Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 31

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 31

وہ جان گیا کہ ڈین کو ویڈیو بھیجنے کا معرکہ مارنے والی پاکستان میں کس حیثیت کی مالک رہی ہے۔۔۔ امرحہ نے اپنا فون، اپنا بیگ چیک کیا کہ ضرور اس نے ان میں کوئی چپ لگادی ہوگی یا ویرا سے لگوادی ہوگی بعد میں ویرا جینلز لارنس، طرز کی صورت پر بمشکل اسےمعصومیت طاری کر کے کہہ دے گی۔
”مجھے کیا پتہ تھا وہ تمہاری نحوست کے بارے میں جان جائے گا۔“
وہ اور دادا اکثر ماضی کے بارے میں بات کرتے رہتے تھے۔وہ اپنے فون کو ایم ایس سی کرنے والے مارک کے پاس لے گئی “مرک ؟ اسے چیک کرو اس میں کوئی ایسا سسٹم تو فکس نہیں جس سے کوئی اور میری باتیں سن سکے۔“
”تم مذاق کر رہی ہو ؟“فون اس نے ہاتھ میں لیا اور سیدھا ان بکس میں پہنچا،کیونکہ اب یہ ایک یونیورسل عادت بن چکی ہے فون کسی کا بھی ہو جانا سیدھا ان بکس میں ہوتا ہے۔
”میرے پیغامات پڑھنا بند کرو ….میں سنجیدہ ہوں۔اس میں کوئی ایسی چپ لگی ہے نا کہ ہوئی میری ساری گفتگو سنتا رہے۔“
مارک سنجیدگی سے فون چیک کرتا رہا پھر سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔
”ہاں تمہارا شک ٹھیک ہے ،اس میں ایک سسٹم فکس ہے۔“
”اوہ !“امرحہ کا گلابی سفید رنگ سیاہ پڑ گیا۔
”تم اس بٹن کو دباؤ گی تو ساری یونیورسٹی دھماکے سے اُڑ جائے گی اور اس بٹن کو دباؤ گی تو پورا مانچسٹر غائب ہو جائے گا….اور اس تیسرے بٹن کو دبانے سے تم خود غائب ہو جاؤ گی،تم لوگوں کو نظر آنا بند ہو جاؤ گی….میرا خیال ہے تم اس تیسرے بٹن کا استعمال کرو…“
فون اس کے آگے کر کے وہ اسے ایک ایک بٹن کے بارے میں سنجیدگی سے بتانے لگا….بے حد سنجیدگی سے…پھر فلک شگاف قہقہہ لگایا۔
”کیا تمہارے پیچھے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی پولیس لگی ہے امرحہ؟“ہنسنے سے فارغ ہو کر اس نے پوچھا۔
سب ایک سے بڑکر ایک تھے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی پولیس بہتر تھی کارل سے….اسے کارل ناپسند تھا جبکہ وہ تو اتنا پیارا تھا …..ہر فن مولا سا….سوچتا،کرتا اور ہو جاتا….آخر کتنے ہے دنیا میں ایسے لوگ….؟
جب کبھی وہ دیوار کے ساتھ کمر ٹکائے ،ایک ٹانگ کو کھڑا دوسری کو ترچھا دیوار پر جمائے دونوں ہاتھوں کو جیب میں رکھے کھڑا ہوتا تو اس کی آرتی اتارنے کو دل چاہتا ایک تو اس لیےکہ وہ آس پاس والوں کو ”مجھے رک کر،پلٹ کر دیکھو۔“پر مجبور کر دیتا دوسرااس لیے کہ ”یہ بھونچال یہاں کھڑا ہے “کاش تا قیامت یہاں ہی کھڑا رہے،یہیں کھڑے کھڑے اس کا مجسمہ بن جائے،پر اب یہ حرکت نہ کرے۔“
مائیکل انجیلو اس کا مجسمہ بناتا تو اسے ایک اور زندگی خدا سے مستعار لینی پڑتی صرف اتنی سی بات سوچنے کے لیے کہ وہ ایک خوب صورت انسان کا مجسمہ بنائے یا خوبصورت شیطان کا ….یا…..یا….یا۔بس زندگی تمام ہو جاتی اس کی۔
وہ بے حد گورا تھا،گلابی گورا،نیلی آنکھیں ،پتلی ناک،گھنی بھنویں ،لمبی گردن اور ذرا سا لمبوتر چہرہ…..قد ویرا سے ذرا کم عالیان سے ذرا زیادہ….کبھی کبھی مونچھیں رکھ لیتا تو ایسے لگتا جیسے کسی قدیم سلطنت کا جنگجو سلطان ہے جو شیروں کو دائیں بائیں بٹھا کر طعام کیا کرتا تھا ….اور ان ہی کی طرح دھاڑ ا کرتا تھا۔
ہاں وہ اتنا خوبصورت ضرور تھا کہ اگر گاؤں کی مٹیاریں پانی کی گھڑے اپنی لچکیلی کمر پر ٹکائے پگڈنڈی پر چلتے کارل کے پاس سے گزارتیں تو ضرور کہتیں۔
”وے تو کینا سوہنا اے….کج خدا دا خوف کر…..ویے تو اینا سوہنا کیوں اے ؟“
کارل مسکرا دیتا ہے اور شانے اچکا دیتا ہے….اور مٹیاروں کے سبھی گھڑے ….ہاہاہا…Dhuzzz…..Dhuzzz……Dhuzz
رات کو امرحہ سادھنا کے کمرے میں آئی وہ آریان کے لیے چند تحائف پیک کر رہی تھی۔
”عالیان گھر کیوں نہیں آتا؟“امرحہ نے پوچھ ہی لیا۔
”پہلے ویک اینڈ پر آجاتا تھا پھر اس کی ماما نے منع کر دیا۔“
منع کیوں کر دیا؟ امریحہ سادھنہ کی مدد کرنے لگی۔میں نہیں جانتی رات گئے کبھی کبار آ جاتا ہے۔
کب میں نے اسے کبھی آتے نہیں دیکھا
ایک دو بار سے زیادہ نہیں آیا رات گئے آتا ہے کچھ دیر ٹھہر کر چلا جاتا ہے زیادہ وہ کھڑکی کے راستے آنا پسند کرتا ہے اسی لئے لیڈی مہر کے کمرے کی کھڑکی اندر سے بند نہیں ہوتی اسی مہینے اسکی سالگرہ آنے والی ہے اے گا کیک لے کر
اسی مہینے؟؟تمہیں پکا معلوم ہے اسی مہینے نہ؟
ہاں سادھنہ مسکرانے لگی
اچھا۔۔۔۔یعنی پھر وہ چنا منا کیک لے کر کھڑکی کے راستے اے گا امریحہ یک دم خوش ہو گئی
لیکن اس بار اسے بچا ہوا کیک نہیں ملے گا چلو کوئی بات نہیں حالات برے ہو چکے تھے تو اچھے بھی ہو جائیں گے آخر ایک دن سب ٹھیک ہو ہی جائے گا امید کے پودے کو پانی دیتے رہنا چاہیے اور اسے اتنا تناور کر دینا چاہیے کے مایوسی کا جنگل دور دور تک اگنے نہ پاے ویسے بھی سائ کہتا تھا
اختتام پر سب نہ سہی لیکن بہت کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے
امریحہ کہتی ہے اختتام پر سب برا ہوگا تو کچھ اچھا بھی تو ہو گا بلکے ضرور اچھا ہی ہوگا سب
اور میرا یہ کہنا ہے کے اختتام کو بھول جائے
زندگی ہر پل صرف شوروات کا نام ہے اسے تن دہی سے جاری و ساری رکھیں۔
اگلے دن یونی میں وہ کلاس لے کر نکلی ہی تھی کے دادی نے بہت وقت نکال کر اسے شرف بات چیت بخشا وہ بھی انکی پسند کے جواب دیتی رہی
نہیں ناچنے گانے والی جگہوں پی نہیں جاتی ہاں کلب نہیں جاتی دادی حلال گوشت ہی کھاتی ہوں دادی سہولت سے مل جاتا ہے جی دو لوگ جاتے ہیں مجھے یونی چھوڑنے پھر جاب پر گھر لے کر بھی آتے ہیں اکیلی نہیں جاتی دادی بلکل اکیلی نہیں نکلی گھر سے
تم پاکستان آ رہی ہو ؟
پاکستان۔۔۔اسکا سانس اٹکنے لگا تو اصل بات یہ تھی
کب ختم ہو رہی ہے تمہاری پڑھائی؟
کیوں کیا کرنا ہے؟
تمہاری شادی اور کیا؟
کیاکہ رہی ہیں دادی؟ اس نے چلا کر پوچھا
شادی ۔۔۔۔شادی دادی اس سے زیادہ چلا
آپ بول کیوں نہیں رہی دادی مجھے آپکی آواز نہیں آ رہی
بول تو رہی ہوں حماد دیکھو اسکی تصویر تو آ رہی ہے اسے میری آواز کیوں نہیں جا رہی
ہماری آواز آ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تمہیں نظر آ رہا ہوں
دادی بولیں نہ کہاں گئی میرا لیکچر ہے اچھا میں جا رہی ہوں
وہ سکائپ سے لاگ اوف ہو گئی اور لفظ شادی اسکے کانوں میں سائیں سائیں کرنے لگا تمہارا رنگ پیلا پڑ رہا ہے امریحہ قریب سے گزرتی جمیکا نے رائے زنی کی ۔۔۔۔۔
in the memory of the katy cat
یہ جو بورڈ تھا امریحہ کی کلاس فیلو لورین کی پشت پر زنجیر سے جھول رہا تھا رات اسکی بلی کا انتقال ہو چکا تھا اور آج وہ سوگ منا رہی تھی اسنے کالی شرٹ اور سکڑٹ پہن رکھی تھی اور بال برش نہیں کے تھے منہ بھی نہیں دھویا تھا رو رو کر اسکی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی اور اس نے رات سے کچھ نہیں کھایا تھا یہ بھی نظر آ رہا تھا امریحہ اس کے پاس گئی اسکی بلی کا افسوس کرنے زندگی میں پہلی بار وہ کسی جانور کے مرنے کا افسوس کر رہی تھی اور کافی مشکل سے ہنسی روک کر رہی تھی
کیسے مری بیچاری بلی؟
ایسے نہ کہو وہ بیچاری نہیں تھی بہت بہادر تھی پرنسز۔ ۔۔
اوہ پرنسز کیٹی کیسے مر گئی لورین؟
غم کی شدت سے پھر لورین بے قابو ہو گئی آنکھیں ٹشو میں چھپا لی اور ایک ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کے اسکی موت کے بارے میں نہ پوچھا جائے اسے بہت تکلیف ہوتی ہے امریحہ آنکھیں پٹ پتا کر اسے دیکھتی رہی بلی کی یاد میں دونوں ہاتھ گود میں رکھ لئے اب سچ یہ تھا امریحہ کو دور کے عزیزوں کی وفات پر رونا نہیں آیا تھا اب لورین کا ساتھ دینے کے لئے کیسے رو لیتی اور لورین کی جان پڑ آخر کیا مصیبت ٹوٹ پڑی کے ایک بلی کے لئے ایسے جان ہلکان کر رہی تھی باقی سب سنجیدگی سے کٹی پرنسز کا ا فسوس کر کے جاتے رہے ایک امریحہ ہی اس بیچاری لورین کا دکھ نہیں سمجھ پا رہی تھی کچھ لاگ لورین جیسے حساس تھے کے بلی کے لئے آنسو بھا رہے تھے اور کچھ کارل جیسے انسانوں کو ہی آٹھ آٹھ آنسو دلا رھے تھے
امریحہ جاب سے واپس آ رہی تھی وہ بس میں بیٹھی تھی رات کا وقت تھا بس تقریباً خالی ہی تھی
ہائے ڈی کوئین کارل کی آواز اسکی نشت کی دوسری طرف کی رو کی نشست سے آئ اس نے ہڈ پہن رکھا تھا اور ہوڈ کیپ سے سر کو پیشانی تک چھپا رکھا تھا امریحہ اپنے چہرے پڑ بےزاری لے آئ جو دادی اسے دیکھ کر اپنے چہرے پڑ لے آتی تھی اب وہ سمجھی دادی کا قصور نہیں تھا نجس لوگوں کو دیکھ کر ایسے ہی منہ بن جایا کرتے ہیں۔آج کی رات خوف ناک خواب دیکھ کر گزرنے والی تھی رات کے اس وقت اسے جو دیکھ لیا تھا وہ اور عالیان سائیکل کا استعمال زیادہ کرتے تھے خدا جانے آج وہ بس میں کیوں سوار تھا
تم مجھے بہت بری طرح سے نظر انداز کر رہی ہو آخر کو ہم یونی فیلو ہیں پھر میرے تم پڑ کتنے احسانات بھی ہیں خاص کر وہ اگر میں ہارٹ راک میں وہ ڈیسک نہ چلاتا تو سوچو عالیان جیسا بور انسان تمہارا سر کھا رہا ہوتا اور تم مجھ جیسے سپر ہیرو سپر فاسٹ بندے سے مہروم ہو جاتی
کتنی بدقسمت ہو گی وہ لڑکی جسکا یہ ہیرو ہو گا یعنی شوہر بے چاری نے ایسے مذاک میں کوئی بات کھ ڈی اور کارل نے اسکا بدلا لینے کے لئے اسے چھت سے الٹا لٹکا دیا یا فریج میں بند کر دیا ورنہ لانڈری مشین میں ٹھونس کر گھما دیا اور نہیں تو گریب کا ایک ادھ کان ہی کاٹ لیا امریحہ سوچتی رہی اور کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی
آج صرف تمہارے لئے میں بس میں سوار ہوا ہوں امریحہ نے ذرا سی گردن موڑ کر اسکی طرف دیکھا مسکراہٹ اسکی آنکھوں میں چمک رہی تھی
امریحہ کو خوف سا آیا یہ یہاں۔ کیا کر رہا ہے بس کے کراے میں میں اپنے پونڈ ضائع نہیں کرتا وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور اس کی نشیست کے پاس آ گیا
جو دو پاؤنڈ تم نے مجھے دئے تھے ان میں کچھ اور ملا کر میں یہ لے آیا ہوں اس نے وہ ہاتھ جو ہڈ کی پاکٹ میں تھا نکالا اور چھن سے ایک ہتھکڑی نکل کر سامنے آی پلک جھپکنے کی دیر تھی کارل نے اس کے ہاتھ جو اگلی نشیست کی پشت کے گول راڈ پڑ رکھا تھا میں ہتھکڑی دال کر راڈ کے ساتھ لاک کر دیا
یہ امریحہ دنگ رہ گئی اس نے ہتھکڑی کو جھٹکا دیا
کارل کیا بدتمیزی ہے یہ؟
”بد تمیزی نہیں جواب،میں ادھار نہیں رکھتا،لڑکیوں
کا تو بلکل نہیں ۔“وہ بڑی شان سے مسکرایا
”کیونکہ
میں count destroyer ہوں نا……“
”کارل
مذاق بند کرو…..“
”مذاق کل یونی میں
کریں گے….“کہتا وہ اسٹاپ پر رکتی بس
سے اتر گیا۔
”کارل !“وہ اُٹھ کھڑی ہوئی
ہتھکڑی جھٹکنے لگی۔
”کارل رک جاؤ….اسے
کھول کر جاؤ….“وہ چلائی لیکن کانوں
میں ایر فون لگائے تیز انگلش میوزک پر
آڑا ترچھا ہوتے وہ دور ہوتا چلا گیا۔
بس
میں سوار چھ افراد اسے دیکھنے لگے۔
”میری
مدد کریں۔“وہ تیز آواز میں چلائی سب
کے سب بیٹھے دیکھ رہے تھے آگے نہیں
آ رہے تھے اس کی آواز پر جیسے چونک سےگئے
اور اس کی طرف آئے۔
اوہ….یونیورسٹی
کے چوزے جو نہ کریں کم ہے….آخری اسٹاپ
تک انتظار کریں وہیں کچھ ہو گا،میں آفس
فون کر دیتا ہوں ،وہ اسے کھولنے کا انتظام
رکھے۔“ٹکٹ چیکر نے کہا۔
آخری اسٹاپ،اتنی
دور،اور پھررات۔“امرحہ نے گہرے گہرے
سانس لے کر خود کو نارمل رکھنا چاہا
ورنہ غصے سے وہ راڈ کے ساتھ سر پھوڑنے
لینے کو تھی،یہ اس نے کیا کیا اس نے
کارل جیسے فتور سے ٹکر کیوں لی،کیا ضرورت
تھی،کتنی پاگل تھی امرحہ…..ایک ایسی
لڑکی جو سردیوں کی راتوں میں کچن تک
اکیلے پانی پینے نہیں جایا کرتی تھی،نے
ڈین کو کارل کی وڈیو بھیج دی۔ایک ایسی
لڑکی بھی جو چوہے کو پھدکتے دیکھ کر
آسمان ہلا دینے والی چیخیں مارنے والی
نسل سے تعلق رکھنے والوں میں سے تھی
،اس نے ”دی کراٹے کڈ “کی نسل سے تعلق
رکھنے والوں سے ٹکر کیوں لی…..اس نے
یہ فاش غلطی کیوں کی۔ایک ایسا ماحول
جہاں لڑکیاں ہلکی رفتار سے چلتی بس کے
پائیدان کے راڈ کو پکڑ کر اس میں بیٹھ
جانے کو بڑا ،معرکہ سمجھتی ہیں وہ یونیورسٹی
آرک کو سرکرنے والوں کو کیسے اور کیوں
للکار بیٹھی۔
وہ ایک ایسے ماحول سے تھی
جہاں لڑکی کار تو چلاتی ہے اسے دھکا
نہیں لگاتی وہ سر اُٹھا اُٹھا کر اونچی
دیواروں ،عمارتوں ،پہاڑوں کو دیکھتی
ضرور ہے انہیں پھلانگنے کا نہیں سوچتی۔حفاظت
کے پیش نظر اگر کوئی گن ،پستول گھر میں
رکھی ہے تو وہ تاعمر اسے ہاتھ میں پکڑ
کر نہیں دیکھتی کہ اسے کھول کر اس میں
میگزین کیسے بھرتے ہیں اور اسے چلانے
کے لیے سیکھنے کی جرات بھی نہیں کرتی
کہ یہ اس کا کام نہیں ہے۔بھلے سے چور
ڈاکو قاتل اس کی پیٹ میں دو گولیاں اتار
دے وہ ایک گولی بھی چلانے کی جرات نہیں
کرے گی کہ یہ تو اس کا کام ہی نہیں
ہے۔یہ کام تو اس کا باپ کرے گا بھائی
،شوہر یا بیٹا ،وہ نہیں ۔
بجلی کے فیوز
ٹھیک کرتے یہ اپنے بھائی باپ کے پاس
اوزار لے کرکھڑی ہو جاتی ہے اس فیوز
کو خود سے ٹھیک کرنے کی غلطی نہیں کرتی…..سیکھنے
کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ….بھلا
وہ کیوں سیکھے اور کرےیہ کام تو مردوں
کے ہیں نا…..ناجانے کون سے کائناتی
کتاب میں لکھا ہےکہ یہ سارے کام صرف
مرد ہی کریں گے۔
بس کی نشست سے بندھی
بیٹھی وہ رو دینے کو ہو گئی لیکن روئی
نہیں ،بائیں ہاتھ سے فون نکلا ویرا کو
کیا وہ تو بھڑک ہی اُٹھی
”تم پہلے ہی
میری ناک کٹوا چکی ہو ۔“
یعنی ویرا کے
ناک کا درومدار بھی اسی پہ تھا ….چچ
چچ….لو کٹ گئی ناک….آتی ہو میں ،اس
وقت تک تم جی بھر کر رو لو ……مینڈکی۔“وہ
دھاڑی۔
آخری اسٹاپ پر بس رکی تو ٹرانسپورٹ کے عملے کا ایک رکن اس کی ہتھکڑی کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔رات کے اس وقت وہ کٹر حاصل کرنےمیں ناکام ہو چکے تھے۔ہانپتی کانپتی ویرا بس میں آئی اس کا سانس بری طرح سےپھول رہا تھا۔
”ہٹیں میں کرتی ہوں ۔“آتے ہی اس نے سب کو ایک طرف کیا اور ہاتھ میں پکڑی باریک سلاخ سے چند منٹ کی کوشش سے ہتھکڑی کھول دی۔
جب وہ ہتھکڑی کو کھولنے کی کوشش کر رہی تھی تو عملے کے چھ ارکان اسے مشکوک انداز سے دیکھ رہے تھے۔
”تم پولیس میں ہو یا ؟“ایک نے پوچھ ہی لیا۔
”میں پولیس میں کیوں ہوں گی میں سابقہ سی آئی اے ایجنٹ ہوں “ویرا نے بھنویں تان کر سنجیدگی سےکہا ۔
”سابقہ کیوں ؟ “شک اور بڑھ گیا ۔
”میں نے بارک اوباما کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی ،گن میں اس کی کنپٹی پر رکھ چکی تھی۔“ویرا نے پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے کہا اور اسے لے کر بس سےاتر آئی۔ان چھ کی شکلیں دیکھنے لائق تھیں۔
”تم وقع سی آئی اے ایجنٹ رہ چکی ہو……تم نے اوباما کو مارا کیوں نہیں ؟“ویرا کو سب آتاتھا پتہ نہیں وہ مانچسٹر یونیورسٹی سے ماسٹر ان بزنس ایڈمنسڑیشن کیوں کر رہی تھی۔
ویرا نے جواب میں اس کی گردن دبوچ لی۔
”تم میرے پاپا کے پاس جاؤں گی یا انہیں یہاں بلوا لوں۔“
”انہیں بلوا لو…..لیکن کارل کے لیے…..التجا کرتی ہوں میں ویرا !“امرحہ نے دونوں ہاتھ جوڑ کرکہا۔
”وہ چھوٹے موٹے کیس ہینڈل نہیں کرتے۔“ویرا نے غصے سے اپنے رولر کوسٹر کو سٹارٹ کیا۔
”تمہارے لیے آسکتے ہیں،تم ہو مشن امپاسبل ۔“
سارے راستے ویرا غصے سے بڑابڑتی رہی اسے سناتی رہی وہ چپ کرکے بی بی سی ویرا سروس سنتی رہی ۔
ویرا نے سائیکل روکی پر وہ شٹل کاک تو نہیں تھا…..وہ تو وہ جگہ تھی جہاں عالیان رہتا تھا اور ساتھ ہی کارل…..ہمارا کارل۔
”ویرا ! تم یہاں کیوں آئی ہو ؟“
”چلو تم اندار ایک مکا مارو کارل کے منہ پر ….“ویرا نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے لیا ۔
”نہیں،میں نہیں جاؤں گی اندر،مجھے کچھ نہیں کہنا کارل سے ……بس ختم۔“
”پھر مجھ سے دوستی ختم کردو…..“Anselm ہال کے باہر وہ دونوں آمنے سامنے کھڑی تھیں،ایک ہاتھ چھڑا کر بھاگنے جانے کو تھی”امرحہ “ایک سے گھسیٹ کر اندر لے جانے پر مصر تھی ”ویرا “
”مجھے تمہارے جیسی بزدل دوست نہیں چاہیے۔“ویرا دھاڑی۔
”میں اندر چلی جاتی ہوں لیکن کارل کو کچھ نہیں کہہ سکتی ….میری بات سمجھنے کی کوشش کرو …..میں یہ نہیں کر سکتی۔“جواب میں ویرا اسے اپنے ساتھ اندر لے آئی اور اندر داخل ہوتے ہی گرج دار آواز میں نظر آنے والے پہلے لڑکے سے کارل کے بارے میں پوچھا ۔۔کوریڈور میں اور بھی لڑکے تھے ویراکی آمد اورایسی آواز سے متوجہ ہوگئے۔
”وہ وہاں میوزک بار میں ۔“شاہ ویز نے پورے دانت نکال کر ہاتھ کا اشارہ کرکے بتایا بھی اور ساتھ آگے کو بھی ہو گیا کہ آئیے محترمہ کارل پر جو عذاب نازل کرنا ہےاس کے لیے میں آپ کو لئے چلتاہوں اس کار خیر میں میرا بھی حصہ بھی ڈالنے دیجئے۔آس پاس کے جو دوسرے تھے وہ بھی میوزک بار کی طرف بڑھنے لگے ایسے بنا ٹکٹ کا فرسٹ شو کون مس کرنا چاہیے گا بھلا۔کچھ لڑکے اوپر کی طرف لپکے کہ باقی ہال میٹس کو بھی بلا لائیں کہ ویرا کارل کا پوچھتی اس وقت آئی ہے اوراس انداز میں آئی جیسے باہر روس کی فوج کو پوزیشن لیے کھڑا کر آئی ہو،ایک ،دو،تین…..فائر….اندر نظر دوڑائی ویرا نے امرحہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔میوزک بار کے دروازے میں کھڑے ہو کراس نے میوزک بار میں سامنے کاؤنٹر تھا جس کے پار تین بار ٹینڈر کھڑے تھے۔کاؤنٹر کے عین سامنے والے حصے میں کرسیوں کو پار کرکے اسنوکر ٹیبل رکھا تھا جس پر کارل اسنوکر کھیل رہا تھا۔باقی اسٹوڈنٹس ادھر ادھر کھڑے،اُٹھے بیٹھے تھے۔کارل اسنوکر اسٹک (stick) کو پکڑے ٹیبل پر جھکےایک آنکھ کو بند کیے،گیند کو ہٹ کرنے ہی لگا تھا کہ ویرا نے دانت پیس کر کہا ۔
”کارل !“کارل نے آنکھ کھولی ،مسکرایا اور اس طرف سر گھماکر دیکھا جس طرف ویرا کھڑی ہی نہیں تھی….. ڈرامے باز……پھراس نے سر اُٹھایا ویرا کی طرف گھمایا…..ویرا اس کے ساتھ امرحہ …..اور امرحہ کے آگے پیچھے Anselm ہال کا مجمع ۔”اٹس شو ٹائم یونی چک “
Its show time uni chick
”امرحہ ! تم آگئیں،کافی دیر لگ گئی تمہیں آنے میں ۔“اس نے دیوار گیر گھڑی کی طرف دیکھ کر کہا۔
”بہت سست ہوتی ہے ٹرانسپورٹ کی انتظامیہ…..اگر میں مانچسٹر کا میئر بن گیا جو کہ مجھے بنانا ہی ہے تو ضرور اس طرف توجہ دوں گا۔لیکن میرے میئر بننےکے وقت کے آنے سے پہلے تک کے لیے سوری ۔“اسنوکر اسٹک اس نے ایسے ہاتھ میں پکڑرکھی تھی جیسے اے ایس فائیو زیرو کی sniper rifle یہ ویرا کو نشان پر رکھا ٹھاہ….ٹھاہ…..Dhuzzzz
ویرا ڈیڈ مین کی سنجیدگی لیے اس کے قریب جا کر کھڑی ہو گئی ۔”ویرا یہ کر سکتی تھی۔“
”ویرا ! تم مجھے اتنے پیار سے کیوں دیکھ رہی ہو…..مجھے تشویش ہو رہی ہے،میں دل کے عارضے سے ہلاک ہونا نہیں چاہتا۔“
ویرا نے اپنا وہ ہاتھ جو اس کے کرا س بیگ کی جیب کے اندر تھا نکالا اور ہاتھ میں پکڑی بوتل کا اسپرے اس کی آنکھوں پر کر دیا …..ایک دم سے۔
”آہ ! کارل چلا اُٹھا اور آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے اور تیزی سے پانی کی تلاش میں باہر کی طرف لپکنا چاہا کہ ویرا نے دوسری بوتل نکالی اور آنکھوں کو رگڑتے ،آہ آہ کرتے ادھر ادھر میز کرسی سے ٹھوکر کھاتے کارل پر تیزی سے اسپرے کرنے لگی۔
”اوہ گوش……اتنی گندی بدبو ……“ایک ایک نے اپنی ناک پکڑ لی امرحہ کو بھی ناک پکڑنی پڑی۔
جتنے لڑکے کارل کے پاس کھڑے تھے سب تیزی سےکارل سے دور ہوئے…..بدبو کی انتہا تھی بس…..ویرا نے پوری بوتل خالی کر دی پھر ہاتھ باندھ کر ہنٹر مار اسٹائل میں کھڑی ہو گئی ۔
”اب کچھ بھی کرلو کارل !ایک ہفتے سےپہلے اس شینل فائیو سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے،میں سائنس دان بن گئی تو ضروراس خوشبو سے جلد چھٹکارا پانے کے لیے کچھ کروں گی ،لیکن میرے سائنس دان بننے کے وقت کے آنے تک کے لیے سوری کارل۔“
امرحہ کا جی چاہا کہ وہ تالیاں بجائے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا وہ پلٹی تو میوزک بار کے دروازے کے ساتھ شانے ٹکائے کھڑے عالیان پر اس کی نظر پڑی وہ بہت سنجیدہ نظر آ رہا تھا اور پیارا بھی …..امرحہ نے سوچا کہ وہ ایسے ہی کھڑا رہے اور باقی سب غائب ہو جائے توکتنا اچھا رہے۔
امرحہ کا ہاتھ پکڑ کر ویرا باہر نکلی اور اپنے پیچھے انہوں نے قہقہوں کا طوفان اُبلتے سنا ،ہال کے اسٹوڈنٹس کارل،کارل کہہ کر دیوانوں کی طرح ہنس رہے تھے ان میں عالیان بھی شامل تھا۔ان سب نے مل کر میوزک بار کےدروازے کو بند کرلیا تاکہ وہ باہر نہ جا سکے۔کاؤنٹر پر رکھی کسی کی سوفٹ ڈرنک سے کارل نے اپنی آنکھیں دھونی چاہیے لیکن شاہ ویز نے لپک کر وہ ڈرنک اس سے چھین لی۔سب نے ساری ڈرنکس اُٹھا کر کارل سے دور کر دیں”امرحہ دی لاسٹ ڈک…..کارل دی آخ….خ….خ۔“عالیان نےاس کےقریب جا کر اپنی ناک پکڑ کر کہا۔کارل نے اسے دھکا دے کر پیچھے کیا اور میوزک بار سے باہر جانا چاہااس کی آنکھیں جل رہی تھیں اسے ایک پل قرار نہیں آرہا تھا…..لیکن سب لڑکے بار کے دروازے پر براجمان تھے وہ اسے باہر نہیں جانے دے رہے تھے دھکا مار کر پیچھے کر دیتے ۔
”ایک ایک کو دیکھ لوں گا میں ۔“کارل چلایا۔
”دیکھ لینا …..ابھی تو ہمیں سونگھ لینے دو……اف آخ خ۔
کارل نے عالیان کو دبوچ لیا ۔”لو سونگھو مجھے….آؤ میرے پاس.”
عالیان کا بد بو سے دم گھٹنے لگا.کارل ایک ایک کے قریب جا کر انہیں دبوچ رہا تھا “آو گلے ملو مجھ سے…..آو.”ساتھ ہنستا جا رہا تھا عالیان تو ہنس ہنس کے دیوانہ ہو رہا تھا.
کارل نے رک کر چند ھی آنکھوں سے عالیان کو دیکھا اسے یہ منظر اچھا لگا.
“اسے تنگ کرنے میں بہت مزا آتا ہے اسکی شکل دیکھنے والی ہوتی ہے.”کارل عالیان کی گردن دبوچتے ہوئے کہا.
شینل فائیو کی خوشبو بھی سونگھنے والی ہے….. اف اتنی بدبو…..آخ .”
“میں تمہاری ناک پھوڑ دوں گا.”
“جتنی بدبو ہے یہ کام ہمیں خود ہی کرنا پڑے گا……ہال ایک ہفتے کے لیے خالی کر دو سب….”
“کارل کو ہی نکال باہر کرتے ہیں نا سب…..”شاویز چلایا.
اور پھر سب نے مل کر اسے اٹھایا اور ہال سے باہر پھینک آئے.
ساری رات ہال میں یہی سب چلتا رہا.ہنس ہنس کر انکے سر درد کرنے لگے تھے وہ اسے بار بار اٹھا کر باہر پھینک رہے تھے.
کارل کو عطر معطر کرنے کے بعد مانچسٹر کی سڑکوں پر سے گزرتے ویراہنس ہنس کر پاگل ہوئی جارہی تھی.
“تمہیں یہ سب کس نے سکھایا ہے…..تم نے میری ہتھکڑی بھی کھول دی.”
“پاپا نے فوجی رہے ہیں وہ……تم ڈگری لے لو تو روس آنا….”
“اچھا!کیا بلکل تمہارے جیسی ہو جاوں گی؟”
“یا میرے جیسی ہو جاو گی ہا پہلے سے بھی جاو گی.”ویرا سائیکل سے اتر گئی.
“چلو تم سائیکل چلا و.”
“مجھے نہیں آتی…”
“چلاو گی تو آ جائے گی.”
“مجھے سیکھ کر کیا کرنا ہے….؟”
“سیکھنے سے پہلے کیا کیوں نہیں کرتے.”ویرا نے اسے زبردستی سائیکل پر بٹھا دیا اور ہینڈلکو پکڑے رکھا لیکن اسنے بیٹھتے ہی سائیکل گرا دی…..ویرا نے اسے اٹھایا’بٹھایا’اٹھایا’بٹھایا’اسنے چند پیڈل مارنے کے بعد پھر سے خود کو اور سائیکل کو گرا دیا.ویرا نے اسے پھر سے چلانے کیلئے کہا.
اگر سیکھانے والا نہیں تھک رہا تھا تو سیکھنے والے کو بھی کچھ شرم کرنی چاہیے تھی.سائیکل گر گر کر چلتی رہی…..امرحہ قریبا قریبا سنسان ہوئی سڑکوں پر سائیکل گرا اور چلا رہی تھی..اسے اچھا لگ رہا تھا….. گر گر کر اٹھنا اٹھ کر گر جانا…..ابتدا ایسے ہی ہوتی ہے’گرنے سے ڈرانا نہیں چاہیے….جلد ہو جانے سے’حرکت نہ کرنے سے خوف کھانا چاہیے….جب ساری کائنات کتاب بنی کھلی پڑی ہو تو انسان کو شاگرد ضرور بن جانا چاہیے…..دیر نہیں کرنی چاہیے….دیر ہو جائے تو مزید دیر نہیں کرنے چاہیے.
آسامیوں کے سبھی دروازے کھلے پڑے ہیں…آئیں ان دروازوں کے اس پار کود جائیں…اس سے اگلے پار…..کیونکہ یہ سب انسان کو ہی کرنا ہے…اور یہ سب انسان ہی کر سکتا ہے.
زمیں بچھی ہوئی ہے اور فلک ٹنا ہوا ہے اور کائنات لامحدود پھیلتی جا رہی ہے اور ہر لمحے یہ پکار کرتی ہے “آو اور مجھے پالو…. میرے فاتح بن جاو.”

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: