Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 26

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 26

“وہ پھر سے تمہارا دوست بن جائے گا امرحہ!”
“دوست۔۔۔۔ اب میں مانچسٹر میں ہوں یا نہ ہوں’ہوں’اسے اس بات دے بھی فرق نہیں پڑے گا اور تم دوست ہونے کی بات کر رہی ہو۔۔ وہ میرا دوست بھی نہیں رہا ایسی باتیں سن کر کون کسی کو دوست رکھے گا۔”
“وہ غصے میں ہے امرحہ! غصے میں انسان بہت کچھ بول کہہ جاتا ہے۔”
“صرف غصہ نہیں تھا’کاش میرا ہی ہو۔ یہ صرف غصہ ہی ہو ۔۔۔”
“کیا تم اس سے محبت کرتی ہو؟”
ویرا نے ہاتھ کی پشت سے اسکی آنکھیں صاف کیں۔
امرحہ ویرا کی شکل دیکھنے لگی ۔ اور خاموش رہی۔
“تم اس سے محبت نہیں کرتیں۔۔۔ نہیں کر سکتیں’تمہیں اسکی دوستی کی قدر تھی اور یقین جانو امرحہ! میں نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ تم اس کے بارے میں ایسے سوچتی ہو گی۔ میری غلطی بالکل ہے۔ لیکن بے قصور تم بھی نہیں۔۔ ”
امرحہ جانتی تھی کہ ویرا ٹھیک کہہ رہی ہے۔
“ابھی وہ ناراض ہے۔۔۔ زیادہ دیر تک تم سے ناراض نہیں رہ سکے گا۔ تم دونوں پھر سے دوست بن جاو گے’پھر سے۔۔۔”ویرا دھیمی آواز میں اسے سمجھا رہی تھی اور وہ ویرا کی باتیں ایسے سن رہی تھی۔ جیسے یہی آخری تریاق نچا ہو اسکے لیے۔ خوش فہمیاں اور تالیاں۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں آ گئی اور چپ چاپ بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی.رات کا دوسرا پہر بھی بیت گیا۔ وہ ویسے ہی گم صم بیٹھی رہی۔۔۔۔ اس میں حرکت کرنے کی جستجو نہ رہی تھی’زندگی اس میں صرف سانس کی صورت باقی تھی’ایک چہرہ اسکی آنکھوں کے آگے گھوم رہا تھا۔۔۔الفاظ اسکی ذہن میں پھرکی کی صورت چکرا رہے تھے۔
رات کا آخری پہر شروع تھا۔۔۔ وہ اٹھی اور الماری تک آئی۔۔۔ اس نے بہت اندر تقریبا چھپا کر رکھے ایک باکس کو نکالا۔۔۔ اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اسکے وجود میں ارتعاش تھا اس نے باکس کو کھولا۔
اور رات کے آخری پہر کا قصہ ہے
چھپا ہوا۔۔۔ چھپایا ہوا۔۔۔ سرمہربند۔۔۔ اس پر بات ابھی ممکن نہیں۔
آخری پہر کی پہلی بات ابھی نہیں ۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••
“اور خوش فہمی بڑے کام کی چیز ہے’یہ زندہ رہنے کے لیے کچھ اسباب بڑے اہتمام سے پیدا کر ہی دیتی ہے۔”ان خوش فہمیوں کو امرحہ نے گلے لگا لیا’مٹھی میں دبا لیا۔
دوسرا سمسٹر شروع تھا ‘اور جیسا کہ یونیورسٹی میں کہا جاتا ہے کہ اگر آپ نے پہلے سال یا پہلے سمسٹر میں چالیس فیصد رزلٹ حاصل کر لیا تو حقیقتا آپ نے تیر مار لیا۔۔۔۔ اور امرحہ نے یہ تیر مار لیا تھا اس نے ساٹھ فیصد نمبر حاصل کیے تھے۔
اور یونی میں مشہور ایک اور مقولے کے مطابق آپ کو پہلے سمسٹر میں یونی میں موجود سب اسٹوڈنٹس لائق فائق’ذہین فطین’آئن سٹائن’یونی پاسچر اسٹیفن ہاکنگ’رائٹ برادران یا الیگزنڈر گر اہم بل کے جان نشین یا لے پالک لگتے ہیں’جبکہ حقیقت میں ایسا ہوتا نہیں ہے۔گول فریم کی بڑی عینک لگائے اسٹیفن نظر آنے والا اور مکمل توجہ سے لیکچر کے دوران گردن ہلانے والا اسٹوڈنٹ دراصل ایک درمیانے درجے کا اسٹوڈنٹ ہے’جس کی حقیقت رزلٹ کے بعد کھلتی ہے.
یہ مقولہ بھی ٹھیک تھا ‘امرحہ کو اپنے علاوہ وہاں سب ذہین و فطین نظر آتے تھے.لیکن رزلٹ کے بعد اسکی غلط فہمی دور ہو گئی .وہ سب ذہین فطین اس سے تقریبا پیچھے ہی رہے تھے’یہ وہی لوگ تھے جنہیں فریشر فلو پوری آب و تاب سے چڑھا تھا.رات کو یہ خود سے “ایک گھنٹے”صرف ایک گھنٹے کا وعدہ کر کے نکلتے اور ساری رات گھوم پھر کر ‘ناچ گا کر ڈگمگاتے ہوئے صبح کی کتنوں کے ساتھ واپس آتے۔۔۔ اسکالرشپ جیت کر مانچسٹر یونی پڑھنے آئی تھی.ایگزامز کے دنوں میں امرحہ نے ایک دوبار اسکے ساتھ بھی گروپ اسٹڈی میں شرکت کی تھی وہ انتہائی بے ضرر اور ہر وقت مدد کرنے کے لیے تیار رہنے والی لڑکی تھی۔ اپنی معصومیت میں وہ۔۔۔ عالمگیر حیثیت اختیار کرچکی تھی کہ ولیم جو موقع ملتے ہی بیگز میں سے چاکلیٹس، کوکیز نکال لیا کرتا۔۔۔ منجلا کے نام ہر قسم اٹھا کر خود پر کیے جانے والے شبے سے جان چھڑواتا۔۔۔ بعد ازاں وہ منجلا کو ٹویٹ دیتا ہوا نظر آتا ۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ جھوٹی قسم کے ہرجانے کے طور پر۔۔۔ ضمیر کی آواز۔۔۔
امرحہ کی کارکردگی اچھے اسٹوڈنٹس کی طرح تسلی بخش رہی تھی اور ظاہر ہے وہ پروفیسر کی نظر میں آچکی تھی۔۔۔
سر رابرٹ نے یاد سے وہ کارڈز پڑھے جو پہلی کلاس کے دن انہیں لکھ کر دیے گئے تھےاور جس میں اپنے موٹوکے نیچے انہوں نے خود کو سو فیصد کا چیلینج دیا تھا۔ سر رابرٹ نے جو طنز کیے وہ سننے سے تعلق رکھتے تھے۔ جیسا کہ انہوں نے ہیگ کا کارڈ لہرایا۔۔
ہیگ ہو یونی میں ہر ایک کو کمپیوٹر گیمز کے چیلینج دیتے ہوئے ہایا جاتا تھا۔۔ دنیا کی شاید ہی کوئی ایسی گیم ہوگی جس میں اس نے رات دن لگا کر ریکارڈ نہیں بنایا ہوگا۔
تم ماسٹرز ان انگلش لٹریچر کیوں کر رہے ہو۔۔۔ تھری ڈی میں ہی کوئی ڈگری لے لو۔۔۔۔ بہت نام اور پیسہ کماتے ہیں تھری ڈی گیمز ڈیزائنر۔۔۔ اسکی شکل پہ بے چارگی چھا گئ۔
طنز نہ کرو اوامرا۔۔۔ مجھے تو خود نفرت ہے اس سب سے۔۔۔ لیکن کیا کروں یہ لت جان ہی نہیں چھوڑ رہی۔۔۔ تمہارے پاس کوئی ترکیب ہے اس سے جان چھڑانےکی۔۔۔
امرحہ۔۔۔ امرحہ سمجھ میں آیا۔۔۔ تمہاری دیکھا دیکھی بہت سوں نے مجھے اوامرا کہنا شروع کر دیا ہے۔۔۔
تم اپنا لیپ ٹاپ توڑ ڈالو۔۔۔ امرحہ نے اوامرا کا غصہ نکالا۔۔۔ نہ رہے گا لیپ ٹاپ نہ کھیلو گے گیمز۔۔۔
کیا ہمیشہ ہی تمہارا دماغ ایسے شاندار انداز سے کام کرتا ہے۔۔۔ اوامرا؟
چلتا تو نہیں تھا لیکن تم سب کے درمیان آکر چلنے لگا ہے۔ ہوہیگا۔۔۔
یہی ہوہیگا چھوٹی سی مانو بلی کی طرح آنکھیں جھپکتے اپنی چئیر پر خود کو کس طرح سے غائب کرنے کی کوشش میں تھا۔ اور ظاہر ہے وہ ناکام تھا۔
ہیگ۔۔۔ چیلنج سو فیصد۔۔۔ موٹو۔ ایسے پڑھنا ہے کہ حیران کردیناہے۔
ویل ہیگ آپ کامیاب رہے۔ ہم سبکو حیران کر دیا آپ نے۔۔۔ ہیگ کی حیران کن سو فیصدی کارکردگی پر پلیز ٹیبل بجائے جائیں۔
زور و شور سے ٹیبل وقفے وقفے سے بجتے رہے
جنکے رزلٹ اچھے رہے تھے ان کے کارڈز پر روشن ستارے بنا دیے گئے تھے۔
تمہیں عالیان پڑھاتا رہا ہے نا۔۔۔ شکل سے تو تم لوئر مڈل کلاس سے بھی نیچے کی مخلوق لگتی ہو۔۔۔ اردو میڈیم میں پڑھتی رہی ہو ایسا رزلٹ لینا تمہارے بس کی بات تو نہیں تھی پھر۔۔۔؟ شزاء نے اپنی ری بونڈ بھنووں کو کسی مستول کی طرح تان کر پوچھا۔
ٹھیک کہا میں اردو میڈیم میں ہی پڑھتی رہی ہوں، اچھا ہوتا تم بھی پڑھ لیتیں۔۔۔ تو تمہارا شمار بھی چالیس فیصد والوں میں نہ ہوتا اور تمہیں کس نے کہا کہ عالیان مجھے پڑھاتا رہا ہے۔۔۔؟؟؟
پتا نہیں پاکستانی اردو میڈیم میں پڑھنے کو گالی کیوں سمجھتے ہیں۔ انگریز تو انگریزی پڑھنے میں ہتک محسوس نہیں کرتے۔۔۔ بلکہ انگریزوں کو اس وقت شرم آیا کرتی تھی جب انھیں خود پر جبر کرکے لاطینی پڑھنی پڑتی تھی۔
دوسری اقوام اپنی مرضی سے ساری دنیا کی زبانیں سیکھ لیں جہاں کوئی زبان ان کی زبان کی جگہ۔ینے کی کوشش کرے وہیں وہ اپنی واضح نا پسندیدگی ثابت کرکے اپنی زبان کے آگے ڈھال بن کر کھڑے ہوجائیں گے کہ دنیا کی کوئی زبان ان کی زبان سے اچھی ہے نا ہوگی۔
علی کامنز میں وہ گھنٹوں تمہارے پاس بیٹھا رہا کرتا تھا۔ ری بونڈ۔۔۔ بالوں کو شزا نے ہاتھ لگائے بغیر گردن کے جھٹکے سے شانوں سے پرءمے کیا۔
امرحہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔ یعنی پاکستانی خواتین دنیا کے کسی بھی کونے میں رہیں۔ خصلت “عظیم” ٹوہ پر دل و جاں سے نثار رہتی ہیں۔۔۔ کسی تمغے کی طرح سجائے۔۔۔ فخر و غرور سے سرشار پھرتی ہیں۔
وہ بزنس کا اسٹوڈنٹ ہے میں انگلش لٹریچر کی۔۔۔
وہ اتنا لائق ہے کہ پروفیسر سے اچھا انگلش لٹریچر پڑھا سکتا ہے۔
وہ اتنا لائق ہے، آخر سب کو کیسے پتا تھا۔
امرحہ دنگ سی رہ گئی۔
تم اس سے ٹیوشن لیتی رہی ہو؟ امرحہ پوچھے بنا دمرہ نہ سکی۔
تم اسکی جان چھوڑتیں تو وہ کسی اور کو ٹیوشن دیتا نا۔۔۔
ہونٹوں کے کونوں کو استہزائیہ اچکا کر وہ کڑوی گولی کی طرح بد مزا سی دکھائی دینے لگی۔۔۔
امرحہ شزا کی شکل دیکھتی، رہ گئی۔
سر رابرٹ سے اچھا کوئی نہیں پڑھا سکتا میں نہیں مانتی، امرحہ کو یہی جواب سوجھا۔
نہ مانو، وہ یونی کا راجر فیڈر رہے۔ ساری ٹرافیاں اکٹھی کر لائے گا وہ۔۔۔ ویسے ت۔ آج کل اسکے ساتھ نظر نہیں آتیں۔۔۔ وہ بھی ڈیپارٹمنٹ نہیں آتا۔۔۔ شزا نے مکمل ایمانداری سے #ٹوہ کی ڈیوٹی سر انجام دی تھی اور وہ اس میں غفلت کا شکار قطعاً نہیں ہوئی تھی۔
امرحہ کوئی بھی جواب دیے بغیر چلی گئی۔
شزا اس کی کلاس فیلو تھی جو Gravity Falls کی Pacifica کے نام سے زیادہ جانی جاتی تھی، اسے عجیب وغریب ملبوسات پہننے پر لیڈی گاگا بھی کہا جاتا اور شوں شوں بھی یعنی جب وہ قریب سے گزرتی تو شرارتی اسٹوڈنٹس مکھی اڑانے کے انداز سے ہاتھ لہرا کر “شوں شوں” کردیتے۔
شزا پاکستان کے ایک بڑے وزیر کی بیٹی تھی۔ جنکے وزیراعظم بننے کے امکانات کافی روشن تھے۔وہ اسٹوڈنٹس اور پروفیسر سے ایسے مخاطب ہوتی جیسے کرپشن کےپیسوں سے لیے اپنے محل نما گھر کے گھریلو ملازم سے مخاطب ہو۔جو لباس وہ پہن لیتی دوبارہ کوئی اسے اس لباس میں نہ دیکھ سکتا ۔اس کے جوتے بیگز،قلم،نوٹ بکس، ملبوسات اور ایسی ہی دوسری چیزیں اتنی مہنگی ہوتیں کہ انہیں دیکھ کر حقیقتاً اسٹوڈنٹس کو ہول اٹھتے کہ…..
”اف کیا اس نے انہیں خریدنے کی جرات کی ۔کیا واقع…. اس نےانہیں خرید لیا۔اور یہ کیایہ تو اس کے ہاتھ میں بھی ہیں۔“
”اسی لیے پاکستان میں غربت کا یہ عالم ہے۔سارے بجٹ سے تو لیڈی گاگا کے کپڑے جوتے ہی آجاتے ہیں۔“
جرمن جوئیل نے بڑی جرات سے اس کےمنہ پہ کہہ دیا تھا اور اس لیڈی گاگا نے پاک افواج کے ذخیرے میں موجود سارے بارود کو آنکھوں میں بھر کر اسے گھورا….اور بس…..ایسے ویسے منہ لگانا اس کے شان کے خلاف تھا۔ایک دن لیکچر کے دوران وہ اپنے آئی فون کے ساتھ مصروف تھی ۔اسے کہی بار اس حرکت پر سرزنش کی جا چکی تھی۔پر کیا کیا جا سکتا تھا وہ اتنا بارود اپنے ساتھ رکھتی تھی کہ کوئی کچھ کہہ بھی دیتا تو بھی فائدہ نہ ہوا کرتا ۔مزید اس نے یہ کیا کہ مزے سے پچھلی رو میں بیٹھے جوناتھن کی تصویر کلک کی۔نیند کی وجہ سے جوناتھن کے لیے مشکل تر ہو رہا تھا سر کو ڈھلکنے سے روکنا اور آنکھیں پوری کھول کر متوجہ رہنا۔لیڈی گاگا نے باقاعدہ کرسی سے کھڑےہو کر پیچھے جوناتھن کی طرف رخ کر کے یہ حرکت کی۔
کلاس دنگ رہ گئی۔
”اگر آپ کو لیکچر نہیں سننا تو آپ کلاس سے آوٹ ہو جائیں۔اور باہر نکل کرمانچسٹر کی تصویریں اتاریں۔“سر جین نے کسی قدر تحمل سے کہا۔
”سننا ہےاگر کسی کام کا ہوا تو…..“اس نے بے نیازی سے شانے اچکاکرکہا۔
سر جین کہی لحظے اس کی شکل دیکھتے رہے۔یہ بدتمیزی کی انتہا تھی بلاشبہ……
”آپ کے ملک میں نہیں لیکن یہاں گرومنگ کورسسز ہوتے ہیں۔کلاس کے اسٹوڈنٹس آپ کو فنڈز جمع کر دیں گے آپ گرمنگ کلاسس لیں…..جب بات کرنا سیکھ جائیں تو آجا ئیے گا ۔ہم آپ کو ڈگری دے دیں گے۔“
”تو آپ گرومنگ کلاسسز لے کر آئے ہیں ؟“
”اگر آپ کےساتھ میرے دو تین مزید مکالمے ہوئے تو یقیناً مجھے بھی لینی پڑیں گی۔“
امرحہ اتنی شرمندہ ہوئی کہ سارا وقت کلاس میں سر جھکا کر بیٹھی رہی بعد از وہ سر جین کے آفس گئی اور ان سے معذرت کی۔
”آپ کیوں معذرت کر رہی ہیں ؟“وہ مسکرانے لگے۔
”سر ! ہمارے ملک میں سب شزا جیسے نہیں ہیں۔ہمیں معلوم ہےکہ استاد کا احترام کیسے کیا جاتا ہے۔اگر پروفیسر میرے آگے چل رہے ہوں تو میں نے کبھی قدم بڑھا کر ان سے آگے نکل جانا نہیں چاہا۔میرے دادا کہتے ہیں تمہاری زندگی کا خاتمہ ہی کیوں نہ ہو جائے کبھی استاد سے آگے ہو کر نہ نکلو،استاد محترم کو کبھی پشت نہ دیکھاؤ۔یہ انتہا درجے کی بے ادبی ہے۔“
”میں جانتا ہوں۔“وہ مسکرائے۔
”میں ان خوش قسمت پروفیسرز میں سےہوں جنہیں ہر سیشن میں ایسے اسٹوڈنٹس ضرور ملتے ہیں جن کےلیےہم ،ہمارا احترام فرض کی طرح ہوتے ہیں۔جھنگ پاکستان کا طالب علم دوسال پہلے میرا اسٹوڈنٹ تھا ،جہاں کہی مجھےدیکھ لیتا اپنی رفتار آہستہ کرلیتا ،وہ گناہ سمجھتا تھا میرے آگے چلنا ،میرے سرپر چھتری تان کر خود گیلا ہو جاتا تھا۔میری چھتری کو پکڑ کر مجھے کار تک چھوڑ کر آتا تھا،ایک بار ٹشو سے اس نے میرے گیلے جوتے صاف کیے اور یہ کام اس نے بغیر کسی شرم کے کئی سو اسٹوڈنٹس کی موجودگی میں کیا۔اور مجھے یہ بتا لینے دو کہ وہ ٹشو وہ اپنے ساتھ پاکستان لے گیا۔
اور مجھے یہ بھی بتا لینے دو کہ وہ ٹشو وہ اپنے ساتھ پاکستان لے گیا۔
میں ایک استاد ہوں امرحہ، استاد میں تعصب نہیں ہوتا۔ تمہاری غلطی تمہاری ہوگی تمہاری قوم کی نہیں، ہم تعصب کو ختم کرنے والے ہیں، تعصب پھیلانے یا پالنے والے نہیں۔ میں۔انتا ہوں پاکستان میں کئی شزا ہونگی، لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان طالب غفور جیسے لوگوں سے بھی بھرا پڑا ہوگا۔
امرحہ لاجواب ہو گئ۔
ایک بار شزا کے پاپا یونیورسٹی آئے وہ انہیں ایسے یونیورسٹی دکھاتی رہی جیسے کہتی ہو۔
اگلے چند سالوں میں یہ بھی ہماری ہوجائے گی۔۔۔۔ ہے نا پاپا؟
اور سویٹ پاپا کہتے ہوں۔
کوئی شک۔۔۔؟
تو یہ شوں شوں شزا بھی عالیان کے بارے میں خبریں رکھنے میں دلچسپی رکھتی تھی اور یقیناً اس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش بھی کی ہوگی۔۔۔ لیکن وہ رسائی صرف امرحہ کی ہوسکی تھی۔
علی کامنز کے باغ میں بیٹھے وہ خود کو اداس ہونے سے روک رہی تھی۔ اس کا رزلٹ اچھا رہا تھا اور ظاہر ہے وہ خوش ہوکر بھی خوش نہیں تھی۔ ایگزامز کے دنوں میں عالیان نے اسے یونی کون (uni corn)دیا تھا۔ جسکی پیشانی کے سینگ پر سفید چٹ بھی تھی اور عالیان کی لکھائی میں۔
Keep calm and ride a unicorn into examz.
لکھا تھا۔ ایگزامز کے دنوں میں کم و بیش ہر اسٹوڈنٹ کے اسٹڈی ٹیبل پر یہ یونی کون نظر آتا ہے۔
کچھ سینیرز فریشرز کو دیتے ہیں۔۔۔ کچھ گھروں سے لے کر نکلتے ہیں۔۔۔ لیکن اس بے خبر امرحہ کو عالیان نے دے دیا تھا۔ ایگزامز کی تیاری کے دوران وہ تھک جاتی تو اس چٹ کو دیکھ لیتی اور جیسے اس میں ایک نامعلوم سی طاقت عود کر آجاتی اور وہ تن دہی سے پھر سے پڑھنے لگتی۔
اگر سب پہلے جیسا ہوتا تو عالیان شاید اس کے پاس آتا۔ نیلے پیلے سفید پھول لے کر اور کہتا۔
“اگلی بار اس سے بھی اچھے رزلٹ پر تمہیں اس سے بڑا پھولوں کا گملا ملے گا، تیسرے سمسٹر میں پھولوں کا گودام ملے گا۔ اور چوتھے فائنل میں۔۔۔” وہ شرارت سے مسکرا کر خاموش ہوجاتا۔
سارے مرجھائے پھولوں نے امرحہ کے گرد ڈھیر لگا لیا۔۔۔
وہ اٹھ کر لائبریری آگئی۔
کیسی ہو مینڈکی؟
وہ اپنی کتابیں ایشو کروا چکی تھی، اور یونیورسٹی کا منحوس ترین انسان کارل اپنی کتابیں ایشو کروا رہا تھا۔
چیونگم سے وہ ایسے پٹاخے پھوڑ رہا تھا اور اتنی تیزی سے جیسے اسے جلد از جلد اس چیونگم سے ننھا بم تیار کرنا ہو اور وہ بم اس کے منہ میں ہی تیار ہونا ہو۔۔۔ اور پھر اس نے وہ بم پر دے مارنا ہو۔
امرحہ سے بہترین کون مستحق ہوگا کارل کے بم کا۔۔۔
کچھ شزا کا غصہ۔۔۔ کچھ سے زیادہ اپنے اندر کا دکھ اور کچھ ہارٹ راک میں ڈسک کا چلایا جانا،اس نے ہاتھ میں پکڑی تین وزنی، موٹی کتابوں کا سیٹ اس کے سر پہ دے مارا۔
مجھ سے دور رہا کرو۔۔۔ مینڈک ہوگے تم، تمہارا خاندان اور آگے پیچھے کے سب فلاں فلاں اور فلانی، فلانیاں۔۔۔ تم سے آگے کا فقرہ اس نے اردو میں کہا اور آنکھوں میں آگ بھر کر اسے گھورنے لگی۔
کاؤنٹر پر کھڑے تین لائبریرین کے ہاتھ کام کرتے رک گئے۔ پچاس ساٹھ کے قریب ادھر ادھر کھڑے آتے جاتے اسٹوڈنٹس نے باقاعدہ رک کر اس منظر کو دیکھا۔ ذرا دور کھڑی منجلا کے ہاتھ سے کتابیں گر گئیں۔ بھلا منجلا کو کیا ضرورت پڑی تھی اپنے وزن سے زیادہ کتابیں اٹھانے کی۔
اور کارل۔۔؟؟
کارل کا چیونگم چباتا جبڑا رک گیا، بم اس کے جبڑے کے اندر ہی پھٹا اور دھواں کانوں،آنکھوں، ناک سے نکلا، اس نے گردن کو زرا سا خم دیا اور آنکھوں کو ذرا سا پھیلا کر امرحہ کو دیکھا،اسے دیکھا۔ ۔۔۔۔۔۔یعنی تم۔ ۔۔۔۔۔۔۔تم مینڈکی۔۔۔۔۔۔دی لاسٹ ڈک۔۔۔۔۔۔۔۔تمہاری اتنی جراءت۔۔۔۔۔۔آہاں۔ ۔۔۔۔۔ہم۔ ۔۔۔۔۔۔۔اوہ۔ ۔۔۔۔۔۔آہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ناوب آئی سی۔
زیرِ لب مسکراتا دو انگلیاں اس کی طرف اٹھا کر اپنی آنکھوں کے سامنے لا کر ایران کے لیے امریکی مارکہ watching you (واچنگ یو ) کی دھمکی ایران کو دیتے………امرحہ کو دیتے لائبریری سے باہر نکل گیا_
لائبریری کا ماحول جو اس کے سر پر کتابیں پڑنے سے وہیں فریز ہو گیا تھا_پھر سے رواں دواں ہو گیا_وہ اپنی کتابیں سنبھالتی باہر نکلی اور یہ کیا¿کارل ایک دم کسی چھلاوے کی طرح اسکے سامنے آیا اور اس کے ہاتھ سے کتابیں چھین کے کے گیا دو سیکنڈ بھی کم ہوں گے اس نے اس سے بھی کم وقت لیا یہ کام کرنے میں,تالیاں کارل کے لیے اور امرحہ کے لیے ایک عدد ٹشو پیپر………..
لائبریری کی کتابیں لے گیا………فریز سی حالت میں امرحہ خوف سے بڑبڑائی………
اوہ…..امرحہ کا سر گھوم گیا یہ اس نے کیا کیا¿ اس نے کارل کے ساتھ پنجابی پنگا کیوں لیا…..اوہ’وہ لائبریری کی ملکیت کتابیں لے گیا تھا…وہ انہیں ضائع کر دے گا_اور اسے جرمانہ بھرنا پڑے گا_اتنا جرمانہ اس نے تو اتنی مہنگی اور تاریخی کتابیں نکلوایں تھی. اللہ امرحہ سے پوچھے اس نے اتنی فاش غلطی کیوں کی…….جب وہ کارل جیسا دماغ نہیں رکھتی تو کارل جیسا غصہ بھی نہیں رکھنا چاہیے تھا_وہ بزنس سکول کی طرف بھاگی کارل کو ڈھونڈنے پر اب تو جیمز بونڈ’انڈیا ناجونز’سی آئی اے کے آگے پیچھے کے سب رشتے دار بھی آ جاتےتو بھی کارل کو نا ڈھونڈا جا سکتا.وہ بزنس سکول کے کاریڈور میں کھڑی تھی اور بے بسی سے عالیان کے پاس جانے کا سوچ رہی تھی.لیکن آخری بار جو اسکی آنکھوں سے جھلکتی سرد مہری دیکھ لی تھی اسکی کپکپی ہی نا تھمی تھی_تو پھر سے کیسے اسکے پاس چلی جاتی اسے ویرا کے پاس جانا پڑا…..
تم اس سے کیوں الجھی؟
دماغ چل گیا تھا میرا…..
کچھ کر ہوں ……تم پر سکون رہو….ویرا کارل کو فون کرنے لگی…..
وہ کہہ ریا ہے تمہیں کل دے دے گا….آج ہی کیوں نہیں اس کی شکل پے ہوائیاں اڑنے لگی……
تم نے اس کے سر پر کتابیں دے ماریں ایک دن کی خواری تو وہ تمہیں دے گا نا…..ویرا نے اسکو ہلکا پھلکا کرنے کے لیے بات کو مزاح کا رنگ دیا……….اگر تم کہو توہال سے جا کے کا دوں اس کے روم سے_ویرا پچھلے واقعے سے اسقدر شرمندہ تھی کہ کوشش کرتی تھی اسکا خیال رکھ سکے. _
نہیں کل تک کا انتظار کر لیتی ہوں_
لیکن….لیکن یہ ایک دن کی خواری ہرگز نہیں تھی اسے ویرا سے کہہ دینا چاہیے تھا اس کے روم سے چھاپہ مار کے کتابیں ابھی لے آئے_لیکن اب دیر ہو چکی تھی اگلے دن کارل کتابیں لیے اسکے سامنے کھڑا تھا.یہ لو امریحہ دی مینڈکی…… میں تمہیں روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا.لیکن پہلے مجھے سوری بولو….کتابیں اس نے سینے کے ساتھ دونوں بازوں کی لپیٹ میں تھام رکھی تھی…حفاظت سے محبت سے
سوری….امریحہ کی مری مری آواز نکلی
جس وقت تم نے مجھے کتابیں ماری تھی کم سے کم دو سو لوگوں نے دیکھا تھا یعنی میرے پاس دو سو لوگ گواہ تھے…… چشم دید گواہ
تم سمجھ رہی ہو نا اس سے کیا کیا ہو سکتا تھا…تم یونیورسٹی سے بے دخل ہوتی پھر میں تم پر پورے دس لاکھ پاونڈ کا ہتک عزت اور قاتلانہ حملے کا ہرجانے کا دعوا کرتا۔لیکن ایک تو میں رحم دل بہت ہوں۔چھوٹا سا میاؤں میاؤں سا دل ہے میرا۔اور پھر تم سے پرانی دوستی بھی ہے۔اب تمہاری سوری کو کم سے کم چار سو لوگوں کو تو سننا چاہیے نا۔یہ کچھ زیادہ نہیں ہے۔بلاشبہ میں انصاف پسندی سے کام لے رہا ہوں“دونوں انگلش ڈپارٹمنٹ کے باہر کھڑے تھے اور وہاں اور قریب و جوار میں اتنے اسٹوڈنٹس تو تھے کہ کارل کی حسرت پوری ہو جاتی۔امرحہ نے پھر سے اس وقت کو کوسا،جس وقت اس نے دکھ اور غصے سے بھڑک کر کتابیں مارنے کی خوفناک غلطی کر ڈالی تھی۔
لب بھینچ کر اس نے آس پاس دیکھا اور قدرے بلند آواز میں کہا ”سوری“
کارل سینے سے کتابیں لگائے ذرا سا کمر اور سر کو خم دے کر کھڑا رہا،اس کی گہری نیلی آنکھوں میں قہقہوں کے جوار بھاٹا پھٹنے لگے۔بڑی ادا سے اس نے کسی ملکہ عالیہ کی طرح گردن گھما کر آس پاس دیکھا ،پھر ہونٹوں کو ارادتاً بگاڑ لیا،جیسے اس صورت حال نے اس کے قومی وقار اور باعزت شخصیت کو صدمہ پہنچایا ہو اور اس کی ساکھ متاثر ہوئی ہو…..
”کوئی متوجہ ہی نہیں ہوا…..“بگڑے ہونٹوں کے ساتھ اس نے انگلی سے اشارہ کر کے امرحہ کو گردن گھما کر دیکھنے کا اشارہ کیا۔
امرحہ نے قطعاً گردن نہیں گھمائی….وہ تو یہ سوچ رہی تھی کہ آخر وہ ماسٹرز کرکے کیاکرے گی۔یعنی اگر وہ یونیورسٹی چھوڑ کر لاہور چلی جائے تو کیسا رہے گا۔اس کارل سے کہیں زیادہ رحم دل اسے منحوس کہنے والے تھے۔
”مجھے چلے جانا چاہیے ۔میں نے اپنا اردہ بدل دیا ہے۔میں پورے پندرہ لاکھ پاؤنڈ کا دعوا کروں گا۔“کارل جانے لگا۔
”سوری“امرحہ نے پوری شدت سے چلا کر کہا ۔ہرجانے کا دعوا تووہ کیا کرتا اسےلائبریری کی کتابوں کی فکر تھی۔کافی سے زیادہ فرق پڑا اس بار….سب نے حیرت سے امرحہ کو دیکھا ۔ماحول ایک بار پھر فریز سا ہوگیا ۔گردنیں امرحہ کی طرف مڑ گئیں۔آنکھوں میں حیرت سمٹ آئی۔کارل نے ادائے بےنیازی سے کہ وہ تو امرحہ کے کسی مسلےکو حل کرنے کےلیےاس کے پاس کھڑا ہے آنکھوں کی پتلیوں کو گول گول گھما کر ”فریز “ ہو چکے اس منظرکو دیکھا۔جیسے شانت سا ہوگیا ۔
”یہ کچھ بہتر رہاہے۔اس سے ایک اور بات بھی ثابت ہوئی کہ رونے کے علاوہ بھی تم بہت کچھ کر سکتی ہو۔یعنی کمال کر سکتی ہو۔یہ لو اپنی کتابیں….میں ہنٹ (hint)دیتا تو نہیں ہوں،لیکن تمہیں دے رہا ہوں۔پھر ملتے ہیں۔“
دو انگلیوں سے اچانک وی کا اشارہ دیتا وہ عالیان کی طرح ہی ہوا میں اچھل کر پیروں کی تالی بجاتا غائب ہو گیا۔اور امرحہ کا جی چاہا کہ وہ واپس کتابیں اس کے سر پر دے مارے ۔
مارتی رہے مارتی رہے کہ آخر کار اسے یونیورسٹی سے نکال دیا جائے ،ساری کتابیں تیز بلیڈ سے کاٹی ہوئی تھیں۔صفحات درمیاں سے دو حصوں میں کیے تھے وہ کبھی بھی یہ ثابت نہیں کر سکتی تھی کہ یہ کارل نے کیا ہے ۔اسے اپنی محنت کی کمائی سے جمع کیے گئے پاؤنڈز میں سےبھاری جرمانہ ادا کرنا پڑا۔
کارل زمین پر موجود سب سے زیادہ منحوس انسان …..
دو دن وہ کھانا نہیں کھا سکی ،سو نہیں سکی،اس کی جی میں آیا کہ وہ کارل کو وہ ساری بدعائیں دے ڈالے ،جو پنجاب کی خواتین روایتی خاندانی لڑائیوں میں دیتی ہیں۔لیکن وہ اسے چند امرحہ ٹائپ بدعائیں ہی دے سکی۔جیسے کہ مانچسٹر میں جب بادل چھائیں تو آسمانی بجلی تم پر ٹوٹ پڑے اورایسے گرے کہ تمہیں سیاہ بھوت بنا دے۔تم زندہ رہو لیکن مردو کی طرح ،یونی کے سب اسٹوڈنٹس تمہیں دیکھتے ہی چیخیں مارنے لگیں۔دل برداشتہ ہو کر تم یونی ہی چھوڑ جاؤ اور یا یہ کہ تم رات کو سو تو صبح اٹھو karal کارل “ڈی ترنیا” کے لومڑ بن چکے ہو_
اس واقع کے بعد وہ زمین پر سب سے دکھی لوگوں میں سے ایک ہو گئی اسے پوری شدت سے یہ محسوس ہوتا تھا کے وو اکیلی ہو گئی ہے_عالیان اسے کہیں دکھائی نہیں دیتا تھا ایک بار وہ اسے دکھائی دیا بھی تو اپنے آپ کو سیاہ ہڈ میں چھپائے۔ اگر میں کہیں گم ہو جاؤں تو تم مجھے کیسے ڈھونڈو گی؟ ایک بار وہ امریحہ سے پوچھنے لگا ؟ وہ کیا سوچتا رہتا ہے ؟ وہ گم ہونے جا رہا ہے اور اسے یہ انتظام بھی رکھنا تھا کے اسے ڈھونڈ لیا جائے ۔
تمہارے ان لمبے کانوں سے ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے سنجیدگی سے کہا لیکن ساتھ ساتھ سیاہ پتلیاں بھی مٹکائیں۔
میری شناخت کے لیے یہ اتنا اہم کردار ادا کریں گے مجھے اندازہ نہیں تھا میں دعا کرتا ہوں یہ لمبے۔۔۔۔۔اور لمبے ہو جائیں
تا کہ مجھے جلدی سے ڈھونڈ لیا جائے۔
اب تو وہ جلدی سے گم ہو گیا تھا امرحہ اسے بڑے اور لمبے کانوں سے پہچان کر ڈھونڈ نا نکالے اس لیے انہیں ہڈی میں چھپا کر رکھتا تھا کیا معمولی بات تھی لیکن کافی تکلیف دہ بات تھی۔ ۔۔۔
ہاٹ راک کے باہر آخری ملاقات کے بعد امریحہ نے اسے بہت دنوں بعد آکسفورڈ روڈ پر تیزی سے سائیکل چلاتے دیکھا تھا امریحہ بس میں تھی کاش بس کی جگہ وہاں کوئی لاہوری رکشا ہوتا تو کہتی وہ رکشے والے سے کہتی بھیا ذرا اس سرمئی ہوڈی والے کا پیچھا کرنا وہ دیکھنا چاہتی تھی کے آخر اب وہ کہاں اتنا مصروف رہتا ہے کے نظر ہی نہیں آتا اسی روڈ پر اس کے ساتھ چہل قدمی کرنے والا، اس روڈ سے اس سے دور بھاگ رہا تھا
وہ چپکے سے بزنس اسکول کے کتنے ہی چکر لگا لیتی وہ اسے نظر نہیں آتا تھا ۔وہ واقع میں زہین تھا چھپ جانا جانتا تھا امریحہ تو ناکارہ تھی وہ اسے اتنی بڑی یونی میں ڈھونڈ نکالتا تھا اکثر وہ یونی میوزیم کے کسی کونے میں چھپی کھڑی ہوتی اور وہ پیچھے جا کے کھڑا ہو جاتا جیسے چلتے چلتے اسے خواب آ جاتے ہوں کے امریحہ کہاں ہے اور اسے ٹھیک ٹھیک معلوم ہو کے امریحہ نامی جہاز مانسچڑ یونی کے آسمان پر کس طرف محو پرواز ہے امریحہ کو یہ خواب نہیں آتے تھے کے وہ کہاں ہے؟ سارے خواب عالیاں کو ہی کیوں اے ؟ سارے الہام عالیان ہی کو کیوں ہووے؟
اس مغرب میں رہنے والے کو مشرقی آداب کس نے سیکھائے؟
ڈھونڈ نکالتا اور ظاہر بھی نا کرتا ان گروں کا بادشاہ وہ کب بنا ؟وہ دوبارہ عالیان سے بات کرنے کی ہمّت نہ کر پائی۔وہ iسے دیکھ لینا چاہتی تھی۔ ان کے درمیان جو کچھ ہو چکا تھا اسے ٹھیک ہونے میں وقت لگنے والا تھا اور مرہم بھی ۔۔۔۔
مرہم وقت کے تھال پر تھا اور وقت قسمت کی مٹھی میں ۔
امریحہ کے ہاتھ میں تو اب کچھ نا رہا تھا۔ ۔۔۔۔۔ڈی بیگ بین لندن ڈبل ڈیک بس اور لندن ٹیکسی برتانیہ کے لینڈ مارک مانے جاتے ہیں اور سائی کو مانسچٹر یونی کے سٹوڈنٹ کا لینڈ مارک جانا جاتا تھا بنا کسی شک و شعبہ کے say it all سب کہ دو یعنی سائی۔ ۔۔ ۔۔
پیلے رنگ کے بورڈ پے نارنجی روشنائی سے یہ الفاظ سائی کی لکھائی میں لکھے ہیں یونی میں شاید کوئی ایسا بد نصیب ہو گا جوبورڈ کے ملک کو نہ جانتا ہو
سائی سیاہ فام نسلاْ امریکی لیکن برطانوی شہری ہے ۔اسکا اصل نام ایڈی ہے ہلکے گھنگھریالے بال،پتلا سا جس کی وجہ سے کچ زیادہ ہی لمبا دیکھتا تھا آنکھیں گول گول اور نمایاں اور ان پر پتلے فریم کا نظر کا چشمہ……
اپنے بیگ کو دونوں کندھوں پر پھنسائے کمر پر پیچھے لٹکائے. …وہ مانچسٹر یونی کا زمینی فرشتہ ہے…..یونی کا دادا’دادی’نانا’نانی جی’چچا’ماموں’خالہ’بھائی بہن اور دوست ….وہ سب تھا ….وہ سائی تھا.
“یونیورسٹی میں اسکے بیٹھنے کی ایک ہی مخصوص جگہ تھی.علی لرننگ کامن کے باغ کے درخت تلے’ویسے اسے کہیں بھی روک کر بٹھایا جا سکتا تھا ‘وہ اعتراض نہیں کیا کرتا تھا.کیونکہ وہ تو فرشتہ تھا اس تک رسائی بہت آسان تھی.جب وہ فارغ ہوتا درخت تلے آ کر بیٹھ جاتا اور بیگ میں سے بورڈ نکال کر رکھ لیتا…..مطلب…..”
“میں فارغ ہوں .ہمہ تن گوش ہوں آو میں سب سنوں گا اور تم سب کہہ ڈالو. اپنے درد ….اپنی تکلیفیں. وہ سب فضول کی باتیں جو کوئی اور نہیں سنتا.تمہارے رونے کے قصے’تمہارے نہ ہنسنے کی وجوہات ‘تمہاری خالی جیب کی بد قسمتیاں ‘تمہاری کمرے سے کھانے کی اشیاء کا غائب ہو جانا’ شیمپوز پرفیومز’ اور ایسی ہی دوسری چیزوں کی گمشدگی کا ‘آئے دن وقوع پذیر ہونا.اسائنمنٹس کا مکمل نہ ہو نا.پڑھائی ایک بوجھ لگنا’ پرانی کتابوں کا نہ بکنا ‘ نئی کتابوں کے پیسوں کا بار اور کیفے میں اڑ جانا’ لیکچر سے ذیادہ تمہارا دھیان پارٹی میں لگے رہنا’گھر کی یاد سنانا.
مجھے کوئی اعتراض نہیں ….میں تو سب سننے کے لیے دل و جان سے تیار ہوں.”ایڈی یعنی سائی یونی کا چار سالہ اسٹوڈنٹ ہے .اسکی تاریخ کے بارے میں مختلف باتیں گردش کرتی رہتی ہیں.
کچھ کہتے ہیں کہ جب وہ نیا نیا یونی آیا تھا تو کچھ معاملات کو لے کر بہت پریشان رہا کرتا تھا کہ فلاں فلاں درخت تلے بیٹھ کر رونے لگتا.اسنے ایک دو کے اسٹوڈنٹس کو اپنے بات سنانے کی کوشش کی ‘لیکن کچھ کے پاس وقت نہیں تھا اور کچھ کا کہنا تھا کی وہ بےکار باتوں کو لے کر پریشان ہے.اب اگر کسی پروفیسر نے اسکی آگے کی رو میں بیٹھے لڑکے کو مسکرا کر دیکھ لیا’اور بعدازاں سائی کو ذرا ترچھی نگاہوں سے دیکھ لیا تو اس میں روبے کی کیا بات ہے.پروفیسر کو تو خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ آخر کر کیا رہے ہیں.اور اگر کاریڈور میں چلتے شرارتی لڑکیوں نے ایک دم سے اسکے سامنے آ کر دائرہ بنا کر چٹکیوں بھر کر اسکا چشمہ اتار کر بھاگ گئیں تو اسے تو انجوائے کرنا چاہیے کہ ایسی تتلیاں لڑکیاں صرف اسکے ساتھ شرارت کرتی ہیں.مزید یونی میں چلتے پھرتے کوئی اسے پین کی باریک نب چبھو دیتا ہے اور متواتر ایسا کر رہا ہے تو یہ کوئی خاص بات نہیں.وہ بھی ایک پین خرید لے باریک نب کا’بلکہ ہیں ہی کیوں ایک چھوٹا سا خنجر …..اوہو. …ورنہ وہ اپنے پھل کاٹنے والی چھری ہی بیگ میں رکھ کر لے آئے….. اس میں کیا مسلہ تھا آخر………..
چھ مہینے بعد سائی نے محسوس کیا کہ بہت دی باتیں دوسروں کیلیے بہت معمولی اور غیر اہم ہوتی ہیں جبکہ وہی باتیں کسی ایک کیلیے بہت اہم اور غیر معمولی ہو جاتی ہیں .اسنے ایک بورڈ بنایا اور اس پر say it all لکھا اور اسے لے کر یونی میں گشت کرتا .جہاں کوئی اس سے اسکا مطلب پوچھتا تو وہ بتا دیتا.پہلے پہل اسکے بورڈ کی ضرورت کسی کو محسوس نہ ہوئی.بلکہ یہ ایک مضحکہ خیز خیال لگا
ظاہر ہے ہم اپنی باتیں اپنے دوستوں سے شئیر کرتے ہیں…..خوف سے کسی سے بھی نہیں کرتے…..ویسے دوستوں کے ساتھ شئیر کر دینے سے ہی وہ بی بی سی نیوز سروس کی طرح سارے میں نشر ہو جاتی ہیں تو ایک انجانے انسان کے ساتھ شئیر کرنے کا رسک کوئی کیونکر لے گا.بلکہ نتیجے کے طور پر انکا کیا حال ہو گا .نہ ختم ہونے والی لڑائیاں. .. اور تاریخی عظیم اسٹوڈنٹس اسکینڈلز کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کا آغاز ….یعنی انجام… یہی سب نا؟ لیکن آہستہ آہستہ لڑکے لڑکیاں اسکے پاس آنے لگے.خاص کر .وہ جن کی نئی نئی کسی دوست سے لڑائی ہوئی ہوتی یا پروفیسر نے ڈبے ڈبے لفظوں میں کلاس میں انکی بے عزتی کردی ہوتی……کےصرف اسے لطیفے سنانے کے لیے آتے.وہ لطیفے جو بعدازاں انہوں نے کلاس میں کریک کرنے ہوتے کہ کلاس ہنسنے لگی بھی یا نہیں.کچھ گروپ کی صورت میں آتے.
“سائی!دیکھو ہم میں سے کون سب سے ذیادہ کیوٹ لگتا ہے.”
سائی انگلی اٹھاتا اور ایک ایک کی طرف اشارہ کر دیتا یعنی تم پانچوں کیوٹ ہو ذیادہ تر اسکے پاس لڑکیاں آتیں.
اب یہ سائی کا اصول تھا کہ برطانیہ امریکہ بلکہ پورے یورپ کی فوج بھی اسکے گرد گھیرے ڈال کر کھڑی ہو جاتی تو بھی وہ کسی کا بتایا ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکالتا. اسے بم سے اڑا دو یا توپ سے’اگر کوئی اسے کچھ بتا گیا ہے دل کا حال سنا گیا ہے تو بس اب وہ سائی کے سینے میں دفن ہو چکا ہے ‘سوئس بینکوں کے سب ہی پیسے نکال کر بھی اسکے آگے بینکوں کے سب ہی پیسے نکال کر بھی اسکے آگے ڈھیر کر دیے جائیں تو بھی اس کا منہ نہیں کھلے گا.
یونی کے بہت سارے اسٹوڈنٹس اسے رازوں کا ایٹم بم کہتے.ایک صرف اسکی زبان کھل جاتی تو وہ برباد ہو جاتے.
اب کوئی لائبریری کی کتابیں چرا بیٹھا ہے.جیسے لائبریری سے کسی نے کتابیں ایشو کروائیں اور باغ میں بیٹھے یا کینٹین میں کافی’چائے پیتے وہ ذرا سی دیر کو اپنی کتابوں سے غافل ہو گیا تو یہ کتاب چور بھائی صاحب یا بہن جی’اس غافل اسٹوڈنٹ کو سبق سیکھانے کیلیے فورا کتابیں لےکر غائب ‘اور اب اسکا ضمیر اسے سونے نہیں دے رہا تو یا سے پولیس کے سائرن کی آوازیں سنائی دیتی ہیں تو وہ سائی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے.
“میں نے کتابیں چرالیں. ….مجھے پیسوں کی ضرورت تھی سائی!پچھلے دو ہفتوں سے میں دی پرنٹ ورک نہیں گیا …..کوئی فلم نہیں دیکھی.کرسٹن کی پارٹی میں وہی پرانی شرٹ پہن کر جاتا کیا.میں نی اس کیلئے گفٹ بھی نہیں لیا.گفٹ میں نے اسے دینا بھی نہیں تھا وہ کونسا دیتی ہے.گفٹ نہ دینا ہو ‘پیسے تو چاھیے ہوتے ہیں نا سائی!جب میں امیر آدمی بن جاؤں گا تو پوری ایک لاکھ کتابیں لائبریری کو چندے میں دوں گا.چلو دو لاکھ…..میرا خیال ہے چار لاکھ ٹھیک ہیں.یونی کی لائبریری بھی تو اتنی بڑی ہے .”
اگلا آتا…”میں کل رات نشے میں تھا میں نے ٹیکسی ڈرائیور کو گھونسا مارا’وہ بے چارا کوئی غریب افریقی تھا.وہ مجھے میرے کمرے کے بیڈ تک لٹا کر گیا اور دروازہ ٹھیک سے بند کر گیا.اسنے میری جیبوں بھی نہیں ٹٹولیں .میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں .وہ جلد ہی مجھے مل جائے گا .میں اس سے معاف کر دوں گا’نہیں…یعنی میں اس سے معافی مانگ لوں گا .مجھے کل رات نیند ہی نہیں آئی.دعا کرنا آج آ جائے.میں زمیں پر سو رہا ہوں.بیڈ پر افریقی ڈرائیور سوتا ہے…….ہاں آج کل اسکا بھوت ہر وقت میرے ساتھ ساتھ رہتا ہے….وہ مجھے کچھ کہتا نہیں ہے’پھر بھی مجھے اس سے بہت ڈر لگتا ہے.”
کوئی اور آتا….”لزا میری گرل فرینڈ ہے لیکن …..لیکن مجھے اب اسکی دوست دی وی آن اچھی لگنے لگی ہے…..میں کیا کروں سائی…….لزا اچھی ہے اور دی وی بھی اچھی ہے….میں بھی اچھا ہوں .ہم سب اچھے ہیں ‘پھر میں کیا کروں سائی؟”
تو اب یہی سائی اگر لزا کو بتا دے کہ پیاری دوست اور ننھی بھولی بھالی لڑکی تمہارا بوائے فرینڈ جوناتھن ‘تمہاری پیاری دوست دی وی کو بالیڈے ان میں دوبار ڈنر کیلیے لے جا چکا ہے.ہاں ہاں ان ہی پیسوں سے جو اسنے گلے کی سوزش کے علاج کا بہانہ کر کے تم سے لیے تھے.
تو لزا کو اتنی سی بات بتا دینے پر کیا چھوٹا سا کترینہ طوفان لا ڈپارٹمنٹ کی دیواروں سے نا ٹکرایا………..
پھر سائی لائبریری اسٹاف کے پاس جاتا اور کہتا یورنیورسٹی کی کتابیں چرانے والوں میں سے ایک یہ رین بھی ہے۔ اسے پکڑو اسے جرمانہ کرو۔ بلکہ یونی سے ہی باہر کرو۔ اور یہ بریڈ ڈیننیل، یہ ہر رات نشے میں دھت ہوکر کسی نہ کسی کو مارتا ہے۔ ایک رات وہ دیوار پہ بنے کارٹون کو دیر تک مارتا رہا، اگع ریسٹورنٹ کی دیوار ٹوٹ جاتی تو ریسٹورنٹ یونی پر ہرجانے کا دعوا کر دیتی۔ پیسوں کے لیے نہیں شہرت کے لیے تو برائے مہربانی اس محمد علی کلے کو سنبھالیں۔
یعنی ایک ساتھی کی وجہ سے آدھی یونی جرمانہ بھرتی یا یونی خالی کرتی۔۔۔ لیکن وہ سائی تھا سنتا تھا بتاتا نہیں تھا۔۔۔ ہاں تو زیادہ تر اسکے پاس لڑکیاں آتیں۔۔۔ جو لڑکی سائی کے پاس بیٹھی نظر آجاتی۔۔۔ اسکے بوائے فرینڈ کو بہت تشویش ہوتی۔۔۔ یا اسکے دوستوں کو۔۔۔ اور وہ ساتھ ساتھ ٹشو سے آنکھیں بھی رگڑ رہی ہوتی۔۔۔ تو بس پھر خیر نہ ہوتی اور سائی بڑی شفقت سے اس ننھی منی چڑیا کے آنسو ٹشو سے صاف کر رہا ہوتا۔
سائی۔۔۔ میں نے اتنا مہنگا ڈریس لیا۔۔۔ دو گھنٹے لگا کر میک اپ کیا، تیار ہوئی، بالوں کو کلر بھی کیا۔۔۔ اور اس نے کہا۔۔۔ کاش تھوڑے سے ہی سہی پر تمہارے دانت صاف ہوتے جب تم چھوٹی تھیں تو تمہاری ماما تمہارے دانتوں پر لگتا کیڑا کیوں نہیں دیکھ سکیں۔۔۔
اتنی غافل ماما ہیں تمہاری۔۔۔ سائی اسے صرف میرے دانت نظر آرہے تھے۔۔۔۔ گلابی میک اپ سے سجی میری آنکھیں نہیں۔۔۔ اور میں تو ہنس بھی نہیں رہی تھی۔۔۔ بول بھی کم رہی تھی پھر بھی اس کی ماما میرے دانتوں کو ہی گھورتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ تمہیں دانتوں کا کینسر تو نہیں۔۔۔ بیٹھے بٹھائے انہوں نے میرے دانتوں کو کینسر کروا دیا۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 13

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: