Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 10

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 10

اب وہ رو رہی تھی اور وہ سب شرمندہ شرمندہ اسے سن رہے تھے۔ عالیان اٹھا اور چل کر اس کے قریب آکر بیٹھ گیا
“مزاق کچھ زیادہ ہی ہو گیا نا_ ان کی غلطی ہے۔ انہیں معاف کر دو” وہ بدستور ہچکیاں لیتی رہی
“پلیز… انہیں معاف کر دو …پلیز…”
اس نے سالوں تڑپ تڑپ کر، چھپ چھپ کر روتی رہی آنکھوں کو اٹھا کر عالیان کو دیکھا۔ عالیان وہیں کا وہیں رہ گیا۔ اس نے اپنی زندگی میں دو آنکھوں میں اتنی تڑپ، تکلیف،دکھ اور غصہ سمٹا ہوا نہیں دیکھا تھا-اس نے سیاہ مشرقی آنکھیں دیکھی تھی۔ ان مشرقی آنکھوں میں طیش و شکوے کے ایسے بادل نہیں دیکھے تھے۔ وہ اسے شکایت سے دیکھ رہی تھی کہ اردو بولنے والا نام سے مسلمان لگنے والا وہ بھی ان کے ساتھ شامل تھا
عالیان چپ کا چپ ہی رہ گیا۔ اس کی بھوری آنکھوں نے اس دے بھرپور شکایت کی۔ اسے انہیں ان دو سیاہ آنکھوں کے اتنا قریب نہیں لے جانا چاہئیے تھا۔ اب اگر وہ ایسا کر چکا تھا تو اس کا انجام اسے ہی بھگتنا تھا۔۔۔۔ اکیلے۔۔
عشق مجازی کا اگر کوئی لاڈ کا نام ہوتا تو ہو محبوب کی آنکھ کا طیش ہوتا اور اگر روتی ہوئی اندھیری آنکھوں کا کوئی لاڈ کا نام ہوتا تو وہ امرحہ ہوتا۔
عالیان کو یہ یاد کرنے میں دقت ہوئی کہ وہ کہاں بیٹھا ہے۔اس سے بھی زیادہ دشواری اسے اپنی آنکھوں کو آنسوءں کےپانیوں میں غرق ان آنکھوں سے ہٹانے میں ہو ئی۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کھرا ہوا اور دو قدم پیچھے کو چلا اور پھر سے بھاگ پڑنے جیسے انداز میں اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ ماسٹر بالی کلارنٹ پر بسنت رنگ بجا رہے تھے۔

اگلے دن وہ سب باری باری گھر آتے رہے اور دروازے کے پاس پھول رکھتے گئے۔ رات اس نے ان کا سوری قبول نہیں کیا تھا۔۔
ڈر کے مارے وہ اندر نہیں آ رہے تھے۔وہ کھڑکی میں بیٹھی سب کا تماشہ دیکھتی رہی۔سب سے بڑا گلدستہ ایرک کی طرف سے تھا،یہ وہی تھا جس نے امرحہ کا انتخاب کیا تھا۔اس ڈرامے کیلیے۔ پھر اسے ایک لمبا چاڑٹ ملا جس پر ان سب کے دستخط تھے اور چارٹ پر ایک طرف روتا ہوا موٹے موٹے آنسو والا سوری لکھا تھا۔چارٹ کے ساتھ ہی وہ ویڈیو بھی بھیجی گئی تھی جو کل رات بنائی گئی تھی۔اسنے وہ ویڈیو دیکھی اور اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کرتی رہی۔واقعی۔۔۔وہ ایک مکمل عملی مزاق تھا۔ان سب کے تاثرات کمال کے تھےاسنے وہ ویڈیو لیڈی مہر اوع سادھنا کو بھی دکھائی۔۔وہ لوٹ پوٹ ہوتی ہوئی باربار ویڈیو چلا کر دیکھتی رہیں۔
بعد میں اسے معلوم ہوا کہ کام کرنے کیلیے جتنے بھی لوگوں کا گروپ وہاں موجود تھا۔ان سب کے ساتھ کچھ نہ کچھ کچھ کیا جانا تھا۔ وہاں موجود سب ہی اسٹوڈنٹس مانچسٹر یونیورسٹی میں پچھلے چار سال سے پڑھ رہے تھے اور یہ ایک روایت ہی تھی کہ وہ ہر سال کچھ نہ کچھ کرتے لیکن امرحہ کے ساتھ مزاق کچھ زیادہ ہی سیریس ہو گیا۔۔

اس واقعے سے اتنا ہوا کہ وہ یونیورسٹی میں کافی مقبول ہو گئی۔اسکے کافی سے زیادہ سٹوڈنٹس دوست بن گئے تھے۔جو اسے دیکھ لیتا رک کر اسکا حال احوال ضرور پوچھتا۔۔۔اسے کافی۔۔لنچ کیلیے بلاتے۔۔کوئی نہ کوئی اسکی مدد کیلیے تیار رہت۔۔ جو اسٹوڈنٹس مانچسٹر کے ہی رہنے والے تھے وہ اسے اپنے گھر شام کی چائے یا ویک انڈ پر ڈنر پر مدعو کرتے ۔۔اسکے رونے دھونے کا ان سب فنکاروں پر ایسا اثر ہوا کہ وہ اسے ننھی منی بچی کی طرح ٹریٹ کرتے کہ بےبی چاکلیٹ کھا لو۔۔۔آئسکریم کھالو۔۔۔اچھا یہ لو باربی۔۔چلو دو لے لو۔۔۔بس رونا نہیں۔۔
ایک وسیع حلقہ اسے جاننے لگا تھا۔وہ جس سے چاہتی پڑھنے میں مدد لے لیتی۔۔ اسی دوران شٹل کاک میں ایک روسی ویرا اور ایک جاپانی این اون (en eun)آ گئی جاپانی تو بہت خاموش طبع تھی. سال میں ایک بار بولنے والوں جیسی تھی. اس نے لیڈی مہر کو کہانی سنانی پر لیڈی مہر نے اسے خود ہی روک دیا کہ وہ بس چپ چاپ گھر میں رہتی رہے. البتہ ویرا نے اپنے شیر سوچی میں ہونے والی بائیسویں سرمائی اولیکس کی وہ وہ کہانیاں سنائی کہ خود امرحہ کا جی چاہا کہ کاش وہ کوئی ایتھلیٹ ہوتی. کاش فارغ اوقات میں ویرا مانچسٹر کی سڑکوں پر دیتی. اس کا قد چھ فٹ دو انچ تھا. بال کمر سے بہت نیچے تک لمبے تھے یا سکائکلینگ کرتی یا سیکٹنگ جب وہ یہ دونوں کرتی تو لگتا کہ کوئی پری بنا پروں کے سڑک پر نیچی پرواز پر اڑ رہی ہے. اس کے بال جو اونچی پونی کی صورت میں بندھے لہراتے اڑتے. ایک بار ویرا نے اسے اسلیٹگ شوز پہنا دیے اور امرحہ منہ کے بل سڑک پر گری ناک کی ہڈی اتنی بچ گئی کہ سرجری کی ضروت نہ رہی باقی ساری کسر پوری ہو گئی امرحہ کا بس کا کرایہ بھی بجا وہ ویرا کے ساتھ ہی اس کی سائیکل پر بیٹھ کر یونیورسٹی چلی جاتی. لیکن ویرا کے ساتھ سائیکل پر بیٹھنا بھی اتنا مشکل تھا جتنا رولر کوسٹر پر بیٹھنا دل گردے کا کام تھا.کرایہ بچانے کے لیے وہ اپنے دل گردے روز مظبوط کرتی وہ سائیکل پر ہزار ہزار کرتب دکھاتی ہوئی جاتی ویرا کچھ اخبارات کے لیے کالم لکھتی تھی. اس لیے اسے نوکری کرنے کی ضرورت نہیں تھی. اس نے شٹل کاک ہاؤس میں چھوٹے موٹے مرمت کے کام آسانی سے کر دیے. جس کی لیڈی مہر نے اجرت بھی دی. اس کا سر نہ میں ہلاتے امرحہ نے کم ہی دیکھا تھا. اسے جیسے سب ہی کام کرنے آتے تھے. ڈیرک کی مدد سے اسے جوتوں کے ایک اسٹور میں کام مل گیا اس کا کام بل بنانا تھا بس کافی آرام دہ کام تھا اور اس کی ہفتہ وار تنخواہ بھی اچھی تھی. ہفتے میں ایک بار وہ کیفے ضرور جاتی اور اپنے سابقہ باس سے کافی کے ساتھ ساتھ ہلکی پھلکی بات چیت کر کے آتی. اب تو دادی اور اماں بھی اس سے بات کرتے آبدیدہ ہو جاتیں تھیں. اسے حیرت ہوئی اس نے پہلی بار دادی کو اپنے آنسو صاف کرتے دیکھا. حماد اور علی اسے کافی تمیز سے مخاطب کرتے.دانیہ اسے خاندان میں ہونے والی تقریبات کی ویڈیوز بھیجتی رہتی تھی اسے تو کوئی دلچسپی نہیں تھی. البتہ سادھنا،لیڈی مہر،ویرا کافی شوق سے ان ویڈیوز کو دیکھتی تھیں.

Read More:  Yaaram by Sumaira Hameed – Last Episode 61

ویسے تو موسم ابرآلود رہتا ہی تھا اور ہلکی پھلکی بارش ہو جاتی تھی لیکن اس دن ہلکی لیکن مسلسل بارش ہو رہی تھی. ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی. ویرا کو کسی اخبار کے دفتر جانا تھا.اس لیے وہ اکیلی ہی آکسفورڈ سڑک پر واک کرتی سست روی سے چلتی رہی. اسے قطعا جانے کی جلدی نہیں تھی. وہ موسم سے لطف اندوز ہو رہی تھی. گیلی گیلی عمارتیں نم نم منظر اسے اچھا لگ رہا تھا بھلے وہاں کے مقابل اس موسم سے عاجز آ چکے ہوں پر غیر ملکی خاص کر گرم ملکوں کے باشندوں کی جان تھی اس موسم میں اس نے گہرے گلابی رنگ کے ویرا کے اسٹول کو گردن میں دو بل دے رکھے تھے. انہیں کھول کر اس نے سر پر اوڑھ لیا. پھر اس نے واپس گردن میں بل ہی دے دیے. بارش کی ہلکی پھوار سر پر پڑتی اچھی لگ رہی تھی. ایک دم سے پیچھے سے ایک نیلی چھتری جس پر گل لالہ کے پھول بکھرے تھے. اس کے سر کے اوپر تن گئی. اس نے سر اٹھا کر دیکھا پھر چھتری پکڑے ہاتھ کو وہاں عالیان کھڑا تھا.‏‎تمہیں اپنی ٹوئیٹ نہیں چاہیے؟ آج میں تمہیں برگر تو۷ کھلا سکتا ہوں اور کافی بھی. اتنی پرانی بات اب نہیں چاہیے. کیوں اب کیوں نہیں چاہیے؟ چھتدی بدستور وہ اس کے اوپر رکھے ہوا تھا. خود وہ بھیگ رہا تھا. تم سے نہیں چاہیے تم بہت بدتمیز ہو
میں نے تم سے کیا بدتمیزی کی؟‎ ‎
”کب نہیں کی….ویسے تم مجھ سے اتنی نرمی سے کیوں بات کر رہے ہو؟“
مجھے خود نہیں پتا چل رہا….میرا دماغ کھسکتا ہی جا رہا ہے“
”علاج کےلیے پیسے نہیں ہے تمہارے پاس؟ ایسا کرو،علاج کی بھی ٹوئیٹ لے لو“
”علاج تو میں کروا لوں….لیکن اس بیماری کا کوئی ڈاکٹر نہیں ہے“
”ایک یونیورسٹی سٹو ڈنٹ کے ساتھ تم ایسی اونگی بونگی باتیں کیسے کرسکتےہو؟“
”اور یہ یونیورسٹی سٹوڈنٹس بھی تو سب اونگا بونگا کرتی ہے“
”سب کیا؟“
”سب مطلب سب….“وہ ہلکے سے مسکرایا اور یہ کرتے وہ ایسالگا کہ امرحہ نے سوچا۔
”کیااس نے خدا سےالگ سے اپائمنٹنٹ لی تھی۔“
امرحہ نے ایک چاکلیٹ نکل کر اسے دی ”کھاؤ،تمہاری کیلوریز تیزی سے کم ہو رہی ہیں۔“
”تمہیں ڈرپ کردوں۔“وہ چاکلیٹ لے کر کھانےلگا۔
”تمہارے پاس گاڑی ہے؟“
”نہ…سائیکل….؟
”میں ویرا کے علاوہ کسی کے ساتھ نہیں بیٹھتی۔“
”میں گراؤں گا نہیں۔“
”پرمیں تمہیں ضرور گرا دوں گی….بھاگ جاؤ، میرا سر نہ کھاؤ۔“
یہ کیا طریقہ ہے بات کرنےکا ۔“
”خاص تمہارے لیے ۔“
”میرے لیے کچھ خاص….واؤ….ٹھیک ہے…تم نے سینما دیکھے ہے ہیں یہاں کے؟“اس کے بھورے سر پر بارش کے قطرے لکن میٹی کھیل رہے تھے۔
“ ہاں ! ویرا کے ساتھ گئی تھی۔“
”اس نے یقیناً تمہیں ہنگر گیمز دکھائی ہو گی۔اس کا ماننا ہے کہ وہ جینیفر سے مشابہہ ہے۔“
”لیکن وہ جینیفر سے زیادہ خوبصورت ہے۔“
”میں تمہاری کلاس فیلو جینیفر کی بات نہیں کر رہا۔ویسے میں تمہیں ایک اچھی انڈین مووی دیکھا دکھا سکتا ہوں۔“
”میں انڈین موویز نہیں دیکھتی۔“
”پاکستانی؟“
”وہ تین،چار ہی ہیں میں پاکستان سے دیکھ کر آئی ہوں۔“
”بنگالی؟“
”مجھے بنگالی نہیں آتی۔“
”ایرانی….افغانی،تاجکستانی،ترکمانی،عراقی،مصری اور ہاں اینی میٹڈ۔کیا تم نے کبھی سینما میں Animated فلم دیکھی ہے؟“
”نہیں“
”کیا تم نے Ratatouille دیکھی ہے؟دیکھو اگر تم نے اتنی عظیم فلم نہیں دیکھی تو میں تمہیں پہلےاس کہانی سنا سکتا ہوں۔دیکھنا خو تمہارا دل چاہے گا کہ تم یہ فلم دیکھو…یہ ایک قابل ذکر چوہے اور اس کے محسن کی کہانی ہے۔چوہا جس کے ہاتھ میں کمال کا ذئقہ ہوتا ہے اور وہ دنیا کے کسی بھی بڑے سے بڑے شیف سے زیادہ اچھا اور لذیذ کھانا بنا سکتا ہے۔ایسا کھانا جس کی کھانے والے کو نظیر نہیں ملتی اور ایسی ترکیب اور سلیقے سے ….“
”چوہا شیف ہوتا ہے ؟مطلب جو کھانا بناتا ہے؟“
”ہاں….تم غلط سمجھ رہی ہو….وہ کھانابنانے سے پہلے ہاتھ دھوتا ہے….اس کے ہاتھ صاف ہوتے ہیں….بلکل تمہاری طرح….“
”چوہا اور کھانا….آخ…خ…خ“امرحہ نے سر کو زور زور سے جھٹکا۔”آخ..خ..خ..چوہا…اور میرے ہاتھوں جیسے صاف ہاتھ…“عالیان نے چھاتے کو بند کیا۔اس کا ہاتھ تھک چکا تھااور چلتے چلتے وہ رک گیا اور اسے بھی روک لیا،اب بارش کے قطرے دونوں کے بالوں میں لک چھپ جارہے تھے
”پھر کرنا۔“
”کیا….؟“
”یہ جو ابھی کیا تھا۔“
”کیا کیا تھا؟“
”وہی جو چوہے کے نام پر کیا تھا۔“
”آخ….خ“امرحہ کو پھر سے چوہے کا خیال آگیا۔
”ایک بار پھر کرنا…یہی…یہی…پلیز۔“
”تم پاگل ہو،کیا کہہ رہے ہو۔“
”جب تم یہ آخ کرتی ہو تو تمہاری بھنویں اور آنکھیں بچکانہ سا رقص کرتی ہیں…اور تمہاری ناک…یہ دائیں بائیں لہرا کر اکساتی ہے کہ اسے پکڑ کر اس پر چٹکی بھری جائے۔“
”تم میرا وقت ضائع کر رہے ہو۔“امرحہ کو لگا،وہ اس کی ناک کی چٹکی بھر لے گا۔
”اچھا تمہارا وقت بھی اب قیمتی ہو گیا؟اچھا چلو پھر فلم کے لیے پکا؟“
”اگر ویرا جانے کے لیے تیار ہو گئی؟“
”ویرا؟“
”ہاں دادا نے کہا ہے،ہر جگہ اسے ساتھ لے کر جاؤں۔“
”دادا جی کو یہاں ساتھ لے آتیں وہ پھر بھی اچھا تھا۔“
”تم میرے دادا کامذاق اُڑا رہے ہو؟“
”چلو ویرا کوبھی لے آنا۔“

Read More:  Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 10

اور وہ ویرا کو بھی لے گئی۔ویرا توجاتے ہی سو گئی….کیونکہ اسے خالص ایکشن فلمیں پسندتھیں جن میں ہر دو منٹ بعد ایک بم بلاسٹ ہو اور کم سے کم دوآدمی مر جائیں…..اور ہیرو بس بڑی بڑی عمارتیں پھلانگتا رہے….اور کسی زمین پہ کھڑا ہو بھی جائیں تو چار اطراف فائر کھول دے۔جب چوہے نے پہلی بار کھانا پکانا شروع کیاتو اس نےمنہ ہی منہ میں کتنی ہی بار …آخ..خ….کیا ۔پھر آہستہ آہستہ وہ دلچسپی سے فلم دیکھنے لگی…اور فلم کے اختتام پر اس نے تالیاں بجائیں۔اس نے اس قسم کی فلم پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی ہیرہ،ہیروئن کے لمبے جھمیلوں سے ہٹ کر….ایسی شان دار فلم….کمال ہو گیا۔جب وہ ویرا کی سائیکل پر بیٹھ رہی تھی گھر جانے کے لیے تو عالیان نے بہت آہستگی سے اس سے فر مائش کی۔”ایک بار کہہ دو…آخ…خ.. “وہ قہقہہ لگا کر ویرا کو مضبوطی سے پکڑ کر بیٹھ گئی۔وہ وہیں کھڑا اسے جاتےہوئے دیکھتا رہا۔کچھ لوگوں کاآنا جتنی خوشی دیتا ہےان لوگوں کا جانا اتنی ہی تکلیف دیتا ہے۔ وہ اس وقت ننھی منی سی اسی تکلیف سے گزر رہا تھا۔وہ عالیان مارگریٹ جو جب سیٹی بجاتا…دونوں ٹانگوں کو ہوا میں اچھال کر ان کی تالی بجاتا جاتا ہے تو کم سے کم پچاس لوگ اسے مڑ کردیکھنا ضرور پسند کرتے ہیں۔اگر وہ غصے سے بھی کسی کو دیکھتا ہے تو بھی اس پر پیار ہی آتا ہے۔

Read More:  Mery Khawab by Mubarra Ahmed – Episode 2

لیڈی مہر شادی کی دس تک بےاولاد رہیں…پھر جب دونوں نے بچہ گود لینے کا سوچا توان کے شوہر احمد حسین کا کار کے حادثے میں انتقال ہو گیا۔احمدحسین دل کےسرجن ڈاکٹر تھے۔وہ ایک کامیاب تھے اور ایسے کامیاب نرم خو انسان کے چلے جانے کے بعد ان کی بیوی اتنی کامیاب سےزندگی نہ گزار سکیں۔پہلے فالج سے ان کا آدھا حصہ مفلوج ہوا۔وہ دو سال پرائیویٹ ہسپتال میں رہیں….میکے کے نام پر ان کے خاندان صرف ایک باپ تھے جو ان کی دو سالہ بیماری کے دوران چل بسے….احمد حسین کے تین بھائی تھے۔لیکن وہ اس صورت مہر سے ملنا چاہتے تھے اگر وہ احمد حسین کی جائیداد ان کے نام کر دیتیں….ایک گھر اور میڈیسن کمپنی کےشئیرز….مہر بچہ گود لینا چاہتی تھیں۔اب وہ بھی نہیں لے سکتی تھیں۔ان کی حالت ہی ایسی نہیں تھی۔وہ اپنے آپ کو نہیں سنبھال سکتی تھیں بچے کو کیسے…اور اس میں انہیں کوئی بھی ادارہ بچہ نہ دیتا۔تو انہوں نے بچوں کو ان اداروں میں رکھ کر ہی پالنا شروع کر دیا۔ایک ادارہ تھا” اُور کڈز“(ہمارے بچے) جو بچہ پالنے کے خواہش مند افراد کو ایک بچے سے ملا دیتے اور پھر اس کے اخراجات کے پیسے لیتے رہتے اور اسے اپنے پاس رکھ کر ہی اس کی تعلیم و تربیت کرتے….مہر نے یہاں ایک نہیں پورے دس بچوں کو لے کر پالا….وہ کمپنی سے ملنے والے منافع سے اپنے اخراجات کے لیے نکال کر باقی سب ادارے کو دے دیتیں۔بچے مہینے میں ایک بار ان سے آکر مل جاتے۔ ایک پورادن ان کے پاس گزار کر جاتے۔مہر کو ماما کہتے….
*************

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: