Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 22

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 22

کارل کسی سائنس سے کم ہے کیا؟؟؟ آنکھ مار کر ۔۔۔ توبہ ہے کارل۔۔۔۔ انسانی حلیے میں غیر انسانی مخلوق ہے۔۔۔ویلکم ویک پر اسنے فریشر کا کافی بھرتہ بنایا۔۔۔وہ تو سارا سال ویلکم ویک کا انتظار کرتا تھا فریشر میں تو اسکی جان ہوا کرتی تھی وہ اپنے سارے پرانے ہتھیار نکال لیا کرتا تھا۔۔اکثر سینئرز فریشر کو گائیڈ کرتے ہوئے کاغذ پر یہ بھی لکھ دیتے “اور کارل سے بچ کر”
Have a safe welcome week…
کارل ویلکم ویک کے 5 دن نت نئے انداز اپناتا تاکہ پہلے دن ملنے والے اسے دوسرے دن پہچان نہ سکیں۔۔
دوسرے دن ملنے والے اسکے ہاتھوں تیسرے دن بھی الو بن سکیں۔۔ وہ داڑھی اور بال بڑھا لیتا دوسرے دن کٹوا لیتا تیسرے دن ہرے رنگ کی وگ؛چوتھے دن گنجا ساتھ کان ناک ٹھوڑی اور بھنوؤں میں بالیاں۔۔۔ پانچویں دن لمبے بال۔۔۔کارل Ask Me
جس نے اسٹوڈنٹ کارڈ بنوانے جانا ہے اسے وہ بڑے آرام سے یونی سے باہر کسی بھی دوسری عمارت میں بھیج دیتا۔۔۔ کچھ کو اسنے باتھ روم بند کر دیا جی اسکے پاس اوزار تھے۔۔۔
اور ایسے کام وہ بہت احتیاط سے کرتا۔۔اسے بھی یونی میں رہنا تھا۔۔۔
چند لڑکیوں کو اسنے لیب میں بند کر دیا تھا۔۔۔ امرحہ کی قسمت اچھی تھی کہ ویلکم ویک پر اسکا ٹکراؤ کارل سے نہیں ہوا تھا۔۔ورنہ تو اسکی سائنس لیب میں ہی موت واقع ہوجاتی۔۔۔
اور فریشر ویک پر ایک فریشر مردہ نکلتی۔۔۔ اور مانچسٹر میں اپنی آمد کے چوتھے دن؛ تابوت میں بند ہعکر پاکستان واپس جاتی۔۔اور دادا یہ نہ معلوم کرسکتے کہ پاکستان میں تو سب اس بےچاری بچی کے پیچھے پڑے رہتے تھے’ مانچسٹر میں کون سکے پیچھے پڑ گیا تھا۔۔۔ہر فریشر رو رو کر سکائیپ پر ہری وگ’ گنجے سر’ لمبے بالوں والے Ask me کا قصہ سنا رہا ہوتا۔۔۔
فریشر کے آتے ہی یونی میں کارل۔۔۔ کارل ہورہی ہوتی۔۔۔ اسٹوڈنٹ یونین کے صدر اور باقی لوگ اسے سنجیدگی سے محتاط رہنے کے لئے تو وہ بڑی معصومیت سے کہتا۔۔۔ پتا نہیں آپ لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔کیا میں نے کسی کی جان لے لی ہے۔۔۔ یا میں کلر ہوں۔۔۔ یعنی وہ جان لے گا تو ہی کوئی چھوٹا موٹا جرم مانا جائے گا۔
••••••••••••••••••••••
چینی کہتے ہیں۔۔۔ اگر میں ایک سر سبز شاخ سے اپنے دل کو سجاؤں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک خوش گلو پرندہ اس پر آکر نہ بیٹھے۔
#محبت_کرنے_سے_پہلے_احترام_کرنا_سیکھیں۔۔۔ اور یہ بھی کہ ایک بوڑھے کا عشق میں مبتلا ہو جانا خزاں میں پھول کھلنے کے مترادف ہے۔۔۔اور خزاں میں محبت کا پھول ہی کھلنے کی جرات کرتا ہے۔۔۔ چینی اپنے سال کے آغاز سے پہلے پورے جوش و خروش سے اپنے گھروں کو صاف کرکے سجاتے ہیں۔۔ نئے کپڑے خاص طور پہ سرخ لباس بنواتے ہیں۔۔سرخ کاغذوں اور سرخ پارچہ جات پر لکھی روایتی نظموں سے گھر کے دروازوں’دیواروں اور ایسی ہی دوسری جگہوں کو سجاتے ہیں۔۔۔ نئے سال کا آغاز ہورہا ہے۔۔۔ پرانا وقت بیت چکا ہے۔۔۔
پرانے وقت کو الوداع کہا جائے گا۔۔۔ نئے وقت کے لئے جشن تیار ہے بڑے بوڑھے بچوں کو سرخ لفافوں میں ملفوف #لکی_منی ( خوش قسمتی کے سکے) دیتے ہیں۔۔۔ چینی روایات کہتی ہیں کہ سرخ رنگ آگ کی علامت ہے ‘ جو انکے سیانوں کے بقول بد قسمتی اور بدی کو دور کرتی ہے۔۔۔قدیم وقتوں میں لمبے بانسوں کو جلانا جاتا تھا تاکہ بدی اور بلائیں آگ کو دیکھ کر بھاگ جائیں’ شر لو آگ سے دفعان کیا جاتا تھا۔۔۔ پہلے چاند کی پندرہ کو سرخ چینی ساختہ لالٹینوں کا تہوار منایا جاتا ہے۔۔۔عبادت گاہوں کو سجایا جاتا ہے اور ہاتھوں میں لے کر شام کو چاند کی روشنی میں پریڈ مارچ کیا جاتا ہے چینی سال۔۔ بہار کا آغاز۔۔۔ دعاؤں کے ساتھ۔۔۔ خوشیوں کو لیے۔۔۔ بدی کو دور کرتے۔۔۔روایات کو زندہ رکھتے۔۔۔ سرخ سرخ۔۔۔ روشن روشن۔۔۔ منظم اور پر جوش۔۔۔ سال کے آغاز پر اپنی میزوں کو Dumpling (روایتی چینی کھانا) سے سجاتے ہوئے۔۔۔ دعائیں دیتے ہوئے۔۔۔چاولوں کے جاروں کو بھرتے ہوئے کہ نئے سال پر چینی چاول کے جار کا خالی رہ جانا بد قسمتی کی علامت سمجھتے ہیں۔۔۔ مانچسٹر میں اس سال کی ڈریگن پریڈ( نئے سال کی پریڈ) کے لئیے تیاریاں عروج پر تھیں۔۔۔ پریڈ اکتیس دسمبر۔۔۔ جنوری نئے سال کے پہلے دن تھی۔۔۔۔
یہ سال گھوڑے کا سال تھا پچھلا سال سانپ کا سال تھا.. امرحہ کی چینی کلاس فیلو جی سن نے سب کلاس فیلوز کو رجسٹریشن کروانے کے لیۓ کہا تھا…وہ امرحہ کے پاس بھی آئی تھی… میں تو جانتی بھی نہیں کہ یہ سن کیا ہوتا ہے میرے لیۓ تو کھڑے ہو کر دیکھ لینا ہی بہت بڑی دریافت ہوگی کہاں اس میں شرکت کرنا…
پریڈ میں جاؤ گی تو سب جان جاؤگی …
تمہیں زندگی میں کھڑے ہوکر پریڈ دیکھنے کے تو کئی مواقع مل جائیں گے شرکت کرنے کے نہیں.. اس سال تو نوے ہزار سے زیادہ لوگ شرکت کریں گے…وہ ہنسنے لگی !! نہیں میں نے یہ سب کبھی نہیں کیا.. جو کیا نہیں وہ کروگی بھی نہیں… چینی پاکستانی کو ناں نہیں کہتے ایک پاکستانی ,چینی کو ناں کیسے کہہ سکتا ہے…غیر چینی لوگ پریڈ میں شرکت کرتے ہیں تو ہمیں اچھا لگتا ہے…ہمیں یقین ہوتا ہے کہ نئے سال کا آغاز ہم نے سب کی اقوام کی دعاؤں اور محبت سے کیا ہے…ہم دونوں تو ایشیائی خطے کے دو اہم دوست بھی ہیں اور ہمساۓ بھی قطار میں تین غیر ملکی کھڑے ہوں تو ہم پہلے پاکستانی کے آگے bow کرنے کو ترجیح دیتے ہیں…
مجھے ہنسی آۓ گی … امرحہ کو ابھی بھی تامل تھا… تو ہنستی رہنا بلکہ چھلانگیں لگانا …کوئی فرق نہیں پڑے گا… روتے بسورتے لوگوں کا وہاں کیا کام… ویسے تم کس جانور کا لباس پہننا پسند کروگی… میں انتظام کر دونگی … چاہو تو کوئی ماسک نہ پہننا… تم ڈریگن کا بانس بھی پکڑ سکتی ہو لیکن اسکے لیۓ تمہیں مسلسل حرکت میں رہنا پڑے گا … تم تھک جاؤگی.. میں روایتی چینی لباس کمونو پہنوں گی اور میرے ہاتھ میں بڑا سا چینی پنکھا ہوگا میرا میک اپ بہت گہرا ہوگا… چاہو تو تم میرے ساتھ یہ بن سکتی ہو…یا تم ( دو بڑی گول دھاتی پلیٹوں پر مشتمل ساز دونوں پلیٹوں کو آپس میں ٹکرایا جاتا ہے ) بجا سکتی ہو.. یا ڈرم.. لیکن تمہیں ڈرم بجانے کی پریکٹس نہیں ہوگی… نہیں میں کمونو نہیں پہن سکتی … گہرا میک اپ تو ہر گز نہیں … اگر تم شرما رہی ہو تو تم ڈریگن لا لباس پہن لو.. اسے پہن کر قطعا یہ معلوم نہیں ہوگا کہ تم کون ہو لڑکی یا لڑکا… تمہاری. مخصوص مشرقی جھجک بھی قائم رہے گی…بھلے سے ماسک کے اندر شرماتی , گھبراتی رہنا… ہنسی … قہقہے لگاتی رہنا.. امرحہ دل کھول کر ہنسی..ٹھیک ہے… میں ڈریگن بن جاتی ہوں… میں وعدہ کرتی ہوں یہ تمہاری زندگی کا یادگار لمحہ ہوگا… تم پر قسمت مہربان ہوگی.. امرحہ اور زیادہ مسکرانے لگی… قسمت کی مہربانی کا انتظار رہے گا… نۓ چینی سال کی رات سب مل کر چائنہ ٹاؤن گۓ__, چائنہ ٹاؤن کی حدود کے آغاز پر سرخ , پیلے,سبز رنگوں سے مزین چینی طرز کا بڑا پھاٹک تھا, جنکے دونوں اطراف جانوروں کے بڑے بڑے مجسمے رکھ دیۓ گۓ تھے__,سب سے بڑا مجسمہ گھوڑے کا تھا,ایک بہت بڑے ڈریگن کو بانسوں کی مدد سے اونچائی پر ٹانگ دیا گیا تھا_,اور بھی کئ طرح کی سجاوٹ تھی…جابجا چینی روایتی چیزوں کے اسٹالز لگے تھے__, مانچسٹر کے درختوں کی شاخیں تو پہلے ہی سرخ گول چینی ساختہ لالٹینوں سے سجا دی گئ تھیں__
این,ویرا اور وہ مزے سے مفت چینی کھانے کھاتے رہے__ تمام اسٹالز پر کھانے بہت کم قیمت پر دستیاب تھےیا مفت تقسیم کیے جارہے تھے___ امرحہ ایک چینی تحفہ بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئ تھی___ ایک عدد چینی شادی شدہ جوڑا اپنی شادی کی سلور جوبلی پر تحائف تقسیم کر رہاتھا اور مانچسٹر یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس کا وہاں اتنا رش تھا کہ لگتا تھا سب اسٹوڈنٹس آئندہ زندگی صرف اس ایک تحفے پر گزارنے والے ہیں… یہی انکا کل خزانہ ہے…اور اس اثاثہ کو آج کسی بھی صورت حاصل نہ کرسکنے پر وہ دنیا کے بد نصیب ترین انسان قرار پانے والے ہیں…
تحفہ میں ایک عدد سرخ روایتی پارچہ تھا جس پر چینی زبان میں دعائیہ نظم لکھی تھی… اور ایک گلے میں پہننے کیلۓ چینی طرز کی مالا تھی اور دو سرخ ربن تھے… امرحہ کو. دو عدد سرخ ربنوں کی سمجھ نہیں آئی… جب ان میاں بیوی کے اسٹال پہ رش کم ہوگیا اور انکے سب تحائف تقسیم ہوگۓ تو امرحہ انسے پوچھنے لگی…ایک تمہارے لیۓ اور ایک تمہارے شوہر کے لیۓ… جب مجھے انہوں نے …. چینی خاتون نے اپنے شوہر کی طرف اشارہ کیا …پرپوز کیا تو یہ اتنے غریب تھے کہ انکے پاس کوئی انگوٹھی نہیں تھی تو انہوں نے ایک اسکول کی بچی کے بالوں مین سے ربن کھول کر میری انگلی میں باندھ دیا کہ مجھے کوئی انگوٹھی والا نہ لے اڑے___ دونوں میاں بیوی قہقہ لگا کر ہنسنے لگے- امرحہ دیکھ سکتی تھی دونوں نے کس محبت سے اپنی زندگی گزاری ہوگی…سرخ ربن امرحہ کی آنکھوں میں بس گۓ..آنکھوں کے پاس لاکر وہ انھیں دیکھنے لگی…اسے ایک دم سے ڈر لگنے لگا کہ یہ ربن کہیں کھو نہ جائیں.. اسنے انھیں اپنے کراس بیگ کی محفظ جیب میں رکھا…پھر ہاتھ کو کراس بیگ کی جیب پر مضبوطی سے جما لیا اسے لگا سارے چوروں کی نظر اسکے ان دو عدد ربن پر ہی آگئ ہے..
سرخ نظمیہ بارچہ ویرا نے اپنے بال کھول کر سر پر باندھ لیا… اور مالا این اون نے پہن لی…امرحہ نے یہ چیزیں سے دی تھیں____ لاؤ وہ ربن بھی میری کلائی پر باندھ دو…ایک تم باندھ لو… امرحہ نے ویرا کو نہیں بتایا تھا کہ اسکے ساتھ کیا کہانی منسلک ہے امرحہ کی جیسے جان ہی نکل گئ…
“وہ میں #پاکستان لیکر جانا چاہتی ہوں”
“ربن” ویرا حیران ہوئی__
امرحہ نے سر ہلایا__
میں پہن کر تمہیں واپس کر دونگی_اس پر جو ستارے لگے ہیں مجھے وہ اچھے لگے ہیں..
میں نے ابھی ربن نہیں باندھا… میں انھیں ان چھوا رکھنا چاہتی ہوں… امرحہ نے ہمت کر کے کہہ دیا__,
بعض معاملات میں تم بہت عجیب ہو امرحہ___ مجھے لگتا ہے میں پوری کی پوری ہی عجیب
ہوں۔” امرحہ کو اپنے عجیب ہونے پر اس رات کوئی شرمندگی نہیں ہوئی اور وہ ربن کے معاملے میں اس قدر عجیب ہونے پر خود کو جانچ بھی نہ سکی۔۔۔وہ خود کو بھی نہ بتا سکی کہ سرخ فیتے یکدم اسکے لئے اتنے اہم کیوں ہوگئے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے ہم خود سے بھی چھپا کر بہت کچھ کرتے ہیں۔۔۔ خود کو پاگل بناتے ہیں۔۔۔ اور یہ اسی وقت ہوتا ہے جب مستقبل قریب میں آپ بہت رونے والے ہوتے ہیں۔۔۔ تب جب آپکو خبر ہو جاتی ہے کہ آپ نے خود سے کیا چھپا کر کیاکیا۔۔۔انسان اپنی طرف سے بڑی ترکیبں بناتا ہے نا۔۔۔
پھر ایک دن سب ترکیبیں اسے ڈس لیتی ہیں۔۔۔وہ صرف ایک ہی سوال کرتی ہیں ” ہمیں کیا سمجھ کر اندھیرے میں رکھا۔۔۔
وہ تینوں ہاتھوں میں ہاتھ دیےچائنا ٹاؤن میں سجے میلے سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔۔۔سرخ لالٹینوں کے سامنے کھڑے ہو کر تصویریں بنوا رہی تھیں۔۔۔ سجاوٹ قابلِ دید تھی۔۔۔ مسکراہٹیں اس سے زیادہ قابلِ دید تھیں۔۔۔
اسٹوڈنٹس کا ہجوم اس سے بڑھ کر۔۔۔
“محبت رتن دیپ سے سجی رتھ ہے جس کا سوار ابدیت کی طرف اڑان بھرتا ہے۔۔۔
محبت امرت دھارا۔۔۔
سے لبالب بھرا “جامِ محبوب” ہے جو کبھی پیندے سے نہیں لگتا۔۔۔۔”
سب سے زیادہ کتابیں محبت کی لکھی گئی ہیں۔۔۔
سب سے زیادہ گیت محبت کے گائے گئے ہیں۔۔۔
محبت وہ کمال ہے جو عرش کو فرش کرتا ہے اور فرش کو عرش تک لے جاتا ہے۔۔۔اور زمین پر دو ہی چیزیں ایسی ہیں جن کے لئے جان دی جا سکتی ہے۔۔۔۔
محبت اور پھر محبت۔۔۔
محبت ابنِ عربی کا نظریہ اہلیت ہے جو نادیدہ کو دیدہ بنا سکتی ہے۔۔۔
ایسا اسمِ اعظم جو مجازی کو حقیقی کرتا ہے۔۔۔ حقیقی کو عشق۔۔۔ عشق۔۔۔عشق۔۔۔ بلاشبہ وہ خطِ حق جو خود پر منکری حرام رکھتا ہے۔
قالین ہاف کے فن کا وہ عروج جس کے ریشے ریشے میں عقیدت سر بسجود ہوتی ہے؛ سر بسجود ہی رہتی ہے۔۔۔ یہی شرطِ وفا ہے۔۔۔
قلندر کا مادیت سے خالی تن۔۔۔ اور عشق حقیقی سے سجا من۔۔۔ “محبت” محرابی پیشانیوں کے محرابی نور سی۔۔۔ توبہ کے آخری مندرجات۔۔۔ قبولیت کے اولین درجات سی۔۔۔ عرشِ معلٰی ہلا ڈالنے والی محترم ہستی “ماں کی دعا سی”۔۔۔ بنجر بنجر دھرتی پر پہلی کونپل سی۔۔۔ اور محبت خدا کے رحم سی۔۔۔ اور رحمت سی۔۔۔
رات بھر چینی دعائیں مانگتے رہے ہونگے۔۔۔
کھانے کی میزوں کے گرد خاندان اکٹھا کیے۔۔۔ہاتھ جوڑے۔۔۔ خدا کو یاد کرتے۔۔۔صحت و تندرستی کی دعائیں کرتے۔۔۔ محبت و مدح سرائی کرتے۔۔۔ چینی بھر مسکراتے رہے ہونگے۔۔۔ اگلی رات جشن ہو تو پچھلی رات نیند نہیں آیا کرتی۔۔۔ وہ بھی نہیں سو پائے ہونگے۔۔۔
مانچسٹر شہر کی اگلے دن بڑی تقریبات میں شمار ہونے والی ڈریگن پریڈ کا آغاز البرٹ اسکوائر سے شام 4 بجے ہوچکا تھا۔۔ پریڈ کا آغاز بڑے بڑے چینی روایتی سرخ اور پیلے ڈرموں اور Percussions دو گول بڑی دھاتی پلیٹس کو پر زور انداز سے بچا کر اور بلند آواز سے نعرہ بہار کو خوش آمدید۔۔۔ خوش بختی کے لئیے تیار ہیں ہم۔۔ سے کیا گیا۔
پریڈ کے آگے درمیان اور آخر میں ڈرموں اور Percussions کو مسلسل بجایا جارہا تھا اور جنکی آوازیں بلاشبہ سریلا سماع باندھ رہی تھیں۔۔۔ایسے لگ رہا تھا جیسے سب جلوس کی صورت نئی زندگی کے سفر پر رواں دواں ہوں۔
پریڈ میں شامل ہزاروں لوگوں نے ہزاروں طرح کے سوانگ رچا رکھے تھے۔ پریڈ میں آگے کئی سو میٹر لمبے موٹے ،ڈریگن کو بانسوں پر اُٹھا کر گھمایا،نچایا اور اچھالا جا رہا تھا۔ڈریگن اتنا بڑا تھا کہ اسے کم سے کم ڈیڑھ سو افراد نے اپنے قد سے اونچا کر کے اُٹھا رکھا تھا۔وہ سب مسلسل اسے قدرتی حرکت میں رکھے ہوئے تھے۔یوں گمان ہوتا تھا اصلی ڈریگن ان کے سروں پر اُڑ رہا ہے۔ڈریگن کے پیچھے اور درمیان میں کئی سو چینی بچوں کا گروپ تھا جو گردن میں ڈرم لٹکائے انہیں ردھم سے بجاتے آہستہ روی سے چل رہے تھے۔بچوں کے لباس سفید تھے جن پر انہوں نے سرخ رومالوں کو گردن میں ترچھا کر کے باندھ رکھا تھا۔تقریباً انہی بچوں کی تعداد جتنا ایک اور گروپ ان لڑکیوں کا تھا جو چینی روایتی لباس کمونو پہنے ہوئے تھیں اور ہاتھ میں بہت بڑے سائز کے چینی رویتی پنکھے پکڑ رکھے تھے۔ان لڑکیوں کا میک اپ بہت گہرا تھا۔آنکھیں قدرتی آنکھوں سے بہت بڑی بنائی گئی تھیں۔یہ سب یک زبان دھیمی آواز میں چینی روایتی گانا گا رہی تھیں،ساتھ ہی روایتی رقص پیش کر رہی تھیں۔ایک گروپ سرخ لباس میں چینی مارشل آرٹ کی عکاسی کر رہا تھا۔بہت سوں کے ہاتھوں میں چینی ساختہ بڑی بڑی پتنگیں تھیں،جو مختلف جانوروں کی اشکال پر مبنی تھیں اور جنہیں فضا میں چھوڑا گیا تھا اور ان کی ڈوروں کو اپنی کلائیوں میں باندھ رکھا تھا۔بہت سے لوگ الگ الگ گیٹ اپ میں بھی تھے،وہ چین کے تاریخ سے منسلک مختلف شخصیات کا سوانگ رچائے ہوئے تھے۔ان کے میک اپ اور لباس کمال کے تھے۔دو دو کے جوڑے بنے بہت سے کوئی ایک بڑا جانور بنے ہوئے تھے۔یعنی ایک ہی لباس میں ایک سر تھا اور دوسرا دھڑ….اور یہ دو لوگ ڈریگن یا چیتا بنے مسلسل بھاگتے،گھومتے اور ناچنے میں مصروف تھے۔ہزاروں افراد کی ڈریگن پریڈ میں ہزاروں سوانگ تھے۔کوئی خرگوش بنا اچھل رہا تھا،کوئی گھوڑا بنا دوڑ رہا تھا،کوئی بندر کے لباس میں تماشے دکھا رہا تھا اور کوئی چیتا بنا ڈرا رہا ہے۔سب سوانگ چینی روایات ،تاریخ ان کی معاشرت کے عکاس تھے۔مشرق میں اُگا چین مغرب میں چل پھر دوڑ رہا تھا،حقیقی قوموں کی یہی نشانی ہے ،وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوں اسی درخت کی شاخیں ،تنے اور پتے لگتے ہیں جس درخت کی جڑ ان کی دھرتی میں اُگی ہوتی ہے۔ چند ایک ایسے گروپس تھے جنہوں نے سرخ لباس پہنے تھے اور ہاتھوں میں بڑی بڑی دھاتی پلیٹیں پکڑ رکھی تھیں اور وہ انہیں بجاتے چلے آرہے تھے۔پریڈ میں بڑے بڑے جانوروں کے مجسمے تھےجنہیں بانہوں کے ذریعے اٹھایا گیاتھا۔یہ سال گھوڑے کا سال تھا ،اس لیے گھوڑے کے مجسمے زیادہ تھے۔ایک بڑا اور اونچا گھوڑا پریڈ کے آگے اور پیچھے چل رہا تھا۔غرض ہر طرف سوانگ تھے….رنگ تھے….لوگ تھے….چین تھا….تاریخ تھی….بہار تھی…نیا سال تھا۔سرخ اور پیلا رنگ چھایا ہوا تھا۔ڈرموں کی تھاپ کمال کی تھی۔
سارا مانچسٹر امڈ آیا تھا پریڈ دیکھنے کےلیے ….آس پاس کے شہروں سے بھی لوگ خاص پریڈ دیکھنے کےلیے آئے تھے۔سڑک کے دونوں اطراف کھڑے افراد کا شوق دیدنی تھا۔وہ مانچسٹر کی تاریخ میں ہونے والی شاندار پریڈوں میں سے ایک کو دیکھ رہے تھے۔امرحہ ڈریگن کے لباس میں تھی ویرا اور این اون بھی ساتھ تھیں۔ان سب نے ڈریگن کا سوانگ رچایا تھا اور وہ گھوڑوں،مرغوں،خرگوشوں،سانپوں،بندروں اور باقی جانوروں کے ساتھ چل رہی تھیں۔
جب امرحہ ڈریگن بنی تو ہنستے ہنستے دہری ہو گئی اور اس نے پریڈ کے ساتھ چلنے سے انکار کر دیا …..پھر اس نے محسوس کیا کہ جی سن ٹھیک کہہ رہی تھی وہ اپنے بڑے اور چوڑے ڈریگن ماسک کے اندر جتنا جی چاہے ہنس سکتی ہے….شرما سکتی ہے …جھینپ سکتی ہے ….وہ سرتاپاڈریگن کےموٹے لباس میں تھی….باہر سب کو ایک ڈریگن نظر آتا تھا امرحہ نہیں…..
جیسا کہ اسنے ویرا کو دیکھس تو اسکو بالکل اندازہ نہیں ہوا کہ وہ ویرا ہے۔۔۔ یقیناً اسکے ڈریگن کو دیکھ کر بھی نہیں بوجھا جاسکتا تھا کہ اسکے اندر امرحہ ہے۔
سڑکوں سے سست روی سے گزرتے چائنا ٹاؤن کیطرف جاتے مختلف جگہوں پر ان پر رنگ برنگی جھنڈیاں بر سائی گئیں، انہیں فضا میں وقفے وقفے سے چھوڑا جارہا تھا اور فضا کئی میٹر بلندی ایسے رنگ برنگی ہوجاتی جیسے تتلیوں کے قافلے ان پر ٹوٹ پڑے ہوں۔۔۔ اور انہیں ا س سے سلام دعا لینے کی جلدی ہو۔
امرحہ نے اب کھل کر مسکرانا شروع کر دیا تھا۔ وہ ڈریگن بنی ہاتھ ہلاہلا کر بچوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی۔۔۔اسے مزا آرہا تھا۔۔۔اسے سب بہت اچھا لگ رہا تھا۔۔ جہاں جہاں ان پر رنگ برنگی جھنڈیاں برسائی گئی تھیں،وہاں امرحہ کو لگا تھا یہ سب اسکے لئیے کیا جارہا ہے۔۔۔ اس سارے جشن کا اہتمام صرف اسی کے لئیے کیا گیا ہے۔
لاہور میں چھپ چھپ کر رونے والی امرحہ، ایک منحوس مان لیے گیے انسان کے لئیے۔۔۔
امرحہ افسوس کر رہی تھی کہ وہ کیوں روتی رہی تھی۔۔۔ زندگی میں آپ نئے لوگوں، نئی خوشیوں، نئے جشنوں سے روشناس ہوتے ہیں تو ماضی کے دکھ بے معنی اور چھوٹے لگتے ہیں۔۔۔ اپنی بے وقوفی پر متم کرنے کو جی چاہتا ہےکہ کیا نادانی کرتے رہے ہیں۔۔۔
زندگی کی دھارا میں دکھ اور سکھ دونوں بہتے ہیں۔۔۔ دکھ بہنے دیا جائے اور سکھ پی لیا جائے۔۔۔
اور نیا ماحول آپکو نیا اسباق ضرور پڑھاتا پے۔۔۔ کچھ اچھے، کچھ برے۔۔۔ کچھ آپکی مرضی سے۔۔۔کچھ زبردستی۔۔۔ اسباق سے گھبرانا نہیں چاہئیے، یہ کتنے بھی تلخ ہوں حکیم لقمان کی حکمت لئیے ہوتے ہیں۔۔۔بلا معاوضہ حکمت دے کر جاتے ہیں۔۔۔
تو اب رنگ تھے۔۔۔ جشن تھا۔۔۔ اور قہقہے تھے۔
موسم نم نم تھا۔۔۔جنوری کا آخری دن تھا اور چینیوں کے لئیے سال کا پہلا دن۔۔۔اس بات کی علامت کہ جہاں کچھ ختم ہو رہا ہوتا ہے ٹھیک وہئیں سے کچھ اور شروع ہورہا ہوتا ہے۔۔۔
نظام قدرت اس جنم مرگ۔۔۔مرگ جنم کا نام ہے۔
سال جا رہا ہے۔۔۔ ارے نہیں سال تو آرہا ہے۔
شام گہری ہوچکی تھی۔۔۔ وہ ڈیڑھ گھنٹے سے چل رہے تھے لیکن تھکن نے آج ان سے دوستی کر لی تھی، وہ پھولوں سے لدی دور سے ہی ہاتھ ہلا رہی تھی۔ وہ چائنہ ٹاؤن کے قریب پہنچ رہے تھے۔۔۔ دور سے پریڈ کے استقبال کے لئیے بجائے جانے والے ڈرموں اور دوسرے سازوں کی آوازیں آرہی تھیں۔۔۔
“امرحہ” ڈرموں کی پر زور تھاپ اور دھاتی پلیٹوں کی گونج میں یہ نام اسکے قریب میٹھے سر سنگیت لئیے گونجا۔
اسکے قریب ہی ایک اور ڈریگن کھڑا تھا۔۔۔
وہ قد میں اس سے اونچا تھا۔۔۔ ڈریگن نے ماسک اتارا۔۔۔ اور وہ مسکرا دیا۔۔۔ وہ عالیان تھا۔۔۔ وہ اسکے پاس کھڑا تھا۔۔۔ اسکے جو۔۔۔ ایک لڑکی ہے امرحہ۔۔۔
شہرِ روشن۔۔۔
شہرِ قلم کار۔۔۔
شہرِ بے مثال لاہور سے۔۔۔
امرحہ نے اسے دیکھا۔۔۔ اسے جو۔۔۔
ایک لڑکا ہے عالیان۔۔۔
شہرِ افکار۔۔۔
شہرِ لازوال مانچسٹر سے۔۔۔
نئے سال کے پہلے دن۔۔۔
بہار کے پہلے دن۔۔۔ شہرِ بے مثال۔۔۔ شہرِ لازوال کے باسی ساتھ ساتھ کھڑے ہیں۔۔۔
اور ایک محبت ہے۔۔۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: