Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 29

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 29

اسے اس کےپیچھے جانے کی کوئی حاجت نہیں رہی تھی نہ ہی وہ یہ چاہتا تھاکہ وہ اس کے پیچھے آیا کرے۔اسے خود کو اس سے دور ہی رکھنا تھا وہ خود کو دور ہی لے گیا تھا لیکن ……
رات بھر جاگنے کے بعد وہ منہ اندھیرے حال سے نکل گیا تھا۔گھٹن کا یہ عالم تھا کے اسے لگتا تھا زمین اور آسمان آپس میں مل رھے ہیں اور وہ ان دونوں کے درمیان دب کر مر جائے گا۔پہلے وہ ھال کے باغ میں آیا اپنا سانس بھال کرنا چاہا لیکن ایسا نا کر سکا اور اسے تیز تیز سڑک پر بھاگنا پڑا۔ہر چیز اسے خوف زدہ کر رہی تھی۔اس کا دم گھوٹ رہی تھی۔ ۔وہ بھاگتا رہا۔۔۔بھاگتا رہا شہر کے اندر ہو کر بھی شہر سے دور نکل گیا۔
اگر وہ کسی سے بھاگ رہا تھا تو وہ کسی اس کے اندر تھا اور اس کسی کو وہ اپنے ساتھ لئے بھاگ رہا تھا وہ کسی ایک مارگریٹ تھی ایک ولید البشر۔۔۔۔۔ایک سسکیاں بھرتا ہوا’ ایک دھتکارتا ہوا وہ لوگوں سے سجا میدان حشر تھا اور ہر طرف خون ہی خون تھا۔مارگریٹ کی معصومیات کا’ شدت کا ‘،عقیدت کا’ محبت کا۔ ۔۔۔۔
آخری چیز کوڑیوں کے مقابل دوسرے پلڑے میں رکھی گئی تھی اور بے وزن رہی تھی اس وقت اسے اپنی ذات سمیت دنیا کے کسی عجوبے میں دلچسپی نا رہی تھی
اسے کسی عروج’ کسی کامیابی ‘، کسی زندگی کی چاہ نا رہی’ اپنی ذات کی حکمرانی میں اس نے ایک غلام کی حثیت اختیار کر لی۔نئے جہانوں کی دریافت کے خواب پست ہووے۔یہ خیال ہی اسے دیوانگی لگا کے اب وہ پہلے کی طرح ٹھیک ٹھیک زندہ رہ سکے گا۔اس پر ہر خیال گراں گزرا سوائے موت کے خیال سے۔۔۔۔اس پر وارد ہونے والی چیزوں میں آگے بھی موت رہی اور پیچھے بھی۔۔۔۔اول بھی آخر بھی ۔۔۔۔۔ضروری بھی اور اشد بھی۔۔۔۔
وہی سب اسکے ساتھ ہونے لگا جو مارگریٹ کے ساتھ ہوا تھا’ اپنے بیٹے سے بے تحاشا محبت کے باوجود وہ اس کے لئے زندہ نا رہ سکی اور ولید البشر کے ساتھ نفرت کے باوجود وہ اسکے لئے مر گئی۔۔۔
اس میں قصور مارگریٹ کا نہیں تھا اس میں قصور اس در فنا کا تھا جو محبت کی مٹھی میں بند ملتا ہے
ایک ہی رات میں یہ در فنا اس کے وجود کی سیپی میں آن براجمان ہوا اور وہ اس کیفیت میں آ گیا جس میں پل سی چھلانگ لگائی جاتی ہے کنپٹی پر پستول رکھ دی جاتی ہے اور ٹریگر دبانے میں تامل نہیں کیا جاتا یا سر کے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ کار درودیوار سی ٹکڑیں مری جاتی ہیں اور دل کے مقام پر مکے مارے جاتے ہیں
یہ نقطہ فنا ہوتا ہے۔ بس مٹ جانے کی خواہش اسکا آگاز ہوتا ہے۔وہ قبرسستان مارگریٹ کے پاس بھی گیا تھا وہ وہاں مارگریٹ کے مرنے کے بعد پہلی دفع خود چل کر گیا تھا کڈز سینٹر میں بچوں کے قبرستان جانے کا انتظام کیا جاتا تھا لیکن وہ سختی سی انکار کر دیا کرتا تھا اسے مارگریٹ کے پاس نہیں جانا تھا جو اب تابوت میں تھی کیا تھا اگر وہ اس ایک کمرے کے تابوت میں خود کو زندہ مردہ رکھنے پر قدرت رکھ لیتی اب وہ اس کے پاس آیا تھا تو اس کے ہاتھ میں پھول نہیں تھی آنکھوں میں آنسو بہت تھے ۔۔۔۔
مارگریٹ کی قبر کو مسلتے ہاتھیلی کے ساتھ اس کے اپنے اندر سی کچھ گوشت کے دھیمی آنچ پر چلنے بساند آنے لگی اس نے خود کو سونگہا۔۔۔۔۔۔۔پاگلوں کی طرح سونگھا۔۔۔۔۔۔۔وہ تو مارگریٹ بن رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اسے خوف آیا۔ ۔۔۔وہ وہاں سی بھا گا اسے مارگریٹ تو نہیں بننا تھا جب کے وہ مارگریٹ ہی بن رہا تھا یعنی وہ مارگریٹ سی ملنے نہیں اس کے تابوت میں جگہ لینے گیا تھا وہ مانچسٹر سی دور ہو گیا تھا۔۔۔اس نے زمین کی حدوں سی نکل جانا چاہا۔وہ بے سمت سفر کرتا رہا وہ ایک ہی ٹرین میں ایک ہی نشست پر دن بھر’ رات بھر بیٹھا رہتا وہ کسی بھی ایک شہر کی ایک سڑک پر کڑوڑوں بار چکراتا رہتا چابی کے گوڈے کی طرح۔۔۔۔چلتا تو چلتا ہی رہتا رکنا فراموش کر دیتا بیٹھتا تو صدیاں گزار دیتا وہ فیصلے کی کفیت میں تھا نا نتیجے کی۔۔۔۔وہ آر تھا نا پار….بس وہ گم ہو چکا۔۔۔۔۔۔اور خود کو ڈھونڈنے کی رتی برابر کوشش نا کرتا ہوا عالیان تھا۔جیسے اس پر سب اشکار ہو چکا تھا اور وہ سب سے انجان بھی تھا
دیکھو میں کود جاؤں گی ولید۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں میں کود ہی جاؤں گی۔۔۔۔۔۔آ کر مجھے روک لو۔۔۔۔۔۔۔لو میں کود رہی ہوں۔۔۔او ولید آ جاؤ۔ ۔۔۔۔آخری سفر سے پہلے آخری جملوں میں ایک جملہ یہ بھی تھا۔۔۔۔۔وہ سہم کر مارگریٹ سے لپٹ جاتا کے وہ اٹھ کر بھاگ نا جائے اور کود نا جائے

اور وہ زندگی کے اس طرف کود ہی گئی اور زندگی کے اس طرف اسکا بیٹا تھا لندن برج پر۔ ۔۔۔۔مارگریٹ کو لندن برج پسند تھا ان دونوں کی آخری تصویر وہیں لی گئی تھی کود جانے کا خیال اس کے ذہن میں بھاگ دوڑ رہا تھا وہ ایک بینچ پر بیٹھا تھا۔
تم یہاں بیٹھو میں تمہارے کھانے لئے کچھ لاتی ہوں
ایک افرقی عورت کی مشقت زدہ تھکی ہوئی آواز آئ وہ ایک آٹھ سالہ بچے کو اس کے پاس بٹھا کر خود چلی گئی۔بچا لاگر اور بیمار سا تھا ماں کودور جاتے دیکھنے کے بعد اس نے اپنے قریب رکھے تھیلے کو کھولا اور اس میں سی کس قدر عقیدت سی تین گھوڑوں کا گول گول گھومنے والا کھلونا نکالا۔
کھلونا کافی خستہ ھال اور ٹوٹا پھوٹا سا تھا بچے نے انگلی کو ایک گھوڑے کی اگلی ٹانگوں میں پھنسا کر اسے گول گھما دیا گھوڑے آگے پیچھے بھاگنے لگے گھوڑے کی ٹاپوں اور ہنہنانے کی آوازیں کھیلونے میں سی نکلنے لگی بچہ ایسے مسکرانے لگا جیسے ان میں سی ایک گھوڑے پے وہ خود سوار ہو ۔۔۔۔سب سے آگے والے پر ۔۔۔۔۔۔گھوڑں کے ساتھ اسکی مسکراہٹ دوڑنے لگی۔۔بچے کے ننھے سی قہقے نے عالیان کو متوجہ کیا پھر اسکی جاندار مسکراہٹ نے۔۔۔بچہ ساری دنیا سی بےنیاز گھوڑں کو دوڑا رہا تھا۔۔۔۔۔
تم انھیں دوڑانا چاہتے ہو؟ بچے نے اجنبی نظریں خود پر محسوس کر کے اسے اپنا خزانہ استعمال کر لینے کی اجازت دینی چاہی۔۔۔
یہ دیکھو یہ ایسے چلتا ہے۔ اس نے گھوڑے کی اگلی ٹانگوں کو پکڑ کے گھمایا۔
اور سنو اسکی آوازیں کتنی پیاری ہیں۔میں نے کبھی اتنی پیاری آوازیں نہیں سنی تم نے بھی نہیں سنی ہو گی کھلونا اس نے عالیان کے قریب کیا اور یہ سب کرتے وہ ایسے پر جوش سا تھا کے ایک اجنبی اس کے کھیلونے سے متاثر ہو چکا تھا عالیان نے اس بچے کو ایسے دیکھا کے ان دنوں وہ ہر چہرے کو ایسے دیکھتا تھا کے یہ سب کیوں زندہ ہیں؟ کیا انہیں نہیں مرنا
اسی پل اس کے اندر کسی قووت نے اسے اکسایہ کے وہ اس بچے سے مکالما کرے اور پھر اس مکالمے پر وہ خود کو آر یا پار کرے۔یہ قوت اتنی شدت سے اسکے اندر جاگی کے اتنے دنوں سے ایک لفظ بھی منہ سے نا نکلتے کی زہمت کرتے عالیان نے خود کو بولتے پایا۔اس نے بچے کے ہاتھ سی کھیلونا لے لیا۔
یہ تو ٹوٹا ہوا ہے؟ اس نے قدرے سفاکی کہا
بچے کا چہرہ پھیکا پڑا اور اسے اپنی پیاری چیز کے لئے ایسے کلمات پر صدمہ پہنچا۔
نہیں یہ بلکل ٹھیک ہے اس نے اس انداز سی کہا کے دنیا کا کوئی انسان اسے جھٹلا نہیں سکتا تھا
دیکھو !اس گھوڑے کی دم نہیں ہے۔اس والے کا سر نہیں ہے۔ اور اس گھڑسوار کا بازو ٹوٹا ہوا ہے۔
اس بات سے اسے اور صدما ملا لیکن اس نے ایسا انداز اپنا لیا کے وہ اس بات کے خلاف بھی ڈٹ کر دکھا سکتا ہے۔۔۔
اس سے فرق نہیں پڑتا۔۔۔ یہ گھوڑے پھر بھی دوڑتے ہیں۔۔۔
اس نے اس انداز میں ہنس کر کہا جیسے و
عالیان پاگل ہو۔
عالیان پاگل ہی تھا۔ وہ بچے کی بات پر سن ہوگیا۔
اس سے فرق نہیں پڑتا۔۔۔ یہ گھوڑے پھر بھی دوڑتے ہیں۔۔ یہ گونج اسکے کانوں کے پردوں سے کہیں اندر آگئی۔۔۔ بہت دور تک۔۔۔
بچے نتمے جو فلسفہ اپنا رکھا تھا۔ وہ فلسفیوں کے بس کی بات نہ تھی۔
اگ ان سب گھوڑوں کی ٹانگیں ٹوٹ جائیں۔۔۔
سر بھی۔۔۔ اور سب گھڑ سوار مر جائیں تو۔۔ ؟ اسکی آواز کانپ رہی تھی
یہ پھر بھی دوڑیں گے، میں انہیں دوڑالوں گا اور گھڑ سواروں کو مرنے نہیں دوں گا۔۔۔
بچے نے انقلاب برپا کر دینے والے انقلابی کے سے انداز میں ہاتھ کی مٹھی کو ہوا میں لہرا کر کہا۔
یہ دیکھو۔۔۔ اس نے ایک گھڑ سوار پر انگلی رکھی۔۔۔
یہ ٹوٹ کر گر چکا تھا۔۔۔ تمہاری زبان میں یہ مرچکا تھا۔۔۔ میں نے اسے گھوڑے کی پیٹھ پر رکھ کر باندھ دیا۔۔۔ تم غور کروگے تو بھی تمہیں وہ باریک مضبوط دھاگہ دکھائی نہیں دے گا جس سے میں نے اس گھڑ سوار کو باندھا ہے۔۔۔ کرو غور، ڈھونڈو دھاگہ۔۔۔
عالیان نے غور کیا وہ دھاگے کو نہیں ڈھونڈ سکا۔۔۔ بچہ اس معاملے میں اپنے فن کی بلندیوں پر رہا تھا۔
میں نے کہا ناں میں گھڑسواروں کو مرنے نہیں دوں گا۔۔۔ میں انہیں زندہ رکھنا جانتا ہوں۔۔ یہ گھوڑے کی پیٹھ پر ہمیشہ موجود رہیں گے۔ بچے نے آخری معرکہ سر کرلینے والے سپہ سالار کی آواز کی کھٹک کی طرح کھنک کر کہا۔
میں نے کہا نا میں گھڑسواروں کو مرنے نہیں دوں گا، میں انہیں زندہ رکھنا جانتا ہوں۔ یہ فقرہ عالیان کے اندر آسمان پر نکلنے والی دھنک کی طرح پھیل گیا۔
اور اسکی چابی۔۔۔ یہ بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔۔۔
اس کے اندر چھپ کر بیٹھے پرانے عالیان نے دعا کی کہ کاش بچہ اسے لاجواب کردے۔
بچہ نے فاتح کی سربسجود ہوتی مسکراہٹ کو اپنے ہونٹوں پر سجا لیا۔
اسکی چابی ہے میرے پاس۔۔۔ جو کبھی نہیں ٹوٹے گی۔۔۔ یہ دیکھو۔۔۔ اس نے وہ انگلی جو وہ گھوڑے کی ٹانگوں میں اڑس کر انہیں دوڑاتا رہا تھا اٹھائی۔
یہ اسکی چابی ہے۔۔۔ میں ہوں اس کھلونے کی چابی۔۔۔ کہہ کر اس نے گھوڑوں کو اس عظیم چابی کے ذریعے پھر سے دوڑایا اور مایوسی کے میدان میں امید کے گھوڑے دوڑنے لگے۔۔۔ اس نے اسے لاجواب کردیا تھا۔
سیپی نے منہ کھولا اور فنا کو اگل دیا۔۔۔۔
کیونکہ انسان پر یہ جائز نہیں کہ اپنے اندر وہ اسے جگہ دے۔
اس آب فنا کا چشمہ اس پر حرام کیا گیا ہے۔۔۔حرام تر۔۔۔ ایک بچہ بھی جانتا ہے ٹوٹے ہوئے کھلونے کو کیسے چلایا جائے گا۔۔۔
میں ہوں اس کی چابی۔۔۔ گھڑسوار مقابلے کے جوش سے للکار اٹھے، گھوڑوں کی ٹاپوں نے دلدلی جنگلوں کو بھی پچھاڑ ڈالا۔۔۔ ان پر انسان سوار تھے۔۔ وہ انسان جو بزدلی اور کم ہمتی کے سمندروں کو بھی پاٹ جاتے ہیں۔۔۔ گھوڑے کو گرنے نہ دو۔۔۔ گھڑسوار کو مرنے نہ دو۔۔۔ اقوال یاد کرکے زندگی گزارنے کی کوشش مارگریٹ کو کاش کوئی یہ فلسفہ سکھا دیتا۔۔۔ اور اب وہ زندہ ہوتی اور اس کا بیٹا پل کے دہانے نہ بیٹھا ہوتا۔۔۔
جو انسان روتا ہے وہ آسمانی فرشتوں کو رنجیدہ کر دیتا ہے۔۔۔
فرشتے کیوں رنجیدہ یوتے ہیں ماما؟
انسان کو رونے کے لیئے نہیں بنایا گیا۔۔۔۔ اس پر اشرف ہونے کا تاج سجایا گیا ہے اس تاج کو سجا کر انسان روئے گا تو رنجیدہ ہی کرے گا نا۔۔ انہوں نے انسان کی تخلیق دیکھی ہے اور وہ کیسے فراموش کر سکتے ہیں کہ انسان کو علم و حکمت عطا کی گئی جو انہیں نہیں دی گئی .اگر انسان وہ منظر دیکھ لے جب کائنات کا رب اسکی تخلیق کرتا ہے اور نطفے میں جان ڈالتا ہے اور اسے پروان چڑھانا ہے اور لوح پر اسکا نام لکھا جاتا ہے اور رشتوں کو اس بندے کے لیے ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں تو انسان صرف اور صرف اپنے مقصد حیات کے لیے جدوجہد کرے….وہ دکھ پر صبر کرے’نعمت پر شکر کرے ‘وہ زندگی کو بامقصد بنانے کو بندگی جانے….رتبوں میں سب سے پہلا رتبہ تخلیق میں لائے جانے کا ہوتا ہے اور ہر تخلیق پا جانے والے کو اس رتبہ پر فخرو شکر کرنا چاہیے.”
مانا مہر نے اسے گود میں بیٹھا کر کہا ……اڈے یہ یاد تھا… اڈے وہ بھول گیا تھا تو ہی اس حالت میں یہاں بیٹھا تھا.
“زندگی میں جو جذبہ آپکو برباد کرنے لگے اس جذبے سے دور ہو جائیں……کیونکہ انسان کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اسکی تخلیق کا فیصلہ خدا نے کیا ہے …..وہ اپنا خدا خود نہیں بن سکتا وہ خود کو برباد نہیں کر سکتا.”
بچے کی پیشانی چوم کر عالیان وہاں سے آٹھ آیا….اسے مارگریٹ نہیں بننا تھا ….اسکے پیچھے بچہ گھوڑے دوڑا رہا تھا… ساز بجا رہا تھا….کیونکہ اس کھلونے کی چابی وہ خود تھا….اور وہ گھڑسوار اس وقت تک نہیں گر کر مریں گے جب تک وہ چابی سلامت تھی.
زندگی کھیل نہیں ہے…..زندگی میدان ہے…. ابد کا میدان……اور ابد کی زندگی کے لیے……گھوڑے گرنے نہ دیں…..گھڑ سوار کو مرنے نہ دیں……. یہ فرض ہے ورنہ انسان اشرف ہونے کا شرف کھو دے گا.یہ حقیقت ہے۔۔۔وہ مانچسٹر واپس آیا تو رات ہو چکی تھی وہ اپنی جاب پر ہارٹ راک آ گیا.
“مجھ سے کچھ نہ پوچھنا.”کارل نے اسکی آ کر گردن دبوچ لی تھی.
“دوبارہ ایسے غائب نہ ہونا.”اسے گھونسا جڑ کر اس نے چلا کر کہا تھا اور آج رات کو کارل اسے زبردستی سڑک پر گھسیٹ لایا تھا.دونوں مٹر گشت کرنے لگے.آتے ہوئے کارل نے ایک ہال میٹ کا پیزا اٹھا لایا تھا جو وہ ذرا سی دیر کے لیے ادھر ادھر ہوگیا تھا.
“تمہارا کب تک ٹھیک ہونے کا ارادہ ہے.”پزا کو سونگھ سونگھ کر کھاتے اسنے بھرے ہوئے منہ سے پوچھا.
“میں ٹھیک ہوں.”
“تم اپنے ٹھیک ہونے کے بارے میں مجھ سے ذیادہ نہیں جان سکتے ‘جب تم چھوٹے تھے تب تم ایسے رہا کرتے تھے.”
“ٹھیک ہے….. ابھی میں پورا ٹھیک نہیں ہوں ……”
“چلو پھر یہ بتاؤ پورے ٹھیک کب تک ہو جاؤ گے.”
“زندگی ایک عجیب مضمون ہے کارل …”
“بالکل نہیں!زندگی ایک خالی مضمون ہے ‘یہ مضمون پڑھا جانے والا نہیں لکھا جانے والا ہے اسے ہم لکھتے ہیں ‘یہ زندہ دل ہوگا ‘رنگین یا کامیاب یہ ہم طے کرتے ہیں ‘یہ مشکل ہوگا’بے کار یا فضول یہ بھی ….اسکا عنوان ہم ہیں”میں کارل”تم عالیان”مجھے دیکھو کیا تم نے مجھے کبھی روتے ہوئے دیکھا ہے.میں نے خود کو خود کبھی روتے نہیں دیکھا’ سینڑ میں جس دن تم سے شرارت کی تھی تمہاری رونی صورت دیکھ کر کی تھی تم جیسے تھے ویسے بچے مجھے پسند نہیں تھے تم میرے مزاج کے بچے نہیں تھے.”
“جانتا ہوں….”
“میری سمجھ میں نہیں آ رہا میں تمہارے ساتھ اتنا اچھا کیوں بن رہا ہوں پر سنو……ایک دن چرچ میں سروس کے بعد فادر نے مجھے روک لیا میں خاموش اور اداس رہا کرتا تھا ‘کافی چھوٹا تھا میں اس وقت.وہ کئی بار مجھے سمجھا چکے تھے کہ زندگی کا ایسے اداس ہو کر نہ گذاروں.اس دن انہوں نے میرے سامنے ایک گلاس توڑا،گلاس گر کر ٹکرےٹکرے ہو گیا ۔انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں ان ٹکڑوں پر ننگے پاؤں چلنا چاہوں گا ….میں نے انکار کردیا۔انہوں نےکہا دکھ ٹوٹا ہوا گلاس ہے،کرچیاں اور ٹکرے….ان پر چل کر ہم خود کو زخمی ہی کر سکتے ہیں،بس جو ہو چکا ہے اسے بدلہ نہیں جا سکتا …..گلاس ٹوٹ چکا ہے اب کچھ نہیں ہو سکتا ،ٹوٹے ہوئے گلاس کو اُٹھاؤ اور اس کو باہر پھینک دو،ا سکی کرچیوں پر خود کو گھسیٹتے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ،یہ کم عقلی اور بےوقوفی ہےجبکہ انسان سے ارفع توقعات وابستہ کی جاتی ہیں…..کارل سارا پیزا کھا چکا تھا اور خالی ڈبی ڈسٹ بن ڈھونڈ کر اس میں ڈال چکا تھا۔
”یہ سب باتیں کرکے میں نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ میں تم سے زیادہ سمجھ دار اور بہادر ہوں۔“
عالیان خاموش ہی رہا۔
”اگر تم اس کی وجہ سے اپ سیٹ ہو تو میں اسے یونیورسٹی سے نکلوا بھی سکتا ہوں۔“کارل نے سنجیدگی سے کہا۔”اور تمہیں اس کی ٹویٹ لے لینی چاہیے تھی لے کر مجھے دے دیتے۔“
”کیسے نکلوانے کا کہہ رہے ہو ؟“
”امرحہ کو ….“کارل کو حیرت ہوئی اس کے انداز پر
”کون امرحہ…..؟“
کارل خاموش اسے دیکھتا رہا پھر کندھے اچکا دیے….”کون امرحہ….دلچسپ“
”تم کس بارے میں بات کرنا چاہ رہے ہو کارل ….“
”ٹھیک ہے بات یہی ختم…..بلکہ سب ختم….پھر تم پہلے جیسے کیوں نہیں ہو رہے،ایسا لگتا ہے تمہاری کھال میں کوئی اور چل پھر رہا ہے۔“کارل نے اس کی ناک کی چٹکی لی ۔
”عالیان کے کھال میں عالیان ہی ہے۔“عالیان نے اس کے دونوں کانوں کو ایک ساتھ مروڑا۔
”خود کو دھوکا دے رہے ہو ؟“
”ایک دوڑ ہو جائے….؟“عالیان نے پیش کش کی ۔
کارل نے جاندار قہقہہ لگایا”بات بدل رہے ہو ؟“
”چار….تین…..دو…..“عالیان نے انگلیاں اُٹھائی۔
”ایک…“کارل چلایا اور بھاگ کھڑا ہوا ….عالیان بھی۔
اب بس یہی حل تھا….بھاگتے پھرنا….آنکھیں میچ لینا ….کانوں میں انگلیاں ٹھونس لینا ….راستہ بدل لینا ….غیر حاضر ہو جانا ….غیر ہی بنے رہنا مشکل تھا مشکل سے ہی ہونا تھا۔
ابھی ان کی ڈور ہال سے ذرا دور ختم ہی ہوئی تھی اور کارل جیت گیا تھاکہ ایک پاؤں میں اپنا ایک میں کسی دوسرے کا جوتے پہنے شاویز کارل کے سامنے آیا ….اتفاق سے اس کے دائیں ہاتھ میں باکسنگ گلوز تھا۔
”میرا پیزا تم نے کھایا ؟“وہ باکسنگ رنگ میں آیا۔نہیں تم سے کس نے کہا ….؟“کارل پر سارے جہان کی معصومیت سجی تھی۔
”تمہارے چمکیلے ریکارڈ نے …..اب شرفت سے میرا پزا واپس کردو۔“
کارل نے پورا جبڑا کھول دیا ”دیکھو کیا اس میں تمہارا پزا ہو کر گزرا ہے؟“
شاہ ویز نے منہ پھیر لیا اور ناک پکڑ لی….”یہ باکسنگ گلوز تم دیکھ رہے ہو نا اور تم جانتے ہو عامر خان میرا پسندیدہ باکسر ہے….تم مجھے اکسا رہےہو کہ میں اسے اسی سٹرک پر خراج تحسین پیش کروں۔“اس نے باکسر کی طرح اچھل اچھل کر کہا۔
”بڈی تم عالیان سے پوچھ لو ….میں نے تو دو ہفتوں سےپزا کی شکل نہیں دیکھی۔“
”جبکہ ان دو ہفتوں میں پورے دس پزا ہال سے غائب ہوئے ہیں…..“شاہ ویز نے دائیں ہاتھ کو لہرا کر کہا….کارل نے اس سے ناک بچائی۔
”اس نے ہی پزا کھایا ہے۔“عالیان نے کہا۔
کارل ذرا حیرت نہیں ہوئی اسے عالیان سے یہی توقع تھی ۔شاہ ویز ہاتھ پھر لہرایا،مکا مرنے کے لیے نہیں بلکہ متوقع مکے کی آمد کی خبر دینے کے لیے…..
”جو Testoni کے جوتے تم نے مارک کو رینٹ پر دیے تھے میں اختیاطاً انہیں اس کی وارڈروب سے نکال کر اپنی وارڈروب میں لاک کر آیا ہوں ….“
عالیان پاگلوں کی طرح ہنسنے لگا کہ اب کارل تم کیا کرو گے….کارل خاموش سا شاہ ویز کو دیکھنے لگا ،اس کے جوتے پزا سے مہنگے تھے۔
”اب تم پزا لےآنا اور جوتے لے جانا جب تک پزا نہیں آئے گا فی گھنٹہ جوتوں پر ہرجانہ بڑھتا جائے گا….ایک گھنٹے بعد آنے کی صورت میں ،میں دو سن جوتے استعمال کرکے تمہیں دوں گا….اور میں یہ بتادوں کہ انہیں پہن کر فٹبال کھیلنےکا اردہ رکھتا ہوں۔“شاہ ویز نے خلائی مکا لہراکر کہا۔”Hamm“کارل نے شاہ ویز کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
”پچھلے ہفتے تم نے جیری کو اپنا ہنڈی کیم استعمال کے لیے دیا تھا…جیری اتنا لاپروا ہے کہ اسے اسٹڈی ٹیبل پر ہی رکھتا ہے۔“کارل نے تیزی سے کہا اور ہال کی طرف دوڑ لگا دی جب تک شاہ ویز کو بات سمجھ میں آئی تھوڑی سی دیر ہو چکی تھی پھر بھی وہ کارل کے پیچھے تیزی سے بھاگا لیکن کارل ہال کا داخلی دروازہ پار کر چکا تھا۔
”اور میں یہ بتا دوں کہ میں ہینڈی کیم کو نہلانے کا اردہ رکھتا ہوں۔“کارل نے بھاگتےہوئے چلا کر کہا۔
عالیان نےبھی دونوں کے پیچھے بھاگنا مناسب سمجھا کیونکہ اس کا اردہ شاہ ویز کی مدد کرنے کا تھا۔

*……*……*
اسلامی اسٹوڈنٹ سوسائٹی اسلام کو لے کر ایک ڈاکومنٹری بنوا رہی تھی جس کا ذمہ ڈیرک کو دیا گیاتھا۔
ڈیرک نے ظاہر ہے امرحہ کو بھی ساتھ کام کرنے کی پیش کش کی،جو امرحہ نے قبول کرلی۔ڈاکومنٹری کا موضوع مختلف مذاہب کے اسٹوڈنٹس کے خیالات جاننا تھا جو وہ اسلام کے لیے رکھتےتھے۔
ڈیرک اور اس نے مل کر سولات لکھے۔انہیں کم سے کم چالیس اسٹوڈنٹس سے سوالنامے کے جوابات لینے تھے۔ڈاکومنٹری کا دورانیہ بیس منٹ تھا۔ریکارڈنگ کے لیے انہوں نے مختلف اسٹوڈنٹس سے رابطے کر لیے تھے۔
کچھ ریکارڈنگ یونیورسٹی کیمپس میں کی جانی تھی کچھ یونی کے باغ میں ،اسٹوڈنٹس ہالزاور کچھ قریبی کیفےاور سٹرک پر…..
ریکارڈنگ شروع ہوئی تو تقریبا سب نے ہی ان کے ساتھ تعاون کیا اپنے خیالات کے اظہار کےلیے وہ آزاد تھے اور وہ آزدانہ ہی اظہار کرتے تھے۔کچھ اسٹوڈنٹس کے تاثرات کافی منفی اثرات لیے ہوئے تھے کہ امرحہ سختی سے اپنے لب بھینچ لیتی،اسلام کو لے کر اتنی غلط فہمیاں پروان چڑھ چکی ہیں ا س کا اسے اندازہ نہیں تھا۔مغربی لوگ حالات سے باخبر رہتے ہے یہ ایک سچ ہے لیکن اس سے بھی بڑا سچ وہ میڈیا ہے جو انہیں اپنی مرضی کے جھوٹ دکھاتا ہے۔ایک اسلامی ملک پاکستان میں میڈیا کی لگامیں کسی ہاتھ میں نہیں ہیں تو کسی دوسرے ملک کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔سب سے بڑی حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام کے خلاف جتنی بھی غلط فہمیاں یا پروپیگنڈہ ہو چکا ہےاس کو لے کر مسلم امہ نے کو لائحہ عمل نہیں بنایا۔جو بنایا ہے وہ بہت کمزور ہے۔ہونا تو یہ چاہیے کہ مسلم امہ مل بیٹھ کر اس بارے میں سوچےاور کچھ کرے…کچھ تو…کہ اسلام پر لگے دہشت گردی کے الزام سے چھٹکارا حاصل کا جائے۔
لہکن ہو یہ رہا ہےکہ سب بیٹھتے توہے لیکن مل کر نہیں ،شخصی سطح پر بہت کچھ کیا جا رہا ہے لیکن ایک قوم کی حیثیت سے کچھ بھی نہیں،یہی وجہ ہے کہ وہ سیاہ دھبہ دن بدن پھیلتا ہی جا رہا ہے گھروں میں بیٹھے ،ہاتھ میں فون لیے ہم صرف اسلام کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کے خلاف لمبے لمبے کمنٹس ہی کر سکتے یا مختلف گروپس اور پیجز پر لر سکتے ہیں یہ ہے ہمارا سارا کا سارا جہاد اور یہ ہے ہماری اسلام کے حق میں جنگ۔۔۔۔کافی کے مگ سی کافی پتے۔۔۔۔اسلام۔۔۔۔۔اسلام کرتے۔اسلام کے حق میں پوسٹ شئر کرتے تصویریں اپلوڈ کرتے اگر زیادہ ہو تو پروفائل پکچر تبدیل کرتے۔۔۔
اسلام کے لئے خدمات تمام ہوئی’ لاگ آف ہو گئے اور سو گئے یا ٹی وی اون کر لیا
جاپانی اور جرمن دوسری جنگ عظیم میں مفتوح رہے تھے۔یہ ماضی ہے جاپانی اور جرمن ترقی کے ہر میدان کے فتح ہیں یہ ھال ہے
ہر قوم اپنے پر ٹوٹنے والی افتاد سی سبق سیکھتی ہے اس افتاد سی چھٹکآرا حاصل کر لیتی ہے مسلم قوم کیوں نہیں؟
جنگ عظیم دوئم کے دوران جاپانیوں کو وھشی اور دریندے کہا گیا۔۔۔اور اب۔۔۔۔۔ اور آج دنیا میں انہیں امن پسند قوم کی حثیت سی سب سی آگے کھڑا کیا جاتا ہے۔۔۔۔دنیا کا کوئی انسان جاپانی سے زیادہ امن پسند نہیں ہو سکتا
تقدیریں بدل جاتی ہیں اگر قومیں بدل جائیں تو اور قومیں صرف اس وقت بدلتی ہیں جب ان کی سوچ بدلے۔۔۔۔اور سوچ تب روشن ہوتی ہے جب جہالت کا اندھیرا چھٹ جائے اور جہالت کا اندھیرا چودہ سو سال پہلے قرآن کی تکمیل سی چھٹ چکا ہے اس مٹا دیا گئے اندھیرے کے بعد بھی اگر ہم جاہل رھیں تو تف ہے ہم پے۔ ۔۔۔پھر بھی قابل احترم قوم نا بن سکیں تو ہم خسارے میں ہیں۔۔۔۔۔قوموں میں قوم نا کہلائی جائیں تو دھبہ ہیں ہم۔ ۔۔۔۔۔۔۔
اندھے’ گونگے اور بہروں کے لئے کوئی و,عدہ نہیں کامرانی کا نا شجاعت کا
پال کا تعلق یونان سی تھا جو تقریباً لا مذہب ہی مشہور تھا
یونی میں وہ اپنے تیز مزاج کی وجہ سے جانا جاتا تھا اسے تخریبی ذہن کا مالک بھی کہا جاتا تھا
ڈاکومنٹری کے لئے جب سٹوڈنٹس سی رابطے کے گئے تو اس نے ڈیرک سے ریکارڈنگ کی خواہش کا اظہار کیا۔کیمرہ آن ہوتے ہی اس نے اسلام کو لے کر انتہائی شدت پسندانا خیالات کا اظہار شروع کر دیا’ ڈاکومنٹری کے لئے آزادی رائے کی اجازت دی گئی تھی لیکن اسکا یہ مطلب نہیں تھا ایسا گرا ہوا انداز اپنایا جاتا۔۔
ریکارڈنگ oak ہاؤس کے باغ میں کی جا رہی تھی ڈیرک نے کمرہ بند کر دیا توضد کرنے لگا کے اسے آزادی رائے کا پورا حق استعمال کرنے دیا جائے
تمہارا انداز مناسب نہیں ہے ڈیرک نے تحمل سی جواب دیا
کیوں میرے انداز کو کیا ہے وہ چڑ گیا

تم الزامات لگا رھے ہو
کیا الزام لگایا ہے؟
مجھے تم سی بحث نہیں کرنی۔۔۔ڈیرک نے بات ختم
تم میری بے عزتی کر رہے ہو۔۔۔۔وہ بلا وجہ غصے میں آ گیا
اور تم جو اتنی گھٹیا زبان استعمال کر رھے ہو شکر کرو میں نے تمہارا منہ نہیں توڑ ڈالا امریحہ بولے بغیر نا رہ سکی جب کے ڈیرک نے اسے خاموش رہنے کے لئے کہا تھا
پال اور بھڑک اٹھا اور گالیاں دینے لگا اور امریحہ کو مخاطب کر کے اسلام کی ہتک کرنے لگا
ڈیرک نے امرحہ کو چلنے کا اشارہ کیا تو وہ اپنی جگہ سی حلی بھی نہیں
مجھے سن لینے دو اسکی بکواس امریحہ غصے میں
اسکی ضرورت نہیں ہے امریحہ چلو عقل سی کام لو
لیکن امریحہ نے عقل سے کام نہیں لیا اور پال کی بکواس سنتی رہی
امرحہ خدا کے لئے چلو ڈیرک منت کرنے لگا

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: