Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 25

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 25

لرزے کی ایک پردرد کیفیت امرحہ کے وجود میں جاگی اور اسے گرنے سے بچنے کے لیے قریبی دیوار کا سہارا لینا پڑا۔۔۔اسکے چار اطراف کی ہوا نے اپنا رخ اس سے پھیر لیا، اس خودغرضی پر اسکا دم گھٹنے لگا۔
کراس بیگ بہت وزنی ہوچکا تھا۔ اسکا وزن امرحہ سے اٹھایا نہیں جارہا تھا۔ وزنی تو اسکا اپنا وجود بھی ہو چکا تھا۔۔۔ امرحہ کے لیے اسے قائم رکھنا محال ہو رہا تھا کہ عزت بھی رہ جائے اور چوٹ بھی نہ لگے۔
اسے یاد ہی نہ رہا اسے اپنی کلاس لینی ہے۔۔۔
اگر کوئی اسے اس وقت پکارتا تو اسے یہ بھی یاد نہ آتا کہ امرحہ نامی لڑکی خود وہی ہے۔۔۔
ایسے چلتی جسے چلنا تو ہرگز نہیں کہتے، وہ باغ کے ایک کونے میں بیٹھ گئی، چپ۔۔۔ خانوش۔
دنیا میں اتنا سناٹا کیوں ہے۔۔۔؟؟؟
نہیں! یہ شور۔۔۔ اتنا شور۔۔۔ یہ کہاں سے پھوٹا پڑتا ہے۔۔۔؟ کان پھٹ رہے ہیں۔۔۔ کچھ سنائی نہیں دے رہا۔۔۔کان بہرے ہو چکے ہیں۔
اب وہ گود میں ہاتھ رکھے بیٹھی ہے،جیسے دائرے کی صورت اسکے گرد الاؤ بھڑکانے کی تیاریاں کی جاتی ہوں اور وہ اس پر راضی ہو۔
ہونی ہوچکی ہے مطلب۔۔۔ اسکی سب تدبیریں حساب کتاب الٹا ہی ہوا۔۔۔ وہ نالائق کی نالائق ہی رہی۔
اسٹوڈنٹس آ جا رہے ہیں۔۔۔ برفیلی ہوا چل رہی ہے۔۔۔دھند ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے اور ایسا کرتے بہت خوفناک لگ رہی ہے۔
آکسفرڈ روڈ ایسے رواں دواں ہے جیسے ابھی ابھی وہاں سے شور مچاتی چیختی چنگھاڑتی پرانے انجن کی ریل گاڑی قطعاً نہیں گزری۔۔۔
باغ ایک کونے وہ اکیلی بیٹھی ہے۔۔۔جیسے ساری دنیا تباہ ہو چکی ہے۔۔۔ اور اب وہ۔۔۔ اب وہ اکیلی رہ گئی ہے۔۔۔ بالکل اکیلی۔۔۔ جیسے باغ میں بچھی گھاس خزاں میں پیوست بہار سے دور اکیلی۔۔۔
سیاہ بلوری پیالے آنسوؤں سے بھر بھر گئے۔۔۔ گود میں ہاتھ رکھے وہ اتنی بڑی یونی میں۔۔۔ اتنی بڑی دنیا میں اکیلی ہوئی بیٹھی ہے۔۔۔ افسوس۔۔۔ برائے نام حصے میں آتے ہی سہی وہ عالیان کو کھو چکی ہے۔۔۔ اور محبت کا ایک ہی پنجرہ ہے “دنیا” اس کا ایک ہی قصور ہے۔۔ دنیادار ہونا اس پنجرے پر ایک ہی تالا لگتا ہے۔روایات کا۔۔۔ اس سوال کا، اُس سوال کا۔۔۔ اس خوف کا۔۔۔ اس انجام کا۔۔۔ یہ وہ۔۔۔ بس سب سوالیہ۔۔۔
سر کشی کی اجازت نہیں۔۔۔ بغاوت کا حکم نہیں۔۔۔
اس پنجرے کی سلاخوں کی بنیادیں، خودغرض معاشرے کے کھوکھلے بھربھرے اصولوں سے ہری بھری دھرتی کے سینے سے پھوٹتی ہیں۔
اور اصول وضوابط کی فضا میں غرور و تکبر سے تن جاتی ہیں۔
یہ پنجرہ۔۔۔ اس پنجرے کا قیدی حساب کتاب کیوں نہ کرے۔۔۔ وہ سارے سوالوں کے جواب نکال لے گا تو ہی تالا کھولے گا نا۔۔۔
اور سب سوالوں کے جواب کون فاتح ہے جو نکال پاتا ہے۔۔۔
امرحہ اتنی عقلمند تھی کہ عالیان کو پہچان گئی تھی، اور اتنی ہی بے وقوف کہ اسے پا نہ سکی۔
اور ذرا بتائیے مشرق میں وہ قلم دوات کہاں ملتی ہے جو ایسی “محبت” کرنے کی تحریری اجازت دیتی ہے۔۔۔۔
ایسی محبت جس کی اہمیت مٹی کے کچے ٹوٹے ہوئے گھڑے سے بھی گئی گزری ہوتی ہے۔۔۔ وہ اٹھی اور گھر آ گئ۔۔۔
آپکی عالیان سے بات ہوئی؟ اس نے آتے ہی لیڈی مہر سے پوچھا۔۔۔
دو دن سے اس نے مجھے فون نہیں کیا۔۔۔ اس کا فون بند ہے۔۔۔
کل تم اس سے یونیورسٹی میں مل سکتی ہو۔۔۔پوچھنا اس کے موبائل کے ساتھ کیا ہوا ہے۔۔۔کل ضرور وقت نکال نر اس سے مل لینا۔۔۔
وہ زندگی کا سارا وقت نکال کر اس سے مل لیتی اگر اجازت دے دی جاتی۔۔۔ اس پر یہ اجازت جائز کردی جاتی۔۔۔وہ لیڈی مہر کو بتا نہ سکی کہ وہ یونیورسٹی نہیں آیا۔۔۔
اور یہ بھی کہ انکے فرمانبردار، لاڈلے بیٹے کے منہ پر اس نے تھپڑ دے مارے ہیں، اب دکھ اور شرمندگی کو لیے وہ خود کو چھپا رہا ہے۔۔۔خود کو گم کرکے وہ تلاش کرتا پھر رہا ہے۔۔۔
اگر اس نے کہیں جانا ہوتا ہے تو وہ کہاں جاتا ہے۔۔۔اس نے مجھے نوٹس دینے کےلیے کہا تھا اور اب۔۔۔ اس کا کچھ اتا پتا ہی نہیں۔۔۔اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اپنی آواز کو کس ردھم پر لے کر آئے کہ اسکی چوری نہ پکڑی جائے۔۔۔ آتشدان کے قریب آکر وہ سلاخ سے آگ کو بلا وجہ کریدنے لگی۔۔۔
جائے گا کہاں۔۔۔ وہ مجھے بتائے بغیر شہر نہیں چھوڑا کرتا۔۔۔
آگ کو کریدتے اس کے ہاتھ رک گئے، یعنیاس بار وہ یہ نافرمانی کر چکا ہے۔۔۔ وہ اپنی ماں کو بناء بتائے کہیں جا چکا ہے۔۔۔
تم یونیورسٹی سے کیوں آگئیں۔۔؟
بس ایسے ہی۔۔۔ دل ہی نہیں چاہ رہا تھا کلاسز لینے کا۔۔۔
اچھا تم نے ایک بار کہا تھا کہ تم مر جاؤگی مگر کلاسز نہیں چھوڑو گی۔۔۔ لیڈی مہر نے ہنس کر کہا۔
عالیان سے سیکھ کر اس نے یہ بات دو تین لوگوں سے کہی تھی۔۔۔
وہ گردن اکڑا کر یہ بتانا چاہتی تھی کہ اسکے لیے تعلیم کتنی ضروری ہے۔۔۔
اتنی زیادہ کہ صرف موت ہی درمیان میں حائل ہوکر روک سکتی ہے۔۔۔
تو کیا موت حائل ہوچکی تھی۔۔۔؟
ایسا ہی ہوا ہے یقیناً، پھر تو۔۔۔
جاب پر جانے سے پہلے تم Anselm ہال چلی جانا۔۔۔
میں چلی جاؤنگی۔۔۔
آپ پریشان نہ ہوں وہ ٹھیک ہوگا۔۔۔
وہ میرا بیٹا ہے، وہ اپنا خیال رکھنا جانتا ہے۔۔۔ اپنے لیے نہیں۔۔۔ میرے لیئے۔۔۔
امرحہ کو ایک دم سے احساس ہواکہ وہ کافی دیر سے آگ کے قریب کھڑی ہے۔۔ لیڈی مہر کی اس بات نے اسے چونکا دیا۔
تھا۔۔۔
ہاں! وہ ٹھیک ہوگا۔۔۔
کسی کے لیئے نہیں لیڈی مہر کے لیئے۔۔۔
****************
“دیکھو’دھندنے آج مانچسٹر پر یلغار کی ھے ” وہ کھڑکی کے پاس بیٹھی مانچسٹر پر اترنے والی دھند پر نثار ہو رہی تھیں امرحہ نے ان کی پشت سے ان کے چہرے پر چھائی معصومیت کو پچھتاوے کے احساس میں گھر کر دیکھا اس کا جی چاہاوہ ان کے قدموں میں اپنا سر رکھ دے اور عالیان سے پہلے ان سے معافی مانگ لے….انہیں بتاے کہ ان کا بیٹا نہ جانے کہاں چلا گیا ہے اور ایک صرف اسکی وجہ سے……..
پہلی بار وہ عالیان کے ہال ST-Anselm آئی. پر وہ دن میں یونیورسٹی نہیں آیا تھا’ وہ شام تک ہال کیسے آتا ‘وہ اپنی جاب پر آگئی .کسٹمر صبر سے اس سے بل بند آتے رہے.اسکی دس انگلیاں جامد تھیں ‘وہ حرکت سے انکاری تھیں…..ایک معمولی جوتے کا اس نے دس ہزار پونڈ کا بل بنا دیا…..
امرحہ…..!میں آ چکی ہوں.”ویرا اس کے سر پرکھڑی تھی’پچھلے دس منٹ سے کھڑی تھی.
امرحہ اپنے کام میں مصروف رہی.اس نے مزید دس منٹ کھڑے رہنے کے بعد اسے مخاطب کیا .
“میں فارغ نہیں ہوں.”
“ٹھیک ہے ….ایک گھنٹہ ہے تمہارا دورانیہ ختم ہونے میں…..میں کیفے میں…..”
“میرے لیے انتظار کرنے کی ضرورت نہیں…..تم جا سکتی ہو…..”
“تمہیں ساتھ لے کر جاوں گی. ”
“مجھے تمہارے ساتھ اب نہیں جانا…..”
“یہ فیصلہ ہم بات کرنے کے بعد کریں گے…”
“فیصلہ ہو چکا ہے….”وہ ویرا کے کمرے کے ایک ایک چیز تہس نہس کر آئی تھی.ایک گھٹنے بعد وہ اسٹور سے نکلی تو ویرا جو اسٹور کے ایک طرف ٹہل رہی تھی.اس کے پیچھے لڑکی.
“تم اتنی تیزی سے کہاں جا رہی ہو… تمہیں معلوم بھی ہے کہ میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں.”
اس نے جیسے سنا ہی نہیں اور وہ اپنی بس میں بیٹھ گئی. ویرا اپنی سائیکل پر آتی رہی بس کے پیچھے پیچھے کہ کہیں وہ درمیان میں اتر کر کہیں اور نہ چلی جاے……اس نے آتے ہی اپنا کمرہ لاک کر لیا،ویرا نے لیڈی مہر کی پرواہ کیے بغیر اتنی زور زور سے دروازہ بجایا کہ اسے دروازہ کھولنا ہی پڑا …..وہ لیڈی مہر کو کس منہ سے اس سارے تماشے کی تفصیل بتاتی جو اس کے اور ویرا کے درمیان ہوتا……
“دو بالغ افراد’غصہ کرنے لڑنے سے پہلے آرام سے بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں.”ویرا نے اپنے قد کی طرح لمبے ہاتھوں کو اسکے شانوں پر رکھ کر نرمی سے کہا…..
“بالغوں میں سے ایک بالغ کچھ بھی کر سکتا ہے….کچھ بھی … خاص کر اگر وہ چھپا رستم بھی ہو تو..”شانوں پر سے اسکے ہاتھ جھٹک کر اسنے تیز آواز میں کہا.
ویرا کو اسکے انداز پر جھٹکا لگا اسکی گلابی رنگت پھیکی سی پڑگئی. اسکی آنکھوں سے گہرا ملال چھ لینے لگا.
“تم اتنی سی بات پر ایسے ری ایکٹ کر رہی ہو؟”اسنے یہ کہتے محسوس کیا کہ زندگی میں پہلی بار اسکی آواز میں ارتعاش کا شکار ہوئی ہے.
“اتنی سی بات…….تم نے میری ساری باتیں ریکارڈ کر کے عالیان کو دے دیں.”کس قدر شرمناک حرکت ہے ….جانتی ہو…..اسے کارل نے بھی سنا اور کچھ دوسرے اسٹوڈنٹس نے بھی……”
ویرا کی آنکھوں میں ملال کی جگہ خوف نے لے لی.کمانڈو کی طرح ساری دنیا کو اپنے پیچھے رکھنے والی نے کسی قدر سہم کر امرحہ کو دیکھا…..ایسا کرتے ویرا بلاشبہ بہت بد ہئیت لگی.
“عالیان کو نہیں ……کارل کو امرحہ……!”
امرحہ کو بات سمجھنے میں کچھ وقت لگا”کیوں ……کیوں کیا ایسا ….کیا مصیبت آگئی تھی تم پر ویرا….؟”
“کارل نے مجھ سے کہا تھا….اس نے عالیان اور تمہیں پریڈ میں باتیں کرتے دیکھ لیا تھا ….. تھوڑا بہت سن بھی لیا تھا…اسنے مجھ سے درخواست کی کہ میں تم سے پوچھوں….وہ عالیان کا دوست ہے…..عالیان بہت اپ سیٹ تھا پریڈ کے بعد سے….. کارل جاننا چاہتا تھا اسکی وجہ……”
“وہ عالیان کا دوست نہیں ہے….”امرحہ کس قدر سہم کر چلا اٹھی.
“وہ عالیان کا دوست ہے امرحہ…..صرف وہی ایک دوست ہے….”
“دوست ایسا کرتے ہیں جیسا اس نے کیا….جیسا تم نے کیا….”امرحہ کو یقین سا ہونے لگا کہ وہ اپنا چین و قرار تا عمر کے لیے کھو دے گی…..اور پھر کبھی نہیں پا سکے گی.
“امرحہ!اسنے صرف اتنا کہا تھا کہ وہ ٹھیک ٹھیک سب سننا چاہتا ہے…جب میں تم سے بات کر رہی تھی تو وہ فون پر سن رہا تھا مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ فون کال ریکارڈ کر لے گا.. اور مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ وہ ہارٹ راک میں وہ ڈسک چلوادےگا……”
امرحہ نے ویرا کی شکل کو پہچاننے کی کوشش کی…..مکڑی کے جا لے سے بینائی نے پھر سے امرحہ کو اندھا کرنے کی کوششیں کی….پلکوں کی جنبش امرحہ پر گراں گزری….
ہارٹ راک…ڈسک پر…….؟”
امرحہ کی شکل کی طرف دیکھتے ویرا رو دینے کو ہو گئی وہ تو اتنی بہادر تھی ‘پھر اب کیسے وہ رو دینے کو ہو گئی.
“ہاں!کارل نے وہاں ڈی جے سے چلوا دی…ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے اسٹوڈنٹس بھی تھے وہاں….اور عالیان بھی…..مجھے آج ہی یونیورسٹی سے معلوم ہوا ہے.”
“اور عالیان…………؟”امرحہ بڑبڑائے
اس کا خیال تھا کہ یہ سبST-Anselm ہال میں ہوا ہوگا ‘پر وہ تماشا تو ہارٹ راک میں لگا تھا جہاں یونیورسٹی کا جم غفیر ہوتا تھا….تو اسکی زبان سے کی گئی ہتک سب نے سن لی…..جس کی وہ وہ عزت کرتی تھی اسکی سرعام بےعزتی کر دی……
“ویرا!تم نے کیا کیا ؟”اسکی آواز میں آنسو پھنسانے لگے
“کیا کیا تم نے…..تم مجھ سے کرید کریدکر وہ سوال پوچھتی رہیں….وہ سب….وہ سب…جو سچ بھی تھا…..اور جو جھوٹ بھی تھا …..تم مجھ سے کیوں وہ پوثھتی رہیں….تم… تم تو کہتی تھی کہ تم میرے ملک کے بارے میں مجھ سے ذیادہ جانتی ہو….وہاں کے میدان’ پہاڑوں ‘سمندروں’موسموں’تاریخ کے بارے میں ….اتنا کچھ جانتے تم بے وہاں کے لو گوں کے بارے میں کیوں نہ جانا….تم نے یہ جاننا کیوں ضروری نہ سمجھا کہ مشرقی لڑکیوں کا جھوٹ کیسا سچ ہوتا ہے……سچ کو کیسے خفیہ تابوتوں میں لپیٹ کر مدفن کیا جاتا ہے کہ کوئی انکی خوشبو نا پا لے…..ویرا تم تو کہتی تھی تم مجھے جانتی ہو ….اب تم مجھے کیوں نہ سمجھیں…..میں تو تمہاری دوست تھی…..”
ویرا کو” دوست تھی” کے لفظ کی ادائیگی نے تکلیف دی…….
“تم میری دوست ہو امرحہ..!اسی لیے مجھے وہ سب برا لگا جو تم نے عالیان سے کہا اور اس کی لیے سوچا…. تم نے اسے انکار کیا…..”
“انکار!”امرحہ کر پھر سے زیرآب دہرانا پڑا.”تمہیں چند سال ہمارے معاشرے میں گزارنا ہوں گے ویرا….میرے خاندان میں میرے بابا ‘اماں’ ان سب کے ساتھ ….امرحہ کی جگہ آ کر…. کسی بھی مشرقی لڑکی کی جگہ آ کر… تم سمجھ جاو گی ….انکار کیوں ضروری ہو جاتا ہے.”
“میں نہیں جانتی یہ سب..سب بے بنیاد باتیں ہیں……”
امرحہ ایسے استہزائیہ ہنسی کہ ویرا کو،سب جواب مل گئے جیسے۔۔وہ میرا دوست تھا ویرا۔۔۔ باتیں کرنے کے لیے ہمارے پاس ایک وقت تھا۔۔۔
وہ دوست بنانے کے لیئے جائز ہے۔۔۔ وہ لائف پارٹنر بنانے کے لیئے ناجائز کیوں ہے؟؟؟
میں نے اس کی بے عزتی کر دی۔۔۔ وہ مجھ سے ناراض ہو گیا ہے۔۔۔
تمہیں اسکی ناراضگی کی فکر کیوں ہے۔۔۔؟؟؟
وہ مجھے ناپسند کرے گا اب۔۔۔وہ مجھے منافق سمجھے گا۔
تم نے منافقت کی ہے۔۔۔
میں نے منافقت کی ہے۔۔؟؟
سرگوشی کی صورت اس نے خود سے سوال کیا۔۔۔ اور ملنے والے جواب نے اسے شرمندہ کردیا۔
وہ تمہارا دوست ہے تو ٹھیک ۔۔۔ کچھ اور بنے تو غلط۔۔۔ ایک ہی انسان کو اچھا اور برا بنا رہی ہو۔۔۔
منافقت نہیں ہے کیا یہ۔۔۔
وہ تمہیں برا سمجھے گا۔۔۔
تمہیں اس بات کا خوف ہے اور تم اسے برا سمجھتی رہیں۔۔۔
تم نے میرے ساتھ ٹھیک نہیں کیا ویرا۔۔۔!
تم نے خود اپنے ساتھ ٹھیک نہیں کیا امرحہ۔۔۔
اسی لیے کہتی ہوں عقل سے۔۔۔
عقل ہے میرے پاس۔۔۔۔ لیکن اس عقل سے پہلے خوف ہے۔۔۔ بڑا۔۔۔ ہیبت ناک، اژدھا جیسا۔۔۔
اس خوف کو دوبارہ۔۔۔ برف میں دھنسا دو اسے۔۔۔
امرحہ کو خاموش ہوجانا پڑا۔
اسے حد درجہ تکلیف پہنچی ہے تو وہ یوں گم ہوگیا ہے نا۔۔۔؟؟؟
اسکے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔ جس وقت امرحہ سے وہ سب باتیں کررہی تھی، اس وقت اسے گمان بھی نہیں تھا کہ صورتحال ایسی ہو جاے گی…. یہ ٹھیک تھا کہ وہ امرحہ کے انداز اور سوالات اور جوابات سے چڑتی چلی گئی اور اس پر سوالات کی بو چھاڑ کر دی اور اس دوران وہ یہ بھی بھول گئی کہ کارل یہ سب سن رہا ہے…. کارل نے اس سے کہا تھا کہ عالیان کے ساتھ کچھ تو ایسا ہوا ہے کہ وہ اس قدر اپ سیٹ ہے……اور یہ بات امرحہ سے بہتر کوئی نہیں بتا سکتا تھا کیونکہ اب تو سب ہی جان گئے تھے کہ عالیان کیسے سائے کی طرح امرحہ کے پیچھے پیچھے رہا کرتا تھا…….
“عالیان ٹھیک ہوگا امرحہ. … وہ واپس آ جائے گا……وہ پڑھا لکھا ہے ایسی ویسی کوئی حرکت تو نہیں کر سکتا نا…….”
امرحہ نے جیسے سنا ہی نہیں…وہ اپنے بستر میں گھس گئی اور خود کو لحاف میں دبا لیا……ویرا کمرے سے چلی گئی تو وہ لحاف سے نکلی….اب وہ جہاں بھی ہو گا. …….کتنا بھی ٹھیک ہو گا…….لیکن تکلیف سے انجان تو نہیں ہو گا وہ کتنا بھی بہادر ہو گا ایک بار تو ٹوٹا ہو گا………اس نے محبت کی تھی ………اس نے اقرار کیا …..اور اسے دھتکار دیا گیا……
اس کا سارا علم بھی اسے یہ سمجھا دینے سے قاصر رہا ہو گا کہ اسکے ساتھ جو ہوا’ اس میں اس کا کوئی قصور نہ تھا……
مزید دو دن گزر گئےعالیان یونیورسٹی نہیں آیا۔ وہ ہال بھی نہیں گیا ۔ کارل ایک بار پھر اسے سنجیدگی سے دھمکا گیا تھا…. ویرا نے وہ ریکارڈنگ لا دی تھی جو ہارٹ راک میں چلائی گئی تھی …. ساری رات امرحہ وہ اس ریکارڈنگ کو سنتی رہی تھی …. وہ عالیان کی جگہ خود کو کھڑا کر لیتی اور امرحہ کا ہتک آمیز تلخ انداز سنتی…..اور بے مول ہو جاتی………
عالیان کی جگہ…….عالیان کی جگہ وہ کبھی بھی نہیں آسکتی تھی…. اسکے لیے باغ سے پھول توڑ کر لاتا ہوا…. ہزاروں کے مجمع میں اسے پہچان کر اس کے پاس آنے والا…. صرف اسکے پاس…..بہانے بہانے سے اسکے ساتھ رہنے والا…..
“وہ تمہیں لائبریری میں ملے گا ورنہ کہیں نہیں…”
“اب یہ تمہیں امرحہ کے پاس ملے گا ورنہ کہیں اور ہرگز نہیں .”
اس کی آنکھوں کی پہیلی بوجھ لینے والا…..عالیان…..
اسکی پیدائش کے بعد سے اس سے سب دور دور رہنے والے تھے.دادا کے بعد ایک وہی تھا جو بھاگ بھاگ کر اسکے پاس آتا تھا.تھا کیا امرحہ میں کہ وہ اس کے لیے ایسا مقناطیس بن چکی تھی….وہ اس سے خفا نہیں ہوتا تھا ……وہ اس پر خفا نہیں ہوتا تھا… وہ اسکی باتوں پر ایسے ہنستا تھا جیسے ہنسانا اسنے ابھی ابھی اسکی باتیں سن کر سیکھا ہے…..
اسکی اگلے دن بھی وہ یونیورسٹی نہیں آیا تھا….جاب پر جانے سے پہلے وہ ہارٹ راک کیفے آ گئی … اسکے پوچھنے پر اسے بتایا گیا کہ وہ اندر اپنی ڈیوٹی پر ہے.
“میں اس سے ملنے چاہتی ہوں….میرا نام امرحہ ہے… آپ اس سے کہہ دیں.”اسنے کاونٹر بوائے سے کہا
کاونٹر بوائے واپس آیا تو اسکا منہ دیکھنے لگا
“کیا وہ آ رہا ہے؟”امرحہ کو خود پوچھنا پڑا
“معلوم نہیں…. وہ تو خاموشی سے مجھے دیکھنے لگا کوئی جواب ہی نہیں دیا….”البانوی کاونٹر بوائے اپنے کام میں مصروف ہو گیا.
“میرا نام بتایا ..؟”امرحہ کو یقین تھا وہ ٹھیک تلفظ سے اسکے نام کی ادائیگی نہیں کر سکا ہو گا
البانوی کو جیسے بڑا لگا .”ظاہر ہے”
امرحہ نے گھٹن ذدہ سانس لیا.اسے اپنے دل کی کھال سکڑتی ہوی محسوس ہوئی.
“مطلب کہ وہ نہیں آ رہا “لیکن شاید آ جائے….”وہ ہارٹ راک سے باہر آ گئی… وہ اپنی جاب پر جائے یا نہ جائے شاید عالیان باہر آ جائے….ابھی بس کچھ ہی دیر میں……
وہ ہارٹ راک کے باہر کھڑی ہو گئی…اپنے وکٹ کی جیبوں میں ہاتھ دیے…..مفلر کے کونے سے آنکھوں کی نمی کو صاف کرتے ….بے بسی سے پرنٹ ورک کے میلے کو دیکھتے ‘اور حیرت زدگی سے ہنستے مسکراتے چہروں کی مسکراہٹ پر دکھ کا اظہار کرتے اس نے خود کو پایا….کھڑے کھڑے اس پر کئی موسم آ کر گزر گئے…..
ایک گھنٹہ گزر گیا…
عالیان باہر نہیں آ رہا تھا ……یعنی وہ نہیں آنے والا تھا….اس نے اپنے اسٹور فون کیا کہ وہ نہیں آ سکتی جاب پر….وہ چھٹی نہیں کرتی تھی.ایسے پہلی بار فون کر کے اس نے کہا.
منیجر نے تشویش سے پوچھا”تم ٹھیک ہو….گرم خطے کے لوگوں کو ٹھنڈ کا بخار جلدی چڑھتا ہے.”
اسکا منیجر ایک نیم مزاحیہ انسان تھا وہ کسی نا کسی طرح ہر بات میں مذاق کا پہلو ضرور نکال لیا کرتا تھا.
“نہیں بخار نہیں ہے..”اس نے بمشکل کہا.
“بخار نہیں ہے تو آ کیوں نہیں رہیں…کیا گھر کی یاد کا نزلہ ہوا ہے.”
“وہ میرے درد ہے….”
“درد ہے …..سر میں؟”امرحہ کے انداز پر وہ سنجیدہ ہوا.
“ہاں …..نہیں….بس درد بہت ہے…..”اسنے جھٹ فون بند کر دیا.
کراس بیگ کی اسٹریپ میں ہاتھ دیئے وہ ٹہلنے لگی’بہت سے ہائے ہیلو دوستوں نے رک کر پوچھا کہ وہ وہاں ایسے کیوں کھڑی ہے….اندر کیوں نہیں آ رہی …. یا جا کیوں نہیں رہی…..
وہ شرمندہ ہو رہی تھی بہانے بناتے’بناتے’جھوٹ بولتے…..لیکن ظاہر ہے یہ شرمندگی ‘اس شرمندگی کے آگے بہت معولی تھی جو اسی کیفے میں عالیان نے جھیلی ہو گی….پہلی بار تھپڑ اور دوسری بار تذلیل۔۔۔
اور پانچ گھنٹے بعد وہ باہر آیا….وہ …..اگر عالیان مارگریٹ ہی تھا تو…امرحہ کو پہچاننے میں کچھ وقت لگا…..اسکی شبیہ وہی تھی……وہی ناک نقشہ ‘وہی صورت…..پھر بھی وہ عالیان نہیں تھا ….. وہ شرط لگا لیتی اور جیت جاتی وہ عالیان ہو ہی نہیں سکتا تھا……….
اسکی آنکھوں میں سرے اندھیرے آں بسے تھے……وہ عالیان ہوتا تو ایسے اندھیروں کو اپنے اندر پڑاؤ کی اجازت دیتا؟نہیں کبھی نہیں….باہر نکلتے ہی اس کی نظر امرحہ پر پڑی’اور وہ پھر بھی نہیں رکا……دیکھا وہ عالیان نہیں تھا…..رات کے اس وقت…. ایسے امرحہ کو انتظار کی حالت میں کھڑا دیکھ کر بھی وہ نہیں رکا تھا….تو وہ عالیان کیسے ہو سکتا تھا…..؟
“عالیان!”اسے لپک کر اس تک جانا پڑا.
اس نے کرنے پر تامل کیا اور امرحہ کو ایسے دیکھا جیسے کہتا ہو.
“خاتون میں اچھے مزاج کا مالک انسان نہیں رہا….مجھ سے دور رہیں……مجھ سے دور رہا جائے…………”
اسکے قریب جا کر امرحہ کو اس سے ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑا… اسکے اعصاب ایسے تنے ہوئے اور ٹھنڈا کر دینے والے کیوں ہیں….. روشنی جو اسکے وجود سے آر پڑا ہوئی لگتی تھی وہ کہاں ہے…….. . اسکے آس پاس اندھیرا کیوں ہے…..وہ تو عالیان سے بات کرنے آئی تھی….. وہاں کہیں عالیان تھا ہی نہیں تو اب وہ کس سے بات کرے….. اور.. اب وہ روشنیاں منعکس کرتے عالیان کو کہاں ڈھونڈے…..
“تم کہا تھے؟”جس شدت سے وہ اس سے پوچھنا چاہیے تھی’اس شدت سے نہ پوچھ سکی’سوال اسنے پوچھا تھا جبکہ سوالیہ وہ اسے دیکھنے لگا تھا.
“میں بہت دیر سے یہاں کھڑی انتظار کر رہی ہوں.”اسنے اس بات کو جان بوجھ کر اس انداز میں بتایا کہ ترس کھا کر پرانا عالیان واپس آ جائے.
“کس کا انتظار کر رہی تھیں؟”
سوال میں لپیٹ کر کیا جواب دیاتھا اسنے’وہ ابھی بھی لاجواب کردینے پر قدرت رکھتا تھا۔ امرحہ اس کی شکل دیکھتی نہ رہ جاتی تو کیا کرتی۔۔۔؟
ویرا اور کارل نے مل کر۔۔۔ عالیان۔۔۔ وہ سب۔۔۔ کارل نے اپنی مرضی سے ایڈیٹنگ کی۔۔۔
میں جانتا ہوں۔۔۔
تم پھر بھی مجھ سے ناراض ہو۔۔۔؟ وہ پھر سے یہ پوچھنے کی جراُت نہ کرسکی کہ تم کہاں چلے گئے تھے اور کیوں؟
نہیں۔۔۔ ناراض ہونے کےلیے وجہ کا ہونا ضروری ہے۔۔۔ تمہارے اور میرے درمیان اب کوئی وجہ نہیں رہی۔ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا، امرحہ کے قرب سے دور ہوجانے کی آج اسے کتنی جلدی تھی۔
جو “ہم” کہہ چکا تھا، اب وہ تم اور میں کہہ رہا تھا،۔۔۔
عالیان! میری بات سنو ۔ وہ اسکے پیچھے لپکی۔۔۔
وہ سب ویسے نہیں تھا۔۔۔ وہ تو۔۔۔
کیا سب ویسے نہیں تھا۔۔ جو تم نے کہا وہ سب۔۔۔ کیا وہ سب تم نے نہیں کہا تھا؟
میں نے کہا تھا لیکن۔۔۔
تو تم کس بات کی وضاحت کے لیے اس وقت یہاں کھڑی میرا وقت برباد کررہی ہو۔۔۔؟؟
یکدم خون نے اپنی رفتار کو خطرناک حد تک بڑھا کر خود کو جامد کرلیا۔۔۔ امرحہ اسے اسی جامد حالت میں سن سی دیکھتی رہ گئی۔۔۔ اسکی قسمت خراب۔۔۔ بہت زیادہ خراب کہ وضاحت وہ اب بھی نہیں دے سکتی تھی۔۔۔ اتنی ذہین تھی ہی نہیں۔۔۔ اتنی بہادر تو کبھی بھی نہیں رہی تھی۔۔۔ اب وہ کسی بھی چال پر کوئی بھی پتا پھینکنے کی بازی مات ہی رہنے والی تھی۔۔۔
میری ماں ایک بری عورت تھی۔۔۔ ایک آزاد معاشرے کی دلدادہ۔۔۔ گناہ گار اخلاقی مذہبی حدود کو پھلانگنے والی اور کیاکیا کہتے ہیں تمہارے مشرق میں ایسی عورت کو۔۔۔ جو تم بھول جانے کی وجہ سے کہہ نہ سکتی ہو۔۔ لو اب کہہ لو۔۔۔ میں سن رہا ہوں۔۔ اس نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ لیے اور مکمل فرصت اور کامل توجہ سے امرحہ کو دیکھنے لگا۔
ہارٹ راک کیفے کے آس پاس۔۔۔ اتنے بڑے دی پرنٹ ورک کی حدود کے اندر کھڑے امرحہ کو کوئی ایک پرنٹ ورک کی حدود کے اندر کھڑے امرحہ کو کوئی ایک بھی چیز ایسی نہ ملی، جس پر وہ اپنی نظریں ٹکاسکتی۔۔۔
میں جانتا تھا کہ میں کسی خاندان کا حصہ نہیں ہوں۔۔۔ میرا کوئی باپ نہیں ہے۔۔۔ لیکن اس حقیقت سے صحیح معنوں میں مجھے تم نے روشناس کروایا۔
وہ خاموش ہوا۔۔۔
امرحہ نے چاہا کہ وہ خاموش ہی رہے اگر وہ ایسے ہی بولتا رہا تو وہ اپنی باقی ماندہ زندگی کیسے گزارے گی۔
مجھے اتنا خراب سمجھتی تھیں تم۔۔۔ مجھے ترس آتا ہے خود پر، جب جب میں یہ سوچتا ہوں کہ تم اتنی ناپسندیدگی اپنے اندر رکھ کر مارگریٹ جیسی عورت کے بیٹے سے ملتی رہیں۔ تم واقعی ایک انسان دوست لڑکی ہو۔۔۔ بہت رحمدل۔۔۔ جو کسی کو کتنا بھی ناپسند کرے اس پر ظاہر نہیں کرتی۔۔۔ تم نے مجھ پر بھی ظاہر نہیں ہونے دیا۔۔۔ لیکن شکریہ کارل کا۔
جو تم نے سن لیا وہی سب نہیں ہے۔۔۔ عالیان کو دیکھے بغیر اپنے آنسو روک کر اس نے کہا۔
جتنا سن لیا ہے اس نے میرے لیے میرا سب ختم کردیا ہے۔ میں ایک ناجائز بچہ ہوں۔۔۔ ناجائز۔۔۔ میری ماں ایک بری عورت تھی جو تم کہہ چکیں وہ بھی اور جو تم نہیں کہہ سکیں وہ بھی میں سب سن چکا ہوں۔۔۔ سمجھ چکا ہوں۔۔۔میرا مذہب کیا ہے۔۔۔ میں عیسائی ہوں، یہودی یا کچھ بھی نہیں۔۔۔ میں وضاحت دینا مناسب نہیں سمجھتا اور تمہیں تو بالکل بھی نہیں۔۔۔ عالیان! اس کے آنسو نکل ہی آئے اور آواز رندھ گئ۔۔۔ اور اسکی آواز نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا۔۔۔ عالیان کے آگے وہ کچھ بول ہی نہیں سکی اور اس نے جانے کے لیے قدم آگے بڑھا دیے۔۔۔
“تم مسلمان ہو”۔ امرحہ نے تیزی سے اسکے آگے آکر کہا۔
جب میرے باپ کا ہی نہیں پتا تو میرے مذہب کا کیسے پتا ہوگا۔۔۔ اور اگر میں مسلمان ہوں بھی تو تم جتنا اچھا مسلمان نہیں ہوں۔۔۔ میں نے بہت ایسی رپورٹیں اور فیچر پڑھے ہیں، جنکے مطابق کسی غیر مسلم کے اسلام کو اپنا لینے پر اسے مسلمان تو مان لیا جاتا ہے لیکن معاشرے میں اسے وہ درجہ نہیں دیا جاتا جو ایک پیدائشی مسلمان کو دیا جاتا ہے۔۔۔ ایک عربی تاجر نے ایک نومسلم کو اپنے ساتھ کھانا کھانے کی اجازت تو دے دی لیکن، تاجر کے خاندان میں شادی کی خواہش کے اظہار پر اسے ملک بدر کروادیا۔۔۔ مجھے پوچھ لینے کی اجازت دو تم کہ تم سب لوگ جائز۔۔۔ اچھے شریف خاندان والے۔۔۔ نیک بیویوں والے۔۔۔ تم کتنے اچھے مسلمان ہو۔۔۔ تم حلال فوڈ کھاتے ہو۔۔۔ حرام سے پرہیز کرتے ہو۔۔ تم جنکے اسلامی نام ہوتے ہیں۔۔۔ دور دور تک جنکی نسلوں میں کسی مشرک کا خون شامل نہیں ہوتا۔۔۔ کتنے اچھے مسلمان ہوتے ہو۔۔۔؟؟؟
ہاتھ باندھے عالیان اسکے معاشرے پر طمانچے مار رہا تھا۔ وہی معاشرہ جہاں امرحہ کو منحوس ہونے کا لقب ملا۔ وہ اتنے اچھے مسلمان تھے کہ اسکی پیدائش کو لے کر توہمات کا شکار تھے۔ اور کوئی ایک دو نہیں۔۔۔ ہر ایک سے۔۔۔ جس سے اسلام نے سختی سے منع کیا تھا۔
اسکے خلاف وہ سختی سے عمل پیرا تھے۔ اسکے ماموں جو کئی حج کر چکے تھے انہوں نے اسکی نحوست کی وجہ سے اپنے بیٹے کے لئیے اسکا رشتہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اور اسکی دادی جو تہجد گزار تھیں، اور فارغ وقت میں تسبیح پڑھا کرتی تھیں، وہ اسکی موجودگی میں کوئی خوشی کی بات نہ کیا کرتی تھیں کہ مبادا خوشی دکھ میں نہ بدل جائے۔
اسکے کئی خالہ زاد، ماموں زاد، خاندان کی تقریبات میں چھپ کر____ پیا اور پلایا کرتے تھے۔۔۔
امرحہ کے بھائی جنہوں نے رمضان کے علاوہ بھی نماز کی ادائیگی نہیں کی تھی۔ انہیں سنت اور فرائض کے بارے میں برائے نام معلومات تھیں۔۔۔ اور یونیورسٹی کے مشرق وسطیٰ اور دوسرے خطوں کے مسلمان لڑکے لڑکیاں جو آزادانہ کلبوں اور باروں میں جاتے، ناچتے، گاتے شراب نوشی کرتے۔
وہ خاندان کی حیثیت سے ایک فرد کی حیثیت سے کسے مثال بناکر پیش کرتی کہ دیکھو کتنے اچھے مسلمان ہیں۔۔۔ وہ قوم کے نام پر کس قوم کو اسکے آگے کرتی کہ دیکھو ہم کیسے کامل ہیں۔۔۔ ہمارے ظاہرو باطن میں تضاد نہیں ہے۔۔۔ یا چھوٹی موٹی برائیاں الگ، لیکن ہم کوئی بڑی برائی نہیں ہے۔۔۔ ایک جائز بچہ جو مسلمان خاندان میں پیدا ہوتا ہے وہ شراب پیے۔ حرام کھائے اور تمام مزہبی اصولوں کو توڑ ڈالے، پھر بھی وہ ایک “مسلمان” ہے کیونکہ ول تو ایک مسلمان خاندان میں پیدا ہوا ہے دوسرا وہ “پیدائشی” مسلمان ہے۔
میرے دادا ایک اچھے انسان ہیں۔۔۔ اچھے
مسلمان۔ مثال بناکر پیش کرنے کے لیے اسکے پاس صرف ایک دادا ہی تو تھے۔
عالیان نے اسے ایسی نظر سے دیکھا کہ امرحہ جان پائی کہ بنا ایک لفظ کہے افسوس کا اظہار کیسے کیا جاتا ہے۔۔۔ اس نے جانا اگر دادا اتنے ہی اچھے ہیں تو وہ کیوں ان جیسی اچھی نہیں ہے۔۔۔ عالیان نے اس ایل نظر میں اتنا کچھ کہہ دیا کہ امرحہ پر چپ کا گہرا تالا لگ گیا۔
مجھے تم پر یہ ثابت نہیں کرنا کہ میں کتنا اچھا انسان ہوں۔۔۔ برائے نام ہی سہی اپنا ماضی بھی مجھے تم پر نہیں کھولنا۔۔۔ کیونکہ اسکی ضرورت ہی نہیں رہی۔۔۔ کیوں نہیں رہی یہ تم بہتر جانتی ہو۔۔۔ اب تم ایل کام کرنا۔۔۔ جو مجھے بھی کرنا ہے یونی میں۔۔۔ مانچسٹر میں کوئی عالیان نہیں ہے۔۔۔ میں تمہیں نہیں جانتا۔۔۔
وہ ایسی باتیں کرنا بھی جانتا ہی تھا۔۔۔
جسکے لیے وہ “سب” تھی اب وہ اسکے لیے “کوئی امرحہ” نہیں ہونے کا اعلان کررہا تھا۔
تف ہے نا محبت پر جو اپنی پیشانی پریان کے پتے کا نصیب کند کروا لیتی ہے کھایا۔۔۔ چبایا۔۔ تھوک دیا۔
محبت شروع ہونے میں وقت لیتی ہے، ختم ہونے میں کیوں نہیں لیتی۔۔۔؟ یہ محبت ہوجانے کے بعد خود کو مہر بند کیوں نہیں کرلیتی۔۔۔ سختی سے کسی مضبوط تابوت میں۔۔۔ فرعونوں کے خفیہ معبدوں کی مانند۔۔۔ زمین کی تہوں میں جگہ بدلتے قارون کے خزانے کی طرح۔۔۔
یہ محبت اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں اتنے دشمن لیے کیوں چلتی ہے۔؟
یہ بجھ بجھ کیوں جاتی ہے۔۔۔ صرف روشن، روشن، روشن ہی کیوں نہیں رہتی۔۔۔
اس دیپ کی لو اوپر ہوائیں نحس جادوگرنیوں کی طرح کیوں منڈلاتی پھرتی ہیں۔۔۔اپنی راجدھانی میں یہ ایسے دشمنوں کو جگہ کیوں دیتی ہے۔۔۔؟ اگر ایسی ہی بات ہے پھر تو جیسے کوئی بات ہی نہیں۔۔۔
اگر یہی سب ہے تو بس پھر کچھ بھی تو نہیں ہے۔۔۔
ہاں کچھ بھی تو نہیں، عالیان جارہا ہے۔۔۔ اسکے آگے۔۔۔ اس سے دور۔۔۔ مگر وہ ایسے چل رہا ہے جیسے اپنے مرکز سے بچھڑ چکا ہو۔۔۔ اسکے وجود میں جڑ پکڑ چکے ارتعاش کو کم بینائی والے بھی دیکھ سکتے ہیں۔۔۔
چال کو مضبوط بنانے کے لیے اسے تردد کرنا پڑ رہا ہے۔۔۔
گھوڑے کا شہہ سوار منہ کے بل زمین پر گرا ہے۔۔۔ اس کا وجود اس خاک سے اٹا پڑا ہے جسے سوار تا عمر اپنے وجود سے جھاڑ نہیں پاتا۔۔۔
#وہ_شدت_سے_مانگی_جانے_والی_دعا_کو_درمیان_میں_ہی_چھوڑ_دیے_جانے_کی_عملی_صورت_لگ_رہا_تھا۔۔۔😢
اسکے وجود سے پھوٹتے سب ہی اشارے پاتال کی طرف بڑی وضاحت َے ایستادہ تھے۔
امرحہ وہیں کھڑی اسے دیکھتی رہی۔۔۔
وہ چلا گیا تب بھی۔۔۔ جانا تو اسے بھی تھا بس وہ قوت جو چلنے، پھرنے، بولنے کے لیے ضروری ہوتی ہے وہ قوت وہ ساتھ لے گیا تھا۔۔۔ عالیان مارگریٹ۔۔۔ وہ کیسا انسان تھا۔۔۔ وہ اسکی جان نکال کر لے گیا تھا۔۔۔ کیا وہ ایسا ہی تھا۔۔۔ کتنا برا تھا وہ۔۔۔ بہت برا۔۔ اسے بس سے واپس گھر آنا تھا۔۔ لیکن وہ پیدل چلنے لگی۔۔ منہ سے بھاپ نکالتے۔۔۔ پیروں کو برف پر گھسیٹتے۔۔۔۔
اگر انکے درمیان یہ سب نہ ہوچکا ہوتا تو اس وقت اسکے ساتھ، اسکے پیچھے، اسکے پہلو میں عالیان چل رہا ہوتا۔۔۔ جو اسکے ساتھ رہنے کے لیئے فضول فضول بہانے گھڑ لیا کرتا تھا۔
امرحہ نے دونوں ہاتھ رگڑے کتنی ٹھنڈ تھی مانچسٹر میں۔۔۔ اف۔۔۔ اتنی ٹھنڈ۔۔۔ اتنی ٹھنڈ کہ وہ زندہ کو مردہ کر رہی تھی۔۔۔ ایسا غضب کا موسم۔۔۔ جو زندوں کو مردہ کردے۔۔۔ ایسے موسم سے خدا بچائے۔۔۔
ایسے موسم سے خدا کی پناہ۔۔۔
گھر آتے ہی اس نے ویرا کے کمرے کے دروازے کو دھکے سے کھولا۔ ویرا لیپ ٹاپ پہ بیٹھی کام کر رہی تھی۔۔۔ اس نے آگے بڑھ کر ایک زناٹےدار تھپڑ اس کے گلابی گال پر دیا۔
تم نے میرے ساتھ بہت برا کیا۔۔۔ جو میں نہیں چاہتی تھی، وہی ہوا۔۔۔ وہ مجھ سے نفرت کرنے لگ گیا ہے۔۔۔ وہ پوری شدت سے دھاڑی۔
گال پر ہاتھ رکھ کر ویرا اسکی سرخ آنکھوں کو دیکھنے لگ گی۔
مجھے نہیں معلوم تھا امرحہ کہ یہ سب ایسے۔۔۔ اتنا پچیدہ ہو جائے گا۔ ویرا نے اسے شانوں سے تھام کر کرسی پر بیٹھانا چاہا لیکن وہ کارپٹ پر ڈھیر ہوتی چلی گئ۔
تم تو میری دوست تھیں۔۔۔ اب تم نے کسی کو بھی میرا دوست نہیں رہنے دیا۔
امرحہ۔۔۔ ویرا بری نہیں ہے۔ تم۔۔۔ ویرا اسکے قریب بیٹھ گئی۔۔۔
تم بری نہیں ہو۔ پر میرے ساتھ تو برا کردیا نا۔۔۔ کردیا نا برا۔۔۔ اب اچھا کون کرے گا۔

Read More:   Mirwah ki Raatain Novel by Rafaqat Hayat – Episode 1

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply