میں منحوس ماری۔۔۔میں منحوس ماری”
اس منحوس ماری کو بس دادا نے زرا سنبھالا انہی کے کمرے میں ایک طرف اسکا بیڈ رکھا تھا وہ ہی اس کےاماں ابا بہن بھای بن گے تھے۔اس کی باتیں سنتے اس سے باتیں کرتے وہ رات رات بھر بیٹھ کراس کے فضول اور بے سروپا سے
شکوے سنتے اور سارا دن کس کس نے دل دکھایا اس بات پر مل کے آ نسو بہاتے رہتے وہ انہی کے ساتھ رہتی انہی سے پیسے لیتی انہی کے ساتھ سہیلی کے گھرجاتی وہ امرحہ کے ساتھ اسی سب میں مصروف رہتے ,,,,,,
ایک رات اس نے بابا کو اماں سے کہتے سن لیا
“سٹور پر چار لاکھ کا لکڑی کا کام کروانےجا رہا ہوں کسی کو بتانہ مت ;;;
خاص امرحہ کو”
وہ رات بھر روتی رہی ہچکیاں لیتی رہی اور بددوعا دیتی رہی کہ وہ مر جاے یا سازو سامان کو آگ لگ جاے
پر نا وہ مری نہ اگ لگی بلکہ بابا کے پیسوں میں سے ڈیڈھ لاکھ روپے کم ہو گے چھوٹی پھپھو آئیں اور کسی ضرورت کا کہ کر پیسے لے گیں
بابا اماں سے چیڑ گے
” کہا بہی تھا کسی کو مت بتانالو اب ہو گیا کام” سارا عزاب امرحہ پر نا آجاے اس لیے دادا نے دوست سے پیسے لے کر دیے تب کہیں جا کر سٹور کے اگے ناریل پھوٹا۔۔
تو یہ حثیت ہے ہماری امرحہ کی پیدا ہونے سےلے کر بڑا ہو نے تک ایسے ہزاروں بار ہوا ہے۔۔۔ وہ بول لیتی۔۔۔۔ بہن بھایوں سے لڑ بھی لیتی اور پھر ساری ساری رات بیٹھ کے روتی رہتی
اس کا دل چاہتا کہیں بھاگ جائے چھپ جائے کسی کو یاد نا رہے کے اس کی پیدائش کے دن دادی کے پاوں کی موچ نکلی تھی بعد ازان ان کو کمر درد بہی لاہک ہو گیا تھا
دانیۂ حماد علی کبھی جل کر کبھی مزاق مین کبھی اس کو روتا دیکھنے کے لیے اس کی نحوست کے قصے سناتے رہتے کہ وہ بھول نہ جائے کہ وہ کون ہے۔اسکول میں ایک بار ٹیچر کی کرسی کا پایہ جو عرصے سے ٹوٹ جانے کے قریب تھا،ٹوٹ گیا اور ٹیچر جی دھڑام سے نیچے آ گریں تو وہ فورا کھڑے ہو کر رونے لگی اور اس نے ہاتھ جوڑ دیئے۔۔
‘ٹیچر۔۔میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔یہ کرسی خودبخود ٹوٹی ہے۔۔۔میں سچ بول رہی ہوں’
ٹیچر کبھی سر پہ ہاتھ رکھ کر کہتی کہ سر میں درد ہر تو وہ سہم جا تی ”میں نے آپ کے سر کو نہیں دیکھا۔۔۔سچ بلکل نہیں دیکھا”
خاندان کی تقریبات میں وہ انہی کارناموں کی وجہ سے جاتی نہیں تھی جو سارے خاندان میں ایسے مشہور تھے جیسے شالوں میں کشمیری شال اور میووں میں چلغوزہ۔
ایک بار وہ گئی تو بارات جسے دن دو بجے دوسرے شہر سے آنا تھا، آئئ ہی نہیں۔۔۔شام سے رات ہو گئی۔۔ان کی گاڑیاں موٹروے پر خراب کھڑی تھیں۔۔دولہا باراتیوں کے بغیر آنے کیلیے تیار نہیں تھا۔۔۔جب تک لاہور سے نئی کاریں بھیجی گئی اور وہ سب اس میں بیٹھ کر آئے۔رات کت بارہ بج چکے تھے۔۔۔سب مہمان جا چکے تھے اور صرف قریبی عزیز ہی موجود تھے۔۔وہ بھی دادا کے ساتھ چپکے سے گھر وپس آ گئی اور اپنے نئے ڈیزائنر ڈریس کر آگ لگا دی۔۔۔اس کے سب کزنز اس کے گرد گھیرا بنائے اس کا مزاق اڑانے میں مصروف تھے۔
” نانا! ذرا پوچھئے کھانا جل گیا یا بچ گیا۔۔۔ امرحہ آئی ہیں نا آج۔۔۔بجلی کے کنکشن بھی چیک کروا لیجیئے گا۔۔۔شارٹ سرکٹ سے آگ نہ بھڑک اٹھے” کسی ایک نے کہا۔
” میں تو دعا کرتی ہوں کہ دولہابھائی خیریت سے آ جائیں” ۔ خوبصورت نظر آنے کی کوشش کرتی خالہ زاد بولی۔
“مجھے تو دلہن کی فکر ہے۔۔۔۔افواہ اڑی تھی کہ دو لاکھ کا لہنگا جلتے جلتے بچا ہے” ادائے نازنین اپناتے دوسری خالہ زاد نے بھی بولنے میں دیر نہیں کی۔
لہنگا تو بچ گیا لیکن دلہن کے بال جل گئے۔۔ویسے آئرن مشین بال جلاتی تو نہیں۔۔۔لیکن آہ۔۔۔۔کچھ بھی ہو سکتا ہے آج تو۔۔۔۔” کوئئ تیسرا بولا۔
” ہم سب تو مزاق کر رہے تھے امرحہ تو سنجیدہ ہو گئی” وہ رونے جیسی ہو جاتی تو کوئی کہہ دیتا۔
تین گھنٹے بعد اس کا خالہ زاد تنے ہوئے اعصاب کے ساتھ ایسے آیا جیسے کسی کر پھانسی گھاٹ لے جانے آیا ہو۔
“چار پانچ گھنٹے سے پہلے بارات نہیں آئے گی۔۔۔سب امرحہ سے معزرت کرو۔۔۔اس نے ہماری معزرت قبول کر لی تو شائد بارات جلدی آ جائے”
“بکواس بند کرو سب اپنی” وہ اتنی زور سے چلائی کہ ان دس بارہ کا گروپسن سا ہو گیا۔
” میں تمہارا منہ توڑ دوں گی حسان” اس نے بمشکل خور کو رونے سے روک کر چلا کر کہا۔
” منہ تو تمہارا توڑنا چاہیئے جو اپنی ساری نحوست لے کر میری بہن کی شادی خراب کرنے آگئیں”
امرحہ کا جئ چاہا، وہ سارے پنڈال کو آگ لگا بھڑکا دے۔۔۔کاش واقعی شاڑٹ سرکٹ ہو جائے اور سارے روشن قمقمے بجھ جائیں۔۔۔ تاکہ اس کے دھاڑیں مار مار کر روتے تاریک چہرے اور کپکپاتے وجود کو کوئی نہ دیکھ سکے۔۔وہ کب سے سب کے مزاق میں چھپے طنزوں کو جھیل رہی تھی۔۔۔
“وضو کرنے کے بعد مسجد میں جانے سے پہلےخود کو آئینے کے سامنے کھڑا کر کے ضرور دیکھنا۔۔۔شاید دوبارہ کبھی مجھے یہ سب کہتے تمہاری زبان لڑکھڑا جائے۔۔۔۔ اور تمہیں یہ بات سمجھ آ جائے کہ کچھ بھی برباد اور آباد کرنے کئ طاقت انسان کے ہاتھ میں ہے نہ اختیار میں۔۔۔۔۔” حکم کن اور عمل فیکون” رب کی خوبی ہے اس کے بندوں کی نہیں”
بمشکل خود کو رونے سے بچاتے اس نے پانچ وقت کے نمازی حسان سے کہا اور باقی سب کی طرف افسوس سے دیکھا۔
دادا کو لیکر وہ چپکے سے گھر آ گئی ۔۔ اسکی سگی خالہ ذاد کی شادی تھی اسکے دل میں بھی ارمان تھے شادی کو لیکر ۔۔۔اس نے خاص اس شادی کے لیے بہت تیاریاں کی تھیں ۔۔۔لیکن سب نہ صرف بیکار گیا بلکہ اسے دکھ دیکر گیا ۔۔ اس نے ایک سفید کاغذ پر “میں کسی تقریب میں نہی جاوْ نگی ۔۔۔ کبھی بھی نہی۔۔۔ وعدہ ” لکھ کر اپنی الماری کی اندرونی دیوار پر چپکا دیا ۔ جب کبھی اسکا کہیں جانے دل چاہتا وہ الماری کھول کر اپنے وعدے کو یاد کر لیتی ۔۔۔ یہ سب وہ کرتی تو گئی لیکن بہت اکیلی ہوتی گئی ۔۔۔۔
وہ آسانی سے رو پڑتی ۔۔۔اسے آسانی سے رلایا جا سکتا ۔
جیسے کے کوئٹہ والے ماموں سال میں بھی اک بار آجاتے تو میں دبک کر کافی کا بڑا مگ پیتے ہوئے کہتے ۔
“بلاوْ ذرا امرحہ کو ۔۔۔اسے رلائیں ۔۔”
وہ نہ جاتی تو ماموں کھینچ کر لے جاتے۔۔ ہنس ہنس کر سب لوٹ پوٹ ہوتے ۔۔ وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہی اور ماموں اسکی نحوست کا اک قصہ حوالہ جات کے ساتھ سنائے جاتے ۔۔۔۔ اماں اسے ڈانٹتی ۔
“مذاق کر رہے ہیں ماموں ۔۔ امرحہ ۔۔ کیوں ایسے دھاڑیں مار مار رو رہی ہو ”
دادا آتے سب کو ڈانٹ کر اسے لے جاتے ۔۔
“جاہل لوگ ہیں امرحہ ، ان پر توجہ نہ دیا کرو ۔ ”
وہ کونسی عالم تھی جو خود کو اچھی طرح سمجھا لیتی ۔۔۔۔ نو عمر۔۔۔ دکھی ۔۔۔۔ اور خود کو خود ہی منحوس سمجھنے والی ۔۔۔ بس رو دہنے والی لڑکی ہی تو تھی اور پھر ہر بار خود کو فلسفوں سےمطمئن تو نہی کیا جا سکتا تھا ۔
“سب جاہل ہیں ۔ پرسکون ہو جاوْ ”
“سب پاگل ہیں ” ہاں ہہ ٹھیک ھے ۔
ایسا سوچا جا سکتا ھے ۔۔ ایسا کہا جاسکتا ھے ۔۔۔ لکین ایسا ٹھیک نہک ہو پاتا ۔۔۔رزلٹ اگر سو فیصد ہوتا بھی تو اگلی بار ” صفر ” ضرور جاتا ھے ۔ وہ جتنا خود کو ” یہ سب جاہل ہیں ” کہہ کر بہلاتی ، اتنا ہی اگلی بار ان سب جاہلوں کی باتوں پر ہچکیوں سے روتی ۔ دادا کی باتیں اسے تھپک تھپک کر سلاتی تھیں تو اسی نیند میں وہ ان سب کی باتوں پر کراہتی تھی ۔
امرحہ ۔۔۔ دکھیوں میں سب سے دکھی ۔۔
امرحہ ۔۔ تنہاہوں میں سب سے تنہا ۔۔۔
دادا گورنمنٹ پنجاب پبلک لائبریری میں لائبریرین تھے ۔۔اسکول کی چھٹیوں میں وہ سارا دن پنجاب لائبریری میں گھومتی رہتی تھی ۔ویسے بھی دادا اسے گھر میں کم سے کم رہنے دیتے تھے ۔ وہ اسکول سے پیدل چل کر لائبریری آجاتی دونوں دوپہر کا کھانا وہی کھاتے ، اسی ملازمت کے دوران دادا نے کتابیں پڑھی تھیں اور اسی لیےوہ جمعرات کو مرنے والوں کے نام کے دئیے نہی جلاتے تھے ۔ شام کو دونوں چہل قدمی کرتے ۔لاہور مال روڈ کی لمبی سڑکوں سے ہوتے سردی گرمی بھنے چنےاور راکھ پکی چھلی کھاتے رات گئے گھر آتے ۔ امرحہ کا دل چاہتا کہ رات کو بھی گھر نہ جائے اور بھلے سے مال روڈ کے فٹ پاتھ پر سو جائے ۔
گھر پر نظر پڑتے ہی دادا آہ صورت کہتے ۔
” لو آگئی جیل ”
” پاگل ہو گئے ہو تم کتابیں پڑھ پڑھ کر ۔۔ ڈھنگ کی نوکری مل جاتی تو عقل تو نہ جاتی ” دادی سن لیتیں تو کہتیں ۔
دادا کو ڈھنگ کی نوکری نہ ملی لیکن ڈھنگ سے عقل ضرور مل گئی ۔ بابا نے اپنے وقت کی دس کو بھی جیسے
اپنے اسٹور پر رکھ ۔۔۔کربیچ دیا قالینوں کے ساتھ …..پتاہی نہیں چلتا تھا کے دس جماعتیں پڑھے ہے کے دس تک گنتی…علی بڑا تھا اور کمال کا بڑا تھا۔ہر جماعت میں سینئر ہی رہتا دو سال ضرور ہی لگاتا…پھر حماد تھا….اسے دنیا بھر کے گانے والوں ناچنے والوں اور انہیں نچانے والو کے نام گھر قومیت مذہب شادی بچوں افیئرز کے بارے میں تو معلوم تھا لیکن یہ نہیں کے FA کے بعد کی ڈگری کو کیا کہتے ہے اور اسے پاس کیسے کرتے ہے..کتناچاہا دادا نے کے ایک انجنیر بن جاۓ یا پھر کالج میں لیکچرار… ورنہ اک ہسپتال میں ڈاکٹر اور ایک پاک آرمی میں کپتان ……لیکن دادا کے سوچنے سے تو کچھ نہیں ہوتا نا….ویسے ان کے کہنے سے بھی کچھ نہیں ہوا…
پھر امرحہ کا نمبر تھا کم وہ بھی نہیں تھی .پر کیؤنکہ بیچاری سی تھی اس لئے ہر وقت روتی رہتی تھی …بڑی مشکل سے دادا نے اسے آٹھ جماعتیں پاس کروائی..تازہ تازہ ہوھے کسی واقعے پر روتے ہوے اس نے پڑھائی چھوڑ نے کا فیصلہ کر لیا اور عمل بھی.سارا سارا دن دادا کے ساتھ لیبریری رہتی..
دادا نے منت کی.’امرحہ میٹرک کر لو’
اس سے کیا ھو گا؟
تعلیم سے کیا نہیں هو سکتا ”
سب مجھے پسند کرنے لگے گے کیا؟ استزاهیہ انداز
“تمھے یہ فکر کیوں ہے کے سب تمھے پسند کرنے لگے تعلیم تم نے اپنے لیے حاصل کرنی ہے.اپنی زندگی کو تعمیر کرنے کے لئے”
میری زندگی میری نحوست نے تعمیر کر دی ہے.اب طنز یہ انداز
تمھے اتنا کمزور نہیں ہونا چاہیے کے تم آیسے ہتھیار پھینک دو.معاشرہ،ماحول یا لوگ کیسے بھی ھو ہمے اپنے راستے بنانے نہیں چھوڑنے چائیے.اور ان راستوں پر روشنی کے انتظامات میں لگے رہنا چائیے”
ایسی باتیں کتابوں میں اچھی لگتی ہے دادا،،
کتابیں نازاں ہے ایسی باتوں کی ملکییت پر ہمے بھی ان پر عمل کر کے نازاں ہونا چائیے ، امرحہ
میں جو کہتی ہوں وہ آپ سمجھتے نہیں کتنی بار کہا ہے کے بھاگ چلتے ہے کہی دور…بوہت دور.وہ ہر بات کو اسی ایک بات پر ختم کرتی..اسے بس کسی ترھا اپنے ماحول سے دور جانا تھا .جہاں رونا بھی پڑے تو اس کی تمہید کچھ اور ہو .جہاں اداسی آیا ہی کرے تو اپنے ساتھ مسرت کو چھپا لایا کرے.جہاں دن ہو شام ہو رات ہو پر آہ نہ ہو..
دادا جان کے پاس جو تھورے پیسے تھے اس سے وہ اسے بھگا لے گے اپنے اک دوست کے گھر بلوچستان.دس دن وہاں گزار کر آے.
خاندان میں تو وہ کہی جاتی نہیں تھی..وہاں بوہت خوش رھی.پھر دادا سے کھنے لگی.
دادا آپ دبئی چلے جاؤ ..پھر مجھے بھی وہاں بلا لینا..دونوں بوہت خوش رهے گے.
وہ اس عمر میں دبئی کیا جاتے ہاں پھر بھی وعدہ کر لیا..
“میٹرک کر لو پھر چلا جاؤ گا دبئی”
اور اس نے دبئی جانے کے لیے میٹرک کر لیا …خوب جی جان لگا کے..پر اتنی جی جان لگا کے بھی کچھ زیادہ بڑا دہماکا نہ کر سکی وہ ہی عام عام ھوئی سیکنڈ division..جو ہر کس و ناکس کے حصہ میں آ جاتی ہے..
انہی دنوں نیا نیا واقعیا ہوا تھا کے بابا کا ہاتھ جل گیا…دادی اپنی فطرت سے مجبور اس پر طنز کرنے لگی وہ آگے سے جواب دینے لگی.تو بابا نے غصے سے جلا ہوا ہاتھ اس کے منہ پے تھپڑ بنا کے مار دیا..اور مزید غصے سے اس نے اپنا سر دیوار میں زور سے دے مارا۔۔۔۔ سر سے خون نکلا۔۔۔سر میں بہت درد ہوا اور خون کو بھلا کر وہ بابا کے تھپڑ کر روتی رہی۔

Read More:   Us Bazar Mein by Shorish kashmiri – Episode 11

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply