Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 24

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 24

ہفتے کی رات ہے۔۔۔
اور یہ ہارٹ راک کیفے کا ڈانس فلور ہے۔ ڈی جے اپنے میوزک کے ساتھ تجربات کر ے سے پہلے ایک خاص ڈسک کو پلے کرنا چاہ رہا ہے۔ یہ ڈسک اسے بار ٹینڈر کارل نے دی ہے۔ کیفے میں یونیورسٹی اسٹوڈنٹس کی بھرمار ہے۔۔۔ خاص کر بزنس اسکول کے اسٹوڈنٹس کی۔۔ڈانس فلور پر ڈانس شروع ہوا ہی جاتا ہی۔ کارل کاک ٹیل بنا رہا
عالیان ابھی ابھی اس کے سامنے رکھی اونچی کرسی پر نیم دلی سے آ کر بیٹھا ہے__اسے کارل نے کچن سے بلایا ہے ڈی جے نے ڈسک پلے کر دی ہے__
“ﺗمہاﺭﯼ منگنی ﮨﻭ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ؟”
“نہیں__”
“ﺗﻢ نے جھﻭﭦ ﺑﻮﻻ عالیان سے__؟”
“ﺟﻮ مجھے ﻣﻨﺎﺳﺐ لگامیں نے ﮐﮩﮧ ﺩیا__کیسے نہ انکار کرتی،پتا نہیں کون ہے__وہ،مارگریٹ اس کی ماں کا نام ہے تو باپ کا کیا ہو گا__آئزک__داؤد__”
“اتنی معمولی سی وجہ کے لیئے__؟”
“معمولی وجہ نہیں ہے یہ__میں اسے پسند نہیں کرتی__کون سی خوبی ہے__اس میں__مجھے اسے ہاں کہنے کے لیئے مجبور نہیں کیا جا سکتا__”
“شاید تمہارا خیال ہے کے وہ مسلمان ہے بھی تو تم جتنا اچھا مسلمان نہیں ہے_”
“ہاں!تم ٹھیک کہہ رہی ہو__کیا نام ہے عالیان کے فادر کا__اس کا سر نیم مارگریٹ کیوں ہے__؟
“وہ ناجائز__ہو سکتا ہے اس لیئے بھی؟”
“ہاں!ہاں__”
تمہاری طرح،حلال فوڈ کا استعمال نہیں کرتا ہو گا اس لیئے بھی__؟”
“ہاں!__”
وہاں موجود ایک ایک اسٹوڈنٹ عالیان مارگریٹ کی طرف گردن موڑے دیکھ رہا تھا__کارل نے ایک آنکھ دبائی اور منہ بنا کر بھڑئیے کی آواز نکالی،لیکن عالیان نہ وہاں موجود یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس کو دیکھ رہا تھا نہ ہی کارل کو__
وہ اپنے جوتوں کی نوک کو گھور رہا تھا،__اسے آج معلوم ہوا تھا__ایک دم سے کیسے کرسی پر بیٹھے بیٹھے آپ جوتے کی نوک تلے آ جاتے ہیں__
اس کے منہ پر کبھی کسی نے تھپڑ نہیں مارا تھا اس کے سرخ ہوتے منہ پر آج ٹھپروں کی بوچھاڑ کر دی گئی تھی__
کاک ٹیل بناتے کارل کے ہاتھ رک گئے__عالیان کا ردعمل اس کی توقع کے برخلاف تھا__اس نے اٹھ کر اسے گھونسا نہیں مارا تھا__وہ مسلسل اپنے جوتون کی نوک کو دیکھ رہا تھا__
اس کھیل کے وہ پکے دشمن تھے__ویسے وہ دوست تھے؟
“عالیان__!”کارل نے اسے آواز دی__
عالیان نے جوتے کی نوک سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا__
“شکریہ کارل__میں تمہارا یہ احسان تا عمر نہیں بھولوں گا_”وہ اٹھا اور قدم گھسیٹنے لگا__
“وہ ناجائز ہو سکتا ہے اس لیئے بھی__”
“ہاں!”
“نہیں،وہ مجھے نہیں پسند__ کیا نام ہے عالیان کے فادر کا__”
اس نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیئے__لیکن پھر بھی وہ بہرا نہیں ہوا__محبت کی زبان اسی وقت تو بولتی ہے،جب اس کے گونگا ہو جانے کی دعا کی جاتی ہے__اور محبت کے کان اسی وقت تو سنتے لگتے ہیں جب ان کے بہرے ہو جانے کی دعا کی جاتی ہے__
اور یہ محرق ہے__محبت__
کیا نام ہے عالیان کے فادر کا__؟کیا نام ہے__فادر__ اس کا سر نیم مارگریٹ کیوں ہے؟فادر__فادر__

تحستيں لالہ صبح بہارم،پیاپے سوزم ازداغے کہ وارم

(میں صبح بہار کا پہلا لالے کا پھول ہوں جو عشق کے داغ سے مسلسل تڑپ رہا ہوں)
محبت جگا جوت ہے جسے مٹھی میں کر کے آنکھوں کے سامنے رکھ لینا آسان نہیں__آنکھیں نہیں چندھیاتیں قسمت چندھیا جاتی ہے__وہ اتنی جلدی کیاں مہربان ہوتی ہے__
انسان سب سے زیادہ خواب محبت کے دیکھتا ہے__
انسان پر سب سے زیادہ خواب محبت کے بھاری پڑتے ہیں__
انسان کسی بھی مزاج یا نسل سے تعلق رکھتا ہو،محبت کی اتنی سمجھ بوجھ ضرور رکھتا ہے کہ دعا کے لیئے باقائدہ ہاتھ اٹھائے نہ اٹھائے اندر ہی اندر اتنی آرزو ضرور کرتا ہے کہ کائنات میں چھپا کر رکھی ساری محبت اس کی جھولی میں ڈال دی جائے__کہے نہ کہے پر اتنا ضرور سوچتا ہے کہ محبت کو وہ کچھ بھی کر کے چرا ہی لائے__
ساری محبت چرا لینے کا خواب عالیان مارگریٹ نے بھی دیکھا تھا_اور یہ خواب اس پر بہت بھاری گزرا تھا__کیونکہ محبت وہ شجر ممنوع بھی تو ہے جو جھولی پھیلوا کر مست مست ناچ نچواتی ہے اور پھر بھی دہن کھول کر درشہوار کے درشن نہیں کرواتی__
جھولی پھیلائے رقص یار کے رقاص اپنے پیر جلا بییٹھتے ہیں تب بھی نہیں__بس نہیں__
وہ اپنا تن من بھسم بھی کر ڈالتے ہیں تب بھی__”نہیں__”وہ خود کو گھسیٹ رہا ہے__جس برف نے مانچسٹر کو اپنی ہتھیلیوں میں لے رکھا تھا وہ اسے گرتا دیکھنا نہیں چاہتی تھی__لیکن اسے دیکھنا تھا کہ چلتے چلتے کیسے گرا سا جاتا ہے__
برف میں ایک قلندری خاصیت بہت کمال کی ہے__یہ گرتی تو شور نہیں مچاتی__گر کر پگھل کر ختم ہو جاتی ہے تو بھی واویلا نہیں کرتی__برف اپنے سینے پر پڑتے گر گر جاتے ہے اس کے قدموں میں یہ خاصیت منتقل کر دینا چاہتی تھی__
مانچسٹر کی اتنے سالوں دیکھی بھالی سردی میں اب عالیان کا دم گھٹ رہا تھا__اس کی ناک بے حد سرخ ہو چکی تھی__اور آنکھیں بھی سردی سے نہیں صدمے سے__اس کی بھوری بچوں سی چمک لیئے آنکھیں بھر آئی تھی__انسان تھا نا__روحتوں بننا تھا__
محبت کا سنہرا خواب جو دیکھ لیا تھا__خواب کے ٹوٹ جانے پر ٹوٹنا تو بنتا تھا__آسمان کے سارے ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر مانچسٹر کی شاہراہوں پر بکھر رہے تھے__کائناتی محبت پر__کائنات کا ٹوٹ پھوٹ جانا تو بنتا ہے__
سڑک پر چلتے وہ ایک بند گلی کے کنارے رک گیا__جس کے اندر ایک بڑا کوڑا دان رکھا تھا__وہ اندھیرے میں کوڑے دان کے پیچھے جا کر دیوار سے ٹک کر کھڑا ہو گیا__اسے اپنی پہلی محبت یاد آ رہی تھی__
“مارگریٹ جوزف__اس کی ماں جو اس کی بھوری آنکھوں کو اپنی نیلی آنکھوں سے گھنٹوں دیکھا کرتی تھی__اور جیسے خاموشی کی زبان سے کہتی جاتی”مجھے کیا معلوم تھا یہ آنکھیں مجھے ایسے لے ڈوبیں گی__لیکن میں خوش ہوں کہ یہ مجھے لے ڈوبیں__میں شکر گزار ہوں کہ مجھے یہ آنکھیں عطا کی گئیں__میں ان میں اپنی مورت دیکھ سکتی ہوں__میں کیسے شکر گزار نہ ہوں__
اس کی آنکھیں اس کے لبنانی باپ جیسی تھیں__وہ مارگریٹ کے مردہ ہوتے وجود میں جان ڈال دینے والی آنکھیں تھیں__وہ انہیں گھنٹوں کیوں نہ دیکھا کرتی__
“وہ اپنی ماں کے ساتھ ایک کمرے کے نسبتا گندے سے فلیٹ میں رہتا تھا__،جس کے ایک کونے میں کچن تھا اور دوسرے کونے میں واش روم__بیڈ کمرے کے دروازے کے عین سامنے تھا__ایک کھڑکی تھی جس کے آگے ایک کرسی دھری رہتی تھی__اس کرسی پر کھڑے ہو کر عالیان کھڑکی سے سر ٹکا کر اپنی ماں کی راہ دیکھا کرتا تھا__مارگریٹ کے انتظار میں اس نے اپنی آنکھوں کو بہت تھکایا تھا__
کمرے میں کچن اور واش روم کی بو ہمہ وقت رچی رہتی تھی لیکن یہ فلیٹ اس وقت میک اٹھتا جب مارگریٹ آ کر اسے اپنی بانہوں میں بھر لیتی__مارگریٹ جو ایک ہسپتال میں صفائی پر مامور تھی اس کے جسم سے کئی طرح کے کیمیکل کی بو آتی__مگر یہ بو عالیان کے لیئے دنیا کی بہترین خوشبوؤں سے بڑھ کر تھی__
مارگریٹ جوزف مسکرانے کی کوشش کیا کرتی تھی لیکن وہ ایک بری اداکارہ تھی__اس نے زندگی کو زندہ دلی،ہمت،جوان مردی سے گزارنے کے کچھ اقوال رٹ رکھے تھے__وہ انہیں ہر روز دہراتی اور مسکرانے کی بھدی اداکاری کرتی اپنے کام پر چلی جاتی__مسکرا کر گھر کا دروازہ بند کرتی__کھولتی__روز کی اداکاری__
زندگی اقوال پر کامیاب ضرور کی جا سکتی ہے خوش طالع
نہیں۔۔۔
ایسی زندگی کو سیاہی سے تو بچایا جا سکتا ہے لیکن ست رنگی نہیں رنگا جاسکتا۔ یہ دھنک جلی تو ہو سکتی ہے دھنک ڈھلی نہیں۔۔۔یہ اس زمزے کی صورت اختیار کر لیتی ہے جو دل کے کانوں کے پردے پھاڑے ڈالتی ہے۔
ایسی زندگی۔۔۔ زندگی تو نہیں ہوتی۔۔۔ کیونکہ وجود میں دھرا لوتھڑا چت ہو جاتا ہے۔۔۔ یہ لوتھڑا جو دل ہے۔۔۔اور جس دھوکے باز بزدل کا کوئی علاج نہیں۔۔۔یہ غداری کرتا ہے۔۔۔اور اس غداری پر اسے موت کی سزا ملتی ہے۔۔تو مارگریٹ اقوال پر زندگی گزارنے کی کوشش کرتی رہی اور لحاف میں منہ دے کر روتی رہی۔۔۔ اس نے زندگی کی ایک فاش غلطی کر ڈالی تھی۔اس نے ایک مسلمان سے۔محبت کرلی تھی۔ایک ایسا ل لبنانی مسلمان جو وہاں کام کے لیے آیا تھا۔پونڈذ کے لیے۔۔۔محبت کے لئیے نہیں۔۔۔وہ اس روایت کا پاسدار تھا کہ سفر کے دوران گاڑی کے نئے اور انوکھے اسٹیشنوں پر رک جانے کو دل پر نہیں لینا چاہیے۔۔۔ سفر میں اسٹیشن تو آتے، ہی رہتے ہیں۔۔۔تو کیا سفر کو روک ہی دیا جائے۔۔۔
وہ سمجھدار تھا۔ اس نے سفر کو نہیں روکا۔
ایک انسان کے لئے زندگی تباہ کر لینا کہاں کی روایت ہے۔۔۔اگر ہے بھی تو ہم نہیں مانتے ان روایت کو۔۔۔سب قصے کہانیاں ہیں،۔۔
اسکی چھ سالہ زندگی اپنی ماں کی دبی دبی سسکیاں سنتے گزری۔۔۔وہ سمجھتی تھی وہ سو رہا ہے۔۔۔پر ایسی آہوں کے سائے تلے سو جانا گناہ کے مترادف ہوتا۔۔۔وہ دن بھر کام کام کرتی۔۔۔ رات بھر روتی۔۔ ایسی حالت میں وہ زیادہ دیر تک زندہ کیسے رہتی۔۔ کیونکر زندہ رہتی۔۔ایسے انسان کو تو جلد مر جانا چاہیے۔۔۔ جس کا لوتھڑا دل خون بنانے کے بجائے خون اگلنے لگے، ایسے لوتھڑے کے مالک کو جلد ہی مر جانا چاہیے۔۔ جس پہلی تکلیف دہ یاد کو عالیان مارگریٹ کو اپنے دماغ میں زندہ رکھتا تھا۔ وہ کچھ یوں تھی کہ کمرے کی واحد کھڑکی کے آگے رکھی کرسی پر کھڑا وہ نیچے جھانک کر اپنی ماں کو تلاش رہا تھا۔ مارگریٹ تھکی تھکی اس سڑک پر چلتی اسے نظر آ گئی۔۔۔وہ اندر آئی اور بیڈ پر بیٹھ کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔پھر اسکے پاس آئی اور اپنی اداکارانہ مسکراہٹ کے ساتھ اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور خود وہ کرسی کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔ تم بہادر ہو نا۔۔۔؟؟ مارگریٹ نے ایک اچھی مسکراہٹ سجا کر پوچھا۔جب عالیان تھوڑا بڑا ہوا تو اس نے کئی سالوں تک خود کو ہڑبڑا کر اٹھتے اور کہتے سنا۔
نہیں! میں بہادر نہیں ہوں۔۔۔
دو تنہا لوگ جب ایک دوسرے سے یہ پوچھنے کی جرات کرتے ہیں تو حقیقتاً وہ کہنا چاہ رہے ہوتے ہیں کہ۔۔۔ اب تیار ہوجاؤ۔۔۔ تم بہادر ہو یا نہیں۔۔۔ تمہیں بہادری دکھانی پڑے گی۔۔۔ تلخ حقیقتیں، تمہاری رسیلی زندگی میں گھلنے کے لیئے تیار ہیں۔۔۔ کیا تم بھی تیار ہو۔۔۔؟؟
اپنی بھوری آنکھوں سے وہ مارگریٹ کو دیکھنے لگا۔
ہاں کی ناناں۔
ماما پاپا کے پاس جا رہی ہیں۔۔۔
مارگریٹ نے اس کے گال پر پیار کیا اور کھڑکی میں جاکر کھڑی ہو گئی۔۔۔ دیکھا۔۔ وہ ایک بری اداکارہ تھی۔زیادہ دیر تک مسکرا نہ سکی۔۔۔ پھر بہت دیر کے بعد وہ وہاں سے ہٹی اور ایک چھوٹے سے بیگ میں اس کے کپڑے رکھنے لگی۔ ایک دوسرے سفری بیگ میں اس نے اپنی ایک جینز اور دو شرٹس رکھیں۔ دونوں بیگ اٹھا کر اور اسکا ہاتھ تھام وہ اسے اپنی دوست کے پاس لے آئی اور اسکے گال چوم کر چلی گئی۔ مارگریٹ چلی گئی__اور کتنے ہی صدیوں بعد وآپس آئی__اتنی صدیوں بعد کہ عالیان نے جان لیا کہ اس کی ماں سوتے،جاگتے،کام کرتے،خاموش بیٹھے،سسکتی کیوں رہتی تھی اور مسکرانے میں وہ اتنی بری اداکارہ کیوں تھی اور یہ بھی کہ اس کی نظریں کن ویرانوں میں بھٹکا کرتی تھی اور اس کے وجود سے آہیں کیسے اور کیونکر نکلا کرتی تھیں__جب وہ آئی تو وہ سوسن آنٹی کے گھر کے پچھوارے میں ایک طرف بیٹھا کھیلتے بچوں کو دیکھ رہا تھا__ان بچوں نے کئی بار اسے کھلانے کی کوشش کی تھی__لیکن وہ اپنی ماں پر ہی گیا تھا__وہ ایک برا کھلاڑی تھا__وہ کھیل کو کھیل نہیں سکتا تھا__بیٹھے بیٹھے جیسے اسے خبر سی ہو گئی کہ اس کی ماں کہیں اس کے قریب ہے__وہ گھر کے اندر آیا__دور سے ہی اس نے مارگریٹ جوزف کی ہچکیوں کو سن لیا__وہ ساری اداکاری کو بالائے تاق رکھ کر رو رہی تھی__
“ہاں!وہ مجھے نظر آ گیا تھا__وہ مجھے مل گیا تھا__تین ہفتے میں اسے پاگلوں کی طرح ڈھونڈتی رہی__اس کے دوست نے کہا تھا__مجھے چند ماں بھی رکنا پڑے تو میں وہیں رکوں__وہ وہیں ملے گا__اور وہ مل گیا__اور اس نے__اس نے جیسے مجھے دیکھ کر بھی نہیں دیکھا__ وہ قیمتی کپڑے پہنے سڑک پر چل رہا تھا،مجھے آن دیکھا کر کے وہ تیزی سے وہاں سے غائب ہو گیا__میں اس کے پیچھے بھاگی__لیکن اتنی جلدی نجانے وہ کہاں گم ہوگیا تھا__ سڑک پر ادھر ادھر بھاگتے میں چلا رہی تھی__ار سوسن!پھر بھاگتے بھاگتے میں خود کو گرا لیا__کہ شاید کسی کونے میں خود کو چھپا کر مجھے دیکھتے وہ مجھ پر ترس کھا کر ہی جائے__میں گری ہی رہی اور روتی ہی رہی لیکن وہ نہیں آیا__نہیں آیا وہ__اگلے دن وہ میرے ہوٹل آیا__ دیکھو کتنا آسان تھا،اس کے لیئے مجھے ڈنمارک میں ڈھونڈ لینا__اور میں اتنے سالوں میں اسے دنیا بھر میں نہ ڈھونڈ سکی__میں بہت ناکارہ، بہت بیکار ہوں نا سوسن!جانتی ہو میرے دو گھنٹے رونے کے بعد اور یہ بتانے کے بعد کہ پچھلے چار سالوں میں میں نے کیسے کیسے اس سے رابطہ کرنے کی کوشس کی__کس کس شخص کے پاس اس کا پوچھنے کے لیئے گئ__خدا کے آگے کیسے کیسے گڑگڑاتی اور اسے یاد کر کے کیسے کیسے توتی رہی اس نے کیا کیا__اس نے جیب سے ایک کاغذ نکالا اور کہا__
“یہ تمہاری طلاق کے کاغذ ہیں__میں نے اپنے مذہبی اسکالر سے اس کئ تصدیق کروالی ہے__تمہیں اس کی ضرورت نہیں ہو گی،لیکن مجھے ہے__تم دستخط کرو__”پھر اس نے ایک لفافہ میرے آگے کیا اور کہا__
“یہ لو پیسے اور واپس جاؤ__میں تمیاری شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتا لعنتی،کافر عورت !”سے بے طرح کے یاد کرنے پر وہ مجھے طلاق دے رہا تھا__
اس کے لیئے خدا کے آگے کیسے کیسے گڑگڑائی__یہ سن کر وہ مجھے لعنتی کہہ رہا تھا__اس نے کہا کہ اس پر آللہ کا غصب نازل ہوا تھا__جو اس نے ایک کافر عورت سے شادی کر لی__وہ ایک تعلق لعنت تھا__میں__سوسن اس نے کہا میں ایک لعنت ہوں__میں__اللہ نے مجھے بھی بنایا ہے اور اسے بھی بنایا ہے__کیا اللہ ناانصاف ہے کہ ایک کو اس جیسا انسان بناتا ہے اور ایک کو مجھ جیسا__اس نے کہا میں ایک کافر عورت ہوں__وہ کافر کسے کہتا تھا__خدا کو ناماننے والے کو__خدا کو چھوڑ دینے والے کو__اور ایک انسان کو چھوڑ دینے والے کو__ایک انسان کو ناماننے والے کو کیا کہتا ہے وہ__میں نے اس سے پوچھا__ اس نے مجھے گالیاں دیں__میرے مرے ہوئے والدین پر الزام لگایا__کہ مین حرام کی پیداوار ہوں__میں سراپا حرام ہوں__میری رگوں میں ناجائز اور گندا خون ہے__میں اور میرے آباؤ اجداد شراب پیتے رہے ہیں اور میرے والدین کو شادی کی کیا ضرورت رہی ہو گی__ میں ایک گندے غلیظ مغربی معاشرے کی پیداوار،کتنے کتنے گل کھلا چکی ہوں گی،وہ گالیاں دیتا رہا اور مجھے بتاتا رہا کہ میں کیا کیا ہوں__وہ مجھے جتا رہا تھا کہ مجھے چھوڑ آنے کی اصل وجوہات کیا تھیں،وہ میرا
کافرہونا تھا….غیرمذہب ہوناتھا….پھراس نےمیرے خدا کو گالیاں دینی شروع کر دیں….وہ مجھے بتانے لگا کہ دراصل کس کا مذہب سچا ہے…خود کو سچا ثابت کرنے کے لیے کہ میں ڈنمارک کے حکومت کو اپنےاور اس کے تعلق کو لے کر درمیان نہ لاؤں یا برطانیہ کو،وہ مجھ پر ثابت کرنے لگا کہ اپنی بات میں وہ کس قدر سچا ہے….وہ ایک سچے مذہب کو ماننے والا ہے….میں نے اس سےکہا کہ اگر اس کا مذہب اتنا ہی سچا ہے ،اچھا ہے تو اس کی وہ کس تعلیم کے تحت میرے ساتھ برا کر رہا ہے سو سن مذہب کس کا سچا ہے اسکے لیے تو آپ کو خود کو سچا ہونا پڑتا ہے نا….پہلے تو خود کو مکمل کرنا پڑھتا ہے …..ورنہ مذہب….کون سا مذہب ہے جو یہ سب کرنے کی تعلیم دیتا تھا جو وہ میرے ساتھ کر رہا رتھا۔“سوسن کے ہاتھ پکڑ کر اس سے سوال کرنے لگی۔
”اس نے کہا وہ بھٹک گیا تھا….وہ میرے جال میں آگیا تھا…..میں نے اپنی خوبصورتی کا استعمال کیا…..بھٹک تو میں گئی تھی۔پھنس تو میں گئی تھی اس کی محبت کے جال میں …..میں کتنی خوبصورت ہوں۔اس کا احساس تو اس نے مجھے دلایا تھا….وہ تو کہا کرتا تھا اللہ اپنے شاہکاروں میں مجھے بھی شمار کرتا ہوگا….اور وہ کہا کرتا تھا اللہ کی مہربانی اس نے زمین والوں کے نصیب میں اس شاہکار کی رونمائی کی…..مجھے شاہکار تو اس نے بنایا تھا….پر اس نے مجھے لعنت کیوں بنا ڈالا….سوسن !میں زندہ رہنا نہیں چاہتی….کوئی لعنت کے طوق کے ساتھ کیسے زندہ رہ سکتا ہے جبکہ اسے پہلے ”شاہکار “کے رتبے پر فائز کر دیا گیا ہو…..
میرا تو سب چلا گیا نا….اس کا کیا گیا….وہ تو قیمتی لباس میں پہلے سے کہیں زیادہ خوبصورت میرے سامنے کھڑا تھا…..جھکی ہوئی تو میں تھی اس کے آگے….گڑگڑا تو میں رہی تھی….بھلا بتاؤ سوسن ! جو نفع میں رہتے ہے وہ میری طرح گڑگڑاتے ہیں….ایسے خوار ہوتے ہیں….خسارے میں کون رہا سوسن….وہ میرے ہاتھ پیر کاٹ ڈالتا….اس نے میرا دل میری روح کاٹ ڈالی….وہ اتنا ظالم ہو گا کاش ! مجھے معلوم ہوتا
“تم نے مشرقی گھاٹ کا پانی پی لیا ہے۔ تمہاری سمجھ اب سمکھ سے بالاتر ہو گئ ہے۔۔۔”
امرحہ سے ملنے کے بعد اب اسے لاہور جانا تھا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا سب وہاں اس جیسے ہیں۔۔۔ کیا سب لڑکیاں ایسے ہی دوپٹوں میں الجھتی ہیں۔۔۔ بری بات پر باک چڑھا کر “آخ” کرتی ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر آنکھیں نم کر لیتی ہیں۔۔۔
جب وہ فارغ ہوتا وہ لاہور نامہ پڑھتا رہتا۔ یعنی اپنے فارغ اوقات کار میں وہ لاہور میں رہتا۔۔۔ وہ اتنا لاہور میں رہنے لگا کہ صبح آنکھ کھلتے ہی اسے خود کو یاد کروانا پڑتا کہ وہ
St… Anselm Hall
میں ہے کینٹ یا مال میں نہیں۔۔۔وہ روز پاکستانی اخبار بھی ضرور پڑھتا کہ لاہور میں کیا کیا ہورہا ہے،۔۔۔ لاہور میں کچھ بدل تو نہیں گیا۔۔۔ اس نے لوڈشیڈنگ کے بارے میں اتنا پڑھا کہ اس نے امرحہ سے پوچھ ہی لیا۔۔۔
“کیا واقعی پاکستان بجلی کو لیکر اتنے بڑے کرائسسز سے گزر رہا ہے۔۔۔۔”
“اسکا رنگ فق سا ہوگیا۔۔۔” نہیں۔۔۔ پر تم کیوں پوچھ رہے ہو۔۔۔؟؟؟
نہیں۔۔۔! 😳 وہ اسکے نہیں پر دنگ تھا۔ ہر روز وہ بجلی کو لیکر خبریں پڑھتا تھا۔۔۔
“ایسے ہی۔۔۔ وہ میرا ہاسٹل فیلو بتاریا تھا۔۔” اس نے بہانا بنایا۔
کیا بتا رہا تھا۔۔۔ کیا کوئی پاکستانی ہے یا ہندوستانی۔۔۔”
اس نے بمشکل اپنا غصہ ضبط کیا۔
عالیان کے لیئے یہ حیران کن منظر تھا۔۔۔یہی کہ وہاں بجلی کا مسئلہ۔۔۔”
وہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے بجلی کا۔۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔۔ جیسے یہاں سب ٹھیک ہے۔۔۔ کیوں ہوگا وہاں کوئی مسئلہ۔۔۔؟؟؟” اسے یقیناً اس ہوسٹل فیلو پر غصہ آ رہا تھا۔ عالیان دنگ اسکی شکل دیکھ رہا تھا۔ اپنے ملک کی عزت کو لیکر وہ اتنی حساس تھی کہ ایک غیر ملکی کے سامنے کسی بھی اندرونی مسئلے کو لیکر بات ہی نہیں کرنا چاہتی تھی’ یعنی یہ انکے گھر کا معاملہ تھاَ’ غیر ملکی دور رہے اس سے۔۔۔”
میں نے خبریں سنی ہیں بی بی سی پر۔۔۔احتجاج دیکھے ہیں۔۔۔
کبھی کبھار بجلی کا چھوٹا مسئلہ ہوجاتا ہے تو بس تھوڑے سے لوگ احتجاج کرلیتے ہیں۔۔۔ بس ایسے ہی۔۔۔ امرحہ ایک باکمال پاکستانی تھی، سات سالوں کی خون کے آنسو رلانےوالی لوڈ شیڈنگ کو وہ چھوٹا بڑا کبھی کبھار کا مسئلہ کہہ رہی تھی۔۔۔
کبھی کبھار کے مسئلہ پر لوگ ایسے احتجاج کرتے ہیں۔۔۔ انہوں نے حکومتی افس کو آگ لگا دی تھی۔۔۔
تم نے کوئی غلط خبر دیکھ لی ہے۔۔۔ ایسا نہیں ہوگا۔۔۔ آگ کیوں لگائے گا بھلا کوئی۔۔۔ بہت پیارا ملک ہے ہمارا۔۔۔ ہمیں وہاں کوئی مسئلہ،کوئی مشکل نہیں ہے۔۔۔ ہاں یقیناً بہت پیارا ملک ہوگا۔۔۔ جس ملک کی رہنے والی اسکی کسی خامی کو زیربحث نہیں لارہی، جسکے خلاف وہ ایک بات۔نہیں سننا چاہتی،وہ ملک کتنا پیارا ہوگا۔۔۔ وہ امرحہ سے زیادہ پیارا ہوگا نا۔۔۔
عالیان کو اسکی یہ حساسیت اتنی اچھی لگی کہ اس نے پاکستان کو لے کر وہ خبریں ہی پڑھنی بند کردیں جن میں کسی مسئلے کی نشاندہی ہوتی۔۔۔ لاہور میں سب ٹھیک ہے۔۔۔ جیسے مانچسٹر میں سب ٹھیک ہے۔
تو امرحہ کا لاہور اسکا ہوگیا تھا۔۔۔ جیسے عالیان کا مانچسٹر امرحہ کا ہوچکا تھا۔ ایسے ہی فاصلے کم ہو جاتے ہیں۔۔۔
محبت ہی میں ہم اپنی ساری قیمتی چیزیں ہتھیلی پر رکھ کر پیش کر دیتے ہیں کہ لو یہ آج سے تمہاری ہوئیں۔
کارل سے امرحہ کو چھپائے رکھنا کسی مہم کو سر کرنے کے برابر تھا۔ بظاہر کارل ایسے ظاہر کیا کرتا جیسے وہ بالکل انجان ہے اور اسکے پاس تو اتنا وقت ہے ہی نہیں کہ عالیان کی نگرانی میں ضائع کرتا پھرے۔۔۔ لیکن حقیقت میں وہ ان لوگوں میں سے تھا جو چوبیس گھنٹے کو چوبیس دن بنا لیتے ہیں۔۔۔
ایک رات جب دونوں سڑک پر شرط لگا کر دوڑ رہے تھے اور کارل جیت چکا تھا تو اس نے پھولے سانس کے ساتھ کہا .
“تم آج کل مسلسل مجھ سے ہار رہے ہو.”
“ایک دوڑمیں ہرا کر تم مجھے لوگر نہیں کہہ سکتے.”
وہ ہنسا”ایک دوڑ میں….کم آن عالیان. ..اس ہفتے میں یہ تیسری بار ہے.”
“میری صحت کچھ خراب ہو گئ ہے…میں فٹ نہیں ہوں.”
وہ اور ہنسا”تم ہار رہے ہو….مطلب تم کہیں اور جیت رہے ہو…مجھ سے ہار کو تم اہمیت نہیں دیتے…میرے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے..میں نے تم سے کہا کہ مارٹن کو اسٹور روم میں لاک کرنا ہے تو تم نے کہا کہ وہ بےچارہ ڈر جائے گا.. اس سے پہلے تو تمہیں کبھی کسی کے ڈرنے کی پروا نہیں ہوئی تھی.
“اگر وہ انتظامیہ سے ہماری شکایت کر دیتا…..؟”
کارل منہ کھولے اسے دیکھتا رہا.”اس سے پہلے ہم ڈیوڈ کے ساتھ یہ کر چکے ہیں اور اسے تو ہم نے کوڑےدان میں کیا تھا ….اور بےچارہ بے ہوش ہو گیا تھا …تم اب بدل رہے ہو. ..میں تمہیں اکیلا بدلنے نہیں دوں گا.”گھو نسا دکھا کر کہا.
“میں اب بڑا ہو رہا ہوں.”
“نہیں …بڑے ہونے کی نشانیاں نہیں ہیں یہ…..مجھے تشویش ہے….بلکہ خوف ہے کہ میں اپنا بہترین دشمن کھو دوں گا.یونو!ستر کارل کہتے ہیں کہ دوست ہو نہ ہو دشمن ضرور ہو اور تم جانتے ہو ‘پوری یونیورسٹی میں میری ٹکر ک صرف تم ہو.”کارل نے انگلی اٹھا کر کہا
“تم انتظار کر لو فریشرز میں بہت سے بھینسے تمہاری ٹکر کے آ چکے ہوں گے…جتنی چاہے ٹکڑیوں انہیں مار لینا ……”
“میرا خیال ہے وہ بل آ چکا ہے.”سر کارل نے پر سوچ سر ہلایا.
عالیان زیرلب ہنسا….”امرحہ….بل….ہاہاہاہا…”
امرحہ کے نام پر ہی وہ ایسے مسکرا دیاکرتاتھا…وہ اس کے ساتھ پر کیسے کیسے نہیں مسکرایا کرے گا… .ہر بار ایک نئ مسکراہٹ. ..اک نئ ادا..
پرانی امرحہ کی جگہ ایک نئ امرحہ ….نئ امرحہ کی جگہ پھر سے پرانی امرحہ….
••••••••••••••••••••
رات کے آخری پہر وہ اپنے کمرے میں آیا.کمرے میں کارل موجود تھا’اسے کمرے میں آنے کے لیے .کسی کے بھی کمرے میں جانے کے لیے چابی کی ضرورت نہیں پڑا کرتی تھی.جس حساب سے وہ جاسوسی ‘ایکشن فلمیں دیکھتا اور ناول پڑھتا تھا ‘اب تک جیمز بانڈ نہیں بن سکا تو یہ اس کی کسر نفیس تھی.
“میرے کمرے سے جاو کارل!”اس نے اپنا بورچا کوٹ اتار کر پھینکا.
“تم کہاں تھے؟”
“تم اپنے کمرے میں جاو…..”
“تمہیں کیا ہوا ہے؟”
“تمہارا شکریہ میں ادا کر چکا ہوں ….اب تم جاو”
“شکریہ….یہ لفظ پہلے کب ہم دونوں نے استعمال کیا ہے’ذرا بتاؤ…وہ لڑکی تمہیں پسند نہیں کرتی…بات ختم.”
“ہاں بات ختم….ان جاو”
“نہیں. ..تم ٹھیک سے بات ختم کرو.”کارل نے اس کی شرٹس گریبان پکڑ لیا.
“میں بات ختم کر چکا ہوں کارل……تم سے بھی اور اس سے بھی.”اس نے اپنا گریبان آذاد کروایا.
“اس سے کرنا بنتا ہے … اس نے تمہاری بےعزتی کی …لیکن تم؟”
“میں سب ختم کر رہا ہوں.”وہ چلایا
“کتنی لڑکیوں کے ساتھ تم نے میرے بریک اپ کروائے. ..میں نے کبھی ایسے ری ایکٹ نہیں کیا….چند ایک کے ساتھ میں سنجیدہ تھا ….تم بہت برے
کھلاڑی بنتے جا رہے ہو.”
“ہاں بہت برا کھلاڑی ہوں….بدترین انسان ہوں میں….”سنے کارل کو ہلکا سا دھکا دے کر خود سے دور کیا.”تم جاو اب…”
“تم یہ سب نہیں کر سکتے….ایسے خود کو نہیں بدل سکتے..”کارل چلایا.”ہم دونوں نے بہت وقت ساتھ گزارا ہے ….میرا حق ہے تم پر.”
عالیان نے اپنے منہ کو اس سے چھپانے کی کوشش کی.
“جاو کارل…..خدا کے لیے مجھے اکیلا چھوڑ دو…”
کئ لحظے اسے دیکھتا رہا پھر چلا گیا •••••••••••••••••
عالیان St-Anselm Hallکے کمرے کی کھڑکی سے برف پر گرتے اندھیرے کو دیکھنے لگا.
ایک گھر جو اسے کبھی نصیب نہیں ہوا تھا…..ایک گھر ….ایک خاندان….کارل اور وہ چپکے چپکے اس کے خواب دیکھتے رہے تھے.ایک دوسرے کو وہ یہی جتاتے کہ انہیں بزنس ٹائیکون بننا ہے…اور ایک دوسرے سے چھپا کر ہوم ڈیکور کے رسالے دیکھتے رہتے….کارل جو اتنی لڑکیاں بدل چکا تھا ‘صرف اس لیے کہ وہ جان چکا تھا کہ وہ گھر نہیں بنا سکتیں اور جب ان لڑکیوں سے اس کا چھٹکارہ حاصل کرنا ناممکن ہوجاتا تو جیسے وہ خود عالیان کو دعوت دیتا کہ خدا کے لیے میرا بریک اپ کرا دو.
ایک گھر ….ایک خاندان…مل کر ایک ہو جانا….اس کی اہمیت وہی سمجھ سکتا ہے جو ان سے محروم رہا ہو’عالیان نے تو پھر بھی چند سال اپنی ماں کے ساتھ گزارے تھے’کارل نے تو ہوش ہی کڈز سینٹر میں سنبھالا تھا.اسکے والدین ترین کے حادثے میں مر چکے تھے.سوتیلے نانا اور نانی نے اسے اس کڈز سینٹر کے حوالے کیاتھا.
ایک بار اس نے امرحہ سے پوچھا تھا.
“تمہارے وہاں گھر کیسے بنتے ہیں.”
“مطلب تعمیرات”
“نہیں…مطلب کے کیا خواہش رکھی جاتی ہے کہ گھر کو لے کر کہ وہ کیسا ہو؟”
“اچھا یہ.. اگر کوئی الہ دین کا چراغ پوچھ رہا ہے کہ گھر کیسا ہو تو سعودی طلال کے محل جیسا یا پام سٹی میں میڈونا کے گھر جیسا….”
وہ ہنسا..”الہ دین نہیں ایک عام انسان پوچھ رہا ہے ….مجھ جیسا عام…”
“اچھا!”اسکا منہ لٹک گیا.الہ دین کا خواب چکنا چور ہو گیا.اب اسے شہزادے طلال جیسا محل کون بنا کر دے گا ….عالیان زیرلب ہنسا.
“اگر میں بزنس ٹائیکون بن گیا تو اسے ایک محل بنا دوں گا …اور میں نے اپنے پیشے کا کرنا کیا ہے لیکن اگر میں اس کے لیے الہ دین نا بن سکا تو…….؟
“ایک بڑا سا باغ جس میں کئ سو پھول کھلے ہوں…. اس باغ میں گھر کی بڑی بڑی کھڑکیاں کھلتی ہوں….پیچھے بھی کئ سو پھولوں والا ایک باغ ہو ایک چھوٹی سی آبشار کے ساتھ اور اس میں بڑی بڑی کھڑکیاں کھلتی ہوں گھر کی…یہ ماسٹر بیڈروم ہو اور لائبریری. ..گھر کی چھت بہت اونچی ہونی چاھیے….یعنی اتنی کہ چھ فٹ لمبا فانوس لگا ہو تو سر اٹھا کر دیکھنے پر وہ دور ……بہت دور لگے.”
“یہ ایک عام آدمی کا گھر ہی ہے نا امرحہ!”اسے ٹو کنا پڑا
وہ رک کر سوچنے لگی اور خاموش ہو گئ…یعنی خفا ہو گئ…مطلب ایک سیدھا سا جواب اس سے حاصل کرنا مشکل تھا.کہیں وہ اتنی ذہین تھی کہ فورا جواب گھڑ لیتی تھی.
“نہیں کوئ ایشو نہیں ہے گیس کا….کس نے کہا .
موبائل چھین لیے جاتے ہیں جھوٹ….یہ مغربی اخبارات نا…. یہاں تو تم لوگ انگلی اٹھاتے ڈرتے ہو نا کہ پولیس کو نہ بلوا لے.ہم لوگ وہاں سیدھا سیدھا تھپڑ مار دیتے ہیں …تھپڑ اور کوئی پولیس نہیں آتی.”
اور کچھ معاملات میں وہ ایسی تھی جیسے اونگے بونگے لوگ ہوا کرتے ہیں اور انہیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ کس قدر بونگے ہیں اور ہاں یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ انکا یہ بونگا پن کسی کو بہت اچھا لگتا ہے اتنا کہ اپنے چھ، سات ہوسٹل میٹس کے ساتھ گپیں ہانکتے، سڑک پر چہل قدمی کرتے۔۔۔ اپنے بیڈ کی چادروں کو یانانی طرز پر جسم پر باندھے ایک کندھا عریاں رکھے۔۔۔ یونانی ہی تیز میوزک پر کوریڈور میں ٹھمکے لگاتے اور اپنے دیگر بندر لنگور کے کرتب کرتے کوئی اسے ہی سوچتے، اسی کے لیے زیرلب ہنستا ہے۔۔۔
عالیان۔۔۔ ہاں عالیان۔۔۔ کہاں گیا وہ بیچارہ۔۔۔ ساتھ کے کمروں میں جب کوئی پاجامہ پارٹی، Do or die یا اسٹوڈنٹس کا opera چل رہا ہوتا۔۔۔
کارل اسے گھسیٹ کر لے جانے کی کوشش کرتا۔۔۔
تم میاؤں میاؤں بلی بنتے جارہے ہو۔۔۔ چلو شیر بنو اور ذرا دھاڑ کر دکھاؤ۔۔۔ وہی فارغ اوقات میں کی جانے والی انکی کبھی ایکشن، کبھی مسٹری، کبھی ہارر اور کبھی مزاحیہ موویز جیسی حرکتیں اور شرارتیں، لیکن اب اس سب میں اسکا خاص دل نہیں لگتا تھا۔۔۔ وہ کر تو لیتا تھا لیکن بس خود کو پرانا والا عالیان ثابت کرنے کے لیے۔۔۔ اسے ڈر لگتا تھا کہ کوئی اسکے دل کا بھید نہ پا جائے۔۔۔
بھید جو بھوری آنکھوں نے کالی آنکھوں سے کشید کیا تھا۔۔۔
بھید جو محبت میں ملفوف دل پر کھلتا ہے۔۔۔ صرف محبت میں ملفوف دل پر۔۔۔
اسے یہ چونکا دینے والی لڑکی اتنی لگی کہ اسکی کوئی بات اسے بری نہیں لگتی۔ اسکی کسی بات پر اسے غصہ نہیں آتا تھا۔۔۔ اسکی کسی بات پر وہ بھڑکتا نہیں تھا۔۔۔ وہ اسکے لئے وہ پری تھی جو دو دموں والے بندر سے خوفزدہ ہوجاتی ہے۔۔۔ سارا مانچسٹر ہی اس کے لیے دو دموں والا بندر تھا۔۔ وہ حیران ہو ہوکر ڈر ڈر جاتی۔۔۔ اسکا خیال تھا دنیا میں سب سے اہم محبت ہوتی ہے۔۔۔ امرحہ نے اسے سمجھا دیا تھا کہ اور کیا کیا کچھ اہم ہوتا ہے۔۔۔
عالیان کھڑکی میں کھڑا تھا اور آج پہلی بار امرحہ کے بارے میں سوچتے ل
وہ زیرلب مسکرا نہیں رہا تھا۔۔۔اسے رات گزرنے کا غم نہیں تھا۔۔۔ کہ اگر رات گزر گئی تو وہ کس وقت امرحہ کو سوچے گا۔۔۔
باہر فروری برف کی صورت برس رہا تھا۔۔۔۔
فروری جسے جدید دنیا نے سرخ۔۔۔ سرخ۔۔۔سرخ رنگ ڈالا ہے یہ فروری آج اس سرخ۔۔۔ پر سفیدے کی صورت گرے اسکا گلا دبا رہا تھا۔
••••••••••••••••
پیر کو یونیورسٹی آئی تو جو پہلا شخص اسکے پاس آیا، وہ کارل تھا۔۔ چمڑے کی جیکٹ میں دونوں ہاتھ ڈالے، بنا ٹوپی اور مفلر کے وہ بہت غصے سے اسے گھور رہا تھا۔
تم یونیورسٹی سے خود جاؤگی یا میں تمہیں نکلواؤں۔۔۔؟؟؟
یہ بات کہتے ہوئے وہ انتہا کا سنجیدہ تھا۔ وہ جواب دیے بغیر آگے بڑھی ہی تھی کہ اسکے کراس بیگ کے اسٹریپ میں اسنے پین کو اڑس کر اسے بری طرح پیچھے کھینچا۔
کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔۔؟؟؟
وہ ابھی بھی خاموشی سے اسے گھور رہا تھا۔
میں تمہاری شکایت کردونگی۔۔۔ دودن میں یونیورسٹی سے باہر ہونگے۔۔۔
تمہیں دو سیکنڈ بھی نہیں لگیں گے دنیا سے باہر ہونے میں۔۔۔ اگر عالیان واپس نہ آیا تو۔۔۔
امرحہ نے چونک کر کارل کو غور سے دیکھا۔ کیا مطلب۔۔؟؟؟
میں نے کہا اگر عالیان واپس نہ آیا تو۔۔۔ سختی سے اسے دھمکا رہا تھا۔
عالیان کہاں ہے۔۔۔۔؟؟؟
تم بتاؤ عالیان کہاں ہے۔۔۔؟؟ الٹا اس نے پوچھا، اس انداز میں پوچھا کہ امرحہ ڈر گئی۔
تم خود کو سمجھتی کیا ہو۔۔۔ عالیان کے مقابلے میں تم ہو کیا۔۔۔تم جیسی لڑکی جوایک ڈگری لینا پہاڑ سر کرنے کے برابر سمجھتی ہے، وہ آخر خود کو سمجھتی کیا ہے۔۔۔ کس دنیا سے آئی ہو تم، جانتی ہو نا۔۔۔ یا میں تمہیں یاد دلاؤں کہ تمہاری حقیقت کیا ہے۔۔۔
تم کہنا کیا چاہ رہے ہو۔۔۔؟ امرحہ بری طرح سے ڈر گئی۔
کہتا نہیں بتانا۔۔۔ عالیان کا کوئی خاندان نہیں ہے، وہ ایک ناجائز بچہ ہے اور وہ تمہاری اچھا مسلمان نہیں ہے۔۔۔۔ ایک تم ہی ہو اچھی والی مسلم نن۔۔۔ اس کی ماں ایک بری عورت تھی اور باپ،۔۔۔ ہونہہ۔۔۔
امرحہ یکدم سانس لینا بھول گئی۔۔۔ یونیورسٹی کی محراب موم بتی کی لو کی طرح تھر تھرانے لگی۔۔۔ یہ سب تمہیں کس نے بتایا۔۔۔؟ امرحہ کی جان مٹھی میں آگئی۔
بتایا۔۔۔ ہونہہ۔۔۔ میں نے خود سنا ہے۔۔۔ انفیکٹ آدھی یونیورسٹی نے سنا ہے۔ وہ سب جو تمہاری سوچ ہے۔۔۔ جو حقیقت میں تم ہو۔۔۔ ویسے تم لوگ بہت پڑھے لکھے بنتے ہو
۔۔ اور اندر سے وہی گھسی پٹی گھٹیا سوچ رکھتے ہو، جاہل لوگ۔۔۔ہونہہ۔۔۔
مجھے بتاؤ کارل تم کس سننے کی بات کر رہے ہو۔۔۔؟؟؟ تھرتھراتی محراب گرنے کو تھی۔ وہ گر جائے گی۔ نظر آرہا تھا۔۔۔وہ گر جائے گی۔
جو تم نے عالیان کے لیے ویرا سے کہا۔۔۔ وہ سب ریکارڈنگ ہے میرے پاس سنو گی۔۔۔
محراب دھڑم سے زمین بوس ہوئی۔۔۔ افسوس۔۔۔ اس محراب کے عین نیچے ہی امرحہ کھڑی تھی۔۔۔ امرحہ کو پر شور جھکڑ نے آلیا۔۔۔اسکی نظر دھندلا گئی۔۔۔ اسے کارل ٹھیک سے دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔ نہیں۔۔۔ اسے تو دنیا میں کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔بس اتنی سی دیر لگتی ہے اندھا ہونے میں۔۔۔اتنی سی دیر میں روشنیاں گل ہو جاتی ہیں۔
وہ سب کیا؟ وہ بمشکل پوچھ سکی۔
جو جو ویرا سے تم نے کہا تھا وی سب۔۔۔ امرحہ۔۔۔ دی مینڈکی۔۔۔ اب عالیان کو ڈھونڈ کر تم لاؤگی۔۔۔ورنہ اپنا سامان باندھ کر رکھنا،۔۔۔ٹرسٹ می ملکہ الزبتھ بھی تمہیں برطانیہ میں نہیں رکھ سکے گی۔۔۔
پین سے اسکے کراس بیگ کے اسٹریپ کو پوری شدت سے کھینچ کر چلا گیا۔۔۔ وہ اسے نہیں سن رہی تھی۔۔۔ وہ اسے کیسے سن سکتی تھی۔۔۔وہ تو۔۔۔
پھر سے ایک تیز سیٹی کی آواز۔۔۔ چھک چھک۔۔۔ جیسے زنگ آلود وزنی انجن کی ریل سزائے موت کے قیدی کا پیچھا کرتی اپنے اندر جلاد بٹھائے بھاگی چلی جاتی ہو۔۔۔ کتنی جلدی ہے، جلاد کو قیدی کا سر تن سے جدا کرنے کی۔۔۔وہ اس حالت میں آ گئی، جس میں کسی خونخوار درندے کے لیے لگائے گئے ہڈی توڑ لوہے کے وزنی شکنجے میں انسانی پیر آ جاتا ہے۔
اف۔۔۔ موت بھی اور تکلیف بھی۔۔۔آہ۔۔ وہ ایاک ابابیل تھی۔۔۔ اس پر “آہ” فرض نہ تھی، وہ بزنس اسکول کی طرف بھاگی۔۔۔عالیان کو ڈھونڈنا چاہا۔۔۔ وہ نہیں ملا۔۔۔ اسکے چند دوستوں سے پوچھا۔۔۔ انہیں معلوم نہیں تھا۔۔۔اسکا فون بند تھا۔
وہ تو کہا کرتا تھا، وہ خود کو مار ڈالے گا ، کلاس نہیں چھوڑے گا۔۔۔ مرجائے گا پر۔۔ تو کیا اس نے خود کو مار ڈالا تھا۔۔؟
تو کیا وہ مر چکا تھا۔۔۔ کیا واقعی۔۔۔ عالیان مارگریٹ مرچکا تھا۔۔ چند دن پہلے بچوں کےگالوں پر چٹکی بھر نے والا،۔۔۔ اس سے بھی پہلے اسکے لیے کراسنگ پر قلابازیاں لگانے والا۔۔۔اور۔۔۔ بھوری آنکھوں والا لارڈمئیر۔۔ مر چکا تھا۔۔ اتنی جلدی۔۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Episode 19

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: