Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 28

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 28

”سنا ہے…..ہندوستان میں زبردستی شادیاں کروا دی جاتی ہیں۔“مسز ایڈم نے پوچھا۔
”میں ہندوستانی نہیں ،پاکستانی ہوں۔“امرحہ بڑی جزبز ہوئی۔
مسز ایڈم ہنسنے لگی”تم سب پاکستانی انڈین ہندوستانی کہالئے جانے پر اتنا چڑتے کیوں ہو۔ہندوستانی سے مراد برصغیر ہوتا ہے۔تم لوگ ہمیں یورپین کہتے ہو۔ہم نہیں چڑتے،جبکہ برطانیہ اور امریکہ میں بھی کبھی ایسا ہی ماحول تھاجیسا انڈیا اور پاکستان میں ہے۔ہندوستان سے مراد ایک خطہ ہےجو بلاشبہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔جسے یورپ میں” جادو نگری“ کہا جاتا ہے۔میرے رشتے کے چچا جب اپنے کاروبار میں دیوالیہ ہو گئے تو انہوں نے ہندوستان کا سفر کیا۔پہلے وہ بنارس گئے اور پھر سندھ…واپسی پر ان کا کہنا تھا کہ ان شہروں کر سفر نے انہیں پاگل ہونے سے بچا لیا۔بنارس میں وہ سادھوؤں کے ساتھ وقت گزارتے رہے اور سندھ میں پیروں فقیروں کے ساتھ۔“
امرحہ خاموش ہو گئی اور مسز ایڈم کے پوچھے گئے سوال کے بارے میں سوچنے لگی۔امرحہ کو ڈر تھاکہ اس سے یہ سوال پوچھا جائے گا اور وہ پوچھ لیا گیا ۔
”ایسا نہیں ہے۔جہاں تعلیم اور سوچ کی کمی ہے۔وہاں یہ سب ہوتا ہے،اسلام نے تو سختی سے لڑکا لڑکی کی مرضی پوچھنے کا حکم دیا ہے۔معاملہ کوئی بھی ہو اسلام جبر کا مخالف ہے۔جبر کی کوئی گنجائش نہیں اسلام میں۔“
”اور یہ جو غیرت کے نام پر قتل کیے جاتے ہیں۔لندن میں ایک پاکستانی لڑکی کو اس کے باپ اور بھائی نے مار کر تہ خانے میں دبا دیا تھا۔“مسز ایڈم بولیں۔امرحہ کےہونٹ خشک ہو گئے۔
”جس نے ایک انسان کاقتل کیا ،وہ کل انسانیت کا قاتل ہے۔اسلام ہمیں یہ سبق دیتا ہے۔زور زبردستی کی تو کوئی گنجائش نہیں ،تو قتل کی کیسے ہو گی،وجہ کچھ بھی ہو جو لوگ ایسا کرتے ہیں،وہ لوگ اسلام کے دائرے سے باہر نکلے ہوئے ہیں۔یہ ان کا ذہنی جنون ہیں،ہمارا مذہب،ہمارا قانون،ہمارا معاشرہ نہ اس کء اجازت دیتا ہے ،نہ ہی تعلیم ،یہ اپنے گناہوں کے خود ذمہ دار ہیں۔افسوس یہ ہے کہ یہ خود کو مسلمان کہلواتے ہیں،ایک اچھا مسلمان ہرحال میں وہی کرتا ہے جو چودہ سو سال پہلے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔نہ کم نہ زیادہ،ٹھیک ٹھیک وہی۔ہم سب بھی ایسے لوگوں کو اتنا ہی ناپسند کرتے ہیں،جتنا آپ لوگ کرتے ہیں۔“
سب اس کی باتوں کو بغور سنجیدگی سے سنتے رہے اور سر ہلاتے رہے۔
باری باری پھر سب کے خاندانوں کے بارے میں پوچھا گیا۔
”یعنی تمہارے وہاں ابھی بھی خاندان بڑے بڑےہوتے ہیں۔گڈ….کیا گھر بھی بڑے بڑے ہوتے ہیں رہنے کے لیے؟“امرحہ نے اپنے خاندان کے بارے میں بتایا تو اس سے پوچھا گیا۔
امرحہ گڑبڑا گئی،یعنی کچھ کنبے جتنے زیادہ بڑے تھے۔گھر اتنے ہی چھوٹے تھے۔ان کے اس سوال کا مقصد طنز نہیں تھا۔وہ صرف یہ معلوم کرنا چاہتےتھے کہ کیا لوگوں کے پاس اتنے وسائل ہوتے ہیں کہ وہ بڑے کنبے بنا کر انہیں پال بھی لیتے ہیں۔امرحہ کہاں سے چھوڑتی کہاں سے بتاتی،ان کے گھر صفائی کرنے والی آپا کے گیارہ بچے تھے اور وہ ایک کمرے کے کرائے کے گھر میں رہتی تھیں۔
دادا کے ایک دوست کے سات شادی شدہ بیٹے پانچ کمروں کےایک گھر میں رہتے تھے۔
”سب مل جل کر رہنا پسند کرتے ہیں۔“سو باتوں کی ایک بات امرحہ نے کر دی۔
”اگر کسی خاندان میں چار پانچ ،بیٹے ہو تو…..کیا وہ ایک ہی گھر میں ہمیشہ رہیں گے۔“
”گھر کی سربراہ ماں پانچوں بچوں کو ایک ہی گھر میں اپنے پاس رکھنا چاہیں گی۔“
”ایک ہی گھر میں ….پانچوں کو ان کی بیویوں اور بچوں کو ؟“
”جی سب کو …..اگر ان میں سے کوئی ایک بھی کسی وجہ سے کہیں الگ رہائش اختیار کرنا چاہیے گا تو والدہ رہ رہ کر اپنا برا حال کر لیں گی۔“
”کیوں،وہ روئیں گی کیوں؟“تینوں خواتین نے مشترکہ Aww(آؤ) کیا۔
”وہ کسی ایک کو بھی خود سے جدا نہیں کرنا چاہیں گی۔“
”بچے بڑے ہو جائیں، خاص کر ان کی شادیاں ہو جائے تو انہیں الگ زندگی شروع کرنی ہی ہوتی ہے۔ہر ایک کو پرائیوسی چاہیے ہوتی ہے۔یو نو پرسنل اسپیس۔“
”کیا بات کر رہی تھی مسز گڈل….“امرحہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی۔”پاکستانی مائیں کیا جانیں،پرسنل اسپیس یا پرائیوسی….انہیں تو اپنےلال اپنی آنکھوں کے سامنے چاہئیں۔“
”بس وہ انہیں اتنا پیار کرتی ہیں کہ ان کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہنا چاہتیں۔“
”اور بیٹے….وہ کیا کہتے ہیں؟“ مشترکہ آؤ کے بعد پوچھا گیا۔
”بیٹے بھی وہی چاہتے ہیں جو ماں جی چاہتی ہیں۔“
AWW(آؤ)
تینوں خواتین اپنی نم آنکھیں صاف کرنے لگیں۔وہ پاکستانی مشترکہ خاندانی نظام سے متاثر نظر آرہی تھیں۔امرحہ انہیں دادا دادای،نانا نانی، وغیرہ کرداروں کے بارے میں مزید بتانےلگی کہ کیسے وہ بچوں کی تربیت کی ذمہ داری اپنے سر لے لیتے ہیں اور خاندان کو جوڑے رکھنےمیں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
”اسی لیے مشرقی لوگ جو مغرب کا سفر کرتے ہیں تو اپنے گھروں کو یاد کر کے روتے ہیں۔“مسز ایڈم ٹشو سے آنکھیں رگڑنے لگیں۔
امرحہ ترچھی نظروں سے تینوں خواتین کو دیکھتی رہی۔اس نے یہاں اپنی بہترین پرفارمنس دی تھی۔ڈی این اے بچی خاموشی سے امرحہ کے پاس بیٹھی اسے ہمہ تن گوش سن رہی تھی۔امرحہ کو صرف ایک اس بچی سے ڈر تھاکہ کہیں وہ اسے غلط نہ ثابت کر دے۔
”تم اپنے گھر کو یاد کرکے روتی ہو ؟“ڈی این اے بچی نے پوچھا۔
اب امرحہ اسے کیا بتاتی کہ اسے تو اس خیال سے ہی رونا آجاتا تھا کہ اسے کبھی تو واپس گھر جانا ہی ہے۔
”نہیں….ابھی مجھ پر یہ نوبت نہیں آئی۔“
پاکستانیوں کی کوئی ایک خوبی بتاؤ؟
وہ مشکل حالات میں بھی زندہ رہنا جانتے ہیں۔
امریحہ نے جھٹ سے کہا۔ ۔۔
مانچسٹر والوں کی کوئی ایک بری خوبی بتاؤ؟ امریحہ نے پوچھا
ہم بد ترین حالات کو بدلنا جانتے ہیں اس نے مضبوط قوت ارادی کے تاسر کے ساتھ کہا۔۔۔۔
امریحہ دنگ سی دیکھتی رہ گئی ان سب کے ساتھ گروپ فوٹو لی گئی ۔۔۔
مسٹر ایڈم نے ان کے لئے ایک چھوٹی سی تقریر کی جس کے آخری جملے کو امریحہ نے ڈی این اے بچی کی طرح کاپی میں نوٹ کر لیا۔۔۔
There are never any winners or any looser participation is remembered that and enjoy the challenge of each moments as it Aries now…
امریحہ اپنے ساتھ گیر استعمال شدہ ایک گرم شال اور ایک کشمیری طرز کا شولڈر بیگ لے گی تھی اور ایک پاس یہ تنوں چیزیں اس نے ان تنوں خواتین کو پیش کی اور ان تنوں کے چہرے ایسے دھمکنے لگے جیسے انہیں بیش قیمت جواہرات پیش کر دئے گئے ہوں جاتے ہووے ان سب کو ہوم بیک پایی دی گئی۔ڈی این اے بچی نے اسے اپنا ای میل اڈریسس دیا کے امریحہ ہر صورت اسے اپنی رپورٹ بیجھ دے
امریحہ اسے ضرور بیجھ دے گی اگر وو اپنا ڈی این اے کروانے میں کامیاب ہو گئی تو اور خوش قسمتی سے وہ ریڈ انڈین بھی نکل آئ تو۔ ۔۔۔
مانچسٹر پکاڈلی گارڈن میں 230 فٹ اونچا سٹار فلائیر جھولا تھا
امریحہ دیکھو گی دو سو تیس فٹ کی بلندی سے مانجسٹر کیسا لگتا ہے؟ یونی کے باغ میں گم سم بیٹھا دیکھ کر ویرا نے قریب آ کر اسے لالچ ڈی اور زبردستی اسے اپنے ساتھ بیٹھا کر پکاڈلی گارڈن لے آئ کچھ وہ اداس تھی کے قریب سے گزرتے عالیان کو اس نے ہائی کہا تو وہ اتنی تیزی سے آگے بڑھ گیا جیسے وہ اس سے کوئی خیرات مانگ رہی ہو اور وہ اسے خیرات دیتے دیتے تھک گیا ہو اور کچھ وہ اپنے ذہن کو کہیں اور لگانا چاہتی تھی تا کے کم سے کم سوچ سکے کے وہ مانچسٹر کو دو سو تیس فٹ کی بلندی سے دیکھنے کے لئے جھولے میں بیٹھ گئی لیکن دو سو تیس فٹ کی بلندی سے اسے مانچسٹر تو کہیں نظر نہیں آ رہا تھا وہاں سے تو موت نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔۔موت ۔۔۔۔۔
ویرا نے اس کی قمر میں گھونسا جڑا خاموش بیٹھو امریحہ۔
لیکن امریحہ نے دور۔۔۔۔ بہت دور دھندلے ہوتے مانچسٹر کو جیسے آخری بار دیکھا اور سارے مانچسٹر کو گواہ بنایا میں مرنے جا رہی ہوں۔ ۔۔او مجھے بچا لو۔۔۔۔۔ہائے مجھے بچا لو
وہ ایسے چلائی۔ ۔ایسے چلائی۔۔اور چلاتی ہی رہی کے بہت سے وقتی بہرے ہو گئے
یونی کے کئی سٹوڈنٹس سٹار فلائییر میں موجود تھے۔گول گول جھومتے جھولے میں بیٹھے انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں تھونس لی ویرا نے سختی سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا۔مرنے والے کے کوئی ایسا کرتا ہے بھلا ؟ وہ مرنے جا رہی ہے بھلا چلائے بھی نا؟ دادا۔۔۔۔۔دادی جی۔ ۔۔۔۔۔
وہ تو اس لئے بھی سٹار فلائییر میں بیٹھ گئی تھی کے روسی کومانڈو ویرا کے سامنے اس کی سبکی نا ہو۔پر سبکی بہتر تھی۔ ۔۔۔۔ بہ نسبت موت کے ہے نا؟ تم اتنا ڈرتی ہو زمین پر آتے ہی ویرا نے اس کے بازو پر زور دار چوٹکی بھری امریحہ سن سی نا ہو چکی ہوتی تو اس چٹکی پر چلا اٹھتی۔
مجھے نہیں پتا تھا میں اتنا ڈرون گی۔۔۔۔۔۔ویسے ایسے ڈرتی نہیں آج نا جانے کیوں ڈر سی گئی۔۔۔۔۔۔۔امریحہ صاف جھوٹ بول رہی تھی۔۔۔۔مجھے یقین ہوگیا تھا یہ سٹار فلائییر کا آخری رائیڈ تھا۔۔۔۔تم مر جاتی اپر ہی حکومت اسے بین کر دیتی۔۔۔۔
شکر تھا وہاں کارل نہیں تھا۔۔۔۔۔امریحہ آس پاس شرمندہ سی دیکھ رہی تھی جو لوگ ان کے ساتھ بیٹھے تھے وہ بھی کڑے تیوروں سے گھور کر گزر رہی تھے ہمارا تو مزہ خراب کر دیا یو یونی چک۔۔۔۔۔۔۔
huh
امریحہ رات کو سوئی تو پھر سے دو سو تیس فٹ کی بلندی پر تھی۔۔۔آنکھ کھلی تو سادھنا اور این او این اس کے سرحانے کھڑی تھی۔۔۔۔۔ویرا نے ضرورت محسوس نہیں کی تھی آنے کی۔۔۔۔۔۔۔
کوئی برا خواب دیکھ لیا؟ سادھنا اسے پانی پلانے لگی
میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔شکریہ آپ دونو جائیں۔۔۔۔۔
این اون اسکی ہتھیلیاں مسل رہی رہی تھی ۔۔۔جب تم ٹھیک ہوتی ہو تو اس طرح سے چلاتی ہو؟ این اون نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کار کہا اور کمرے سے چلی گئی۔ ۔۔۔
کوئی پریشانی ہے تمھے؟ سادھنا اس کے قریب بیٹھ گئی
نہیں۔
تم پہلے جیسی نہیں رہی۔۔۔۔
پہلے جیسی کیسی؟
تم مرجھا گئی سی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے لگتا ہے تمہارے اندر کچھ سوکھتا جا رہا ہے۔ ۔۔۔
تھک جاتی ہوں میں۔ ۔۔۔
کاش یہ تھکن ہی ہو۔ ۔۔۔۔۔۔اور تم بلکل ٹھیک ہو ۔۔۔۔۔۔سادھنا اس کے بال چھو کر چلی گئی۔ ۔۔۔۔
کاش یہ خواب ہی ہو اور کھڑکی کے پیچھے عالیان کھڑا ہو۔

Read More:  Beauty and the Vampire Novel by Zaha Qadir – Episode 5

کڑوٹ بدل کار اس نے سونے کی کوشش کی۔۔۔۔۔اگلے دن اسے شرو ع کے دو لیکچر چھوڑ کر اسے ایک پاکستانی گھر جانا پڑا۔۔۔۔۔۔۔سادھنا کی قمر میں بہت درد تھا اس لئے وو اپنی ڈیوٹی دینے نہیں جا سکتی تھی لیکن خاتون بہ ضد تھی ان کے گھر شام کو پارٹی تھی’ اس لئے سادھنا ہر صورت اپنا کام کر کے جائے۔۔۔۔۔سادھنا کو قمر پر ہاتھ رکھے کراہتے دیکھا تو امریحہ نے اس کی جگہ جا کر کام کی پیش کش کی جو سادھنا نے بہت مشکل سے مانی۔ ۔۔۔۔خاتون نے اس سے سارے گھر کا اتنا کام لیا کے وہ واپس یونی جانے کے قابل نہیں رہی۔
یونی۔ ۔۔۔۔جاب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پڑھائی اسے یہ سب پہلے مشکل لگتا تھا۔لیکن اب وہ اسکی عادی ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔زندگی تھوڑی سی مشکل تھی۔ ۔۔۔۔بدترین نہیں۔۔۔۔۔۔۔ہاں جو سکون اس کے پاس ہوا کرتا تھا اب وہ کہیں نہیں رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اسی دوران اسے اپنے ڈیپارٹمنٹ کے سٹوڈنٹ کے ساتھ شیکسپئر کے اسٹیج ڈرامے دیکھنے کا اتفاق ہوا’شیکسپئر کے لکھے ڈرامے اچھے تھے۔بہ کمال ہوتے تھے لیکن اسٹیج پر آ کر انہوں نے حد کر ڈی تھی۔ ۔۔۔۔اتنے زبردست آنکھ جھپکے بنا دیکھتے جاؤ دوسرے سمسٹر میں کورس کی نویت بدل گئی تھی اور وہ مشکل لگنے لگا تھا۔ ۔۔۔۔یونی میں مشہور تھا کے جب تک پہلے سمیسٹر کی کتابوں سے دوستی ہونے لگتی ہے
اور سمسٹر ختم ہو جاتا ہے اور دوستی جو ہوتے ہووے رہ چکی ہوتی ہے وہ ایگزیم میں دشمنی نبھا کر جاتی ہے۔ ۔۔
نہیں۔ ۔۔۔نہیں اس میں بیچارے سٹوڈنٹس کا کوئی قصور نہیں وہ کتابوں کو بھی ایسے ہی سر پر سوار کرتے ہیں
جیسے فیس بک’ ٹویٹر اور یو ٹیوب کو۔۔۔۔۔۔۔
انہیں انہیں پڑھنے کی بھی اتنی جلدی ہوتی ہے جتنی لاگ ان ہونے کی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریحہ کو ٹافورڈ شاپنگ سینٹر میں بالی وڈ ڈھابہ اچھے معاوضہ پر جاب افر ہوئی لیکن اس نے انکار کر دیا….اس کا دل نہیں چاہا اپنا سٹور چھوڑ کر جانے کے لیے…..وہاں سات سیلزمین اور دو منیجر تھے وہ ان سب کی عادی ہو چکی تھی۔بغیر کسی وجہ کہ ان سے وابستگی محسوس کرتی تھی۔
امرحہ تبدیلی کو پسند بھی کرتی تھی اور تبدیلی سے خائف بھی رہتی تھی…..اس نے اپنی زندگی میں ایک چیز کے لیے پورے شدت سے تبدیلی کہ خواہش تھی….اپنے ماحول کے بدل جانے کی…..پاکستان میں اس کےلیے بنا دئے گئے ماحول میں اس کا دم گھٹتا تھا….وہ وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔اور اب یہاں ….یہاں اسے ہر چیز کے ساتھ گہری وابستگی محسوس ہوتی تھی…..یونیورسٹی کے ساتھ….اپنی کلاس کے ساتھ….کلاس میں موجود اپنی نشست کے ساتھ،کلاس ڈور تک کے ساتھ….یونی کےایک ایک درخت کے ساتھ،گھاس کے ایک ایک قطعہ کے ساتھ….یونی میں جابجا ایستادہ خاموش مشہور شخصیات کے مجسموں تک کے ساتھ بھی…..ہر چیز اسے اپنا آپ محسوس کرواتی تھی….اس سے باتیں کرتی تھی….وہ جانتی تھی وہ مانچسٹر میں مہمان ہےاور یہی چیز اسے کرب میں مبتلا کر دیتی تھی…..آکسفورڈ روڈ پر واقع چرچ کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر وہ کبھی کبھی دادا سے بات کر لیا کرتی تھی ورنہ خاموش بیٹھی آتی جاتی ڈبل ڈیک بسوں کو تکا کرتی تھی اور ہنستے ہوئے مسکراتے باتیں کرتے اسٹوڈنٹس کو کس قدر حسرت لیے دیکھا کرتی تھی…..کبھی کبھی وہ بھی ہنسنے والوں میں شامل رہی تھی …..بےفکری تھی…..چرچ کی سیڑھیوں پر اکیلے بیٹھنے کی نوبت وہ خود پر خود لےآئی تھی….اور اکثر وہ وہاں پائی جاتی…..اور سوچا کرتی کہ اگر اسے پاکستان جانا ہے تو ان سب چیزوں کو اُٹھا کر اپنے ساتھ لے جانا ہے…..یہ سب جو اس کا اپنا نہیں تھا لیکن جس نے اسے اپنا بنا لیا تھا…..یہ سب اپنا ہے….یہ سب اپنا نہیں رہے گا…..یہ یہیں رہ جائے گا….اگر یہ سب یہیں رہ گیا تو وہ تو خالی ہاتھ رہ جائی گی نا…..تو کیا مانچسٹر اسے سب دے کر سب واپس بھی لے لے گا …..دوسرے سمسٹر نے اس پر خوف طاری کر دیا تھا۔دوسرا سمسٹر بھی ایک دن ختم ہو جائے گا ،تیسرا اور چوتھا بھی….بس پھر سب ختم….چلو گھرواپس…..اسی ماحول میں جس میں وہ نجس تھی…..وہ رات کو مانچسٹر میں سوتی…..صبح آنکھ کھلتی تو لاہور ماڈل ٹاؤن اپنے گھر میں ہوتی …..دادا کے کمرے کی کھڑکیوں سے روشنی لکیر بناتی عین اس کی آنکھوں عین اس کی آنکھوں پر برس رہی ہوتی۔تلملا کر وہ آنکھ کھولتی سامنے ہی دادا اور اس کی مشترکہ دیوار پر جگمگا رہی ہوتی….وہ چیخ مار کر اُٹھ جاتی۔
”میں لاہور کب آئی….مانچسٹر کہا گیا ؟“
اس کی دل کی ڈھرکن کی رفتار خطرناک حد تک بڑھ جاتی،شٹل کاک کے نیم اندھیرے کمرے میں وہ گہری گہری سانسیں لے رہی ہوتی ،اُٹھ کر کھڑکی تک جاتی،باہر مانچسٹر پر نظر دوڑاتی…..اسے پھر بھی لگتا یہ خواب ہی ہے….حقیقت میں تو وہ ماڈل ٹاؤن اپنے گھر کے بیڈ پر سوئی یہ خواب دیکھ رہی ہے…..
وہ ویرا کو فون کرتی …..”ویرا ! صبح یونیورسٹی جانا ہے۔“
”نہیں….صبح تمہیں الیکٹرک چیئر پر بیٹھایا جانا ہے….صبح تمہاری موت کا دن ہے…..ویرا چلا کر کہتی۔
وہ کہی بار اس بے چاری کو ایسے ہی تنگ کر چکی تھی۔
”تمہیں یہ راتوں کو کیا دورے پڑتے ہیں امرحہ ….“صبح ویرا پوچھتی۔
وہ اب اسے اپنے دوروں کی کیفیت کیا سمجھاتی کہ جب اس کی آنکھ لاہور میں کھلتی ہے تو اس پر کیا گزارتی ہے….
وہ سائی کےپاس اگلی صبح آئی …..
”سائی !میں نے خواب میں دیکھا کہ تمہاری شادی ہو رہی ہے۔“
”اچھا !“وہ مسکرانے لگا ۔”کیا اب مجھے یہ نہیں پوچھ لینا چاہیے کہ کس کے ساتھ؟“
”ہاں پوچھ لو….لڑکی کا چہرہ تو نظر نہیں آیا لیکن اس نے چولی پہن رکھی تھی ہاتھوں میں گول گول مہندی لگا رکھی تھی۔“
بسنت بہاری رنگوں نے سائی کے وجود کا احاطہ کیا ۔
”سنا ہے خواب اُلٹےہوتے ہیں جیسے وہ نظر آتے ہیں اس سے
”یہ اُلٹ نہیں ہو گا….میرے دادا کہتے ہے فجر کے وقت دیکھے گئے خواب سچے ہوتے ہیں۔“
”کیا واقع ؟“بسنت بہاری رنگ پھر سے اس کے وجو کے گرد اڑانیں بھرنے لگے۔
”مجھے حیرت ہےکہ تم نے میرے لیے خواب دیکھا ۔“
”مجھے حیرت نہیں ہے….ہم باقاعدہ دوست نہ سہی ،ہم میں ایک تعلق تو ہے….تم نے کتنی بار سنا ہے مجھے….“
سائی کی آنکھیں نم ہو گئیں وہ Say it all تھا .پوری یونی اس کے پاس آتی تھی ….اور وہ…..اس کے پاس کوئی نہیں ہو گا شاید ۔
”میں جذباتی ہو رہا ہوں ،مجھے تمہارا خواب اچھا لگا ۔“
”کیا تم مجھے اپنی شادی میں بلاؤ گے؟“
”کیا تم میری شادی میں آؤ گی…..ہاں ضرور آنا ….عالیان کے ساتھ….اوہ….“اس نے اپنی زبان پکڑی ….وہ واقع جذباتی ہو رہا تھااس کی زبان پھسل گئی تھی….مطلب عالیان بھی اس کے پاس آیا تھا ….شاید آدھی رات کو آیا ہو….اسے جگا کر بورڈ کو اس کے پاس ٹکا کر ….یا اسے اپنے ساتھ چہل قدمی پر آمادہ کرکے…..بہار سے پہلے اور بہار کے بعد نجانے وہ کتنی بار آچکا ہو گا سائی کے پاس ….امرحہ سے ملنے کے بعد اور امرحہ کو چھوڑ دینے کے بعد
سائی کے سامنے قہقہہ لگاتےہوئے….سائی کے سامنے آنسو چھپاتے ہوئے….
ایک بار امرحہ نے عالیان سے پوچھا تھا ۔
”تم کبھی سائی کے پاس گئے ہو ؟“
”ہاں !“وہ شرارت سے مسکرانے لگا …..مسخری ہنسی….
”تم ایسے کیوں ہنس رہے ہو ؟“
”ایسے کیسے ؟“
”مسخری سے….“
”مجھے تو پتہ ہی نہیں کہ میں مسخری ہنسی ہنس رہا ہوں۔“
”ایک بار میری بہن بھی ایسے ہی ہنسی تھی میں نے اس کے بال پکڑ لیے تھے…..دوبارہ نہیں اس نے مجھے چڑایا تھا…..“
”میں تمہیں چڑا تو نہیں رہا….البتہ تم میرے بال پکڑ سکتی ہو….ویسے بال پکڑ کر تم کیا کرتی ہو….؟“
”میں نے اس کا سر دیوار میں دے مارا تھا…..“
غیر ارادی طور پر عالیان اس سے ایک قدم دور ہوا…..اپنا سر بچانے کے لیے…..امرحہ نے فلک شگاف قہقہہ لگایا۔
”مجھے یقین دلاؤ کہ تم مذاق ہی کر رہی ہو ….“وہ رک کراسے دیکھنے لگا۔
”میں نے ایسا کیا ہے….“امرحہ کو اس کی حیرت اچھی لگی۔
”تم بہت چھوٹی ہو گی تب نا…..“حیرت سے اس کی آنکھیں امرحہ پر ٹھہر سی گئیں۔
”نہیں میں فرسٹ ایر میں تھی تب…..“
”اور اس کاکیا بنا ؟“بائیں ہاتھ کی پہلی انگلی کو اس نے بائیں آنکھ کے کنارے رکھا ۔
”کس کا میری بہن کا ؟“امرحہ کو اس کی حیرت اچھی لگی۔
”نہیں، اس کے بے چارے سر کا ….؟“
”ٹھیک ہی رہا ….بس اب وہ ذرا تیز آواز میں بات کرے تو اس کے سر میں ٹیس اُٹھتی ہے…..“امرحہ نے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا ۔
”کیا اب بھی تم تیار ہو اپنے بال پکڑوانے کے لیے۔“
”نہیں….بالکل نہیں…..“وہ اپنے سر کو اس سے 215
اور دور لے گیا.
“پھر بتاو تم نے سائی سے کیا کہا ……میرے بارے میں ہی کچھ کہا ہو گا….”
“تمہیں یہ یقین کیوں ہے کہ تمہارے بارے میں ہی کچھ کہا ہو گا…..”
“تمہارے ہنسنے کے انداز سے …….کیا تم نے اسے یہ بتایا ہے کہ میں بھیں بھیں کر کے روتی ہوں اور ایسا کرتے کس قدر بڑی لگتی ہوں….یا تم نے اسے یہ بتایا ہے کہ میں نے تمہیں تھپڑ مار دیا تھا…..؟”
عالیان لب دبائے اپنی ہنسی دبانے کی کوشش کرتا رہا اور جب مزاقا “صرف اسے ڈرانے کے لیے امرحہ نے ہاتھ اسکے بالوں کی طرف بڑھائے تو وہ قہقہہ لگاتا ہوا بھاگ گیا.
“میں اب اسے یہ بتانے جا رہا ہوں کی وہ تم جیسی خونخوار جنگ کی بلی سے بچ کر رہے…..”جاتے ہوئے وہ کہہ کر گیا.
سائی دیکھ رہا تھا کہ امرحہ چپ کی چپ ہی رہ گئی ہے……
“امرحہ….”سائی نے اسے متوجہ کیا.
خاموشی سے سائی کو دیکھ کر امرحہ اسکے پاس سے چلی آئی…..اور بزنس ڈیپارٹمنٹ آ گئی.
کاش آج تو اسے عالیان نظر آ جائے…..اور کوریڈور میں دیوار کے ساتھ سر ٹکائے’ ایک سیدھی اور ایک ترچھی ٹانگ کھڑی کیے اپنے آئی فون کے ساتھ مصروف وہ اسے نظر آ گیا…..امرحہ کو خود کو دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ اتنے بڑے مانچسٹر میں اکیلی رہ گئی ہے ….جبکہ اسے دیکھ کر اسنے جانا تھا کہ اکیلا ہونا کسے کہتے ہیں……
وہ ایسے خاموش کھڑا تھا جیسے اسکی زبان نے کبھی کلام کی زحمت ہی نہیں اٹھائی..نہ وہ یہ خواہش رکھتی ہے…..کوئی اتنا خاموش ہو سکتا ہے کہ اس پر یہ گمان گزرے ….عالیان پر یہ گمان پختہ ہو رہا تھا…..جن بہاروں کو ساتھ لیے وہ چلا کرتا تھا’ان سب بہاروں کو خفا کیے ان سے خفا ہوئے وہ بے نور سا کھڑا تھا اسے دیکھ کر مسکرانے پر مائل لوگ مسکراہٹ روک لینے پر مجبور ہو جاتے تھے……امرحہ کو اسکی اس شبیہ نے شاکر و جامد کر دیا….کیا یہ عالیان ہے؟
“تم یہاں ایسے کیوں کھڑی ہو؟”ویرا پیچھے سے آئی اسکے ہاتھ میں کافی مگ تھے.
“میں….میں تمہیں ڈھونڈنے آئی تھی.”
“کیا میں گم ہو چکی ہوں….کب؟”
“مجھے تمہارا فون چاھیے تھا’دادا سے بات کرنی ہے…..میرے فون میں کچھ مسئلہ ہے’لاو اپنا فون دکھاو…..”وہ ویرا تھی……ویرا…زیرو….زیرو….
سیونٹی (0070)
“تم اپنا فون دے رہی ہو یا نہیں……”امرحہ نے برا ماننے کی اداکاری کی.
“اپنا فون دو’میں ٹھیک کر دیتی ہوں پاگل. …”
“وہ خبر تھا میں گھر کر چھوڑ آئی ہوں….”امرحہ کی قسمت خراب کہ اسی وقت اسکے بیگ کی اوپری جیب میں رکھے فون پر کسی کا میسج آیا…..کس پاگل نے اسے اس وقت میسج بھیجا تھا. ….یہ کوئی وقت تھا بھلا….ویرا نے دائیں آنکھ کی کمان اچکائی”یعنی دوں تو گھر ہے نا امرحہ…..ہے نا…..؟”
“اوہ یہ تو میرے پاس ہی ہے ….”امرحہ کی اداکاری عروج پر تھی.
“اور بھی کچھ دیکھ لو… کیا کیا تمہارے پاس ہی ہے جسے تم گمشدہ سمجھے بیٹھی ہو.”
“یہ کافی کس کیلیے ہے؟”
“میرے اور عالیاں کیلیے.”
نجانے کیوں لیکن اسے لگا کہ گرم کافی ویرا نے اس پر انڈیل دی ہے…. وہ ہے کون عالیان کے لیے کافی لے جانے والی…. اور عالیا کیوں پیئے گا اسکی کافی….جی نہیں ……..نہیں پیتا وہ ایسے ویسوں کی کافی ٹوئیٹ …… سوچ کا یہ ریلہ ایک دم سے اسکے ذہن میں آیا….. وہ تیزی سے جانے لگی اور جاتے جاتے اپنے ایشین فلیگ کے نام سے مشہور ہو چکے دوپٹے کو تیزی سے سنبھالنے کی آسکر ایوارڈ اداکاری کرتے ویرا 216
کی کافی گرا بیٹھی۔
اوہ سوری۔۔۔ کریمی ایوارڈ اداکاری۔۔۔
ویرا کی دائیں آنکھ کی کمان پھر سے اچکی امرحہ۔۔۔۔
ویرا نے اتنا ہی کہا تھا کہ امرحہ جلدی سے واپس پلٹ آئی۔۔۔ عالیان اس سے ناراض ہے۔۔ ٹھیک ہے ایسا ہی ہے۔۔۔
لیکن اسکا مطلب یہ تو نہیں کہ۔۔۔ کہ۔۔۔
خیالات کا ہجوم اسکے دماغ میں جھکڑ کی طرح چلنے لگا۔۔۔ وہ عالیان کو دیکھنے کیوں گئی تھی۔۔۔ کیوں۔۔۔؟ یہ سوال اسکے اندر بازگشت بن گیا۔۔۔
سب ٹھیک ہوجائے گا یا بس سب ختم ہوجائے گا۔۔۔؟ امرحہ بلاوجہ یونی کے چکر لگانے لگی۔۔۔
اسے کسی پل چین نہیں تھا۔۔۔ سو جھوٹ سچ بول کر اس نے اپنے آپ کو تسلی دے لی تھی۔۔۔ تو وہ تسلی قائم کیوں نہیں رہ رہی تھی۔۔۔ وہ پاگل بنی بلاوجہ یہاں ست وہاں گھوم رہی ہے۔۔۔
یہ کیا تم تتلی بنی چکرارہی ہو۔۔۔؟ کسی نے کبھی اسکے پیچھے آکر کہا تھا۔۔۔
میں یونی گھوم رہی ہوں
میں تمہیں روز ہی یونی گھومتے دیکھتا یوں۔۔۔ کتنا گھومنا ہے تم نے۔۔۔؟؟؟
مجھے ایسا کرنا پسند ہے۔۔۔ لیکن ٹھہرو۔۔۔ تم روز میرا پیچھا کرتے ہو۔۔۔؟
ایک دم اسکے چہرے کے رنگ بدلے جیسے اس کی چوری پکڑی گئی ہو۔۔
ایسی باتیں معلوم ہو ہی جاتی ہیں۔۔۔
تم میری جاسوسی کرتے ہو نا۔۔۔؟؟
اسے جاسوسی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔۔۔
بیگ میں سے اس نے
دو لولی پاپ نکالے ایک خود کھانے لگا ایک اسکے آگے کیا۔۔۔
کیا تم دائم کے لیئے کام کر رہے ہو۔۔۔ اسے یہ خوف رہتا ہے کہ یونیورسٹی میں، میں ضرور کچھ الٹا سیدھا کرکے پاکستان کا نام لے ڈوبوں گی۔۔۔اسے میری سمجھداری پر شک کیوں ہے آخر۔۔۔؟
لولی پاپ منہ میں لگائے وہ جی جان مگا کر ہنسا۔۔۔ تم باتوں کو کتنے رخ دے ڈالتی ہو امرحہ۔۔۔! تم ایسی باتیں کرنا کہاں سے سیکھتی ہو۔۔ نہ میں تمہاری جاسوسی کر رہاہوں۔۔۔ نہ ہی دائم نے مجھے تمہارے پیچے لگایا ہے۔۔۔ ویسے پاکستان میں تم کافی مقبول رہی ہوگی۔۔۔
امرحہ سناٹے میں آگئی ۔۔۔ اب اسے کیسے معلوم یہ۔۔۔
اس بات سے تمہارا کیا مطلب ہے۔۔۔؟؟؟ اسکا رنگ فق ہو گیا۔
لولی پاپ منہ سے نکال کر وہ بلند و بانگ قہقہے لگانے لگا۔۔۔ تمہاری شکل بتارہی ہے کہ میری بات کو پھر سے تم نے اپنی مرضی کا رنگ دے ڈالا ہے۔۔ تم باتوں کو اپنی مرضی کا رنگ دیتی ہو۔۔۔اور ایسے غصہ کرتی ہو ۔۔۔ بھڑکتی ہو۔۔۔اور چڑ جاتی ہو۔۔۔ کتنا زرخیز دماغ ہے تمہارا امرحہ۔۔۔ میں نے آج تک اتنا زرخیز دماغ کسی کا نہیں دیکھا۔۔۔امرحہ نت نئی سوچوں کی عظیم کاشتکار۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔
یہ پکڑو اپنا لولی پاپ۔۔۔ میں نہیں کھاتی یہ ۔۔ بچی نہیں ہوں میں۔۔۔ وہ برا مان گئی اور آگے بڑھ گئی اور وہ لولی پاپ پکڑے اسکے پیچھے ہولیا۔۔۔ اور تب تک اسکے پیچھے ہی رہا، جب تک اس نے وہ لولی پاپ کھا لیا۔
خود سے اور سوچوں سے تھک کر امرحہ نے خود کو تھکا ڈالا۔۔۔ ایسی تھکن جو کسی آرام اور دوا سے جانے والی نہ تھی۔۔۔
**********************
“کھیل تماشا” کتاب دس بار سے زیادہ لیڈی مہر کو سنائی جاچکی تھی۔۔۔ ماسٹر بالی اور رجنی نے شٹل کاک میں دیر تک راج کیا تھا۔۔۔ لیڈی مہر کا دل ہی نہیں بھرتا تھا اس کتاب کو سن سن کر۔۔۔ اور امرحہ کو ایسے یاد ہو گئ تھی کہ وہ آرام سے شروع سے آخر تک تقریر کی طرح اسے سنا سکتی تھی۔۔۔ دسویں بار تو امرحہ نے کتاب پکڑنے کی زحمت ہی کی تھی ورنہ کتاب تو اسے ازبر ہو چکی تھی۔
پھرامرحہ انہیں ایک محبت سو افسانے سنانےلگی….نہیں نہیں اشفاق احمد کے لکھے نہیں یونیورسٹی میں لکھے جانے والے چلتے پھرتے افسانے۔
”سائی کی طرف سے تو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا لیکن دیپا گجرات سے ہے اور سنا ہے اس کے خاندان والے خاصے روایتی ہیں….انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ دیپا ایک سیاہ فام عیسائی کو پسند کرنے لگی ہے تو مشکل سے ہی اسے ایک بھی دن یونی میں رہنے دیں…..“
لیڈی مہر سر ہلاتی رہیں انہیں سائی کی کہانی نء جذباتی کر دیا تھا۔
”مجھے تو عالیان کی فکر ہونے لگی ہے تمہاری کہانیاں سن سن کر…..“
امرحہ نے لیڈی مہر کو دیکھ کر نظریں چرا لیں۔
”شارلٹ بھی آنے والی ہےفون آیا تھا اس کا …..عالیان بھی شاید کسی نمونے کو پسند کر چکا ہو گا ….“وہ خاموش سی ہو گئیں۔
”عالیان کتنا بھی انکار کرے میں جلد ہی اس کی شادی کر دوں گی…..وہ کہتا ہے کامیاب بزنس مین بن جاؤں گا تو سوچوں گا ….لیکن تب تک شاید میں دیکھ نہ سکوں….مجھے انکار تو نہیں کرے گالیکن میں زبردستی نہیں کرنا چاہتی…..“
آپ اس سے بہت پیار کرتی ہیں نا ؟“
”نہیں ….وہ مجھ سے بہت پیار کرتا ہے ….اس کی محبت مجھے حیران کر دیتی ہے….میں نےایک سال پہلے اسے منع کیاتھا کہ مجھ سے پوچھے بغیر گھر نہ آیا کرے….دیکھ لو میری سالگرہ کے علاوہ وہ کبھی مجھ سے پوچھے بغیر گھر نہیں آتا….وہ کچھ نہ کہے مجھ سے….میرے لے کچھ خاص نہ کرے….مجھے خبرہو جاتی ہے کہ میرے دس بچوں میں سے سب سے زیادہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے….دوسرے بچے احسان مند ہو کر عقیدت میں مجھ سے محبت کرتےہیں لیکن جب پہلی بار میں نے اسے گود میں بٹھایا اور اس کی روتی ہوئی آنکھوں کو چوما تو وہ ایسے میرے سینے سے لگ گیا جیسے مجھ میں سما جائے گا ….وہ مجھ سے بار بار پوچھتا ۔میں اسے چھوڑ کرتو نہیں جاؤں گی….اس کی ماں کے بعد میں دوسری عورت ہوں جس سے وہ بےتحاشا محبت کرتا ہے اور مجھے یقین ہےتیسری عورت اس کی بیوی ہو گی جس پر وہ قربان ہی ہو جائے گا ….عالیان بہت سمجھ دار ہےلہکن بعض معاملات میں وہ بہت شدت پسند بھی ہے۔“
”عالیان کے ماں باپ،خاندان ….اس نے ہمت کرکے پوچھا ۔ایک بار پہلے بھی اس نے یہ ہمت کی تھی اور لیڈی مہر نےکہا تھا کہ وہ اپنے بچوں کے ماضی کے بارے میں ان کے علاوہ کسی اور سے بات کرنا نہیں چاہتیں،یہ بہت احساس معاملہ ہے۔
”تم عالیان کی دوست ہو امرحہ…..!لیکن یہ غلطی کبھی نہ کرنا۔اس سے اس کے ماضی کے بارے میں پوچھنے کی ….ایک بار میں نے کوشش کی تھی۔اس نے مجھ سے درخواست کی تھی کے میں اس بارے میں کبھی بات نا کروں۔وہ تکلیف سے گزرنا نہیں چاہتا’اتنے سے ذکر پر وہ کی دن گم سم رہا تھا۔ایک دن وہ ٹھیک ہو جائے گا میں جانتی ہوں۔ہر دکھ اور صدمے کے بھرنے کا اپنا ایک الگ وقت اور انداز ہوتا ہے۔میرے لئے تو یہی کافی ہے کے وہ اپنی زندگی میں خوش باش ہے’ بہت مشکل سے میں نے اسے ٹھیک کیا تھا’ جب تک وہ اور ٹھیک نا ہو جائے میں اور کسی کو اسے تکلیف نہیں دینے دوں گی۔ ۔۔۔۔۔چاہے وہ کوئی بھی ہو۔خاندان کے نام پر اس کے پاس صرف ایک ماں تھی .جو جوانی میں ہی مر گئی۔۔۔۔اب میں ہوں اسکا خاندان۔۔۔۔۔۔۔اس لئے مجھے یہ ڈر لگا رہتا ہے کے وہ کسی ایشیائی لڑکی کو پسند نا کر لے۔ذات پات اور خاندان یہ سب ایشیائی لوگوں کے لئے بہت اہم ہوتا ہے ایک سال پہلے یونی میں عالیان کا ایک دوست بنا تھا’ پاکستان سے تھا۔اچھا دوست تھا اسکا لیکن جب اسے معلوم ہوا عالیان کی ماں ایک عیسائی عورت تھی تو اس نے آہستہ آہستہ عالیان سے تعلق ہی ختم کر لیا کہاں وہ عالیان کو اپنی زمینوں اور باغوں کی سیر کو بلا رہا تھا۔۔۔۔۔عالیان بہت آبدیدہ ہوا اس لڑکے کے سلوک سے زمانہ جاہلیت میں جو لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے جو مشرک تھے پھر مسلمان ہو گئے لیکن ان میں سے بہت سوں کے گھر والے مسلمان نہیں ہووے تھے تو کیا جو مسلمان ہو چکے وہ اس لیے قابل نفرت رھیں گے؟ کے ان کے خاندان کے لوگ ابھی بھی مشرک ہیں؟ جب عالیان چھوٹا تھا میں نے اسے بتایا تھا کے اس کے کاغذات میں دو مزہب لکھے گئے ہیں مسلمان اور عیسائیت۔ ۔۔۔۔اسے دونوں مذاہب کی تعلیم ڈی گئی میں نے اس سے درخواست کی کے وہ بالغ ہونے تک ایسا کوئی کام نا کرے جو اسلام کے منافی ہو اور اس نے میری درخواست مانی۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے عیسائی بچے بھی پالے ہیں امریحہ! لیکن میں نے ان کی مزہبی تعلیم میں کبھی اپنی خود غرضی کو آڑے نہیں آنے دیا۔۔۔۔۔میں چاہتی تو سب بچوں کو اسلام قبول کرنے کے لئے کہ سکتی تھی وہ مجھ سے اتنے متاثر تھے کے فورا میری بات مان لیتے۔۔۔۔۔وہ مجھے خدا کے بعد کا درجہ دیتے تھے۔ ۔۔لیکن میں اپنی ذات میں چھوٹی ہو جاتی۔۔۔۔۔میرے دو بیٹے اسلام کی سٹڈی کر رہے ہیں۔۔۔اللّه کو منظور ہوا تو وو اسلام قبول کر لیں گے شارلت اور مورگن کبھی غیر مناسب لباس نہیں پہنتی۔۔۔۔۔میرے لئے اتنا ہی بہت ہے میری روایات میں سے کچھ کو انہوں نے اپنایا۔۔۔۔۔وہ مجھے وضو کرواتے رھے ہیں ۔ ۔۔۔۔میں قران پڑھا کرتی تھی تو میرے پاس آ کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔۔۔۔اذان پر خاموش ہو جایا کرتے ہیں۔ ۔۔۔انھیں یاد ہوتا ہے رمضان کب اے گا؟عید کب ہو گی؟ جو احدیث اور احکام انھیں سنائے ہیں وہ انہیں یاد ہیں۔۔۔۔۔
دیکھو امریحہ!ہم سچی محبت میں سب کچھ کر سکتے ہیں۔۔۔۔سب۔ ۔۔۔لیکن تنگ دلی’ خود گرزی اور تعصب کو دل سے ختم کرنا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دل کو صاف کرو۔۔۔۔۔پاک کرو تو ہی محبت مقدس ہو کر اڑتی ہے ۔۔۔۔جیسے خدائی ہستیوں پر خدائی پیغامات نازل ہوتے ہیں ۔۔۔۔محبت بھی تو خدائی پیگام ہوتی ہے محبت حساب کتاب سے بری ہوتی ہے دل میں بال برابر فرق بھی ہو تو محبت اپنا رخ بدل لیتی ہے ۔۔۔۔منہ پھیر لیتی ہے ۔۔۔۔اس کے ابدی قیام کے لئے وجود کو پاکیزہ رکھنا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔
امریحہ خاموش تھی۔ اسے خاموش ہی رہنا تھا
چند دنوں بعد اس نے ایک سوٹڈ بوٹڈ آدمی کو تیز آواز میں نشست گاہ میں بحث کرتے سنا نشست گاہ کا دروازہ بند تھا پھر بھی آوازیں باہر آ رہی تھی
کون ہے یہ؟ امریحہ نے سادھنا سے پوچھا
معلوم نہیں سال ڈیڑھ سال پہلے آیا تھا کافی بحث کر کے گیا تھا ۔۔۔۔
پولیس بلوانی پڑی تھی،بعد میں یہ گھر کے اطراف میں گھومتاپھرتا دیکھا گیا تھا۔“
امرحہ نے رات کو لیڈی مہر سے پوچھا تو انہوں نے سختی کا ایسا تاثر دیاکہ امرحہ معذرت کرکے اٹھ آئی۔
”یعنی دور رہو اس معاملے سے“….اور امرحہ دور ہو گئی…
رات کو وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھی پڑھ رہی تھی کہ اس نے عالیان کو دیکھا ….یہ پہلی بار تھا اسے دیکھ کر اسے بہت برا لگا….اس کی سائیکل کے پیچھے ویرا بیٹھی تھی….شٹل کاک کے باہر اسے اتار کروہ چلا گیا اور وہ ذرا سی لنگڑاتی ہوئی اندار آگئی….
”کیاہوا تمہارے پاؤں کو ؟“امرحہ نے بڑے تنقیدی نظروں سے اس کے پیر کو دیکھا ۔اسے اس کی پیر کی قطعا کوئی فکر نہیں تھی….
”سٹرک پر گر گئی تھی۔ہلکی سی چوٹ آگئی ہے….“
”تمہاری سائیکل کہاں ہے….؟“
”آج تو میں سائیکل پر گئی ہی نہیں….“
”تو تم واپس کیسے آئی ہو؟“
ویرا نے بڑے آرام سے اسے دیکھا ”امرحہ ! تم نے کھڑکی سے دیکھ تو لیا ہے کہ مجھے عالیان چھوڑ کر گیا ہے۔“
امرحہ کو خاموش ہونا پڑا…یعنی اس کا پاؤں ٹوٹا تو اس نے عالیان سے کہا کہ مجھے گھر چھوڑ آؤ….رات کے اس وقت….اور وہ بھی آگیا….
رات گہری سیاہ ہو گئی….اور نیند سے اُڑان بھر لی….ساری رات آسمان سے سیاہی برستی رہی….سب کچھ اس سیاہی کے لبادے میں ملفوف ہو گیا…..اس کے لیے اگلی کہی راتیں سونا دوبھرہو گیا۔اس نے پھر ہمت کی عالیان کے پاس جانے کی….دوبارہ گئی اور اس کی پشت دیکھ کر سہم کرپلٹ آئی۔وہ آنکھیں جو اسے دیکھ کر جگمگایا کرتی تھیں اب اسے پہچاننے سے بھی انکاری ہو جاتی تو وہ رو سی پڑتی….اور پھر ایک بار وہ اسے پکارنے کی جرات کر بیٹھی۔
”عالیان !“وہ اپنے کسی دوست کے ساتھ بات کر رہا تھا،دوست چکا گیا تو وہ اس کی طرف پلٹا….اتنی دیر لگی اسے پلٹنے میں…
اس سے اگلی بات نہ ہوسکی اور گھبرا کر اس نے بیگ میں سے ایک عدد چاکلیٹ اس کے آگے کی….
”یہ لو میری طرف سے ٹوئیٹ….“
ایک لمحے کے لیے ہی صیح لیکن وہ حیران ہوا…..
”میں تمہارے لیے لائی ہوں…..“امرحہ نے مسکرانےکی کوشش کی جبکہ وہ رو دینے کو تھی۔
”میں ٹوئیٹ نہیں لیتا۔“اس نے اپنا رخ موڑ لیا۔
”تو مجھے دے دو….میں ابھی بھی لیتی ہوں….“اس کی پشت سے وہ بولی…..آواز کانپ رہی تھی اور وہ خود بھی…..
عالیان نے ذرا سی گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا وہ لاجواب ہو چکا تھا….صرف ایک لحظے کےلے وہ پرانا عالیان نظر آیا اور وہ پھر تیزی سے آگے بڑھ گیا جیسے کسی بھولے بھٹکے انسان نےاسے راستہ پوچھنے کے لیے روکا تھا۔
کتنا کچھ بدل گیا ہے….کتنا کچھ بدل رہا ہے…..
امرحہ نےاسے دور تک جاتے دیکھا….اور جب وہ نظر آنا بند ہو گیا تو پلٹ گئی….جس وقت وہ پلٹی اس وقت عالیان نےاسے بہت دور سے خود کو مکمل چھپا کر جاتے دیکھا۔

Read More:  Us Bazar Mein by Shorish kashmiri – Episode 13

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: