Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 3

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 3

وہ برطانیہ کے تیسرے مصروف ترین ائیرپورٹ کی اونچی چھت تلے ایڑھی کے بل گھوم گھوم گئی ۔
“مانچسٹر میں آگئی ہوں آگ لگانے ”
اس نے منہ پہ ہاتھ رکھ کر چلا کر کہا ۔۔۔ چند لوگوں نے اسے حیرت سے دیکھا ۔۔ بھلے سے دیکھیں اسے پرواہ نہی تھی ۔ ۔ وہ گھیر دار سفید شلوار اورگول دامن قمیض میں ملبوس تھی ۔ اس کا سفید لمبا دوپٹہ مانچسٹر ائر پورٹ کی صفائی کر رہا تھا اور خاص کر ہر آنے جانے والے لے سامان کے ساتھ الجھ رہا تھا ۔۔۔
اس نے پھر سے دونوں بازو پھلا کر ایڑھی کے بل گھوم کر کہا ۔
میں آگئی ہوں مانچسٹر ۔۔۔۔۔میں اب کبھی نہی رووْ ں کی اور تم مجھے کبھی نہ رلانا ۔۔”
خوش بختی کا اگر کوئی نقارہ تھا تو وہ اس وقت امرحہ کا یہی نعرہ تھا ۔ مسرت وشادمانی کا اگر کوئی اشارہ تھا تو وہ یہی ۔۔
ایڑھی کے بل گھوم جانا تھا ۔
سکون و راحت کے دریا کااگر کوئی کنارہ نہ تھا تو وہ بس ۔۔۔ وہ امرحہ کا وجود سارا تھا ۔
وہ اک دم سے آزادی کے شدید احساس میں گھر گئی تھی ۔ یہ احساس بہت خوش آئین تھا کہ وہ ہر دکھ سے دور ہو گئی ھے اور یہاں اسے سب امرحہ کی حیثیت سے جانیں گے اور بس ۔۔۔۔ جہاں صبح ہو گی ۔۔۔ شام اور رات لیکن کوئی آہ نہی ۔۔۔دکھوں کے استعارے چھپ گئے اور خوشیوں کی علامتیں جابجا نظر آنے لگیں ۔
برصغیر کے حاکم اے وقت کی سرزمین پر لہراتا اسکا سفید دوپٹہ جہاز کا بادبان بنا اسکی کشتی کو کھلے نیلے پانیوں میں رواں کرنے لگا ۔
ایک امریکی ٹین ایجر اپنے چھوٹے سے الیکٹرک گٹار پر یوٹو میوزک بینڈ کا گانا “آرڈنری لو ” بجا رہا تھا ۔
بنگال کے سحر کو اپنی آنکھوں میں سموئے اور اپنی شرمیلی مسکراہٹ سے اسے پھونکتے بنگالی نو بیاہتا دلہن اپنےمحبوب شوہر کے کان میں سرگوشی کر رہی تھی ۔
بنگال کی شرماہٹ اور آرڈنری لو کی دھن نے اسے نئی دنیا میں آمد پر خوش آمدید کہا ۔ وہ فدا سی ہو گئی اور امریکی ٹین ایجر کے پاس کھڑی ہو کر مسکرا مسکرا کر اسے داد دینے لگی ۔
اسے کوئی لینے نہی آیا تھا وہ تین گھنٹے سے انتظار کر رہی تھی لیکن اسے انتظار سے کوئی مسلہ نہی تھا وہ اگلے تین گھنٹے اور انتظار کر سکتی تھی ۔۔ اب اسے کوئی مسلہ نہی تھا بھئی ۔۔۔
اسے اپنے نام کا بورڈ دور سے نظر آیا ۔۔لانگ کراس بیگ لٹکائے اک چائنیز مکس کورین لڑکی بھاگتی ہوئی آرہی تھی ۔۔
“میں ہو امرحہ ” وہ لپک کر اس کورین لڑکی کی طرف لپکی ورنہ جس تیزی سے وہ بھاگ رہی تھی ایسا لگ رہا تھا اسے ۔۔
لینے نہیں بائے بائے کہنے آئی ہے_
“اوہ سلام….. سوری مجھے دیر ہوگئی۔۔”
” کوئی بات نہیں، چلیں…..؟” امرحہ نے سلام کا جواب دیا کہ اسے اچھا لگا اس نے ہیلو کے بجائے سلام کہا۔۔
“دراصل جسے تمہیں لینے آنا تھا اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا آتے ہوئے…… پھر مجھے آنا پڑا……. زیادہ انتظار تو نہیں کرنا پڑا_” وہ شرمندہ ہو رہی تھی کہ کوئی اسے وقت پر لینے نہیں آسکا۔۔
امرحہ کی شکل بنی پھر اس کی ہنسی نکل گئی۔۔ ہانا آگے آگے چلنے لگی وہ اتنی تیزی سے چل رہی تھی کہ امرحہ کے لیئے اس کا ساتھ دینا مشکل ہو رہا تھا….. دونوں ٹیکسی میں بیٹھ گئیں…… بلڈنگ تک آئیں۔۔ سامان اُوپر لائیں اور فلیٹ کے اندر آگئیں۔۔
فلیٹ خالی تھا…… دو کمرے سامنے…… چھوٹا سا لاوُنج اور لاوُنج کے سامنے ہlی اوپن کچن……. امرحہ کی آنکھیں اعزازیہ کھل گئیں….. ایسا صاف ستھرا فلیٹ میرے لیے…… واو۔۔
ہانا اسے ایک کمرے میں لے آئی، جہاں دو سنگل بیڈ رکھے تھے اور نہ جانے کیسے جگہ نکال کر فرش پر ایک فولڈنگ میٹریس بچھایا گیا تھا……. جہاں میٹریس بچھا تھا یقیناً وہ ان کے چلنے پھرنے کی چند قدمی جگہ تھی……
” یہ آپ کا بستر ہے….” اس نے فرشی بستر کی طرف اشارہ کیا….. اور امرحہ کا منہ بن گیا۔۔ وہ کیوں سوئے نیچے۔۔
” برائے مہربانی، اس کے علاوہ کسی چیز کو ہاتھ مت لگائیے گا۔۔” یہ فقرہ اس نے جبراً مسکرا کر لیکن درخواست انداز میں کہا اور کیونکہ ہاف چائنیز تھی تو ذرا جھک کر کہا۔
جب تک وہ تازہ دم ہوئی ہانا نے اسے کافی اور سینڈوچز بنا دئیے۔۔
” یہ میری طرف سے۔۔” چھوٹی سی ٹرے کو آگے کرتے ہوئے اس نے ایسی خوشی سے کہا جیسے اپنے قیمتی خزانے میں سے اسے کچھ عنایت کر رہی ہو…… امرحہ دیکھ کر رہ گئی….. اتنی لمبی فلائٹ کے بعد اسے یہ چھوٹا سا خوان پیش کیا جا رہا تھا…..
” شاید یہ ابتدائیہ ہو اور اصلی سوپر(کھانا) رات مے ہو۔۔”امرحہ سوچنے لگی اور ساتھ اس نے یہ بھی سوچا کہ اگر کوئی غیر ملکی ان کے گھر آیا ہوتا تو پھر بڑی میز کے ساتھ ایک اور میز لگائی جاتی لوازمات کو رکھنے کے لیے اور یہ ابتدائیہ ہوتا، تفصیلی کھانے کی تو بات ہی تفصیلی ہوتی…..
” مجھے دیر ہو رہی ہے…… مجھے جانا ہے۔۔” اور جاتے جاتے بھی وہ پھر کہہ گئی۔۔” برائے مہربانی، کسی بھی چیز کو ہاتھ مت لگائیے گا۔۔”
لیکن وہ ایک ایک چیز کو ہاتھ لگاتی رہی……. اسٹڈی ٹیبل پر رکھے نئی نئی اشکال کے پرفیومز کو اسپرے کرنے سے اس نے ابتداء کی….. دراصل وہ صرف یہ دیکھ رہی تھی کہ وہ کس قدر اصلی ہیں…… یعنی کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں کتنا بھی مہنگا اور ہائی برانڈ کا پرفیوم لے لیا جائے وہ اصل کی کاپی ہی ہوتا ہے اصل نہیں تو یہ کتنا سچ ہے….. سب کے پرفیومز بے دریغ اسپرے کرتے اسے کچھ کچھ حقیقی سچ کا اندازہ ہو رہا تھا کہ پاکستان میں وہ اصل کی کاپی ہی خریدتی رہی ہے…… پورا فلیٹ معطر ہو گیا اور وہ تھک گئی تو اس نے پرفیومز کی جان چھوڑی اور پھر وہیں قریب ہی کچھ میک اپ کا سامان رکھا تھا وہ اسے دیکھنے لگی….. البتہ کتابوں پر اس نے صرف ایک نظر ڈالی کیونکہ ان کے ٹائٹل ہی ایسے ایسے تھے جیسے ساری مصری تاریخ ہی وہاں نت نئے رنگوں سے سجا کر رکھ دی گئی ہو، اور عہد فرعون سے اسے کبھی دلچسپی نہیں رہی تھی……
پھر وہ واش روم گئی…… ایک ایک آئٹم کو چیک کیا، فیس واش، باڈی واش، لوشنز کو دیکھا…… حتٰی کے باتھ ٹب کے کنارے رکھی چھوٹی چھوٹی بتخوں کو بھی….. پھر وہ کچن میں آئی….. ایک ایک کیبنٹ کو کھول کر دیکھا….. فوڈ آئٹمز کو سونگھا بھی….. دوسرا کمرہ لاک تھا….. لاونج میں رکھا ٹی وی اس نے آن کیا اور پہلے چینل چیک کرتی رہی پھر ایک میوزک چینل لگا کر کچن میں آکر نوڈلز بنانے لگی….. دو عدد نوڈلز کے پیکٹ بنائے….. بڑے پیالے نما باول میں ڈالے….. اور ایڈورڈ مایا کو سنتے سنتے کھا گئی باول کو میز پر ہی رہنت دیا اور ٹی وی بند کر کے سنگل بیڈ پر آ کر سو گئی۔
“تیس فیصد ادا کیا تھا انہیں۔۔۔لوئی مزاق تھا”
رات کو بارہ کے بعد کا وقت ہو گا جب اسے اٹھایا جا رہا تھا۔
“مس پاکستان۔۔۔پلیز اٹھیں” ایک انجانی آواز سے اسکی سماعتیں روشناس ہوئیں، پہلے تو وہ سمجھی کہ خواب ہے سو وہ بدستور سوئی رہی، جب دوبارہ مس پاکستان۔۔۔ مس پاکستان کی آواز آئی تو اسے حیرت ہوئی کہ دادا لڑکی کی آواز میں کیوں بول رہے ہیں اور سیدھے سیدھے امرحہ کیوں نہیں کہہ رہے۔
“لیڈی امرحہ۔۔۔پلیز۔۔۔ورنہ میں آپکی ناک پاس یہ سپرے کر دوں گی۔۔۔اینڈ ٹرسٹ می۔۔ اس کی بو دنیا کی گندی ترین بو ہے۔۔۔کئی ہفتوں تک ناک میں گسی رہتی ہے۔ اور کئی ہفتوں تک کچھ کھانے کو دل نہیں چاہتا”
امرحہ تو خواب میں دادا کے پاس بیٹھی نہاری کھا رہی تھی۔
اسپرے کا ڈھکن کھلا اور دنیا کی گندی ترین بد بو اسکی ناک کے قریب آئی۔۔۔وہ صحیح کہہ رہی تھی وہ کئی ہفتوں خانے والی نہیں تھی۔
“دادا” وہ چلا کر اٹھ بیٹھی۔
باول کو میز پر ہی رہنت دیا اور
ٹی وی بند کر کے سنگل بیڈ پر آ کر سو گئی۔
“تیس فیصد ادا کیا تھا انہیں۔۔۔لوئی مزاق تھا”
رات کو بارہ کے بعد کا وقت ہو گا جب اسے اٹھایا جا رہا تھا۔
“مس پاکستان۔۔۔پلیز اٹھیں” ایک انجانی آواز سے اسکی سماعتیں روشناس ہوئیں، پہلے تو وہ سمجھی کہ خواب ہے سو وہ بدستور سوئی رہی، جب دوبارہ مس پاکستان۔۔۔ مس پاکستان کی آواز آئی تو اسے حیرت ہوئی کہ دادا لڑکی کی آواز میں کیوں بول رہے ہیں اور سیدھے سیدھے امرحہ کیوں نہیں کہہ رہے۔
“لیڈی امرحہ۔۔۔پلیز۔۔۔ورنہ میں آپکی ناک پاس یہ سپرے کر دوں گی۔۔۔اینڈ ٹرسٹ می۔۔ اس کی بو دنیا کی گندی ترین بو ہے۔۔۔کئی ہفتوں تک ناک میں گسی رہتی ہے۔ اور کئی ہفتوں تک کچھ کھانے کو دل نہیں چاہتا”
امرحہ تو خواب میں دادا کے پاس بیٹھی نہاری کھا رہی تھی۔
اسپرے کا ڈھکن کھلا اور دنیا کی گندی ترین بد بو اسکی ناک کے قریب آئی۔۔۔وہ صحیح کہہ رہی تھی وہ کئی ہفتوں خانے والی نہیں تھی۔
“دادا” وہ چلا کر اٹھ بیٹھی۔
“ابھی میں نے اسپرے نہیں کیا” اس نے کندھے اچکا کر اسپرے کی بوتل پر ڈھکن رکھا۔
وہ اپنی سرخ بوجھل آنکھوں سے گہری سبز آنکھوں والی کو پہچاننے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔ اس کی نظر دھندلا رہی تھی۔۔۔اور اسکی آنکھیں نیند کے بوجھ سے بند ہو رہی تھیں اور اسے گہرا سبز رنگ ہر طرف تیرتا ہوا نظر آ رہا تھا۔۔۔ اپنے ہاتھ بھی سبز سبز دکھ رہے تھے
اسپرے کی بوتل کا ڈھکن پھر سے کھلا اور اسکی ناک کے قریب آیا۔۔اسنے خفا سا ہو کر ہاتھ سے پرے کیا۔۔اس با اسکی آنکھیں پوری کھل گئی، اف کیا بلا تھی یہ سپرے، کیا ضرورت تھی اسے ایجاد کرنے کی، کیا اسکے بناء ترقی نہ ہو سکتی مہذب دنیا میں۔۔۔
“کتنا غیر مہذب انداز ہے
امرحہ کی آواز انتہاء کی غیر دوستانہ ہو گئی۔ گہری سبز آنکھیں پھیل گئیں۔ “غیر مہذب” شاید اسنے ہنسنا چاہا لیکن پھر ارادہ ملتوی کر دیا۔
“تم لوگ کتنی بھی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں پڑھ لو بنیادی اخلاقی اصول کبھی نہیں سیکھو گے” امرحہ نے اپنی پہلی تقریر کا آغاز مانچسٹر میں آمد کے چوبیس کھنٹے کے اندر اندر کر دیا تھا۔۔۔ دیر قطعا نہیں کی۔۔۔ کیوں کرتی دیر۔۔۔۔اس بار سبز آنکھیں طنز سے اسے دیکھنے لگیں۔ ” باہر آ جائیے مس امرحہ” کہہ کر وہ خود باہر چلی گئی۔ امرحی کر لیڈی امرحہ نام اچھا لگا لیکن نا جانے کیوں اسے لگا اسے طنزا لیڈی کہا گیا ہے۔۔ زیادہ سوچنے کی مانچسٹر میں ضرورت نہیں تھی۔۔وہ منہ دھو کہ باہر آ گئی۔۔ اسنے جا بوجھ کے دیر لگائی کہ کرتی رہیں کھانے پہ اسکا انتظار۔۔۔
لیکن باہر لاونج میں کھانے کی مئز سجی تھی نا ہی کھانوں کی اشتہاانگیز خوشبوئیں آ رہی تھیں البتہ ایک نہ دو پورے پانچ کا مجمع باہر بیٹھا تھا اور میز پر باول رکھا تھا جس میں کچھ نوڈلز بچے تھے یہ اتفاق تھا یا انکا اندازتھا وہ مجمع اسے گھور رہا تھا
“بیٹھ جائیے” ایک لڑکی نے کہا جس کی ایشیائی طرز کی بالوں کی گوندھی چوٹی دائیں بائیں ایسے لٹک رہی تھی جیسے کنڈلی مارے بھورا سانپ کھڑکی سے باہر جھول رہا ہو۔۔ امرحہ بیٹھ گئی۔۔شاید کھانے سے پہلے
متعارف ہونا ہوگا..
یہ مس پاکستان ہے..امرحه..ہانا نے کہا.
ہانا کا دوستانه جوش کہاں گیا..امرحه نے ایسے ہی سوچا..
ہیی..میں للی ہو اسکاٹ لینڈ سی..
میں شرلی مآرگوٹ..بھورے بالوں والی نے کہا پر وہ مسکرا نہ سکی…
ام بیٹی لوو میں جرمنی سے ہو..بوہت لمبی اور بوہت پتلی بیٹی لوو نے بے ترھا مسکرا کر کہا..امرحھ دیکھ رہی تھی کے اس کی ہنسی اس کی آمد سے ھی قابو سے بہر ہے
میں عذرا ہو شکاگو سے..لڑکھڑاتی اردو میں آواز ائی.مردانہ ہیئر سٹائل لئے ہوے جس کو وہ صوفیہ کریسٹنا ٹائپ سمجھ رہی تھی وہ عذرا نکلی..یعنی اگر شر لی کی لمبی چوٹی عذرا کے لگا دی جاے تب کہی جا کے وہ تھوڑی سی عذرا عذرا ٹائپ لگے.پر خیر وہ جان جائے گی کے اب جو یہاں ہو گا وہ کم ہو گا اور جو نہیں ہو گا وہ حیران کن ہو گا.
میں نے اپ سے کہا تھا نا کے کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگانا..ہانانے بولنا شروع کیا.
میں صرف واش روم گئی تھی..وہ صاف مکر گئی..
ہانا کا منھ کھل گیا..یہ جھوٹ بول رہی ہے شرلی..
شرلی نے آنکھ سے اشارہ کیا ہانا کو…اور ہانا خاموش ہو گئی..
یہ…شرلی نے میز پے رکھے باول کی طرف اشارہ کیا…
مجھے کیا معلوم اس کے بارے میں…یہ تو پھلے سے ھی یہاں رکھا تھا..شرلی کے صرف یہ ہی کہنے پے وہ ڈر سی گئی..اور اسے افسوس ہوا کے سارے نوڈلز کھا کر باول دھو کے کیوں نهی رکھا..
ابھی عمرحه کو نہیں معلوم تھا کے وہ باول دھو کے رکھ بھی دیتی تو بھی انھیں پتا چل جاتا کے ہانا کے نوڈلز کس نے کھاۓ..
ٹھیک ہے امرحه آپ جا کر سو جاۓ..سوری آپ کو ڈسٹرب کیا..شرلی نے کہا..
اور کھانا..وہ کھڑی ہو کر پوچھنے لگی…
وہ پانچوں پھلے اسے اور پھر آپس میں ایک دسرے کو دیکھنے لگی..بٹی لّو نے گو کے اپنے منہ پے ہاتھ رکھ لیا تھا پر امرحه دیکھ رہی تھی کے وہ اپنی ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے…
ابهی آپ کو اور بھوک لگی ہے..عذرا نے پوچھا.
نہیں بھوک تو نہی لگی مگر پھر بھی کھانا تو کھاتے ہے نا..اس سے یہی بات بن سکی..لیکں سچ میں اسے بھوک لگی تھی اور بھوک سیے ذیادہ اس بات کا انتظار تھا کے اس کے لئے کھانے میں کیا بنا ہے..کیا سب انگلش کھانے ہے کے کچھ دیسی بھی..
ہم بنا بھوک کے کہانا نہیں کھاتے لیڈی..شرلی نے کسی قدر متانت سے کہا..
کھلاتے بھی نهی..اس نے اردو میں کہا کسی کی سمجھ میں نہیں آیا بس عذرا نے اسے گھور کر دیکھا..وہ کمرے میں ائی اور فرشی بستر پر سو گئی..باہر بھنبناہٹ ہوتی رھی..ہوتی رہے تیس فیصد ادا کیا ہے..وہ اطمینان سیے سو گئی..
اگلے دن وہ سو کر اٹھی تو روم کی کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ کے اس کی چیخ نکل گئی..اتنی صفائی …اتنی خوبصورتی..
بلڈنگ کے جس راستے وہ اس فلیٹ میں ائی تھی یہ اس کے پیچھے کا منظر تھا..جہاں سر سبز گھاس کا کھلا قطه تھا اور کیاریوں میں جگہ جگہ پھول لگے تھے..قطعے کے پار سڑک تھی جس پر دور دور تک
گرد کے نشان نہ تھا، اور ایسا لگتا تھا دھول مٹی اڑ کر اس خطے تک کبھی آئی ہی نہیں اور اتنی خاموشی جیسے کوئی بنی نوع انسان زمین پر اترا ہی نہیں اور اگر اترا بھی ہے تو وہ خاموشی کو خراج تحسین پیش کرنے میں مشغول ہے۔۔ کمرہ خالی تھا….. سارا فلیٹ ہی خالی تھا….. بیڈ کورز بے شکن تھے، اسٹڈی ٹیبل پر ایک بھی پرفیوم موجود نہیں تھا…… واش روم میں کل رات تک نظر آنے والے سب ہی شیمپوز، فیس واش غائب تھے۔۔ وہ کچن مہیں آئی تو کاونٹر پر ایک چٹ رکھی تھی۔۔
” تمہارا ناشتہ۔۔”
انڈا، جام، چار ڈبل روٹی کے پیس، دودھ اور شوگر ایک پلیٹ میں، کافی کے مگ میں ایک مگ جتنی کافی اور سائیڈ پر رکھا ایک عدد ٹی بیگ…..
باقی چاروں کیبنٹ کو ایک زنجیر سے پرو کر درمیان میں ایک چھوٹا سا تالا لگا دیا تھا….. امرحہ کو ایک معمولی سا جھٹکا لگا یہ سب دیکھ کر….. بس ہہی معمولی سا…… اس کے پاس فون تو تھا لیکن ابھی اس فون سے بات نہیں ہو سکتی تھی رات ہانا نے اس کی بات پاکستان کروا دی تھی…… اب ظاہر ہے، اسے خود ہی فون کرنا ہوگا اگر وہ اس معمولی سے جھٹکے کے بارے میں دادا سے لمبی بات کرنا چاہ ہی رہی تھی تو…… لمبی بات پر لمبا بل بھی ادا کرنا پڑتا تھا۔۔
دوسری چٹ فریج پر لگی تھی۔۔”نو بجے آکر ڈربی تمہیں لے جائے گی یونیورسٹی تیار رہنا۔
ناشتا کر کے وہ تیار ہو گئی۔۔ٹھیک نو بجے ڈربی نامی چھوٹی سی لڑکی کہ گڑیا کہ لڑکی ہی آئی۔
“میں ڈربی ہوں۔ مجھے شرلی نے کہا ہے کہ تمہیں اپنے ساتھ یونیورسٹی لے جاوں”
“میں امرحہ ہوں۔۔۔میں آج پہلی بار یونیورسٹی جا رہی ہوں”
“یہ تمہیں دیکھ کے اندازہ لگایا جا سکتا ہے”
وہ مسکرائی اور امرحہ کو اسکی مسکراہٹ بہت اچھی لگی، انفیکٹ امرحہ کو اسکی گھسی ہوئی جینز اور گھسے ہوئے شوز بھی نہت اچھے لگے۔ اور اسکے برسیز والے دانت بھی کیونکہ وہ مانچسٹر یونیورسٹی میں قدم رکھنے جا رہی تھی۔۔۔ اسے ہر چیز اچھی لگنی تھی نا۔
“آجاو جلدی سے پھر” ڈربی تیزی سے باہر نکلی۔فلیٹ کو لاک کر کے وہ اسکے پیچھے آئی۔ ڈربی ایک منی سی سائیکل کو لئے تیار کھڑی تھی۔
“آ جاو بیٹھ جاو” اسنے منی سی سائیکل کی پچھلی نشست کی طرف اشارہ کیا۔
تو اس پر ڈراپ کرنا تھا اسے۔۔۔اس لئے خاص ڈربی کو بھیجا گیا تھا۔
“کیا ہوا امرحہ۔۔۔۔ آ جاو نا۔۔۔ میں تمہیں گراوں گی نہیں”
“لیکن شاید میں تمہیں گرا دوں” امرحہ اردو میں بڑبڑا کر رہ گئی اور اس منی سی لڑکی کی منی سی سائیکل پر بیٹھ گئی۔ پہلے اپنی شرمندگی چھپاتی رہی،پھر اپنی ہنسی دباتی رہی۔۔۔ سڑکوں پر سے گزرتے اس نے کسی طرف بھی نا دیکھا اور ڈربی کے پیچھے منہ چھپائے وہ اپنی ہنسی کے فواروں کو برسنے سے روکتی رہی اور سفید بادبان کو دریا مانچسٹر پر ہوا کے سنگ کرتی رہی۔۔۔
“دادا۔۔۔۔” اسنے خیالوں میں دادا کو مخاطب کیا ” مجھے اتنی ہنسی آ رہی ہے کہ میرا جی چاہتا ہے اس سڑک پر کود جاوں اور پیٹ پر ہاتھ رکھ کر اتنی زور زور سے ہنسوں کہ سارا مانچسٹر اکٹھا ہو جائے۔ دادا! زندگی کیسے ہمیں چھوٹے معمولی بے کر قسم کے بہانوں پر ہنساتی ہے۔۔۔۔دادا مجھے وقت کے یہ بہانے اچھے لگے جو اس نے میری زندگی میں پرو دیئے”

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: