Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 20

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 20

یہ کیا ؟ٹوپی ناک تک …….برف منہ میں……ہاتھ بندھے ہوئے…..چچ چچ ۔اب کارل نے کسی مشین کی طرح اس پر برف اچھالنی شروع کر دی….امرحہ بمشکل برف منہ سے اگل سکی۔اس کے دانت ٹھنڈ سے ٹوٹ جانے کے قریب تھے اور کارل منحوس اسے برف کے ڈھیر میں دفن کر رہا تھا….وہ کھلے عام منہ کھول کر ہنس رہی تھی__اب ظاہر ہے ہارے ہوئے لوگوں کو ایسی ہنسی بری بھی لگ سکتی ہے__
“ویرا!”امرحہ بمشکل چلائی__ویرا زرا دور محسن رسولی کے ساتھ میچ کی صورت حال پر غور کر رہی تھی،امرحہ کی طرف اسکی پشت تھی__کارل کسی کر ین کی طرح اس پر برف اچھالتا ہی جا رہا تھا اور اس نے امرحہ کو برف کے ڈھیر میں دفنا رہا__دیکھتے ہی دیکھتے امرحہ برف میں__یہ دن بھی دیکھنا تھا امرحہ نے__
“ویرا!”اسکی آنکھوں پر ٹوپی تھی__اسے نظر ہی نہیں آرہا تھا کہ ویرا کہاں ہے__برف کا ایخ ڈھیر اسکے منہ پر آ کر گرا کہ لو اور چلاؤ__کاش دادی کا کہا سچ ہوتا،وہ واقعی منحوس ہوتی اود کارل کے ہاتھ ٹوٹ جاتے اس کے ساتھ یہ سب کرتے__
“کارل!”ویرا کی دھاڑ سنائی دی__اس نے بڑھ کر امرحہ کے سر پر سے ٹوپی اٹھائی اور امرحہ نے دیکھا کہ ویرا نے ایک بے حد ناکام کوشش کی اپنی ہنسی کے فوارے کو روکنے کی__
وہ گردن تک برف میں دھنس چکی تھی،ناک سرخ ہو چکی تھی__ہونٹ نیلے اور غصے سے وہ نیلی،پیلی،لال سب ہو رہی تھی__
جیسے ہی ویرا نے ٹوپی اٹھائی__کارل اور ویرا دونوں کے منہ سے ہنسی کے فوارے نکلے__
“دادا! آپ ٹھیک کہتے ہیں،مجھے امرحہ نہیں ویرا ہونا چاہیے تھا-” امرحہ نے دل میں سوچا جب ویرا اسے برف سے نکال کر کھڑا کر چکی تو کارل نے امرحہ کی طرف اشارہ کیا__ “میچ ہو جائے__تم اور میں-“کیا باے کی تھی کارل نے__وہ بھی امرحہ سے__
“اسے فٹبال نہیں آتا__مجھ سے بات کرو-” “تم پرے رہو__Ginger Baal_____مجھے اسThe Lost Duckسے بات کرنے دو”
“The Lost Duck”وہ چپ کارل کی شکل دیکھنے لگی غصے میں اتنا لال پیلا ہونے کے باوجود وہ اسکے خلاف کچھ نہ کر سکی__چچ چچ__افسوس__
“بیس پچیس فٹ کے فاصلے سے ہم ایک دوسرے کے سر پر فٹبال کی کک لگائیں گے__وقت دس منٹ بولو پلوٹو سر پر لگا بال ایک گول ہو گا-”
“پلوٹو__ایک اور نام__”پلوٹو خاموش کھڑا اندازہ لگا رہا تھا کہ کیا وہ یہ کر سکتی ہے،نہیں وہ یہ بھی نہیں کر سکتی تھی__اندازہ لگایا جا چکا تھا__
“نہیں-” امرحہ نے انکار کر کے جان چھرائی__
“فاصلہ دس منٹ__”وہ آج ہر صورت اس کے سر پر کک لگانا چاہتا تھا__
“نہیں-” امرحہ نے ایسے کہا جیسے شاہ ایران اسے اپنا تحت پیش کرتے ہوں کہ آج سے آپ اسے سنمبھالیں تو وہ کہتی ہو”نہیں بھئی__بس نہیں کہہ دیا نا__بس نہیں__”
” نہیں__”کارل نے واضح دانت پر دانت جمائے اور غصے کو چھپا کر اس کی طرف دیکھا کہ وہ یہ بھی نہیں کر سکتی جو پانچ سال کے بچے بھی کر کے جیت سکتے ہیں__کارل کو بس موقع چاہیے تھا اس کا سر پھوڑنے کا اسے برف کی مار مارنے کا__
“چلو دس قدم__ہارنے والے کو برف میں گردن تک صبح تک دھنسے رہنا ہو گا__Ginger Ballنے امرحہ کو آنکھ ماری کہ کھیل لو__پر پاگل تھی کیا وہ ابھی شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کی حیثیت نہیں ہوئی تھی اس کی__ ” امرحہ کے لیئے میں کھیلتی ہوں__” ویرا نے ہاتھ اٹھایا__
“تمہارے لیئے کھیل بدل جائے گا__بیس فٹ کا فاصلہ رکھ کر ہوئے ہاتھ سے ہمیں سر پر بال مارنی ہو گی__وقت دس منٹ__”
“ٹھیک ہے!”شاہ ایران کا تحت ویرا نے قبول کیا__اسٹاپ واچ امرحہ کو دے کر ان کا کھیل شروع ہو گیا-
بیس فٹ کا فاصلہ رکھ کر فٹبال کو درمیان میں رکھ دیا گیا ۔ فٹبال پر پہلے کارل جھپٹا ‘ویرا بھاگی لیکن کارل نے پھرتی سے اس کے سر پہ بال دے ماری ۔۔بال ویرا کے ہاتھ آگئی ۔۔اس نے کارل کا نشانہ لیا لیکن کارل جل دے گیا ۔۔ بال کارل کے ہاتھ آگئی ‘ویرا کو بال کواپنے سر پر لگنے سے بچانا بھی تھا اور بال کو اپنے قابو میں بھی کرنا تھا ۔برف پر پھسلتے ‘گرتے ‘ بال پر جھپٹتے مقابلہ نویں منٹ میں پانچ چار تھا ۔۔۔ کارل پانچ ۔ویرا چار ۔دسویں منٹ میں کارل نے ویرا کے سر پر ایک اور گول کردیا ۔۔ ویرا بری طرح سے برف پہ گری ۔۔۔
“آخری منٹ !” امرحہ چلائی ۔وہ بھاگنے کی تیاری کر رہی تھی ۔آخری منٹ میں ویرا زیادہ سے زیادہ ایک ہی گول کرسکتی تھی نا۔۔گراؤنڈ میں چند ایک اسٹوڈنٹس ہی موجود تھے جو ویرا اور کارل کی مستیاں دیکھ رہے تھے۔ان کا خیال تھا وہ مزاق میں کوئی کھیل کھیل رہے ہیں ۔۔
“آخری پندرہ سیکنڈز “۔۔ امرحہ پھر ذور سے چلائی ‘ وہ بھاگتے بھاگت ویرا کے قریب جاچکی تھی ۔کارل ان سے دور تھا ۔ بال ویرا
کے ہاتھ میں تھی ۔ اس نے کارل کے سر پہ دے ماری ۔لیکن کارل پھر بچ گیا ۔۔ اور وہ بال پر جھپٹا ۔۔ وہ پھرتی سے جھک کر بال اٹھا ہی رہا تھا کہ ویرا پھولے ہوئے سانس کے ساتھ چلائی ۔
“بھاگ امرحہ “کہتے وہ خود بھی برفانی چیتے کی طرح گیٹ کی طرف بھاگی ۔۔ امرحہ بھاگنے کی تیاری تو کر ہی رہی تھی پر ویرا کے کہتے ہی اس کے ہاتھ پیر پھول گئے ۔۔۔
“بھاگ ۔امرحہ ” ویرا پھر چلائی ۔۔کارل ان کے پیچھے جنگلی تیندوے کی طرح کہنا ۔
امرحہ نے اپنی لاہور میں کھائی خوراکیں زندہ کی اور پورا زور لگا کر بھاگی ۔۔ ویرا نے لپک کر اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنی رفتار کے ساتھ بگھانے لگی ۔
لیکن کہاں ویرا کہاں امرحہ ۔۔ امرحہ برفانی چیتا تھوڑی تھی ۔
جتنی مرضی صحت بخش غذائیں کھائی ہوں ۔ان کا استعمال تو کبھی نہیں کیا گیا تھا نا ۔۔ بھاگی تو کبھی نہیں تھی ۔۔۔ضرورت ہی نہیں پڑی تھی ۔۔۔ایسے برف ملی تھی نہ کارل نامی بلا ۔۔ جو ان کے پیچھے بھاگ رہی۔۔
ویرا کے ساتھ بھاگتے امرحہ منہ کے بل گرتے گرتے کئی بار بچی ۔۔امرحہ گرجاتی ۔۔کارل موت اسے پیچھے سے آلیتی تو بہت ہی برا ہوتا ۔۔۔ کارل کہیں پیچھے برف پر پھسل کر گرگیا تھا ورنہ وہ ان سے دس قدم پیچھے نہ ہوتا ۔۔ویرا اپنی سائیکل پہ جھپٹی اور اسے چلایا ۔۔امرحہ چلتی سائیکل پہ بیٹھی ۔۔ویرا نے ہی اسے چلتی سائیکل پہ بیٹھنا سکھایا تھا ۔ اس کا ماننا تھا ۔۔ ایمرجنسی میں ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں کام آتی ہیں ۔۔
ایمرجنسی “کارل ” میں یہ بات کافی کام آرہی تھی ۔
ویرا نے اپنی رولر کوسٹر کو دنیا کی تیزترین جاپانی ٹرین بنا ڈالا جو چلتی ہے تو لگتا ہے اڑ رہی ہے ۔۔رولر کوسٹر بھی اڑ رہی تھی ۔۔
“ویرا ” کارل کی آواز ان کے پیچھے آئی ۔ پھولے سانس کے ساتھ وہ چلایا۔۔
“کون ویرا ؟” ویرا چلائی اور یہ جا وہ جا ۔
جب وہ کارل کی پہنچ سے دور ہوگئی تو رولر کوسٹر کی رفتار آہستہ کی گئی ۔۔ ہنس ہنس کے ان کا برا حال تھا ۔
برف سے ڈھکے چھپے مانچسٹر میں ان کی ہنسی کہ قمقمے جل بجھ رہے تھے ۔ امرحہ شاید ہی اپنی زندگی میں کبھی اتنا ہنسی ہوگی ۔ اس کا پیٹ پھٹنے کے قریب تھا ۔
“تم ہار کیسے گئیں “؟ امرحہ نے اس کی کمر میں چٹکی بھری ۔ یعنی میرے لئے کھیلتے ہی ہار گئی یو ۔” Ball Ginger”
کبھی انسان ہار بھی تو جاتا ہے نا۔ ویسے اگر میں جیت جاتی تو کارل نے بھاگ جانا تھا ۔۔ ہم اس جن کو برف میں دھنساسکتے تھے بھلا؟ ۔
”میری دادی کا ماننا ہےمیں منحوس ہوں……میری وجہ سے سارے کام خراب ہو جاتے ہیں……آگ لگ جاتی ہے…تباہی،بربادی ،ایسا سب ہو جاتا ہے۔“
”اچھا تم تو بڑے کام کی ہو پھر…..تم وائٹ ہاؤس کے سامنےایک گھر کیوں نہیں لے لیتیں….روس کے تھوڑے حساب کتاب باقی ہیں امریکہ کہ ساتھ….تم وہ حساب کتاب کیوں برابر نہیں کروا دیتیں ہمارے…..؟اگر تم واقع ویسی ہو تو سچ تم ہمارے بہت کام کی ہو …..ہمارا حساب چکا چکو تو روس آنا….گارڈ آف آنر دیا جائے گا تمہیں…..“
”گارڈ آف آنر !“امرحہ ہنستے ہنستے بے حال ہو گئی۔اسکی نحوست کو گارڈ آف آنر….کمال ہو گیا۔
”یہ میری زندگی کا بہترین وقت ہے ویرا….تم ہو، میں ہوں،برف ہے،مانچسٹر ہے، اورتمہاری سائیکل ہے…..میرے لیے اتنے خزانے تھے زندگی کے پاس “
”سب سے بڑا خزانہ کارل….ہاہاہاہا“ہنستے ہنستے ویرا سائیکل گرابیٹھی دونوں سٹر ک پر گرگئیں…..انہیں ہلکی سی چوٹ بھی آئی،لیکن اس چوٹ کی پروا کسےتھی،دونوںتو سٹرک پہ گری سائیکل کےپاس ہنسنے میں مصروف تھیں۔
”اس کا نام لیتے ہی ہم گر گئے اف،اصل میں منحوس تو کارل ہے“
امرحہ کوبڑی خوشی ہوئی کارل کو منحوس ثابت کر کے۔اس نے جیسےاپنے منحوس ہونے کا بدلہ کارل سےلے لیا اور ساری روشن خیالی کے باوجود وہ دادی کی طرح پورا زورلگا کر کارل کو ”منحوس “ثابت کرنے کے لیے تیار تھی۔بلکہ اس کام کےلیے پارٹ ٹائم کرنے کے لیے بھی تیار تھی……ساری یونیورسٹی جب امرحہ کے خاندان کی طرح جب اسے منحوس منحوس کہا کرے گی تو امرحہ کے اندار ٹھنڈک ہی ٹھنڈک پھیل جائی گی….آہ……کاش یہ دن دیکھنا امرحہ کے نصیب میں ہو…..کاش یہ دن جلد ہی آجائے….بلکہ آنے والا ہو۔
”کارل دی منحوس مارا۔“
میں ہڑبڑا کر اُٹھا۔آج تو میرا پہلا پیپر ہے….گھڑی اور کھڑکی دونوں کی طرف دیکھا اوہ گوش شام کے پانچ بج گئے….خدایا….میرا تو پہلا پیپر تھا….میں تو رات بھر پڑھتا رہا تھا….پھر کیا ہوا……پھر کیا ہوا آخر….یعنی میرا پیپر گیا….یعنی اب یونیورسٹی کا ڈین بھی مجھے فیل ہونے سے نہیں بچا سکے گا۔میں اتنا وقت سوتا کیسے رہ گیا؟کیا میں ساری رات پارٹی کرتا رہا۔سارا دن سوتا رہا….نہیں میں تو علی کامنز میں تھا….نہیں،شاید میں تو لائبریری میں تھا….اوہ گوش میں کہا تھا……آخر کوئی مجھے بتائے گا میں کہا تھا۔میں نچلے فلور واقع شاہ ویز کے کمرے کی طرف بھاگا۔اس کا دروازہ دھڑ دھڑایا۔
”شاہ ویز ! میں کل رات کہا تھا بڈی جلدی بتا….؟
اوف شاویز بھی سو رہا تھا…..میری طرح اس کا بھی امتحان گیا…وہ بھی فیل….
”مجھے کیا پتا،تم کل رات کہا تھے….سونے دو مجھے۔“شاویز اندار سے ہی چلایا۔
”تمہارا بھی پیپر گیا یا دے کر آئے ہو ؟“میں اس کے کمرے کےبند داروزے کے پار چلایا۔
”پیپر….وہ تو صبح ہے…..اب دفعان ہو جاؤ۔“
”صبح تو گزار گئی اب تو شام کے پانچ بج رہے ہیں۔“
”تم ٹھنڈے پانی میں ڈبکیاں کیوں نہیں لگاتے،صبح کے پانچ بجے ہیں،شام کے نہیں۔“
”او اچھا…..سچ میں……آہ گوش میری تو جان ہی نکل گئی تھی۔
یہ کیرل تھا،ایگزامز کے بے جا دباؤ کا شکاربےچارہ اسٹوڈنٹ…..یعنی مانچسٹر یونی میں اس دیو کا نزول ہو چکا تھا جسے ”ایگزامز “کے نام سے یاد کیا جانا بھی پسند نہیں کیا جاتا….تو ایگزامز کی دنوں کی ایک کیرل ہی ایسی کاپی نہیں ہےاور بھی مختلف کاپیاں ہے۔
”میں نے آپ کو کہیں دیکھا ہے؟“اپنےفیشن اور ملبوسات کے لیے مشہور لنڈا۔
”تم چار پانچ مہینے پہلے لائبریری آئی ہو گی۔“
”ہاں آئی تو تھی….ایک میگزین چاہیے تھا….پر آپ کو کیسے معلوم ہوا؟“
”سارا سمسٹر چھوڑ کر صرف امتحانات کے دنوں میں لائبریری آنے والے مجھ سے یہی کہتے ہے ”آپ کو کہیں دیکھا ہے۔“دوسرے سمسٹر کے امتحانات میں آکر بھی تم یہی کہو گی….میں تھک جاتا ہوں ،بار بار اس سوال کا جواب دے کر،اس لیے ابھی سے بتا رہا ہوں،میں لائبریرین ہوں اور لائبریری میں دیکھا اور پایا جاتا ہوں۔“
آنکھ،کان،زبان،دماغ،خاص کر بالوں میں سے طوطے کیسے اڑتے ہیں کبھی دیکھا ہے۔
”نہیں….مانچسٹر یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ سے امتحانات کے دنوں میں ملیں……
”آئی لو یونی میوزیم….“ایما….عام دن….
”میوزیم….یونی میں میوزیم ہے؟“ایما…..امتحانات کےدن…..
”اوہ…..شیکسپئرکو کیا ضرورت تھی اتنا کچھ لکھنے کی…..ایک آدھ کافی نہیں تھا۔“جوناتھن %40 بمشکل لینے والوں میں سے…..
”کون شیکسپئر؟“ ڈینئل مانچسٹر کے ہر کلب اور بار کے بارے میں جاننے والو اور %40 کے خواب دیکھنے والوں میں سے….
میرے چچا…..“جوناتھن غصے میں۔
تمہارے چچا ڈرامے لکھتے ہیں…..؟کس تھیٹر میں لگتے ہے ان کے ڈرامے…..دو ٹکٹیں مل جائیں گی؟“
ایک اور…..
تم ڈبہ کیوں کھا رہے ہو؟اوک ہاؤس میٹ
”میں تو پزا کھا رہا ہوں۔“بے حد لائق فائق ،لمبا پتلا سا اسٹوڈنٹ کرس……
”تم پزا ڈبے سمت کیوں کھا رہے ہو؟“
نہیں میں تو صرف پیزا کھا رہا ہوں…یہ دیکھو..اوہ..میری پلیٹ میں یہ ڈبہ کہاں سے آگیا…
گول گول چشمہ ملفوف آنکھیں باہر کو…
تمہارے منہ میں بھی کچھ ڈبہ کا حصہ ہے…
اور خدا کے لیۓ کرس اس کھڑکی کو بند کر لوگ ہاؤس کے وہ واحد اسٹوڈنٹ ہوگے جو اتنی ٹھنڈ میں کھڑکی کھول کر پڑھ رہاہے…
کھڑکی…اوہ…تو یہ کھڑکی ہے… میں بھی سوچ رہا تھا میرے سارے کپڑے کہاں گۓ… اور میرے جوتے بھی..
لائیبریری کی طرف جاتے ہوۓ…
ہاۓ جینا کیسی ہو…
مائیکل کیمسٹری اسٹوڈنٹ.. “میں ماریہ ہوں…بائیو اسٹوڈنٹ”…
جینا ماریہ نا…ہار نہ مانتے ہوۓ. سر کھجاتے ہوۓ…
ماریہ ایڈم!! دونوں ہونٹوں کو بگاڑتے ہوۓ..ہاں ہاں وہی کو مک لارین 1.13 بیش قیمت کار میں آتی ہے…
میری تیسری نسل میں سےشاید کوئی مک لارین خرید کر اسے ہاتھ لگا سکے…
میں ایسی جرأت فی الحال نہیں کر سکی…میری حیثیت فری بس سے آنے والی ہے…اور تم؟؟؟
میں سر کھجاتے ہوۓ …
ہاں تم …مطلب… میں کہاں جارہا ہوں…
میں پڑھنے لائبریری جا رہا ہوں سارہ…
ماریہ… مطلب تم کون ہو… کیا نام ہے تمھارا…
سر کھجانے کی باری اب ماریہ نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے…
میں اچھا باۓ… میں لیٹ ہورہا ہوں سوزین… چلا جاتا ہے…
میں کون ہوں.. کیا نام ہے میرا…
جاتے ہوۓ…
تمہیں تو لائبریری جانا تھا نا ماریہ پیچھے سے…
چلاتی ہے__
“تم یونیوسٹی سے باہر کی سمت جا رہے ہو__”
“تو تعلیمی دور میں کم سے کم دس بار ہم یہ ضرور سوچتے پائے جاتے ہیں کہ امتحانات میں فیل ہونا اتنا آسان اور پاس ہونا اتنا مشکل کیوں ہے؟اسی فیصد پرچے اسی ایک لیکچر “باب”سوال پر کیوں مشتمل ہوتے ہیں__؟”
“فیل ہونے کی بڑی وجہ کیا ہے؟”
“میرا خیال ہے یہ امتحانات ہیں__آپ کا کیا خیال ہے؟”
“Night Before enams is like a
Night Before Christmas, You Can’t
Sleep and yet hope for a miracle”
اسٹوڈنٹس اپنے تعلیمی دور میں معجزات پر بہت یقین رکھتے ہیں اور ان کے رونما ہونے کی دعائیں بھی کرتے ہیں__دوسرا اور تیسرا باب پرھنے کے بعد وہ یہ دعا کرتے سو جاتے ہیں کہ چوتھے،پانچویں اور چھٹے باب میں سے کوئی سوال نہ آئے اور سارا پرچہ دوسرے اور تیسرے ابواب پر مبنی ہو__چلو فرض کیا اگر چھٹے باب میں سے کچھ آ ہی گیا تو اسی فیصد دوسرے اور تیسرے ابواب سے جو آئے گا،وہ پاس کروا دے گا__چلو پچاس فیصد ہی سہی’اچھا چلو تیس ہی سہی__بس بہت ہے معجزائی دعائیں__معجزائی توقعات__
امتحانات کے دوران سب سے زیادہ اسٹوڈنٹس خوش فہم ہوتے ہیں__امتحانات کے بعد سب سے زیادہ دنیا بھر میں دعائیں اسٹوڈنٹس کرتے ہیں__
امتحانات کے دوران سب سے زیادہ اسٹوڈنٹس خوش فہم ہوتے ہیں__امتحانات کے بعد سب سے زیادہ دنیا بھر میں دعائیں اسٹوڈنٹس کرتے ہیں__
سب سے زیادہ خون امتحان نامی بلا چوستی ہےاور کودتی پھاندتی حقیقی موت رزلٹ کے دن سب سے ذیادہ دکھائی دیتی ہے__
جی ہاں__سچ ہے یہ__
امتحان گاہ کے آخری پانچ منٹ میں ہر اسٹوڈنٹ مافوق الفطرت طاقت کا مالک بن جاتا ہے__وہ ساری کتاب لکھ ڈالنا چاہتا ہے__لیکن وقت ہی نہیں ہوتا__

جاری ہے

——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:   Kaho Mujh Se Mohabbat Hai by Iqra Aziz – Episode 13

Leave a Reply