Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 2

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 2

رات کے پہلے پہر سے آخری پہر تک۔۔۔۔پھر اپنے اسکول بیگ میں اپنے چند کپڑے رکھ کر گھر سے نکل گئی۔۔۔۔چلتی گئی چلتی گئی۔۔۔ حد تو یہ کہ پہلی بار سڑک پر یہاں وہاں پھرتے آوارہ گندے کتوں سے بلکل نہیں ڈری۔۔۔۔آنکھوں میں اشک لیے۔۔۔کندھے پر اسکول بیگ لٹکائے ایسے چلتی جا رہی تھی جیسے خدانخواستہ دنیا میں اکیلی ہو۔
کچھ دور آگے جا کر سمجھ میں نہ آیا کہ اب کہا جائے۔۔۔۔تو سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر رونے لگی۔
” تھکا ڈالا تم نے مجھے امرحہ” دادا اسی فٹ پاتھ پر اسکے ساتھ بیٹھ گئے ہاتھ میں پانی کی بوتل تھی۔ پہلے خود پیا پھر اسے پلایا۔
” میں نے گھر چھوڑ دیا ہے” پانی پی کر وہ چلائی
“ایک دن تو تمہیں وہ گھر چھوڑنا ہی ہے ۔۔۔وہ تمہارا گھر ہے بھی نہیں بچے”
“جاتے کیوں نہیں ہیں آپ دبئی۔۔۔۔کر لیا ہے نا میں میٹرک”
دادا گڑ بڑا گئے۔ ” میں بوڑھا،کمزور،بیمار شیمار رہنے والا بندہ اب کہں جاوں گا ملک سے باہی وہ بھی کام کرنے۔۔۔۔۔ خود سوچ بچے۔۔۔کتنا بوڑھا ہو گیا ہوں میں۔۔۔۔بہرا بھی تو ہو رہا ہوں”
” تو وعدہ کیوں کیا تھا؟” بابا کے مارے تھپڑ کو بھول کر وہ اس بات پر ہچکیوں سے رونے لگی کہ دادا نے وعدہ پورا نہیں کیا۔
دادا بہت دیر چپ ہی رہے۔۔نو عمری پھر امرحہ جیسا دکھی دل۔۔۔اب کوئی جھوٹی تسلی اسے نہیں دی جا سکتی تھی۔ “تم کیوں نہیں چلی جاتی امرحہ؟”
” کہاں؟” ایک بڑی ہچکی لی کر اس نے کندھے سے اسکول بیگ اتارا۔
“دبئی، امریکا، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس”
“میں امریکا، فرانس”۔ وہ اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگی کہ دادا کو کیسے کیسے لطیفے یاد آ رہی ہیں۔ اسکا مزاق اڑا رہے ہیں۔ یہ کوئی وقت ہے مزاق کرنے کا کرنے کا وہ بھی ایسا بھیانک۔۔۔۔
“ہاں نا۔۔۔ مرزا کمال کی نواسی نے ایف ایس سی میں ٹاپ کیا ہے اس سال۔۔۔اسے اسکالرشپ ملا ہے۔دو دن ہوئے وہ کینیڈا چلی بھی گئی ۔۔۔۔ امرحہ! تم ایس سی میں ٹاپ کر لو۔”
“میں۔۔۔۔؟” پھر وہی بھیانک مزاق کا انداز۔۔ اف یہ دادا۔۔۔
” ہاں امرحہ بچے۔۔۔ ٹاپ کرو اور چلی جاو۔۔۔مرزا کمال کی نواسی سات سال بعد آئے گی واپس بلکہ سمجھو آئے گی ہی نہیں۔۔۔ پڑھائی ختم ہونے کے بعد اسے کینیڈا میں ہی 3 سال سروس کرنی ہوگی۔۔۔ ہوں ہو گئے دس سال۔۔۔ دس سال وہ بھی کینیڈا میں۔۔۔وہاں بیس پچیس لاکھ لگا کر جایا جاتا ہے، وہ مفت میں چلی گئی ہے۔ دیکھ لو؟ امرحہ! تعلیم کے کتنے فائدے ہیں۔آپ خود کو منوا لو تو دنیا آپ کو ہاتھوں ہاتھ لیتی ہے”
رات کے آخری پہر سڑک کے کنارے بیٹھے دادا اسے اول ارسطو سے کم نہیں لگ رہے تھے جو سکندر اعظم کو تاریخی فاتحوں کی فتوحات بڑے سلیقے سے سمجھا رہا تھا۔
اور پھر سکندر اعظم بھی تو فاتح رہا تھا۔
اور یوں اس نے بہت دل سے دادا کے ساتھ جا کر کالج میں داخلہ لیا۔۔۔ رات دن پڑھائی۔۔۔بس پڑھائی۔۔۔ٹاپ کرنا اس نے خود پر لازم کر لیا بلکہ فرض اول ما لیا۔۔اسے اتنا یقین تھا خود پر کہ وہ خود ہی سب دوستوں اور ہم جماعتوں کوبتانے لگی۔۔۔
“مجھے تو کینیڈا جانا ہے پورے دس سال رہوں گی وہاں”
أس کا انداز ایسا ہوتا جیسے کسی اور دنیا کا باشندہ ہو اور کہے رہا ہو کے “مجھے اپنی دنیا میں جانا ہے یہاں حادثاتی طور پر آگیا ہوں
ہاں بس کبھی کبھی قسمت ایسے ہی خراب ہو جاتی ہے”
“ﮈاکٹر بن جاؤں گی۔۔۔ مزے سے زندگی گزاروں گی”
یہ کہتے وہ ایسی شہزادی بن جاتی جو بوڑھی ملکہ کے مرتے ہی خود ملک بن جاتی ہواور اب بس اس نے بوڑھی ملکہ کے دن بھی گننا شروع کر دیے ہوں
“ہاں ہاں میرے فیوچر پلانز میں شروع سے یہی شامل تھا مجھے یورپیین ممالک میں ہی زندگی گزارنی تھی یورپ کو وہ صرف کینیڈا تک ہی جانتی تھی اور مانتی تھی اور کہے ایسے رہی تھی جیسے سات براعظم کو گھوم کر ایک یورپ کا انتخاب کیا ہو…
” بس یہ دو سال ہیں جلدی سے امتحان ہوں اور میں جلدی سے جاوں”
سورج کو اتنی جلدی دھوپ لانے کی اور چاند ستاروں کو روشنی لانے کی اتنی نہیں جلدی ہوگی جیتنی اس کو یہاں سے بھاگنے کی۔۔۔
ان دو سالوں میں وہ بہت خوش رہی اس نے کینیڈا کی اتنی معلومات اکٹھی کر لی تھی کے خود کنیڈین بھی اتنا نہیں جانتے ہوں گےدادا نے اس کو وہ ساری کتابیں لادیں جس میں کنیڈا لفظ کہیں نہ کہیں آتا تھا اور پہر رزلٹ آگیا ٹاپ بھی ہو گیا پر افسوس کسی اور کا۔۔۔وہ اےپلس بہی نا لےسکی۔۔۔رو رو کر اس نے اپنا حشر برا کر لیا دادا چھپے چھپے نظریں چراے پھرتے تھے جیسے پیپر انہوں نے دے تھے اور صیح سے محنت نہیں کی تھی۔۔
چند جگہوں پر سکالشپ کے لیےاپلاۓ کیا مگر جہاں ﮈبل پلس والوں کی بھرمار ہو وہاں اے گریڈز کو کون پوچھتا ہے دادا کو ان دنوں معلوم ہوا ملک میں کتنی تعداد لائق طلباء کی ہے۔جہاں جہاں وہ اسکا فارم جمع کروانے گئے تھے وہاں موجود جم غفیر دیکھ کر انہیں خوشی تو ہوتی ساتھ ہی امرحہ کا سوچ کر افسوس بھی ہوا انہیں اندازہ ہو گیا کے سکالر شپ ملنا مشکل ہے ۔۔اور وہی ہوا جیس کا ﮈر تھا
اس کو سکالر شپ کے ایڑمیشن فارم کی بجاے معزرت کے تین لیٹر آے,,
گھر ولوں کو کوئ خبر نہیں تھی کے ان دونوں کے درمیان کیا چل رہا ہے
امرحہ کا بخار اتر کیوں نھیں رہا دادا اور امرحہ کی بول چال کیوں بند ہے۔۔۔ادھر اس کی دوستوں کے فون آنے شروع ہو گۓ۔۔ کہ کب جا رہی ہو کینیڈا
“سنو ہم سے مل کر جانا ہمت ہے جو تم اتنی دور اکیلی پڑھنے جا رہی ہو میں تو سوچ کے ہی مر جاؤں “اس نے پچھلے دو سالوں میں سب کو اتنا یقین دلا رکھا تھا کے جیسے اب تو یہ پکا گئ کینیڈا۔۔۔ وہ یہ سب طنز نہیں کر رہی تھیں پر امرحہ کو طنز ہی لگ رہے تھے نا۔۔۔بابا نے اسکی منگنی کر دی۔۔۔ اس نے بھی کروالی کہ کینیڈا تو گئے نہیں دوسرے گھر ہی چلو۔۔۔لیکن دوسرے گھر بھی نہ جا سکی۔۔۔چھ مہ بعد ہی منگنی ٹوٹ گئی۔ظاہر ہے انہیں بھی خبر ہو گئی کہ اس لڑکی کی پیدائش اور بعد از پیدائش سے کیسے کیسے واقعات جڑے ہیں۔۔۔بابا کو غصہ تو بہت آیا لیکن کیا کر سکتے تھے۔۔۔اماں اور دادی پر ناراض ہوئے کی کیوں ایسی ایسی باتیں کر کے امرحہ کو اتنا مشہور کر دہا ہے کہ اسکا رشتہ ہی ختم ہو گیا۔۔ اماں اور دادی بھی پچھتائیں پر اب دیر پو چکی تھی نا۔۔۔..
پھر دوسرا رشتہ ہوا.بابا نے فورا شادی کی تاریح دے دی لڑکے والو کو.نہ منگنی نہ نکاح فورا شادی اور شادی سے 15 دن پھلے جب وہ اپنا سرخ شرارہ پہن کے دیکھ رہی تھی اسے دولہے کی جوان بہن کے بیوہ ہونے کی خبر ملی.
قصہ ہی ختم.
اور اس بار اسے خاندان سے وہ کچھ سننے کو ملا کے اس نے دادی کی نیند کی گولیاں کھا لی.
ہفتے بعد جب وہ ٹھیک ہو کر گھر آئ تو اس کا جی چاہا کے پھر سے نیند کی گولیاں کھالے اور مر جاۓ..اماں بابا کونو کھدروں میں چھپ کر روتے ہو..دادی “ہاۓ میری جوان بچی ہمے چھوڑ کر چلی گئی” کہہ کر ہچکیاں لیتی ہو.دادا ہمیشہ کے لیے گھر چھوڑ کر چلے جاۓ اور بابا دادی دیوانوں کی ترھا دادا کو ڈھونڈتنے ہو اور دادا رات کو چھپ کر اس کی قبر پر آ کر روۓ.
اسے اپنی موت کے تصور سے ایسی راحت ملی کے سب روتے رہے گے جنہوں نے اسے رلایا ہے پر وہ یہ سب تصور ہی کر سکی دوبارہ موت کو گلے نہ لگا سکی.
دادا اس سے بات کرنے کی اسے منانے کی کوشش کرتے رهتے پر وہ دادا سے بات ہی نہ کرتی جیسے اس کے ساتھ ہوے ہر برے حادثے کے زمادار وہ ہے.
جواں لڑکی نے خود کو ختم کرنے کی کوشش کی اور یہ سب ان جاہلانہ باتوں کی وجہ سے ہوا جو وہ بچپن سے اپنے لیے سنتی آ رہی تھی.اگر وہ نیند کی گولیوں سے نہ مرتی تو ذہنی دباؤ سے مر جاتی.
میرے پاس اتنے پیسے نہیں امرحہ کے تمھے پڑھنے کے لئے باہر بیجھ سکوں نہ ہی تمہاری شادی ہو رہی ہے.میں نے تمہارے بابا سے بات کی ہے وہ الٹا مجھ پے ہںسننے لگا کے تم پر اتنے لاکھوں روپے لگا کر تمھے پرھننے کے لئے بیجنے سے اچھا ہے تمھارے لئے زیورات بنا کے رکھ لے یا تمہارے نام کے پیسے بینک میں جمع کرا دیں تا کے تمہاری شادی میں کام آۓ.دیکھوں اب تو یہ سوچ ہے ہم سب کی کے تعلیم پے پیسا لگانا بربادی سمجتے ہے اور اپنی ناک اونچی رکھنے کے لئے لاکھوں کا جھیز بنا دیتے ہے.
امرحه میں بیزار ہو ایسے لوگوں سے جو مقدس راتوں کو جاگ کر عبادت کرتے ہے اور سارا سال گناہ کی مختلف حالتوں میں مبتلا رهتے ہے.جہالت جھوٹ حسد بے ایمانی سے خود کو بچانے کی رائی برابر بھی کوشش نہیں کرتے اور وضو کر کے نماز کے لئے کھڑے ھو جاتے ہے.تمہاری سابقہ ساس جنہوں نے رشتہ ختم کیا وہ مذھبی اجلاس میں احادیث کا حوالہ دے کر تقاریر کرتی تھی…میں اس لئے بوہت مطمن تھا که تمہاری شادی وہاں ہو جاۓ..پر وہ بھی وہی خوش رنگ پھل نکلی جو اندر سے گلہ سڑا ہوتا ہے..ہماری یہ منافقت معاشرے کے سکون کو دیمک کی ترھا چاٹ رہی ہے..ہم جو خود کو سیدھی راہ پر سمجتے ہے ہم الٹی طرف جا رہے ہے..الٹے پیروں جا رہے ہے.
امرحه میرے دل کے ٹکڑے اب دوبارہ مرنے کی کوشش نہ کرنا میں کیسے اس دکھ کو جھیلوں گا.دیکھوں کوئی نا کوئی راستہ نکل اے گا.
دادا نے اسے بلوچستان کا 15 روز کا ایک اور دورہ کروا دیا اور جیسے تیسے منا کر کالج میں داخلہ کروا دیا پر اب اس کی زندگی تھوڑی تلح ہو چکی تھی اس کی 2 منگنیاں ٹوٹ چکی تھی..ماموں نے اپنے بڑے بیٹے کے لئے دانیہ کا ہاتھ مانگ لیا.
اماں اور دادی نے خود امرحہ کے لئے کھا لیکن ماموں دانیہ کے لئے اصرار کرتے رہے.
اتنے ڈر پوک ہے سب کوئی بھی رسک لینے کو تیار نہیں.وہ تلحی سے دادا سے کہتی.
” جو خدا سے دور ہوتے ہے ایسے ہی خوفزدہ ہوتے ہنے “.
میں تو خدا سے دور نہیں پھر میرے ساتھ یہ سب کیوں؟
کبھی قدرت بے خبر سونے والوں کے سر پر کنکر ماتی ہے تاکہ وہ بیدار ہو جائیں اور اپنے مقصد حیات کی طرف لپکیں….
“میرا کوئی مقصد نہیں بس خوش رہنا چاہتی ہوں ”
“ہو سکتا ھے کوئی تمہارا مقصد بن جائےاور تم ایسے خوش رہو کہ تم اپنے ماضی کے دکھوں پر ہنسو ۔ ہو سکتا ھے خدا نے تمہارے لیے کچھ اور سوچا ہو ، جو اچھا نہ ہو بلکہ شاندار ہو ۔”
مجھے اس پر شک ہے۔۔۔۔ میرے لیے بھی کیا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔کچھ بھی نہی۔۔۔۔ ہاں بس کچھ بھی نہیں ۔”
اسی دوران ایسا ہوا کہ جس سے اسکی منگنی ٹوٹی تھی اسکی شادی اسکی خالہ ذاد مائرہ سے ہو گئی ۔۔۔ مزید یہ کہ اسکی جلد پروموشن ہو گئی اور کمپنی کی طرف سے اک بہترین گھر مل گیا ۔ شادی کا تحفہ یورپ کا اک ماہ کا ٹور ۔۔مائرہ نے ایک دن اسے فون کیا ۔۔
“میں نے تو افرا سیاب سے کہاکہ مجھ سے شادی کر کے بچ گئے آپ ورنہ اگر امرحہ ۔۔۔۔۔hmmm……چھوڑو­ ۔۔۔ ویسے اچھے خاصے کنگلے ہو جاتے اور پتہ نہی کیا کیا ہو جاتا ان کے ساتھ ۔”
وہ خاموشی سے مائرہ اور افرا سیاب نامہ سنتی رہی ۔۔۔ عاجز آکر مائرہ نے پوچھا ۔
“کچھ تم بھی بولو ۔ کچھ کہو ۔”
اس نے فون بند کر دیا بس اتنا ہی جواب کافی تھا ۔
کالج وہ جارہی تھی ۔۔۔۔ دادا سے کم بات کرتی ۔ ان سے ناراض تھی ۔ دادی اور اماں اب اسے گھر میں کچھ نہی کہتے تھے ۔ گھر میں آگ بڑھکتی دادی کے پیر میں موچ آجاتی ۔حماد کا موٹر سائیکل حادثہ ہوتا یابابا کو اسٹور پر کوئی نیا نقصان اٹھانا پڑتا ۔۔ کوئی کچھ نہ کہتا کیونکہ یہ ٹھیکہ زور و شور سے اب دوسروں نے لے لیا تھا ۔۔امرحہ کو ایسا لگتا تھا کہ تاریکی کا گہرا جنگل ھے جس میں وہ بھٹکتی پھر رہی ھے اور روشنی کی کرن ھے کہ آکر نہی دے رہی ۔۔ اسے لگتا ھے کہ دنیا سب کچھ بھول جائے گی مگراسکے متعلق کچھ نہی بھولے گی ۔۔۔وہ دعا کرتی تھی کہ کاش کوئی ہوا چلے اور سبکے ذہنوں سے اسکا نام مٹا ڈالے ۔۔۔ نہ کسی کو اسکا نام یاد رہے اور نہ اس نام سے جڑے شخصیت سے جڑے واقعات ۔۔۔ گھر میں مہمان آتے تو وہ لائبریری چلی جاتی ۔ وہاں بھی شام تک ہی رہ سکتی تھی ۔۔۔پھر دادا اسے لئے لئے گھومتے پھرتےوہ ا سے بات نہ کرتی مگر انکے ساتھ گھومتی رہتی ۔ ۔ دادا جانتے تھے کہ وہ لوگوں کا سامنا کرنے سے خوفزدہ رہتی ھے خاص کر رشتے داروں اور جاننے والوں سے ۔۔۔ اور یہ خوف انھی لوگوں نے اس کے اندر پیدا کیا تھا ۔
وہ خاندان کی تقریبات اور گھر میں کسی کو دکھائی نہ دیتی تھی پھر بھی وہ ان سب میں بے حد مقبول تھی ۔۔ وہ ڈسکس کیے جانے کے لیے قہقہے لگانے کے لیےاک بہترہن موضوع تھی ۔ سانپ سیڑھی کا وہ کھلاڑی ھے جسے سانپ بار بار سانپ کھا لیتا ھے اسکی دم سے لٹکتا وہ سب سے نچلے درجوں میں آجاتا ھے ۔۔۔ بار بار ۔
امرحہ جیسی خوبصورت لڑکی کو نچلے درجوں میں دیکھنا خاندان کی حاسد لڑکیوں کا پسندیدہ مشورہ بھی تھا اور وہ حاسد لڑکیاں ہی کیا ۔۔۔کون ھے جو اپنے لیے پہلا نمبر اور دوسروں کے لیے آخری نمبر پسند نہی کرتا ۔۔
لیکن انسان تو وہی ھے نہ جو اپنی خود نمائی بیشک کرتا پھرے لیکن دوسرے کی خاموشی کی پردہ پوشی ہر حال میں کرے ۔۔اور ایسے انسان اب انسانوں کے ہجوم میں کہاں ملتے ۔۔۔
اپنے آپ سے تلخ ،اپنے ماحول سے غمگین امرحہ مایوس اور بے زار سی رہنے لگی ۔ نہ معلوم یہ قدرت کا طریقہ کار تھا یا قدرت کی ترغیب کہ اس بدتر ہوتے ماحول سے نکلنے کیلئے اس نے کوشش تیز تو کر دی۔ڈیڑھ سال کے دوران اس نے مختلف بیرونی کالج و یونیورسٹیوں کے ہزاروں آن لائن اسکالر شپ فارم بھرے۔۔۔ ففٹی پرسنٹ،سکسٹی پرسنٹ،سیونٹی پرسنٹ اس نے کسی یونیورسٹی کے کسی بھی طرح کی اسکالر شب کو جانے نا دیا۔۔دادا نے اس دوران بابا کو منانے کی بہت کوشش کی کہ چند لاکھ کی بات ہت بیٹئ پر لگا دیں۔پڑھ لکھ کر لوٹا دے گی لیکن بابا کو یہ مشورہ ہی سراسر ایک مزاق لگا
“بھلا پڑھنے لکھنے پر کوئی لاکھوں لگاتا ہے؟”
دادا کو خاموشی اختیار کرنا پڑھی، بحث فائدہ دیتی ہے نہ دلائل۔۔۔
مانچسٹر یونیورسٹی کے طلباء کی سوسائٹی اپنے ذاتی فنڈ سے پانچ اسکالرشپ دے رہی تھی۔ اسے وہاں سے بھی انکار ہو گیا۔۔دو سالوں میں اس نے دو سو بار ” سوری یو آر اے گڈ سٹوڈنٹ، بٹ وی کانٹ ہیلپ۔۔۔بیسٹ آف لک” جیسی میلز پڑھی تھیں پھر اس نے گنتی چھوڑ دی تھی۔۔لیکن ظاہر ہے انکار، ناکامی کی کوئی حد بلاشبہ نہیں ہوگی لیکن انکار سننے اور نا کامی سہنے والوں کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔
مانچسٹر یونیورسٹی کے اس انکار نے اسے ایک بار پھر گھٹنوں میں سر دے کر رلایا۔۔۔ اور اس نے بہت خفا ہو کر بہت جل کر ایک اخفی میل انہیں ضرور کی۔
“میں ہوں ہی منحوس ماری۔۔۔میں جل کر مر جاوں تو ہی اچھا ہے۔۔۔بھاڑ میں جاو تم سب اور تمہاری اسکالرشپ آفر۔۔۔”
اگلے ہی دن اسے ایک لمبی میل موصول ہوئی جس میں انتھک کوشش کرنے اور کبھی ہار نہ ماننے پر بڑا سا لیکچر تھا۔ ساتھ ہی دنیا بھر کے ان کامیاب انسانوں کی مثالیں تھیں، جنہوں نے بد ترین حالات میں بھی شاندار کامیابیوں کی بنیاد رکھی تھی۔ ان میں سر فہرست نام محمد علی اور چارلی چپلن کا تھا۔۔۔ساتھ ہی اسے بہت نرم انداز سے بتایا گیا تھا کہ میٹرک میں اسکابی گریڈ ہے،ایف ایس سی میں صرف اے اور گریجویشن بھی بہت مشکل ہے کہ وہ اے پلس کے ساتھ کر سکے۔۔۔
ایسی صورت میں جبکہ اسکے پاس شاندار اکیڈیمک رزلٹ نہیں وہ کیسے اسے دوسرے شاندار تعلیمی قابلیت رکھنے والوں کے مقابلے میں اسکالرشپ دے دیں۔۔یہ تو سراسر نا انصافی ہو گی۔
“نا انصافی ہونہہ۔۔آئے بڑے انصاف کے علمبردار۔۔۔”
آخر میں ایک چھوٹی سی سطر لکھی تھی۔جو کچھ ایسے تھی۔
“پھر بھی ہم سوچ رہے شاید آپ کیلئے کچھ کر سکیں۔۔۔ پلیز جل کر مت مریئے گا، ہمیں وقت دیں”
اس نے وقت دے دیا اسے کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ اس دوران اس کا بی اے کا رزلٹ آ گیا۔ اے پلس تو جیسے بورڈ والوں نے اس پر حرام ہی کر دیا تھا کہ جتنی محنت کر لے امرحہ واجد کو اے پکس نہیں دینا۔۔وہ بہت خفا خفا سی رہی اپنے رزلٹ سے لیکن کیا کر سکتی تھی صرف اتنا کہ ” اے پر۔۔۔ پلس کا سائن صفائی سے لگا کر اپنی ڈگری مانچسٹر میل کر دی۔۔۔ اور اس کی ذرا سی چالاکی کام کر گئی۔ پورا ایک مہینہ سوچنے کے بعد انہوں نے اسے کہا۔
“ہم آپکو سیونٹی پرسنٹ اسکالرشپ آفر کر رہے ہیں۔۔وہ بھی تیس پرسنٹ ہر حال میں آپکو دو سالہ ڈگری کے دوران واپس کرنا ہوگا۔۔۔باقی کو پچاس فیصد ائندہ آنے والے پانچ سالوں میں۔۔ اپنی رہائش اور کھانا پینا آپکو خود دیکھنا ہوگا۔ ہم صرف عارضی طور پر یہ سب مہیا کریں گے”
تو منحوس ماری اور جل مروں گی کے الفاظ کام کر گئے۔ انگریز نما پاکستانی لرز اٹھے اور اسے سکالرشپ آفر کر دیا
دادا کے ساتھ جا کر چپکے سے اسنے اپنا پاسپورٹ بنوالیا۔۔۔کچھ دادا نے اپنے اور کچھ دادا نے دوستوں سے
قرض لیا اور باقی کا تیس فیصد جمع کر کے اس کے ہاتھ میں دیا.
اب وہ دادا سے خوب چہک چہک کے باتیں کرتی..برسوں کی کٹی اب ختم ہوئی تھی..دادا پوتی میں اب پھر سے خوب بننے لگی.اس کے انداز تو کچھ آیسے تھے جیسے ہمیشہ کے لئے جا رہی ہو.اور داد کے ایسے جیسے وہ ڈگری لے کر آئے گی تو رونا دھونا مرنا مارنا بھول جائے گی.
وہ دادا کے ساتھ چھوٹے بڑ ے ہوٹل میں کھانا کھاتی اور آس پاس ہر چیز کو ایسے دیکھتی جیسے سب کو الوداع کہھ رہی ہو.دادا کچھ بھانپ گۓ.
امرحه پڑھنے کے لئے بیج رہا ہو…یاد رکھنا صرف پڑھنا وہاں پے….باقی تمھارے تمام فیصلوں کا اختیار آج بھی میرے اور تمہارے بابا کے پاس ہے.
جی ٹھیک ہے…اس نے سر ہلا دیا….اس نے تو سوچا تھا کے وہاں پرھے گی جاب کرے گی اور وہی رہے گی دادا پتا نہیں کیا کیا سوچ رہے تھے…اسے لڑکوں میں کبھی دلچسپی نہیں رہی تھی اور وہ لکھ کے دینے کو تیار تھی کے کبھی ہو گی بھی نہیں.
دونو مال پے چلنے والی سفید بھگی میں بیٹھے تھے جس کے آگے گھوڑ ے جتے تھے جن کے ٹاپ وہ موسیقی پیدا کر رہے تھے جو مال روڈ پے چلتے گھوڑ ے ہی پیدا کر سکتے ہے کے جیسے کلام مغلیاں سے دربار شاہی میں اپنی شان پر اتراتے ہو.
اس نے آج غور کیا کے یہ سب کتنا اچھا ہے دادا کے ساتھ بیٹھنا اور جگ مگ روشنی کے شہر سے گزرنا…جیسے رانجھے کی بانسری پر سر دھننا اور رات ہی رات قیام میں پوری زندگی گزار دینے کی خواہش کرنا..کھوۓ والی قلفی کھانا اور ہاتھ قلفی کے نیچے رکھنا..کھوۓ والی قلفی جب گرتی ہے تو پگہل کر کنارے سے پوری کی پوری گرتی ہے اور یہ صدمہ ایسا ہوتا ہے کے کسی تسلی سے زائل نہی ہوتا.مزید پانچ دس قلفی کھا کر بھی وہ ہی ایک گر جانے والی قلفی کا خیال آتا ہے………..
وہ ہںستنے مسکراتے ان 2 بچو کی ترھا گھر اے جو عید کے تین دن عید جمع کرنے میں گزار دیتے ہے.اور صرف اس لئے گھر سے بھر نہیں نکلتے مبادا ان کے پیچھے کوئی مہمان آ جاۓ اور ان کی عید ماری جاۓ.تین دن عید جمع کرنے والے یہ دو بچے چوتھے دن گھر سے نکلتے ہے اور کیا خوب نکلتے ہے…
امرحه دو دن بعد جا رہی ہے…دادا نے اعلان کیا..
کہا؟ دادی نے پوچھا…وہ سمجھی اکثر بلوچستان جاتی رہتی ہے ہو سکتا ہے اس بار پشاور کو نکل جاۓ اپنے دادا کے ساتھ..
“مانچسٹر”
وہ کیا ہے؟ دادی کو کوئی دلچسپی نہیں تھی دادا پوتی میں بس ایسے ھی کھانا کھاتے ہوے پوچھ لیا.
دونوں نے اپنی طرف سے میزائل داغا تھا جو پھلجڑی بھی نہ بن سکا.نظر اتار نی چائیے تھی ان سب کی جغرافیائی معلومات کی.ان کو یہ تک نہیں تھا پتا که مانچسٹر شہر کا نام ہے اور یہ برطانیہ میں ہے..
کوئی رشتہ آیا ہے امرحه کا وہاں سے؟ دادی نے یہ سوال بھی ایسے ہی پوچھ لیا..
اس اگلے سوال پر دادا خاموش ہی ہو گے.
“امرحه اتنی قابل ہے که مانچسٹر کے مئیر نی خود خط لکھ کر بلایا ہے که ہماری یونیورسٹی میں آ کر پڑھو..دادا نے طنز کیا….
بھلے سے وائٹ ہاؤس سے خط آتا کہ اوباما کی اسسٹنٹ بنو آکر یا انہیں امورِ حکومت میں مشورے دو. کوئی فرق کب پڑنے والا تھا… سب آرام سے کھانا کھاتے رہے.
امرحہ نے دادا کو اشارہ کیا کہ ٹھیک سے متوجہ کریں نا سب کو. اس اعلان پر ایسا ردِعمل تو سراسر مانچسٹر کی بےعزتی ہوگا.
“امرحہ باہر جا رہی ہے پڑھنے…دو دن بعد فلائٹ ہے اسکی” دادا نے ذرا تیز آواز سے کہا-
اب فرق پڑا – امّاں بابا دادی نے حیرت سے دادا کو دیکھا…
“پیسے کہاں سے آئے آپکے پاس……” بابا نے سارے سوال چھوڑ کر یہ سوال کرنا مناسب سمجھا.
“مفت جا رہی ہے…..یونیورسٹی نے اسکالرشپ دیا ہے”.
بابا! کیوں مجھے پاگل بنا رہے ہیں….آپ نے اپنا پلاٹ تو نہیں بیچ دیا….وہ میں نے امرحہ اور دانیہ کی شادی کے لئے رکھا تھا” بابا نے کھانا کھانا ہی چھوڑ دیا.
پلاٹ کو بیچنے کی کوشش تو دادا نے بہت کی تھی پر وہ ایسی اجاڑ جگہ پر واقع تھا کہ بک ہی نہیں رہا تھا.
“پلاٹ جہاں تھا اب بھی وہیں ہے….جا کر دیکھ آنا”
“کہیں نہیں آنا جانا….رشتہ دیکھا ہے اسکا ایک بس شادی ہوگی اسکی”. دادی نے اب دلچسپی لی.
“رشتہ…….”امرحہ نے دادی کی طرف دیکھا اور اٹھ کر کمرے میں آ گئی اور جلدی جلدی اپنا سامان پیک کرنے لگی….ساتھ ساتھ وہ خود کو تھپکی دے کر کہنے لگی…..
“مجھے کوئی نہیں روک سکے گا….میں چلی جاؤں گی….پریشان نہ ہونا امرحہ تم چلی جاؤ گی….”
دادی امّاں بابا میں باہر تکرار ہونے لگی جو آہستہ آہستہ بڑھنے لگی…
یہ کونسا رشتہ تھا جو اس برے وقت میں اس کیلئے آ گیا تھا….اب اسکا جی چاہا بلکہ اس نے دعا کی کہ جو جو کچھ اس کے بارے میں مشہور ہے وہ سب ان رشتے والوں تک پہنچ جائے…اس کے خاندان والے انہیں فون کر کر کے بتائیں کہ لڑکی کیسی جنم جلی ہے….منحوس ہے…..کالی نظر….کالی زبان والی ہے….اور نہیں تو کوئی دادی کی زبانی تیار کردہ اسکا پیدائشی خلاصہ ان تک پہنچا دے کہ منگل کی دو کو کیا کیا ہوا تھا فقط ایک اس کی آمد سے. اور کیا کیا مزید ہو سکتا ہے اگر اس سے دور نہ رہا گیا تو. یہ کوئی موقع تھا رشتے کا….اس کی انگلیاں گھس گئی تھیں میلز لکھ لکھ کر.آنلائن اسکالرشپ فارمز بھر بھر کر اور دادی اور امّاں اسکی شادی کی تیاریاں کر رہے تھے-
وہ خود کو تھپکتی رہی اور کہتی رہی “تم چلی جاؤ گی….پرسوں تم جا رہی ہو…کچھ نہیں ہوگا….دادا سب ٹھیک کر لیں گے.” کہتے ہوئے وہ جلدی جلدی سامان بھی پیک کرتی رہی..پاسپورٹ کو حفاظت سے چھپا دیا کہ بابا غصے میں آکر اسکا پاسپورٹ ہی نہ جلا دیں.
رات گزرتی رہی باہر سے ہنوز چاروں کی تیز آوازیں آتی رہیں اور پاسپورٹ کو چھپانے کے بعد وہ کمرے کے دروازے کے ساتھ لگی زمین پر بیٹھ کر اُونگھنے لگی لیکن ساتھ ساتھ بڑبڑاتی رہی.
“میں چلی جاؤں گی….میں تو جا رہی ہوں..کون روکے گا مجھے….دادا ہیں نا وہ سب ٹھیک کر لیں گے”
دادا نے دروازہ کھولا تو اسے دروازے کے قریب ہی اُنگھتے پایا اور اسکی بڑبڑاہٹ کو کم زیادہ ہوتے سنا.
تکیہ لا کر انہوں نے اس کے سرہانے کے نیچے رکھا…زندگی میں وہ پہلی رات تھی جب وہ اتنا خوش تھی اور اس خوشی کی اس کو اتنی فکر تھی کہ وہ بنا بستر کہ فرش پر سو گئی تھی….انہیں دکھ ہوا. اس ماحول نے اسے اتنے دکھ نہ دئیے ہوتے. اس گھر میں اسکی ایسی حیثیت نہ ہوتی تو وہ ہر رات ایسے ہی سوتی. رو رو کر آنکھیں سرخ کرتے نہیں بلکہ آنکھیں موند کر.
پریوں کا انتظار کرتے دنگوں سے منور ہوتی نیند۔۔۔۔ دادا اس کے پاس ہی بیٹھ گئے اور اسے دیکھنے لگے۔۔۔۔اولاد نامی جس طوطے میں میں والدین کی جان ہوتی ہے وہ طوطا امرحہ تھی انکیلیے۔ انہیں اتنا پیار امرحہ کے والد سے بھی نہیں تھا۔ باقی کی اولادوں سے بھی نہیں تھا۔۔وہ اس کیلیے ہر جنگ لڑنےکیلیے تیار رہتے تھے اور ایک جنگ وہ اس حق میں جیت آئے تھے۔۔۔۔اسکے مانچسٹر جانے کی۔۔۔۔
ایک دن امرحہ ان سے خفا ہو کر کہنے لگی۔
“آپ بھی دوسروں کی طرح ہو جائیں نا۔۔۔ کیوں کرتے ہیں مجھ سے پیار”
وہ اس بات کا جواب نہیں دے سکے بس سوچتے ہی رہے کہ شاید قدرت ہمیشہ انسان پر اتنی مہربان ضرور رہتی ہے کہ اگر ساری دنیا اس انسان سے نفرت کرنے لگتی ہے تو کوئی ایک ضرور اس پر جان چھڑکتا ہے۔وہ انسان کوئی بھی ہو سکتا ہے کوئی چرند پرند یا دوسری مخلوق۔۔۔بلاوجہ کی نفرت ضرور ایک بلاوجہ کی محبت کو ساتھ باندھ لاتی ہے۔
“جیسے جیسے دوسروں کیلیے تم نا پسندیدہ ہوتی گئی میرے لیے پسندیدہ ترین ہوتی گئی” انہوں نے کہا خدا بھی بھلا کبھی یہ بھولا ہے کہ اس کے بندے کے آس پاس بہت کانٹے اگ آئے ہیں اور اب اسے ایک مہکتے ہوئے ہمیشہ تروتازہ رہنے والے پھول کی اشد ضرورت ہے۔۔۔ تاکہ اس پھول کو پا کر وہ کانٹوں کی دی اذیت کو فراموش کر دے۔
بابا نے اسے دس ہزار روپے دیئے کہ وہ ضروری خریداری کر لے۔۔۔ اماں اور دادی کا مزاج البتہ بہت برہم تھا۔۔۔دادا کے ساتھ جا کر ہی اس نے ضروری خریداری کی۔۔۔دانیہ نے اسکا سامان پیک کروایا۔۔۔حماد اور علی دل مسوس کر اسے دیکھتے رہے۔۔۔آخر وہ اتنی دور جا رہی تھی۔
دادا مسلسل دو دن سے اپنی آنکھوں کی جھڑی چھپا رہے تھے۔
“یہ پڑھنے جا رہی ہے بھاگ نہیں رہی۔۔۔ماں باپ تو خوش ہوتے ہیں۔تم دونوں اسے کر دو خوشی سے۔یہ نہ ہو کہ جہاز کریش ہو جائے یا یہ لا پتہ ہو جائے”
دادا نے یہ چھوٹا سا لیکچر دادی اور اماں کو دیا تھا۔۔۔ اس کا جہاز کریش نہ ہو جائے یا وہ لا پتہ نہ ہو جائے۔۔دونوں نے اپنی برہمی کو ایک طرف رکھا اور اسے دعاوں میں الوداع کہا۔۔ اور وہ مانچسٹر کیلیے روانہ ہو گئ۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: