Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 16

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 16

ہمت کر کے وہ اُٹھی۔تیار ہوئی۔روئی روئی آنکھوں کے گرد ہلکے میک اپ کی تہ جمائی اور یونی آگئی۔ابھی بھی وہ یہ سوچ کر دہل سی جاتی تھی کہ اگر اسے اسٹور میں لاک کیا جانا صرف ایک مذاق یا صرف اسے تنگ کیا جانا نہ ہوتا تو؟ یہ اتفاق تھا یا وہ شخص اس کی پیچھے تھا ۔یونی میں داخل ہوتی ہی اس نے کارل کو اپنے داتھ چلتےہوئے پایا۔”گڈ مارننگ جنگل کوئین !“امرحہ نے اسے مکمل نظر انداز کیا اور بزنس سکول کی طرف چلنے لگی ۔
مجھے افسوس ہے کہ میں تمہیں زیادہ دیر تک اسٹور میں نہیں رکھ سکا ۔مجھے ڈر تھا تم پولیس کو فون کر دو گی۔“
امرحہ کو افسوس ہوا اسے کر لینا چاہیے تھا۔
”ویسے تم کر بھی لیتیں تو تم کبھی یہ ثابت نہیں کر سکتی تھیں کہ میں تمہیں وہاں تک لے کر گیا تھا،بلکہ الٹا میں تم پر یہ الزام ثابت کر سکتا تھا کہ تم چوری کی غرض سے وہاں گئیں اور وہ لاک ہو گئیں۔“ایک دم ….کہیں سے نکل کر عالیان نے اسے اپروچ کیا ۔کارل مسکراتا ہوا کھسک گیا۔ ”کارل کیا کہہ رہاتھا تم سے؟“
”میں نے سننا مناسب نہیں سمجھا۔“
”وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا،بےفکر رہو….وہ تھوڑا شرارتی ہے۔یونی کا کوئی اسٹوڈنٹ کبھی کوئی ایسی حرکت نہیں کرتا کہ اسے یونی سے نکالا دیاجائے۔اس کا مسئلہ مجھ سے تھا ۔تم سے نہیں…“
”مجھے اس کے بارے میں بات نہیں کرنی۔میں نے آج تک کبھی کسی کو ایسے ہٹ نہیں کیا۔“ہمت کر کے جلدی سے کہہ دیا۔
”مطلب وہ خوش نصیب صرف میں ہی ہوں۔“
”میں تم سے شرمندہ ہوں۔“
عالیان نے اس کے سرخی مائل آنکھوں کی طرف دیکھا ۔وہ جب جب ان آنکھوں کی طرف دیکھتا تھا۔اسے لگتا تھا جیسے بس ابھی ان میں سےآنسوؤں کا دریا نکلے گا اور سب بھیگ بھیگ جائے گا۔
”تم شر مندہ نظر تو نہیں آرہیں؟“
”کیسے نظر آیا جاتا ہے شرمندہ ؟“یعنی معافی بھی وہ مانگنے آئی تھی اور غصہ بھی وہی کر رہی تھی۔
”ویل ایسے تو نہیں جیسے تم ہو۔“
ٹھیک ہے،میں جا رہی ہوں۔وہ معافی مانگنے آئی تھی تو بدلے میں یہ سننے آئی تھی کہ ”کوئی بات نہیں،غلط فہمی ہو جاتی ہے،غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ….لیکن وہ تو…“
تم اتنی جلدی جلدی ناراض کیوں ہوتی ہو ؟“
وہ خاموش رہی
”اچھا ٹہرو…ادھر مجھے دیکھو، تمہیں سوری کہنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔“وہ اسے دیکھنے لگی۔اس نے آنکھیں بند کر لیں،منہ میں کچھ بڑبڑانے لگا۔ پھر آنکھیں کھولیں،پین پر پھونک ماری اور پین کو جادو کی چھڑی کی طرح گول گول گھمادیا ۔
”یہ کیا ہے ؟“
”جادو…اب پھر سے اب پہلے جیسا ہو گیا ہے۔میں نے وقت پر اپنا جادو چلا دیا ہے۔اس نے کل کی رات کو ہماری زندگی میں سے نکال دیا ہے۔اب سب ٹھیک ہے،سب ٹھیک ہی رہے گا۔“ امرحہ کو ہنسی آگئی۔تم سب اتنے عجیب و غریب کیوں ہو؟“
”اور تم اتنی سمجھدار کیوں ہو ؟“اس نے ہاتھ میں پکڑے جادو کے پین کو اپنی ناک پر رکھتے ہوئے پوچھا۔”ہم سب بادام کھاتے ہے نا۔ہم سب اسمجھدار ،عقل مند،سمجھ والے انسان ہیں۔“کیا اتراہٹ تھی امرحہ کی۔
”ہم سب بلی اور چوہے کھاتے ہیں،اس لیے اتنے عجیب و غریب ہیں۔“
”بلی…چوہے…آخ…“امرحہ جھٹ بھول گئی۔عالیان نے خواہیش کی کاش کہ اس کے ہاتھ میں پکڑا پین واقع جادو کا ہوتا ،وہ اس لمحے ”آخ“کو یہی روک لیتا۔امرحہ کو فریز کر دیتا۔پھر اس کے ناک کو پکڑ کر دائیں بائیں کرتا۔کاش یہ جادو اسے آسکتا۔”پھر سے کرنا“
”کیا“
”وہی جو بلی چوہے کے نام پہ کیا تھا۔“
”اووف…تم سب پاگل ہو۔“کہتے امرحہ جانے لگی۔
”تم نے کبھی کسی کو چیلنج کیا ہے ؟“ وہ بھاگ کر اس کے پیچھےآیا۔
”نہیں۔“ وہ رک گئی۔
میں تمہیں کروں؟“وہ گفتگو کو لمبا کر رہا تھا یا وقت کو
امرحہ نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا”کیا چاہتےہو ؟“
“do or die”
”اب یہ کون سا نیا پاگل پن ہے۔“
”ہم سب دوست کرتےہے سارا مانچسٹر کرتا ہے۔“
”سب کریک ہو کیا؟“
”کریک؟ویسے تم چاہو تو میں تمہیں کوئی آسان سا ٹاسک دے سکتا ہوں…سوئمنگ،رننگ،سائیکلنگ کچھ بھی اور شطرنج بھی۔“امرحہ خاموشی اسکی طرف دیکھتی رہی۔”ویسے تم ہمیشہ ایسی باتیں کرتے ہو؟“
”اچھی ہے نہ میری باتیں…ویسے تم ڈر رہی ہو؟ ہے نا“
”تم بےوقوف ہو۔“امرحہ استہزائیہ ہنسی۔
”تم خوف زادہ ہو“وہ بھی استہزائیہ ہی ہنسا۔
”پہلے اپنا علاج کرواؤ۔“
”ڈر کا کوئی علاج نہیں۔“
”میں اوٹ پٹانگ حرکتیں نہیں کرتی۔“
”ایسے لوگ خوف کوکہی نام دے دیتے ہیں۔“
”تم بہت زیادہ سنکی ہو۔“وہ چلنے لگی ،مطلب جاؤ۔
”وہ دوسروں کو الزام دیتے ہیں؟“وہ اس کے ساتھ چلنے لگا ،مطلب نہیں۔
”اوہ خدایا !تم لوگ ….تمہاری تیز مرچ جیسی زبان…“
”انہیں جلدی غصہ آجاتا ہے۔“
”خدا کے لیے بس کرو۔“
”وہ واسطے دینے پر آجاتے ہیں۔“
”کیا چیلنج ہے تمہارا؟“
”پکا ؟“
”وہ جلدی پھیل جاتے ہیں۔“
امرحہ کا قہقہہ بلند بانگ تھا۔
”عالیان کا جادو کا پین آخر کام کیوں نہیں کرتا۔“
”یہ سوئمنگ،سائیکلنگ،وغیرہ مجھے نہیں آ تی،تم کچھ اورکہو“
”یعنی آسان سا؟“اب وہ اسے چڑا رہا تھا۔
”جو مجھے آتا ہو اور میں کر سکوں۔“
”یہاں قریب ہی Dog Bowl ہے ۔“
”مجھے نہیں کرنا کچھ ڈوگز وغیرہ کےساتھ۔“
”وہاں ڈوگز نہیں ہے،ایک گیند ہے،بوتل ہے،تمہیں گیند سے بوتلوں کو گرانا ہو گا…تم تین بار پریکٹس کر سکتی ہو،ویسے میں نے لائف میں اتنا آسان چیلنج کسی کو نہیں دیا۔تم مشرق سے ہو تو ۔“
امرحہ سوچنے لگی۔”ٹھیک ہے میں تیار ہوں۔مشرق والے سب کر سکتے ہیں۔“
”روسی ٹائیگر کو ساتھ لاؤ گی۔“
بلکل ضرور“
ٹہرو ذرا…..پہلےیہ بتاؤ وہ کن دنوں میں بیمار ہوتی ہے۔سیزن کیا ہے اس کے لاچار ہونے کے؟“
”وہ ہمیشہ چاک و چوبند رہتی ہے۔“
”اسے ضروری کام کب کب ہوتے ہیں۔“
”میرے لیے وہ ہمیشہ فارغ رہتی ہے۔“
”تم دونوں میں کیٹ فائٹ کب کب ہوتی ہے۔“
”ہم میں بہت اچھی ذہنی آہنگی ہے۔وہ ایک اچھی لڑکی ہے۔“
”وہ کب تک بری بن جائے گی۔“
”اوففف….“
”اچھا ….اچھا….آجانا دونوں۔“
لیکن ویرا اس کے ساتھ نہیں آسکی۔اسے نیوز پیپر کے آفس جانا تھا۔لیکن اس نے امرحہ کو بڑی دیر لگا کر یہ سمجھا دیا تھا کہ گیند کو کس طرح سے ہاتھ میں پکڑنا ہے اور کیسے تکنیک سے پھنکنا ہے۔
Dog Bowl
میں یونیورسٹی اسٹوڈنٹ کا کافی رش تھا۔امرحہ نے اپنی پریکٹس شروع کی۔اس نے کبھی یہ کھیل نہیں کھیلا تھا۔گیند اسے ضرورت سے زیادہ وزنی لگی۔ویرا ٹھیک کہتی ہے۔ایک انسان میں اتنی طاقت ہونی چاہیے کہ وہ ایک عام وزن کے انسان کو اُٹھا کر پھینک سکے اور اس سے گیند نہیں اُٹھائی جا رہی تھی،پاکستان میں انہیں ایک صوفہ یا ایسی ہی کوئی عام سی چیز ادھر سے اُدھر کرنی پڑجاتی تو دو،سے تین لوگ مل کر یہ سب کرتےاور پھر ایسے ہاپننے لگتےجیسے کسی ہاتھی کو گھسٹتے رہے ہوں۔
پہلی کوشش میں اسکی گیند ایک بھی بوتل نہیں گرا سکی اور بوتلوں سے دور لین کے درمیان میں ہی کنارے پر جا کر رک گئی۔دوسری کوشش میں اس نےکامیابی سے دو بوتلیں گرا لیں اور تیسری میں پھر سے ایک بھی نہیں۔یہ تمہاری آخری کوشش ہے۔“عالیان نے ہنسی کو چھپا کر کہا۔امرحہ نے اس کی ہنسی دیکھ لی تھی اور وہ چڑ گئی۔اس بار اس نے گیند کو ایسے پکڑا جیسے میدان جنگ میں سپہ سالار بازی مات یا ہاتھ کے تحت تلوار کو بلند کرتا ہے اور پوری قوت سے وار کرتا ہے۔امرحہ نے مکمل توجہ سے اپنی پوری قوت سے گیند کو پھینکا۔
اور پھر وہ ایسے چلائی کہ آس پاس موجود بہت سارے لوگ اس کی طرف دیکھنے لگے۔بھلے سے دیکھتے رہیں،وہ چلاتی رہی۔ساری بوتلیں چت ہو چکی تھی۔مشرقی لڑکی امرحہ جیت چکی تھی۔
”تم نے تو کہا تھا تم نے یہ کھیل پہلے کبھی نہیں کھیلا ؟“
”بے شک یہ پہلی بار ہے۔“
”تم نے کسی پروفیشنل کی طرح گیند پھینکی…پہلے تم مجھے دیکھنا کے لیے گیند کو ایویں لڑکھڑاتی رہی ہو نا۔“
”قسمت ساتھ ہو تو کوئی بازی مات نہیں ہوتی۔“
اس نے ایسے کہا جیسے فیفا ورلڈ کپ کی ٹرافی جیت لی ہو ۔
”تم جھوٹ بول رہی ہو ۔“بھوری آنکھوں کی بھنویں تن گئیں۔
”پھر سب جھوٹ لگنے لگتا ہے”کالی آنکھیں جگمگ کرنے لگیں۔
”تو ایک بار پھر کرو۔“
”پھر ہارنے والے بہانے بناتے ہیں۔“
”تم نے ضرور چیٹنگ کی ہے۔“
”پھر وہ فاؤل فاؤل چلاتے ہیں۔“
”تم“
”میں“
”تم“
”میں ونر ہوں…مجھے جیت جانے والا کہا جاتا ہے۔“
”تم نے میرا نقصان کر دیا۔مجھے یقین تھا تم ہار جاؤ گی،پھر میں تمہیں سزا دیتا۔“کتنا رحم دہ انسان تھا ۔وہ اسے سزا دینے کے چکر میں تھا۔
”کیسی سزا؟“
”میں تمہیں باتیں سناتا “
”باتیں….یہ کیسی سزا ہے ؟“
”یہ سزا سننے والے کے لیے ہوتی ہے بولنے والے کےلیے نہیں۔تمہیں سب سننا پڑھتا ہے۔وہ رومن اکھاڑے کے قصے ہوتے یا اسکول کے دنوں کے سزائیں….ونڈو شاپنگ کی فضول تفصیلات ہوتیں یا سپ ویز میں ملنے والے سیپوں کی عجیب و غریب حرکتیں….بولنے والے کا جب تک جی چاہے گا وہ بولے گا…سار دن …ساری رات…اگلا دن….اگلی رات….سننے والے کو سننا ہو گا ….بولنے والے پہ کم ہی قسمت مہربان ہوتی ہے تاکہ اسے ایسا سننے والا کوئی ملے ؟“”اتنی دیر تک بولنے رہنے والا پاگل ہی ہوگا۔“
”مجھے ہونا تھا نا پاگل۔“اس شاید واقع میں بڑا نقصان ہو چکا تھا۔”اس سب کو چھوڑو….یعنی اب مجھے تمہیں چیلنج دینا ہے۔کوئی سزا… ہے نا۔“
”ہاں ایسا کرو مجھے کہہ دو میں ابھی یہاں گھٹنوں کی بل جھک جاؤں“
”اتنی معمولی سزا میں کیوں کہوں یہ تم سے….؟“
”یہ معمولی نہیں ہے…..ہر گز نہیں…..ایسے نہ کہو…“وہ اس قیمتی پتھر کی طرح کرُلایا جس کی جوہری نے بہت کم قیمت لگا دی ہو۔امرحہ گہری سوچ میں چل
”تم ایک ہفتے تک اپنی کلاسز اٹینڈ نہیں کرو گے۔“
”تم چاہتی ہو میں آج رات ہی خود کشی کر لوں….؟“
”تو تم مرنا چاہتے ہو….؟“
”میں مر جاؤ گا اپنی کلاسز نہیں چھوڑوں گا….کچھ اور کہو۔“ وہ دونوں Dog Bowl سے باہر آچکے تھے اور سڑک کے کنارے چل رہے تھے۔
”تم سمسٹر ایگزامز نہیں دو گے؟“
”یعنی تم ہر صورت یہی چاہتی ہو کہ میں خود کشی کر لوں۔“
”میں نے تمہارا چیلنج پورا کیا ۔تمہیں بھی کرنا چاہیے۔“
”کہا تو ہے کر لوں گا خودکشی….اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا…؟“دونوں مین روڈ پر آچکے تھے اور سڑک کنارے چل رہے تھے۔سڑک پہ کافی رش تھا۔زیادہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس کا ہی ہجوم تھا
”اچھا کچھ اور کہو“
امرحہ نے سڑک کی طرف دیکھا جہاں وہ کھڑے تھے،اس سے چند قدم آگے زیبراکراسنگ تھی جو کافی طویل تھی۔وہ دونوں بھی اشارہ بند ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔
”تمہیں بہت شوق ہے نہ بندر کی طرح چھلانگیں لگانے کا….تو تمہیں اس کراسنگ کو ہاتھوں کے بل قلابازیاں لگا کر کراس کرنا ہے۔“
”پہلی فرصت میں اپنےدماغ کا علاج کراؤ امرحہ….“کہہ کون رہا تھا جس کا اپنا علاج ہونے والا تھا۔
”اب تم ڈر کر پیچھے کیوں ہٹ رہے ہو ،پاکستان میں میری ایک دوست نے بھی ایک بار ایسا ہی کیاتھا۔میں نے دو س ایک گول گپے کھائے اور میں جیت گئی۔بدلے میں میں نےاسے بس اتنا کہا کہ اسے صرف پانچ منٹ تک اپنے ڈیڈ کی کار چلانی ہے۔“
”اس میں کیا مشکل تھا….یہ تو بہت آسان ہے….تم نے اسے آسان ٹاسک دیا۔“
”وہ کار چلانا نہیں جانتی تھی ۔“
”آں…واؤ کس ماڈل کی کار تھی؟“
”یہ تم لڑکے کار کے نام پر ماڈل پوچھنے کیوں بیٹھ جاتے ہو….وہ ایک کار تھی …بس….ایک…..کار…“
”یہ تم لڑکیاں گاڑیوں کےماڈلز پہ دھیان کیوں نہیں دیتیں….اینی وے پھر…؟“
”وہ صرف چارمنٹ کار چلا سکی….اگلے چار مہینے کار ورکشاپ میں رہی اور اس پر پورے پچاس ہزار لگے….اور…بس “
”بس….؟“عالیان نے ایسے پوچھاجیسے کہہ رہاہو اتنے سب پر بھی ایسے بس کہہ رہی ہو۔
”ہاں….اور…اور…میرا داخلہ ان کے گھر بند…بس“
”تمہارا داخلہ بند ۔“اس نے گردن کو ہلکا سا خم دے کرہنسی کو ہونٹوں کےپیچھے روک کر پوچھا۔اگر اسے بےتحاشا ہنسی آرہی تھی،تو اسے کھل کر ہنس لینا چاہیے تھا اپنی ہنسی کو قابو میں رکھنے میں،اس نے امرحہ سے اپنا رخ پھیر لیا اب وہ اس کوشش میں تھا کہ وہ اتنی بری طرح سے نہ ہنسے کہ امرحہ برا مان جائے۔لیکن ساری کوشش بےکار گئی۔اس نے سر اٹھایامانچسٹر کے کھلے آسمان کو دیکھا جس کے پیچھے وہ دونوں کھڑے تھے اور خود کو بے قابو ہوجانے دیا۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: