Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 23

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 23

جہاں بے مثال__
جہان لازوال__
جہان جادواں__ جادواں__ جادواں سے__
امرحہ کو بلکل معلوم نہیں تھا کہ وہ بھی اس پریڈ میں شامل ہیں__اتنے ہزاروں لوگوں میں وہ چاہتی بھی تو معلوم نہیں کر سکتی تھی__اسے صرف اپنے کلاس فیلوز کا ہی معلوم تھا__عالیان کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ جیسے وہ آخری وقت میں کسی طرح سے ڈریگن لباس حاصل کرنے مہں کامیاب ہوا تھا اور افراتفری میں پریڈ میں شامل ہوا اور اسے تلاش کرتا رہا ہے__
“داد دو مجھے__میں نے تمہیں اتنے سارے جانوروں اور ماسکوں میں سے پہچان لیا__”
“داد دیتی ہوں تمہیں__”اتنے سارے ہزاروں لوگوں میں سے جو اپنی شکل اور وضع قطع چپھائے ہوئے تھے کسی ایک کو ڈھونڈ نکالنا قابل داد تھا__دو ڈھائی سو کے قریب تو صرف امرحہ جیسے ڈریگن ہی تھے__
“کتنی زبردست پریڈ ہے نا یہ امرحہ__”وہ اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا__ڈریگن کا سر اتار کر اس نے ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا تا کہ اسکی آواز آسانی سے سنی جا سکے__امرحہ کو وہ معمول سے زیادہ خوش لگا__
“امرحہ مجھے ایسے جشن،ایسے تہوار،جب سب خوش ہوں،گا رہے ہو،مسکرا رہے ہوں،بہت اچھے لگتے ہیں__” اس نے سڑک کے کنارے کھڑے پریڈ کو دلچسپی،شوق،جوش وخوشی سے دیکھتے ایک چھوٹے سے بچے کے گال پر نرمی سے چٹکی بھرتے ہوئے کہا__ پھر اس نے اسی بچے کے ساتھ کھڑے دوسرے بچے کے بالوں میں بہت محبت اور لگاوٹ سے ہاتھ پھیرا__ اس کے انداز بتا رہے تھے کہ وہ غیر معمولی پرجوش اور خوش ہے__
“تمہیں بھی پسند ہے یہ سب؟”اس نے اس کے سر کے پاس سر جھکا کر کہا__
“ہاں مسکراہٹیں کسے اچھی نہیں لگتیں؟”امرحہ کو چلا کر بتانا پڑا__عالیان نے کان کو اسکے ماسک کے قریب جھکا دیا__اس نے ایسا خوشی سے کیا__
امرحہ شہرزاد بنی اسے ہزاروں راتوں پر محیط الف-لیلی سناتی تو شاید وہ خوشی سے سر کو ایسے ہی جھکائے رکھتا__سر نہ اٹھاتا__
“ہاں!لیکن کبھی کبھی تو ان سب کے ساتھ بھی مسکراہٹیں اچھی نہیں لگتیں–“اس نے آس پاس کے سارے ماحول کی طرف اشارہ کر کے کہا__
“یہ تو کچھ ہو جانے سے سب اچھا اچھا لگتا ہے__”
ایک بچہ جو اپنے باپ کے کندھوں پر سوار تھا اور تالیاں بجا رہا تھا کہ اس نے گال پر نرمی سے چٹکی بھر کر کہا__بچہ کلکھلا اٹھا اور اپنے باپ کے بالوں کو شرارت سے مٹھیوں میں جکڑ لیا__
امرحہ نے ماسک اتار دیا__اس سے ٹھیک سے عالیان کی آواز نہیں سنی جا رہی تھی__
“کیا ہونے سے اچھا لگتا ہے؟”امرحہ اس کی بات تھیک سے سن نہیں سکی تھی__ہجوم کے شور کی وجہ سے اسے چلا کر پوچھنا پڑا__
عالیان نے ذرا رک کر اس کی طرف دیکھا__رک گیا__روک دیا گیا__شاید وہ فیصلہ کر رہا تھا__
“محبت کے ہو جانے سے__”اس نے بلاوجہ ہی چلا کر کہا جبکہ امرحہ اپنا ماسک اتار چکی تھی چلانے کی ضرورت نہیں تھی__ یقینا وہ ڈریگن پریڈ میں شامل ایک ایک انسان کو بھی سنانا چاہ رہا تھا__ سڑک کے اطراف میں کھڑے ‘مردوں’عورتوں’بڑے بوڑھوں اور بچوں کو بھی__سارے مانچسٹر کو__ساری دنیا کو اس کے ہونٹوں سے نکلے الفاظ کی گونج یقینا چائنا ٹاون کی محراب کے پاس تیس چالیس بڑے بڑے ڈرموں کو اپنے ساتھ رکھے سرخ لباسوں میں پیلی پٹیاں سر پر باندھے چینیوں تک بھی گئی ہو گی__
انہوں نے لفظ “محبت” کی گونج کو پا کر__اسے اپنے اندر اتار کر بھرپور جوش سے__عقیدت و احترام سے__دونوں ہاتھوں میں پکڑی ڈرم اسٹکس کو سر سے اوپر اٹھا کر سرخ ڈرموں کی پیلی زمین پر دے مارا__
محبت کے ساز کی پہلی گونج گونجی__

مشرق نے مغرب میں آکر میلہ سجا دیا۔
استقبال کا آغاز ہوا….خوش آمدید….بہار کو گلے لگانے کے لیے ہم بےتاب ہیں۔بہار کی آمد آمد ہے….خزاں کو رخصت ہو جانا چاہیے۔
آؤ لفظ محبت سے ابتدا کریں….آؤ اس کی انتہا کریں….رجوم (شہاب ثاقب)کا ایک طویل قافلہ رقص کناں گہری ہو چکی شام میں رک ابر (ابر کی سیاہ دھاری)سے ہوتا ہوا عالیان اور امرحہ کے سامنے سے گزرا…..وہ اباک (مبہوت) ابابیل تھی وہ جہاں کی تہاں کھڑی تھی۔
”میرا دل چاہتا میری شادی ایسی ہی ہو ۔“اس کی بھوری آنکھوں میں کئی خوش کن چمک دار رنگوں کی دھاریاں تلاطم مچانے لگیں۔
”جانوروں کی طرح….؟“امرحہ نے دوبارہ غلطی نہیں کی عالیان کی طرف دیکھنے کی
”نہیں…؟“وہ ہنسا۔
”ایسے پریڈ کی صورت ….اتنے ہی لوگوں اور سازوں کے ساتھ۔“
وہ برطانیہ کا شہری تھا نہ….تو یہ خواہش کیوں نہ رکھتا کہ اس کی شادی بھی شاہی شادی جیسی ہو….پریڈ کی صورت بارات جائے ….بگھی میں بٹھائے اور اپنی دلہن کو واپس لائے…..اور آس پاس کھڑا ہجوم ان پر مسکراہٹوں اور دعاؤں اور کے ساتھ پھولوں کی بارش کر دے۔وہ اور اس کی دلہن ہاتھ ہلا ہلا کر سب کی مسکراہٹوں کا جواب دیتے ہوں۔دنیا بھر میں شاہی خاندان کی شادیاں دیکھنےوالے زندگی میں کم سے کم ایک بار یہ خواب ضرور دیکھتے ہیں کہ ان کی شادی بھی پرنس چارلس،پرنس ولیم کی طرح ہو….وہ تو پھر برطانیہ کا شہری تھا۔اس نے یہ خواب کم سے کم سو بار تو ضرور دیکھا ہو گا۔
”اچھاخواب….دیکھ لینا چاہیے….“
”اگلے سال چینی نئے سال پر تم اپنی یہ حسرت پوری کر لینا۔“
امرحہ نے اسے اچھا مشورہ دیا تھا……ہاں یہ اچھا مشورہ ہی تھا بے شک…..رجوم کا ایک اور قافلہ اس بار صرف عالیان کی آنکھوں کے آگے سے گزرا اور اس بار وہ ان بھوری آنکھوں میں ہی ٹھہر گیا…..وہ ایک لحظے کے لیے سوچ کا شکار ہوئیں پھر انہوں نے جھٹ قافلہ رجوم کی باگیں اپنے ہاتھوں میں تھام لیں۔
فیصلہ ہو چکا تھا۔
وہ امرحہ کو ساری روشنیاں اپنے اندار سموئے دیکھ رہا تھا۔ایران میں زریور کا کنارا ہے۔
ایک خسرو کمالی ہے….ایک اس کا رباب ہے۔
اور اس کےہونٹوں پر امیر خسرو کی رباعی کی صورت ہے…..
از آمدنت اگر خبر می دانستم
(اگر تیرے آنے کی خبر مجھے ملے)
پیش قدمت کوچہ راگل می کنتم
(میں تیرے قدموں سے پہلے گلی میں پھول بچھاؤں)
گل می کشم گل گلاب می کنتم
(پھول بچھاؤں،گلاب کے پھول بچھاؤں)
خاک قدمت پدی دم وار دانستم
(تیرے قدموں کی خاک پر اپنا آپ وار دوں)
یارم…..یارم…..یارم
(میرے دوست.، میرے یار…. میرے محبوب)
جھیل کی لہریں رقص کرنے لگی ہیں،وہ خسروں کمالی اور اس کے رباب پر فدا ہیں،وہ اس کے ہونٹوں سے نکلتے گیت پر نثار ہو ہو جاتی ہیں….پرندے خسرو کمالی کے سر پر گول گول گومتے جاتے ہیں….وہ اس گیت پر قربان ہو ہو جاتے ہیں۔خسرو کمالی پیشانی پر گلابی رومال باندھےاس کنارے کی طرف دیکھتا جاتا ہے جہاں سے زہرہ آفندی کو آنا ہے۔
وہ آئی گی،ضرور آئی گی،اس کا رباب دعا گو ہے،
اس کا گیت سربسجود ہے
پیمانہ بدہ….پیمانہ بدہ
(جام دے….جام دے)
پیمانہ بدہ کہ خمارا ستم
(ایسا جام دے کہ مجھے خمار آجائے)
من عاشق چشم مست یارا ستم
(میں یار کی مست آنکھوں کا عاشق ہوں)
بدہ…بدہ
(دے…دے)
بدہ….بدہ
(دے….دے)
وقت نے اپنے لبوں پرپریت بھری مسکراہٹ سجائی….
رقص کناں لہروں نے خسرو کمالی کے سروں کو چوما۔
ہوا نے رک جانا ضروری جانا….خسروں کمالی کے لیے…اس کی زہرہ آفندی کےلیے۔
گل می کشم گل گلاب می کشم
یارم….یارم
پر والوں نےکوک دی۔
زریور جھیل نے پانی کی بوندوں کو تاروں کی مانند جگمگا لیا…..
رباب نے مناجات میں سوزدور پیدا کیا۔اور خسروں کمالی نے آواز کو نرمی سے بلند …بلند سے اور بلند کیا۔
”یارم ….یارم…یارم“ صدائیں ملک تک جا پہ پہنچیں زہرہ آفندی کا دیا گلابی رومال جھوم جھوم لہرایا۔
”ٹھیک ہے مجھے منظور ہے….ہم اگلے سال اسی دن شادی کر لیں گے۔“ہاتھ میں پکڑا ڈریگن ماسک امرحہ کے ہاتھ سے پھسل کر گر گیا،جسے اُٹھانے کے لیے وہ قطعاً نہیں جھکی….اسے اُٹھانے کےلیے وہ پہلے سے ہی جھک چکا تھا۔
”ہم……“رنگ ریز نے سارے رنگ اس پر اچھال دیے،خاص کر پیلا لیکن پھر بھی وہ بے رنگ کھڑی رہی ….وہ سفید دھرتی نہیں تھی جسے من پسند رنگوں سے رنگ دیا جاتا ۔
”اس نے کہا ہم …..“کشمیر کی کلی افق نے دھاتی پلیٹیں بجاتے ہوئے فرزام کے قریب ہو کر سرگوشی کی۔
”ہاں میں نے سنا ……اس نے کہا ہم۔“فرزام نے ڈرم بجاتے ہوئے کہا۔
”اور وہ اس کے آگے ماسک اُٹھانے کے بہانے جھک بھی گیا۔“افق شرارت سے مسکرائی۔
رنگ برنگی جھنڈیوں کی بوچھاڑ فضا میں چھوڑی گئی۔
خوش آمدیدی کا شور بلند ہوا۔
دھاتی پلیٹس ایک ساتھ کہی سو ہاتھوں میں گونجیں۔
ڈرموں پر سازندوں نے گول گول گھوم کر انت مچا دی۔چینی رقصاؤں نے سرخ لباسوں میں خود کو فضا میں اچھالا اور چینی رقص کی ابتدا کی۔
اس نے کہا ”ہم “لو اب تو ابتدا ہو گئی۔
ہجوم نے پرجوش نعرے لگائے…بہار کے آمد کے جشن کو انہوں نے یادگار بنا دیا تھا….فضا مشکبار ہو چکی تھی،تبت سے مشکبار پری یہاں آچکی تھی…..فرزام اور افق کے بلاوے پر….امرحہ اور عالیان کے لیے….اس کے پیروں میں گرے ماسک کو اٹھا کر وہ اسے واپس دے رہا تھا….پریڈ آگے جا رہی تھی….وہ دونوں ایک ہی جگہ کھڑے تھے۔
”تم نے سنا امرحہ !میں نے کیا کہا؟“اتنی پیاری بات پر اس کے لیے ایک مسکراہٹ تو بنتی تھی….وہ مسکراہٹ اسے نہیں دی گئی تھی…..
”مجھ سے شادی کرو گی امرحہ…..؟لیکن اس سے فرق نہیں پڑتا …میں تو تم سے ہی شادی کروں گا ….تم سوچنے کے لیے وقت لے سکتی ہو لیکن اس سے بھی فرق نہیں پڑے گا….میں سارا مانچسٹر اکھٹا کر ڈالوں گا۔اپنے کمرے کی کھڑکی کے باہر جب تم سارے مانچسٹر کو کھڑا دیکھو گی تو تمہیں ”ہاں “کا بورڈ اٹھا کر سب کو دکھانا ہی پڑے گا….؟وہ اپنی رو میں بول رہا تھا…وہ عالیان تھا”ہاں “کے بل بورڈ پر اس کا حق تھاکیونکہ وہ سارے مانچسٹر کو اکٹھا کر لانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
”میں….میری منگنی ہو چکی ہے…پاکستان میں میری واپسی کا انتظار کیا جا رہا ہے….میری شادی ہونی۔“اٹک اٹک کر وہ اتنا ہی کہہ سکی،رجوم کی سب قافلوں نے اپنی باگیں عالیان کے ہاتھوں سے چھڑ والیں۔
”خسروں کمالی کے رباب کی تان ٹوٹی….اس کی مناجات سہم گئیں۔“
”رتن دیپ سے سجی رتھ اڑان بھرتی منہ کے بل پاتال کی طرف لپکی….“
قالین باف کے حقیقی پارچہ میں آگ بھڑکی….“سڑک کے کنارے پریڈ دیکھتی خاتون کے گود کے بچے نے چلا کر رونا شروع کر دیا ۔چینیوں کا ماننا ہے کہ سال کے پہلے دن بچوں کا رونا نجس ہوتا ہے۔چینی عورت سہم سی گئی اور اس نے شدومد سے بچے کو چھپ کروانا شروع کر دیا ….لیکن بچہ اور….اور رونے لگا….وہ روتا ہی جا رہا تھا…یہ کیا ….یہ کیسے ….ابھی تو قلقاریاں مار رہا تھا ….اس نے تالی بھی بجائی ہوگی۔بھانت بھانت کے جانوروں کو دیکھ کر وہ کیسے محفوظ ہوا ہو گا ….چینی رقصاؤں کی طرح وہ بھی ناچنا چاہتا ہو گا….اس نےاپنی ماں سےڈرم بجانے کی فرمائش بھی کی ہو گی۔
پھر….یہ سب کرکے بھی….اب وہ رونے لگا…وہ کیوں رونےلگا؟
اور ایک گیت تھا….
خسرو کمالی کا….
عالیان مارگریٹ کا….
لفظ لفظ ترانہ….لفظ لفظ مرثیہ…..
اور ایک ساز رباب تھا…
زریو جھیل کنارے بجتا ہوا….
ڈریگن پریڈ میں گونجتا ہوا….
پھر جھیل کے پیندے میں گونگا پڑا ہوا….
”امرحہ !“بھوری آنکھیں سیاہ پڑھنے لگیں۔اس نے امرحہ کو ایسے دیکھا جیسے وہ اسے کوئی دھوکہ دے رہی ہو اور وہ جانچ رہا ہو کہ اسے دھوکا کیوں دیا جا رہا ہے..
”تم…یہ سب کیا ؟“اسے سمجھ نہیں آئی کہ سوال کو کن الفاظ سے ترتیب دے کر من پسند جواب پا سکے۔بھلا ایسا بھی ہوتا ہے کبھی ؟
”ہمارےہاں ایسا ہی ہوتا ہے ۔میں بہت خوش ہوں …تم نے ایسے سوچ بھی کیسے لیا…ہم تو دوست ہیں نا….لیکن پلیز تم دوبارہ ایسا کچھ نہ کہنا۔“جلدی سے کہہ کر اس نے ماسک پہن لیا اور پریڈ کے ساتھ آگے بڑھنےلگی….اور پھر ساری پریڈ آگے بڑھنے لگی….ساری دنیا….ساری کائنات ….صرف ایک وجود کھڑا تھا…ساکت تھا…پتھر کا ہو چکا تھا…
وہ عالیان مارگریٹ کے علاوہ کوئی نہ تھا۔
جو سارے مانچسٹر کو اکھٹا کر کے اس کی کھڑکی تک لے جانے والے تھا وہ سارے مانچسٹر میں اب خود کوڈھونڈ ڈھونڈ اکھٹا کرتا پھرے گا۔
چینی ماں روتے بچے کو چپ کروانے میں ناکام ہو چکی تھی….اس کی شکل گہرے سایوں کی زد میں تھی….وہ اپنے عقیدوں پر پختہ یقین رکھنے والی لگتی تھی….اور اسی لیے پریڈ میں اس کی ساری دلچسپی ختم ہو چکی تھی اور وہ زیر لب دعائیں کر رہی تھی کہ نئے سال میں نحوست اور بلائیں اس سے دور رہیں…..لیکن بچہ چپ ہی نہیں ہو رہا تھا۔
پریڈ چائنا ٹاؤن کی محراب کے اندار داخل ہو رہی تھی۔
ڈرموں کی تھاپ اب کان کے پردے پھاڑ رہی تھی۔
تھی__
عالیان کا دم گھٹ رہا تھا پھر بھی اس نے ڈریگن ماسک پہن لیا__
اور پہلے آہستہ روی سے پھر تیزی سے پریڈ کو پیٹھ دکھا کر بھاگنے لگا،عجیب انسان تھا وہ دو قدم پر محراب تھی اور وہ وہاں تک نہ جا سکا،اور الٹی طرف بھاگنے لگا اس کا ڈریگن ماسک بہت بد ہیبت لگنے لگا تھا،اس بد ہیبت کو دیکھ کر ڈر قطعا نہیں لگ رہا تھا__بس دل مٹھی میں آیا لگتا تھا__
امرحہ چینی ساختہ محراب کے پار ہو گئی اور پھر اس نے ہمت کر کے گردن موڑ کر دیکھا__کوئی بہت بے دردی سے پریڈ کو چیرتا بھاگ رہا تھا،جیسے اس کے آس پاس آگ بھڑکتی ہو__نہیں جیسے اس کے اندر آگ لگی__
اس ڈریگن نے خود کو پریڈ سے الگ کیا__اور لوگوں کے ہجوم میں خود کو گم کرتے__اپنے ماسک کے اندر ہی خود کو بلک بلک کر رونے دیا__
امرحہ نے خود کو لوگوں کی بھیڑ میں گم کر دیا__وہ ابھی ماسک اتارنے کی غلطی نہیں کر سکتی تھی__
وہ لوگ خود کو بھیڑ میں گم کرنے کی کوشش کرتے رہے__بھیڑ سے نکلنے کی بھی__الگ ہو جانے کی بھی اور مل جانے کی بھی__ایک وقت میں اتنی خواہشیں__
مانچسٹر کی کشادہ سڑکوں پر پھیلی__ہزاروں لوگوں سے اٹی ڈریگن پریڈ ماتمی جلوس کی صورت اختیار کر گئی__
کیونکہ،کیونکہ ایک ماں کی گود میں بچہ حلق پھاڑ کر رو رہا تھا اور ماں کی ساری کوشش اسے چپ کروانے میں ناکام ہو چکی تھی__نئے سال کے آمد اس کے لیئے نیک شگون نہیں لائی تھی__کیا اب سارا سال اسے رونا پڑے گا__؟
خیر اور بھلائی اس سے دور رہے گی__بلائیں اور شر اس پر حملہ آور ہو گے__کیا خوش قسمتی پر اس کا کوئی حق نہ ہو گا__
اور کیا__اور کیا__اس کا دل خون کے انسو روئے گا__
خسرو کمالی نے رباب کو زریور میں پھینکا__اس نے دیکھ لیا تھا کہ اس کی طرف زہرہ تقندی کی جگہ ایک شیر کھڑا تھا__
وہ جانتا تھا اس شیر کا نظر آنا نحس ہے__نحس ہے__
چینی پریڈ کے اس اور اس کنارے بھی ایک شیر اپنا منہ صاف کر رہا تھا__کیونکہ وہ شکار کر چکا تھا__
وہ مشرقی اکھاڑوں کا نگر نگر پایا جانے والا شیر ہے__
بانو قدسیہ کہتی ہیں”محبت مرگ سے پہلے جنم کا نام ہے__”
اور مجھے ایسا لگتا ہے “محبت جنم سے پہلے مرگ کا بھی نام ہے__”
یہ پہلے آپ کو مار ڈالتی ہے پھر جی میں آئے تو جنم دے دیتی ہے__ یہ پہلے انگارہ بنتی ہے__جی میں آئے تو__تو گلزار__
یہ “م” کا پرچار کرتی ماہی__ماہی__محبت__ہے
یہ “م” سے بھینٹ لیتی__محبت__مرگ__مرگ__ہے
یہ محال__
یہ محرق(جلا دینے والی)__
اور یہ محشر ہے__
محبت “م” سے__یہ امر سے پہلے “مرن” ہے__
محبت معلوق(قیر کی گئی)
محبت مضطر__
اور یہ محبت مشرک بھی ہے__
وہ پاکستان ہی رہ چکی ہوتی اور اس پر ایسا برا وقت نہ آیا ہوتا__کاش پاکستان میں سب اس کے لیئے ٹھیک ہوتا__اسے اپنے ماحول سے نکل بھاگنے کی تمنا نہ ہوتی،
__اسے یہاں آنے کی چاہ نہ ہوتی__وہ شخض جو اس کے آگے پیچھے،دائیں بائیں،اندر باہر ہر طرف تھا__جو ہر طرف سے اسے اپنی طرف نظر آتا تھا__وہ شخض اسے ساری زندگی نہ ملا ہوتا__
لیکن وقت کی کمان میں اس کی اپنی مرضی کے تیر ہوتے ہیں اور وہ انہیں اپنی مرضی سے تاک کر چھوڑتا ہے__وہ ایک آنکھ میچے__سانس کم لیئے__نشانہ باندھے بیٹھتا ہے__اپنے من پسند وقت__یہ چھوڑا__اور شکار چت__
اب اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ خاموش رہے اور سب سے دور بھی__تعلیم مکمل کرے__اور گھر جائے__اور یہی سب ہونا تھا__اداسی اور خاموشی کو لیئے چند دن گزر گئے__
اور بقول بانو قدسیہ “مسکراہت سمیت وہ غائب ہونے کا فن جانتا تھا__”
عالیان فن کار اسے ان چند دنوں میں کہیں نظر نہ آیا تھا__اس نے اسے ڈھونڈنا نہیں چاہا تھا__پھر بھی__وہ غائب ہونے کا فن سیکھ چکا تھا__
“تم بہت اداس رہتی ہو؟”ویرا پوچھ رہی تھی وہ سونے کی تیاری کرنے ہی والی تھی بس__وہ کھڑکی کے سامنے بیٹھی تھی__سونے کے لیئے اٹھ ہی نہیں رہی تھی__
“نہیں!میں ٹھیک ہوں__”
“میں نے کب کہا تم ٹھیک نہیں ہو__پریڈ میں، عالیان آیا تھا تمہارے پاس__شائد اس نے کچھ کہا تھا تم سے__”ویرا اس کے قریب آ کر کھڑی ہو گئی__
“کیا کہے گا وہ؟”امرحہ نے کتاب جو سامنے رکھی تھی اور پچھلے کئی گھنٹے سے رکھی تھی کو پڑھنے کی کوشش کی__
“کچھ بھی کہہ سکتا ہے وہ بہت خوش لگ رہا تھا__بعد میں،میں نے اسے بہت اداس ہو کر جاتے دیکھا__”
ویرا واقعی موساد کی خفیہ ایجنٹ تھی اتنے رش میں بھی اس نے یہ سب نوٹ کر لیا__
امرحہ ویرا کو دیکھنے لگی__
“تم خاموش کیوں ہو امرحہ__؟”
“اس نے کہا وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے__”
اور__اور تم نے کیا کہا؟”ویرا مسکرائی__
میں نے؟”سوال تھا یا اقرار__
“ہاں ظاہر ہے تم نے__یہ تو خوشی کی بات ہے مجھے لگا،وہ تمہارا اچھا دوست بننا چاہتا ہے لیکن اسے کچھ اور ہی بننا تھا نا__”مسکراہت گہری ہو گئی__
“میری منگنی پاکستان میں ہو چکی ہے__میرے جاتے ہی میری شادی ہو جائے گی__”
“تمہاری منگنی__تمہاری منگنی ہو چکی ہے”
“نہیں__”امرحہ نے اداسی سے کہا__
“تو تم نے جھوٹ بولا عالیان سے__تم نے ایسا کیوں کیا امرحہ؟”
“جو مجھے مناسب لگا میں نے کہہ دیا__بس__
“بس؟”ویرا حیرت سے اسے دیکھنے لگی__
“تم عالیان کے لیئے ایسے بات کر رہی تھی__؟”
“کیسے بات کر رہی ہوں؟”
“اپنا انداز دیکھو امرحہ__اتنی بڑی یونیورسٹی میں وہ تمہارے پاس آتا ہے باتیں کرنے کے لیئے__عالیان__اپنا انداز دیکھو__جانتی ہو کون ہے عالیان__
پروفیسرز کے بعد یونی کی آنکھ کا تارا ہے__جس طرح صبح وہ یونیورسٹی کیمپس کے پاس کھڑا ہو کر تمہارا انتظار کرتا ہے کبھی دیکھا ہے__؟”
“میں نے اسے کبھی نہیں کہا انتظار کرنے کے لیئے__
“ایک صبح،صبح ہائے کہنے کے لیئے وہ ہم سے دس پندرہ منٹ پہلے وہاں کھڑا ہوتا ہے__”
“میں اسے ایسا کرنے کے لیئے نہیں کہتی__”
“تم کم عقل ہو__”
“میں کم عقل ہوں__”
“تم نہ سمجھ ہو بہت__”
“میں ہوں نہ سمجھ بہت__”
“شت اپ__تم نے اپنی منگنی کا جھوٹ کیوں بولا؛
“میری مرضی__”
ویرا نے ٹھوڑی دیر اس کی طرف دیکھا__”ایک شخص تمہیں پرپوز کر رہا ہے امرحہ اور تم نے مناسب الفظ میں اسے ٹال دیا__”ویرا طنزیہ ہنسی__
امرحہ کے جیسے کسی نے گال پر ٹھپڑ دے مارا__
“تم صاف انکار کر دیتیں اسے __ایسے بہانے سے اس کی انسلٹ کرنے کی کیا ضرورت تھی__”اس روسی ویرا کو سمجھانا بہت مشکل تھا__
“بہت عجیب ہو تم__بہت زیادہ__اتنے ذہین انسان کو کیسے تم نے جھوٹ بول کر انکار کر دیا__”
ویرا تو عالیان کی ذہانت کی فین تھی__
ویرا نے ایک بار اور تالی بجائی__
“ینگ لیڈی آف پاکستان__دی گڑیٹ لیڈی__ہونہہ__”
امرحہ کا منہ سرخ ہو گیا وہ رو دینے کو ہو گئی__
“کیسے نہ کرتی میں انکار__پتا نہیں کون ہے وہ__عیسائی،مسلمان،یا یہودی__مارگریٹ اس کی ماں کا نام ہے تو باپ کا کیا ہو گا__آئزک__داؤد__کیا ہوگا__”
امرحہ تیز آواز میں چلا اٹھی اسے ویرا کے انداز سے تکلیف پہنچی تھی__
ویرا خاموش ہو کر اسے دیکھتی رہی__
“اتنی معمولی سی وجہ کے لیئے؟”
معمولی وجہ نہیں ہے یہ ویرا__نہیں ہے یہ سب معمولی__اس کے باپ کا،خاندان کا کوئی اتا پتا نہیں ہے__وہ کون ہے__وہ خود بھی نہیں جانتا ہو گا__”
“کیا مطلب ہے تمہارا اس بات سے؟”ویرا کی آواز تیز ہو گئی__
“یورپ کے آزاد معاشرے کی دین__غیر مزہبی__غیر اخلاقی پیداوار__معمولی باتیں نہیں ہیں یہ سب__میرے خاندان کے لیئے طمانچے جیسی باتیں ہوں گی یہ سب__”
“طمانچہ!”ویرا استہزائیہ ہنسی”خاندان واؤ تم تو سیدھے عالیان کی بے عزتی کر رہی ہو__”
“یہ سب اتنا آسان نہیں ہے جتنی آسانی سے تم مزاق اڑا رہی ہو__”امرحہ نے بے بسی سے ویرا کو دیکھا__
“تمہارے وہاں محبت حساب کتاب لگا کر کی جاتی ہے امرحہ؟”ویرا بے حد سنجیدہ ہو چکی تھی__
امرحہ خاموش رہی،وہ اتنی ذہین کبھی نہیں رہی تھی کہ مڈلل انداز سے اس سوال کا مقدمہ لڑ کر جیت سکتی__
“کیسے تم نے اس کے خاندان،اس کے مزہبی،غیر مزہبی ہونے کا حساب کتاب لگایا اور اسے انکار کر دیا وہ بھی جھوٹ بول کر__بہت ذہین ہو تم__اپنے حاصل جمع کا فائدہ دیکھا__تم نے دیکھا کہ تم اس کے ساتھ نقصان میں رہ رہی ہو تو تم نے جھٹ جھوٹ بول دیا__اور ایسے جھوٹ بولا کہ وہ تمہارا دوست تو رہے لیکن کچھ اور نہ بنے__ایک بار تم نے مجھے کہا تھا کہ میں انسان کم مشین زیادہ لگتی ہوں،آج میں تمہیں کہتی ہوں تم انسان کم کیلکولیٹر زیادہ ہو__اس کی ذہانت،اس کی قابلیت گئی بھاڑ میں__ وہ کتنا اچھا انسان ہے یہ سب بھی__بس اس کا باپ ہونا چاہیے__ اس کا خاندان،یورپ میں یہی سب ہے __تو سب کیا ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں__تمہارا مذہب ایسے لوگوں سے نفرت سکھاتا ہے__تم بہت مذہب مذہب کی باتیں کرتی ہو نا__ تمہیں چھوٹے کپڑے پہننا پسند نہیں__تمہیں چھوٹا ظرف رکھنا،چھوٹا دل رکھنا پسند ہے__ایسے جھوٹ بولنا__بے عزتی کرنا__؟”امرحہ خاموش ویرا کو دیکھ رہی تھی__خاموش__
“مان لیا کہ وہ تمہارا ہم مذہب ہے__پھر__”
“وہ__مسلمان ہی ہے__”امرحہ کی کمزور آواز نکلی__
“گڈ__پھر مسئلہ کیا ہے__؟”امرحہ پھر سے خاموش ہو گئی__
“اور__اچھا وہ اکیلا ہے__اس کے باپ کا پتا نہیں’وہ ناجائز ہو سکتا ہے اس لیئے__اور__واؤ__اس کے ناجائز ہونے سے مسئلہ ہے۔ اگر وہ ناجائز نہ ہواامرحہ۔۔۔تو۔۔۔؟؟؟
تو بھی نہیں۔۔۔نہیں،وہ مجھے پسند نہیں۔۔۔میں نے انکار کردیا۔”
امرحہ کو یہ جواب سب سے زیادہ مناسب لگا۔
شاید تم اسے پسند کرنے لگو۔۔۔؟؟؟
میں اسے پسند نہیں کرسکتی۔۔۔ وہ میرا اچھا دوست ہے۔ جیسے تم ہو۔
شاید تم اسے پسند کرنے لگو۔ ویرا سنجیدگی اور سختی سے اپنی بات دوہرا رہی تھی۔یا شاید تم اسے پسند بھی کرتی ہو، لیکن اپنے خاندان کے لیے۔۔۔ اپنے معاشرے، اپنی روایات کے لیے۔۔۔
میں اسے کیوں پسند کرونگی۔۔۔ کیوں کروں گی۔۔۔ کون سی خوبی ہے اس میں۔ اگروہ قابل ہے تو یونی میں ہزاروں اور بھی ہیں۔۔۔ مجھے اسے ہاں کہنے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ تم مجھے مطمئن کرو امرحہ۔۔۔ مجھے اس سبکی سمجھ نہیں آرہی، ویرا جم کر کھڑی ہو گئی۔ شاید تمہارا خیال ہے کہ اگر وہ مسلمان ہے بھی تو تم جتنا اچھا انسان نہیں ہے۔۔ وہ تمہاری طرح عبادت نہیں کرتا ہوگا۔۔۔تمہاری طرح حلال فوڈ کا استعمال نہیں کرتا ہوگا۔۔۔ اسے بنیادی مذہبی تعلیمات کے بارے میں نہیں معلوم ہوگا۔ اور اگر وہ تمہارے خاندان کے پاس جاتا ہی ہے تمہارا ہاتھ مانگنے تو اسے ان سب باتوں کی وجہ سے رد کیا جا سکتا ہے۔۔۔ ہے نا امرحہ۔۔۔؟؟
امرحہ خاموش رہی۔۔۔
جواب دو امرحہ۔۔۔
ہاں! امرحہ چلا اٹھی۔۔۔ تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔۔ اتنا آسان نہیں ہے یہ سب۔۔ بہت مشکل ہے یہ سب۔۔۔تم لوگ یورپ میں رہنے والوں کے بارے میں یہی سب سوچتے ہو میں جانتی ہوں۔۔۔ تمہیں لگتا ہے اقتدار صرف تمہارے مشرقی ملکوں میں ہی ہیں۔۔۔
روایات اور مذہب کی پاسداری بھی۔۔ ویرا اب باقاعدہ اسے ذلیل کر رہی تھی۔اور کیا سچ نہیں ہے یہ۔۔۔کیا نام ہے عالیان کے فادر کا۔۔۔ اسکا سر نیم مارگریٹ کیوں ہے۔۔۔؟؟؟
تم اس سے پوچھ لو۔۔۔
میں نے اس کی ضرورت نہیں سمجھی۔۔اور تم جاؤ۔۔۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم عالیان کی اتنی بڑی حمایتی ہو۔۔۔ امرحہ بھڑک اٹھی۔
اگر تم غور کرو تو میں تم دونوں کی حمایت کر رہی ہوں۔۔ لیکن تم لوگ بہت نا سمجھ ہوتے ہو۔۔۔
ہم کون؟ امرحہ کی تیوری چڑھ گئی۔
تمہارے ملک پر طنز نہیں کر رہی امرحہ۔۔۔
تم لوگ یعنی تم جیسے کم عقل لوگ،سطحی لوگ۔۔۔ روایات، معاشرے کے علمبردار۔۔۔
بس بہت ہو گئی اب جاؤ۔۔۔ میں نے جو کرنا تھا کر لیا۔
ویرا اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔ اور چلی گئی۔۔۔
کھڑکی میں کھڑی وہ اندھیری رات کے گہرے اندھیروں کو دیکھتی رہی، ویرا سے اس نے جان چھڑا لی تھی اب خود سے کیسے چھڑائے گی۔دنیا بھر سے چھپ کربیٹھا جا سکتا ہے۔۔۔ایک اپنے آپ سے چھپ کر رہنے کی جگہ نہیں ملتی۔۔۔ دنیا بھر سے کیا کچھ نہیں کہہ دیا جاتا، ایک اپنے آپ سے کہنے کے لئیے ہی کوئی لفظ نہیں ملتا۔۔۔😢
تو کیا محبت جنم سے پہلے مرگ نہیں۔۔۔؟؟ —
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: