Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 27

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 27

امرحہ گود میں ہاتھ رکھے آنکھوں کی نمی چھپانے کےلیے سر جھکائے بیٹھے اترپردیش کے راجا کو دیکھ رہی تھی۔کوئی اندھا بھی بتاسکتا تھا کہ اس لڑکی کے چلے جانے کے بعد وہ سیدھے سیدھے مر جائے گا ……
”اسے روک لو راما !“سائی کو مشورے کی اجازت دی گئی۔
”روک لینا اتنا آسان نہیں …..وہ فرنچ ہے…..خاندان کے نام پر اس کے پاس ایک ماں اورایک سوتیلی بہن ہے…..اس کی ماں پہلے ڈانسر رہ چکی ہے…..میرا خاندان…..میں…..میرا کلچر…..“
”کوئی ترکیب نکالو لیکن روک لو اسے…..وہ گئی تو تم بھی اپنی اصل حالت نہیں رہ پاؤگے…..تم مر جاؤ گے راما….اپنے زندہ رہنے کےلیے کچھ کرو…..“امرحہ یک ٹک راما کو دیکھ رہی تھی ،جس فرنچ لڑکی کی بات وہ کر رہا تھا ،کافی مہینوں سےگاہے بگاہے شلوار قمیض ،ساڑی،چولی میں ملبوس نظر آتی رہی تھی۔ماتھے پر چھوٹی سی بندیا بھی لگا لیتی….مے سے بالوں کو چھوٹی کی صورت گوندھ کر رکھنے کی کوشش کرتی۔جس قصے کوراما بیٹھا رو رہا ہے،ایسے ہزاروں قصے مانچسٹر یونی کی دھرتی سے شروع ہو کر ختم بھی ہو جاتے تھے۔اور صرف خوش قسمت ہی ہوتے تھے جو آہیں اور یادیں نہیں ایک دوسرے کا ساتھ لے کر نکلتے تھے۔مختلف ملکوں،سماجوں،روایتوں کے حامل اسٹوڈنٹس کا ایک جگہ اکھٹے ہوکر پڑھنا….دوست بننا…..محبت میں مبتلا ہو جانا….اور روایات کے نام پر الگ ہو جانا…..پھر بڑھاپے میں آہیں بھرنا…..یہ سب کڑوی سہی،پر حقیقت تھی۔راما کے بارے میں سوچتے اس نے اپنی نیند گوالی۔وہ اپنی بات بتائے بغیر پلٹ آئی تھی۔

*…….*……..*
کتابوں والے واقعے کو بمشکل چند دن ہی گزارے تھے کہ صبح وہ یونیورسٹی آئی تھی اور اپنی کلاس کےلیے جا رہی تھی کہ اس کے پاس سے گزرتی ایک لڑکی نے اسے روک لیا۔
”ہے….تمہارا جوتا بہت خوبصورت ہے….کہاں سےطلیا ہے؟“
وہی عظیم عادت تعریف پر پھول جانا ….تو وہ بھی جھٹ پھول سی گئی اور بھول ہی گئی۔
”اپنے اسٹور سے جہاں میں کام کرتی ہوں۔“
”بہت خوبصورت ہے…اگر تمہیں برا نہ لگے تو میں پہن کر دیکھ لوں…..میں آؤں گی تمہارے سٹور اسے لینے….“
”ہاں ہاں کیوں نہیں…“اس نے جھٹ جوتا اتار کر اس کے آگے کیااور اس گلابی اسکرٹ اور گلابی گالوں والی لڑکی نے جوتے کو پہننے کے بجائے اسے جھٹ اٹھایا اور یہ جا وہ جا۔
”ہے….(hey)“امرحہ حیرت زدہ اسے آوازیں ہی دیتی رہ گئی لیکن وہ رکی نہ پلٹی….لیکن رک رک کر چلتا کوئی اور اس کے پاس آرہا تھا…..
کون….بوجھیے کون…..؟“
کارل اور کون…..
اس کے ہاتھ میں اس کا گلابی باربی جوتا تھا۔
”یہ آج کے دن کے لیے میرے پاس رہے گا….تمہاری یاد دلائے گا۔“جوتا اس کے آگے لہرا کر وہ چلا گیا ،ہاں وہ ہنٹ دےکر تو گیا تھاکہ میں آؤں گا….بھلے سے وہ تفصیلات دے دیتا،ہونا یہی تھا….
”اف!“اس نے آس پاس دیکھا،بمشکل ایک جوتے سے چلتی بینچ پر بیٹھی۔شرمندگی سی شرمندگی تھی کوئی….یہ کارل اس کی جان کو آگیا تھا۔اب ایک جوتے کے ساتھ وہ نہ اندر جا سکتی تھی نہ باہر …..اس نے ویرا کو فون کیا ،لیکن اس کا فون بند تھاوہ کلاس میں جا چکی ہو گی….این اون کا بھی بند تھا،سردی کے دن تھے زمین پر پیر رکھنے کےلیے بھی جرات چاہیے تھی اور پھر یوں لنگڑا کر چلنا ۔ناچار وہ اٹھی دوسرا جوتا بھی اتارا اور صرف جرابوں کے ساتھ چلتی بس اسٹاف تک آئی۔ ۔۔۔
اور کیا__
آئی۔ ۔۔۔
اور کیا__
جی کارل۔ ۔۔۔۔وہ اس کے پیچھے پیچھے اس کی تصویریں لے رہا تھا۔بس آ کر نہیں دے رہی تھی وہ اسٹاپ پر سرف جرابون کے ساتھ ننگے پاؤں کھڑی تھی……دوسرا جوتا ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا۔۔۔۔۔۔اس نے گھور کر کچھ دور موجود کارل کو دیکھا۔۔۔۔۔۔اس کے جی میں آئ ہاں بس اب ۔۔۔۔۔۔ اب اسے قاتلہ بن جانا چاہیے ۔۔۔۔۔اگر اب نہیں بنے گی تو کب بنے گی ؟ کارل کا خون اس پر جائز تھا اسے ساری زندگی میں اتنی کوفت اور شرمندگی نہیں ہوئی تھی جتنی یونی سے ایسے آتے اور پانچ منٹ بنا جوتوں کے اس طرح کھڑے ہو رہی تھی تیزی سے اپنی کلاس کے لئے بھاگتے سٹوڈنٹ بھی گردنے موڑ کر اس کی طرف دیکھنا نہیں بھول رہے تھے ۔۔۔۔۔۔
گھر ای جوتا تبدیل کیا
تم اتنی جلدی کیوں آ گئی ؟ نشیست گاہ میں ٹی وی دیکھتے لیڈی مہر نے پوچھا
میرا جوتا۔۔۔۔۔وہ غصے کی شدت سے اتنا ہی کہ پائی کیا
کیا ہوا جوتے کو ؟؟ اوہ ٹوٹ گیا
ایک منحوس ہ ہماری یونی میں وہ لے گیا
وہ چیل کوا ہے کیا ؟ وہ ہنسی
نہیں۔۔۔۔۔۔۔ ڈائین
ڈائین تو فی میل نہیں ہوتی امریحہ؟
وہ میل ڈائین ہے۔۔۔۔۔وہ انہیں بتانا چاہتی تھی کے یہی ہے وہ جو ااس کے اورعالیان کے درمیان ایسی دوری کا باعث بنا۔ ۔۔۔۔۔ یہ بات وہ اکثر خود کو تسلی دینے کے لئے سوچ لیا کرتی تھی ۔۔۔۔اپنے کے کا الزام ویرا اور کارل پر دال دیا کرتی تھی جب کے ویرا اور کارل سے زیادہ وہ خود ذمدار تھی
جب وہ یونی واپس آئ تو اس کی پہلی کلاس ہو چکی تھی
باقی کلاسسیز لے کر وہ جا رہی تھی وہ بندر کی طرح قلابازیاں لگاتا اس کے سامنے آیا
یہ لو اپنا جوتا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے جوتا آگے کیا۔۔۔۔۔جس کے گلابی چمڑے کو بلیڈ سے لمبی لمبی لکیریں دے کر کاٹ دیا گیا تھا اور اسکی جھالر سی بن گئی تھی۔اب اسی جوتے کو ریسرچ کے لیے تو استعمال کیا جا سکتا تھا کہ اس کی ابتدائی شکل کیا رہی ہو گی لیکن پاؤں میں پہننے کے لیے ہرگز نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ ممکن ہی نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اچھا جوتا تھا لیکن قیمتی نہیں تھا تم مارکیٹ سے نیا لے لینا
وہ تیزی سے اس کے آگے چلنے لگی ورنہ آج اسے قاتلہ بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا
تم اب تک کہاں تھی امریحہ دی مینڈکی۔ ۔۔۔۔۔
ٹر ٹر ٹر۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔میں کب سے اس یونی میں ہوں
تم تب سے یہاں کیوں نہیں آئ اب سوچتا ہوں تو افسوس ہوتا ہے کے کیسے بیکار اور فضول گئے یہ سب سال۔۔۔۔۔بہت زیادہ افسوس ہوتا ہے لیکن اب تو تم یہاں ہو نا مجھے وقت کو جمع ضرب دینا آتا ہے اور دیکھو تمہاری جتنی بھی دوستیں اور بہنیں ہیں جیسا کے میں نے سنا ہے ایشیا می بںڑے بڑے خاندان ہوتے ہیں
یعنی تمہاری جو چھ’ سات ‘آٹھ’ دس بہنیں ہیں ہاں جو بلکل تم جیسی ہیں انھیں بھی مانچسٹر بلا لو اسی یونی میں میں کچھ بھی کر کے فنڈز اکٹھے کر لوں گا تا کے انھیں آنے میں آسانی رہے ۔۔۔۔۔۔لیکن برائے مہربانی تم اپنے جیسی ایک ایک کاربن کاپی کو یہاں لاؤ ۔۔۔۔۔۔وہ اس کے ساتھ ساتھ چلتے مزے سے ایسے باتیں کر رہا تھا جیسے دونوں میں کتاب بدل دوستی ہو۔۔۔۔۔۔۔ جی پنجاب کی دوپٹہ بدل دوستی کو میں نے مانچسٹر میں کتاب بدل دوستی کا نام دے دیا ۔۔۔۔۔ٹھیک کیا نا ؟
امریحہ رکی اور شرارے اگلتی آنکھوں سے کارل کو دیکھا ۔۔۔
کارل بھی روک گیا بہت مزے سے امریحہ کو دیکھنے لگا پھر اپنی ناک پر انگلی رکھ لی۔ ۔۔۔۔۔تم ایکس مین سیریز میں کام کرتی رہی ہو یہ دیکھو ۔۔۔۔۔میری خال جل کر پھٹ رہی ہے امریحہ نے کانوں میں ایر فون لگی اور میوزک تیز کر دیا

کر دیا۔ کارل کا قہقہہ اس کی پشت پر دیر تک فضا میں منتشر رہا۔
بس میں بیٹھ کر ایسے دانت پر دانت جمائے جیسے ان دانتوں تلے کارل کی گردن ہو۔۔۔ آ۔۔۔خ تھو۔۔۔ کیا سوچ رہی تھی وہ۔۔۔
کاش میں بھی کارل جیسی ہوتی یا ویرا جیسی، پھر اینٹ کا جواب پتھر سے دیتی۔۔۔ دو بدو جنگ ہوتی۔
الله جی میرے ذہن میں کوئی ترکیب ڈال دیں کہ اس کارل، فال، شال، کو ہی سب عطا کیا ہوا ہے۔
کارل عالیان سے متعلق دھمکی دے کر تقریباً غائب ہی ہو گیا تھا۔ شاید وہ عالیان کو ڈھونڈتا رہا تھا اور جب عالیان واپس آگیا تو دوبارہ امرحہ سے اس کا ٹکراؤ نہیں ہوا تھا۔۔۔ اپنی عادت سے مجبور ہوکر وہ اسے لائبریری میں چھیڑ بیٹھا اور امرحہ نے پھر سے جیسے اسے اپنے پیچھے لگوالیا۔
ویسے بھی اسکے بارے میں مشہور تھا کہ الٹے کام کیے بنا اسے نیند نہیں آیا کرتی تھی۔۔۔ نہ ہی کھانا کھایا جاتا تھا اس سے۔۔۔ اسکے انسانی ڈھانچے میں سپر اسپرنگ فکس تھے جو اسے کسی پل چین سے رہنے نہ دیتے۔ یہ اسپرنگ اتنے کارآمد تھے کہ دس قدم انسانوں کی طرح چلنے کے بعد وہ گیارہویں قدم پر چھلانگ یا چھلانگ نم چال ضرور اپنا لیتا۔
آتے جاتے اسٹوڈنٹس کے ہاتھوں سے کھانے پینے کی چیزیں اچک لینا تو اسکے بائیں کاتھ کی چھوٹی انگلی کا کام تھا۔۔۔۔ یعنی دو ہاتھوں سے برگر پکڑے، منہ کھولے کھانے والا ایک بڑی سی مزےدار سی بائیٹ لینے کے چکروں میں ہے کہ برگر ہی نہیں رہا۔۔۔ عی۔ی شائقین برگر شکار کیطرف ہنس کر دیکھتے ہیں اور اشارے سے بتاتے ہیں۔۔۔
کارل۔۔۔
اب برگر شکار کارل کو بمشکل ڈھونڈتا اسکے پاس جاتا ہے اور اسے شرم دلاتا ہے، تو الٹا کارل اسے انتظامیہ کے پاس جانے کی دھمکی دیتا ہے کہ آخر ایک بزنس اسٹوڈنٹس پر ایسا گھٹیا الزام کیسے لگایا جا سکتا ہے۔ آخر کیسے۔۔۔
رات کو ویرا آئی اپنی ہنسی دباتی۔
یہ کیا ہے۔۔۔؟ اس نے آئی فون اسکے آگے کیا، وہاں اسکی اسٹاپ پر ننگے پاؤں کھڑی تصویر تھی اور ٹائٹل تھا۔۔۔
مانچسٹر میں سو سالہ سردی کا ریکارڈ ٹوٹنے پر دور جدید کی نیلسن منڈیلا کا احتجاج۔
ویرا کارپٹ پر پیٹ پکڑے کسی افغان بلی کی طرح ہنسی کی زیادتی کیوجہ سے اس سے بات بھی نہیں کی جا رہی تھی۔ تھپڑ کھانے کے بعد آج وہ اسکے کمرے میں آئی تھی اور ایسے لوٹ پوٹ ہورہی تھی۔۔۔ امرحہ،ویرا کو دیکھ رہی تھی۔
شاید واقعی آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔
امرحہ فون ہاتھ میں لیکر بیٹھ گئی اور بس بیٹھی ہی رہ گئی۔ کارل نے آدھی یونیورسٹی کو کو اپنے فیس بک اکاؤنٹ میں اسکی تصویر پر ٹیگ کر دیا تھا۔ امرحہ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ آدھی یونی کے کمنٹس اس نادر و نایاب تصویر کے نیچے پڑھتی۔ اپنی ایسی مضحکہ خیز تصویر دیکھ کر ہی اسکی آنکھوں میں مرچیں سی بھر گئی تھیں اسے رونا بھی آ رہا تھا اور ویرا کو دیکھ دیکھ کر ہنسی بھی۔۔۔
ویرا پاگل ہوۓ جارہی تھی۔۔۔ وی زندگی سے بھرپور غبارے چھوڑ اور پھوڑ رہی تھی۔۔۔ چینی پریڈ کے بعد سے امرحہ مسکرا نہیں سکی تھی۔۔۔۔ اسے یقین تھا اب وہ تاعمر نہیں ہنس سکے گی۔ لیک ویرا کی ہنسی جیسے اسے اشارے دے رہی تھی کہ سب ٹھیک ہوجائے گا پیاری۔۔۔ ایک نہ ایک دن سب ٹھیک ہوہی جاتا ہے۔۔۔
تم جانتی ہو مانچسٹر نے تمہیں کیا تحفہ دیا ہے۔
اپنی ہنسی کی چھکڑ ریل کو بمشکل روک کر ویرا بول پائی۔
“کارل۔۔۔
تمہیں کارل سے نوازا گیا ہے۔
خوش قسمت ہو تم۔”

کھلی کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوا نے امرحہ کو اپنی موجودگی کا احساس .اب ….ہاں اب…..اسے یہ ہوا نرم لگی……سرگوشیاں کرتی…… اسکے دل کو تھوڑا قرار سا آیا… .سکون کی ایک لہرا اٹھی.
“مانچسٹر یونی میں تعلیمی دورانیہ سے متعلق جو ڈائریز ہم لکھ رہے ہیں نا امرحہ؟وہ سب ایک طرف ہوں گی’ لیکن جو یادیں تمہاری اسٹوڈنٹ ڈائری میں رقم ہوں گی نا نوبل انعام وننگ ہوں گی.تم اپنے پوتے ‘پوتیوں کو ہنسا ہنسا کر مار ڈالو گی.ہر طرح کی یادوں سے مالا مال ہو چکی ہو……کتنی خوش قسمت ہو نا تم…….. مقناطیس کی طرح تم اپنی طرف کھینچتی ہو کہ آو ………مجھے ستاو. ….رلاو. ”
ہنستے ہنستے ویرا کو پھندا لگ گیا تو امرحہ نے جھک کر اسکی کمر میں زوردار گھونسا مارا……ویرا منہ کھول کر حیرت سے اس دیکھنے لگی کہ کیوں مارا.وہ بھی اتنی زور سے ….. .
“کچھ تمہاری ڈائری میں بھی لکھا جانا چاھیےتھا.میں تمہارے پوتے ‘ پوتیوں کو بور ہوتے نہیں دیکھ سکتی.”امرحہ نے معصومیت سے کہا.ویرا نے اسکی بال مٹھیوں میں بھر لیے اور اسکے سر کو جھٹکے دینے لگی.یہی کام امرحہ نے کیا.
دونوں کارپٹ پر لوٹ پوٹ گتھم گتھا ہو گئیں .
“میرے پوتے’ پوتیوں بور نہیں ہوں گے.میں انہیں تمہارے قصے سنا سنا کر ہنسا ہنسا کر خوش گفتار گرینڈ مدر ہونے کا خطاب حاصل کر لوں گی.وہ ہر وقت میرے ساتھ ہی چپکے رہیں گے کہ گرینڈ ماں پلیز اس امرحہ دی لاسٹ ڈک کی باتیں سنائیں نا.”
“میں بھی تمہارے قصے سنایا کروں گی.Ball Gingerفکر نہ کرو.”
************************
“مانچسٹر کے راج ہنس!تم نے مسکراتا کم کردیا ہے یا کفایت کر رہی ہو؟”دادا پوچھ رہے تھے .بہت بار پوچھ چکے تھے
“تھک جاتی ہوں نا …….مشکل ہے زندگی؟”
“مشکل تو ہے.”وہ دادا کو نہ بتا سکی کہ کیا مشکل ہے.
“اگر مجھے نہیں بتاسکتیں تو سائی ہے نا.”
“آپ سائی سے پہلے ہیں میرے لیے دادا.”
“پھر بھی …..کچھ رشتے کتنے ہی قریبی ہوں ‘ان سے سب نہیں کہا جا سکتا.”
دادا ٹھیک کہہ رہے تھے.عالیان کی بات کو لے کر وہ سائی کے پاس ہی گئی تھی.دادا سے وہ سب کہنا چاہتی تھی پر کہہ نہ سکی.
“تمہاری ماں اور دادی دانیہ کی شادی کرنا چاہتے ہیں’لیکن تمہارے ماموں نہیں مان رہے’کہتے ہیں کہ شادی دھوم دھام سے کرنی ہے’ابھی تم لوگوں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں.”
“یہ کیا بات کی انہوں نے دادا؟”
“یہی تو میں نے کہا تمہاری ماں سے کہ پوچھو اپنے بھائی سے ‘ہم کیا بھوکے مر رہے ہیں.آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو رہا ہے.واجد کی دکاں ٹھیک ہو رہی ہے.منافع آنے لگا ہے.وہ تمہارے دیے قرض کو جمع کر رہا ہے .خاندان کی ایک تقریب میں اسنے کسی سے کہہ دیا تھا کہ وہ شادی میں فضول خرچی نہیں کرے گا.تمہارے ماموں کو اس بات کی خبر ہو گئی.”
“بابا کیا کہتے ہیں دادا؟”
“واجد کا کہنا ہے کہ اسکے پاس ضائع کرنے کے لیے فضول پیسے ہیں ہی نہیں’پہلے کی بات اور تھی’اب جو کچھ جمع تھا ‘وہ سب دکان میں لگ گیا.واجد نے برا وقت دیکھا ہے .کسی نے اس برے وقت میں اسکا ساتھ نہیں دیا.خاندان میں کسی نے بھی قرض کے نام پر چند ہزار بھی نہ دیئے.واجد بہت بد دل سا ہو گیا ہے سب سے.مشکل ہے یہ منگنی رہے .واجد نے تو دانیہ سے یہ تک کہہ دیا ہے کہ وہ پڑھنے کیلیے تمہارے پاس چلی جائے.ہوتی رہے گی شادی سال دوسال میں …..امرحہ’واجد کہہ رہا تھا کہ اسکا وہی سکہ اسکے کام آیا’جسے اسنے اور خاندان والوں نے کھوٹا سمجھ لیا تھا۔بہت یاد کرتا ہے تمہیں۔بار بار میرے پاس آتا ہے۔کہتا ہے تمہارےساتھ بہت زیاتی ہوتی رہی۔“امرحہ کی آنکھیں نم ہوگئیں….”تو بابا کو احساس ہو گیا ….وانیہ کیا کہتی ہے۔“
”صاف کہہ دیا ہےاس نے مر جاؤں گئی کسی دوسرے ملک نہیں جاؤں گی۔وہاں پڑھو بھی کام بھی کرو ،کیا ضرورت ہے اتنے وبال پالنے کی ،مجھے کون سا منسٹر بننا ہے کسی ملک کا ۔“یا فون پر لگی رہتی ہےیا سوتی رہتی ہے اتنی آرام دہ زندگی چھوڑنے کی اسے کیا ضرورت ہے بھلا۔“ آرام دہ زندگی تو امرحہ کی تھی ۔زندگی کی روح کام ہے….صرف کام….چلتے رہنا…..حرکت میں رہنا…..علم کےکام میں مصروف….عمل کےکام میں مصروف….اتنی سی زندگی میں انسان کے پاس اتنا وقت ہی کہاں ہےکہ ضائع کرتا پھرے…سو کر….رو کر یا موج مستی میں۔
یہ زندگی انسان کو بھلائی کے کام کرنے کے لیے عطا کی گئی ہے۔خیر اکھٹا کرنے کے لیے ،اسے کھیل تماشے کی نظر نہیں کیا جا سکتا۔شفاف ،میٹھا پانی بھی ٹھہر جائے تو بدبو دینے لگتا ہے۔کیچڑ میں بدل جاتا ہے ،انسان کیونکر خود کو ٹھہرا کر برباد کر سکتا ہے۔کائنات کی ہر شے…..ہر شے ہمہ وقت حرکت میں ہے اور تا قیامت رہے گی۔انسان ساکن ہو کر گناہ کبیرہ کا مرتکب کیسےہو سکتا ہے۔یہ تو انسانی رتبے کی منافی ہے۔سراسر منافی ۔
”ہنستی رہا کرو امرحہ !تمہاری خاموشیاں اتنی گہری کیوں ہوتی جا رہی ہیں۔؟“دادا کو ایک بس اس کی ہی فکر تھی۔امرحہ نے دادا کو ہنس کر دیکھا دیا ۔ٹھیک اسی وقت کارل اس کے قریب سے استہزائیہ ہنس کر گزرا….اس کا انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہا ہو ….ابھی تمہاری یہ ہنسی بھی غائب کرتا ہوں۔مسئلہ ہی کوئی نہیں۔امرحہ کو جیسے آگ لگ گئی۔دادا کو اس نے بائے کہا اور سائی کے پاس آئی جوتے والے قصےکے بعد اس نے لاکھ ذہن لڑایا،لیکن کارل کو مزا چکھانے کی کوئی ایک بھی ترکیب نہیں سوچ سکی۔
”مجھے مشورا دو۔“سائی کو ساری بات سنا کر اس نے مشورا مانگا ۔”تھوڑا بہت بدلہ تو جم سے بھی لیا جا سکتا ہے ۔“سائی ہنسنے لگا ۔
”ہنستے ہوئے تم بلکل میرے دادا جی جیسے لگتے ہو۔“
”کیا تمہارے دادا میرے جیسے جوان ہیں یا میں ان جتنا بوڑھا ہوں۔“
”ہنستے ہوئے تم ان جتنے سادہ اور معصوم لگتے ہو۔“
امرحہ نے ہونٹ سکیڑے۔وہ سائی کے مشورے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔آخر اسے جم کا خیال کیوں نہیں آیا ۔گو اینٹ کا جواب پتھر تو ہر گز نہیں تھا،لیکن اینٹ کا جواب کچھ تو تھا،وہ بھی صرف پانچ پونڈ میں ۔
”مجھے مشورا دو۔“سائی کو ساری بات سنا کر اس نے مشورا مانگا ۔”تھوڑا بہت بدلہ تو جم سے بھی لیا جا سکتا ہے ۔“سائی ہنسنے لگا ۔
”ہنستے ہوئے تم بلکل میرے دادا جی جیسے لگتے ہو۔“
”کیا تمہارے دادا میرے جیسے جوان ہیں یا میں ان جتنا بوڑھا ہوں۔“
”ہنستے ہوئے تم ان جتنے سادہ اور معصوم لگتے ہو۔“
امرحہ نے ہونٹ سکیڑے۔وہ سائی کے مشورے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔آخر اسے جم کا خیال کیوں نہیں آیا ۔گو اینٹ کا جواب پتھر تو ہر گز نہیں تھا،لیکن اینٹ کا جواب کچھ تو تھا،وہ بھی صرف پانچ پونڈ میں ۔
امرحہ جم کے پاس جائے ،پہلےہمیں اس کی تاریخ تک جانا چاہیے۔تو جم کی تاریخ کچھ یوں تھی کہ وہ اکثرکلاس میں اونگھتا ہوا پایا جاتا تھا۔اب پوری یونی میں وہ اکیلا تو نہیں تھا جو یہ کرتا تھا۔کم او بیش یونی کا ایک ایک اسٹوڈنٹ اپنے پورے تعلیمی سال میں چالیس سے پچاس بار اس عظیم سانحے سے ضرور گزرتا۔کچھ اس سانحے سے زیادہ گزارتے….کچھ کم،لیکن فیض یاب سب ہی ہوتے۔کچھ کلاس میں اونگتے پائے جاتے۔کچھ ہر جگہ اور بہت سے کسی بھی جگہ…..مطلب کسی بھی جگہ…..
آپ بس میں بیٹھے ہیں،آنکھ کھلی ۔
”اوہ میں تو بہت آگے آگیا۔“جلدی سے بس بدلی ….بس چلی…..آنکھ پھرسے لگی۔
”اوف میں تو بہت پیچھے آگیا۔پہلا لیکچر گیا۔
جولی کافی لینے گئی ہے۔جولی واپس نہیں آئی ۔جولی کےکافی کے مگ جو بعدازاں ایک ہوش مند رحم دل اسٹوڈنٹ نے صرف اس خیال سے اٹھا لیے ہیں کہ کافی ٹھنڈی ہو کر بےکار ہو جائے گی اور جولی کو سوتے سے اٹھا دینا توبلکل بھی مناسب نہیں ہے۔بے چاری سو تو رہی ہے نا اور سوتے ہوئے کتنی پیاری بھی تو لگ رہی ہے۔خیر جولی کینٹین کاؤنٹر پر سر رکھے اونگھ رہی ہے اور کاؤنٹر مین اس پر پانی کی چھینٹے بھی مار چکا ہے۔لیکن جولی بدستور اونگھ رہی ہے ۔کاؤنٹر کی طرف آتے کسی مہربان نے اس کے کھلے منہ کی تصویر لےکر The tab بھیج دی ہے۔یعنی یونی کے باغوں میں ،درختوں تلے،کلاس کے دوران ،کوریڈور میں،باتھ رومز،واش رومز،بس ،ٹیوب،بازار ،کیفے،ریسٹورینٹ،لائبریری میں تو خاص طور کر اور کینٹین میں تو ضرور ہی…..کون تھا جو منہ کھول کر اونگھتا پایا نہیں جاتا تھا۔ایگزمز کےدنوں میں تو ٹیبل اور کرسیوں کے نیچے بھی،اور تو اورکوڑا دان کی آڑ میں چھپ کر بھی۔جب کوئی اس اونگھ سے محفوظ نہیں تو سزا صرف ایک جم کو ہی کیوں….اور وہ تو تھا ہی دوسری قسم والوں میں سے۔
پہلی قسم آنکھیں بند کرکے قدرتی اونگھ لینے والی…….
دوسری قسم آنکھیں کھول کر خود پر جبر کرکے غیرقدرتی اونگھ لینے والی …..دوسری قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو اپنے تعلیمی ریکارڈ کو بہتر بنانے کے لیے اور ایک اچھے اسٹوڈنٹ کا خطاب پانے کے لیے آنکھیں میچ کر نہیں انہیں کھول کر سوتے ہیں….جی ہاں …..ایسا ممکن ہے۔
مارٹن لائبریری سے کتابیں ایشو کروا رہا ہے ۔
”برائے مہربانی ذرا جلدی کریں اور مجھےیہ ایشو کر دیں۔“ہاتھ کو کتابوں پر رکھتے ہوئے۔
”یہ میرا ہاتھ ہے۔“لائبریرین ۔
”اوہ …..میں مذاق کررہا تھا۔“آنکھیں مسل کر ۔
”یہ رہیں میری تین کتابیں …..انہیں ایشو کر دیں۔“
”معذرت کے ساتھ …….یہ لائبریری کی ملکیت ہے….ہم اپنے زیر استعمال کمپیوٹر اور دیگر مشین ایشو نہیں کر سکتے۔آپ کو صرف کتابیں ہی ایشو کی جا سکتی ہیں۔“
”اوہ آپ سمجھے نہیں ،میں آپ کو ہنسانا چاہ رہا تھا۔“مزید سختی سے آنکھیں مسلتے ہوئے۔
”ویل…..تمہارے جیسے دو تین پہلے ہی مجھے بہت ہنسا گئے ہیں۔مجھ میں مزید سکت نہیں رہی ہنسنے کی…..اب یہ کام تم اپنے پروفیسرز اور یونی ڈین کے ساتھ جا کر کرو۔“
”آپ برا مان گئے، میرا مقصد محض تفریح تھا۔“
”میں اس طرف دائیں رخ کھڑا ہوں اور میرے کافی مگ پرسے بھی ہاتھ اٹھا لو…..یہ بھی ایشو نہیں ہو گا۔“
اب جیکب لائبریری آیا ہے ۔
”مجھے میری مطلوبہ کتابیں نہیں مل رہیں۔“
”ملیں گی بھی کیسے…..ہم کینٹین میں کتابیں نہیں رکھتے….ڈین کا آرڈر نہیں ہے نا۔“
زونی کینٹین گئی ہے۔
”ایک وینلا کوک….نہیں….. میرا خیال ہے مجھےکریم کافی لینی چاہیے۔ایک کریم کافی۔“
”ٹھیک ہے کتابوں کی الماری میں ڈھونڈ لو ….دو ونیلا کوک اور کریم کافی میرے لیے بھی۔“
”جانسن اپنے دوست کے کمر میں زوردار گھونسا مار کر کہتا ہے ۔
”تم نے مجھ سے بیس پونڈ لیے تھے،میرے مرنےطکے بعد واپس کرنےکا ارادہ ہے؟“
”نہیں….ایگزمز میں تمہارے پیپر چیک کرنے کے بعد ….“پروفیسر ویلم کی آواز گونجتی ہے….کوریڈور جو پروفیسر کو گھونسا پڑنے پر ساکت سا ہو گیاتھا۔فلک شگاف قہقہوں سے گونج اُٹھتا ہے….اوہ بے چارے جانسن کا اب کیا ہوگا….خدا پوچھے اس نیند سے۔
تو ہمارا جم ان دوسری قسم والوں میں سے تھا…بےچارہ…پروفیسرکا ماننا تھا کہ وہ رات بھر آورہ گردی کرتا ہے اور پھر ان ہی کی کلاس میں ایسے اونگتا ہے ،جیسے ان کا لیکچر س قابل ہی نہیں کہ اسے سنا جائے….یہ تو سراسر بے عزتی ہوئی نا۔جبکہ جم جاب کرتا تھا اور رات گئے تک پڑھتا ،آورہ گردی کا تو اس کے پاس وقت ہی نہیں تھا۔۔ایسے میں کبھی کبار بیچارہ کلاس میں اونگھنے لگتا
اسی معاملے کو لے کر دونوں کے درمیان سرد سی جنگ شروع ہو گئی اب وہ مکمل ہوش و حواس میں بھی ہے تو پروفیسر پارکر اسے ایسے دیکھتے جیسے کہتے ہوں ۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔ہاں اونگھ لو جم چوزے۔۔۔۔۔۔چلو دائر نا کرو ۔۔۔۔۔میں لوری ہی سنا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔چلو دیر نا کرو اور اونگھ لو ۔۔۔۔۔۔اس خاموش سرد جنگ سے تنگ آ کر ایک دن جم باقاعدہ خراٹے لے کر اونگھنے لگا اسے جنجھوڑنے کے بعد پروفیسر پارکر نے اسے جن نظروں سے دیکھا۔۔۔۔۔۔اس کا دل چاہا کے گریجویشن کرنے کے اپنے خواب کو آگ لگاے اور گھر چلا جائے۔۔۔۔۔
لیکن پھر اس نے ہمت کی اپنے اور پروفیسر کے درمیان سرد جنگ کو ختم کرنا چاہا،لیکن کوئی فائدہ نہیں۔۔۔۔۔ پھر اس نے ایک عملی صورت اختیار کی کے پروفیسر کو سمجھا سکے کے ایسی طنزیا اور سرد جنگ ایک سٹوڈنٹ کے ساتھ رواں رکھنے میں کتنی تکلیف ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس نے پورے پانچ دن پروفیسر کو دیکھنے میں گزارے ۔۔۔
پروفیسر پارکر کوریڈور سے گزر رہے ہیں ۔۔۔۔اپنی کلاس لینے جا رہے ہیں جم ایک ہاتھ کا فاصلہ رکھے ان کے ساتھ ساتھ چلتے انھیں اس افریکی قبائیلی کی طرح دیکھ رہا ہے جو یورپ کی گوری میمونکو دیکھ کر منہ بند کرتا اور آنکھیں جھپکنا بھول جاتا ہے ۔۔۔۔
جم مکمل سنجیدہ ہے۔۔۔۔۔جم خاموش گھور رہا ہے۔ ۔
what پروفیسر پارکر چلا کر پوچھ رہے ہیں ؟
نو جواب۔۔۔۔۔بس گھورنا۔۔۔۔۔۔۔،مسلسل گھورنا۔ ۔۔۔
پروفیسر کلاس سے باہر آ رہے ہیں جم مسلسل ساتھ ساتھ۔۔۔۔۔۔
گھورنہ جاری۔۔۔۔۔گردن کا زاویہ ایک سا۔۔۔۔۔جیسے شکنجے میں کس دیا ہو عین پروفیسر کے منہ کی سمت۔۔۔۔۔۔نا ادھر نا ادھر
پروفیسر اپنے آفس میں بند ۔۔۔۔۔آفس کے باہر جم کھڑا ہے ۔۔۔۔۔پروفیسر اگلی کلاس کے لئے آفس سے باہر۔۔۔۔۔۔جم ساتھ۔۔۔۔۔خاموشی سے استقامت سے ۔۔۔۔۔
پروفیسر جلدی سے گاری میں بیٹھ کر گاری بھگا لے گئے ہیں۔۔۔۔
اگلے دن پارکنگ میں جم پھر سے موجود ہے۔۔۔ گردن کا ٹھیک وہی زاویہ نا زیادہ نا کم ۔۔۔۔۔۔۔بلکل زومبی کی طرح
پروفیسر پارکر نے انتظامیا سے رابطہ کیا انتظامیا نے جم سے ۔۔۔۔۔وہ میرے پروفیسر ہیں مجھے ان سے پیار ہے…………….میں انھیں دیکھ سکتا ہوں یہ کوئی قابل اعتراض بات یا جرم نہیں ہے
واقعے یہ کوئی جرم نہیں تھا انتظامیا ٹھنڈا سانس ٹھہر کر رہ گئی
پروفیسر نے دو دن کی چھٹی لی تیسرے دن اے جم پھر سے پارکنگ سے ان کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔
کیا چاہتے ہو تم مجھ سے ؟پروفیسر پارکر کے اعصاب جواب دے چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔
جم خاموش۔۔۔۔۔گھورنا جاری ۔۔۔۔۔۔ان کے ساتھ ساتھ سایے کی طرح ۔۔۔۔اللّه ایسی کری آزمائش سے بچاے۔۔۔۔۔۔دنوں میں پروفیسر پارکر اور جم یونی میں مشحور ہو گیے
مختلف ڈیپارٹمنٹ سے سٹوڈنٹ آ رہے ہیں یہ تماشا دیکھتے تصویریں لے رہے ہیں ویڈیو بنا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گروپ کی صورت اسے زیرے بحث لا کر قہقے لگا رہے ہیں _لیکن جم خاموش ہے۔
سنجیدہ ہے اپنے کام سے لگا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔تو کوئی ایک ہفتے بعد جم نے پروفیسر پارکر کی جان چھوڑی۔۔۔۔۔ظاہر ہے آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کے اس کے بعد پروفیسر نے کلاس میں یہ معلوم کرنے کی قطعاً کوئی کوشش نہیں کی ہوگی کے اخیر یہ خراٹوں کی آواز آ کہاں سے رہی ہے نیا نیا جم اور پروفیسر پارکر کا واقع ہوا تھا تو ایک لڑکا جم کے پاس آیا اور اسے پانچ پونڈ دئے جو پروفیسر کے ساتھ کیا ہے وہی مسز بینڈ اوف اسٹون کے ساتھ بھی کر دو جم نے پانچ پونڈ رکھے اور ایک دن کے لئے مسز بینڈ آف سٹون کے پیچھے لگ گیا آہستہ آہستہ جم کی خدمات دوسرے اسٹوڈنٹس نے بھی حاصل کرنی شروع کر دیں تو جم نے کچھ اصول وضع کر لیے——اب جب بھی کام کرنا ہی تھا تو ذرا طریقے سے کر لینا چاھیے تھا نا .
ایک دن کے یونی کے صرف 5 پونڈ——-بس’ٹیوب سے شکار کے پیچھے پیچھے رہائش گاہ تک دس پونڈز……. .درمیان میں دو گھنٹے کی بریک…….رات اور چوبیس گھٹنے کے بیس پونڈز …..یعنی شکار کے پیچھے پیچھے جم بازاروں ‘گلیوں ‘شاپنگ سینٹر تک جائے گا…….صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رکھ کر….زومبی. …اسٹائل میں گردن کو ایک ہی زاویے پر اکڑائے جم از گھورنگ.
ذیادہ تر صرف یونی کا ہی پیکیج لیتے …….بہت کم دوسرا بیس پونڈز کا پیکیج بھی لیتے.جم کے فن کے دوسرے رہنما اصول.
“اسے رشوت نہیں دی جا سکتی’سکتی’ بے شک شکار اسے اپنا کریڈٹ کارڈ پکڑا دے یا پچاس ہزار پونڈ ہاتھ سے دے…”
شکار کا کوئی قصور ہونا ضروری ہے.معصوم لوگوں کو وہ تنگ نہیں کرے گا اور اگر بعد ازاں ثابت ہو گیا کہ شکار معصوم تھا تو اسے پانچ پونڈ دینے والے کے ساتھ وہ یہی سب مفت میں کرے گا.تو جب جم ڈیوٹی دیتا تو یونی میں قہقہے بلند ہوتے.
“جم از آن ہز ورک ( جم اپنے کام پر).”
مشن امبیکا…..ڈپارٹمنٹ بیالوجی…عمر بیس سال ….انتہائی تیز طرار بد تمیز نمک مرچ لڑکی’قصور ….اپنی کلاس فیلو روزلین کے لمبے قد پر پھبتیاں کس نا اور اسے مسز ایفل کے نام سے ڈیپارٹمنٹ میں مشہور کر دینا.
ہاتھ میں پانچ پونڈ لے کر امرحہ جم کے پاس آئی.
کارل’بزنس ڈیپارٹمنٹ ‘بد تمیز’انتہائی بد تمیز’میرے ہاتھ سے کتابیں چھین کر لے گیا’پھر انہیں ضائع کر دیا.مجھے بھاری جرمانہ بھرنا پڑا. پھر میرا جوتا کاٹ دیا.پورے ڈیڑھ سو پونڈ کا تھا میرا جوتا…….”
ڈیڑھ سو کے لفظ پر جم نے اسے بڑے غور سے دیکھا کہ”میں!اتنے پیسے خرچ کر لیتی ہو…ہارٹ فیل نہیں ہوتا تمہارا؟”
امرحہ نے جوتے کی قیمت حسب زنانہ عادت بڑھا چڑھا کر بتائی تھی. ورنہ وہ دور دور تک اتنے کا نہیں تھا.اتنے کا ہوتا تو امرحہ کی پہنچ سے دور ہی رہتا نا.
جم نے سر ہلایا ‘یعنی ہاں ……”ویسے امرحہ کا دل بیس پونڈ پیکیج لینے کا چاہ رہا تھا.پر کارل پر وہ اتنے پیسے لگانا نہیں چاہتی تھی.اپنی دو کلاسز لینے کے بعد امرحہ کا دل کارل کا حال دیکھنے کے لیے چاہا.وہ اسے آرٹ اسکول کی طرف جاتا دیکھا گیا ہے .کارل کا آرٹ اسکول میں کیا کام’یعنی جم بھی وہیں ہو گا.جب وہ آرٹ اسکول داخل ہوئی تو کوریڈور میں اسے تیں لوگ نظر آئے .کارل …..جم…..آنا…..آنا جم کی منگیتر ہے. آف وہ کارل تھا .امرحہ اسے ہرا نہیں سکتی تھی.منظر کچھ یوں تھا کہ جم اپنے انداز میں گردن کو کارل کی طرف فکس کیے گردوپیش سے بے گا نہ ہوئے’گھور رہا تھا اور ٹھیک جم کے ہی انداز سے کارل جم کی بھولی بھالی’سرخ گالوں والی پیاری سی منگیتر آنا کو گھور رہا تھا.
اب جہاں جہاں آنا’وہاں وہاں کارل اور جم.
آتے جاتے سب اس ڈرامے کو دیکھ رہے تھے’بلکہ جا تو کوئی نہیں رہا تھا.پلٹ پلٹ کر واپس آ رہے تھے.دیکھنے کہ اس براہ راست شو کا اینڈ کیا ہوتا ہے.آنا خونخوار نظروں سے جم کو گھور رہی تھی’ساتھ ساتھ اسے کھڑی کھڑی سنا رہی تھی.اسے دھمکی دے رہی تھی.
“میں نے کہا جم بند کو ‘اپنی یہ فضول حرکت ابھی.”
“جم…..ابھی کوئی ردعمل نہیں.”
“جم ….اگر تم نے ابھی کے ابھی یہ سب فضولیات نہیں چھوڑیں تو میں بہت برا کر گزاروں گی تمہارے ساتھ……جم…..”آنا چلائی.
جم ہنوز اپنے کام میں مصروف …..
غصے اور شرمندگی سے آنا کے گال اور کان سرخ ہوگئے۔ اس نے آس پاس نظر دوڑائی، سب انھیں ہی دیکھ رہے تھے۔ جم کارل کے پیچھے پڑا تھا تو بدلے کے طور پر کارل جم کی منگیتر کے پیچھے۔
آنا نے غصے سے ابلتے ہوئے جم کے ہاتھ پر زوردار چٹکی بھری پر مجال ہے جو جم نے سی بھی کی ہو۔
یعنی تم میری بات نہیں مانو گے۔۔۔
اب انا بےچاری کی آواز بھیگ گئی۔ امرحہ کی قسمت ہی خراب۔۔۔ کیا ضرورت تھی جم کو یونی میں اپنی منگیتر رکھنے کی۔۔۔
اسطرح بزنس تو نہیں ہوتے نا۔۔۔ اسکے پانچ پونڈ ضائع ہوگئے۔ کارل کو کیا کوفت ہوئی الٹا جم ہی کوفت کا شکار ہو رہا لوگا اندر ہی اندر۔۔ اب 5 پونڈ کے لیئے اپنی سویٹ ہارٹ کو ناراض تو نہیں کرے گا یقیناً ۔۔۔
اور پھر بیس منٹ تک جم کو بے نقط سنانے اور نم آنکھیں رگڑنے کے بعد بھی جم کے انہماک میں فرق نہ آیا تو آرٹ اسکول کی سب سے خوبصورت لڑکی آنا نے انگلی سے انگوٹھی اتار کر جم کی جیب میں ٹھونس دی۔۔
پاپا ٹھیک کہتے تھے تم انسان کے نام پر ایک بن مانس ہو۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔۔۔
سوں سوں کرتی آنا چلی گئی۔۔۔ سب تو یہ توقع کر رہے تھے کہ آنا جم کو ایک تھپڑ سے نوازے گی لیکن وہ تو اسے بن مانس ثابت کرکے چھوڑ لی گئی تھی۔
امرحہ دور سے بھی دیکھ سکتی تھی کہ کارل زیرِ لب ہنسا ہے ۔ امرحہ پاؤں پٹختی وہاں سے چلی آئی۔ کیونکہ جم آخر کار سوں سوں کرتی آنا کے پیچھے بھگ کھڑا ہو تھا۔
اگر دادی یہ منطر دیکھ لیتیں تو جم اور آنا کے پاس کاریں اور کہتیں۔۔۔
بیٹا جم مل گیا سبق۔۔ اب اس امرحہ سے دور رہنا۔۔۔کہو تو میں تمہیں اسکی ہسٹری شیٹ سنا دوں۔۔۔۔
لیکن اب کوئی فائدہ نہیں۔ تمہارے ساتھ جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا اور کافی برا ہوچکا۔۔۔
کارل پاگلوں کی طرح ہنس رہا تھا۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا مانچسٹر یونی کو انگلی پر فٹبال کی طرح گول گول گھما کر اپنی فتح کا واضح اعلان کرے اور کہے کون ہے جو مجھے زچ کر سکے۔
••••••••••••••••••••••••••••
مانچسٹر یونی اسٹوڈنٹ اور چند دوسرے ملکوں کی اسٹوڈنٹس کی سوسائٹیوں نے مقامی برطانوی خاندانوں سے ملاقات کا اہتمام کیا تھا۔ ان ملاقاتوں کا مقصد ایک دوسرے کے معاشرے، رسم و رواج تاریخ، رحجانات وغیرہ کے بارے میں جاننا تھا۔ ایسی ملاقاتیں قربت کا باعث بنتی ہیں۔۔۔ امرحہ نے اپنا نام پہلے سے ہی دے دیا تھا اور امرحہ کو اوکے کر دیا گیا تھا۔ مختلف ملکوں کے اسٹوڈنٹس کا بیس رکنی گروپ مسٹر اینڈ۔سز پاؤل کے گھر پہنچ گیا جہاں پاؤل خاندان کے ساتھ دو اوع خاندان موجود تھے۔ مسٹر اینڈ مسز ایڈم اور مسٹر اینڈ۔سز گڈل اوران تین خاندانوں کے ٤ عدد شرارتی اور ایک سیکنڈ میں ساٹھ سوال پوچھنے جیسے بچے۔
ملاقات کے لیئے لان میں نشست کا انتظام کیاگیا تھا۔ دھند ستمے اٹے لان میں کوئلے کی دو بڑی انگھیٹیاں رکھی گئی تھیں۔۔ اسکے چاروں اطراف نشستیں لگائی گئیں تھیں۔ پھولوں کے گلدستے جابجارکھے گئے تھے۔ بھالو سے سفید کتے بھی ادھر ادھر گشت کر رہے تھے۔۔ گھر کی عمارت دھند میں لک چھپ جارہی تھی۔ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی اور ہی جزیرے پر آچکے ہوں۔۔۔ انہیں اتنے اچھے خیر مقدم کی ر
توقع نہیں تھی۔امرحہ کے پاس صوفے پر ایک نو سالہ بچی اسکرٹ میں ملبوس بیٹھی تھی اور امرحہ حلف اٹھانے کو تیار تھی کہ بچی بہت ہی معصوم نظر آرہی تھی۔
تم کس نسل سے ہو۔۔؟ یہ اسکا پہلا سوال تھا۔، وہ اتنی معصوم تھی ۔
امرحہ نے تم کس شہر سے ہو۔کس مذہب ،کس ذات کی ہو ،جیسے سولات تو سنے تھے،یہ نسل والا سوال اس نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔
”میں پاکستانی ہوں…..پاکستانی مسلمان ہوں۔“امرحہ نے گڑبڑا کر ادھر اُدھر دیکھا کہ کوئی اور تو ان کی گفتگو نہیں سن رہا ۔وہ کیا گھوڑا تھی جو اپنی نسل کا اتاپتا رکھتی۔
”وہ تو ٹھیک ہے،میں نے تعارف میں سن لیا تھا۔میں نسل کا پوچھ رہی ہوں۔“
”تم کس نسل سے ہو؟“امرحہ خاک نہ سمجھی۔الٹا اس سے پوچھ ہی لیا ۔
اس کا منہ ہی بن گیا ۔”میرے سوال کا جواب تو دیا ہی نہیں ،میں نے ابھی اپنا ڈی این اے نہیں کروایا۔لیکن مجھے شک ہے میں ریڈ انڈین نسل سے ہوں۔“
”اوہ مجھے یاد آگیا۔میں بھی ریڈ انڈین….نسل سے ہوں۔“
”تم نے اپنا ڈی این اے کب کروایا تھا۔کس عمر میں ؟“بچی جو ہیری پورٹرکی خالہ تھی نے شک سے گھورا ۔
”دو سال پہلے۔“ ”تم ریڈ انڈین نہیں ہو سکتیں۔“بچی نے باقاعدہ اس کی آنکھوں کی پتلیوں میں اپنی ایکس ریز پتلیاں گاڑکر یقین سے کہا۔
”کیوں نہیں؟“
”تم اپنی بھنوؤں کی بناوٹ دیکھو…..تم سکندر کی نسل سے تو ہو سکتی ہو،لیکن ریڈانڈینز سے ہر گز نہیں،میرا مشاہدہ مجھے دھوکا نہیں دے سکتا ۔“
امرحہ گھوم کر رہ گئی۔”بھنوؤں سے کیا ہوتا ہے۔میری رپورٹ یہی کہتی ہےکہ میں ریڈ انڈین نسل سے ہی ہوں۔“
بچی نے اپنی پتلیوں کے ایکس ریز تیز کر دیے۔”تم ہو ہی نہیں سکتیں۔میں نے بہت ریسرچ کر رکھی ہے۔ایشیا میں ریڈانڈینز کے جینز نہیں ملتے۔“
ماشاءاللہ جس بارے میں امرحہ پہلی بار سن رہی تھی ،نو سالہ بچی اس پر تحقیق بھی کر چکی تھی۔
”بس میں تو ریڈ انڈین ہی ہوں ۔مجھے نہیں معلوم کہ تمہاری ریسرچ کیا کہتی ہے اور تم بھول رہی ہو تمہارے بڑے سو سال تک ہندوستان رہے ہیں۔ایسا ہونا ممکن ہے ۔“
”میرے بڑے رہے ہیں،لیکن ریڈ انڈینز نہیں۔تم مجھے اپنی رپورٹ دیکھا سکتی ہو ۔“
”وہ پاکستان میں ہے۔“امرحہ کو یقین تھا کہ بچی کو ٹالنا ناممکن سا تھا۔
”تم اپنے خاندان سے کہو ،تمہیں میل کر دیں۔میں ابھی پڑھنا چاہتی ہوں “
”میں اپنے سب کام خود کرتی ہوں۔اتنے معمولی سے کام کے لیے بھی میں اپنے خاندان والوں کو زحمت دینا نہیں چاہتی۔“امرحہ تو ایک جھوٹ بول کر پھنس گئی ۔بھلا کہہ دیتی مجھے نہیں معلوم میں کس نسل سے ہوں ۔بچی سے اسے دیکھتی رہی اور اگلا سوال اس کے منہ سے نکلتے دیکھ کر امرحہ نے انگلی سے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور کورین لڑکے کی طرف اشارہ کیا ،جو کسی ایک مسز کی فرمائش پر اپنا دیسی گانا سنانے جا رہا تھا۔ایڈم خاندان کے گیارہ سالہ جیری نے گٹار بجایا۔ساتھ وہ سب چائے کے ساتھ فش اینڈ چپس کا ٹچ پائی کھاتے رہے ۔برطانوی لوگوں کو پائی کی نت نئی قسمیں بہت مرعوب ہوتی ہیں،چائے تو ویسے ہی ان کا مشروب ہے۔کورین گانا ختم ہوا تو انہیں ایسٹر پر نت نئے انداز سے پینٹ کیے جانے والے انڈوں کے بارے میں بتایا گیا اور ٹوکری بھر کر انڈے ان کے آگے پیش کیے گئے۔انہیں کچھ خاندانی البمز دیکھائے گئے۔ساتھ انہیں موقع دیا گیا کہ ان کے خاندان ،رہن سہن اور دیگر باتوں کے بارے میں وہ سب سوال جواب کریں۔اس دوران ڈی این اے بچی مسلسل امرحہ کا جائزہ لیتی رہی کہ وہ کیسے ہنس رہی ہے ،کیسے کھا رہی اور کس قسم کے سولات پوچھ رہی ہے۔اس نے چپکے سے امرح —

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: