Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 12

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 12

“تم یہاں….!” امرحہ دو قدم پیچھے ہٹی.
“تم یہاں …!” کھڑکی کی چوکھٹ پکڑے وہ گرنے کے قریب ہوا! پھر اس نے جلدی سے مضبوطی سے کھڑکی کو تھام لیا.
جنگل یا بیابانوں میں اندھیرے کے بستر پر مٹھی نیند سوۓ سب جگنو اس کی آنکھوں میں ایک ایک کر کے جاگنے لگے.
“یہ میرا کمرہ ہے.”
“یہ میرا گھر ہے امرحہ!” مسکراہٹ دباتا وہ نیچے کو ہو گیا. کسی جلگلی لنگور کی طرح جسے وو اپنا گرو مانتا ہوگا.
امرحہ نے بے طرح حیران ہو کر جیسے جیسے خود کو ہوش میں لانا چاہا… اسی یقین نہیں آ رہا تھا کہ ابھی ابھی جو اس نے دیکھا وو سچ تھا.حقیقت تھا خواب نہیں تھا. اسکا یونی فیلو ایسے اس کے کمرے کی کھڑکی میں آ کر اسے بتا گیا کہ یہ اس کا گھر ہے. اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر کھڑکی سے سر باہر نکالا. وہ ذرا دور دوسری کھڑکی کی طرف لپک رہا تھا اور بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا … آخر وہ کر کیا رہا تھا. ایسے آدھی رات کے وقت اس کی رہائش گاہ کے گرد پاگلوں کی طرح کود پھاند رہا تھا. امرحہ نے سر کو ذرا اور آگے کر کے کہا.
“تم کیا کر رہے ہو!..جاؤ یہاں سے.”

اس کی آواز پر وہ روک کر اسے دیکھنے لگا. جیسے پریوں کے دیس کی کہانی سنتے بچے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھنے لگتے ہیں کہ کیا کوئی پری ان کے سروں اوپر اڑاتی جادو کی چھڑی گھما رہی ہو.اگر نہیں تو کیوں نہیں اگر ہاں تو وہ نظر کیوں نہیں آتی.اچھانو.. وہ نظر آ گی.
وہ نیچے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا.. وہ کھڑکی سے سر نکلے اس پر خفا ہو رہی تھی.
“پاگل ہو کیا؟ آواز کو دھما رکھ کر ووہ چلائی.
“پاگل ہوں میں” ملین پاؤنڈ لو اسی ابرو کو اچکا کر مسکراہٹ دبا کر اس نے سر ہلایا.
“اچھا تو یہ تمہارا گھر ہے”؟اپنی دانست میں وہ اسے چڑا رہی تھی. “تو پھر سیدھے راستے سے اندر آ کر دکھاؤ.”
“اچھا!”عالیان سینے پر ہاتھ باندھ لیے اور اس کے اگلے حکم کا انتظار کرنے لگا.
“کیا ڈراما ہے یہ؟” امرحہ پوری قوت سے چلائی.
اس نے جھرجھری لے کر ڈرنے کی اداکاری کی اور کان میں انگلی گھمانے لگا’ پھر سر کو جھکا کر کان کو صاف کرنے کا عمل کیا. امرحہ کو کافی برا لگا. اس نے اپنے اسٹڈی ٹیبل پر رکھا ایک اعداد موٹا میگزین اٹھا لیا اور اسی دے مارنے کے لیے بلند کیا عالیان کو برا لگا. وو سنجیدہ ہو کر اسے دیکھنے لگا.
“کیا ووہ کھڑکی میں کھڑی جولیٹ ہے اور کیا وہ نیچے کھڑا رومیو ہے؟” ستاروں بھری رات نے وقت کے کان میں سرگوشی کر کے پوچھا. وقت نے کندھے اچکاۓ اور مسکرا کر کہا” انتظار کرو.”

امرحہ میگزین اسے دے مارتی ‘ وہ تیزی سے گھر کی دوسری طرف چلا گیا.اس نے تقریباّ خود کو آدھا کھڑکی سے باہر نکال کر
اسی ڈھونڈنا چاہا لکن وہ اسے نظر نہیں آیا.
کچھ ہی دیر میں اسے گھر کے اندر سے شور کی آوازیں آنے لگیں. رات کے وقت اسے یس طرح کی آوازوں کا آنا عجیب تھا، خاص کر لیڈی مہر کی آواز کا. وہ اپنے کمرے سے بھر ای تو سادھنا بھی اپنے کمرے سے نکل کر آ چکی تھی. “کیا ہو رہا ہے؟”
“دیدی کا بیٹا آیا ہے. انہیں سالگرہ وش کرنے”
“کب آیا…”
“ابھی… او اندر چلیں” سادھنا نے یس کا ہاتھ پکڑ لیا اور دونوں لیڈی مہر کے کمرے میں چلی گئیں.
اور لیڈی مہر کے بیڈ پر بیٹھا عالیآن انہیں منا سا بیک کیک کھلا رہا تھا. کمرے کی کھڑکی کھلی تھی.. دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ایسے مصروف تھے جیسے دنیا میں اکیلے وہ دو انسان ہی موجود ہوں.
امرحہ دیکھتی رہ گے.
“میرا بیٹا بھی تمہاری یونیورسٹی میں ہی پڑھتا ہے” لیڈی مہر نے اسے ایک بار بتایا تھا.
“یونیورسٹی کو فخر ہے اس پر اور مجھے اس پر. بزنس کے نئے رجحانات اور تاریکوں پر اس نے جو اسائنمنٹ لکھی تھی’ اسی یونیورسٹی نے کتابچے کی صورت میں چھاپ کر لائبریری میں رکھا ہے.”
سدھنا نے آگےبڑھ کر لیڈی مہر کو گلے لگایا اور سالگرہ وش کی. امرحہ بھی آگے بڑھی. عالیان نے جلدی سے کیک چھپا لیا.
“یہ بچا ہوا کیک میں ساتھ لے جاؤں؟”
“اتنے سے کیک میں بھی تمہاری جان ہے.”
لیڈی مہر بہت خوش تھیں.

“نہیں.. کیک میں جان نہیں رہی اب. مما آپ کو معلوم ہے لوگ آپ کے گھر کو یونیورسٹی میں کیا کہتے ہیں؟
“کیا کہتے ہیں؟’
“شٹل کاک… کیسا معصوم انسان تھا نا’ وہ کیسے سچ اگل رہا تھا.
“کون کہتا ہے میرے وائٹ ہاؤس کو شٹل کاک؟”
عالیان نہیں امرحہ کی طرف دیکھا.
“نہیں میں نہیں کہتی…یونیورسٹی میں پہلے سے ہے یہ شٹل کاک کے نام سے مشور تھا.. میں نہیں کہتی؟ امرحہ گھبرا گئی.. یہ ماں بیٹا دونوں کیسے بوکھلا دیتے تھے.
“عالیان! آج رات یہیں روک جاؤ…” وہ اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لی کر بیٹھی تھیں. عالیان ہنسنے لگا.
“آپ مجھے رہنے کے لی کہ رہی ہیں؟”
“ٹھیک ہے جاؤ پھر”
وہ اپنا بیگ اٹھا کر کھڑکی کی طرف لپکا. امرحہ ہرات سے اسے دیکھنے لگی. “یہ کیا طریقہ ہے آنے اور جانے کا.”
“آج میں دروازے کے راستے پر چلا جاتا ہوں.”
عالیان لیڈی مہر سے مل کر کمرے سے بھر آ گیا.
“تمہارا کمرہ کس طرف ہے”
“کیوں؟”
“مجھے اس کی کھڑکی دیکھنی ہے”
“کیوں؟”
“اتنے کیوں؟ مجھے دیکھنا ہے کہ اوپر سے نیچے کھڑا میں کیسا لگ رہا تھا”
“جیسے سامنے سے کھڑے لگ رہے ہو”
“کیسا لگ رہا ہوں؟”
“اف! “امرحہ کو خاموش ہونا پڑا.

ادھ کھلے دروازے سے اندر جھانک کر اس نے خود ہی اندازہ کر لیا کہ یہ اس کا کمرا ہے.
“تم لیڈی مہر کے بیٹے ہو؟”
“بالکل!” وہ کھڑکی میں سے سر باھر نکال کر اس طرف دیکھ رہا تھا جہاں کچھ دیر پہلے وہ خود کھڑا تھا.
“لیکن ان کا نام تو مارگریٹ نہیں ہے”
ایک دم سے عالیان کی مسکراہٹ غائب ہو گئی. اس نے جلدی سے اپنی پشت سے بیگ اتارا اور جو چنا منا کیک بچ گیا تھا وہ نکال کر امرحہ کے آگے کیا.
“یہ میں نے بیک کیا ہے.”
“تم کک ہو ؟”
“اوکے! میں چلا. اس نے ایک دم ایسے ہاتھ چھوڑ دئیےجیسے دیھان نہ دینے پر گر گیا ہو. امرحہ چیچ دباتی کھڑکی کی طرف لپکی نیچے جھانکا پائپ سے جھولتا وو زمین پر چھلانگ لگا چکا تھا/.امرحہ نے سر کھڑکی سے بھر نکال لیا.
“گڈ بائےکے لیے تھنکس.اب تم سو جاؤ”.
وہ دونوں ہاتھوں کو منہ کے دائیں بائیں رکھ کر تھوڑا سا چلایا
“گڈ بائے”کون کہ رہا تھا اسے.
امرحہ تو اس بندر کے تماشے دیکھ رہی تھی.غصے سے اس نے کھڑکی بند کرنی چاہے.
میں نہیں جانتا کہ میں وہاں سے یہاں کھڑا کیسا لگ رہا ہوں لکن یہاں سے تم کھڑکی سے جھانکتے ہوے ٹامس کے ہاتھ سے بنی “گرل آیت ونڈو” جیسی لگ رہی ہو. بس تم ذرا غصے میں ہو. ٹامس کی گرل تو مسکراتی ہے. بیگ کو سمبھلتا دونو ٹانگوں کی تالی بجاتا وہ چلا گیا.
“بندر” اتنے پیارے سپائیڈر مین کو امرحہ بندر کہ کربڑبڑنے لگی. اس کا دیا کیک وہ کچن میں رکھ آئ. اس کا کوئی موڈ نہیں تھارات کے اس وقت کیک کھانے کا لیکن عالیان کے اس طرح آنے کے بارے میں وہ نہ چاھتے ہے بھی رات گے تک سوچتی رہی.

یہ اس کا گھر ہے.یعنی عالیان بھی لیڈی مہر کا وو بچہ ہے جسے انہوں نے پلا ہے. عالیان سے مل کر اسے کبھی یہ گمان نہیں ہوا کہ وھو بھی کیک ایسے ادارے میں رہا ہے جہاں بے سہارا اور ناجائز بچے پرورش پاتے ہیں. اس کے انداز و اطوار ایسے تھے کہ لگتا تھا کہ وہ کسی بارے خاندان کا چشم و چراغ ہے.
امرحہ کو عجیب سا لگا کہ یہاں ہر دوسرا شخص ایسا ہی ہے بغیر خاندان کے پرورش پانے والا… ناجائز.
اس کا نام عالیان تھا اس کی ماں کا نام مارگریٹ تھا یہ سب کیا چکر تھا. شائد لیڈی مہر نے اس کا نام عالیان رکھا ہو. اسی اردو سکھائی ہو. ورنہ شائد وہ رچرڈ ، این یا ہرمن ہوتا. لیڈی مہر اپنے سب ہی بچوں سے بہت پیار کرتی تھی اور بچے ان سے. تو ایک بچا ان کے لیا اپنا نام تو بدل ہی سکتا ہے. ان کے باقی بچے بھی تھوڑی بہت اردو بول ہی لیتے تھے. تو عالیان کسی کی ناجائز اولاد ہے؟ اسی والدین کے نام پر صرف ماں ہی ملی. اس لیے یس کا سر نام مارگریٹ ہے.
عالیان اس کا اچھا دوست بنتا جا رہا تھا. اس کے بارے میں ایک معلومات ہونے پر وہ اس کے لیےافسووسس محسوس کر رہی تھی.
صرف افسوس اور کچھ نہیں.
کھلی کھڑکی سے ٹھنڈی ہوا اندر آ رہی تھی. امرحہ کو اس وائٹ ہاؤس میں رہنا بہت اچھا لگ رہا تھا. اس کا کمرا جو لیڈی مہر نے اسے دیا تھا کافی بڑا تھا. کھڑکیاں قد آدم تھیں اور کمرے کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ کھڑکی کے عین سامنے کی دیوار پر کسی نو آموز خطاط کے قلم سے سجی ” کن فیکون” کی ہلکے رنگوں سے بنی پنٹنگ لگی تھی

اس کی زندگی میں کی انوکھے واقعات ہو رہے تھے. اچھے تھے یا برے تھے لیکن اس کے لیے نئے تھے.وہ کھڑکی میں آ کر کھڑی ہو گئی اور غیر ارادی طور پر اس طرف دیکھنے لگی جہاں عالیان کھڑا تھا. وہ بہت خوبصورت اور زندگی سے بھرپور تھا…. جس فرنچ انداز سے وہ خفا ہوتا تھاوہ اس کا ٹریڈ مارک تھا. فرانسیسیوں کو سیکھنا چہیے کہ خفا کیسے ہوا جاتا ہے.
لیکن امرحہ یہ نہیں سوچ رہی تھی کہ وو کتنا خوبصورت اور زندگی سے بھرپور ہے یا یونیورسٹی اس کے لکھے کو کتابی شکل میں لاتی ہے. وہ تو اس کے ناجائز ہوانے کے بارے میں سوچ رہی ہے. کسے قدر کراہت سے.
**************
اگلا سارا دن ڈور بیل بجتی رہی. لیڈی مہر کے ان بچوں کی طرف سےدنیا بھر سے تحائف آتے رہے.ان کا وقت فون کالز سنتے ہے گزرا. اور تو اور سب اپنے اپنے گھر ..اپنی اپنی جگہ کیک رکھے بیٹھے تھے اور اسکائپ پر لائیو لیڈی مہر کو سامنے بٹھاۓ کیک کاٹ رہے تھے. ادھر لیڈی مہر کیک کاٹ رہیں تھیں… ہر ایک گھنٹے بعد کوئی نہ کوئی آن لائن ہو جاتا.. کم سے کم دس کیک کٹے. امرحہ کے عیش تھے. کیک کھا کھا کر وہ تھک چکی تھی. تحائف کا اتنا ڈھیر لگ چکا تھا کہ اسے لیڈی مہر پر رشک آنے لگا تھا. کیسی اولاد ملی تھی انھیں.. جو ان کی نہیں تھی اور ان کی اپنی اولاد سے زیادہ ان کی اپنی تھی… جن میں قوم و نسل ، مذہب و روایت کا فرق تھا. فرق نہیں تھا تو ایک محبّت میں نہیں تھا لیڈی مہر نے انہیں محبّت دی تھی تو وو بھی کنجوس نہیں تھے.
رات تک جب آخری تحفہ بھی آ چکا تو ان سب نے آتش دن کے پاس بیٹھ کروو سب تحائف کھولے اتنے بیش قیمت تحائف تھےکو امرحہ کی آنکھیں خیرہ ہو کر رہ گیں تھیں. لیڈی مہر ایک تحفے کو کھولتیں،اسے کتنی ہی دیرچھوتی رہتیں ہونٹوں سے لگتیں ور اپنی آنکھوں پر رکھ لیتیں. وو تحائف بلا شبہ بہت قیمتی تھے کیوں کہ انہیں محبت سے خریدا گیا تھا. بے اولاد ہو کر بھی ایک خاتون نے اولاد والوں سےزیادہ خوشی پائی. یہ سب اس لیے ممکن ہوا تھا کہ انہوں نے انسانیت کی معراج کو چھو لیا تھا. انہوں نے رنگ و نسل کو مٹا کر ان سب کو گلے سے لگایا تھا.
وہ ایک ایک تو تحفے کو کھولتیں اور اسے بھیجنے والی کے بارے میں انہیں بتاتی جاتیں.
****************************
“دیکھو ذرا مورگن کو..” اتنی مہنگی گھڑی مجھے بھیج دی. مجھے اس کی ضرورت ہے یا اسے.. اب میں کچھ کہوں گی تو ناراض ہو جاۓ گی. ہر سال مجھے پہلے سے مہنگا تحفہ دیتی ہے. پارٹ ٹائم جاب کرتی ہے… جب گھر آیا کرتی تھی تو میرے دائیں کان کے ساتھ اپنا بایاں کان جوڑ کر سویا کرتی تھی اور اگر سوتے میں اس کا سر کھسک جاتا یو اٹھ کر پھر سے میرے کان سے کان ملا کر سو جاتی تھی… جانے اسے کیا خبط تھا. کہتی تھی رات میں خوابوں میں جو کچھ بھی آپ سنتی ہیں..میں بھی وہ سننا چاہتی ہوں … اور اگلے دن اٹھ کر مجھے بتایا کرتی تھی کہ رہے مجھے آنے والےسارے خواب اس نے بھی سنے ہیں…” ساتھ ساتھ لیڈی مہر اپنی آنکھوں کی نمی صاف کرتی رہیں.
یہ باتیں سن کر جان کر امرحہ کو لگ رہا تھا اس نے ملک نہیں بدلا… دنیا ہی بدل لی ہے… کیا دنیا میں لیڈی مہر جیسے لوگ بھی ہیں.
“یہ ڈینس نے خود بنایا ہے .” انہوں نے لکڑی کے نفیس تختے کو ان سب کے سامنے کیا.. تختے پر ایک تصویر کھدی جس میں ایک عورت کرسی پر بیٹھی ہے اس کے سر پر فرشتوں کا ہالہ چمک رہا ہے اور دس بچے اس فرشتہ صفت خاتون کے سامنے بیٹھے اسے محبت بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں.
******************************
” یہ دیکھو کیا بنا ڈالا ڈینس نے مجھے.. آج کل جرمنی میں ہوتا ہے. اپنا بزنس کر رہا ہے اور ایک این جی او بھی چلا رہا ہے … یہ بارہ سال کا تھا جب ایک رات میرے پاس رہا تھا تو رات کے کسی پہراپنے بستر سے نکل کر میرے بیڈ کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا. نجانے کب تک کھڑا رہا. جب اچانک میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ یہ میرے پاس کھڑا مجھے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہے. کیا مجھ سے زیادہ کوئی عورت اس کرہ زمین پر ایسی خوش قسمت ہو گی جسے اس کی اولاد راتوں کو ایسے اٹھ اٹھ کر محبت سے دیکھتی ہو.”
******************************
بوہت دائر تک لیڈی مہر سب کی باتیں کرتی رہیں. پھر امرحہ انہیں ان کے کمرے میں لی آئی. بیڈ سائیڈ ٹیبل پر ایک چھوٹی سی تصویر فریم میں رکھی تھی’ وہ پہلے وہاں موجود نہیں تھی.
“یہ عالیان نے دی ہے..” لیڈی مہر تصویر کو ہاتھ میں لے کر اسے ہونٹوں سے لگانے لگیں. تصویر ہاتھ سے بنائی گئی تھی جس میں عالیان نے اپنے تخیل کو دکھایا تھا کہ وہ لیڈی مہر کو نوجوان اور خوبصورت کیسے دیکھنا چاہتا ہے.
“بہت پیار کرتا ہے مجھ سے ..” انہوں نے امرحہ کو پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا. انہوں نے اپنے سب بچوں کے بارے میں بتایا تھا. اب وہ اس کے بارے میں کیوں نہ بتاتیں.
“اٹھارہ سال کا ہونے کے بعد جب یہ ادارے سے نکلا تو میں اسے گھر لی آئی. یہ میرے دوسرے سب بچوں میں سب سے چھوٹا تھا اور بچپن میں بہت رویا کرتا تھا . جب یہ ایک دن اور ایک رات میرے پاس رہ کر جاتا تو مجھے بتایا جاتا کہ وہ واپسی پر بہت ڈسٹرب ہو جاتا ہے’ روتا ہے ‘ رات رات بھر سوتا نہیں کھانا نہیں کھاتا.. پھر میں جا کر اسے مل کر آتی لیکن اسے گھر نہ بلاتی … پھر یہ بڑا ہو گیا تو میں نے سوچا اب اسے اپنے پاس رکھوں گی.. وہ گھر آ گیا اور بہت خوش تھا بلکہ خوشی سے روتا رہا. کئی کئی گھنٹے وو گھر کی دیواروں کو کمروں کو دیکھتا رہتا ‘ آتش دان کے قریب بیٹھا اونگھتا رہتا اور پھر رات رات بھر ٹی وی پر ایکشن فلمیں دیکھتا رہتا… میں نے سوچا’ نیا نیا گھر کا ماحول ملا ہے شائد اس لیے’ لیکن کئی ہفتے گزرگئے اس کے معمولات میں تبدیلی نہ ہوئی دن بھر باہر کھیلتا.. رات کو فلم اور ویڈیو گیمز’ میں نے انتظار کیا کہ شاید وہ خود کو بدل لے …
*****************************
وہ بڑا ہو چکا تھا اب اسے سمجھداری کا مظاہرہ کرنا چاہئیے تھا. زندگی میں آگے بڑھنا چاہئیے تھا لیکن وہ مجھے مایوس کر رہا تھا. ایک دن جب شدید برف باری ہو رہی تھی’ میں نے اس کے چند گرم کپڑے ایک بیگ میں رکھے اور اسے چند پاؤنڈز دے کر گھر کے دروزے کے باہر کیا اور اس سے کہا
“انسان بن جاؤ تو آ جانا .. اپنے گھر کو میں تمہیں برباد کرنے نہیں دوں گی.”
“پھر ! امرحہ کو بے تحاشا حیرت ہوئی. لیڈی مہر اتنی سختی سے کم لیتی رہی تھیں
پورا ایک سال محھے اس کی کوئی خبر نہیں ملی، یہ تو میں جانتی تھی کہ وہ بہت ضدی ہے غصہ بھی بہت آتا ہے اسے لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ ایسے مجھ سے ناراض ہو جائے گا. مجھے دکھ ہوا کے شاید میں نے اس کے ساتھ زیادہ ہی سختی سے کام لیا لیکن میں کیا کرتی میرے گھر کا آرام و آسائش اسے برباد کر رہا تھا میں اپنے گھر کو آگ لگا سکتی تھی لیکن آلیاں کو ایسے ناکام ہوتے نہیں دیکھ سکتی تھی
لیڈی مہر کے بیڈ کے قریب کاؤچ پر بیٹھے امرحہ تھوڑی دیر کو چپ سی ہو گئی… اس کے دونوں بھی لگاتار فیل ہوتے رہتے تھے اسکول اور کالج میں لیکن کبھی انہیں دانٹ کی علاوہ کچھ نہیں کہا گیا تھا بابا ان کا جیب خرچ بند کر دیتے تو اماں چپکے سے انہیں پیسے دیتی رہتیں.
ورنہ دادی. آئے دن وہ نئی سے نئی موٹر سائیکل بدلتے دن رات بائیک چلاتے اور رات گے گھر آتے. اور نہیں تو کمپیوٹر یا موبائل کے ساتھ مصروف رہتے اور اماں بابا کے سامنے یہ سب کرتے .. لیکن کبھی انہیں ٹھیک کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں اپنائی گئی تھی. اور تو اور اگر وہ سو رہے ہوتے اور دادا انہیں اٹھانے کی کوشش کرتے کہ بہت سو لیے تو اماں اور دادی دادا سے لڑنے لگتیں کہ کیوں اٹھایا جا رہا ہے انہیں..بچے ہیں.. سونے دیا جائے.
“یہ بچے ہیں .. دن کے دو بج رہے ہیں.. کام والوں نے اپنے دن کا آدھا رزق کما لیا ہے. اس عمر میں میں نے اپنے گھر کی ذمہ داری اٹھا لی تھی.” دادا کہتے.
“وہ وقت اور تھے” اماں برا مان جاتیں.
“وہ اچھے وقت تھے . میرے ابا جی مجھے سو جوتے لگتے تھے اگر میری آنکھ اذان فجر کے بعد کھلتی تھی.
*****************************
مسجد کے امام صاحب نے بچوں کو جلدی اٹھانے کی عادت ڈالنے کے لیے اذان فجر کی ذمہ داری باری باری سب پر لگائی تھی.سمجھ دار لوگ تھے اس زمانے کے.حکماٹر سے تربیت کرتے تھے. میری اماں تندور پر روٹیاں لگاتی تو میرا باپ مجھے تندورپربیٹھا دیتا، کہتا تجھے بھی پتا چلنا چاہئیے کہ تیری ماں کیسے جھلس کر تیرے لیے روٹی پکا رہی ہے. میرے ابا جی کے نہانے کے بالٹیاں میری ماں مجھ سے بھرواتی، کہتی’تمہارے لیے محنت مشقت کر کے آتا ہے
. اس کی دھول مٹی صاف کرنے کی مشقت تم کرو… اگر ہمارے ماں باپ ہمارے چاؤ چونچلے ہی کرتے رهتے تو وقت کی سختی نے ہمیں پیس کر رکھ دیا ہوتا اور ہم چلنے سے پہلے ہی گرنے جیسے ہو جاتے.”
“بس بس ….” دادی کو ہمیشہ دادا کا لیکچر برا لگتا.
دادا کے اس لیکچر کی سمجھ امرحہ کو اب آ رہی تھی. ” پھر کیا ہوا…”” امرحہ کو بہت دلچپسی ہو رہی تھی اس قصے میں .
“مجھے اتنا تو یقین تھا کہ وہ محفوظ ہو گا لیکن کبھی کبھی مجھے بہت ڈرلگتا. فون بجتا تو میرا دل سہم جاتا… میرے کان ڈور بیل کی آواز پر لگے رهتے لیکن پورا سال بیت گیا. اس کی کوئی خبر نہ ملی. ایک رات میں سو رہی تھی تو کسی نے میرا لحاف اٹھا کر بادام کے چھوٹے سے کیک پر ایک موم بتی جلا کر میرے آگے کیا.. وہ عالیان تھا. وہ کھڑکی کے راستے میرے کمرے میں مجھے سرپرائز دینے آیا تھا…”
“اور یہ روایت اب تک قائم ہے..”
“ہاں! لیڈی مہر مسکرانے لگیں. “لیکن اب کچھ ایسے کہ میں اپنا کمرہ بدل لیتی ہوں. وہ ایک ایک کھڑکی پھلانگتا جھانکتا آتا ہے. اس رات اس نے مانچسٹر یونیورسٹی کا سٹیڈنٹ کارڈ میرے آگے رکھا.
“میں انسان بن چکا ہوں” اس نے فخر سے مجھے بتایا.
***************************
“یونیورسٹی نے اسے اسکالر شپ دیا تھا” لیڈی مہر نے اپنی آنکھوں کی نمی صاف کی..” اس نے مجھے مایوس نہیں کیا تھا. جب میں نے اپنے سب بچوں کو گود لیا تھا’ اس وقت میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ میں انہیں بہتر انسان بناؤں گی. مجھے کوئی بھی راستہ اپنانا پڑے دریغ نہیں کروں گی. ایک عورت کی گود میں جب بچہ آتا ہے تو اس پر نبیوں اور ولیوں جتنی ذمہ داری عائد ہوتی ہے . ایک ایسا فرض جس میں غفلت کی گنجائش نہیں ہے. جب ایک انسان کو پرورش کے لیے … تربیت کے لیے ایک دوسرا انسان دیا جاتا ہے تو جیسے کل انسانیت کی لگامیں اس کے ہاتھ میں دے دی جاتیں ہیں کہ اسے ابلیس بنا دو کہ کل انسانیت کے لیے وبال جان بن جائے یہ وہ بندہ بشر جو اپنے آگے اور پیچھے اور دائیں اور بائیں خیر کی روشنی بکھیرتا چلا جاۓ.. سارے انسان خیر ہوتے ہیں امرحہ…بس ان کی پرورش کے جو گہوارے ہوتے ہیں وہ انہیں کچھ کا کچھ بنا دیتے ہیں.یہ سب پھول ہوتے ہیں’ بس ہم ہی انہیں توڑ کر مسل کر اپنی مرضی کے کیچڑ میں پھینک دیتے ہیں.”

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: