Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 19

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 19

اس لمحے میں امرحہ نے یہ سوچا تھا ، کچھ لوگ ہمارے اپنے نہ ہوکر بھی ہمیں کتنی خوشی دے دیتے ہیں ۔۔اور کچھ جو ہمارے اپنے ہوتے ہیں، وہ کیسے ہمیں آٹھ آٹھ آنسو رلاتے ہیں ۔ وہ دادی اور اماں کے بارے میں سوچ رہی تھی ‘ اپنے خاندان والوں کے بارے میں ‘ جنہیں اس وقت راحت ملا کرتی تھی ، جب وہ کرب میں ہوا کرتی تھی ۔ اس کی شکل دیکھتے ہی انہیں یاد آجایا کرتا تھا کہ اسے کیسے کیسے تکلیف دی جاسکتی ہے ۔

شہہ بالیاں تین تین کی قطار میں دلہن مورگن کے پیچھے دائیں بائیں اپنے اپنے گلدستے پکڑے کھڑی تھیں ۔۔ وہ ہال کے قد آدم دروازے کے پاس آکر کھڑی ہوچکی تھیں ۔ دلہن گھبرارہی تھی اور وہ بار بار اپنی سانسیں درست کررہی تھی ۔

ہال میں سب اس کی آمد کے منتظر تھے۔ دلہن کا ہی انتظار کیا جارہا تھا ۔ برطانوی معاشرے میں جہاں ایک منٹ ادھر سے ادھر نہیں ہونے دیا جاتا ، صرف ایک دلہن کو دس منٹ تاخیر کی اجازت ہے ۔ لیکن انگریزی خون کی حامل دلہنیں دس منٹ کی تاخیر بھی گناہ سمجھتی ہے ۔۔ برطانوی شہزادی ‘لیڈی ڈیانا ‘کی بہو کیٹ مڈلٹن ڈجر آف کیمبرج نے ایک سیکنڈ کی تاخیر بھی نہیں کی تھی ۔۔ پاکستانی دلہنیں اور باراتی سن لیں ایک سیکنڈ کی تاخیر بھی نہیں ۔۔

اور وقت کی پابندی وہی قومیں کرتی ہیں جنہیں وقت پر منزل پر پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے ۔۔ جو وقت کو ہندوستان کے کوہ نور سے زیادہ قیمتی سمجھتی ہیں۔۔ وہ نہیں جن کی کوئی منزل ہوتی ہے نا مقصد ۔۔وقت آئے یا جائے انکی بلا سے ۔۔ اور وہ کیا جانے وقت کس کوہ نور کا نام ہے ۔

اور یہ خوش قسمتی بھی صرف عورت کہ نصیب میں لکھی گئی ہے کہ دلہن بنے اسے کسی شہزادی اور ملکہ سے کم نہیں سمجھا جاتا ۔

عورتوں کو اپنی کم مائیگی کہ رونے رونا چھوڑ دینے چاہئے ۔۔ وہ ماں بنتی ہیں تو سب رشتوں سے ایک اونچے مقام پہ کھڑی تصور کرلی جاتی ہیں ۔ ایک کم عقل بھی سمجھ جاتا ہے کہ’عورت ماں بن جائے تو پھر کوئی اسکی برابری نہیں کر سکتا۔۔
بلند و بالا چھت اور قد آدم پھولوں سے سجی کھڑکیوں سے گھرے قدیم برطانوی طرز تعمیر کے چرچ نما ہال کے سرخ قالین پہ سفید رنگ کی سنڈریلا فراکیں پہنے اور سر پہ گلابی ربن باندھے دو انگریز بچیاں اپنی پھولوں کی ٹوکریوں میں سے پھولوں کی پتیاں نکال نکال کر دلہن مورگن کے آگے چلتے ہوئے پھینک رہی تھی ۔

دلہن نے ہال کے کھلے پھاٹک سے اندر قدم رکھا ۔سب کی گردنیں پیچھے اسکی طرف مڑیں ۔ٹھیک اسی وقت ہال کے اندر پادری سے ذرا ہٹ کر بیٹھے سولہ رکنی وائلن گروپ نے اپنے ساز سنبھالے اور نرمی سے انہیں چھیڑا ۔ وہ اس دھن کو بجانےکی تیاری کرنے لگے جو فرشتوں کی دعاوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوسکے ۔

ٹھیک اسی وقت’ عین اسی وقت کوئی تیزی سے بھاگتے ہوئے کالے سوٹ پر ہلکے نیلے رنگ کی ٹائی باندھتے دلہن کے پیچھے تین ادھر ادھر قطار کی صورت چلنے کی تیاری کرتی شہہ بالیوں کے پیچھے آیا ۔ امرحہ دائیں طرف شارلٹ کے پیچھے آخر میں تھی ۔۔

سنہرے پانیوں سے نکلی ۔ایک امرحہ ۔۔

عربی شہزادے کے گھوڑے سے اترا ۔ ایک عالیان ۔

وائلن کے دھیمے سر اسی وقت دلہا دلہن سے سجے ہال میں بکھرے۔

عالیان کی آمد کی ایسی خوشی ۔۔

کیا انٹری تھی عالیان کی ۔۔وہ سر سنگیت ساتھ لایا تھا ۔۔

آہٹ پر امرحہ نے گردن موڑ کر دیکھا ۔ وہ جلدی جلدی اپنی ٹائی کو باندھنے کی کوشش کررہا تھا ‘ شایداس نے زندگی میں پہلی بار سوٹ اور ٹائی پہنی تھی ۔

ٹائی کو وہ ایسے باندھ رہا تھا جیسے گلے میں پھندے کو فٹ کررہا ہو ۔۔

اسے تو ایک ہفتے بعد آنا تھا ‘ ایک ہفتہ پہلے کیسے آگیا تھا ۔۔امرحہ کے پیچھے چلتے وہ اپنی ٹائی کے ساتھ مصروف تھا ۔ شاید اسے بھی خود کو ہر صورت دلہا کی طرح خوبصورت دکھانا تھا ۔۔اس کے بال سلیقے سے جمے تھے ۔۔

“کہا جاتا ہے کہ شادی کے دن کوئی مرد اور کوئی عورت دلہا دلہن سے زیادہ خوبصورت نہیں لگ سکتے ۔اور یہ میرا کہنا ہے کہ اگر کوئی لڑکا یا لڑکی دلہا دلہن سے زیادہ خوبصورت لگنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے معاملےمیں شدید گڑبڑ ہوتی ہے ۔اس کی شادی نہیں بھی ہوتی اور وہ اپنی شادی جیسا خوش ہوتا ہے ۔
ہنسنے کی بات نہیں بھی ہوتی تو ہنس رہا ہوتا ہے . شدید گڑبڑ کا معاملہ ہوتا ہے بلاشبہ” مجھے بتایا جائے کہ دلہن کون ہے؟ کیا صرف سفید لباس والی ؟

Read More:   Kaho Mujh Se Mohabbat Hai by Iqra Aziz – Episode 6

امرحہ کے عین پیچھے چلتے موتیوں سے گندھے بالوں سے ذرا پیچھے ذرا قریب ہوکر سرگوشی میں پوچھا ۔امرحہ نے اسکی بات پہ توجہ نہ دی۔ وہ سفید پھولوں سے سجے ہال کو دیکھ رہی تھی اور بے حد اونچی چھت سے جھولتے کئی میٹر چوڑے اور لمبے فانوس جس کی روشنی نے سارے ہال کو بقمہ نور بنا ڈالا تھا ۔وائلن تھے ۔نغمے تھے ۔۔ عالیان اور امرحہ تھے اور اس تقریب کو کیا چاہئے تھا ؟؟

لیڈی مہر کے سن بچے اپنے اپنے بچوں ‘بیویوں اور کچھ دوسرے دوستوں کے ساتھ موجود تھے ۔ باقی جوش کے گھروالے اور دوست تھے ۔کافی زیادہ لوگ تھے ‘سب دو اطراف نشستوں پہ براجمان تھے ۔

امرحہ کے پیچھے سے گھوم کر ماما مہر کے ہاتھ چوم کر عالیان جلدی سے جاکر دلہا کے پاس کھڑا ہوگیا ۔ اس نے جوش سے ہاتھ ملایا ۔ اپنا تعارف کروایا اور جوش کے شہہ بالے کے ساتھ جاکر کھڑا ہوگیا ۔۔

دلہن پادری اور دلہا کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی سب کھڑے ہوگئے ۔۔ تعظیم میں پھر شادی کی رسم شروع ہوگئ ۔۔

اجازت نامہ دیا جانے لگا ۔
اجازت نامہ دہرایا جانے لگا۔
شہہ بالیاں دلہن سے پیچھے ہٹ کر قطار میں کھڑی ہوگئیں ۔ وہ سب دلہا اور دلہن کو دیکھ رہی تھی ۔امرحہ واجد آج بہت خوش تھی ۔یہ پہلی تقریب تھی جس میں وہ روئے بنا شریک تھی ۔ڈرے بنا ۔اسے کونے میں جھینپ کے بیٹھنے کی جلدی تھی نہ ضرورت ۔اس کے لئے وقت بدل چکا تھا ۔۔ وہ پھولوں کو تھامے ‘ گردن اٹھائے ‘مسکراہٹ سجائے خوبصورت لگ سکتی تھی ۔خوش ہوسکتی تھی ۔وہ خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔خوش تو وہ بلاشبہ بہت تھی ۔۔

مشک بار پری آچکی تھی اور مشک بید برسارہی تھی ۔ شاید وہ تھوڑی سی اور مہربان ہوگئ ہو اور اس نے دلہن کی طرح خوبصورت لگنے والی امرحہ پر بھی کچھ مشک بید پر برسائے ہوں ۔۔

اگر اس نے یہ کام نہیں کیا تھا تو یہ کام عالیان کر رہا تھا ۔۔اس کی بھوری آنکھیں سنہری ہوتی جارہی تھی ۔ امرحہ اس سے ذرا فاصلے پر فاصلے پہ کھڑی تھی ۔۔ امرحہ کو نہیں معلوم تھا کہ وہ دلہا کے پیچھے کہیں کھڑا ہے ۔ نہ ہی اس نے معلوم کرنا چاہا اور عالیان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے علاوہ بھی کوئی ہال میں موجود ہے ۔

دلہا، دلہن ۔۔۔ اچھا ۔۔اور دوسرے لوگ ۔۔کیا واقعی یہ ہال میں موجود ہیں ۔۔ ایسا ہوگا ۔۔ میرا نہیں خیال ۔۔۔

قدیم اور پر شکوہ چرچ نما کئی سو گلدستوں سے سجے وسیع ہال کے جگمگ کرتے فانوس کے عین نیچے بچھے سرخ قالین پر کھڑا گرانٹ پرنیاں کے سر کی طرف جھک رہا تھا ۔۔ اس بار وہ ” Gloxinia” کو اس کے نفاست سے گندھے سنہری موتی جڑے بالوں میں لگا رہا تھا پھر اس نے پرنیاں کے ہاتھوں کو تھام لیا اور دلہن کی طرف دیکھنے کا اشارہ کیا ۔۔ تم میرے لئے ہمیشہ اس پہلے دن کی دلہن کی طرح خوبصورت اور خاص ہوگی ۔۔

اس بار تمہیں اس عہد نامے کو سب کے سامنے دہرانا ہوگا ” پرنیاں نے ادا سے سے کہا ۔۔

میں عالیان کے ساتھ اس عہد نامے کو دہرانے کے لئے تیار ہوں ۔”
“میں امرحہ کی طرح انتظار کرنے کے لئے تیار ہوں ” پرنیاں نے بالوں میں لگے “Gloxinia ” کو محبت سے چھو کر کہا ۔۔ساتھ ہی وہ مسکرائی ۔وہ مسکرا سکتی تھی ۔۔اس کے ہاتھ گرانٹ نے تھام رکھے تھے ۔

عالیان مسکرایا ۔۔وہ مسکراسکتا تھا ۔۔۔ اس کی آنکھوں نے سنہرے رنگ کو تھام رکھا تھا ۔گلابی پھولوں کے گلدستے میں مسکراہٹ ان کی تھی ۔۔

جھلمل کرتی موتی جڑی لہروں میں میں اس کا دل لک چھپ ،گپ چھپ ہورہا تھا ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے بھاگ کر جائے اور وائلن کو اپنی ٹھوڑی تلے لے کر دھنا دھن کر ڈالے یا۔۔ چھت کے ساتھ جھولتے فانوس کے ساتھ جھول جائے اور اعلان کرتا پھرے ۔۔ یا کئی پھولوں کے گلدستوں کو اپنی بانہوں میں بھر کر سنہری پوشاک کے قدموں تلے ڈھیر کردے ۔۔
اور یہ بھی کم تھا ۔یہ سب بھی کم تھا ۔۔
سب کم ہی ہوتا ہے ۔۔سب کم ہی لگتا ہے ۔۔
محبت اس عروج کا جذبہ ہے کہ سب ادائیگیاں تولہ ماشہ ہی لگتی ہیں ۔۔

* * *

یونیورسٹی پھر سے آباد ہوچکی تھی ۔۔ سترہ جنوری سے امتحانات شروع تھے ۔ سب دن رات پڑھنے میں مصروف ہوچکے تھے ۔۔اس کے سب دوست اس کے لئے کوئی نہ کوئی تحفہ لے کر آئے تھے ۔۔ وہ خوش تھی کہ سب نے اسے یاد رکھا تھا لیکن وہ کسی کو بھی یہ نا بتا سکی کہ اس نے سب کو کتنا یاد کیا تھا ۔۔ ان کے جانے کے بعد اس کا کیا حال ہوا تھا ۔
“میں واپس آچکا ہوں ”
“مجھے نظر آرہا ہے ۔” مورگن کی شادی کے بعد یہ ان کی پہلی ملاقات تھی ۔
تو چلیے پھر “۔ ؟ وہ سوئیڈن کا پانی پی کر پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوکر آیا تھا ۔
” کہاں “۔ ؟
” ہوم کمنگ ڈرنک کے لئے “۔ ( گھر واپسی کی دعوت کے لئے )
جو جاچکے تھے انہوں نے جو مانچسٹر میں رہ چکے تھے ان سے ہوم کمنگ ڈرنک پی تھی ۔
کھانے پینے کا اچھا انداز تھا ۔
“میں ایسی ڈرنک کو نہیں جاتی “۔ وہ صاف مکر گئی جبکہ وہ ویرا این اون کو پلا چکی تھی ۔
” نہیں جاتی تو میں بتا دیتا ہوں ‘ ٹونی ولسن کہتا ہے

Read More:   Us Bazar Mein by Shorish kashmiri – Episode 1

“This is Manchester we do
things different here “

(یہ مانچسٹر ہے ہے ‘ ہمیں انفرادیت کا خبط ہے )

تو جب ہم گھر واپس آتے ہیں تو اسے بھی مختلف انداز سے ٹریٹ کرتے ہیں ۔ تم مانچسٹر میں ہو ،تمہیں یہ کرنا پڑے گا ۔
صرف دو پونڈ کی کاک ٹیل ۔۔اور بس “۔ وہ جان چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا ۔
وہ اسے دو پونڈ کی کاک ٹیل کے لئے قریبی کیفے لے آئی جہاں اور بھی بہت سے اسٹوڈنٹس دو پونڈ کی کاک ٹیل پی رہے تھے ۔۔

” نئے سال کے لئے کیا کیا عہد و پیمان کئے ہیں تم نے “؟ ۔
” سستی نا کرنا اور وقت پر نوٹس بنانا ۔۔ دوسرے سیمسٹر میں %80 رزلٹ لانا “۔ عزم سے کہ کر وہ مسکرانے لگی ۔۔
وہ ہنسنے لگا لیکن امرحہ نے کوئی لطیفہ نہیں سنایا تھا ۔۔

” اب تم ہنسےکیوں ۔۔۔؟؟ “

“کیونکہ تحقیق کہتی ہے کہ ساٹھ فیصد سے زیادہ لوگ سال کے پہلے ہی ہفتے خود سے کئے عہد کو بھلادیتے ہیں اور باقی کے چالیس فیصد سے زیادہ افراد یہ کام چھ ماہ کے اندر کر گزرتے ہیں “۔

“میں ان ساٹھفیصد میں سے ہوں نہ ہی چالیس فیصد ۔۔۔ میں سے ۔۔” اس نے عزم سے کہا ۔
” مجھے فخر ہے تم پر ۔” اس نے اسے چڑایا۔۔ دو پونڈ کی ڈرنک وہ آہستہ آہستہ پی رہا تھا کہ وہ ختم نہ ہو جائے ۔۔”تم دیکھ لینا،میں شاندار کامیابی حاصل کروں گی۔“
”میں ضرور دیکھنا چاہوں گا….“سویڈن کا پانی اسے بری طرح راس آیا تھا۔
”تم مجھے چیلنج دے رہے ہو ۔“
”میں تمہیں چیلنج دے رہا ہوں….“ٹیبل پر مکا مار کر اس نے کہا۔
”اگر میں جیت گئی….؟“امرحہ نے انگلی اُٹھا کر کہا۔
”مشکل ہے ۔“
”اگر میں جیت گئی بولو…..پھر“
”ناممکن ہے “دو شانے نہ میں ہلائے
”امرحہ نے غصے سے اس کی طرف دیکھا ۔”پاکستان میں ایسے موقعوں پر کہا جاتا تھا تمہارے منہ میں خاک..“وہ بڑبڑا کر رہ گئی۔
”تو جو تم کہو گی، میں وہ کروں گا….وہ گلے میں پھندا ڈال کر چھت سے لٹک جانا ہی کیوں نہ ہو ۔“اوہ اتنا نالائق سمجھتا تھا وہ امرحہ کو…..
”ٹھیک ہے پھر ڈیڑھ سال بعد ملتے ہیں….اسی میز پر،تیار رہنا پھندا ڈالنے کے لیے۔“
”مطلب تم ڈیڑھ سال تک مجھ سےملو گی نہیں…..میں چیلنج واپس لیتا ہوں “
اف !مطلب اس معاملے کو ہم ڈیڑھ سال بعد دیکھیں گے…..؟
”ٹھیک ہے۔“وہ مسکرانے لگا ۔چڑانے والی مسکراہٹ۔
”یہ انگریز خود کو سمجھتے کیا ہیں…..سمجھتے ہیں،سب یہی کر سکتے ہیں ۔ہم کچھ کر ہی نہیں سکتے ….سب کرسکتے ہیں ہم ….خیر امرحہ دیکھ لے گی اس انگریز کو اب….امتحانات میں ایک ہفتہ تھا اور سب جنوری کے پہلے ہفتے ہی واپس آچکے تھے اور جنوری کی برف باری میں ایران کا محسن رسولی اور مصر کا موسٰی فٹ بال کھیلنا چاہتے تھے۔امتحان تو پھر آجائیں گے بلکہ سال میں دو بار….لیکن اسی غضب کی سو سالہ ریکارڈ توڑتی برف باری شاید پھر نہ آئے۔ایرانی اور مصری یقیناً سوتے میں بھی خود کو فٹ بال کھیلتے پاتے ہوں گے اور اپنی زندگی کے خاص دن ”شادی “پر بھی فٹ بال کھیلنے کے بلاوے کو رد نہیں کر سکتے ہوں گے۔محسن رسولی نے دو ٹیمیں جمع کر لی تھیں،میچ کے لیے برف سے اٹے گراؤنڈ میں رات کو میچ تھا…..برف کا ڈھیراور اس پر فٹ بال میچ …واہ…..
”تم بھی میرے ساتھ کھیلو گی؟“ویرا نے کہا۔
امرحہ ہنستے ہنستے بے حال ہو گئی ۔
”کیا مصیبت آگئی ہے تمہاری جان پر؟“ویرا نے گھونسا مارااس کی کمر پر۔
”میں نے کبھی موبائل پر فٹ بال گیم نہیں کھیلی۔تم مجھے برف پر خونخوار کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنےکے لیےکہہ رہی ہو …یعنی میری موت برف پر واقع ہونی ہے۔“
”کون سا کھیل کھیلتی ہو تم؟“ ویرا ایک اور گھونسا مارنے کے لیےتیار ہوئی
”لڈو دادا کے ساتھ ….ہاہاہا،کبھی کبھی کرکٹ ،وہ بھی اگرکوئی بچہ گیند کروائے آہستہ سے تو میں بلا چلا لیتی ہوں….ٹینس بال سے ہارڈ بال سے بالکل نہیں“
”تو تم لڑکیاں فارغ وقت میں کیا کرتی ہوپاکستان میں ،سائیکل تم نہیں چلاتیں،دوڑ لگانے کے لیے تمہیں کہا تو تم نے انکار کر دیا تھا……کوئی گیم بھی نہیں آتی تمہیں ….کھانےکے علاوہ کچھ کرنا آتا ہے؟“
”ہاں نا….چغلیاں کرنا اور بات بات پر لڑنا۔“امرحہ نے اردو میں کہا اور ہنسنے لگی۔
تو امتحان چھ دن بعد شروع تھے اور وہ میچ کھیلنے کی تیاری کر رہے تھے۔لڑکیوں میں ایک ویرا تھی اور ایک لاء ڈیپارٹمنٹ کی وکٹوریہ….وکٹوریہ کارل کی ٹیم میں تھی اور ویرا محسن رسولی کی ٹیم میں ….جس طرح کی بمبار کھلاڑی ویرا تھی، اسے دونوں ٹیمیں شامل کرنے کے لیے تیار تھیں،لیکن ویرا نے چلا کی کی اس نے محس رسولی کی ٹیم میں شمولیت کی….محسن رسولی اپنی یونیورسٹی میں فٹ بال کے لیے ہی تو مشہور تھا۔اس کے امکانات روشن تھے جیتنے کے….اور وہی ہوا ،محسن رسولی کی ٹیم جیت گئی…… دو تین سے …..سو دو سو کے قریب اسٹوڈنٹ آئے تھے میچ دیکھنے ،دستانے پہنے،مفلر لپیٹے،کافی پیتے،منہ سے بھاپ اُڑاتے…..ہر گول پر گرونڈ کو سر پر اُٹھا لینے والے ……امرحہ کو بھی پڑھنا تھا لیکن وہ ویرا کے لیے آگئی تھی۔ اور اچھا ہی کیا آگئی ورنہ برف کے ڈھیر پر فٹ بال کے ساتھ بمباری کرتی ویرا کو کیسے دیکھتی۔امرحہ کا حلق بیٹھ گیا تھا چلا چلا کر….اس نے کس قدر حسرت سے ویرا کو دیکھا ،وہ برف کے ڈھیر پر فٹ بال کے ساتھ ایسے بھاگ رہی تھی جیسے لاؤنج میں کارپٹ پر بھاگ رہی ہو ….اس کے چہرے پر ایسے تاثرات تھےکہ وہ برف میں خود کو دفن کر لے گی لیکن ہار گی نہیں….کارل نے پہلا گول کیا تھا اور ویرا نے اسے ایسے دیکھا تھا جیسے اس کی گردن دبوچ لے گی….اور اس نے گردن دبوچ لی تھی،اس نے یکے بعد دیگرے دو گول کیے تھے….مخالف ٹیم کی کمر تھوڑ ڈالی تھی….وہ پریشر میں آئے اور بمشکل مزید ایک گول کر کے ہار گئے۔
”ویرا….ویرا“ اسٹوڈنٹ نے گرونڈ سر پر اُٹھا لیا ۔ویرا ڈیوڈ بیکھم کی بے نیازی اور میسی کی چھپی رستمی لیے اسٹوڈنٹس کو دیکھا ،ہاتھ ہلایا…اور اپنی دائیں آنکھ کے کنارے کو رگڑ کر کارل کو دیکھ کر آنکھ ماری….کارل کو تو آگ ہی لگ گئی ….اس کی شکل دیکھنے لائق تھی…ٹیم غصے میں آکر بھڑک چکی تھی اور ویرا شاید یہی چاہتی تھی ۔وہ بھڑک بھڑک کر برف پر گرتے جاتے تھے۔محسن رسولی کی ٹیم فٹ بال لیے اُڑی جاتی….ویرا برف کی پیدوار تھی اسے برف پر ہرانا مشکل تھا….یہ اس کی بے عزتی ہوتی….اور اس نے روس کی برف کی عزت رکھ لی ….اور وہ لوگ میچ جیت گئے۔امرحہ کو بڑی خوشی ہوئی ،ویرا کے جیتنے کی نہیں، کارل کے ہارنے کی….وہ سب لوگ گرونڈ کے گرد گھیرا بنائے کھڑے دونوں ٹیموں کے میچ دیکھ رہے تھے۔میچ ختم ہوا سب کو پھر سے پڑھائی یاد آگئی اور سب جلدی جلدی کھسکنے لگے ۔اب امرحہ نیٹ کے پاس کھڑی منہ کھولے ہنس رہی تھی ۔اس کا جی چاہ رہا تھا ویرا کو کاندھوں پہ اُٹھا لے….ورنہ کارل کو ہی اُٹھا کر پھینک دے….اور نہیں تو برف پر پیٹ پکڑ کر لوٹ پوٹ ہوتے ہنسے….کچھ میچ اس نے دادا کو بھی دیکھایا تھا اور وہ بھی ویرا ویرا چلا کر لاہور میں بیٹھے ویرا کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔
”تمہیں بڑی ہنسی آ رہی ہے۔“وہ دونوں ہاتھ سینے پہ باندھ کر اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔،کافی سنجیدہ لگ رہاتھا۔جیسے ہار کے بعد لوگ لگا کرتے ہیں۔
”ہاں آ رہی ہے….“امرحہ نے ایک اور قہقہہ لگایا ….برا کیا
آنکھوں کو چندھیا کر کارل نے اسے تاڑا….جیسے کہا”اچھا تم….تم ٹھیک ہے پھر۔“
وہ چند قدم آگے چلا ،اس کے ہاتھ میں فٹ بال تھا اور پھر وہ ایک دم سےپلٹا ۔امرحہ ویرا کی طرف جانے ہی لگی تھی۔اس کا دھیان کارل کی طرف نہیں تھا،کارل نے پلٹ کر پوری قوت سے اس کے سر پر فٹ بال کی کک لگائی….ارحہ توازن قائم نہ رکھ سکی اور گر گئی….جیسے ہی وہ گری ،کارل نے تیزی سے اس کے سر پر جمی سرخ اونی ٹوپی کو کھینچ کر اسکی ناک تک گھسیٹ دیا….جی ناک تک…..
”یہ کیا بدتمیزی ہے؟“امرحہ چلائی….یہ بھی برا کیا امرحہ نے ۔کارل نے مٹھی بھر برف اس کے چلاتے منہ میں ٹھونس دی ۔امرحہ نے ہاتھ سے برف منہ سے نکالی۔کارل نے تیزی سے اپنے گلے میں سے اونی مفلر کو نکال کر اس کی گرہ بنا کر اس کے دونوں ہاتھوں میں ڈالی اور گرہ کس دی….وہ جو اُٹھنے کی کوشش کر رہی تھی اور لڑھک گئی

Read More:   Mery Khawab by Mubarra Ahmed – Episode 2

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply