Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 18

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 18

جہاں راتیں جگمگ کرتی تھیں اور دن قلقاریاں بھرتے تھے۔جہاں رکھی سیل کی چیزیں گدگدی کرتی تھیں کہ آخر مجھے اٹھا کر اپنے نرم گرم گھروں میں نہیں لے کر جاتے….زیادہ مہنگی تو نہیں ہیں ہم. ….
کام کی زیادتی نے اسے تھکا ڈالا تھا ۔بل بناتے بناتے اس کی انگلیاں ٹوٹنے جیسی ہو جاتی تھیں۔برگر کو کافی کے ساتھ بمشکل اندار کرتی تھی۔گھر جا کر چند گھنٹے سوتی اور پھر سے کام پر آجاتی ۔دادا سے بات ناممکن ہو گئی تھی۔
”کتنی کمزور ہو گئی ہو تم؟“دادا سے کافی دنوں بعد بات ہوئی تو اداس ہو گئے۔
”ٹھہرو تمہارے باپ کو دکھاتا ہوں تمہاری یہ حالت….بتاؤ اسے تم روز کتنے گھنٹے کام کرتی ہو….جتنے پیسے تم وہاں اتنی محنت سے کر کے کما رہی ہو اس سے زیادہ پیسے یہ لوگ اپنی فضول خرچیوں میں اڑا دیتے ہے ۔دو کام والیاں آتی ہیں گھر،تمہاری ماں سے کہا ایک خو فارغ کرو پیسے بچاؤ لیکن نہیں سنا۔ایک گھر کے کام ہی کتنے ہوتے ہیں امرحہ…..جہاں تم رہتی ہو وہاں بھی تو لوگ کام والیوں کے بغیر رہتے ہی ہیں اور دیکھو کتبے کامیاب ترقی یافتہ ہیں…..ہم سے تو بحیثیت قوم آگے ہی ہیں۔“
وہ خاموشی سے دادا کو سنتی رہی کیا کہتی…….
اگلے دن بابا کا فون آگیا”چھوڑ دو جاب….میں جیسے تیسے کر کے تمہیں پیسے بھیج دوں گا۔اب حالت پہلے سے بہتر ہیں۔“
”نہیں بابا مجھے عادت نہیں ہےاس لیےتھک جاتی ہوں،جب عادت ہو جائی گی تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔“
”تمہیں کوئی خاندان نہیں پالنا کہ تم ایک ایک روپے کےلیےایسے پرشان ہو ۔“
”مجھے خود کو پالنا ہے بابا….مجھے خود کو مضبوط کرنا ہے…میں اب تک مضبوط نہیں ہو سکی تو اس میں
میرا قصور ہے،آپ کا ہے..ہمارے نظام کا ہے…..آپ پریشان نہ ہوں….میرے جیسی بہت سی لڑکیاں مجھ سے زیادہ سخت کام کر رہی ہیں۔میری تو جاب ہی بہت آسان ہیں….آپ حما،علی اور ونیہ کی طرف توجہ دیں۔میرا دل چاہتا ہے دوسروں کی طرح وہ بھی زندگی میں آگے بڑھیں…محنت کریں اور کامیاب ہوں۔“پاپا نے اس کے اکاؤنٹ میں تھوڑے پیسے ٹرانسفر کروادیے جنہیں اس نے ہاتھ بھی نہیں لگایا،زندگی میں ملنے والے اسی آرام و آسائش نے اسے ایسا بنا دیا تھا ۔ریڈی میڈ کھانا کھانےکو ملتا رہے تو خود کھانا پکانےکی زحمت کوئی بھی نہیں کرتا۔ایک بار وہ ڈیرک کے ساتھDramson گئی تھی ان دونوں کی بنائی ڈکومنٹری کو لے کر ان کی ایک نمائندے سے ملاقات طے تھی۔ملاقات کے بعد جب نمائندہ چلا گیا اور بل آیا تو ڈیرک نے ویٹر سے کہا کہ وہ اس بل کو آفس میں بھجوادے….بل کے نیچے ڈیرک نے سائن کر دیے تھے۔”کس کے آفس؟“
ڈیرک ہنسنے لگا۔”میرے پاپا کے آفس“
”بل اتنی دور ان کے آفس جائے گا…تھوڑے سے پیسے ہیں میں پے کر دیتی ہوں ۔“
”میرے پاپا کا آفس یہیں اسی رسٹورنٹ میں ہے وہ Dramson کے تیسرے حصے دار ہیں۔“
”تمہارے پاپا یہاں کے تیسرے حصے دار ہے تو وہ ویٹر تمہیں بل کیوں دیتا ہے؟“
”ان فیکٹ مجھے سختی سے منع کیا گیا ہے کہ میں یہاں نہ آیا کروں…..میں یہاں تب آتاہوں جب خالی جیب ہو چکا ہوتا ہوں۔کبھی کبھار زیادہ نہیں بل پر سائن کر دیتا ہوں اور جب میرے پاس پیسے ہوتے ہیں میں یہاں آکر پے کر جاتا ہوں ۔اتنی سی رعایت مجھے مل جاتی ہے۔“
تم کہہ رہےہو یہ تمہارے پاپا کا ریسٹورنٹ ہے پھر بھی تمہارے ساتھ یہ سب؟“
”میرے فادر امریکہ سے یہاں کام کے لیے آئے تھے۔دس سال تک انہوں نے گاڑیوں کی ایک فیکٹری میں مشینوں کی صفائی کا کام کیا ہے ان کے جسم سے مستقل کیمیکل کی بو آنے لگی تھی ان کا کہنا ہے ان دس سالوں میں انہوں نے اپنے سگریٹ پینے کی خواہش کو دبائے رکھا اور ایک سگریٹ کی ڈبیہ جب انہیں تحفے میں ملی تو انہوں نے اسے جلا دیا کہ اگر انہوں نے وہ پی لی تو دا سالوں میں کمائے گئے سارے پونڈز دھوئیں کے نظر ہو جائیں گے۔جس کے فادر کا ایسا ماضی رہا ہو اس کے بیٹے پر یہ سوٹ نہیں کرتا کہ وہ مانچسٹر جیسی بڑی یونی میں پڑھے بھی اور باپ کی کمائی پر ایسے عیش بھی کرے،اسکول کی چھٹیوں میں ،میں نے اسی رسٹورنٹ میں کام کیا ہے ایک بار میں نے غصے میں اسٹاف کے ایک ورکر کو دھکا دے دیا تھا ۔مجھے اسی وقت جاب سے نکال دیا گیا تھا اب میں ڈاکومٹریز بنا کر اپنا خرچا نکلتا ہوں۔“
”آخر والدین اپنی اولاد کے لیے ہی کماتےہیں۔“
”ہاں تو میں اتنا بڑا ہو گیا ہوں ،بس بہت کھا لی ان کی،اگر سارے والدین صرف اولاد کا ہی سوچتے رہیں گے تو انسانیت کا کون سوچے گا۔“
”انسانیت کا ؟“ایک ہزار ایک اور سوال امرحہ کے ذہین میں اس بات کو سن کر بننےلگے تھے۔
”ہاں…اگر دو لوگ ساری زندگی کما کما کر صرف اپنی اولاد کا ہی سوچتے رہیں گے تو کل انسانیت کے بارے میں کون سوچے گا….ہمیں اپنی زندگی کے دائرے اتنے محدود نہیں کرنے چاہیئں کہ ہماری ساری زندگی کا حاصل صرف چند افردکو ہی فائدہ دے….“
امرحہ ڈیرک کے اس جواب کو اچھی طرح سمجھ چکی تھی اسی لیے اگلا سوال نہیں کر سکی۔وہ لاجواب ہو چکی تھی۔کرسمس سے ایک دن پہلے وہ سادھنا کے ساتھ کرسمس مارکیٹ آئی اور دونوں نے لیڈی مہر کی بتائی ڈھیروں ڈھیر خریداری کی انہوں نے اپنے سب بچوں کے لیے تحائف منگوائے تھےنئے سال کے پہلے ہفتے میں مورگن کی شادی بھی تھی کچھ اس سلسلے کی خریداری بھی کی۔۔سادھنا کو گھر چھوڑ کر وہ اپنی یونی آگئی اور آ کر اولڈ کیمپس کے آرک کے نیچے کھڑی ہو گئی۔موسم کے تیور صبح سے ہی بدلے رہے تھے تیز ہوا چل رہی تھی اور بی بی سی نیوز نے برف باری کی خبر دی تھی وہ محراب کی دیوار کے ساتھ ٹک کر کھڑی دھندلے آسمان کو دیکھ رہی تھی دھند بڑھتی ہی جا رہی تھی اور کچھ دور آگے کی چیزیں چیزیں نظر نہیں آ رہی تھیں۔اسےیہ سب اچھا لگ رہا تھا اسے برف باری کا انتظارتھا اس کے پاس ایک گھنٹہ تھا پھر اسے واپس اپنی جاب پہ جانا تھا وہ اپنی یونی کے آگے برف باری کو ہوتے دیکھنا چاہتی تھی ہوا اورتیز ہو گئی دھند اور بڑھنے لگی روئی کےگالے ماں کی پیار کی طرح نرمی سے زمین پر برسنے لگی۔ہوا اور تیز ہو گئی امرحہ نے اپنے سرخ داستانوں والے ہاتھوں کو پھیلا لیا….برف باری بلاشبہ وہ منظر ہے جو پہلی بار دیکھنے والوں کو مستانہ سا کر دیتا ہے،سفید پھول برف بنے امرحہ سے شرارتیں کرنے لگے،دونوں میں دوستی ہو رہی تھی ،دور دھند میں اس نےدیکھا کوئی آرہا ہے وہ عالیان تھا قریب آیا پھردور ہوتا چلا گیا ۔وہ عالیان نہیں تھا۔برفیلے ریشوں کو سمیٹتے اپنے سرخ دستانوں پر اتارتے وہ جہاں کی تہاں کھڑی رہ گئی ۔”اسے عالیان آتا اور جاتا کیوں نظر آیا تھا؟“
گرم کوٹ کے اندار اس کے وجود نےسہم کر جھر جھری لی۔دھند کو چیرتا پھر کوئی آ رہا تھا،اکسفورڈ روڈ کو بھاگ کر پار کرتا ہوا ،یونی کی طرف بڑھتا ہوا ،امرحہ محراب کی دیوار کے ساتھ سمٹ سی گئی برف باری میں تیزی سی آگئی تھی۔اس کے سرخ داستانے نم ہو رہےتھے برف کی پھوار کو دیکھتے اس کی آنکھیں نہیں تھک رہی تھیں اور یہ کون اس کی طرف آرہا تھااس کے ہاتھ میں نیلے پیلے سفید پھول تھے۔پھول بہت زیادہ تھے ان پر برف گر کر جم رہی تھی۔وہ باربار انہیں جھاڑ رہاتھا ۔اس نے گردن کو خم دے کر امرحہ کو دیکھا اور ابرو اچکا کر مسکرایا ۔تیز ہوا کا جھونکا آیا اور اس شبیہ کو اڑ کر لے گیا ۔امرحہ نے سہم کر آس پاس دیکھا ،ٹریفک نہ ہونے کی برابر تھی،اکا دکا لوگ بیٹھے بس اور امر حہ نے وہا ں سے تیز تیز پیدل چلنا شروع کر دیا۔ اس کا دل خوف سے سہم رہا تھا ۔وہ اور تیز چلنے لگی اور پھر بھاگنے لگی۔اکسفورڈ روڈ پر یونی کو اپنے پیچھے چھوڑتے…..خوف اس کے وجود میں سرایت کر رہا تھا۔عالیان اس کے دائیں بائیں آگے پیچھے ہر جگہ تھا۔وہ سامنے سے اس کی طرف آ رہا تھا ۔وہ پیچھے سےاسے پکار رہا تھا۔یہ سب کیا تھا یہ سب ٹھیک نہیں تھا۔اسے اپنے تعاقب میں عالیان نہیں چاہیے تھا۔برف پر بھاگتے بھاگتے وہ پھسل کر گرگئی۔یہ عالیان کون تھا جس نے اسے گرا دیا تھا۔ٹھنڈی ناک سے درد کی لہر پھوٹی۔اٹھ کر اس نے کپڑے جھاڑے۔گردن سے لپٹے مفلر کو کھول کر اس نے اچھی طرح جھاڑا اور گردن کے گرد لپیٹ دیا۔برف اس کے وجود میں اترتی اسے ٹھنڈ ا کر رہی تھی۔اور اسے تکلیف ہو رہی تھی۔سفیدے کے ماحول میں سرمئی کوٹ اور سرخ مفلر میں وہ خزاں میں کھلی اس کلی کی مانند تھی جو بے وقت کھلنے پر آبدیدہ ہو جاتی ہے۔یونی کو اپنے پیچھے چھوڑتے وہ آہستہ آہستہ چلتی جا رہی تھی۔روئی کے گالے ابھی بھی گر رہے تھے۔اس کے کھلے بالوں میں اٹک رہے تھے ۔وہ برف باری دیکھنے آئی تھی لیکن اس نے یہ کیسی برف باری دیکھی تھی۔جس نے اس کے اندر کے بہاروں کو ختم کر ڈالا تھا۔سارا سبزا سفیدے میں بدلتا جا رہا تھا۔
”اور خزاں کتنی بھی خوبصورت کیوں نہ ہو ،وہ بہار کو نگل لے تو موت ہوتی ہے۔“
اور مشرقی لڑکیوں کے لیے یہ موت جلد نازل ہوتی ہے۔وہ برف سے اٹی زمین پر چل رہی تھی لیکن ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ وہ زمین میں دھنس رہی ہے۔
دل احساسات کا اکھاڑا ہے اور دماغ اس اکھاڑے کا شیر……یہ شیر ڈھارتا ہے تو دل جل کر….بجھ کر….ٹھنڈا ہو کر بیٹھ جاتا ہے……مشرق کے اکھاڑوں میں یہ شیر نگر نگر پایا جاتا ہے……
مشرقی سنیاسی بھی ہے اور سامری بھی…….
مشرق میں پربت بھی ہے اور پاتال بھی…….
سنگ پارس بھی….سنگ راہ بھی…..
جوت بھی….جھوک دیپ بھی……
یہاں جوگ بھی اورجوگن بھی….
ایسی زرخیز دھرتی کے باسیوں پر موت کیوں نازل نہ ہوا کرے
*……….*………*
کہا جاتا ہےکہ شادی ایک ایسا مقدس فریضہ ہے جس کی ادائی کے دوران آپ فرشتوں سے ”ابدی محبت“کی دعاؤں کے تحائف وصول پاتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہےکہ شادی خوش نصیب لوگ کرتے ہیں۔کچھ یہ بھی کہ کائنات میں حقیقی خوشی کا لمحہ دو دلوں کے مقدس ملن کا لمحہ ہوتا ہے۔اور جائز ہونے کی بڑی اہمیت ہے۔ اور اجازت نامے کا بلند رتبہ ہے ….بلند…بہت بلند۔
اور پاک کتابیں ،حکایتیں بتاتی ہیں کہ کائنات کی،اشرف المخلوق کی اولین شادی عرش خدا پر انجام پائی اور بعد از ہونے والی ہر شادی عرش خدا پر انجام پائی شادی کا ہی رتبہ پاتی ہے۔
نکاح….سب سے پاک اور پسندیدہ روایت…..
نکاح…..دو دلوں کی فضیلت……
اور دستانیں یہ بھی کہتی ہیں کہ تبت کے برفیلے پہاڑوں میں روپوش ایک مشک بار پری،اپنی بہترین پوشاک میں طویل مسافت طے کرتی اس مشک مشک بندھن میں بندھنےوالوں پر مشک بید(بید کے خوشبودار پھول ) برسا کر جاتی ہے۔جاتے جاتے وہ تحفے کے طور پر دلہا دلہن کی مسکراہٹیں اپنی مٹھی میں قید کر کے لے جاتی ہے۔اور شادی عہد قدیم کا وہ عہد نامہ بھی ہے جس کا ورد ”عہد جدید“ میں بھی عزت و احترام اور محبت سے کیا جاتا ہے۔مورگن کرسمس کی رات کو آچکی تھی ۔ماما مہر نے اس کی شادی کےلیے ٹھیک ٹھاک تیاریاں کی تھیں۔کیمبرج میں مورگن نے شادی کے بعد رہنے کے لیے جوش کے ساتھ مل کر ایک چھوٹا سا گھر لیا تھا۔جس کی سجاوٹ کے لیے ماما مہر نے پیسے مورگن اور جوش کو دیے،جو دونوں نے مشکل سے قبول کیے۔
مورگن نے شادی کے لباس ،زیورات،شادی کے دن اور آفٹر پارٹی کے سب انتظامات ماما مہر کے پسند سے کیے تھے۔حتی کہ شادی کی انگوٹھی بھی ماما مہر کی پسند کی لی تھی۔ماما مہر کے سامنے ان کی ”میں “ختم ہو جاتی تھی اور ماما مہر بھی ان کی آنکھوں میں پڑھ لیتی تھیں کہ ان کے بچے کیا چاہتے ہیں،یہ ماں اور اولاد کا وہ رشتہ تھا جس کی مثال نہیں ملتی تھی۔اپنی شادی کی تیاری سے زیادہ مورگن کو ماما مہر کے کام کرنے میں دلچسپی تھی۔پارلر جانے سے زیادہ اسے یہ فکر تھی کہ ماما جومیڈیکل چیک اپ کے لیے جانا ہے۔جوش فون کرتا رہتا تھا اور وہ اسے چند سیکنڈ بات کرکے ڈانٹ دیا کرتی تھی۔
”مجھے ڈسٹرب نہ کرو ماما کے ساتھ بات کر رہی ہوں ۔“کیمبرج کی ہزاروں داستانیں وہ ماما کو سنایا کرتی اور دونوں کی قہقوں سے شٹل کاک کونجا کرتا۔موررگن نے سادھنا اور امرحہ کو Mates Brides (شہ بالیاں)بننے کے لیے کہا ۔امرحہ جس نے پاکستان میں اپنی نحوست کی دستانوں کی وجہ سے شادیوں شرکت نہیں کی تھی۔وہ مورگن کی شادی کے لیے اتنی پرجوش تھی جیسے اس کی اپنی شادی ہو۔لیڈی مہر نے شہ بالیوں کے لیے سنہری رنگ کو پسند کیا تھا۔سادھنا کی سنہری ساڑھی بنوادی گئی تھی۔شارلٹ اور مورگن کی چند سہلیاں جن کی آمد متوقع تھی اور امرحہ کے لیے انگریزی طرز کی ٹخنوں تک لمبی فراکیں۔فراک کا اوپری حصہ قدرے چست تھا جو نیچے آتے آتے لہریں بناتے گھیر دار ہوتا چلا جاتا تھا……..ذرا سی حرکت سے ان لہروں میں تلاطم پیدا ہو جاتا جو بہت بھلا لگتا ۔سنہرے موتیوں سے فراک کی پشت کو سجایا گیا تھا اور لہروں میں ٹانکا گیا تھا کہ جنبش پر وہ لہروں کے ساتھ جھلمل کرتے گپ چھپ ہونے لگتے تھے۔امرحہ کے لیےدوپٹے کی جگہ سنہری اسکارف نما کپڑا تھا جسے کندھوں کے پیچھے سے لا کر بائیں شانے پر آگے لہریں دے کر سنہری بروچ لگا کر چھوڑ دیا گیا تھا۔یہ کا فراک کی ڈیزائینر نےکیا تھا اور کیا کمال کیا تھا کہ امرحہ دوپٹے کے اس انداز پر حیران رہ گئی۔دوپٹے کی کمی بھی پوری ہو گئی اور فیشن بھی ہو گیا ۔فراک بلاشبہ بہت مہنگی تھی اور امرحہ سے ایک پونڈ بھی نہیں لیا گیا تھا۔لیڈی مہر کی لاڈلی بیٹی کی شادی تھی۔باقی جن بچوں نے شادیاں کی تھیں انہوں نے رجسٹر میرج کی تھیں۔یہ پہلی شادی تھی جو لیڈی مہر کے خواہش پر اتنے اہتمام سے ہو رہی تھی اگر مورگن کے بس میں ہوتا تو شاید وہ ایک پونڈ بھی اپنی شادی پر خرچ نہ کرتی ۔جب شادی کے ہال میں دلہن کے کمرے میں ماما مہر نے مورگن کو دلہن بنے دیکھا تو وہ بے اختیار رونے لگیں۔وہ مورگن کا ہاتھ اپنےہاتھ میں لیے بیٹھی رہیں….اسے دعائیں دیتی رہیں۔اس کی نظر اتارتی رہیں۔اور مورگن اپنی گھیردار سفید پوشاک کو کارپٹ پر پھیلائے ماما مہر کے قدموں میں بیٹھی ان کے آنسو اپنے ہاتھ میں پکڑے ٹشو سے صاف کرتی رہی …..اس سے زیادہ مقدس منظر اور کون سا ہو سکتا تھا بھلا….؟
گلابی پھولوں کا دستہ پکڑے کونے میں کھڑی امرحہ اس منظر کو دیکھ رہی تھی۔اسے یقین تھا کہ اپنی آئندہ زندگی میں وہ اس خاتون مہر سے زیاد عظیم ہستی نہیں مل سکتی،نہ ہی وہ خود ان جیسی عظیم ہو سکتی ہے۔ جس نے ہر قوم و نسل کے بچوں سے والہانہ پیار کیا ….انہیں پالا…..انہیں اپنا بنایا….انہیں یقین دلایا وہ ان کی نہ ہو کر بھی ان ہی کی ہیں…..وہ ان کی حقیقی ماں بے شک نہیں ہیں،لیکن حقیقی ماں سے کسی صورت کم بھی نہیں ہیں۔
یہ سب کرتے خاتون مہر نے بلاشبہ دو رتبےپائے ہیں….ایک عظیم ماں ہونے کے اور ایک عظیم انسان ہونےکے ….انہوں نے ان سب کے لیے خوشیوں کے سمان اکھٹے کیے…کامیابی کے بھی….ان کے لیے محبت کو کبھی تفریق نہیں کیا…وہ انہیں جمع کر کر کےدیتی رہیں….انہیں ضرب ہو ہو کر ملتی رہی۔ کائنات میں یہ خصوصیت صرف محبت ہی اپنے نام رکھتی ہے۔یہ دینے سے اور زیادہ ملتی ہے…یہ پلٹ کر واپس ضرور آتی ہے….خسارے میں رہ کر بھی فائدے میں رہتی ہیں۔ محبت جب خلوص دل سے انسانیت کے نام پر کی جائے تو وہ آپ کو عظیم بنا ڈالتی ہے ۔
عظمت کی بلندیوں تک لے جانے کا وصف محبت کے علاوہ کسی اور جذبے میں نہیں۔

Read More:  Mohabbat Mamnoo Hai Novel by Waheed Sultan – Episode 4

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: