Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 15

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 15

وہ ڈیڈ لائن کے آخری گھنٹوں تک آگئی وہ اپنی سستی کو لے کر رونے لگی کہ اگر وہ باقی سب کی طرح دن رات ایک کر کے کسی بھی طرح کم سے کم دو دن پہلے اپنی اسائنمنٹ جمع کروا دیتی تو افراتفری میں یہ سب نا ھوتا – اٹھ کر اس نے اس راستے کو بھی دیکھ لیا تھا جس پر وہ چل کر آئی تھی اپنے آنسوؤں کو صاف کر کے وہ عالیان کے ڈپارٹمنٹ گئی
کیا ھوا امرحہ؟ اس کی شکل دیکھ کر وہ حیران سا ھو گیا
میری اسائنمنٹ نہیں مل رھی، شاید میں بس میں بھول آئی ھوں،
تو تم روتی رھی ھو؟
اس کے پھر سے آنسو نکل آئے میں فیل ھو جاؤنگی نا… میں فیل ھونا نہیں چاہتی عالیان…
وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رھا.. کس نے کہا تم فیل ھو جاؤگی
وہ آنسوؤں کے ریلے کو اپنی آنکھوں کے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرنے لگی.. وہ اسے کیا بتاتی کہ یونیورسٹی کے پہلے دن ویلکم ویک پر دائم نے اس کو کن الفاظ میں ویلکم کیا تھا دائم کا لیکچر سن کر اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مثالی کامیابی حاصل کرے گی لیکن وہ کیا کر رھی تھی اس نے مثالی محنت نہیں کی تھی اس نے کاہلی کا مظاہرہ کیا تھا اسے اپنے آپ پر غصہ آ رہا تھا اس کی بری عادتیں اب تک اس کے ساتھ تھی
تم چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایسے روتی کیوں ھو؟ یہ چھوٹی بات ھے؟
اس نے روتی روتی گلابی آنکھوں کو رگڑا یونیورسٹی میں کہیں بھول گئی ھو اپنی فائل؟ اس نے نفی میں سر ھلایا اس کی آواز رندھ رھی تھی اس لیے وہ کم سے کم بولنا چاھتی تھی عالیان اسے ڈپارٹمنٹ سے باھر لے آیا اور سبزے پر لے کر بیٹھ گیا تمہاری فائل مل جائے گی امرحہ! پت مجھے تمھارے رونے پر دکھ ھو رھا ھے تم اتنی کم ھمت ھو؟ ھاں میں بہت کم ھمت ھوں میرے تم لوگوں جیسے مضبوط اعصاب نہیں ھیں اور تمہیں فخر بھی ھے کہ تم ایسی ھو میں یونیورسٹی آفس جا رھا ھوں تم یہیں بیٹھو اگر کسی سٹوڈنٹ کو وہ فائل ملی ھوگی تو اس نے آفس میں جمع کروا دی ھو گی کوئی سٹوڈنٹ میرے ساتھ ایسی نیکی کیوں کرے گا بھلا؟ کیونکہ وہ فائل اس کے کسی کام کی نہیں ھو گی اور اس کی تم سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ھو گی کہہ کر عالیان چلا گیا اسے یقین تھا کہ فائل بس میں رہ گئی ہے اور بھلا ٹرانسپورٹ میں رہ جانے والی چیزیں بھی کبھی کسی کو ملی ہیں اس نے دھواں دھار آواز کیے بغیر دل لگا کر رونا شروع کر دیا عالیان واپس آچکا تھا اور اس کے سر پر کھڑا خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا میں ٹرانسپورٹ آفس جا رھا ھوں مجھے یقین ھے وھاں سے ضرور تمہاری فائل مل جائے گی
امرحہ نے عالیان کو ایسے دیکھا جیسے کہہ رھی ھو پاگل ھو نا تم
اگر تم بس میں بھولی ھو ضرور مل جائے گی
میرا یقین کرو
وہ کیوں میری فائل سنبھال کے رکھیں گے؟؟
یہ یونیورسٹی بس ھے امرحہ ! اور یہ شرمانچسٹر جیسی یونیورسٹی رکھتا ھے اکثر سٹوڈنٹس تمہاری طرح اپنی بہت سی چیزیں سبویز ٹرام اور بسوں میں بھول جاتے ھیں کیفے ریسٹورنٹ اور سینما میں بھی ان کی چیزیں ان تک پہنچ جاتی ھیں اکثر
میں نہیں مانتی کہ ایسا ھوتا ھو گا
ھاں! ایسا تب نہیں ھوتا جب ھم ان چیزوں کو ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کرتے گم ھو جانے والی چیز ھمیشہ کم ھی رھتی ھیں جب تک انہیں ڈھونڈنے کی کوشش نہ کی جائے.. برا مت ماننا یہ تمھارا کنٹری نہیں ھے جہاں تم کچھ بس میں بھول جاؤ تو وہ تمہیں واپس نا ملے
تمہیں اتنے تنفر سے میرے ملک کا ذکر نہیں کرنا چاہئے.. امرحہ نے فائل کے گم ہوجانے کا غصہ اس پہ اتارا۔۔
میں نے تنفر سے ذکر نہیں کیا۔۔ میں حقیقت بتا رھا ھوں..
مجھے نہیں جاننی کوئی حقیقت؟؟
جو لوگ تلخ حقیقتیں جاننے کی کوشش نہیں کرتے وہ انہیں بدلنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے.. ٹھیک ھے.. ساری اہلیت تم لوگوں کہ پاس ھی ھے.. ھم سب ناکارہ ھی ھیں.. رھنے دو ھمیں ناکارہ ھی.. میں نے کوئی ایسی بات نہیں کی کہ تم ایسے ناراض ھو.. تم ایسی باتیں بھی نہیں کر رہے کہ میں خوش ہوں..
وہ اٹھ کر چلی گئی.. وہ دائم کے پاس جا رھی تھی.. میں آدھے گھنٹے میں آتا ھوں امرحہ! عالیان نے پیچھے سے آواز دی..
وہ دائم کہ پاس آئی. اس نے اسے ٹرانسپورٹ کہ آفس جانے کہ لیئے کہا. ظاھر ھے. دائم تو جانے سے رھا. اسے ھی جانا تھا نا. اس میں تو اتنی ھمت ھی نہیں تھی کہ یونیورسٹی کے مین گیٹ تک چلی جاتی..
اگر ٹرانسپورٹ کہ آفس سے بھی نا ملی؟؟ وہ اس خیال کو سوچ سوچ کر دہل رھی تھی لیکن اپنی جگہ سے ہل نہیں رھی تھی. تھوڑی دیر بعد جب وہ مین گیٹ سے بس سٹاپ کی طرف جا رھی تھی تو اسے عالیان کی آواز سنائی دی.. وہ رک کر اسے دیکھنے لگی.. وہ تیزی سے سائیکل چلاتا اس کے پاس آرھا تھا. بری طرح سے کانپ رھا تھا. یہ لو مل گئی.. اس نے فائل اس کے آگے کی فائل کو ھاتھ میں لیکر امرحہ کو بھی جیسے یقین نا آیا.
کہاں سے ملی؟
ٹرانسپورٹ کے آفس سے. اگلی بار فائل پر اپنا نام، فون نمبر اور ایڈریس ضرور لکھنا. اگر تم نے پہلے سے ھی لکھا ھوتا تو تمہیں اب تک یہ مل چکی ھوتی. تیز سائیکل چلانے کی وجہ سے اس کا سانس پھولا ھوا تھا.
امرحہ اسے دیکھنے لگی.. دائم کی طرح اس نے نہیں کہا تھا کہ وہ جائے اور اپنا کام خود کرے. اس کا شکریہ ادا کر کے وہ فائل جمع کروانے چلی گئی. اس نے محسوس کیا کہ اس کا انداز ٹھیک نہیں تھا عالیان سے بات کرنے کا. جب ھم ھارے ھوئے، دکھی یا مایوس ھوتے ھیں تو ھم اتنے بدمزاج کیوں ھو جاتے ہیں. ھمارا سارا اخلاق کہاں رخصت ھو جاتا ھے. ھم روتے ھیں تو ھم باقی سب ھنستے ھوؤں کو رلانا کیوں چاھتے ھیں. اسائنمنٹ جمع کروانے کے بعد امرحہ عالیان کو ڈھونڈتی رھی لیکن وہ اسے نہیں ملا. وہ جا چکا تھا. اس کا کام ھو گیا تو اسے اپنے رویے پر افسوس ھوا. اس کی فائل نا ملتی تو وہ ایسے ھی بداخلاقی کا مظاہرہ کرتی رہتی؟؟
یہ کمزور اعصاب کے مالک ھونے کی نشانی ھے. اور بلاشبہ یہ کوئی اچھی نشانی نہیں ھے..
***********************
عالیان سے ملاقات ھوتی ھے تمہاری؟؟ لیڈی مہر پوچھ رہی تھیں. وہ سب آتش دان کے پاس بیٹھے تھے. ویرا اسے اپنے ساتھ دی پرنٹ ورک لے کر جا رھی تھی. وہ تیار ھو کر بیٹھی تھی. ویرا تو تیار ھو رھی تھی. جی ھوتی ھے. دوست ھے تمھارا۔ سب سے اچھا دوست نا۔ میرا بیٹا اچھا دوست بنتا ھے۔ نا۔۔۔نہیں۔۔۔
وہ تو کہہ رھا تھا تم اس کی دوست ھو سب سے اچھی دوست. امرحہ سوچنے لگی کہ کیا وہ اس کا سب سے اچھا دوست ھے.. تمہارے بابا کیسے ھیں، ان کی شاپ سیٹ ھو گئی؟؟ جی ۔۔۔ وہ جلد ھی آپ کا قرض واپس… بدھو ھو۔۔۔۔ قرض کی بات کون کر رھا ھے ۔۔۔ تمہیں لگتا ھے میں نے اس لئے تمہارے پاپا کا تم سے پوچھا ھے.. مجھے لگتا ھے، مجھے خاموش ھو جانا چاہئے.. امرحہ شرمندہ سی ھو کر انہیں دیکھنے لگی۔ چینل تبدیل کر کے انہوں نے چارلی چپلن کی مووی لگا لی اور اسے دیکھنے لگیں جیسے اسکول سے چھٹی نا کروائے جانے پر بچے خفا ھوکر والدین کو دیکھتے ہیں..
اگر آپ ایسے ھی خفا رھیں تو میں ویرا کے ساتھ نہیں جاؤنگی۔ انہوں نے بھولے منہ سے اسے ناراضی سے دیکھا۔ کبھی تم حد سے زیادہ بے وقوفی کر جاتی ھو۔ میں حد سے زیادہ بے وقوف ھوں
یہ کوئی قابل فخر بات نہیں. ماں اور بیٹا دونوں ایک ھی بات کرتے تھے
جانتی ھوں۔
میں آگئی۔۔ ویرا نے نشست گاہ میں آکر چلا کر کہا ۔۔ دراصل خود کو دکھا کر کہا اس نے ہلکی گلابی رنگ کی فراک پہنی تھی. اپنے لمبے بالوں کو ٹیل کی صورت باندھا تھا ہلکا میک اپ کیا تھا اور خود کو اور پیارا بنا لیا تھا..
اسے کسی کلب نہ لے جانا. لیڈی مہر نے تاکید کی. معلوم ھے مجھے ویسے بھی یہ کلب میٹیریل نہیں ھے
وہ تو تم بھی نہیں ھو۔۔
سب ہی جاتے ہیں ایک یہ امرحہ ہی نہیں جاتی ہے۔ویرا کسی قدر چڑ گئی تھی۔
”جائے گی بھی نہیں اس کے باپ دادا کی روایات نہیں ہیں یہ…..“
”تو برائی کیا ہے اس میں….؟“مجھے اس بحث میں نہیں پڑنا ویرا تم جاؤ فلم دیکھو اور گھر واپس آؤ۔اب ویرا کا یہ پہلے سے ارادہ تھا یا وہ شرارت کررہی تھی۔وہ اسے کلب لے آئی.اس نے سٹی سینٹر میں واقع دی پرنٹ ورک کو کئی بار باہر سے دیکھا تھا لیکن کبھی اندر نہیں گئی تھی. یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس کی پسندیدہ جگہوں میں سے ایک تھی.یہاں مختلف کیفے بار کلب رسٹورنٹ جم اور اپنی طرز میں یکتا ایک سنیما موجود تھا ویرا اسی سنیما میں اسے فلم دکھانے لا رہی تھی.دی پرنٹ ورک ایک چھوٹا سا ڈیجیٹل شہر لگتا رنگا رنگ چہل پہل اور مختلف ملکوں کے افراد کی بھیڑ سے سجا سنورا۔”ہم سے ہے زمانہ“ کا نعرہ لگاتا ہوا
******
اندر جاتے تو لگتا لے باہر کوئی اور دنیا ہے ہی نہیں باہر آتے تو لگتا دنیا تو ساری اندر تھی. پہلے ویرا اسے لے کر گھومتی رہی.یہ جو دو گورے سامنے کھڑے ہیں انہیں دیکھ کر بتاؤ یہ کس قومیت کے ہیں.ویرا نے دو گورے چٹے لڑکوں کی طرف اشارہ کر کے اس سے پوچھا یونی میں بھی اکثر پوچھتی رہتی تھی.دونوں انگریز ہیں اس بار اسے یقین تھا اس کا جواب ٹھیک ہو گا.ویرا نے قہقہ لگایا دونوں انگریز کیسے ہوئے؟کیونکہ دونوں گورے ہیں اور وہ ایک اور درجہ ڈھونڈ رہی تھی کہ ویرا کا ایک اور بلند بانگ قہقہ جگمگ کرتی گزرگاہ کی شان بنا.ایک امریکی ہے اور دوسرا آئرش تم پھر سے غلط ہو.تمہیں کیسے پتا؟پتا چل جاتا ہے تمہیں اتنا تو معلوم ہے نا آئرش کسے کہتے ہیں؟امرحہ نے ہاں میں سر ہلایا جبکہ وہ نہیں جانتی تھی وہ اسے کیا بتاتی کہ اس یہاں سب گورے رنگ والوں کو انگریز ہی جانا اور کہا جاتا ہے.اب بھلے سے وہ کینیڈا کا ہو یا فرانس کا.مانچسٹر میں وہ رہ کر اسے اندازہ تو ہو چکا تھا کہ وہاں قومیت کا حوصلہ دے کر کافی بات کی جاتی ہے.بلکہ بات ہی قومیت سے شروع کی جاتی ہے.فلاں امریکی کا کافی کیفے فلاں عربی کا لل شاپ فلاں جرمن سر کا لیکچر اسے کوفت ہوتی تھی جب اس شخص کا نام بعد میں لیا جاتا اور قومیت پہلے.ویرا اپنے کلاس فیلوز کا ذکر کرتی تو ان کی قومیت سے شروع کرتی اور جب اسے ویرا کو کوئی بات بتانی ہوتی تو وہ کہتی فلاں جس کے بال لمبے ہیں پتلا سا لمبا سا جس کی گہری سبز آنکھیں ہیں مشکل سا نام ہے تمہارے ہی ڈپارٹمنٹ کا ہے بالوں کی پونی بناتا ہے. تو ساری معلومات ویرا اس کی ایک اچھی استاد تھی اور وہ خود بھی ویرا سے متاثر سی رہتی تھی
****** .چلتے چلتے ویرا ایک کیفے کے سامنے رکھے ایک بڑے سے کارٹون کے پاس کھڑی ہو گئی.جو زبان باہر نکال کر آنے جانے والوں کو چڑا رہا تھا.اس جن جیسی ہی ویرا تھی زبان نکال کر اس کے ساتھ کھڑی ہو گئی. کلک می امرحہ.(میری تصویر بناؤ).امرحہ بے طرح ہنستے اس کی تصویریں بنا دیں.ویرا نے ٹھیک ویسے ہی امرحہ کو کھڑے ہونے کے لیے کہا. امرحہ نے خود کو بچانا چاہا لیکن اس نے اس جن کے ساتھ کھڑا کر دیا تو زبان باہر نکالنے کو کہا.وہاں انہیں یہ سب کرتے کوئی نہیں دیکھ رہا تھا.لیکن امرحہ کو لگتا تھا.سب اسے ہی دیکھ رہے ہیں.سب اپنے آپ میں مگن تھے دیکھنے کا رواج وہاں نہیں تھا.زیادہ سے زیادہ ایک سرسری نظر ڈال لیتے.اس جن کے پاس کھڑے ہو کر ویرا نے دو انگلیوں کو زبان کے نیچے دے کر سیٹی بجائی سر سے اوپر ہاتھ لے جاکر تالی بجائی اور بائیں ہاتھ کو ہونٹوں کے کنارے رکھ کر او…و…و…و کی بن مانس جیسی آواز بڑے شوق اور خالص جنگلی انداز سے نکالی.یہ کیا کر رہی ہو؟یہ پرنٹ ورک میں آنے کا اعلان ہے.میں یہاں ایسے ہی انٹری دیتی ہوں.وہ ایسے انٹری دے سکتی تھی وہ ویرا تھی نا. تم جنگلی ہو؟کبھی کسی روسی کو جنگلی نہ کہنا ہم بوند بوند زندگی سے جمے زندہ دلی کے کرسٹل ہیں. زندگی کا سورج ہم میں سے ہو کر رنگوں کو چمک دیتا ہے.
******
ہم موت سی برف میں دفن سرسبزچرگاہوں کے قہقہے لگاتے ہیں.یہ صرف ہم ہی کر سکتے ہیں.ہم جنگلی کیسے ہو گئے.ہم بوند بوند پانی سے جمے زندہ دلی کے کرسٹل ہیں امرحہ نے زیر لب اس قوت بخش جملے کو دہرایا اور کھل کر مسکرانے لگی.ویرا کی باتیں ایسی ہی ہوتی تھی۔ان میں سے احساس کمتری جھلکتی تھی نہ ہی مایوسی وہ کچھ اس انداز سے چلتی پھرتی مسکراتی اور باتیں کرتی جیسے دنیا اس کے استقبال کے لیے تیار کھڑی ہے اور اگر یہ دنیا اسے خوش آمدید کہنے پر آمادہ نہیں ہے تو وہ بہرحال اس کی پرواہ کرنے والی نہیں ہے.کیونکہ وہ اپنی الگ دنیا تخلیق کرنے کا کارصف جانتی تھی.پرنٹ ورک کا ایک راؤنڈ لینے کے بعد اسے ہارٹ راک کیفے لے آئی. جس کی بیرونی دیوار کے باہر ایک بڑا سا گٹار لٹکا سرخ و سفید روشنیوں سے جگمگا رہا تھا.یہ کیفے ہے؟ویرا گڑبڑا گئی.ہاں کیفے بھی ہے اندر اور بھی بہت کچھ ہے تم پہلے کبھی ہارٹ راک نہیں گئی.میں اس کا نام پہلی بار سن رہی ہوں.تمہارے ملک میں نہیں ہے یہ.یہ کیا ہر ملک میں ہے.دنیا کا کون سا بدنصیب ہو گا جو ہارٹ راک سے محروم ہو گا.ہے کیا اس میں؟اندر آجاؤ.ویرا اسے اپنے ساتھ لے گئی.دیواروں پر جابجا گٹار لٹک رہے تھے. کچھ پرانے فیشن کے کلو بوائے بیسٹ بھی دیواروں آویزاں تھے.کیفے کی سجاوٹ دیکھنے کے لائق تھی.اندر جاتے ہی اسے کئی جانے پہچانے یونیورسٹی کے چہرے نظر آئے.پھر اسے اپنی یونی کے اسٹوڈنٹس کا ہجوم نظر آیا.ان سارے کیفیز اور بارز میں اسٹوڈنٹس کی رعایتی قیمت پر ڈرنکس اور کھانے ملتے تھے.ویرا اسے بارز سٹینڈ کے پاس بیٹھا کر ضروری کام کا کہہ کر چلی گئی.جاتے جاتے وہ اس کے لیے ایک سوفٹ ڈرنک کا آڈر دے گئی تھی.
******
بار سٹینڈ اسے ڈرنک دی اور کاک ٹیل بنانے لگا.اس کے دونوں بازوؤں پرکہہنیوں سے اوپر تک ٹیٹو کھدے تھے.دائیں بازو پر بھی جھاڑیوں میں سے ایک خونخوار بھیڑیا دانت نکو سے آنکھ جھکائے شکار پر جست لگانے کی تیاری کر رہا تھا اور بائیں بازو پر وہی بھیڑیا اپنے شکار کی گردن دبوچے غرا رہا تھا.اس کا شکار ایک انسانی کھوپڑی تھا.امرحہ نے کراہیت سے اپنی نظریں پھیر لیں.کاک ٹیل بناتے اس نے ترچھی نظروں سے امرحہ کو دیکھا اور زیرلب ہنسنے لگا.تمہیں یہ پسند آیا؟ اس نے بھیڑیے کی طرف اشارہ کیا.امرحہ نے منہ بنایا بلکل نہیں زہر لگ رہے ہیں. اتنی صاف گوئی کی شائد اسے توقع نہیں تھی.اس نے خود کو کام میں مصروف کرنا چاہا اور زیرلب بڑبڑانے لگا. ٹھیک دس منٹ بعد ڈی جے نے فل والیم میں ڈسک پلے کیا پہلے صرف ہلکا ہلکا میوزک بج رہا تھا.باہر شام گہری ہو رہی تھی.ہارٹ راک کے کونے کھدروں میں ہاؤ واؤ کرتا
******
ہجوم ڈی جے کے آگے جمع ہونے لگا.ڈسکو لائٹ تیزی سے حرکت کرنے لگیں امرحہ گھبرا گئی.اس نے اس پاس دیکھا وہ اندازہ کر سکتی تھی کہ اصل میں یہ کون سی جگہ ہے.وہ سیڑھیاں اتر کر دو تین راہداریاں پار کر کے یہاں تک آئی تھی.وہ جلدی سے اٹھی اور اپنی دانست میں راہداریاں پار کر کے سیڑھیاں اتر کر بار سے باہر آگئی.لیکن وہ دراصل ہارٹ راک کے ہی ایک دوسرے حصے کے میں آ نکلی تھی. جہاں جوا کھیلا جا رہا تھا اور جہاں جوئے کی بڑی بڑی مشینیں رکھی تھی.اور وہ حواس باختہ سی ہو گئی.دادا کو اگر یہ سب معلوم ہو جائے تو اسے لینے خود مانچسٹر آجائیں.وہ واپس اس جگہ آئی جہاں ویرا اسے چھوڑ کر گئی تھی.لیکن ویرا ابھی تک نہیں آئی تھی

جاری ہے

——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 33

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: