Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 17

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 17

“Keep calm and love fridays”
( پر سکون رہے اور جمعوں سے محبت کریں) اور یورپین جمعوں سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ کیفیز، ہوٹلز، ریسٹورنٹس، کافی شاپس اور بہت سی دوسری جگہوں کے نام او مائی گاڈ ایٹس فرائیڈے، وئ لو فرائیڈیز، ۔۔ یا ڈائی فار فرائیڈے،جیسے رکھتے۔۔ اور مائی اونلی لواز فرائیڈے جیسے بھی۔۔۔
تو اومائی گاڈ ناؤ آل ڈیز آرفرائیڈیز( او میرے خدایا اب سب دن جمعہ کے دن ہیں) کا موسم شروع تھا۔ وہ موسم کا سارا سال انتظار کیا جاتا ہے۔ وہ موسم جسے مسکراہٹوں کا، اطمینان کا، خوشیوں کا اور محبتوں کا موسم
کہا جاتا ہے تحائف کا_سیاحت کا_اور گھنٹیوں کا بھی_
دنیا بھر کے رنگ برنگے پرندوں سے آباد مانچسٹر خالی ہونے لگا_بارہ دسمبر سے تیرہ جنوری تک کے لیے یونی بند تھی وتھ ورک پارک(اسٹوڈنٹ کی رہائش گاہ)OUKہاوساور آس پاس کی دوسری اسٹوڈنٹس کی رہائش گاہیں خالی ہونے لگیں اور برطانیہ کےSterotype موسم نے اپنے رنگ ڈھنگ دکھانے شروع کر دیئے
دوسرے شہروں سے آئے اسٹوڈنٹس اپنے گھروں کو چلے گئے_دوسرے ملکوں سے آئے کچھ مانچسٹر میں جاب کی وجہ سے رہ گئے،کچھ اپنے دوستوں کے ساتھ ان کے گھروں کو چلے گئے اور کچھ دوسرے ملکوں کی سیاحت کی تیاری کرنے لگے_پکاولی سٹریٹ سے یونیوڑسٹی کیمپس آنے والی مفت بس سروس مانند پڑنے لگی _امرحہ نے آکسفورڈ روڈ کو سنسان ہوتے دیکھا جہاں ہر صبح اسٹوڈنٹس کا ہجوم تیزی سے حرکت کرتا نظر آیا کرتا تھا_امرحہ ایک دم سے سب کو مس کرنے لگی جنہیں وہ جانتی تھی_اور جنہیں قطعا نہیں جانتی تھی_سب کو اتنے ہزاروں اسٹوڈنٹس کے جم غفیر کو_اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ اس ماحول سے اتنی وابستہ ہو چکی ہے کہ اس ماحول کے بدل جانے سے ایسے اداس ہو جائے گی__ آکسفورڈ روڈ کو ایسے خالی خ الی دیکھ کراسے ہول پڑتے__وہ اتنی جزباتی ہے__اسے اب معلوم ہو رہا تھا__یونی بند ہوتے ہی اسٹوڈنٹس بازاروں کی طرف بھاگے__ڈھیروں ڈھیر خریداری کرتے__
اسکے اسٹوڑ میں سپر سیل کی تیاری تقریبا مکمل ہو چکی تھی__
******اب ایک پورا مہینہ وہ دن رات کام کر سکتی تھی ان کی فی گھنٹہ اجرت بھی برھا دی گئی تھی__وہ اتنے دنوں میں زیادہ سے زیادہ دنوں کے لیئے کافی زیادہ پونڈکما سکتے تھے اور امرحہ یہ پونڈذ کمانا چاہتی تھی__شرلی ڈائم وغیرہ کا گروپ یورپ کی سیاحت کے لیئے جا رہا تھا__اور عالیان بھی__اسے حیرت تھی کہ وہ دوسرے ملکوں میں اتنی آسانی سے کھومنے پھرنے کے لیئے کیسے جا سکتے ہیں،پاکستان میں تو لوگ ایسے دوسرے شہروں میں نہیں جاتے __دائم نے اسے بھی چلنے کو کہا تھا،لیکن اس نے انکار کر دیا تھا__اسے ایک ایک پونڈ جمع کرنا تھا__
تم غلط سمجھ رہی ہو اتنے پیسے نہیں لگتے جتنے تم سمجھ رہی ہو__ہم ٹرین یا بس سے جائیں گے،ہم نے خاص ڈسکاونٹ پاس لیئے ہیں،جن سے ہمارے بہت کم پیسے خرچ ہو گے__ہم کسی لگژی ہوٹل میں نہیں رہیں گئے بلکہ سللز میں رہیں گے یا بہت کم قیمت والے ہوٹلز میں_شرلی نے اسے منانا چاہا__
“میں پھر بھی نہیں جا سکتی،مجھے ایک ایک پونڈ بچانا ہے”__
“ٹھیک ہے _تمہارا مقصد بھی معقول ہے”__
“ہم پہلے سوئیدمین جائیں گئے پھر فرانس__کہا کوئی ایسے جوتے ہیں جو پیروں کو اتنا آرام دیں کہ لگے ہی نہ کہ نا کہ ہم انہیں پہن کر آٹھ دس میل چلتے رہیں گے”__
جانے سے پہلے رات کو عالیان اس کے اسٹور آیا__
“میں بل بناتی ہوں جوتے نہیں__” “جوتوں کی دکان میں کام تو کرتی ہوں نا__”
” میں سیلز مین نہیں ہوں__تم سیلز مین کے پاس جاوں__” “مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ تم نے صبح سے اب تک کم از کم سے دس کپ کڑوی کافی کے پیے ہیں__زیادہ بھی ہو سکتے ہیں__” “کافی کڑوی ہی ہوتی ہے__”کلوئزر پر رکھے کمپیوٹر کے ساتھ وہ ایسے مصروف تھی اور ایسے ظائر کر رہی تھی جیسے اتنے بڑے اسٹور کا کام اکیلی ہی کرتی ہے__ “کافی اس وقت کڑوی ہوتی،جب وہ زبان کو بھی کڑوا کر دے__”
**************
“شاید تم سیاحت کر کے واپس آو تو ایسی کم عقلی کی باتیں کرنا چھوڑو سنا ہے دوسری سر زمینوں کا پانی پینے سے اور فضا میں سانس لینے سے بہت سی دماغی بیماریاں ٹھیک ہو جاتی ہیں__”لگتا ہے تم پر کام کا بوجھ بہت ھے امر حہ۔اسنے لہجے کو افسردہ بنایا ۔”میں مضبوط اعصاب کی مالک ھوں۔”امرحہ نے لہجے کو مضبوط بنایا ۔”لیکن تمھاری شکل تؤ کچھ اور کہہ رہی ھے ۔اگر تم کہوتو میں سویڈن چلا جاتا ہوں فرانس نہیں ۔بلکہ اگر تم کہو تو میں جاتا ہی نہیں ۔میرا خیال ھے میرے جانے سے پہلے ہی تم مجھے بہت مس کرنے لگی ہو ۔””مجھے یہ دیکھنے کآ انتظار رھے گا کہ سویڈن اور فرانس کی ھواؤں نے تم۔پر سے پاگل پن کے اثرات کم۔کیے یا بڑھا دے۔” “تمہیں میرا انتظار نہیں رہے گا ۔” اس نے چندد قدم آگے بڑھ کر جوتوں کے ریک کی طرف دیکھتے ہوئے لاپرواہ ظاہر کرتے ھوئے پوچھا ۔امرحہ خاموشی سے اپنا کام کرتی رہی ۔ “لو میں جا رہا ھوں”۔اس نے کہا لیکن وہ جانے کے لیے اپنی جگہ سے ہلا نہیں ۔”ملر”اسنے ایک سیلزمین کو متوجہ کیا ۔ “انہیں ایسے جوتے چاہئیں جنھيں پہن کر یہ اڑ سکیں پلیز انکی مدد کریں ۔”عالیان نے چونک کر امرحہ کی طرف دیکھا وہ شرارت سے مسکرا رہی تھی ۔”یہ جوتوں کی دکان ھے بیک۔ٹو می فیوچر فلم کا سیٹ نہیں ۔یہاں کچھ اڑنے اڑانے والا نہیں ملتا۔”ملر پر کام کا کافی بوجھ لگتا تھا
**********************
۔تمھارے اس سیلزمین نے بھی کڑوی کافی پی لی ہے اور دس کپ سے زیادہ پی ھے ۔”منہ بسورتا عالیان چل گیا ۔ پانچ منٹ بعد سے پھر وہ اسکے پاس تھا۔”میں نے کچھ پیسے جمع کیے ہیں ۔تم مجھ سے ادھار لے سکتی ھو ۔واپسی کی کوئی جلدی نہیں ہے ۔جب تمہاری شادی ہوگی تو ہم حساب ٹھیک کر لیں گے ۔” امرحہ نے سر پر ایسے ہاتھ رکھ لیے جیسے کہہ رہی ھو خدا کے لیے جاؤ میرا مغز نا کھاؤ۔ویرا،این اون۔اور ایسے دوسرے لوگ کتنے ملک گھوم پھر چکے تھے ۔یہ لوگ سارا سال کام کرتے اور ان۔دنوں میں سیاحت کے لیے نکل۔کھڑےاس ہنے وتبھی ے ۔کام کر کے پیسے اکٹھے کے تھی لیکن یہ پیسے اس نے وائم کو واپس کرنے کے لیے جمع کیے تھے۔اگر بابا کی دکان میں آگ نہ لگتے اور اس نے پیسے دادا کو نا دے دیئے ھوتے تو وہ۔بھی ویرا کے ساتھ نکل چکی۔ھوتی۔ اسکی آنکھیں نم تھیں اس لئے کیونکہ شاید اسے زندگی چندمواقع دے دے گی دوسرے ملکوں کی سیاحت کے لیے لیکن اسے وہ شاید یہ سب دوست نع دے سکے گی۔خیر دل کو مضبوط کر کے وہ۔اووور ٹائم کرتی رہی اور ہفتے میں ایک با یونیورسٹی تک پیدل چلتی ضرور جاتی۔خوش آئند بات یہ تھی کہ تیرہ جنوری سے سب پہلے جیسا ھونے والا تھا۔یونی کھلتے ہی ایگزامز شروع تھےاس لئے سب نیو ائیر کے بعد آنا شروع ہو جائیں گے ۔یونیورسٹی کے ہزاروں سٹوڈنٹس کو کبھی یہ خبر نہیں ہو سکتی تھی کہ لاہور کی رہنے والی۔دادا کی گود میں گھنٹوں سر رکھ کر رونے والی ان سب کو کتنا یاد کر رہی ہے__وہ یونیورسٹی پر گرنے والی برف کو گھورتیہے اور مسکرانے کی سعی کرتی ہے__وہ اولڈ کیمپس کی یونیورسٹی آرک کے پاس آ کر کھڑی ہو جاتی ہے اور آتی جاتی ٹریفک کو دیکھتی ہے__اس کے منہ سے بھاپ نکلتی ہے اور آنکھیں گیلی گیلی سی ہو جاتی ہے__اور دادا کو مانچسٹر میں پھیلی برف دکھاتی ہے__مسکرانے کی کوشش کرتی ہے__ان سے باتوں میں دل بھلاتی ہے__
“تم چلی جاتی میری بچی__جتنے پیسے تمہارے پاس تھے__ پیسے تو آ جائیں گے وقت نہیں آئے گا”
“میں اگلے سال تک چلی جاو گی__اگلے سال تک تو میں یہں ہوں نا__اس نے دادا سے کہا اور خود کو بھی تسلی دی__” “زندگی نے جتنے جھولے اپنی بانہوں میں تھام رکھے ہیں وہ سب وقت کے اشارے سے چلتے ہیں__ان کے جھولے کے لیئے وقت کے اشارے کا انتظار کرنا ہی پڑتا ہے__
*********************
اور كہا جاتا ہے کہ
کہ کیا پیاری چیز ہےکرسمس کینڈل
نہیں کرتی شوروغوغا.. لیکن نرمی سے خود کو نچھاور کرتی ہے
بے غرضی سے __یہ ختم ہوتی چلی جاتی ہے
اود یہ بھی تو کہا جاتا ہے کہ جب کرسمس آتا ہے تو گھر کی یاد بھی تو ستاتی ہے حتی کہ آپ گھر میں ہی ہوتے ہیں__” سارا مانچسٹر__اور سارا برطانیہ__ اور سارے کا سارا یورپ کرسمس فلو کا شکار ہو چکا تھا کوئی چھینکتا ہوا نظر نہیں آتا تھا لیکن مسکراتا ہوا ضرور نظر آتا تھا__ سٹی سینٹر کرسمس مارکیٹ میں اونچے ستون پر بہت بڑے سے سانتاکلاز کو بٹھا دیا گیا تھا جو ملین پاؤنڈز مسکراہٹ سب پر نچھاور کرتا تھا__ کرسمس کے بڑے میلوں میں شمار ہونے والا میلہ دو سو سے زائد اسٹالز کے ساتھ اسٹال سٹی سینٹر میں سج چکا تھا

Read More:  Billi by Salma Syed – Episode 14

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: