Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 21

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 21

ویسے امتحانات سے پہلےپوسٹ ایگزامز
پارٹز پلان کر لی گئی تھیں۔جیسے کرسمس
آنے سے پہلے کرسمس کے بعد دی اورلی جانی
والی پارٹیز پلان کی گئی تھیں۔کون کون
آیا گا،پارٹی کہاں ہو گی،کیا کیا ہنگامہ
برپا کرنا ہو گا….امتحانات ختم ہونے
کی خوشی میں نہیں بلکہ امتحانات سے جان
چھوٹ جانےکی خوشی میں …….
آس پاس کے سب بارز،کلبس،رسٹورنٹس اس انتظار میں تھےکہ جلدی سے امتحانات شروع ہو کر ختم ہوں اور اسٹوڈنٹس بے چارے کچھ پارٹی شارٹی،کچھ مزے شزے کریں…..بے چارےاسٹوڈنٹس……
تو اس یونیورسٹی میں کچھ اس قدرپڑھنے والے اسٹوڈنٹس بھی تھے…..
”یہ بدبو کہاں سے آرہی ہے۔شاید تم میں سے جم؟“ناک سکڑتی جولی۔
”ہاں شاید…..کئی دنوں سے میں ٹھیک سے منہ نہیں دھو سکا….کپڑے بھی…..دانت برش کرنے کا تو بلکل وقت نہیں ملا …..ایگزامز ہیں نا؟“۔پیلے دانت نکال کر مسکرا کر کہا جانے والا تاریخی جملہ…..جی ہاں تاریخی ہی…..
تمہاری شکل ماشل سے ملتی جلتی ہے۔“
”میں مارشل ہی ہوں…..پڑھ پڑھ کر ایسا ہو گیا ہوں۔“
”اوہ Shurrup ( شٹ اپ کی جدید شکل)اس حالت میں گھر نہ چلے جانا….اپنی ڈی این اے رپورٹ بھی دیکھائی تو بھی گھر والے گھر میں گھسنے نہیں دیں گے۔“
”آخر تم تیز تیز کیوں نہیں چلتے….؟ہم یونیورسٹی سے لیٹ ہو رہے ہیں۔“
”مجھ پر بہت بوجھ ہے گراہم ! “
”پر تمہارے ہاتھ تو خالی ہے؟“
”میرے سرپر…..“
”تم نے تو آج ٹوپی بھی نہیں پہنی….“
”میرے ذہین پر یار….!پڑھائی کا بہت بوجھ ہے…..میں نےکچھ غیر ضروری کتابیں بھی پڑھ ڈالیں۔“
”تمہیں یاد ہے نا تمہیں %100 میں سے مارکس لینے ہے %1000 میں سے نہیں…..“
”ہاں پھر بھی….پھر بھی میں نے سوچا شاید…..شاید۔“
یہ صرف کچھ جھلکیاں ہیں امتحانات کے دنوں کی…..اور ظاہر ہے اسٹوڈنٹس دنیا کے کسی بھی خطے سے تعلق رکھتا ہو…..کم وبیش ایک سی حالت سے گزارتا ہے….ایک جیسے احساسات کا مالک ہوتا ہے کیونکہ وہ بے چارہ اسٹوڈنٹ ہوتا ہے نا……بے چارہ ۔
یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹس کی ایک خاص تعداد Modafinil اسٹڈی ڈوذ بھی لیتی ہے جیسے کھا کر اسٹوڈنٹس کے بقول وہ بنا تھکے اور بنا سوئے کئی گھنٹے آرام سے پڑھ سکتے ہیں….بہت سے اسٹوڈنٹس وٹامن ،ٹونگ بھی لیتے ہیں….دیواروں پر نوٹس چپکاتے ہیں پڑھنے سے متعلق اکثر۔اسٹوڈنٹس کے کمرے کی دیواریں ان نوٹس سے بھری ہوتی ہیں پھر کہیں جا کر %40 مارکس آتے ہیں۔Unicorn ہر اسٹوڈنٹ کے ٹیبل پر رکھا نظر آنے لگتا ہے ۔ایگزامز سے متعلق اقوال دیواروں چپکا دیے جاتے ہیں آئینے میں اپنی ہی شکل دیکھ کر ڈرا جاتا ہے…اور رات کو چنی منی سی نیند میں بھی کتابیں آکر ڈراتی ہیں۔تو وہ وقت آچکا تھا جو نیندیں تو بلاشبہ بھگائے گا ہی،ساتھ دادی،نانی،پھوپھیاں بھی یاد کروا کر جائے گا یہ وہی دن ہوتے ہیں نا جب لگنے لگتا ہےکہ ایگزامز سیزن کبھی زندگی سے جائے گا بھی…..رات کو اپنی مرضی سے سونے والی ،صبح آرام سے اُٹھنے والی…..گپیں ہانکنے والی ادھر اُدھر گھوم پھرکر مستیاں کرنی والی۔آکسفورڈ روڈ اور اس سے منسلک دوسری سڑکوں پر چہل قدمی کرنی والی…..اوف کبھی اتنے فارغ رہے ہے ہم…..پرنٹ ورک میں بڑی بڑی میزوں پر اسنوکر کھیلنے والے،اوک ہاؤس کے گراؤنڈ میں آگ جلا کر اس کے گرد بیٹھے رہنے والے…اتنے فارغ….کیا یہ سب ہوتا رہا ہے….سچ؟
پروفیسر اسٹوڈنٹ کو دیکھ کر زیر لب مسکرا دیتے جیسے کہتے ہوں،اب چڑھے گا اصل فلو….لائبریری اسٹاف جن بھوت بن جائے کہ اصل امتحان تواسٹوڈنٹ ان کا لینے والے تھے….جو نہیں بھی ہو گا وہ بھی مانگا جائے گا….
لائبریری اور لرننگ کامز (پڑھنے کی جگہ) رات دن کھلے تھے اور کچھ ایسا سماں پیدا کر رہے تھے جیسے وہاں عام انسان نہ ہو ،کسی سیارے سے اتری مشینی مخلوق ہو جونہ کھاتی ہے،نہ سوتی ہے،بس پڑھتی ہی رہتی ہے، اگر ساری مانچسٹر یونی کو د لہن مان لیا جائے تو …..
“commanrs alan gilbert tearning”
المعروف علی لرننگ کامنز اس دلہن کےماتھے کا جھومر قرار پائے….چار اطراف شیشے سے سجی شیشے سے بنی اور بلڈنگ کے اندار بیٹھے آپ باہر کی دنیا سے لا تعلق نہیں رہتے۔کسی ارب پتی کی ذاتی گھر کی طرح بے حد نفیس اور صاف ستھرا…فائیو سٹار ہوٹل کی طرح چمکتی دمکتی ،گھر کےماحول سے کہی بڑھ کر آرام دہ اور پرسکون….نرم گرم علی کامنر۔“اسٹوڈنٹس اپنی مرضی سے اپنی تعلیم کے مطابق کامن روم کا انتخاب کر سکتے تھے۔ہال میں بھی پڑھا جا سکتا ہے جہاں کئی دوسرے اسٹوڈنٹس پڑھنے میں مصروف ہوتے ہیں۔گروپ میں بھی الگ سے گروپ رومز میں بھی…..دو دو چار چار کے گروپ میں بھی….یہاں ہر طرح کی سہولت موجود ہے،چارچنگ،ایل سی ڈی،کمپیوٹر،انٹرنیٹ،وائٹ بورڈ وغیرہ وغیرہ۔
پورے لرننگ کامن کی ڈیزائننگ اور سجاوٹ ایسی ہے کہ گمان ہوتا ہے پڑھنے نہیں آئے ۔تفریح کے لیے کسی ہوٹل میں آئے ہیں۔ساتھ ہی کیفے ہے…..اسٹوڈنٹس لرننگ کامز میں آجائے تو انہیں کسی دوسری ضرورت کے لیے باہر جانا نہیں پڑتا،وہاں سب کچھ مہیا کر دیا گیا ہے۔
”تمہیں میری مدد کی ضرورت ہے؟“عالیان ہاتھ میں دو عدد کافی مگ لیے اس کے سامنے بیٹھ چکا تھا۔وہ ااوپن ہال میں اکیلی بیٹھی پڑھ رہی تھی۔اسے ضرورت پڑتی تھی تو اپنی کسی کلاس فیلو سے مدد لینے چلی جاتی تھی۔
”تم بزنس کے اسٹوڈنٹس اور میں انگلش لٹریچر کی….تم میری مدد کیسے کر سکتےہو ۔“جی ایگزامز کے دنوں میں اسٹوڈنٹس چڑچڑے بھی ہو جاتے ہیں۔
”جانتا ہوں…..لیکن تمہارے سبجیکٹ میں ایک اسکول کا بچہ بھی تمہاری مدد کر سکتاہے۔“عالیان جیسے اسٹوڈنٹس کا مزاج البتہ عروج پر ہوتا ہے۔
”تووہ بچے اسکول کیوں جا رہے ہیں۔ یہاں آکر ماسٹرز کیوں نہیں کر لیتے؟“
عالیان نے قہقہے کو بلند ہونے روکا…..کیا جواب دیا تھا امرحہ نے…..
“ؔ”ان سب باتوں سے تمہارا مطلب کیا ہے؟“ امرحہ نے ہونٹ سکیڑے ۔
”سیدھا اور صاف مطلب ہے،یہ بہت آسان سبجیکٹ ہے۔“
”تم میرا مذاق اُڑا رہے ہو…..؟“مزاج بگڑنےلگا تھا امرحہ کو نیند کی ضرورت تھی۔
”تمہیں بتا رہا ہوں….“عالیان بھرپور نیند لےکرآیا تھا،جم کر بیٹھ گیا۔
”تم طنز کر رہے ہو….“
”حقیقت کو تمہاری زبان میں طنز کہا جاتا ہے؟“اس نے زرا آگے ہو کر اس کے سامنے رکھی کتاب کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہا تو امرحہ نے فوراً کتاب کو جھپٹ لیا ۔
”اوف….اتنی بدتمیزی۔“اس نے ایسے طنز کیا جیسے اس نے برا مان لیا ہےپھر بھی مزید پھیل کر صوفے پر بیٹھ گیا۔
”کافی پی لو ۔ٹھنڈی ہو جائے گی۔“ہنسی دبانے کے لیے اس نے ہونٹ کا کونا دانتوں میں لیا ۔
”کس نے کہا تھا،میرے لیے کافی لانے کو؟“اسٹوڈنٹس کے پیچھے بھاگ بھاگ کر ٹویٹ لینے والی یہ کہہ رہی رہی تھی….ٹھیک ہےآخر کار ہر انسان بدل ہی جاتا ہے۔امرحہ کو یہ بات بری لگی تھی کہ اس نے اس کے مضمون کو لے کر ایسا کہا ۔دنیا میں ہر انسان نیوٹن،اسٹیفن یا عبدالسلام نہیں بن سکتا،ذہانت کا معیار مشکل مضمون پڑھنا ہی نہیں….اگر ہر لڑکی مادام کیوری جیسی نہیں بنتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کند ذہین ہے…..یا صفر ہے….
وہ لاء پڑھ کر مارگریٹ تھیچر،آئرن لیڈی بن سکتی ہے…..ایم اے اردو کر کے بانو قدسیہ بن سکتی ہیں۔معمولی سمجھے جانے والے مضامین کو پڑھ کر بھی وہ کیا نہیں کر سکتی۔
”مجھے الہام ہوا تھا۔“وہ اس کے دبے دبے غصیلے انداز پر زیر لب مسکرا ہی دیا ۔باہر برف باری شروع ہو چکی تھی۔دونوں قد آدم شیشے کے کھڑکی کے پاس بیٹھے تھے۔
”برف باری ہو رہی ہے امرحہ ! دیکھو۔“اس کا مقصد صرف اس کا غصہ کم کرنا تھا۔لیکن اگلی بات کر کے اس نے غلطی کی۔”تم تو شاید پہلی بار دیکھ رہی ہو گی؟اس نے کھڑکی سے باہر آسمان سے اترتے روئی کے گالوں سے برف کے گولوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
امرحہ کا غصہ ایک دم بڑھ گیا”کیوں میں کیوں پہلی بار دیکھ رہی ہوں گی؟“
”ہمارے پاکستان میں سب ہے…..سب۔“اس نے ایسے شانے لہرائے جیسے کہتی ہو یو انگریز….او shurrup ۔
”برف باری بھی؟“وہ ٹھوڑی کھجانے لگا پھر اس نےہاتھ ٹھوڑی تلے ہی ٹکا لیا۔کرسمس نائٹ پرلارڈ میئر اپنی پسندیدہ فلم دیکھتے ہوئے،اپنے قہقہے کا گلا دباتے ہوئے۔
”یونیورسٹی کی یاداشتیں ڈاٹ کام…..“
ہاں بلکل۔“شانے پھر اچکائے۔
سندری امرحہ مزے سے سچ کا گلا دباتے ہوئے،لارڈ مئیر کو کم عقل سمجھتے ہوئے دیسی انداز میں لمبی لمبی چھوڑتے ہوئے ایک جھوٹ سو کہانیاں ڈاٹ کام۔
”لاہور میں برف باری ہوتی ہے امرحہ…..اچھا….کب کب ؟“
”جب جب یہاں ہوتی ہے۔“امرحہ کے انداز کی نظر اتاری جانی چاہیے تھی۔
”اچھا…. اور کیا کیا ہوتا ہے لاہور میں…..؟“
لارڈ مئیر نے ریموٹ پھینک دیا ہے،انہیں صرف یہی فلم دیکھنی ہے۔
”سب….سب…جو یہاں بھی نہیں ہے سب ہے وہاں….جی ہاں….پھول،پودے،اسکول،کالج یونیورسٹیاں،عجائب گھر ،بڑے بڑے بازار ،شاپنگ سنٹر ،ہوٹلز،سپر جنرل سٹورز،ٹرین،موٹر وے،بڑی بڑی سڑکیں،سب ہے ہمارے پاس …..تم نے کیا سمجھ رکھا ہے ہمیں…؟“
وہ اتنی دلچسپی اور محویت سے اسے دیکھ رہا تھا جیسے چھوٹے بڑے ٹام اینڈ جیری دیکھتے ہیں….اس کے مدلل انداز۔
”تم نے کیا سمجھ رکھا ہے ہمیں؟“انداز کچھ ایسا تھا جیسے عدالت میں جج کا ہوتا ہے۔
”بتاؤ جوزف تم نے قتل کیوں کیا…..کیوں کیا….جواب دو….ٹھہرو…..سزا کے لیے تیار ہو جاؤ……الیکٹرک چیر تمہارا مقدر ہے….ہاں تمہارا مقدر۔“
”لاہور میں سب کچھ نہیں ہے امرحہ !سب کچھ تو مانچسٹر میں ہے۔“مسکراہٹوں میں سب سے پیاری مسکراہٹ سجا کر عالیان نے کہا۔
”ہاں تم تو یہی کہو گے۔“سندری امرحہ نے بروں میں سے بری طرح منہ بنا کر کہا۔
”میں….ہاں میں ہی تو یہ کہو گا…..لاہور خالی ہو چکا ہے…..اس کے پاس سب نہیں ہے….تم تو یہاں بیٹھی ہو ….اس کے پاس سب کیسے ہو سکتا ہے….اس کا سب تو مانچسٹر آچکا ہے۔“
کھڑکی کے باہر گرتے برف کے گالوں نے اتنی پیاری بات پر تالیاں بجائیں….وہ سفید سے نیلے پیلے ہرے ہو گئے….اور امرحہ خاموش ہو گئی اور کتاب پڑھنے کی کوشش کرنی لگی۔
”ویسے یہ دیکھو۔“اس نے اپنا موبائیل امرحہ کے آگے کیا جہاں لاہور کے موسم کی آٹھ سالہ تاریخ موجود تھی۔
”لاہور میں برف باری نہیں ہوتی۔“کہہ کر اس نے بلند قہقہہ لگایا۔اس بار اس نے آواز دھیمی رکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔ادھر اُدھر بیٹھے اسٹوڈنٹس نے اس کی طرف دیکھا کہ اتنے دباؤ میں بھی کون ایسے دل اے ہنس رہا ہے عالیان….اور کون…..
”ہوتی ہے۔“وہ اپنی بات پہ قائم رہی۔
”سندری امرحہ….چچ چچ….لاہور کی پتنگیں اور گپوں کی نہ ختم ہونے والی ڈوریں…..لاہور کی تاریخ اور رنگیلے لوگوں سے اکتساب۔
عالیان نے کس قدر حیرت سے اسے دیکھا۔
اور یہ سب،اس نے موبائل پر نظر انے والے کالم کی طرف اشارہ کیا جو لاہور کے موسم کے بارے میں تھا۔
”یہ غلط ہے…کسی جھوٹے انسان نے لکھا ہے“اس بار امرحہ نے شانے اورگردن ایک ساتھ اچکائے اور اتنے یقین اور سنجیدگی سے کہا کہ عالیان کا جی چاہا کہے دےکہ ہاں ساری دنیا جھوٹی ہےغلط ہے۔صرف تم سچی ہو….مجھے صرف تمہاری بات پر یقین ہے۔لیڈی مہر کی طرح ٹھوڑی تلے ہاتھ رکھ کر وہ اپنی مزید مسکراہٹ دبائے اسے دیکھتا رہا ۔دونوں کے درمیان کچھ دیر خاموشی رہی۔سندری امرحہ ایسے ہی جھوٹ بولتی جائیں اور لارڈ مئیر ایسے ہی سنتے جائیں…..وہاں کچھ ایسا ماحول تھا….علی ونگ کے اوپن ہال میں….کھڑکی کے پاس…..
”اگر میں لاہور جا کر رہوں اور برف باری نہ ہو تو تم مجھے کہوں گی کہ اس سال ہی نہیں ہوئی۔اگر میں اگلے سال تک کےلیے رک جاؤ تو تم کہو گی کہ موسم میں خطرناک حد تک تبدیلی آچکی ہے…..اور اگر میں آس پاس کے لوگوں سے تصدیق کے لیے پوچھنا شروع کر دوں تو تم کہو گی کہ سب جھوٹ بول رہے ہیں۔ تمہاری بےعزتی کروانا چاہتےہیں۔“اپنی ساری ہمت مجتمع کر کے اپنی ہنسی کو اندر ہی روک کر وی بمشکل اتنا ہی کہہ پایا۔
”تو تم ثابت کیا کرنا چاہتے ہوکہ سب کچھ تمہارے پاس ہی ہے؟“
وہ ہنسا ”تم دو شہروں کے سرسری جائزے میں بھی حاسد ہو امرحہ …..میں نے یہ کب کہا ہمارے پاس سب کچھ ہے…..میں نے صرف اتنا کہا کہ کیا تم پہلی بار برف باری دیکھ رہی ہو …..بس تم برا مان گئیں۔“
”میں بہت بار دیکھ چکی ہوں…..بس…“امرحہ باز آنے والی نہیں تھی۔
”ٹھیک ہے پر کہاں….؟“
”فلموں میں….ٹی وی پر…..میگزینز میں۔“اس رونی سے کہا۔
عالیان نے سر کو اُٹھایا۔علی لرننگ کی چھت کو دیکھا اور اتنی زور سے قہقہہ لگایا کہ ہال میں موجود ذرا زیادہ فاصلے پر موجود اسٹوڈنٹس بھی سر اُٹھا کر اسے دیکھنے لگے اور قریب کے نشستوں پر ذرا دیر کو اُنگھنے والے اسٹوڈنٹس ڈر کر ،جھرجھری بھر کر چونک کر آس پاس دیکھنے لگے۔
”عالیان !“ڈر کر اٹھ جانےوالی میگن نے اسے گھورا۔
عالیان نے اپنے منہ پہ ہاتھ رکھ لیا…امرحہ خاموشی سے کتاب پڑھنے لگی کہ وہ چلا جائے لیکن اپنی ہنسی قابو کرنے کے بعد وہ اس کی ایک کتاب لے کر بیٹھ گیااور اسے سرسری دیکھنے لگا…..وہ کتاب کا ایک صفحہ الٹتا اور اسے دیکھتا….پھر اسے دیکھتا اور جلدی سے صفحہ الٹ دیتا۔وہ غیر ارادی پر اس کے مزاج کو بگاڑ چکا تھا…..
”تمہاری آنکھیں…..“
”میری آنکھیں کیا ….؟“امرحہ کو یقین تھا اب وہ اس کی آنکھوں کو نشانہ بنائے گا”کالی….گہری۔“
”مجھے بھوری آنکھیں پسند نہیں۔“اس نے جلدی سے اسے ٹوک دیا۔”میں نے تم سے اپنی آنکھوں کے بارے میں تو نہیں پوچھا۔“
”تم میری آنکھوں کو برا کہتے میں نے پہلے ہی کہہ دیا۔“کیا حکمت عملی اپنائی تھی امرحہ نے….واہ…
”میں نے تمہیں برا کب کہا ؟“
”کہہ سکتے تھے…..امکانات تھے…“کافی ذہین تھی امرحہ ویسے….بادام کھاتی رہی تھی نا…..
”جب کہا ہی نہیں تو…..؟“
”کہہ دیتے تو….؟“
”میں تو بس اتنا کہنے لگا تھا کہ تمہاری آنکھیں بہت گہری ہیں۔جب تمہیں پہلی بار روتے ہوئے دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ بہت آنسو بہا چکی ہیں،بہت روتی رہی ہیں۔“
نوٹس لکھتے لکھتے امرحہ کے ہاتھ رک گئے ۔وہ ٹھیک کہا رہا تھا۔اسے اس سے خوف محسوس ہوا ۔وہ اس کے بارے میں اور کس کس بات کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگا چکا تھا….؟اس کی نحوست کا بھی….کیا اس کا بھی کہ لاہور میں وہ کس قدر غیر اہم رہی ہے….گھر کا خاندان کا حصہ ہو کر بھی حصہ نہیں سمجھی گئی۔اس پر کیسے کیسے طنز کیے جاتے رہےہیں۔اس کا کیسے کیسے مزاق اُڑایا جاتا رہا ہے۔وہ امرحہ جو رات کے اس وقت بارہ بجے کے قریب مکمل اعتماد سے علی رنگ کامن میں بیٹھی پڑھ رہی ہے،دادا کے کمرے میں خوف سے چھپ جایا کرتی تھی کہ گھر میں آنے والے مہمان اسے دیکھ نہ لیں…..اگر وہ کسی تقریب میں چلی ہی جاتی تو کوئی ایسی جگہ تلاش کرتی جہاں کوئی اسے دیکھ نہ سکے ۔وہ اپنے ہم عمروں کو باتیں کرتے ،قہقہے لگاتے،اچھل کود کرتے دیکھتی لیکن اپنی جگہ سے نہ ہلتی…ان کے پاس جانے کی ہمت نہ کر پاتی….
”کیوں روتی رہی ہو تم؟“
”میں کبھی نہیں روئی۔“کس قدر خوفناک سوال پوچھ لیا تھا عالیان نے….وہ اس سوال کا جواب کبھی نہیں دے گی۔
”یہ جھوٹ ہے۔“اس نے سنجیدگی سے کہا۔
”میں کبھی نہیں روئی….کہا نا۔“
”جو کبھی نہیں روتا،وہ انسان نہیں ہوتا….تم انسان نہیں ہو کیا ؟“
”ہاں !رویا ہوں ،بہت رویا ہوں ۔“خاموشی کے بوجھل وقفے کے بعد وہ بولا ۔اس کی آواز اداس ہو گئی۔وہ پہلی بار اتنا اداس نظر آیا
”کیوں“ امرحہ کو اپنی غلطی کا فوری احساس ہوا ۔خاموشی سے وہ جیسے سر جھکا کر بیٹھے کا بیٹھا رہ گیا تھا۔
”دیکھا برا لگا ناں…اپنے رونے کی وجہ کوئی بتانا پسند نہیں کرتا….“
”میں چھ سال کا تھا جب رات بھر اپنے ہاتھ کو اپنی ماما کے ہاتھ میں دیے ان کے سرہانے بیٹھا رہا تھا…..صبح ان کا ہاتھ سرد ہو چکا تھا اور سخت بھی ….اور جب لوگوں نے میرے ہاتھ کو ان کے ہاتھ سے نکلنے کی کوشش کی تب میں رونے لگا ….اور بعد میں بھی اس منظر کو یاد کر کے روتا رہا ….یہ میرے اب تک کے رونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔“
امرحہ کو اپنے روئیے پر شرمندگی ہوئی۔”آئی ایم سوری۔“
وہ اُٹھا اور چلا گیا….اس کی چل بتا رہی تھی کہ وہ خود کو کس کیفیت سے نکالنے کی کوشش کررہا ہے……امرحہ نے اسے جاتے ہوئے دیکھا۔اس کا اپنے بارے میں اندازہ بلکل ٹھیک تھا۔وہ کافی خودغرض ہوتی جا رہی تھی۔غالباً ٹھیک کہہ گیا تھاکہ جو روتا نہیں وہ تو انسان ہی نہیں ہے….اور سب انسان روتے ہیں…..کبھی نہ کبھی …..کسی نہ کسی وجہ کو لے کر …..
لیڈی مہر اپنے بچوں کے بارے میں صرف اس محبت کا ذکر کرتی تھیں جو ان سب کے درمیان تھی۔وہ کبھی یہ نہیں بتاتی تھیں کہ کون، کیا ،کیوں اور کیسے ہے…..وہ اس کڈز سینٹر تک کیسے پہنچا….اس کا ماضی کیا ہے….وہ کہاکرتیں”ان کے بچوں کا ماضی کتنا ہی بھیانک رہا ہو ،ان کا حال پُر عزم ہےاور مستقبل شاندار۔وہ ان کے بچے تھے اوروہ ان کی تکلیفوں کو ان کے سواکسی اور کے ساتھ زیر بحث نہیں لائی تھیں…..کبھی مورگن،شارلٹ،ڈینس یا کوئی اور ان کے پاس پریشان صورت لیے آتا تو گھنٹوں کمرا بند کیے اپنے اس بچے یا بچی کو لیے جانے کون کون سی باتیں کرتی رہتیں۔امرحہ سمجھ سکتی تھی کہ آپ کتنے بھی مضبوط اور بہادر بننے کی کوشش کریں،ماضی سامنے آکر تھوڑی دیر کےلیےہی سہی پر دیوانہ سا ضرور کر دیتا ہے….آپ اپنے حواس کھونے لگتے ہیں….عالیان کے بارے میں اگر امرحہ نے کچھ جاننا چاہا تو انہوں نے صرف اتنا کہا ۔
”وہ میرا بہت بہادر بیٹا ہے اور اپنی ماں مارگریٹ سے مثالی محبت کرتا ہے۔“
بس اس سے آگے انہوں نے کچھ نہیں کہا۔وہ ایک سمجھ دار خاتون تھیں۔انہیں معلوم تھا کس کے بارے میں کتنی بات کرنی ہے اور اپنے بچوں کے لیےتو وہ بہت ہی سمجھ دارتھیں۔
امرحہ اپنےرونے کو لے کر بیٹھی تھی اور سمجھتی تھی اس سے زیادہ دکھ کسی کو ملے ہی نہیں۔اس سے زیادہ زیاتی زندگی نے کسی کے ساتھ کی ہی نہیں ….قدرت نے سب غم کےپہاڑ اسی پہ توڑ ڈالے ہیں….کسی خوشی کا حقدار اسے ٹھہرایا ہی نہیں گیا….ایک امرحہ ہی کیا …ہم سب یہی سوچتے اور اسی سوچ پر یقین رکھتے ہیں۔ انسان نے سب سے زیادہ علم جو خودکو سکھایا ہے ،وہ ناشکری اور شکواہ سرائی ہی تو ہے۔
_______
سرسبز مانچسٹر یونی برف سے اٹ چکی تھی۔ہر طرف برف پڑتی نظر آتی تھی،پہلی بار برف کےایسے ڈھیروں کو دیکھنے والوں کا جی چاہتا تھاکہ وہ ان ڈھیروں پر پھسلیں،ان کے گولے بنا بنا کر ایک دوسرے کو ماریں….اور بہت سے اسٹوڈنٹس ٹائم نکال کر ایسا کر بھی لیتے تھے۔مانچسٹر پر سفید پری کا راج تھا اور گرم خطوں والے اس سفید پری پر فدا ہوئے جا رہے تھے جبکہ ٹھنڈے خطوں کے باشندے ایسے موسم سے بہت چڑتے ہیں۔وہ بہار کے دلدادہ ہوتے ہیں،انہیں منہ سے بھاپ نکالتے اس موسم سے کوئی خاص لگاؤ نہیں۔اتنے ڈھیر سارے گرم کپڑے پہننے سے انہیں کوفت ہوتی ہے….پاکستانیوں کی تو خیر جان ہوتی ہے سردیوں میں…..اور وہ سردیوں کے مختصر دورانیہ کو ایسے مناتے ہے جیسے مغربی کرسمس کی چھٹیوں کو…..دستانے ،ٹوپی چڑھائے،کانوں کے گرد مفلر لپیٹے ،گرم کوٹ کے جیبوں میں ہاتھ دیے ….سرخ ناک لیے….دھند کو اپنے اندر اتارتے دھند کو چیرتے چلتے امرحہ یونیورسٹی میں آتے ہی مبہوت سی ہو جاتی……دھند یونیورسٹی کی عمارتوں سے ہوتی زمین پر اتر رہی ہوتی….وہ تھوڑی دیر کو کھڑی کی کھڑی رہ جاتی۔
”کیا یہ کسی خواب کا منظر ہے….یا خواب ہی ہے؟“
اسٹوڈنٹس تیزی سےآجارہےہوتے…..نیلے،پیلے،سرمئی،کالے،سفید کوٹوں والے،ٹوپیوں والے،منہ سے بھاپ نکالتے….ہاتھوں کو رگڑتے یا جیبوں میں دیے کتنے پیارے منظر تھے….ٹھنڈ تھی….برف تھی….دھند تھی….اور آزادی تھی…..دوست تھے ….ہلا گلا تھا…..اور کوئی دکھ نہ تھا۔
دو دن بعد امرحہ تھوڑا سا وقت نکال سکی عالیان کے پاس جانے کے لیے،علی رنگ کامن کے گروپ اسٹڈی روم کے شیشے کے دروازے کے پار وہ اسے نظر آگیا۔کم سے کم گیارہ اور اسٹوڈنٹ اور بیٹھے تھے اور وہ وائیٹ بورڈ کے پاس کھڑا لیکچر سا دے رہا تھا۔پین سے وہ کوئی سوال حل کر رہا تھا۔امرحہ نے اس کے لیے کافی لی تھی،اب اتنے اسٹوڈنٹس میں وہ ایک مگ تو نہیں دے سکتی تھی،اس لیے پلٹ آئی۔وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ رہی تھی جب عالیان تقریباً اس کے پیچھے بھاگتا ہوا آیا….
”یہ میرے لیے لائی ہو۔“اس نے مگ پکڑ کر گھونٹ بھرا۔
”ہاں ! “وہ مگ ہاتھ میں لے چکا تھا ۔کافی پی رہا تھا۔اور پوچھ رہاتھا امرحہ نے اسے داد دی۔
”مفت !“وہ سیڑھیاں اترنے لگا اس کے ہال کی طرف بڑھنے لگا۔
”ظاہر ہے مفت….یہ ٹویٹ نہیں ہے….“
”اوہ شکر کہ یہ ٹویٹ نہیں ہے….ویسے ہی میرے سر پر دس، بارہ ٹوٹیس ہیں….چار تو کارل کی ہیں….اور وہ میری جان کو آیا ہوا ہے۔“
”تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں آئی ہوں؟“
”دو دن سے انتظار کر رہا تھا تمہارا۔“چلتے چلتے اس نے گردن موڑ کر کہا۔
”پر میں نے کب کہا تھا ۔میں آؤں گی؟“
”آنا چاہیے تھا…..“
”تم کہا جا رہے ہو ؟“ امرحہ کو نیچے جانا تھا ،اسے تو نہیں نا…..
”میں تمہارے ساتھ….“
”میرے ساتھ کیوں آرہے ہو ….تم پڑھو بلکہ شاید تم کو ئی لیکچر دے رہے تھے۔“
”میں بریک لینے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا۔“
”میں تو صرف معذرت کرنے آئی تھی تم سے ۔“
دونوں سکینڈ فلور پر آ کر رک چکے تھے۔
”ٹھیک ہے کرو۔“امرحہ اس کا منہ دیکھنے لگی۔
”کرو بھئی….میں سن رہا ہوں ۔“کافی کی چسکی لے کر اس نے کہا۔
”معذرت کرنے آئی تھی….جب یہ کہہ دیا مطلب معذرت کر لی…..اور کیا۔“
”آں….اچھا….اب آگے….“
”آگے کیا ؟“امرحہ کو پھر سے غصہ آنے لگا۔
”تم اتنے پیارے سرد مانچسٹر میں رہ کر اتنی جلدی گرم کیوں ہو جاتی ہو ؟“عالیان مسکرایا یعنی امرحہ سے ناراض ہونا وہ جانتا ہی نہیں تھا۔اس کے غصے کو وہ پھول کی پتی کی مانند چھو کر اُڑا دیتا تھا۔
”اچھا چلو،ایگزمز کے بعد ملتے ہیں……مشکل ہے لیکن میں کر لوں گا…..ورنہ میرا تعلیمی ریکارڈ خراب ہو جائے گا…..“
”مجھے تمہاری باتیں سمجھ میں نہیں آتیں….“
”مجھے خود بھی میری باتیں سمجھ میں نہیں آتیں…..اچھا تم جاؤ…“
”کیسے انسان ہو تم،کسے جانے کے لیے کہہ رہے ہو۔“کارل کی آواز ان کے قریب،لیکن پیچھے سے آئی اور اس نے بڑھ کر عالیان کی گردن دبوچ لی۔
امرحہ تو فوراً وہاں سے غائب ہو گئی وہ امتحانات کے دنوں میں اس سے کوئی لڑائی مول لینا نہیں چاہتی تھی….لیکن اگلی رات کو وہ خود امرحہ کے پاس آیا…..کچھ فاصلے پر لیزا پڑھتے پڑھتے لڑھک کر سو چکی تھی اور صوفے اور کارپٹ کے درمیان جھولتی کافی مضحکہ خیز لگ رہی تھی۔پہلے تو اسے دیکھ دیکھ کر امرحہ اپنی ہنسی روکتی رہی پھر اس کے پاس آئی اسے دھکیل کر کارپٹ پر کیا تاکہ وہ ٹھیک سے کارپٹ پر ہی سو جائے….سامنے اس کا لیپ ٹاپ کھلا رکھا تھا۔اکثر ایسی چیزیں غائب کرنے کے واقعات ہو جاتے تھے….امرحہ نے اس کی چیزیں سمیٹیں اور بیگ کو اس کے سرکے پیچھے رکھا….ابھی لپ ٹاپ پر اس نے ہاتھ رکھا ہی تھا کہ اسے محسوس ہوا کہ اس کی تصویر کھینچی گئی ہے….اس نے گردن موڑی تو کارل کھڑا تھا۔
”امرحہ The lost duck علی لرننگ کامن میں سوئے ہوئے اسٹوڈنٹس کی چیزیں چراتے ہوئے ….اپنی نوعیت کا چالیسواں واقعہ….“فون ہاتھ میں لیے وہ مسکرا رہا تھا۔”یہ گرما گرم خبر کچھ ہی دیر میں The tab manchester (اسٹوڈنٹس ویب سائیٹ) میں آجائے گی۔“امرحہ کا جی چاہا کہ لیزا کی ٹھنڈی ہو چکی کافی اس پر انڈیل دے ،پر وہ باز رہی….وہ اپنی آنکھوں کی چنگاریاں دبائے اسے گھور رہی تھی اور کارل کو یہ نظر آرہا تھا کہ اسے گھورا جا رہا ہے…..وہ ہاتھ باندھ کر ایسے کھڑا ہو گیا جیسے سو دو سو پاپا رازی اس کی تصویریں کھینچ رہے ہوں……
”تمہیں غصہ آرہا ہے؟…..ہاں تمہیں تو غصہ آرہا ہے۔“وہ مسکرایا…..
”میں عالیان سے کہتی ہوں۔“امرحہ کو آگ ہی لگ گئی۔وہ ہنسا”عالیان میرا باپ نہیں ہے،ویسے ہوتا تو بھی کچھ نہ کر سکتا تھا۔“وہ ٹھیک کہے رہا تھایہ دھمکی چلنے والی نہیں تھی کہ میں تمہاری اماں سے تمہارے ابا سے تمہاری شکایت کر دوں گی یا ذرا رکو میں ابھی اپنے بھائی کو لےکر آئی،وہ تمہاری عقل ٹھکانے لگا دے گا۔
”کچھ ہی دیر میں تم پوری یونی میں مشہور ہو جاؤ گی،پھرہر کوئی تم سے اپنے چوری شدہ چیزوں کا مطالبہ کرے گا…..وہ بھی جن کی کبھی ایک پین بھی چوری نہیں ہوئی ہو گی…..تم سوچ سکتی ہو،میرا کیا مطلب ہے۔“اوف وہ پھر مسکرایا….. گندا بچہ۔
امرحہ کارل کو وہی چھوڑکر ویرا کےپاس آئی ۔وہ اپنی کلاس فیلو کے ساتھ گروپ اسٹڈی کر رہی تھی۔ویرا کو ساری بات بتائی…..ویرا ہنسنے لگی۔
”تم فکر نہ کرو۔وہ تمہیں ڈرا رہاہے….ویسے میں The tab کے ایڈیٹر کو جانتی ہوں….بات کر لیتی ہوں اس سے تم فکر نہ کرو۔“
”یاد سے کرلینا ورنہ کل تک میں چور مشہور ہو چکی ہوں گی۔“
”ویرا نے قہقہہ لگایا”ویسے ایسا کر کے دیکھتے ہیں….تمہیں معلوم ہو گا چور کیسا محسوس کرتے ہیں۔“
”مجھے ایسے احساسات معلوم نہیں کرنے،یعنی حد ہے….ایک چور کے احساسات ہی رہ گئے ہے معلوم کرنے کےلیے۔“ویرا ہنسی سےلوٹ پوٹ ہونے لگی”ایسی باتیں کرتی تم بڑی پیاری لگتی ہو۔اگر اگلے جنم نام کی کوئی چیز ہوتی تو مجھے امرحہ بننا تھا۔ینگ لیڈی آف پاکستان۔“
”اور مجھے ویرا….خونخوار لیڈی آف رشیا(روس)“
ویرا نے وہاں کھڑے کھڑے ایڈیٹر سے بات کی،کچھ دیر بعد ویرا نے ایک ایم ایم ایس جو ایڈیٹر نے اسے بھیجا تھا۔امرحہ کو دیکھایا….وہ امرحہ کی تصویر تھی۔
”جادو سے ہپناٹائز کر کے اسٹوڈنٹس کی چیزیں چھپادینے والی فریشر امرحہ (The lost duck) اپنی نوعیت کا چالیسواں واقعہ،یونیورسٹی انتظامیہ سے تحقیقات کی گزارش کی جاتی ہے۔“
”وہ تمہیں چور نہیں جادوگر ثابت کر رہا ہے….تم دیکھتیں،کل تک تمہارے پاس اسٹوڈنٹس کی لائن لگ جاتی ہپناٹائیزم کے لیے….“ہنستے ہنستے ویرا بے حال ہو گئی….امرحہ بھی ہنسنے لگی۔یہاں بڑی مانگ ہے ہپناٹائیزم کی…..تم تو مزے سے ہزاروں پونڈز کما لیتیں…آج کل تو پروفیسرز کو ہپناٹائز کرنے کے لیے کہا جاتا….ہاہاہا….منہ مانگ پونڈز ملتے تمہیں امتحانات کے دنوں میں۔“
لیکن یقیناً کارل کو اپنی تیاری سے زیادہ امرحہ کی فکر تھی کہ وہ بےچاری یہ نہ سوچتی ہو کہ کوئی اسے تنگ نہیں کر رہا ۔آخر اس کے ساتھ یہ غیروں والا سلوک کیوں؟تو وہ اس کے ساتھ اپنوں جیسا سلوک کرنے اگلی رات علی لرننگ میں موجود تھا….علی لرننگ میں پڑھنے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہےکہ جو پورا سمسٹر آپ کو نظر نہیں آتے وہ نظر آتے آتے آپ کے دوست بن جاتے ہیں۔پورا مہینہ علی لرننگ میں کامن میں ”ہاؤس فل شو“ہوتے…جوراتوں کو اپنے بستروں پر سوتے ہیں وہ یہاں اونگتے اور پرھتے پائے جا سکتے ہیں….رات رات بھر ان کی شکلیں دیکھنےکو مل جاتی ہیں۔علی کامن ،لائبریری،کیفے چوبیس گھنٹے کھلے رہتے تھے….تو کارل اس کے سامنے آکر بیٹھ گیا…..امرحہ نے اس کے اٹھنے کا انتظار کیا اور مکمل توجہ سے پڑھنے کی کوشش کی،لیکن بےکار….کبھی نوٹس اس کے ہاتھ سے گر جاتے کبھی پین اور پھر لیپ ٹاپ بھی گر گیا…..
اف اب وہ اتنا سامان سمیٹ کر دوسری جگہ جائے….اب تو فلور پر ہی بیٹھنا پڑے گاکیونکہ سب جگہیں پر تھیں…اور اسے یقین تھا،وہ جہاں بھی جائے گی،کارل اس کے سامنے آکر ایسے ہی بیٹھ جائے گا….کارل خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔اس کی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ اس کے دماغ میں کچھ چل رہا ہے اورجو چل رہاہے وہ ایسا کچھ اچھا ہرگز نہیں ہے….کارل کے دماغ میں ایک ایسی بیٹری فیکس تھی جو کبھی ڈاؤن نہیں ہوتی تھی۔سب امتحانات کے مارےہوئے تھے اور وہ الٹی سیدھی حرکتوں میں غلطاں تھا….پھربھی وہ ہر سال اسکالر شپ لے لیتا تھا…اگروہ ایسی حرکتیں نہ کرے اور صرف پڑھے تو یقیناً وہ یونی کا ڈین بن جائے۔ساری کتابیں،نوٹس ،کاغذ،لیپ ٹاپ ،پین وغیرہ کو اپنی بانہوں میں عارضی طور پر سمیٹ کر وہ بمشکل اُٹھی اور نئی جگہ تلاش کرنے لگی۔وہ چند قدم ہی چلی ہو گی کہ اس کے ہاتھ پر بجلی گری…جی بجلی….آسمانی نہیں ….زمینی….کارل نے اپنےہاتھ میں پکڑےپین کو اس کے ہاتھ پر لگایا تھاایک دم پیچھے سے آکر….اوراسکےہاتھوں میں پکڑی سب چیزیں زمین بوس ہو چکی تھیں…لیپ ٹاپ بھی” ٹھاہ “کر کے گرا تھا۔ اب اللہ ہی جانتا تھا کہ وہ چلے گا یا سستے دموں بکے گا بھی نہیں…
”کیا بدتمیزی ہے یہ۔“امرحہ چلائی۔
”کیا ہو ؟“ اف کارل کی معصومیت….
”تم نے کیا لگایا ہے میرے ہاتھ پر ؟“
”میرے ہاتھ تو خالی ہیں….صرف ایک پین ہے میرے ہاتھ میں….میں پڑھ پڑھ کر تھک چکا تھا، سوچا تم سے باتیں شاتیں کر لو….“
”اس پین میں کچھ تھا….ضرور کچھ تھا ۔“امرحہ قسم کھا سکتی تھی اس میں کرنٹ تھا۔
”تمہیں میرے اس پین پر شک ہے ؟“اس نے پین لہرایا۔دیکھو یہ صرف ایک پین ہے….اس سے لکھا جاتا ہے…لکھنا سمجھتی ہو نا….ایسے….ایسے لکھتے ہیں۔“
امرحہ نیچے بیٹھ کر پنی چیزیں سمیٹنے لگی وہ بھی نیچے بیٹھ کر اس کی چیزیں سمیٹنے لگااور ایک بار پھر امرحہ کے ہاتھ پر کرنٹ کا جھٹکا لگا….امرحہ نے چیخ مار دی ،کارل نے دونوں ہاتھ اُٹھا لیے …”ٹھیک ہے ٹھیک ہے ….نہیں کرتا تمہاری مدد میں….تم تو جنگلیوں کی طرح چلا رہی ہو ….میں یونیورسٹی انتظامیہ سے بات کرتا ہوں آخری وہ یونیورسٹی میں خلائی مخلوق کو داخلے کیوں دیتے ہیں….یہ تو اچھی بات نہیں ہے نا….اس طرح تو تم لوگ ہمیں پاگل کر دو گے،آخر ہم کیوں پاگل ہو تمہارے لیے۔“امرحہ نے لیپ ٹاپ اُٹھا لیا…”اگر تم یہاں سے نہیں گئے تو میں تمہارا سر پھوڑ دوں گی۔“
”اس طرح تمہارا لیپ ٹپ بھی ٹوٹ جائے گا ….جہاں تک میرا خیال ہے ابھی تک میرے سر سے زیادہ ،تمہیں لیپ ٹاپ عزیز ہو گا۔“
”تم اس کی جان کیوں نہیں چھوڑ دیتے ؟“عالیان نے آکر ایک زور دار گھونسا اس کی کمر میں جڑا …اور اس کےہاتھ سے پین جھپٹ لیا….کارل نے ایک قہقہہ لگایا ”میں تو یہاں سے گزار رہا تھا امرحہ نے ہی مجھے روکا کہ آؤ باتیں کرتے ہیں۔باتیں شاتیں….“عالیان نے امرحہ کی سب چیزیں سمیٹیں اور اس کے ہاتھ میں کارل کا پین دیا۔
”اس پین کا استعمال میں تمہیں سیکھا دوں گا ۔اگلی بار جب یہ تمہارےپاس آئے تو اسی پین سے اسے کرنٹ دینا۔“امرحہ نے تبرک کی طرح پین قبول کیا ….اور اپنی کلاس فیلو کی ٹیبل پر چلی گئی ۔کارل کا قہقہہ اسے کےپیچھے گونجتا رہا ۔کارل انسانی حلیے میں ایک غیر انسانی مخلوق ….بلاشبہ…
پین میں ایک ہیوی بیٹری فکس تھی،جو پین کے کیپ کو بائیں طرف حرکت دینے پر کام کرتی اور پین کے نیب سے ہلکا سا کرنٹ نکلتا….جو معمول کے اوقات میں کافی زور دار لگتا….عام استعمال میں وہ پین عام لکھنے والا پین تھا….صرف اس کا مالک ہی اس کا استعمال جانتا تھا….اور اس کا مالک کارل تھا….یہ پین کبھی کارل کا ٹریڈ مارک تھا….اب تو کارل کے لیے پرانا ہو چکا تھا۔لیکن امرحہ کے لیے بہرحال نیا ہی تھا….امرحہ کے لیے ہی اس نے نکالا تھا۔وہ اس پین کا استعمال ،یونی میں،اسٹوڈنٹس سےبھرے کوریڈورز،لان ،کلاسسز،گراؤنڈ،لائبریری،سب ویز،بس،ہوٹل،بارز،کلب،کیفے،ہر جگہ کیا کرتا،خریداری کے دوران بھی،سٹر ک پر چلتے رش والی جگہ پر بھی…کہی بار کلاس میں پروفیسرز کو بھی یہ جھٹکے دیے تھے…جس دن اس کا یہ موڈہوتا وہ پہلی رو میں بیٹھ جاتا اور بلا وجہ لیکچر کے دوران یہ ظاہر کرتا کہ اسے فلاں فلاں پوائیٹ سمجھ میں نہیں آرہے ….پروفیسر چلتے اس کے قریب آجاتے….کارل دونوں ہاتھوں کو کھڑا ہو کر ایسے لہراتا جیسے اسے بات کرنے کے دوران ہاتھ چلانے کی عادات ہے ….بہت سے لوگوں کو یہ عادت ہوتی ہے…خیر ہاتھ چلاتے چلاتے پین پروفیسر کے ٹھوڑی،گردن،کان کی لو اور کبھی ناک سے ٹکرا جاتا ۔ایسا ہو ہی جاتا ہے اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں….خیر…تو اور بے چارے پروفیسر….بھری کلاس میں چلا اُٹھتے ….ڈر کر حواس باختہ سے ہو جاتے ایک دم سے اچھل پڑتے…بے چارے پروفیسر صاحب….ایسے موقعوں پر کلاس کے لیے اپنے قہقہوں کا گلا دبانا مشکل ہو جاتا….عالیان کہیں قریب ہی ہوتا تو اس کی کمر پر چٹکی بھرتا…..
”کسی کی جان جائے گی تیرے اس چھوٹے موٹے کرنٹ کے گولے سے۔“
”گئی تو نہیں نا…ویسے بھی سائنس کہتی ہے کہ ایک عام انسان کے جسم میں اچھے خاصےوولٹیج کے کرنٹ کو سہنے کی طاقت ہوتی ہے ….“
”سائنس کہتی ہے یا کارل کہتا ہے ؟“
کارل کسی سائنس سے کم ہے کیا …؟“آنکھ مار کر
تو یہ ہے کارل ….انسانی حلیے میں غیر انسانی مخلوق….

Read More:   Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 58

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply