Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 14

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 14

تم اتنی سطحی ہو امرحہ یا تم ان لوگوں کی باتوں کا دھیان دیتی رہی ہو جو نفرت اور انتشار کے موجد ہیں جو ہمیشہ قدرت کے قوانین میں گھستے ہیں اور پورے دل سے ان قوانین میں ردوبدل میں کر دینا چاہتے ہیں.یہ وہ لوگ ہیں جو ایک پھول
بھی خود نہیں بنا سکتے لیکن اسی پھول کو ناپسندیدہ قابل نفرت ضرور بنا سکتے ہیں.علامت آخر کیا چیز ہوتی ہے؟یہ پھول ہے امرحہ؟صرف پھول اگر یہ اس سے زیادہ کچھ اور بھی ہے تو وہ یہ کہ یہ اپنے وجود میں کامل ہے.یہ خود کو خود ہی کامل کرتا
***********************
ہے.اس کا کھلتا ہوا رنگ دیکھو کتنا کامل ہے.یہ اپنے رنگ میں نہ کہیں کم نہ کہیں زیادہ.ایک جیسا اس کی پنکھڑیاں کتنی نرم اور ملائم ہیں کتنی جادب نظر کوئی ملاوٹ نہیں ان میں دنیا کی بہترین فیکٹریوں میں بننے والا ریشم بھی اس جتنا ملائم نہیں ہو گا جتنا یہ زمین کے وجود سے نکلا ہوا ہے. دیکھو قدرت کی قابلیت داد دو قدرت کو تعریف کرو قدرت کی الٹا تم اسے ناپسندیدہ علامتیں دے رہی ہو.
تم نے اس کی خوبصورتی پر غور نہیں کیا اور اسے ناپسندیدہ جان لیا. سر اٹھا کر آسمان کو دیکھو اگر ساری دنیا اس آسمان کوکوئی فضول اور بکواس علامت قرار دے دے گی تو تم بھی اسے برا مان لو گی. وسیع مندر نیلی جھیلیں سبزو سفید پہاڑ کتنے کامل ہیں.اگر انہیں کوئی علامتیں دے دی گئی تو کیا نفرت کرنے لگو گی ان سے اپنی تخلیق میں یہ پھول کسی سے کم نہیں کائنات کی کسی بھی سے نہیں.اپنے مقام پر بادشاہ ہے.اس کے سر پر تاج ہے اس کی تخلیق کا کہ تمہاری تخلیق جیسی ہونی مقصود پائی تھی تم ویسے ہی ہو. یہ کسی بھی طرح ہیج نہیں اس میں کوئی کمی نہیں کمی ہیں تو ان دماغوں میں جن میں یہ فتور پیدا ہوتا ہے. کوئی پھول کوئی رنگ قدرت کی بنائی کوئی چیز قابل نفرت نہیں ہوتی.یہ خطبی لوگوں کی باتیں میں تم وہ سبق کیوں پڑھ رہی ہو جو دنیا کے مخبوط الحواس اس لوگوں نے غائب دماغ میں لکھا ہے.قدرت کے خلاف جاکر لکھا ہے.قدرت کو ناخوش کرنے کے لیے لکھا ہے.قدرت کو ہیچ کرنے کے لیے لکھا ہے. امرحہ حقیقتا چپ ہو چکی تھی.اس کی ساری زندگی پیلے پھول کو نفرت کی علامت سمجھتے گزر جاتی.
***************************
اگر اسے یہ سب نہ بتایا جارہا ہوتا آخر اس نے آج تک یہ بات خود کیوں نہ سوچی.دماغ تو اس کے پاس بھی تھا نا. میرا ذاتی خیال ہے کہ پھولوں کے دو تاجروں نے کاروباری حسد کا نتیجہ ہے یہ سب.ایک تاجر کے پاس پیلے پھول ہوں گے اور وہ کاروبار میں ترقی کر رہا ہو گا.اس کے پیلے پھولوں کا باغ تیزی نے پھل پھول رہا ہو گا‎‏.دوسرے رنگ کے ہوں گے چلو سرخ لگا لو اب سرخ پھول کے مالک نے یہ سوچا ہو گا کہ پھول کو کسی ایسے جذبے کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو راتوں رات اس کی مانگ میں اضافہ ہو جائے گا تو اپنے کاروباری حلیف کے پھول کو کسی ایسے جذبے کے منسلک کر دیا جائے کہ لوگ اسے لینا ہی پسند نہ کریں.پھر اس نے یہ کیا اور وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گیا.دیکھو تم نے کیسے میرے ہاتھ میں میرے پھول واپس کر دیے.یہ وہی پھول جو مجسم شاہکار ہیں.
*************************
امرحہ نے اس کے ہاتھ سے پھول واپس لے لیے اور تیزی سے بس کی طرف بھاگی جس میں بیٹھ کر اسے جانا تھا.عالیان اس سے چند قدم دور تھا.یہ بات تمہیں کس نے بتائی عالیان؟ بس کی کھڑکی سے سر نکال کر اس نے پھولوں کی طرف اشارہ کر کے پوچھا. سمیرا نے.عالیان نے تیز آواز میں کہا بس دور چلی گئی تھی لیکن وہ وہیں کھڑا بس کی گزرگاہ کو دیکھتا رہا.رات کے ڈنر کا اہتمام ٹھیک ٹھاک تھا.دادا آن لائن دیکھ کر اس نے سادھنا کا بنایا کیک کاٹ لیا تھا.لیڈی مہر نے اسے یونیورسٹی کی تصویر والا کراس بیگ دیا تھا.سادھنا نے باریک سی پازیپ اور این اون نے ہاتھ کی بنی ایک چھوٹی سی گڑیا جو اس کی ماں نے اس کے بیگ میں ایک درجن سے زیادہ رکھ دی تھیں کہ یونیورسٹی میں اسے جو اچھا لگے انہیں دیتی جائے.ایک اس نے لیڈی مہر کو دی. امرحہ نے اس گڑیا کو یونیورسٹی بیگ کے اوپری سطح پر لگا لیا.سب کو معلوم ہوتا چاہیے تا کہ این اون اسے پسند کرتی ہے.اس نے اپنے گھر میں کبھی سالگرہ نہیں کی تھی کیونکہ اسے اپنے دنیا میں آنے کی کوئی خوشی نہیں تھی بلکہ اسے یہ سوچ کر ہی کوفت ہوتی تھی کہ وہ آج کے دن پیدا ہوئی تھی.
*************************
ایک ایسی تاریخ جسے دادی سال میں کتنی بار دہراتی تھی کہ اس دن یہ یہ ہوا. اس نے سادھنا کو ایک بار ایسے ہی یہ سب بتایا تو وہ حیرت سے اس کا منہ دیکھنے لگی.لیکن تم تو مسلمان ہو امرحہ اور مسلمانوں میں تو یہ سب باتیں نہیں ہوتی. امرحہ اسے کیا بتاتی کہ اب مسلمانوں میں کیا کیا ہونے لگا ہے.ہمارے محلے میں ایک مسلمان خاندان آباد تھا.مجید بھائی تھے.اسکول میں پڑھاتے تھے اور اپنا ٹیوشن سینٹر چلاتے تھے ان کی نئی نئی شادی ہوئی تو انہیں نوکری سے نکال دیا گیا پھر اسی مہینے ان کی ٹیوشن سینٹر میں آگ لگ گئی.اور پھر چند ہی دنوں بعد ان کے مکان کی چھت گر گئی. سب نے کہا بہو سبز قدم ہے لیکن ان کی ماتا اور وہ آگے سے ہنستے رہتے کہتے جو ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہوتا ہے.
***************************
دو تین سال برابر ان کے ساتھ ایسا ہی کچھ ہوتا رہا لیکن انہوں نے کبھی ایک بار بھی لوگوں کی باتوں پر کان نہیں دھرے کہ یہ سب ان کی شادی کے بعد ان کی بیوی کے قدموں سے ہوا ہے وہ سب سے یہی کہتے کہ ہمارے مذہب ہمیں ایسا کہنے اور سوچنے سے منع کیا ہے. سادھنا آتش دان کے قریب بیٹھی آریان کے موزے بن رہی تھی اور بہت مدلل انداز سے اسے سب بتا رہی تھی. اس کے پاس سادھنا کے اس سوال کا جواب نہیں تھا کہ وہ مسلمان وہ ہے اور مسلمان ایسا ہیں سوچتے اس کا جواب اس کی دادی اس کی ماں اور خاندان کے باقی لوگوں کے پاس تھا. وہی بتا سکتے تھے کہ قرآن پاک میں تو ایسا کچھ نہیں لکھا پھر وہ کہاں سے سیکھ سیکھ کر یہ سب کہتے اور کرتے ہیں اور یہ سب کرتے ہوئے کیا وہ بھول جاتے ہیں کہ ایک دن ان کے کہے ایک ایک لفظ کا حساب کتاب ہو گا.جو کیا ہو گا اس کے بارے میں پوچھا جائے گا.وہ کون سا جواب کھڑ کر دیں گے یہی کہ وہ کم عقل اور انجان تھے اور ان کے جواب کو درست مانا جائے گا کیونکہ جو کلام پاک پڑھتا ہے وہ نہ کم عقل ہوتا ہے نہ ہی انجان رہتا ہے.اگر وہ ٹھیک ٹھیک پڑھتا ہے تو ……
***************************
”کیا مسئلہ ہے آپ کا؟“ نفسیاتی ڈاکٹر
” میں فریشر فلو کا شکار ہوں۔“نیا اسٹوڈنٹ۔
اوہ….. لیکن اس کا کوئی علاج نہیں….. پرسکون رہیں…. وقت اس فلو کو نارمل کر دے گا۔وہ کم و پیش سب نئے آنے والوں میں سے اس کے تاثرات زائل ہو چکے تھے.ویلکم ویک کے بعد گاہے بگائے یہ سب اصطلاع اپنے سینیرز اور پروفیسرز سے سننے کو ملی کبھی طنزا اور زیادہ پر مذاقا۔ یونیورسٹی میں نئے آنے والے اسٹوڈنٹس کو مانچسٹر یونی اور شہر کا جو بخار چڑھتا ہے اسے فریشر فلو کہا جاتا ہے۔اس فلو کے حامل فریشرز بہت زیادہ بولتے ہے ۔ایک دم سے سب جان لینا چاہتے ہیں. رات رات بھر جاگتے ہیں.بہت کھاتے ہیں.بلاوجہ ہی یونی اور شہر میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں.مانچسٹر نائٹ لائف سے ایسے لطف اندوز ہوتے ہیں جیسے پڑھنے نہیں سیاحت کرنے گھر سے نکلے ہیں. شروع شروع میں جب وہ مانچسٹر یونی کا ایک چکر لگایا کرتی اور بلاوجہ ہی مختلف ڈپاٹمنٹس میں گھومتی پھرتی تو دائم وغیرہ کا گروپ اسے بہت سنجیدگی سے کہا کرتا۔
” تھوڑا وقت لگے گا لیکن تم ٹھیک ہو جاؤں گی۔ یونی بھاگی نہیں جا رہی. دو سال میں تمہارے پاس آرام سے ایک ایک پروفیسر’ سٹوڈنٹ’ ڈیپارٹمنٹ’ گردن’ لائبریری’میوزیم گھوم پھر کر دیکھ لینا. اپنے اس فلو کو تھوڑا کم کرنے کی کوشش کرو”.
اتنی سنجیدگی سے کی گئی نصیحت کے باوجود ہفتے میں دو بار تو ضرور ہی یونی میوزیم جاتی. فارغ وقت ملتا تو وہ دوسرے ڈیپارٹمنٹس اور باغ دیکھتی رہتی. لیکن اب چونکہ اس فلو کے اثرات زائل ہو چکے تھے اب تو اپنے ڈیپارٹمنٹ تک ہی چلیجاتی تھی تو بڑی بات لگتی تھی.
************************
جب جب اسے اسائنمنٹ ملت’ اس کی جن پر بن جاتی. اسے لگتا اس سے اسائنمنٹ نہیں ہو گی اور اسے یونی سے نکال دیا جاۓ گا’ فلحال ابھی تک نکالا تو نہیں گیا تھا لکن وی اس نکا لنے کے بارے امن سوچتی ضرور رہتی تھی. ایسے وقت میں پڑھائی ایک ازدھا بن جاتی جو ہڑپ ککر جانے کے لیے تیار نظر آتی.
پہلا سمسٹر اپنے اختتام کے قریب تھا، ہر ایک کے ہاتھ میں کتاب اور ونیلا کوک نظر اتی. لائبریری کی طرف آمدورفت ایسے تھی ‘ جیسے وہاں بننے بنائے اسائنمنٹ مل رہے ہیں. ایک دوسرے کی شکل دیختے ہی پہلا سوال کیا جاتا.
“اسائنمنٹ مکمل ہو گئی؟”
زیادہ لڑکے نہ میں سر ہلاتے نظر آتے.
دوسرا سوال”کتنے فیصد ہو گئی؟”
امرحہ کی کل ملا کر چھ اسائنمنٹس تھیں. چار پر وہ کم مکمل کر چکی تھی پانچویں پر کم مکمل ہونےمیں نہیں آ رہا تھا. جو جون ملٹن کی لوسٹ پراڈیز کے کردار’ مائیکل’ رافیل اور شیطان کے تجزیے پر مشتمل تھا. جون ملتان کے کرداروں کو پڑھ لینا کسی معرکے سے کم نہیں تھا . کہاں ان کے تجربے لکھنا..جسے اچھی طرح اس EPIC POEM کی ہی سمجھ نہیں ای تھی’ وہ اچھی طرح اس پر کام کیسیکر سکتی تھی. یعنی اچھی تارہا کم کرنے کے لیے اسے معمول سے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت تھی.
اسائنمنٹ مکمل کرنے اور جمع کروانے کے اس دورانیے میں یونی کے ہر اسٹوڈنٹ کو دیکھ کر ایسا لگتا کہ اس بیچارے کا کچھ کھو گیا ہے اور وہ پوری جان لگا کر اسے تلاش کر رہا ہے یا ایک وزنی پتھر اں کے سروں پر لٹک رہا ہے کسی بھی وقت گر سکتا ہے. ان دنوں اگر کوئی فضول گپیں ہانکتا کہیں نظر آجاتا تو اس پر جی بھر کر رشک اتا، کیونکہ وہ قابل’ لائق فائق اسٹوڈنٹ اپنی اسائنمنٹ مکمل کر چکا ہوتا . اسے دیکھ کر یہ عہد کیا جاتا کہ اگلے سیمسٹر تک ہم خود کو بھی اتنے لائق فائق بنا لیں گے کہ دوسرے ہمیں دیکھ کر رشک کیا کریں گے. اور یہ عہد پھر اگلے سیمسٹر بھی کیے جاتے.
امرحہ کو ہر حال میں اپنی کارکردگی بہتر کرنی تھی’ اسے انگلش لٹریچر اور لسانیت میں امسٹرس کرنا مشکل لگ رہا تھا بلکہ بہت مشکل’ لیکن وہ اپنے باقی کلاس فیلوز کو دیکھتی تو سوچتی کہ یہ بھی تو تن دہی یہ پڑھ رہے ہیں نا.. تو اسے بھی پڑھنا تھا. کیسے بھی کر کے پچھتر فیصد تو اسے ہر حال میں پہلے سیمسٹر میں لینے ہی تھے. یونی میں اس کی پہلی کلاس تھی سر رابرٹ نے کلاس میں آکر اپنا تعارف کروایا اور ان کے سامنے ہاتھ سے بننے کارڈ رکھ دئیے.
*********
کارڈ پرپل رنگ کے تھے جس پر پیلے رنگ سے UOM’ فرسٹ سیمسٹر’ فرسٹ ڈے’ فرسٹ کلاس لکھا تھا اور کونے میں سر رابرٹ کے دستخط تھے.
“اس پر آپ سب اپنا نام’ اپنا تعارف لکھیں اور یہ بھی لکھیں کہ آپ سو فیصد میں سے کتنے فیصد کو چیلنج کرتے ہیں. اسی چلنج پر اپنا موٹوبھی لکھیں اور کارڈ مجھے واپس کر دیں.”
سب نے کارڈز لکھے اور پھر بری بری سر رابرٹ نے کارڈ پڑھنے شروع کیے.. جس کا کارڈ پڑھتے’ وہ کھڑا ہو جاتا اور ہاتھ ہلا کر سب کوہائے کہتا.
“یہ عربی کس نے لکھی ہے؟”
امرحہ نے گردن گھما کر ایک نظر کلاس پر ڈالی. وہاں اسے تو کوئی اسٹوڈنٹ عرب سے نظر نہیں آرہا تھا. وہ کھڑی ہو گئی.
“یہ اردو ہو گی سر!” امرحہ نے کارڈ کی طرف اشارہ کیا. سر رابرٹ نے کارڈ کا رخ اس کی طرف کیا کہ وہ پہچان لے. “جی یہ میرا ہی کارڈ ہے.”
“لیکن مجھے اردو پڑھنی نہیں آتی.” سر رابرٹ نے مسکرا کر نرمی سے کہا.
“آپ ہی نے تو کہا ہے سر! یہ ہمارا پہلا تعارف ہے اور میری مادری زبان میرا پہلا تعارف ہے”اردو” مجھے اردو کا استعمال ہی کرنا چاہئیے تھا نا سر…؟
سر رابرٹ متاثر نظر انے لگے.
“یہ کارڈ یہاں آ کر پڑھ کر سنا دیں.میں معذرت چاہتا ہوں میں فرنچ اور اٹالین جانتا ہوں. اردو نہیں.”
وہ سر رابرٹ سے تھوڑا فاصلہ رکھ کر کھڑی ہو گئی. وہ اپنے قومی لباس شلوار قمیض میں ملبوس تھی.
دو اور پاکستانی لڑکیوں کے کارڈز سر رابرٹ پڑھ چکے تھے اور انہوں نے انگلش میں ہی کارڈ لکھے تھے. دادا نے اس سے وعدہ لیا تھا کہ اپنی نئیکلاس میں وہ اپن تعارف پہلے اردو میں کرواۓ گی پھر ترجمہ کر کے انہیں انگلش میں اپنے کوی کا مطلب بتاۓ گی. دادا نے اسےبار بار یہی کھا تھا کہ زندگی میں سب کرنا… لیکن اپنی زبان کو دوسرے نمبر پر لانے کی گستاخی نہ کرنا.
وہ کارڈ پڑھنے لگی.
**********************
“میں امرحہ ہوں. میرا ملک پاکستان ہے’ جس کے تاریخی شہر لاہور کی میں رہائشی ہوں’ مجھے مانچسٹر یونی کے کی پاکستان اسٹوڈنٹ سوسائٹی نے اسکالرشپ دے کر یہاں تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا ہے. مانچسٹر یونی میری پہلی غیر ملکی درسگاہ ہے میں نے یہاں آ کر پڑھنے کے بارے میں کبھی سوچا نہیں تھا. میری پہلی کلاس ویلکم ویک تھی جہاں مجھے یہ سکھایا گیا کہ مجھے اپنے کام خود کرنے ہیں..” پڑھ کر وہ مسکرانے لگی.
“ویل! آپ نے خود کو کتنے فیصد کا چیلنج دیا ہے؟”
“سیونٹیفائیو کا سر…”
جتنے بھی کارڈز میں نے اب تک پڑھے ہیں.انہوں نے خود کو سو فیصد کا دیا ہے’ آپ نے خود کو سیونٹی فائیو کا کیوں دیا ہے؟”
“یہ سب بہت ذہین ہوں گے.. مجھے ذہین ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا.” اس نے بری معصومیت سے کہا اور ساری کلاس دل کھول کر اس کی معصومیت پر ہنسی.
“آپ ذہین ہونے میں وقت کیوں لے رہی ہیں؟”
سر رابرٹ نے اپنی ہنسی کو چھپاتے اس سے پوچھا.
“میری بیوقوفی جانے میں وقت لے رہی ہے سر!”
اس بار کلاس کے قہقہے فلک شگاف تھے.
” مجھے لگتا ہے آپ مجھے بہت تنگ کرنے والی ہیں. مجھے ہر سیکشن میں ہی کوئی نا کوئی ایسا ضرور ملتا ہے.”
“کیسا سر؟”
“جس کی بیوقوفی جانے میں وقت لیتی ہے.”
ہنسی کے فواروں کا ایک اور بم پھوٹا.. وہ اپنی سیٹ پر آ کر بیٹھ گئی.
“آپ نے اپنا موٹو نہیں بتایا؟”
وہ اپنی سیٹ پر کھڑی ہو گئی. اس کا عتماد بڑھتا ہی جا رہا تھا” پاکستان کے بنی کہتے ہیں کام..کام…کام..میرا بھی یہی موٹو ہے سر.” نظر نا لگے کیا انداز تھا امرحہ کا.
“آپ کسی اور کا موٹو اپنا رہی ہیں.آپ کو اپنی سوچ کو اجاگر کرنا چاہئیے یہی آپ کو یہاں سکھایا جائے گا.”
****************
“سر! میں نے خود سے زیادہ عقل مند شخص کا موٹو اپن لیا ہے. اس پر عمل کر کے میں وہ سب سیکھ جاؤں گی جو مجھے یہاں سکھایا جائے گا.”
“آپ کا پہلا تعارف مجھے اچھا لگا امرحہ..”
سر رابرٹ کیس جملے کو سن کر اسے ایسا لگا جیسے اس نے کوئی بڑی مہم سر کر لی ہو. ٹھیک ہے اسے ڈرنے کی ضرورت نہیں تھی.وہ اپنی سوچ کو قابو میںکر سکتی تھی. سر رابرٹ نے اس کی تعریف کی. اسے بہت اچھا لگا کہ اسے سراہا گیا. ٹوکا نہیں گیا. اگر وو کبھی روانی میں اردو بول جاتی تو سر روبیت بہت معذرت خوانہ عرض کرتے.
“امرحہ! کیا آپ اپنی بتا کو انگلش میں دوہرا دیں گی؟”
امرحہ سر رابرٹ کی اسی خوبی کی بہت قدر کرتی تھی کہ اگر وہ اپنی زبان کی عزت کرتے ہیں تو اس کی زبان کی بھی کرتے ہیں. دنیا میں وہ قومیں بے مثال ترقی کرتی حاصل کرتی ہیں جو اپنی قومی زبان کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیتیں’ پھر وہ عرش ہو یا فرش ہر جگہ ان کے نام کے جھنڈے گڑے ہوتے ہیں.
**********************
سر رابرٹ نے وہ سب کارڈز سنبھال کر اپنے پاس محفوظ کر لیے تھے. ان کا کہنا تھا کہ وو اپنے ہر نئےاسٹوڈنٹ کو ایسے کارڈ کی شکل میں اپنے پاس سنبھال کر رکھ لیتے ہیں اور جب وو بوڑھے ہو کر رٹائرڈ ہو جائیں گے تو وہ ان کارڈ کو نکال کر اپنے ہر اسٹوڈنٹ کو یاد کیا کریں گے.
اتنی سی بات سن کر امرحہ کی آنکھیں نم سی ہو گیئں. اس نے بیٹھے بیٹھے سر رابرٹ کو جو کے بمشکل پینتالیس سال کے لگتے تھے’ بوڑھا ہوتے اور یونی سے ریٹریڈ ہوتے دیکھ لیا اور اپنی ڈگری کو ہاتھ میں لیے خود کو یونی سے رخصت ہوتے بھی…
“اف… کتنے جذباتی لوگ ہیں نا ہم… ہاں لیکن کچھ بھی ہے بہت اچھے لوگ ہیں ہم.. سرد اور ٹھوس نہیں ہیں’ نرم اور پرجوش ہیں.”
پہلی کلاس کے پہلے وعدے کو امرحہ کو ہر صورت پورا کرنا تھا وہ خود کو پچھترفیصد کا چیلنج دی چکی تھی’ اسے ہر حال میں اس چیلنج میں کامیاب ہونا تھا. پڑھائی اور پھر جاب.. اسے لگتا تھا وہ ایک ربورٹ بن چکی ہے. ہر وقت اس کے دماغ میں مارکو اور جانسن گھومتے رہتے.
**************************
کتابوں کے بڑے بڑے پیراگراف اس کے خوابوں میں آتے اور وہ اٹھ کر بیٹھ جاتی لپ ٹاپ پر اپنی اسائنمنٹ چیک کرتی. کیا اس نے خواب میں اے پیراگراف کو اسائنمنٹ میں شامل کیا ہے.اگر کیا ہے تو ٹھیک کیا ہے نا..اگر نہیں کیا تو کیا کرے کیانہ.
وہ اپنے بیڈ پر کام کرتے کرتے سو جاتی. آنکھ کھلتی تو کچن میں جا کر کافی بناتی تا کہ نیند نہ آے اور پھر سے آ کر کام کرنے لگتی.
جس رات اس نے سارا کام بمشکل مکمل کیا اس سے اگلا دن اسائنمنٹ جمع کرونے کا آخری دن تھا. ویرا اپنی اسائنمنٹ پہلے ہی جمع کروا چکی تھی. اس لیے آج پڑی سو رہی تھی. اسے دائر سے یونی جانا تھا. نیند سے بوجھل اپنی اکنکھوں کو مسلتے وہ بس سے یونی کے لی نکلی. بس میں بیٹھی اونگھنے لگی اور ایک اسٹاپ آگے چلی گے.
وہاں اتر کر پیچھے بھاگتے ہوے یونی چلی آیی. بھاگتے ہوے یونی پر کی اور فائل جمع کرونے کے لیے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھی. ہر ایک کو جلدی تھی کہ اس کی اسائنمنٹ جمع ہو جاۓ. ایک دم سے وہ جہاں کی تہاں رہ گی. اس کی فائل کہاں تھی جو وہ گھر سے لے کر نکلی تھی. وو اتنی افرا تفری میں تھی کہ اس نے اپنے بال بھی ٹھیک سے برش نہیں کیے تھے لکن اسے یاد تھا کہ وہ موٹی فائل کو گھر سے لے کر نکلی تھی.
*************************
پوری یونی اس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی. وہ کی راتوں سے سوئی نہیں. آنکھوں کے نیچے گہرے ہلکے بن چکے تھے سر امن ہلکا ہلکا درد رہنے لگا تھا. اور اکنہوں کی پتلیاں کیک ایک چیز کو ذرا سی دیر دیکھتے رہنے کے بعد تھکنے لگتیں تھیں. اس کا دماغ ماؤف ہو گیا تھا. وہ جہاں کھڑی تھی وہاں سے اس نے دور دور تک نظریں دوڑائیں. فائل کہیں بھی نہیں تھی آنکھوں کو مسلتے سر کو تھامتے وہ ایک جگہ بیٹھ گی اور سوچنے لگی فائل کے ساتھ کیا ہوا. وہ کہاں گئی. سادھنا کو فون کیا. اس نے اس کا کمرہ پورا گھر دیکھ لیا لیکن فائل نہیں ملی . حتی کہ وو گھر سے بس اسٹاپ کے راستے تک بھی دیکھ آئ.
ٹپ ٹیپ آنسواس کی آنکھوں سے گرنے لگے. اسے لگنے لگا کہ اس کی تعلیم پراس کی اپنی نحوست کا سایہ پر ہے. وو بیٹھے بیٹھے دقیانوسی سے ہو گیی. آنکھوں کے آگے اس نے ہاتھ رکھ لیا کہ کوئی اسے دیکھ نہ سکاے. بہت دنوں بعد اس کا دھاڑیں مارنے کو جی چاہ رہا تھا. اگر وہ جاب نہ کر رہی ہوتی تو اب تک اسائنمنٹ مکمل کر کے دی چکی ہوتی . . . زندگی اتنی مشکل ہو چکی تھی کہ اسے ٹھیک سے کھانا خانے کا بھی وقت نہی ملتا تھا.اسے ایسی زندگی کی ہدایت نہیں تھی.
اس لیے بھی وہ توازن نہیں رکھ پا رہی تھی. دوسرے اس میں ایک بری عادت تھی کہ وہ کم کو اگلے دن پر ٹالتی رہتی تھی. وہ اسائنمنٹ پر چند گھنٹے کم کرتی اور یہ سوچ کر کہ ڈیڈ لائن کے ختم ہونے میں ابھی دن ہیں اگلے دن پر کم چھوڑ دیتی. یہ کرتے کرتے وہ ڈیڈ لائن کے آخری گھنٹوں تک آ گئی.

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: