Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 32

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 32

“وقت تمہیں زندہ رکھے عالیان۔۔۔۔
بہاریں تم پر فدا ہو جائیں۔۔۔۔وہ تم سے جدا ہونے پر نالاں رہیں۔
قسمت کا قلم اگر تمہارے لیے کوئی دکھ لکھنے کا ارادہ رکھتا ہے تو میں دعا کرتی ہوں کہ ایسا کرنے سے پہلے قسمت کی یاداشت کھو جائے اور وہ تمہارے نام دکھ لکھنا بھول جائے۔
جو دروازہ کھلتا ہے وہ بند بھی ہوتا ہے تم پر کبھی بند دروازوں پر دستک دینے کی نوبت نا آئے۔۔۔۔
رحمتوں کے دروازے تم پر کھلیں اور انہیں کبھی بند ہونے کا حکم نا ملے۔۔۔۔اور تمہاری جان میں آبِ حیات حلول کر جائے۔۔”
پورے چاند کے آسمان اور چن من ستاروں سے سجی رات میں وہ کھڑکی کے پاس کھڑی اپنے ہاتھ سے بنائے کارڈ پر لکھ دی گئی ان دعاؤں کو زیرلب دہرا رہی تھی’بار بار۔۔۔۔وہ ان میں مزید دعاؤں کا اضافہ کر رہی تھی۔
“بے سکونی کے سائے اندھےاور بہرے ہو جائیں،تم تک آنے کے لئے انہیں کوئی راہ دکھائی اور سجھائی نہ دے۔”
وہ کھڑکی میں کافی دیر سے کھڑی تھی ہر آہٹ پر اسے لگتا تھا بس وہ آگیا ہے جبکہ بارہ بجنے میں کافی وقت تھا۔
اور وہ وقت سے دس منٹ پہلے آگیا تھا۔۔۔۔
…..بیگ کوپشت پر لٹکائے اس میں چھوٹا سا کیک چھپائے ۔بادام کا منا سا کیک کاٹ لیا گیا تو وہ واپس جانے لگا ۔امرحہ اپنی کھڑکی میں ہی کھڑی تھی نجانے اسے کیوں اسے امیدتھی کہ وہ ایک بار تو ضرور اس کے کمرے کی کھڑکی کی طرف دیکھے گا….لیکن جیسے خاموشی سے وہ آیا تھا ویسے خاموشی سے آیا تھا ویسے ہی خاموشی سے جارہا تھا۔وہ جا رہا تھا۔اس کی چال میں شکست خوردگی اتنی نمایاں ہو گئی کہ امرحہ کا دل پھوٹ پھوٹ کر رونے کو چاہا ،جو جگنو اس کے گرد گول گول گھومتے نظر آئے تھے وہ اس کے قدموں تلے مردہ ہونے لگے۔وہ ٹمٹا کر بجھ رہے تھے۔امرحہ کا جی چاہا بھاگ کر جائے اور ان مردہ جگنوؤں کو پھونکیں مار مار کر اس کے گرد گھول گھول گھومنے پر مجبور کر دے ورنہ التجا ہی کر لے….ورنہ آواز دے کر اسے روک لے اور کہے بادام مجھے چاہیے …..مجھے دے دو عالیان…. پلیز…. لیکن اس نے آواز نہیں دی اور اسے کیک بھی نہیں ملا ۔ابھی وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوا تھا کہ اس نے مڑ کر اس کھڑکی کی طرف دیکھا جس سے وہ ایک بار کودا تھا۔
امرحہ نے دیکھا کہ اس نے گردن موڑ کر دیکھا …..ہاں دیکھا اور پھر فوراً ہی گردن گھما لی جیسے کسی نے اس کے پیروں کی نیچے سے زمین کھینچ لی ہو….
اپنے پیچھے اندھیرے کو چھوڑتے وہ چلا گیا ۔امرحہ کھڑکی میں ہی کھڑی رہ گئی۔
”یہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔“امرحہ نے خود سے چھپ کر سرگوشی کی۔
”میں اس سے کبھی معافی حاصل نہیں کر سکوں گی۔“اپنے گالوں کو اس نے کھڑکی کی چوکھٹ کے ساتھ ٹکا دیا۔
”اب مجھے اس سے خوف آتا ہے اور یہ ایک خوفناک جذبہ ہے۔“
قسمت کے اندھیرے جنگل میں سرسراہٹ ہوئی ،دعائیں ان میں سے ہو ہو کر گزاریں….امرحہ نے اللہ کو اسی شدت سے یاد کیا جس شدت سے اس کے گم ہوجانے کے بعد کیا تھا…..اس نے دعا کی تھی کہ وہ گم چکے عالیان کو واپس لائے…..اور اب بھی اس نے یہی دعا کی…..”گم ہو چکا عالیان واپس آجائے…..اے خدا۔“

*…….*…….*
یہ اگلی رات کا قصہ ہے۔
وہ اپنی جاب سے واپس آرہی تھی بس اسٹاپ کی طرف پیدل……آج پھر سے اس نے ایک گاہک کا دس ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کا بل بنا دیا تھا جبکہ اس کے جوتے کی قیمت صرف سو پاؤنڈ تھی۔
صبح اس نےاُٹھ کر سفید کارڈ پر نیلے ،پیلے،سرخ سرخ ستارے چپکا دیے تھے،پھر شٹل کاک کے لان میں سے ایک پیلا پھول توڑ کر احتیاط سے بیگ میں رکھ لیا تھا۔زیادہ پھول وہ لے کر نہیں جا سکتی تھی۔جلدی جلدی کرتے بھی جب وہ صبح اس کے ڈیپارٹمنٹ تک گئی تو وہ کلاس میں جا چکا تھا۔حالات پہلے جیسے نہیں تھے کہ وہ اس کی کلاس میں جا کر کہتی کہ میری بات سن لو ،اسے اپنی کلاسسز بھی لینی تھیں۔
عالیان کوئی لیکچرمس نہیں کرتا تھا اس کی آخری کلاس کے وقت سے ذرا پہلے وہ اس کے ڈیپارٹمنٹ آگئی۔
وہ ویرا اور چند اور دوسرے دوست ایک ساتھ باہر نکلے ،عالیان کے ہاتھ میں چند کارڈز تھے اور اس کے کراس بیگ میں سے پھول جھانک رہے تھے۔امرحہ نے عالیان کے اکیلا ہونے کا انتظار کیا۔اسےکارل کا بھی ڈر تھاکہ وہ کہیں قریب و جوار میں ہی نہ ہو ۔عالیان کو اپنی سائیکل کی طرف جانا تھا اس کی سالگرہ کا دن تھا لیکن وہ مسکرا نہیں رہا تھا ۔ویرا عالیان کے ساتھ ہی تھی ،ویرا کو بھی اپنی سائیکل لینی تھی،لیکن ویرا نے اپنی سائیکل نہیں لی …..وہ عالیان کے سائیکل کے پیچھے بیٹھی۔
امرحہ ذرا دور خود کو چھپا کر کھڑی تھی …..کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔
ویرا نے آج اتنی خوبصورت فراک گلابی پھولوں والی فراک کیوں پہن رکھی تھی۔گلابی جوتے اور لمبے بالوں کو آج اس نے کس محنت سے سنوارا تھا ۔امرحہ آج اس کے ساتھ سائیکل پر نہیں آئی تھی جیسا کہ اب وہ اکثر یونی بس میں آجایا کرتی تھی۔وہ صبح ویرا کو دیکھ ہی نہیں سکی تھی۔ویرا جو یونی میں اپنی خوب صورتی کے لیے بھی مشہور تھی آج اس خوب صورتی کو چیلنج کرتی کیوں نظر آ رہی تھی۔
عالیان نے سائیکل چلائی اور ویرا نے بیٹھے بیٹھے شرارت سے اس کی سائیکل کو گرانے کے لیے ہلایا اور سائیکل ڈگمگا گئی۔۔
کتنا برا منظر تھا یہ…..مانچسٹر میں واقوع پذیر ہونے والا بد ترین منظر…..
یونیورسٹی در و دیوار سے آکاس بیلیں لپٹ گئیں۔آکسفورڈ روڈ پر دلدلی جھاڑیاں جابجا پھوٹنے لگیں اور اکسفورڈ روڈ دلدل ہی دلدل میں بدل گیا۔
چرچ کے گھنٹے کے ٹن ٹن ٹن نےمانچسٹر کے آسمان کو سر پر اُٹھا لیا ۔پیلا پھول بیگ میں رکھے رکھے اپنی موت آپ مر گیا ۔سفید کارڈ پر چپکے ستارے جھڑنے لگے۔”ثابت ہوا وقت انسان کا فرماں بردار نہیں ہے۔“
اس کے بازو پر سخت گرفت پڑی ۔امرحہ چونکی وہ بس اسٹاپ سے آگے نکل آئی تھی۔وہ اتنی ست روی اور معلق سی حالت میں چلتی رہی تھی کہ کافی رات ہو چکی تھی۔ اس کے بازو پر پڑنے والی گرفت نے اسے پتلی سٹرک کے اندر گھسیٹا وہ چیخ مارتی اس سے پہلے ہی ماسک سے منہ کو چھپائے اس انسان نے غرا کر کہا۔
”تمہاری آواز نکلی تو میں تمہاری کھال ادھیڑ دوں گا۔“کلچ کی آواز کے ساتھ ایک تیز دھار چاقو نکلا اور اس کی پسلی کے ساتھ مس ہوا۔
سارے جہاں کا خوف امرحہ کی آنکھوں میں سمیٹ آیا ،بند سڑک کے نیم اندھیرے ماحول میں اس نے کالے ماسک میں پوشیدہ آنکھوں کو دیکھا جن کی پتلیاں بمشکل دکھائی دے رہی تھیں۔
”کیا چاہتے ہو……میرے پاس بیس پاؤنڈ سے زیادہ نہیں ہیں۔“امرحہ کی آواز کانپ رہی تھی ایک خدشہ اسے یہ بھی تھا کہ یہ کارل ہو گا ،اسے ڈرا رہا ہو گا ۔
ماسک مین نے پوری قوت سے اپنا دایاں پیر اُٹھا کر امرحہ کے پیر پر دے مارا ،تکلیف سے امرحہ بلبلا اُٹھی اگر اس نے جوگرز نہ پہن رکھے ہوتے تو اس کے پیر کی کھال ادھڑ جاتی۔پیٹ کے بل امرحہ سڑک پر بیٹھتی چلی گئی اور جیسے ہی وہ جھکی اس نے پورا زور لگا کر امرحہ کو ٹانگ ماری…..اس بار امرحہ سٹرک پر گر گئی۔
”کون ہو تم کیا چاہتے ہو ۔“خوف سے امرحہ چلائی۔وہ نیچے اس کے قریب جھکا اور ہاتھ میں پکڑے چاقو کو اس کے بازو پر رکھا اس کی نوک کو اندار کرنے لگا۔
چاقو امرحہ کی کھال سے چھوا …..اندر گھسا ….خوف اے امرحہ کی آنکھیں سرخ ہو گئیں وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جیسے اسے بہت مزا آرہا تھا یہ کرتے ۔
”بتایا تو ہے تمہاری کھال….چاقو کو اس نے گھمایا۔امرحہ نے سارا خوف بالائے طاق رکھ کر چیخ مار دی اور پیچھے کی طرف بھاگی۔
”ہیلپ !“
وہ بڑے آرام سے اُٹھا اور اس کی طرف آیا ۔امرحہ کی قسمت خراب کہ وہ پتلی گلی نما سٹرک بند تھی اور اس کے آگے سے ہو کر نہیں جا سکتی تھی۔
”ہیلپ…..ہیلپ۔“ساتھ اس نے بیگ میں سے فون نکالنا چاہا لیکن ہاتھوں میں اس بری طرح کپکپاہٹ تھی کہ بیگ کی زپ بھی نہیں کھول سکی،وہ بند گلی کے آخری دیوار کے ساتھ چپک کر کھڑی تھی اور وہ بڑے مزے سے اس کی طرف قدم بڑھا رہا تھا۔
”اب اگر ےتمہاری آواز نکلی تو میں تمہارا گلا کاٹ دوں گا۔“
”خدایا…..اے اللہ….“امرحہ نے بلند آواز سے کہا وہ بس بے ہوش ہو جانے کو تھی۔
”اللہ “وہ استہزائیہ ہنسا۔
دیوار کا سہارا لینا امرحہ کے لیے محال ہو رہا تھا وہ بس گر جانے کو تھی۔
”کیا ہو رہا ہے یہاں ؟“ایک تیز ٹارچ کی روشنی گلی میں چمکی۔ماسک مین تیزی سے بھاگ گیا ٹارچ والا گلی کے اس حصے کی طرف آیا جس طرف امرحہ تھی۔ خوف اور تکلیف کی وجہ سے امرحہ کو ٹھیک سے دیکھنےاور سمجھنےمیں وقت لگا ۔
”اوہ خدایا….. کیا ہوتا رہا ہے یہاں؟“ وہ امرحہ کو دیکھ کر بری طرح چونکا امرحہ نیچے بیٹھ گئی اس کے لیے کھڑا رہنا مشکل ہو رہا تھا۔
”تم ٹھیک ہو “وہ گھٹنوں کے بل اس کےقریب بیٹھ گیا۔امرحہ نے خوف سے ہی اسے بھی دیکھا اور اُٹھنے کی کوشش کی۔
”ٹھہرو۔میں تمہارے لیے پانی لاتا ہوں۔“آدمی جلدی سے گیا اور پانی کی بوتل لے آیا۔
”لو یہ پیو اور اپنی سانسیں درست کرو۔پرسکون ہو جاؤ،میں ابھی پولیس کو بلاتا ہوں۔“امرحہ ہاتھ سے پسینہ صاف کرنے لگی۔اس کی سانسیں قابو میں ہی نہیں آرہی تھیں۔
”اس طرف ساتھ ہی میرا اسٹور ہےمیں کوڑا دان میں کوڑا ڈالنے آیا تو مجھے ہیلپ کی آواز آئی۔تم میرے اسٹور میں چل کر بیٹھ سکتی ہو ،آؤ میرے ساتھ میں پولیس کو فون بھی کرتا ہوں۔“
”نہیں پولیس رہنے دیں۔کیا آپ مجھے ٹیکسی میں بیٹھا سکتے ہیں ؟“
”رکو لڑکی! تم ایسے نہیں جا سکتیں تم غیر ملکی ہو تمہارے ساتھ مانچسٹر میں یہ سلوک برداشت نہیں کیا جائے گا،جو ہم خود اپنے ساتھ برداشت نہیں کر سکتے ۔آؤ میرے ساتھ۔“وہ نیم بوڑھا آدمی آگے آگے چلنے لگا ۔
امرحہ کو ناچار اس کے ساتھ جانا پڑا۔تھوڑے ہی فاصلے پر اس کا اسٹور تھا۔کہنی سے اوپر اس کے دائیں بازو میں کافی تکلیف تھی ،وہ جگہ خون سے گیلی ہو رہی تھی”تمہیں کوئی چوٹ تو نہیں آئی ؟“
”نہیں ….میں ٹھیک ہوں اسے میرا بیگ چاہیے تھا بس….“
تھوڑی دیر میں پولیس آگئی امرحہ نے سارا واقع بتا دیا ۔
”آپ پہچانتی ہیں اسے ؟“پولیس مین پوچھ رہا تھا۔
”وہ ماسک میں تھا“
”آواز ؟“
”نہیں جانتی اسے….آواز بھی نہیں۔“
”آپ یونیورسٹی اسٹوڈنٹ ہیں اکثر ایسے اسٹوڈنٹ مذاق کرتے ہیں۔“
”نہیں ! وہ یونی اسٹوڈنٹ تو نہیں لگتا تھا اسے میرا بیگ چاہیے تھا۔“
”کیا اس نے مانگا تھا یا چھینا تھا؟“
”مانگا تھا۔میں نے نہیں دیا تو مجھے گرا دیا اس نے۔“
اس کے ہاتھ میں چاقو دیکھ کر بھی آپ نے اسے دینے سے انکار کر دیا جس میں صرف بیس پونڈز تھے،آپ کو ڈر نہیں لگا ؟“
بوکھلاہٹ میں میں نے انکار کر دیا سب کچھ ایک دم سے ہوا۔
پولیس کی ہی گاڑی اسے گھر چھوڑ گئی۔گھر آ کر اس نے بازو کا حال دیکھا گہرے رنگوں کی وجہ سے خون نظر نہیں آیا تھا فرسٹ ایڈ باکس کچن سے لا کر اس نے بڑی مشکل سے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ کی پٹی کی فرسٹ ایڈ باکس میں کوئی انٹی بائیوٹک نہیں تھی اور اسے بازو پر کافی تکلیف ہو رہی تھی گرم دودھ میں ہلدی ڈال کر اس نے پی لی اور کمرے میں گم سم بیٹھ گئی۔
خاموش۔۔۔۔بلکل چپ
میں ایک بہادر لڑکی ہوں بہت دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے خود سے کہا میرے بازو میں تکلیف ہے لیکن میں اسے برداشت کر سکتی ہوں مجھے رونا آ رہا ہے لیکن میں روں گی نہیں میں خوف زدہ ہوں لیکن میں اپنے خوف پر قابو پا لوں گی عمل کا رد عمل ہے میں اسے اپنے عمل سے بدل دوں گی میں اسے ٹھیک کر لوں گی مجھے ڈرنا نہیں چاہیے میں اکیلی ہوں لیکن اکیلے ہونے کا مطلب یہ نہیں کے بزدل یا کمزور بن جایا جائے ویرا صبح کے قریب گھر آئ تھی عالیان کے کلاس فیلوز اور حال میٹس نے اس کے لئے برتھڈے پارٹی کا انتظام کیا تھا ویرا وہیں تھی رات بھر ۔۔۔۔۔روسی دھن کی سیٹی بجاتی جب ویرا اپنے کمرے میں چلی گئی تو امریحہ نے اٹھ کر اپنے بیگ میں سے کارڈز نکال کر الماری میں رکھے باکس میں رکھا پھول تو اس نے مسل کر آکسفورڈ روڈ پر ہی پھینک دیا تھا اگر وہ پھول عالیان کو دے بھی دیتی تو کیا وہ لے لیتا لے لیتا تو چلتے چلتے کہیں بھی پھینک دیتا وہ تو رات بھر مزے سے پارٹی کرتا رہا تھا امریحہ بھی مانچسٹر میں موجود ہے وہ تو یہ بھی بھول چکا تھا کبھی وہ اسکی دوست رہی تھی اس کبھی کے لئے ہی وہ اسے پارٹی میں بلا لیتا امریحہ شو اسٹور پر سارا وقت اس پارٹی کے بارے میں ہی سوچتی رہی تھی گھیسی ہوئی تین جینز کی پینٹون میں سے کوئی ایک اس نے پہنی ہو گی شاید ہلکے مٹے مٹے نیلے رنگ کی اور یونیفارم کی طرح جانی جانے والی کی کی بار استعمال کی جانے والی چند مخصوص ٹی میں سے کوئی ایک شاید کالی جس کی پشت پر موٹے تنا ور درخت کی صرف جڑیں سرمئی رنگ میں پھیلی پری تھی اور جو عالیان کو بہت پسند تھی یا شاید نیلی پر سفید وہی سفید جس کی فرنٹ پر سرچ می لکھا تھا
آخر تمہارا کیا مطلب ہے کیا ڈھونڈ لیا جائے تم میں سے؟
جنہیں کچھ ڈھونڈھنا ہو گا وہ کیا کیوں تو نہیں پوچھیں گے نا وہ تو بس کر گزرے گے
کیا کر گزرے گے ؟
وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا پھر بولا تم نہیں سمجھو گی
اور وہ نہیں سمجھی تھی ٹھیک کہا تھا اس نے اس کے پاس گھسے ہووے اور پرانے کپڑے ہی تھے یہ میں نے چار سال پہلے لی تھی یہ تین سال پہلے یہ جوتے یونان جرمنی اور فرانس تک جا چکے ہیں ابھی بھی دیکھ لو کتنے اجلے آجلے ہیں اور مضبوط بھی ان کے ساتھ مزید تین چڑ ٹورز کے جا سکتے ہیں تم کافی کنجوس ہو۔پرانی شرٹس تم خود ہی تراش خراش لیتے ہو یا جو جو کو دے دیتے ہو اور وہ فرانس کی قدیم و جدید تجردی آرٹ تمہاری شرٹس پر بنا دیتی ہے مجھے تو اسکی بنائی علامتون سے بغاوت کی بو آئ
ہاہاہا باغی ہی ہے اس کے آرٹ سے بنی شرٹس جب میں پہنتا ہوں تو اسے بہت سے آرڈر ملتے ہیں اس لئے تو وہ اتنی امیر ہے میں تو اسکا چلتا پھرتا ماڈل ہوں اور میں کنجوس بلکل نہیں ہوں صرف فضول خرچ نہیں ہوں میرے اس کراس بیگ کو دیکھو،بتاؤ یہ کتنا پرانا ہے؟
کم سے کم دس سال پرانا امرحہ نے چڑ کر کہا
ہاہاہا نہیں یہ یونی کے پہلے دن سے میرے ساتھ ہے چند ایک بار پھٹ چکا ہے لیکن میں اسے سلا ئی کر لیتا ہوں دھو دیتا ہوں میں ایک یونی سٹوڈنٹ ہوں ماڈل نہیں جو نت نئے کپڑے پہن کر ہی یونی آ سکتا ہے بس۔ ۔۔۔۔یہ بیگ یہ جوتے اور کپڑے صرف استعمال کی چیزیں ہیں انہیں چیزیں ہی رہنے دینا چاہیے جنوں نہیں بنا لینا چاہیے انسانی ترقی کا راز ان سے ہے نا یہ ترقی کے رضا کار ہیں ان کے لئے پاگل ہونا پاگل پن ہے
ایک سال میں تم کتنی کھریداری کرتے ہو ؟
بہت کم ضرورت پڑتی ہے مما،مورگن اور شارلت کرسمس پے گفت دے دیتی ہیں کچھ دوست جو موٹے ہو جاتے ہیں یا انکی وارڈ روب میں مزید کپڑوں کے لئے جگہ نہیں بچتی وہ کم قیمت پر نیلامی کر دیتے ہیں اگر بہت ضرورت ہو تو میں اور کارل وہ لے لیتے ہیں
تو تم پیسوں کا کیا کرتے ہو؟
اسکو حیرت تھی مما مہر کے بیٹے کی یہ حالت تھی وہ جاب بھی تو کرتا ہے
ویل یہ ایک راز ہے تمہارے پاپا کیا بہت امیر ہیں تم کتنے نت نئے کپڑے بدلتی ہو یونی کے پہلے دن جو تم نے لباس پھنا تھا وہ میں نے دوبارہ نہیں دیکھا وہ گرمیوں کے لئے تھا گرمی اے گی تو دوبارہ استعمال کروں گی
امریحہ جھوٹ بول رہی تھی اپنا وہ سوٹ وہ این اون کو دے چکی تھی کیوں کے امریحہ کو وہ اچانک سے برا لگنے لگا تھا اپنی طرف سے اتنی کفایت کے باوجود وہ ہر مہینے اپنے اسٹور سے کم قیمت پر دو جوڑے جوتوں کے لے لیتی تھی کافی ساری جینز لے چکی تھی ٹاپ بھی گرم کوٹ جیکٹس اور بیگز دستانے تو اتفاق سے اس کے پاس اتنے ہو چکے تھے انہیں کاٹ کر سی کر ایک نیا سویٹر بن سکتا تھا اسے دستانوں کی لباس کے ساتھ میچنگ کا اتنا خبط ہو گیا تھا اور پاکستان سے جو وہ گرم کپڑے لائی تھی ان کے ساتھ دستانے میچنگ کرتے کرتے بس ہی ہو گئی تھی
امریحہ عالیان کی شرٹس کو انگلیوں پر گن سکتی تھی اور گن رہی تھی تو اس نے پہلے جو جو کی تجردی آرٹ سے سجی شرٹ پہنی ہو گی بلیک جینز پر اس نے پھونک ماری ہو گی اور کیک کاتا ہو گا اور کارل کے منہ میں ڈالا ہو گا شاید کیک کارل نے ہی کاٹ لیا ہو اور موم بتیوں کی جگہ کوئی راکٹ فٹ کر دیا ہو اور کیک عالیان کے منہ میں ڈالنے کی بجاے منہ پر تھوپ دیا ہو ساتھ ساتھ ان غباروں کو پھوڑا گیا ہو گا جن میں کارل نے پٹاخے بھرے ہوں گے جو زمین پر گرتے خود با خود پھوٹنے لگتے ہیں کان پھاڑ دینے والی آوازوں کے ساتھ پٹاخوں کے گرتے ہی سب چیخیں مرتے ادھر ادھر بھاگے ہوں گے خاص کر لڑکیاں
اور پھر تیز میوزک لگایا گیا ہو گا سب ساتھ ایک آواز میں گاتے ہوں گے
its my friends birthday
so dance buddy dance…..dance
عالیان کے گرد انہوں نے گول دائرہ بنا لیا ہو گا ایک دوسرے کی کمر میں ہاتھ ڈالے وہ شانے دائیں بائیں لگاتے جھومتے جاتے ہو گے
its my friensz birthday
so i m dancing
امریحہ گم سم حالت سے چونکی
its my friends birthday
so i m praying
امریحہ نے آنکھیں بند کر کے اس کے لئے دوا کی اگلی صبح وہ یونی نا جا سکی دیر سے سو کر اٹھی۔اسے بخار ہو رہا تھا۔پہلے ڈاکٹر کے پاس گئی۔ڈاکٹر کو بتایا کہ حادثاتی طور پر وہ اپنا ایک بازو ایک لوہے کی سلاخ سے زخمی کر بیٹھی اس کے زخم میں سوجن تھی بہت اور اس کے لیے بازو کو حرکت دینا مشکل تھا۔اسے ہر حال میں یونی جانا تھا ،لیکن اس کا بخار بڑھ رہا تھا ،اس سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا۔وہ آدھے راستے سے ہی گھر واپس آگئی ،تیز دھار چاقو اس کی کھال میں گھسا تھا زخم تازہ تھا تو اتنی تکلیف نہیں تھی،لیکن اب تو اس برداشت ہی نہیں ہو رہا تھا۔وہ گھر آکر سو گئی ۔
اسے اتنا تیز بخار ہوگاا کہ وہ مدہوشی میں بڑبڑانے لگی۔سادھنا رات اس کے کمرے میں ہی سوئی اور جب اگلی صبح وہ اسے سوپ پلا رہی تھی تو وہ تذبذب سے امرحہ کو دیکھنے لگی۔
”اگر یہ سوپ تم نے پینا ہے تو پی لو پلیز مجھے ایسے نہ دیکھو۔“امرحہ نے مذاق کیا ۔
”تمہارے اور عالیان کے درمیان کچھ ہوا ہے؟“
”کچھ کیا….کچھ بھی نہیں ….دائیں بازو کی تکلیف پورے جسم میں ڈورگئی۔
”ویرا عالیان کی برتھ ڈے پارٹی میں گئی تم کیوں نہیں گئیں ؟“
”تمہیں تو معلوم ہے یہ لوگ کیسی کیسی شرارتیں کرتے ہیں پارٹی میں،دادا نے منع کر دیا۔“
”تمہارے اور اس کے درمیان کوئی نارضگی ہے،پہلے تو تم اس کی کافی باتیں کرلیا کرتی تھیں میرے ساتھ…؟“
”نہیں….وہ مصروف ہوتا ہے بہت…..اس کے اور دوست بھی تو ہیں،میں اس کے لیے اتنی اہم نہیں ہوں۔“
”کیا تمہیں یہی دکھ ہے کہ تم اس کے لیے اتنی اہم نہیں …؟“
”دکھ….نہیں دکھ کیوں ہو گامجھے؟“
”تو پھر امرحہ تم رات بھر اس کا نام لے کر روتی کیوں رہی ہو ؟“
امرحہ خاموش سادھنا کو دیکھتی رہی،لفظوں کو اس حلق سے نکلنے میں دقت درپیش تھی۔
”میں روتی رہی ہوں ؟“
”اتنی اونچی آواز میں کہ مجھے کمرے سے باہر جا کر دیکھنا پڑا کہ آواز گھر میں کہاں تک جا رہی ہے۔“
”بخار میرے سر کو چڑھ گیا ہو گا ۔“
”بخار…..تم اس طرح رو رہی تھیں کہ میں بھی رونے لگی۔میرا دل پھٹنے لگا اور میں نے پراتھنا کی کہ بھگوان تمہیں سکون دے۔“
”میں …میں دادا کو یاد کر رہی ہوں گی۔پتا نہیں ڈاکٹر نے کل کیسی دوا دی تھی۔“
”سادھنا نے کھڑکی کے پردے اُٹھا دیے،باہر روشن دن نکلا تھا،دھوپ چمک رہی تھی مانچسٹر کی دھوپ لاہور کی دھوپ کی چھوٹی بہن سی…..اوپری من سے روٹھ جانے والی سہیلی سی…..دوپٹے کا کونا دانتوں میں دبا کر دلہن بنی ننھی سی بچی کی ایویں،ایویں شرماہٹ سی اورکسی جان سے پیارے کی ”پکی کٹی سی بھی..

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: