Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 30

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 30

وہ امریحہ کا سرخ ہوتا چہرہ دیکھ رہا تھا۔
جاہلوں سے بحث نہیں کرتے امریحہ۔ڈیرک نے اسے سمجھانا چاہا۔۔۔۔
یہ یونی سٹوڈنٹ ہے جاہل نہیں ہے امریحہ غصے سے بولی
تم یہاں سے چلو بس۔
پال مسلسل الٹی سیدھی باتیں کر رہا تھا اس سے ایسے سوال پوچھ رہا تھا جنکے جواب میں یا تو خاموش رہا جا سکتا تھا یا پھر اسکے منہ پر تھپڑ مارے جا سکتے تھے اور جب اس نے مقدس ہستیوں کو لے کر زہر اگلا تو امریحہ نے یک دم اس کے منہ پر کس کے چانٹا دے مارا۔
بکواس بند کرو اپنی ذلیل انسان۔۔۔۔۔امریحہ کی برداشت کی حد ختم ہو گئی اس نے یونی کے سٹوڈنٹ کو تھپڑ مار دیا تھا پال اس تھپڑ کو لے کر اسے یونی سے نکلوا سکتا تھا
ڈیرک ایک دم سی پال اور امریحہ کے درمیان آیا
امریحہ بھاگو یہاں سے ڈیرک چلایا۔پال کسی بھنسے کی طرح بے قابو ہو رہا تھا کچھ دوسرے سٹوڈنٹس ڈیرک اور پال کی طرف بھاگے جو گتھم گھتھا ہو رہے تھے۔۔۔۔پال امریحہ کی گردن دبوچ لینا چاہتا تھا
امریحہ زرد سی ہو گئی اور تیزی سے وہاں سے چلی گئی۔
ذرا سی دیر میں صورت ھال بدل گئی۔۔۔۔اور انتہائی خوف ناک صورت ھال اختیار کر گئی اس نے یونی کے سٹوڈنٹ کو تھپڑ مار دیا تھا اس تھپڑ کو لے کر پال اسے یونی سے، نکلوا سکتا تھا۔
وہ گھر آ گئی ویرا سے رابطہ نہیں ہو رہا تھا۔
دو گھنٹے بعد ڈیرک کا اسے فون آیا وہ اسے سٹوڈنٹ یونین کے دفتر آنے کے لئے کہ رہا تھا۔وہ یونین کے آفس آ گئی ڈیرک نے فورا سی پہلے معاملا یونین کے سپرد کر دیا تھا ساری صورت ھال ایک سٹوڈنٹ کے خلاف جانے والی تھی امریحہ کے ڈیرک اسے منا کر رہا تھا پال کو بولنے دے اور وہاں سے چلی جائے لیکن امریحہ سی اپنا غصہ نہیں دبایا جا سکا اس نے پہلی بار براہراست کچھ سنا تھا وہ بھی اپنی یونی کے سٹوڈنٹ کے منہ سے۔۔۔۔
یونین کے صدر’ اسلامی سوسائٹی کے صدر اور پاکستانی سوسائٹی کے صدر نے ان تینوں سے الگ الگ بات کی پھر سٹوڈنٹ یونین کے چند دوسرے فعل لیکن بہت ہی سمجھدار سٹوڈنٹس کی موجودگی میں میٹنگ کی گئی۔
یونین کے صدر جےپٹرسن نے امریحہ کے عمل کو نا پسند کیا
وہ بکواس کر رہا تھا میں برداشت نہیں کر سکی امریحہ کو جے پٹرسن کے رد عمل پر غصہ آیا
بہر ھال اسنے زبان کا استعمال کیا اور اپنے ہاتھ کا آپ کا رد عمل شدید تھا آپ جانتی ہیں وہ اس بنا پر آپکو یونی سے نکلوا سکتا ہے۔
مائی فوٹ۔۔۔اگر اس نے دوبارہ بھی ایسی بکواس کی تو میں اسکا منہ توڑ دوں گی میٹنگ میں موجود ایک ایک شخص نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا
آپ اپنے مذھب کے کس اصول کے تحت اسکا منہ توڑیں گی؟
عالیان اس سے پوچھ رہا تھا
تشدد کی تو اسلام میں گنجائش ہی نہیں ہے۔ ۔۔
انتہائی حد پر جا کر بھی۔ ۔۔۔اور ایسی فضولیات کی گنجائش ہے؟ امریحہ کو عالیان کی بات بری لگی اسے یہ بھی برا لگا کے وہ اتنے سارے لوگوں میں اسے غلط ثابت کرنا چاہ رہا ہے
نہیں نا ہم پال کے رد عمل کے حامی ہیں نا آپکے جےپٹرسن نے کہا۔
لیکن آپ سب صرف مجھے ہی غلط کہ رہے ہیں
آپ غلط ہیں عالیان ،نے سنجیدگی سے کہا۔
امریحہ اس کی شکل دیکھتی رہ گئی تو وہ اسے اس قدر نا پسند کرنے لگا۔غصے اور دکھ کے الاؤ نے اس پر ہلا بول دیا وہ جیسے عقل سے بیگانہ سی ہو گئی
ہونہ۔۔۔۔یونین کی اس میٹنگ کے ارکان عیسائی ہیں یا یہودی یا لا مذھب وو کیسے میری حمایت کر سکتی ہیں ایک مسلمان کو کیسے ٹھیک کہ سکتے ہیں؟ امریحہ کا دماغ واقعی ہی کام کرنے لگا ۔۔۔۔
عالیان ،نے سختی سے اپنے لب بھنچ لئے اس نے اتنی نا پسندیدگی سی امریحہ کو دیکھا کے اس نے آج ٹک شاید ہی کسی کو ایسے دیکھا ہو گا یونین کے افراد سمجھ دار پڑھے لکھے انسان ہیں آپ غلط سمجھ رہی ہیں یہاں ہم سب مذھب سے بالاتر ہو کر بات کر رھے ہیں ہم مسلے کے حل کے لئے آپ کے ساتھ بیٹھے ہیں۔۔۔آپکو سمجھانے کے لئے۔۔۔۔آپکی غلطی ہے آپ مان جائیں۔۔۔۔۔پال سی موفہمت کر لیں۔ ۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔
آپکو اس سے پہلے معذرت کرنی ہو گی آپ کر لیں وہ بھی کر لے گا ورنہ اس ماملے کو ہم یونی انتظامیہ کے پاس جانے سے نہیں روک سکتے
جو ہو گا میں دیکھ لوں گی پر میں اس سے معذرت ہرگز نہیں کروں گی
ٹھیک ہے یہ معاملہ یونی انتظامیہ کے پاس ہی جانا چاہیے پھر۔۔۔۔مس امریحہ کا یونی سے چلے جانا ہی بہتر ہے یہ عالیان کی کرخت آواز تھی جسے سن کے امریحہ بلبلا اٹھی۔
ہاں وہ اس سے شدید نفرت ہی تو کرنے لگا ہے
میٹنگ بگیر کسی نتیجے کے برخاست ہوئی
امریحہ نے سٹوڈنٹ یونینسے باہر نکلتے عالیان کو جا لیا
تو تم مجھ سے اتنی نفرت کرنے لگے ہو کے مجھے ایسے یونی سے نکلوا دینا چاہتے ہو؟
میں تمھے نکلوا رہا ہوں؟
تم نے جےپٹرسن سے کہا ہے
ہاں میں نے کہا اور ٹھیک کہا
مجھے یونی سے نکل جانا چاہیے؟وہ سن چکی تھی پھر بھی اس نے تصدیق چاہی
بلکل۔۔۔۔اس نے تصدیق کر دی
امریحہ جہاں کی تہاں کھڑی رہ گئی اتنی نفرت اب اس سی۔ ۔۔۔
تم مسلمان ہوتے تو تمہارے دل پر چوٹ لگتی صرف نام رکھ لینے سے اور چند کتابیں پڑھ لینے سے کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا جس طرح کی بکواس اس نے کی تھی وھ قتل کئے جانے کے لائق تھا۔
عالیان کے رویے پر بھرک کے امریحہ نے اس پر گہری چوٹ کی۔
عالیان نے بہت صبر سی امریحہ کو دیکھا جیسے کسی جاہل کو علم کی نظر سے جانچا
ایسے کتنے قتل ہووے تھے iس دور میں جس میں محمدؐ پر پتھر برسایے گئے؟وہ سوال کر رہا تھا اور امریحہ اسکی شکل دیکھ رہی تھی
بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جواب دو جب انکے جوتے خون سے بھر گئے تھے انہیں برا بھلا کہا جاتا رہا۔۔۔جب وہ اپنی قوم کے پاس واپس اے تو انہوں نے اپنی قوم کو کیا حکم دیا تھا۔ملیامیت کر دو ان لوگوں کو جنہوں نے مجھے برا بھلا کہا۔
انکی اینٹ سے اینٹ بجا دو۔ ۔۔۔۔کیا کوئی ایسا حکم دیا تھا انہوں نے؟ غصے میں بھڑک جانے والوں میں سے ایک کے پاس اسکا جواب نہیں تھا۔
کیا اسکے عورت کے ہاتھ کاٹ دینے کا حکم دیا جو ان پر گند پھنکا کرتی تھی؟ ایک اللّه کا پیغام پھیلانے والے کے سامنے جب مشرک’ جاہل اللّه کو برا بھلا کہتے اور مذاک اڑاتے تو کیا وہ غصے میں بھرڑک کر ایک ایک کا منہ توڑ دیا کرتے تھے۔۔۔جو اللّه کے نبی تھے جو تم سی زیادہ اللّه کے قریب تھے کیا وہ یہ کہا کرتے تھے؟
ساری دنیا میں اسلام کا تماشا تم جیسے بھڑک بھڑک جانے والے مسلمانوں نے بنایا ہے۔تم مسلمان ہو نا اسلام کو مانتی ہو نا۔پھر غصے میں بھڑکنے کی وجہ؟
غصہ تو حرام ہے نا۔ ۔۔۔ہر ہلال میں حرام۔۔۔حرام کا مطلب حرام۔۔۔۔کبھی حرام کو ہلال ہوتے دیکھا ہے؟
کسی بھی صورت کسی بھی ماحول میں۔
،غصے میں برا بھلا کہنا’ گریبان پکڑ لینا ‘ تشدد کرنا۔۔۔۔۔یہ کون سا مذھب ہے جس کی تصویر اٹھا کر تم دنیا کو دکھا رہی ہو تم نبی کے نام پر جان دینے کو تیار ہو گی اور لینے کو بھی تیار ہوگی لیکن اس نبی جیسی بننے پر تیار نہیں ہو گی
اسلام اینٹ کا جواب پتھر نہیں ہے مس امریحہ۔ ۔۔۔ بلکل نہیں۔۔۔۔۔۔اسلام اینٹ کا جواب برداشت ہا تحمل ہے صبر ہے حکمت ہے اور سب سے بڑھ کر خاموشی ہے
اسلام گالی کا جواب گالی نہیں در گزر ہے
کیا تم نے در گزر کیا؟ کس نبی نے کب در گزر سے کام نہیں لیا؟ کب کب خاموشی اختیار نہیں کی؟ نبیون کے لئے سب سے زیادہ صبر ‘خاموشی اور حکمت کے احکامات اترے ہیں نبیون نے یہی درس اپنی امتوں کو دئے ہیں۔۔تم کسی نبی کو مانتی ہو تم کس مذھب کی پیروکار ہو؟ تم میں برداشت نہیں ہے تم میں صبر نہیں ہے تم کون ہو؟
کل پوری انسانیات وحشی پن پی اتر اے تو بھی اسلام اسکی مخالفت کرتا ہے اپنے برائے نام اسلام کو صرف کھڈ تک رکھو۔بھڑک کر اسے مار کر تم نے ثواب نہیں کمایا۔۔۔تم اسے بولنے دیتی۔ ۔۔۔کیا اس کے کہنے سی وہ سب سچ ہو جاتا جو جھوٹ ہے؟ غلط ہے تم جانتی ہو یہاں کیا ہو سکتا ہے۔بارود کے ڈھیر پر تم نے چنگاری پھینک دی تھی پال کا ہلکا بہت برا ہے وہ ایک سپورٹس پرسن ہے یونی اسے سپورٹ کرتی ہے اس کی کئی چاہنے والے ہیں یہاں ان سب سپپورٹرز کو ملا کر اس نے تمہارے خلاف۔۔۔۔۔یعنی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک محاذ کھڑا کر لینا تھا عرب اور افریقہ کے مسلمان اس معاملے میں بہت حساس ہیں وہ بھی ایک محاذ بنا لیتے ایک ایسی جگہ جہاں مسلمان بھی ہے۔عیسائی بھی ہیں اور دیگر مزاہب کے لاگ بھی یہاں مذھبی آگ بھڑ ک اٹھتی مانچسٹر یونی دنیا کی امن پسند یونیورسٹیوں میں ایک ہے۔لیکن پھر یہ امن پسند نا رہتی تمہاری ذرا سی غلطی کا نقصان کتنا بڑا ہوتا تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتی ایسی صورت تمہارا یہاں سے چلے جانا ہی ٹھیک ہے
تو کیا اس نے ٹھیک کیا؟ امریحہ کی آواز رندھ گی
اس نے غلط کیا بر ہال زبان سے’ مسلمان تم ہو اچھائی کی توقع تم سے تھی اس سے نہیں یونی انتظامیہ اس معاملے کو دیکھے تو شاید تم دونوں کو یونی سے نکال دے کیوں کے تمھے یونی رکھنے کی صورت میں مذھبی گروپس بننے کا خطرہ برقرار رھے گا جب کے یونی کو ہر ھال میں اپنے ماحول کو تعصب سے پاک رکھنا ہے یہ ایک درس گاہ ہے یہاں دنیا بھر سے لاگ آتے ہیں پڑھنے کے لئے ۔۔۔۔ایک ایسی درسگاہ میں آ کر اگر تم تحمل اور برداشت کا مظاہرہ نہیں کر سکتی تو بہتر ہے گھر چلی جاؤ
تو تمہاری یہ خواہش ہے کے میں گھر چلی جاؤں؟
نہیں امریحہ ہم یہاں ذاتی معاملات پر بحث نہیں کر رھے۔۔۔۔اگر تمھے کوئی بات نہیں سمجھنی ہے تو بہتر ہے میرا وقت ضائع نا کرو۔جب جےپٹرسن نے مجھے فون کیا تو مجھے نہیں پتا تھا اس ماملے میں تم بھی شامل ہو۔ورنہ میں خود کو اس ماملے سے دور رکھتا لیکن اب اگر مجھے یہ محسوس ہوا کے ماملا بگڑ سکتا ہے تو میں یونی سے تمھے نکلوانے کے لئے پر زور سفارش کروں گا میں یونی سٹوڈنٹس کے درمیان مزھبی چپقلش ،نہیں دیکھ سکتا یہ کہ کر وہ چلا۔اسکی سب باتیں ٹھیک تھی ایک بات تو بلکل ٹھیک تھی کے وہ امریحہ کو واقع ہی نہیں جانتا تھا اسے اس کے ہونے نا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ جاب پر نہیں گئی تھی اور سڑکوں پر مٹرگشت کرتی رہی
رات ہو گئی اور رات سے اور رات
جےپٹرسن کو اس نے فون کر دیا تھا وہ پال سے مفاہمت کے لیے تیار تھی….مانچسٹر کی ایک ایک چیز جو اسے اچھی لگا کرتی تھی اسے زہر لگ رہی تھی اس کا دل کہیں دور بھاگ جانے کو چاہ رہا تھا۔کہیں چھپ جانے کو کہیں بھی موجود نہ ہونے کو….
وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ اسے خود کے ساتھ کیا کر لینا چاہیے
کشتی کے پیندے میں ہوئے سورخ کی مانند ….وہ سمندر کے کھارے پانی سے خود کو بچا لینےپر قادر نہ رہی تھی….اور وہ تو اس پربھی قادر نہیں رہی تھی کہ کسی طرح سے اس سوراخ کو ہی بند کر ڈالے۔
تو اس ڈوب ہی جانا تھا….اگر یہی طےتھا تو اسے زیادہ مچلنا نہیں چاہیےپرسکون رہنا چاہیے…..لیکن اس سے یہ بھی تو نہیں ہو رہا تھا….وہ داخلی طور پر ایک مشکل دور سے گزار رہی تھی اور اس کاالزام وہ صرف اپنے سر نہیں لے سکتی تھی کہ سب اس کی وجہ سے ہوا اور اس میں سراسر اسی کاتو قصور ہے۔

*……*…..*

وہ جے پیٹرسن کے پاس موجود تھی۔
”میں سارے معاملے کو ختم کرنا چاہتی ہوں۔“
”ڈاکومنٹری پر فی الحال کام نہیں ہو گا….یا آپ لوگ اسے ریلیز نہیں کریں گے…..اس سارے معاملے سے آپ کسی کو آگاہ نہیں کریں گی اپنے قریبی ساتھوں کو بھی نہیں،ورنہ نتائج کے ذمہ دار آپ ہوں گی….آپ کسی کو کسی صورت یہ نہیں بتائی گی کہ پال نے کیا کیا کہا….the Munchester tab یا کسی بھی دوسرے اخبار تک یہ بات کسی بھی صورت نہیں جانی چاہیے۔آپ بلکل خاموش رہیں گی….کوئی کچھ بھی پوچھے گا تو آپ لاعلمی کا اظہار کریں گی۔پال چاہتا ہے کہ آپ اس سے معذرت کریں۔“
”پہلے معذرت وہ کریں گا کیونکہ پہل اس نے کی تھی۔“
”ٹھیک ہے کل اپنی پہلی کلاس لینے کے بعد یہاں آ جائیے گا۔”
جے پیٹرسن سے ملنے کے بعد امرحہ عالیان سے ملنے اسکے ڈیپارٹمنٹ آئی لیکن وہ اسے نہ ڈھونڈ سکی۔۔۔چونچا وہ سائیکل اسٹینڈ کے قریب کھڑی ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔ اپنی کلاسز لے کر جب وہ اپنی سائیکل کے پاس آیا تو وہ فوراً اس کے پاس آگئی۔۔۔
“میں اپنے تلخ رویے کی معذرت چاہتی ہوں عالیان!”
“جے پیٹرسن نے مجھے بتایا ہے کہ معاملہ ختم ہوچکا ہے۔۔”عالیان نے اس سے ٹھیک ویسے ہی بات کی جیسے پیٹرسن نے امرحہ سے کی تھی۔
“میں اس معاملے کی نہیں۔۔۔۔تمہاری اور اپنی بات کر رہی ہوں.”
“تمہاری اور میری کوئی بات نہیں ہے جسے کیا جائے۔”سائیکل نکال کر وہ آگے بڑھ گیا اور اس پر بیٹھ کر اتنی شدت سے پیڈل گھمایا جیسے کسی پرانے صدمے کو نئے انداز سے دفع کرتا ہو۔
امرحہ نے غصے میں اس پر طنز کیے تھے کہ وہ المذاہب ہے یا صرف نام کا مسلمان ہے ‘لیکن نام کا مسلمان وہ نکلا یا خود امرحہ’ امرحہ کو خدشہ رہا تھا کہ وہ حرام فوڈ کھاتا رہا ہوگا ۔۔۔۔اور امرحہ حرام کی قسم غصے میں کئی ہزار بار مبتلا ہو چکی تھی ۔ وہ ہاتھ سے کھانے والے کو ہی حرام کہتی تھی اور اس حرام کا کیا جو غصہ غیبت اور چغلی کی صورت وہ کئی بار کھا چکی تھی۔ اسے اپنے مسلمان ہونے پر فخر تھا لیکن یہ کیسا فخر تھا جو صرف نام کا تھا۔۔۔
لیڈی مہر کا کہنا تھا کہ وہ چاہتا تو اپنی ماں کا مذہب اپنا سکتا تھا لیکن اس نے باپ کا مذہب اپنایا۔۔۔۔۔۔۔۔اس پر کوئی زبردستی نہیں کی گئی تھی’بالغ ہونے کے بعد اختیار اس کے ہاتھ میں تھا اور اس نے اسلام کا انتخاب کیا۔۔۔وہ ایک عام مسلمان نہیں ہے۔۔۔۔
“لیکن امرحہ نے اسے عام بھی نہیں سمجھا تھا۔۔۔وہ ایک عیسائی عورت کا بیٹا ہے یورپ میں پلا بڑھا ہے ‘اس کے باپ کا اتاپتا نہیں تھا اسکے ساتھ دوستی کی جا سکتی ہے۔ رشتہ داری نہیں وہ خوبصورت ہے، لائق فائق ہے سمجھدار، بردبار ہے لیکن پھر بھی پاکستانی معاشرے میں صفر ہے۔۔۔کیونکہ اسکی ماں عیسائی تھی۔۔۔ اور اسکا باپ سوالیہ۔۔۔ اسکے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے۔۔۔ اسے ایک مسلمان عورت نے پالا ہے اور اسکی پرورش ایک بے سہارا بچوں کے سینٹر میں ہوئی ہے۔۔۔ صرف ان چند باتوں سے ہی
مانچسٹر کا ٹاپر ۔۔۔ صفر ہوجاتا ہے۔
اس نے ٹھیک کہا امرحہ! اسلام گالی کا جواب گالی نہیں ہے۔۔۔
دادا امرحہ کو سمجھا رہے تھے۔
عالیان کو صرف ایک یونی فیلو ثابت کرکے اس نے دادا کو ساری بات بتا دی تھی۔ میں بھی غلط نہیں تھی دادا۔۔۔ جو میں نے سیکھا، دیکھا وہی میں نے کیا، میں نے اپنے گھر میں کبھی ایسی باتیں نہیں سنیں۔۔۔ کیسا تحمل اور کیسی بردباری۔۔۔ یاد ہے اماں، ابا کیسے لڑا کرتے تھے۔
تم اماں، ابا اور ماحول کو چھوڑو۔۔۔ بتاؤ کیا میں نے تمہیں یہ سب نہیں سکھایا، میں نے تم میں بردباری اور تحمل پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔۔۔ جب تم مانچسٹر جارہی تھیں تو میں نے تم سے کہا تھا کہ امرحہ دوسروں کے لیئے مثال بننا کہ تم اب اکیلی نہیں اپنے ساتھ اپنے ملک و مذہب کا نام لیے جارہی ہو۔۔۔ تمہارا ایک غلط قدم تمہاری قوم پر انگلی اٹھائے گا۔۔۔ تم نے کتنی بار مجھے کہا کہ دادا روسی بہت سخت جان ہوتے ہیں۔۔ ۔ جبکہ روسیوں کے نام پر تم صرف ایک ویرا کو جانتی ہو۔۔۔ تم نے کہا جرمن بہت صلح جو اور امن پسند ہوتے ہیں جبکہ تمہارا صرف ایک ہم جماعت جرمن ہے۔۔
پال بھی تم ہی سے سارے مسلمانوں کو تشبیہ دے گا۔۔۔
تم خاموشی سے چلی آتیں تو کہتا، بے شک خود سے ہی کہ مسلمان خاموشی سے نظرانداز کرنا جانتے ہیں۔۔۔ تم نے الٹا یونین کے صدر پر طنز کیے، امرحہ ایک بات یاد رکھنا اور ایسا تاقیامت ہوگا جہاں ایک سچا ہوگا وہاں اس کے سو مخالف ضرور ہونگے۔۔۔ ہم لڑ کر، بھڑک کر دوسروں پر یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ ہم سچے ہیں۔۔۔؛؛؛::
صرف ہمارا مذہب سچا ہے۔
ٹھیک ہے دادا۔
تمہاری آواز اتنی بوجھل کیوں ہے۔۔۔؟؟؟
ٹھیک ہے آپکو ایسے ہی لگ رہا ہے۔۔۔۔
میرے خواب میں ت۔ روئی ہوئی آئی تھیں۔۔۔ اگر تم روتی رہی ہو تو مجھے وجہ بتا دو۔۔۔ کیا اس مسئلے کو لے کر پریشان تھیں؟؟
میں کیوں روؤں گی بھلا۔۔۔؟؟؟
امرحہ بچے! تم یہ بھول جاتی ہو کہ میرا دل تمہارے دل سے جڑا ہے۔۔۔ میرا دل اداسی سے بھرتا جارہا ہے۔۔۔ اور ایسا اس لیئے ہے کہ تمہارا دل اداس ہے۔۔۔ میں اپنے دل سے تمہارے دل کا حال جان جاتا ہوں۔۔۔
آپ کا وہم ہے۔۔۔
میں دعا کروں گا یہ میرا وہم ہی ہو۔۔۔
ہاں ضرور دعا کیجیے گا۔۔۔ کہ سب وہم ہی ہو۔ اس نے فون بند کیا اور کھڑکی کھول دی۔
اگر دل ایک دوسرے دل سے جڑ جائے تو سب معلوم یوتا رہتا ہے۔۔۔؟ سب۔۔۔ لیکن اگر وہ جڑ جائے تو ہی نا۔۔۔
************************************
شارلٹ اپنے نمونے کو لے کر آئی تھی اور کیا نمونہ لائی تھی کہ نشست گاہ میں بیٹھی این اون تک نظریں چراکر جورڈن کو دیکھ رہی تھی جو خود لڑکا سی بنی گھوما کرتی تھی اور جسے “لڑکا نامی مخلوق” سے اتنی ہی دلچسپی تھی کہ “بس یہ بھی ایک مخلوق ہے۔۔۔”
سادھنا خاص امرحہ کو اسکے کمرے سے نکال کر لائی تھی۔۔۔
میں نے اب تک کی زندگی میں اےمتنا خوبصورت انسان نہیں دیکھا۔۔۔ سادھنا نے جورڈن کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے آہ کی صورت کہا۔امرحہ نشت گاہ سے ذرا دور کھڑی جامد سی ہوگی۔
“میں نے اتنی بڑی یونیورسٹی میں اس کے قریب قریب کا بھی نہیں دیکھا۔”
سادھنا نے امرحہ کے بازو پر چٹکی بھری”ہم اسے نظر لگا دیں گے۔”
“نظر بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔”
جانے کس دل سے خواہیش کی تھی ماما مہر نے کہ شارلٹ ہالی وڈ کا ہیرو ہی اٹھا لائی تھی۔چند ایک فلموں میں چھوٹے بڑے کردار ادا کر چکا تھا ۔بڑے بھی کر ہی لے گا اور سپر سٹار بھی بن ہی جائے گا۔
ماما مہر کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس گڈے کو کس شوکیس میں سجا کر اس شوکیس کا دنیا کے سامنے افتتاح کریں….یا ایک بڑی سی نمائش رکھ لیں کہ دیکھو میر داماد….ہے کسی کے پاس ایسا…..؟”
“تمہیں کہاں ملا شارلٹ ؟”ماما مہر نے سرگوشی کی۔
ایم اون نے کان خاص ان کے قریب کر لیے……اف یہ سچ اسے بھی معلوم کرنا تھاکہ اسے چنی منی ہاتھ لگائے کہیں ٹوٹ ہی نہ جائے جیسے گڈے کہاں پائے جاتے ہیں…
ہارورڈ یونی سے ماما،جورڈن ایک شارٹ کورس کے لیے آیا تھا،کورس کیا اور چلا گیا پھر کچھ مہینے بعد آیا اور مجھے یہ انگوٹھی پہنا دی…..اس نے انگوٹھی والا ہاتھ آگے کیا،اگر نشست گاہ کی سب لائٹس بجھا دی جاتیں تو انگوٹھی میں جڑا ہیرا بتاتا کہ اس کی قیمت کیا ہے وہ اتنی روشنیوں میں بھی اپنی روشنی بکھیر رہا تھا۔
”مجھے تو یقین نہیں آرہا کہ اس نے تمہیں پسند کرلیا ہے۔“
شارلٹ کا منہ اتر گیا ۔وہ بلاشبہ خوب صورت تھی لیکن جورڈن جتنی بہرحال نہیں……لیکن ماؤں کو تو صرف اپنے ہی بچے پیارے لگتے ہیں نا…..
”کتنی خوش قسمت ہوں میں شارلٹ !“ماما مہر نے بچوں کی طرح دونوں ہاتھ تھوڑی تلے ٹکائے۔
امرحہ نے ہنسی کی زیادتی کی وجہ سے منہ پھیر لیا البتہ سادھنا کو نشست گاہ سے جانا پڑا…..کیا انداز تھا ماما مہر کا…..
”فلمی ستارے آئیں گے….بولو مجھے شادی کے انتظامات کرنے ہیں…..انجلینا جولی،بریڈپٹ کے آنے کے کتنے فیصد امکانات ہیں؟صرف خاندان کے لوگ ہوں گے یا قریبی دوست….اورمیڈیا….میڈیا آئے گا۔“
شارلٹ کی گلابی رنگت پیلی سی پڑ گئی۔اس نے آنکھیں گھما کر جورڈن کی طرف دیکھا کہ وہ ان کی طرف متوجہ تو نہیں۔”بالکل نہیں ماما،جورڈن کو یہ سب پسند نہیں ۔“
”لیکن مجھے پسندہے یہ شارلٹ ….تم جانتی ہو میری کتنی بڑی خواہش تھی کہ میرا بچہ ہالی وڈ اسٹار بنے لیکن کتنے برے ہو تم سب …..سوائے عالیان کے کوئی آڈیشن دینے نہیں گیا اور میری قسمت دیکھو وہ آڈیشن میں ناکام ہو گیا ،ویسے وہ ہر جگہ ٹاپ کرتا ہے….شارلٹ میری مانو تو بلی اب تو مجھے بنا بنایا ہیرو مل گیا ہے ….مجھے مت روکو۔“
”ٹھیک ہے ماما!چپکے سے بلوا لیجئے گا۔“شارلٹ نے کان کے قریب ہو کر کہا۔
”تم جورڈن سے یہ بھی کہنا کہ وہ فلمی ستاروں کو شادی میں ضرور بلائے خاص کر بریڈپٹ کو …..“
سادھنا واپس آکر بیٹھ چکی تھی اور اس آخری بات پر پھر باہر جانے کو تھی ۔
آریان دن بدن صحت یاب ہو رہا تھا سادھنا تو چڑیا کی چوں چوں پر بھی پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ہنستی تھی….این اون البتہ جورڈن کو دیکھنے میں مصروف تھی…..
”کیا آپ چاہتی ہے میں یہاں سے اُٹھ جاؤں۔“
جورڈن نے بانسری سی میٹھی لے میں بہت مہذب انداز سے این اون سے پوچھا۔این اون نے گھبرا کر ناں میں سر ہلایا۔
”برائے مہربانی اپنی نظریں مجھ پر اٹھالیں یا خود کو….شکریہ….“
این اون خاموشی سے اس کی شکل دیکھنے لگی…..
یعنی اس نے جورڈن کےلب تو ہلتے دیکھے تھے پر آواز اس کے کانوں کے پردوں سے اندر نہیں اتر سکی تھی….سادھنا کو منہ پر ہاتھ رکھ کر پھر سے باہر جانا پڑا…..اور یوں بہار کی اولین دلہن شارلٹ اور بہار کا گڈا جورڈن ماما مہر سے شادی کی اجازت لے گئے۔
رات بھر شارلٹ کی چمکتی ہوئی آنکھیں امرحہ کی آنکھوں میں اندھیرا کرتی رہیں۔شارلٹ کا بھی کوئی خاندان نہیں تھا اس کی ذات پر ایک نہیں کئی سوالیہ نشان تھے،لیکن جورڈن اسے بیاہ کرلے جا رہا تھا۔شارلٹ نے بتایا تھا کہ جورڈن کا خاندان کافی بڑا ہے اور وہ شارلٹ کولے کر بالکل خوش نہیں ہیں اور انہوں نے صاف صاف اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر دیا ہے،لیکن جورڈن نے ان کی ناپسندیدگی کی پروا نہیں کی اور انہیں اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا۔
تو یہ ہوتی ہے محبت ….بنا کسی سوال و جواب کے….
ٹھیک ہے ”محبت “کا اندھا ہونا ضروری نہیں لیکن ”محبت “ کا ہی اتنا بینا ہونا بھی ٹھیک نہیں….کہ پہلے سوال نامے کو بھرو پھر آگے بڑھو،جمع تفریق کرو حاصل جمع نکالو،پھر اقرار ،انکار کرو ….اور یہ بھول جاؤ کہ محبت ہی تو سب سے پہلے ذات و نسل کا فرق مٹاتی ہے….عرش و فرش کا…..تخت وخاک کا …..کم و زیادہ کا محبت ہی تو سب برابر کر دیتی ہے۔جز سے کل ہوتی ہے اور کل ہی رہ جاتی ہے اگر ایسا نہ کرے تو وہ محبت نہیں رہتی ۔سوال و جواب نکالتے وہ رات گزار گئی۔
اگلی رات ویرا ااسے سائیکل پر بیٹھا کر لے گئی وہ اسے آکسفورڈ روڈ کی طرف لیے جا رہی تھی۔
”ہم کہاں جا رہے ہیں…..“
”یونی “ویرا کھڑی ہوکر سائیکل چلا رہی تھی۔
”اس وقت….آدھی رات کو ….“امرحہ مضبوطی سے سائیکل تھامے رہی۔
وہ بس گر جانے کوہی تھی ،اتنی بار ویرا کے رولر کوسٹر پربیٹھ جانے کے باوجود ہر باراسے یہی لگتاکہ یہ اس کا آخری سفر ہے اور اگلا سفر آخرت کی طرف ہو گا ۔
”ہاں….ضروری ہے۔“ویرا نے اور تیزی سے سائیکل چلائی۔
اکسفورڈ روڈ پر اس کی سائیکل رکی تو وہ حیران رہ گئی وہاں کم سے کم پندرہ اسٹوڈنٹس اور موجود تھے ویرا نے ہینڈی کیم امرحہ کے ہاتھ میں پکڑایا۔
”مجھے ٹھیک سے شوٹ کرنا..“
”کیا کرنے جا رہی ہو تم…..!“امرحہ کا خیال تھا روڈ پر وہ سب دوڑ لگائیں گے۔
”دیکھ لینا ۔“ویرا نے ہاتھو کو رگڑا۔
خود کو گرم کرنے کے لیے ان سب نے پہلے دوڑ لگائی پھر اولڈ کیمپس کے محراب کے اندار ہو گئے تاکہ روڈ پر لگے کیمرے انہیں شوٹ نہ کر سکیں۔
”ہمارےپاس زیادہ سے زیادہ دس منٹ ہیں اور پولیس آنے کی صورت میں کوئی کسی کا ذمہ دار نہیں ہو گا ۔“
ایک لڑکے نے جس نے اومچی اُٹھان والی ٹوپی پہن رکھی تھی ہاتھ میں پکڑے دھاتی پلیٹ کو چمچ سے بجا کر کہا۔
امرحہ نے پولیس کے نام پر خوف سے ویرا کو دیکھا ۔
”ویرا یہاں کیا ہونے جا رہا ہے۔“
”تمہارا خون…..پھر ہم تمہیں یہاں دفن کر دیں گے۔“ویرا نے سفاکی سے کہا۔
”ٹن،ٹن،ٹن “دھاتی پلیٹ پر چمچ بجا ان بے چاروں کے پاس دس منٹ تھے نا…..
زبان کے نیچے انگلیاں رکھ کر سیٹی بجائی اور محراب کے سامنے پوزیشن لیے کھڑے کمانڈوز یونیورسٹی آرک پر ٹوٹ پڑے…..اسے سر کرنے کے لیے۔
امرحہ کو نہیں معلوم تھا کہ یونی کو سر کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے…..اسے گمان سا ہوا ذرا دور ایک کیمرا چھپا ہوا ہےجس کے پیچھے جیمز کیمرون کھڑا اپنی نئی آنے والی فلم کےلیے ریکارڈنگ کر رہا ہے۔
امرحہ نےسر کو جھٹکا سا دیا ”کیا وہ پاگل خانے سے بھاگے پاگلوں کے درمیان تھی…..؟“
نہیں وہ مانچسٹر یونی کے ان سٹوڈنٹس کے کرتب دیکھ رہی تھی جنہوں نے خفیہ سوسائٹی بنا رکھی تھی جن میں شامل ایکس مین’ سپائیڈر مین’ اور جمپر بننے کے مواقع تلاش رہتے تھے یعنی وہ افوا درست تھی کے چند سٹوڈنٹس نے کی سو فٹ اونچی آمنے سامنے کی دو عمارتوں کی چھتوں پر رسہ تان کر ان پر چہل قدمی کی وہ چہل قدمی کرنے والے کون ہوں گے ان ہی مین سے کوئی نا کوئی۔ ۔۔۔۔۔۔۔ان چار لڑکیوں اور دس لڑکوں مین سے کوئی۔
ویرا چھ فٹی چھپکلی آرک پے یہ جا وہ جا۔۔۔۔۔جیسے یہ اسکا خاندانی پیشہ ہو دیواروں پے رینگنا’ چڑہایاں چڑنا۔۔۔۔بس سب سر کر لینا جیسا کے امریحہ سوچ رہی تھی کے وہ اب گرے گی تب’ تو ان مین سے کوئی ایک بھی نہیں گرا تھا۔ ۔۔۔
البتہ انکے وہ غبارے جو انہوں نے منہ مین لے رکھے تھے اور جن مین پانی بھرا وہ پھٹتے گئے وہ کھیل سے باہر ہوتے گئے اور آرک سے کودتے گئے۔ ۔۔۔۔جیسے پہاڑ پر درخت پر چڑھائی کی جاتی ہے ایسے ہی وہ اوپر سے اوپر جا رہے تھے اصل کوہ پیما اور بن مانس بھی انکے ساتھ آ کر مقابلا کرتے تو ہارجاتے
یہ حقیقت ہے آنکھوں دیکھی چودہ مین سے چھ اپنے غباروں سمیت یونی آرک تک پوھنچنے میں کامیاب ہو گئے ان چھ نے اپنے پانی بھرے غبارے فضا میں پھوڑ کر اپنی فتح کا علان کیا ان چھ میں کارل اور ویرا بھی شامل تھے۔
وننر حضرات مسکراتے ہووے نیچے کود گئے۔
یہ کھیل کا پہلا راونڈ تھا دوسرا ابھی باقی تھا اب انہوں نے پہلے سے زیادہ بڑے اور وزنی غبارے منہ میں لے لئے۔ایک دو تین کا اشارہ کیا گیا سیٹی بجائی گئی اور لنگور حضرات مستقبل کے ایکشن ہیرو ہیروئنز پھر سے آرک پر ٹوٹ پڑے ویرا کمانڈو بچے نے جنگلی گوریلے کی پھرتی سے کونے میں فٹ پتہ کو جھپٹا کے امریحہ نے پلکیں بھی نہیں جھپکی تھی کے یہ جا وہ جا ادھر ادھر ہاتھ پاؤں پھنساتی ویرا تیزی سے اوپر چڑھ رہی تھی ایک تو چڑھائی اوپر سے پانی بھرے غبارے آسان کام نہیں کرتے تھے وہ ۔۔۔۔۔ایک ایک کر کے چار کے غبارے پھٹے اور وہ نیچے کود گئے۔۔۔۔۔رہ گئے کارل اور ویرا اب کارل کو ہارنا موت لگ رہا تھا اور ویرا کو ہار مان لینا
ویرا ایک رخ سے کارل مخالف رخ سے محراب کی چوٹی کی طرف بڑھ رہے تھے موت اور زندگی کی جنگ تھی دونوں کم و بیش ایک ہی وقت میں اس سفید جھنڈے پر جھپٹے جو انہوں نے پہلے ہی وہاں لگا دیا تھا۔۔۔
جھنڈا ویرا اور کارل کے ہاتھ میں بیک وقت آیا کارل نے زور سے دھکا دیا ویرا گرتے گرتے بچی ویرا نے اس سے زیادہ زور دار جھٹکا دیا لیکن کارل ہلا تک نہیں اور زور زور سے دانت نکالنے لگا ویرا نے غبارہ اوپر ہی پھوڑ دیا لیکن کارل نے غبارہ امریحہ کے سر پر پھوڑنا چاہا لیکن امریحہ پیچھے ہٹ گئی۔۔۔۔خیالی جیمز کیمروں نے تالی بجائی اور انگوٹھے کا اشارہ دے کر کیمرا بند کر دیا دونوں میں سے اصل وننر کون ہے اور کس کے ہاتھ میں پہلے جھنڈا آیا اس کے لئے جو دوسرے کھلاڑی کھڑے دیکھ رہے تھے ان سے ووٹنگ کرائی گئی جس کے رزلٹ میں کارل دس ووٹ لے کر جیت گیا یہ سب تمہارے چمچے ہیں اس لئے فیصلہ تمہارے حق میں آیا
ویرا بھڑک اٹھی وہ کارل کو سمجھتی ہی کیا تھی نت نئی شرارتوں کا چوہاداں’ چوہا ہی۔ ۔۔۔۔۔چلو میرے دوست اس قابل تو ہیں کے ایسے کارآمد چمچے بن سکیں تمہاری زنگ آلود چمچی تو اس قابل بھی نہیں ہے سیڑھی لگا کر بھی دی نا تو یہ دو فٹ اوپر چڑھنے سے پہلے ہی چیخ چیخ کر سارے مانچسٹر کو اٹھا دے گی مس رشیا اپنی چمچی بدلو کارل نے انگلی اٹھا کار امریحہ کی طرف کر کے زور زور سے ہنسنا شروع کر دیا سب ہی ہنسنے لگے امریحہ کا خون کھول اٹھا اور اسکا جی چاہا کے کارل کا منہ یوں توڑ ڈالے کے اسے بیس تیس سیکنڈ کے اندر آرک کی چوٹی کو ہاتھ لگا کر دکھا دے اور غبارے کو پتھروں سے بھر کر اس کے سر پر پھوڑ دے اہ پر ایسے سپنے ہی دیکھے جا سکتے ہیں تصویر تانگنے کے لئے سٹول پر کھڑی ہو جاتی تو دادا سے سٹول پکڑواتی کے کہیں سٹول ہل کر اسے گرا نا دے اب جو سٹول پر ایسے کھڑا ہو گا اس پر ایسے جیکی چن والے سپنے دیکھنا بنتا تو نہیں ایک زور دار سیٹی گونجی اور خوفیا سوسائٹی کے ارکان میں کھلبلی مچی جلدی جلدی سے وہ ایک ایک سائیکل پر دو دو تین تین بیٹھے اور یہ جا وہ جا سیٹی رات کو گشت کرنی والی یونی پولیس کی آمد کا اعلان دینے کے لیے ہی خوفیا سوسائٹی کے ہی ایک رکن نے بجائی تھی جو اسی کم پر مامور تھا امریحہ سمجھی پولیس آ گئی
ہائے میری یونی گئی امریحہ چلائی ویرا نے اسے کھینچ کر سائیکل پر بٹھایا
اب ہمے یونی سے نکال دیا جائے گا نا امریحہ نے دانت پر دانت جمائے
ویرا نے قہقہ لگایا میں پورا برطانیہ ہلا دوں گی اگر کسی نے ایسا کیا تو تم تو ہلا ڈالو گی میں کیا ہلاوں گی میری تو دادی نے اس دفع میرے ماتھے پر لکھوا دینا ہے منحوس ماری جہاں جاتی ہے بیڑا گرک کر آتی ہے
ویرا کا قہقہ بڑا عظیم تھا اور امریحہ کے ذہن میں آنے والا خیال اس سے بھی زیادہ عظیم تھا اور اس نے اس خیال کو عملی جامہ بھی پھنا دیا ہینڈی کیم سے بنی ویڈیو اس نے موحترم ڈین اور انتظامیہ کو میل کر دی دیرک سے سیکھی ایڈیٹنگ سے اس نے ویرا کو کاٹ کر نکال دیا اور صرف کارل کو رہنے دیا اسکا دل چاہا کے دا ٹیب میں بھی بیجھ دے لیکن ویب پر یہ ویڈیو پوسٹ ہوتے ہی کارل یونی میں اور زیادہ مشور ہو جاتا کیوں کے سارے سٹوڈنٹس بر حال بہت پسند کرتے ہیں اور اس طرح کارل کے نام کا ڈنکا یونی میں بجنے لگتا
ویڈیو بیجھ دی گئی کتابوں اور جوتوں والا حساب برابر ہو گیا امریحہ رات کو سکوں سے سوئی اتنے سکون سے کے ایک گھنٹے کے اندر ہی چیخ مار کر وہ اٹھ بیٹھی کار ل اسکے بستر پر سانپوں سے بھرا باکس انڈھیل رہا تھا اف یہ میں نے کیا کر دیا امریحہ نے اپنا پسینہ صاف کیا
کاش ڈین کا ای ڈی ہیک ہو جائے یا ڈین ہی۔ ۔۔۔۔۔۔ڈین ہی
امریحہ نے سونے کی کوشش کی اور اگلی بار گلہ گھوٹنے سے اٹھ کر بیٹھ گئی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی اب وہ کیسے مارنا پسند کرے گی یہ فیصلہ اب کسی اور کو کرنا تھاآپ جانتے ہے کون ہے وہ۔۔۔۔ہاں جی وہی
_________
امریحہ بت سی بن گئی اب نہ پوچھ سکی کیا واقع ہی
ویرا نے اسکی بارہ بجے والی شکل دیکھی اور امریحہ نے اسکی میں تمہیں کھا جاؤں گی والی شکل پر غور کیا دونوں کے جبڑوں سے یک دم پھر پھر قہقوں کے کبوتر نکلے
یہ تم دونوں میں کیا کھچڑی پک رہی ہے آج کل؟
صبح ناشتے کی میز پر لیڈی مہر پوچھ رہی تھی
امریحہ نے نہ میں صرف منہ ہلایا جب کے ویرا نے منہ پھیلا لیا لیڈی مہر نے این اون کی طرف دیکھا وہ آج کل لیڈی مہر کی کریندا خاص بنی ہوئی تھی اور اس نے چابی کی گڑیا کی طرح سب سنا دیا
سب۔ ۔۔
لیڈی مہر کافی دیر ویرا کو دیکھتی رہی
یہ تو مجھے معلوم تھا تم میں بہت کچھ خاص ہے لیکن اتنا زیادہ خاص مجھے اندازہ نہیں تھی اور امریحہ تم۔۔۔۔۔۔تمہیں یہاں آ کر پر لاگ گئے ہیں یا پھر تم اپنے سامان میں چھپا کر لائی تھی جو تم نے یہاں آ کر لگا لئے؟
دونوں کھی کھی کرنے لگی
زمین پر گھومو پھرو جو مرضی کرو کبھی قانون نہ طورو دنیا میں ایسا کوئی شوق نہیں جو اصولوں کو توڑ کر پورا کیا جائے حدوں سے باہر بر حال نہیں نکلنا چاہیے خاص کر ایک سٹوڈنٹ کو
ویرا نے گھور کر امریحہ اور این اون کو دیکھا ہر طرف سے اسکی بہادری پر لعن طعن کی جا رہی ہے
مجھ سے بچ جانا تم ویرا نے جاپانی میں این اون کو دھمکی ڈی
یہ مجھے جان سے مار دینے کی دھمکی دے رہی ہے آنٹی!این اون نے ایک کی چار لگا کر بتائی
امریحہ کا منہ کھل گیا یعنی این اون بھی پر سامان میں رکھ کر ساتھ لائی تھی یا یونی کے باغ سے توڑے تھے آخری خیال پر اتفاق کیا جاتا ہے
یونی میں کارل آیا اسے دیکھ کر چلا گیا پھر اگلے دن وہ بس سے اتری ہی تھی کے وہ اس کے پاس آیا اور ہاتھ سینے پر باندھ لیے۔ امرحہ نے بس کی کھڑکی سے دیکھ لیا تھا۔۔۔ وہ سنجیدگی سے یونی کی دیوار کے ساتھ کمر ٹکائے آتی جاتی بسوں کی طرف دیکھ رہا تھا یعنی مس امرحہ ینگ لیڈی آف پاکستان کا انتظار کیا جارہا تھا۔ امرحہ نے ساتھ بیٹھے اسٹوڈنٹ سے پانی کی بوتل لیکر گھونٹ پانی پیا۔۔۔ بس ایسے ہی گلا خشک سا ہو رہا تھا اسکا جی تو چاہا کہ اگلے سٹاپ پر اتر جائے پر وہ ڈرتی ورتی تھوڑی تھی کارل سے۔۔۔ کیا سمجھتا ہے کارل اسے۔۔۔ہیں۔۔۔؟؟
سینے پر ہاتھ باندھے ہڈکیپ سے سر کو ڈھانپے وہ اسے جم کے انداز سے گھورنے لگا۔۔۔ اب وہ نہ بول رہا تھا، نہ رستہ چھوڑ رہا تھا وہ کتنی بھی تیزی سے دائیں بائیں سے ہو کر نکل جانا چاہتی اتنی ہی پھرتی سے وو اسکے آگے اجاتا۔۔۔
میرا رستہ چھوڑو۔۔۔ امرحہ نے چلا کر کہنا چاہا لیکن آواز نکلی ہی نہیں۔۔۔ پانی۔۔۔ پانی کہاں ہے۔۔۔؟؟
کیا مسئلہ ہے تمہارا کارل۔۔۔؟؟؟
تم۔۔۔
اب تک تم مجھے پنچ (punch) مارتے رہے ایک میں نے ماردیا۔۔۔
مجھے تمہارا پنچ اچھا لگا۔۔۔ ہمیں اب دوستی کر لینی چاہیے۔۔۔
میں لنگوروں سے دوستی نہیں کرتی۔۔۔
پر مجھے مینڈکیاں پسند ہیں۔۔۔امرحہ۔۔۔
The Disaster Queen
کارل دی فتور۔۔۔
آکسفورڈ روڈ پر دونوں آمنے سامنے کھڑے لڑ رہے تھے۔
فتور؟ ہڈکیپ کو اس نے سر کو دائیں بائیں کرکے اتارا۔۔۔ اسے غصہ آ رہا تھا۔
ہاں فتور۔۔۔ کرتے رہو اسے اب گوگل۔۔۔
ضرورت نہیں ۔۔۔ مجھے یہ نام پسند آیا ہے۔۔۔ تم پر جچ بھی بہت رہا ہے بلکہ اسے اپنے نام رجسڑڈ کروالو۔
Hmmm …
پھر ملتے ہیں امرحہ۔۔۔
اسکے کراس بیگ کی اوپری جیب سے جھانکتی ایک عدد چاکلیٹ کو نکال کر وہ چلاگیا، ساتھ ہنٹ دے گیا۔۔۔ بھاڑ میں جائیں اسکے ہنٹ۔۔۔ امرحہ یونی آگئی اور سارا دن اس حد تک محتاط رہی کہ کلاس میں ہادی الرحمن نے پین مانگا تو وہ شک سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
کیوں چاہیے تمہیں مجھ سے پین؟
میرا پین کام نہیں کر رہا۔۔۔ وہ بے چارا مصری گھبرا گیا۔
تم کسی اور سے لے لو۔۔۔ مجھ سے ہی کیوں مانگ رہے ہو۔۔۔؟؟
تم میری ساتھ کی سیٹ پر بیٹھی ہو نا اور اتفاق سے مجھے یہ غلط فہمی رہی تھی کہ تم کافی خوش اخلاق ہو اور پین نامی چیز عاریتاً مانگ لینے پر ایسے خونخوار نہیں ہوجاتی ہوگی۔۔۔
“میرے پاس کوئی پین نہیں ہے۔ “تین پین اسکے بیگ میں رکھے تھے۔۔۔
پامیلا نے اس سے کہا۔ تھوڑی دیر کے لیے میری بکس اور لیپ ٹاپ کو سنبھال سکتی ہو مجھے کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ تک جانا ہے، صرف پندرہ منٹ کے لیے۔
میں خود بھی وہیں جارہی ہوں۔ کہہ کر وہ تیزی سے آگے بڑھ گئی۔۔ نہیں وہ سائی کے پاس جارہی تھی۔۔۔
پورا دن وہ نفسیاتی مریضہ بنی رہی۔
چند دن گزرے تو وہ اس واقعے کو بھولنے لگی، اسے اور بھی بہت کام تھے جیسے کہ پاکستانی اسٹوڈنٹ سوسائٹی کے ساتھ مل کر امرحہ سوشل ورک کر رہی تھی۔
مقامی ہسپتال کے لیے انہیں فنڈز اکھٹے کرنے تھے۔
بچوں کے بہرے اور اندھے پن کے علاج کے لیے۔۔
امرحہ، شزاءسے اچھے خاصے پونڈز نکلوانے میں کامیاب ہوچکی تھی، ساتھ ہی شزا نے اسے اپنے “پرانے” اور “بےکار” بیگ، جوتے اور کوٹ دیے تھے، جو امرحہ نے اپنے اور آرٹ ڈیپارٹمنٹ کی لڑکیوں کو اچھے داموں بیچ دیے۔ وہ عالیان کے پاس بھی گئی تھی۔۔۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ پھر سے چھپ کر اس دیکھ رہی تھی اور وہ ایک دم سے اسکے سامنے آ گیا تھا.
“میں فنڈز جمع کر رہی ہوں.”وہ گھبرا گئی باکس آگے کیا.ثبوت!
اس نے چند پونڈز فنڈ باکس میں ڈال دیے اور جانے لگا.
“بچوں کے اندھے اور بہرے پن کا علاج ہونا ہے …..علاج مہنگا ہوتا ہے ہمیں ذیادہ پونڈز چاہیئں. “اسکی پشت سے
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: