Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 33

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 33

”اور کتنے دن بیمار رہنا ہے؟“
ویرا اچھل کر اس کے بیڈ پر کودی،امرحہ کا زخمی بازو بال بال بچا جسے وہ کشن پر رکھے نیم دراز سی تھی اس نے ویرا کو کچھ بھی نہیں بتایا تھا،بازو کے زخم کا تو بالکل بھی نہیں۔
”میرا تو دل چاہتا ہے میں اب بیمار ہی رہوں۔“اس کے اتنے مایوسانہ انداز پر ویرا چونک سی گئی۔
”امرحہ !پارٹی سب دوستوں نے مل کر عالیان کو دی تھی،سرپرائز پارٹی بھی،اگر عالیان کی طرف سے ہوتی تو تم بھی وہی ہوتیں،وہ تمہیں ضروربھی بلاتا“
امرحہ کو تھوڑا سکون ملا ہاں اگر وہ پارٹی کا انتظام کرتا تو اسے بلاتا ،لیکن وہ ہارٹی شارٹی کرنے والوں میں سے نہیں تھا جو کپڑوں پر پیسے ضائع نہیں کرتا تھا وہ پارٹی پر کیوں کرے گا۔
”تم اپنے گھر پارٹی کرتی تھیں؟“وہ اس کے سالگرہ سے اگلے دن پوچھ رہا تھا۔
پارٹی؟ امریحہ گڑ بڑا کر رہ گئی جس طرح سے اسکا یوم ای پیدائش مشور ہو چکا تھا وہ تو صرف یوم سیاہ یا یوم دفعان بلا کے طور پر ہی منایا جا سکتا تھا
نہیں۔ ۔۔کوئی پارٹی نہیں
گھر میں کیک کاٹ لیتی ہو گی دوستوں کے ساتھ ہے نا ۔۔۔
[ ] نہیں(اہ بھر کر اسکی بھی نوبت نہیں آئ تھی)دادا کے ساتھ پہلے بادشاہی مسجد جاتی تھی نفل پڑھنے شکرانے کے دادا کہتے تھے اپنی پیدائش کے دن زیادہ عبادت کرنی چاہیے خدا کو بتانا چاہیے کے ہم اسکے شکر گزار ہیں کے اس نے ھمیں بنایا اور کس قدر پیار سے بنایا ہمارے لئے نبی بیجھے ہمارے لئے اپنے پیغامات آسمان سے اتارے ھمیں خدا کو بتانا چاہیے کے ہم خوش ہیں کے ہمارے لا وجود کو وہ وجود میں لانے کے لئے وہ رازی ہوا
[ ] گڈ پھر؟ عالیان متاثر نظر آنے لگا پھر مجھے وہ اپنی پسند کا گفت دے دیتے اور اپنی پسند کے پارک لے جاتے اور رات میں میری ہی پسند کے ہوٹل میں کھانا کھلا دیتے امریحہ کو یہ بتاتے ہووے ڈر بھی تھا کے کہیں وہ یہ نا پوچھ لے کے ہر جگہ دادا ہی کیوں ؟
[ ] میں متاثر ہوں امریحہ۔۔۔
[ ] اور تم؟ تم کیا کرتے ہو؟
[ ] کرتا تو نہیں ہوں لیکن کرنا چاہتا ہوں اس نے دونو آنکھیں میچ کر پھر انہیں کھول کر کہا اور مسٹری سے مسکرانے لگا میں چاہتا ہوں کے جب میری سالگرہ ہو میں سپر مین بن جایا کروں بے شک صرف ایک گھنٹے کے لئے اور مما کو اڑا کے اپنے ساتھ لے جایا کروں دور بہت دور بادل کے ایک ٹکڑے پر تیز ہوا موم بتی کو بجھا دے میں اور ماما مل کر کیک کاٹیں یا پھر میں انہیں وکٹوریہ فال لے اڑوں گرتے ہووے پانیوں کی پوچھاڑ کے دوران کسی اونچی نوکیلی چٹان کے کنارے پانی کے پردے کے بس اتنے قریب کے ہاتھ بڑھا کر ہاتھ گیلے کر لو۔ ننھی منھی بونددیں میرے کیک کو گیلا کر رہی ہوں کبھی میں پیٹر کے مجسمے کو احترام سے اٹھا کر اسکی کشتی سے نیچے رکھوں اور اسکی کشتی کو سمندر میں لے جاؤں اور۔ ۔۔۔۔۔
[ ] میں خوف زدہ ہو رہی ہوں عالیان۔
[ ] اگر وہ سپر مین نہیں بنا تو امریحہ کو ڈر تھا کے وہ کسی نا کسی طرح یہ سب کر لے گا اسکے خواب کیسے بڑے بڑے تھے اسکے۔یو نو بڑے بڑے؟ بادل کے ٹکڑے پر جا کر کیک کاٹنا۔شکر ہے اس نے آتش فشاہ کے اندر جانے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا ویرا اپنے کمرے سے گیٹار لے آئ تھی اور اسے کوئی روسی نظم سنانے لگی تھی گاتے ہووے وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی کے کوئی بھی اس پے نثار ہو سکتا تھا لیکن امریحہ کا کوئی ارادہ نہیں تھا اس پے نثار ہونے کا بھلا اسے کیا ضرورت تھی اتنی پیاری فراک پہن کے عالیان کے پیچھے سائیکل پر بیٹھنے کی۔
[ ] مجھے یہ شک سا کیوں ہے کے تم مجھے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی ہو؟
[ ] ویرا نے درمیان میں روک کر پوچھا
[ ] تم اتنی پیاری لگ رہی ہو دل چاہ رہا تمہیں کھا جاؤں اب امریحہ یہ تو نہیں کہ سکتی تھی کے میں تمہیں کھا جانا چاہتی ہوں
[ ] یہ پیار سے کھا جانے والا انداز تو نہیں ہے ویرا نے دوسرا روسی گانا گاتے ہووے کہا این اون اور سادھنا بھی اسکے کمرے میں آ گئی بعد ازاں لیڈی مہر بھی
[ ] اسکی اتنی سی بیماری پر وہ کیسے کیسے اسکا دل بہلا رھے تھے وہ کوئی دنیا جہاں کی دولت نہیں لوٹا رہے تھے اس پر صرف ذرا سی توجہ ہی دے رھے تھے اور یقین جانیں بر بیمار کو بیماری میں ذرا سی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے شام کو سائ اسکی خریت معلوم کرنے آیا تھا امریحہ نے اسے فون کر کے سب بتا دیا تھا وہ اسکے لئے پھول لیا تھا۔۔۔
[ ] تم اس واقعے کے بارے میں کسی سے بات نا کرنا سائ ظاہر ہے ایسا ہی کروں گا لیکن تم اس کے پاس ضرور جانا
[ ] کیا مجھے جانا چاہیے؟
[ ] ہان بلکل تمہیں خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے
[ ] میں خوف زدہ نہیں ہوں مجھے اسکے پاس جانا تو تھا ہی اسکے پاس اسی لئے میں نے پولیس سے جھوٹ بولا
[ ] بس ٹھیک ہے تم نے ٹھیک کیا تم چیزوں کو بہتر انداز میں سوچ رہی ہو
[ ] مجھے یہی سب کرنا تھا سائ ورنہ بات بہت بگڑ جائے گی
[ ] صحت یابی کی دوائیں دیتا سائی چلا گیا لیکن صرف کمرے سے ،نشست گاہ میں لیڈی مہر سے اسکی مڈ بھیڑ ہو گئی تھی اور وہ نا جانے انھیں کون کون سی کہانیاں سنا رہا تھا کے وہ ہنس ہنس کر بحال ہو رہی تھی
[ ] تمہاری یونی میں کتنے مزے مزے کے لاگ پڑھتے ہیں سادھنا اس کے لئے رات کا کھانا لائی تو ہنسی کو کنٹرول کرتے ہووے بولی
[ ] تمہیں سائ اچھا لگا؟
[ ] ہاں بہت۔ ۔وہ یونی کے ابتدائی دنوں کی باتیں کر رہا تھا
[ ] سادھنا کیا تم آسمان کے ساتھ الٹا لٹکنا چاہتی ہو؟
[ ] اگر ہاں تو تم عالیان کو فون کرو اور کہو تمہاری ملاقات کارل سے کروا دے میں شرط لگاتی ہوں تم اس طرح دوبارہ کبھی ہنس نہیں پاؤ گی
[ ] نہیں مجھے کارل نہیں چاہیے وہ تمہیں ہی مبارک ہو شکر کرو تمہاری باتیں سن کر میں نے خوف زدہ ہو کر مانچسٹر نہیں چھوڑ دیا
[ ] دادا بھی شکر کریں گے میں نے اس سے خوف زدہ ہو کر دنیا نہیں چھوڑ دی کاش آج کل میں ہی وہ مرنے شرنے والا ہو آمین
[ ] اپنی کلاس لینے کے بعد وہ پال کے ڈیپارٹمنٹ آ گئی تھی اور اسکا انتظار کرنے لگی تھی
[ ] مجھے تم سے بات کرنی ہے پال وہ اپنی کلاس سے باہر نکلا امریحہ تیزی سے اسکی طرف گئی اسکے دوست بھی اس کے ساتھ تھے میرے پاس ضائع کرنے کے لئے وقت نہیں ہے اسے جیسے کوئی فرق نہیں پڑا تھا
[ ] میں سب کے سامنے بات نہیں کرنا چاہتی
[ ] امریحہ نے بہت بہت مضبوط لہجے میں کہا
[ ] مجھے اس سے دلچسپی نہیں تم کیا چاہتے ہو
[ ] تمہیں اس رات والے واقعے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے؟
[ ] تمہیں اپنی بکواس سنانے کے لئے میں ہی ملا تھا وہ بھڑکنے کی ناکام اداکاری کرنے لگا
[ ] میرے بازو پر زخم ابھی بھی تازہ ہے اگر تم اپنے دوستوں کے سامنے بات کرنا چاہتے ہو تو ٹھیک ہے
[ ] میرا خیال تھا یہ تمہارے حق میں بہتر نہیں ہو گا
[ ] پال اپنے دوستوں سے الگ ہو کر چلنے لگا امریحہ اسکے پیچھے ہی تھی دونوں ڈیپارٹمنٹ سے باہر نکل اے تو امریحہ اس کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی
[ ] تم مجھے تھپڑ مار سکتے ہو
[ ] میں تمہیں پھر سے بتاؤں تم میرا وقت۔۔۔۔۔
[ ] تم اسی وقت مجھے سب کے سامنے تھپڑ مار سکتے ہو ،ایک نہیں جتنےجی چاہے مار سکتے ہو میں تمہیں اجازت دیتی ہوں،امرحہ نے اتنی سنجیدگی اور متانت سے کہا کہ وہ کچھ بول ہی نہیں سکا
“اور اگر تم نے اکیلے میں مارنے ہے تو بھی،تم مجھے برا بھلا کہہ سکتے ہو ،گالیاں دے سکتے ہو ،سب کر سکتے ہو لیکن اس کے لیے تمہیں قانون کو ہاتھ میں لینے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں اپنا کیرئیر اپنی تعلیم داو پر لگانے کی ضرورت نہیں ہے، تم اسپورٹس پرسن ہو یونی کے لیے میڈل جیت کر لائے ہو ،ہیرو ہو یونی کے،لیکن اخبارت ،میڈیا لمحوں میں تمہیں ہیرو سے زیرو بنا دے گا۔“
”تم جانتی ہو تم کیا کہہ رہی ہو ؟“وہ ہنسا۔
”ہاں سنو ! میری بات مکمل ہونے دو ،اس رات اس آدمی نے میرے منع کرنے کے باوجود پولیس کو بلا لیا تھا۔میں نے ان سے جھوٹ بول دیا تھا۔صبح پولیس کا فون آیا تھا انہوں نے مین روڈ پر لگے کیمروں سے تمہاری فوٹیج حاصل کر لی ہے،جس میں تم میرا بازو گھسیٹ کر گلی کے اندر لے جا رہے تھے۔انہوں نے تمہارا قد کاٹھ سب نوٹ کر لیا ہے،میں انہیں بتا سکتی تھی پال کہ یہ تم ہو۔ تم نے ہاتھوں میں جو دستانے پہن رکھے تھے وہ بھی تمہارے بائیں ہاتھ کے چھ انگلیوں کو چھپانے میں ناکام تھے۔اگر میں پولیس سے کہو تو وہ ضرور باریک بینی سے اس معاملے کو دیکھیں گے۔مزید اگرتمہارے چاقو سے بنا یہ زخم میں نے پولیس کو دیکھا دیا تو تم جانتے ہو یہ صرف ہراساں کرنے کا کیس نہیں رہے گا ،تمہیں یونی سے نکال دیا جائے گا،کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی تم نے مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا ہے….تمہارا کیریر ختم۔“
وہ اسے گھور رہا تھا”مجھے نفرت ہے تمہاری شکل سے۔“
”کیا تمہارے پاس اس نفرت کی وجہ ہے….ایک تھپڑ نا…..اور میرا مسلمان ہونا…..تم سو تھپڑ مجھے مار لو….مگر ایسے خود کو کرمنل مت بناؤ….تم ہر طرح سے اپنا غصہ مجھ پر نکال سکتے ہو۔“
”تم غلط جگہ اپنا لیکچر دینے کا شوق پورا کر رہی ہو ۔“
”اگلی بار مجھے نقصان پہچانا چاہو تو اتنا خیال رکھنا کہ تمہیں نقصان نہ پہنچے۔“
”تمہیں میرے نقصان کی اتنی فکر کیوں ہے ؟“وہ استہزائیہ ہنسا۔
”کیونکہ اب تم مجھے انسان ہونےکی حیثیت سے نہیں ایک مسلمان ہونےکی حیثیت سے دیکھتے ہو ،تو ٹھک ہے ایک مسلمان تمہارے اس حملے کو درگزار کرتا ہے….میں چاہو تو اسی وقت تمہیں پولیس کو پکڑوا سکتی ہو،تم پر جرم ثابت ہو جائے گا۔تم یونی سے باہر ہو گے تو ایک مسلمان ،ایک اسلام کو ماننے والا تمہارا کیریر،تمہاری نیک نامی بچا رہا ہے…..تمہارے حملے کو درگزار کر رہا ہے…..تم نےاسلام کو لے کر وہ سب کیوں کہا۔میں نہیں جانتی لیکن اب تم یہ جان لو تمہارے ساتھ ایسا کرنے کے لیے میرا مذہب کہہ رہا ہے….تم اسلام سے نفرت کرتے ہو شاید،لیکن اسلام کاپیروکار نہ تم سے نفرت کرتا ہے اور نہ تمہارے مذہب سے اور نہ ہی کرے گا….مجھے نفرت کا درس نہیں دیتا میرا مذہب…..تم کسی بھی وقت میرے منہ پر آکر تھپڑ مار سکتے ہو۔اس کے لیے تمہیں خود کو خطرے میں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے…..میں یہاں پڑھنے آتی ہوں اور تم بھی…..اگر ہم ایک دوسرے کو پسند نہیں کرسکتے تو ہمیں ایک دوسرے کا احترام ضرور کرنا چاہیے….اور اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو غیر جانب دار ہو جانا چاہیے….خاموش ہوکر الگ ہو جانا بہت سےمسائل حل کر دیتا ہے…..“
”میں تمہاری شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتا “وہ سختی سے بولا۔
”ٹھیک ہے تمہیں میری شکل نظر نہیں آئے گی۔“امرحہ کہہ کر آگئی۔
”اسلام گالی کا جواب گالی نہیں ہے…..اسلام اینٹ کا جواب برداشت ہے۔“
اینٹ کا جواب،برداشت اور حکمت وہ پال کو دے آئی تھی اور اسے امید تھی سب اچھا ہی ہوگا…..کیونکہ حکمت کبھی مضر نہیں ہوتی۔رات کو لیڈی مہر نے ان سب کو نشست گاہ میں ایک ساتھ بلایا۔
”میں تم سب سے ایک وعدہ لینا چاہتی ہوں انسانیت کے ناطے اور ان سب سے بھی کہیں بڑھ کر ایک ماں کی محبت کے ناطےسے….تم سب مجھ سے وعدہ کرو کہا اگر کوئی میرے بارے میں، اس گھر اوع میرے بچوں کے بارے میں تم سےکچھ بھی پوچھے گا توتم ایک لفظ بھی نہیں بتاؤ گی….“
”کچھ ہوا ہے کیا؟“ویرا نے پوچھا۔
”میں تفصیلات نہیں بتا سکتی ،تم چاروں پوری ایمانداری سے مجھ سےوعدہ کروکہ کوئی کسی بھی طرح کی معلومات تم سے لینا چاہے گا تو مجھے بتاؤگی تمہارے سامنے کسی کا نام لیا جائے یا کسی کی شکل و صورت کے بارے میں پوچھا جائے تم نے ایک لفظ منہ سے نہیں نکالنا ۔یہ سب میں اپنے بچوں کے فائدے کے لیے کر رہی ہوں۔میں بہت مشکل سے انہیں زندگی کی طرف لائی ہو میں ان کےدلوں کے حال جانتی ہوں،ان پر کیا گزرتی رہی ہے۔مجھ سے زیادہ کون جانے گااس لیے ایک ماں تم سب سے درخواست کرتی ہے کہ حد سے زیادہ اختیاط کی جائے اور اگر کوئی کچھ پوچھے تو فوراً پولیس کو فون کای جائے۔سادھنا کے ساتھ چند دن پہلے یہی ہوا ہے لیکن سادھنا کی عقلمندی کا مظاہرا کیا اور آکر مجھے بتا دیا….“
ان سب نے بڑی محبت کے ساتھ لیڈی مہر کو وعدہ دے دیا…..
امرحہ کہی دنوں سے دیکھ رہی تھی کہ وہ کچھ پریشان سی رہتی ہیں،اس نے پوچھا تو انہوں نے اتنا ہی کہا کہ یہ بہت ذاتی سا مسئلہ ہے،وہ بتا نہیں سکتیں۔
*……….*………*
عالیان اپنی کلاس لے کر نکلا ہی تھا کہ یونین کا صدر جے پیٹرسن مسڑی ہنسی ہنستا اس کے پاس آیا۔
”کسی کا خون کرنے جا رہے ہویا کرکے آئے ہو ؟“
عالیان نے گھنٹوں کی محنت سے بنائے گئے اس کےہیر سٹائل کو دونوں ہاتھوں سے خراب کر دیا۔پیڑسن اپنے نت نئے ہیر سٹائل کےلیے یونی میں بدنام ترین تھا۔اس وقت ایک کینگرو اس کے سر پر پوز بنائے بیٹھا لگتاتھا۔
”تم اپنے علاوہ کسی کو خوبصورت نہیں دیکھ سکتے نا؟“وہ بھنا گیا۔
”اب ٹھیک ہے ورنہ اسطرح ہنستے تم کارل، کارل سے لگ رہے تھے۔“
”خدا مجھے بچائے بلکہ مار ہی ڈالے اگر میں کارل،کارل لگوں….“
”بس پھر تم ایک دو دن میں مرنے ہی والے ہو ….“
”امرحہ کیسی ہے؟“جے پیڑسن نے ایک دم سے پوچھا بلکہ کچھ ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
”کون ؟“عالیان نے بھر پور سنجیدگی سے پوچھا۔
”تمہاری دوست…….“
”میری کوئی دوست امرحہ نہیں …..“
”کم آن frish (فرینڈ کی جدید شکل)وہی جس کے پیچھے تم ہر وقت رہا کرتے تھے۔“
”تم مجھ سے ایسے غیر ضروری باتیں کرنے آئے ہو ؟“
”تم اس سے کسی وجہ سے ناراض ہو کیا ؟“
”پھر وہی فضول باتیں……“
” اچھا اچھا سنو !اسٹوڈنٹ یونین کی بلڈنگ میں موجود سیف روم جیسے سیکریٹ روم بھی ہم کہہ لیتے ہیں کو جانتے ہو نا۔جہاں اسٹوڈنٹس نام ظاہرکیے بغیر کچھ بھی لکھ کر جا سکتے ہیں۔کوئی شکایت یا کوئی بھی مسئلہ….تو فریش سب سے زیادہ تمہارے خلاف شکایتیں موصول ہوئی ہیں اور درخواستیں بھی۔اس روم کی دیواروں پر ایک انچ جگہ نہیں بچی ،ہر خط میں لکھا ہے عالیان کی نارضگی ختم کروائی جائے،جابجا دیواروں پر پیغامات چپکے ہیں…..“
”کس نے کیا ہے یہ؟“اب عالیان بھنا گیا۔
”ویل فریش نام نہیں لکھا ،لکھا بھی نہیں جاتا ،اتنا سب بھی اس لیے بتایا کہ تم یونین کے فعال رکن ہو ،مطلب صدر ہو ….“پیٹرسن نے ایک آنکھ بند کی” اور سنو ،وہ راما کہہ رہا تھا کہ اگر اسٹوڈنٹ پارٹی جیسا ایک اور مذاق ہم اس لڑکی کے ساتھ کر لیں تو اس بار اس کی آنکھوں سے وہ ساگر نکلے گا کہ سارا مانچسٹر اس میں ڈوب کر بہہ جائے گا اور پھر جب آئندہ آنے والی نسلیں تحقیق کریں گی کہ آخر مانچسٹر کے ساتھ کیا بنی اور اسے بہا کر لے جانے والا سیلاب آخر آیا کہاں سے تھا وہ بھی ایسا غضب ناک تو بیش بہا کھدائی اور تحقیق کرنے کے بعد انہیں خاتون پاکستان امرحہ کی دو آنکھیں ملیں گی…..“
”تم کہنا کیا چاہتے ہو …..؟“
”صرف اتنا کہ مانچسٹر کو اس ساگر میں ڈوب کر بہہ جانے سے بچا لو ….جو پیغامات دیواروں پر چپکے ہیں ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بس بہت جلد ہم پر یہ آفت آنے ہی والی ہے،تم اسے مذاق سمجھو لیکن میری درخواست بھی…..میں مانچسٹر کو ڈوبتے نہیں دیکھ سکتا ….ویسے مجھے ناراض لوگوں کو منانے کا یہ انداز اچھا لگا ،تم مان جاؤ گے اور پھر سے اس کے دوست بن جاؤ گے تو میں اس طریقے کو یونین اور یونیورسٹی میں رائج کروا دوں گا….اپنا یہ سائی بھی تو ایسے ہی مشہور ہوا ہے میں بھی ہو جاؤ گا….“وہ کھی کھی ہنسنے لگا۔
عالیان پر اپنی کوفت پر قابو پانا مشکل سا ہو گا وہ تیزی سے انگلش ڈیپارٹمنٹ کی طرف لپکا۔
”اسٹوڈنٹ یونین کےسیکریٹ روم میں تم لیٹرز لکھ لکھ کر آتی رہی ہو ؟“وہ ایک دم سے اس کے سامنے آکر کہنے لگا۔
امرحہ خوفزدہ سی اس کی شکل دیکھنے لگی اور صرف نا میں گردن ہلا سکی۔
”وہ تمہارے ہی لکھائے میں ہے سب ….“
”میں نے نہیں لکھے….“وہ اور زیادہ ڈر گئی۔
”تم نے بائیں ہاتھ سے لکھے ہیں…..“
”بائیں ہاتھ سے تو مجھ سے پین بھی نہیں پکڑا جاتا….یہ سب یونی فیلوز کو کام ہو گا۔“
”یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس اتنے فارغ نہیں ہیں….“
”اس میں فارغ ہونےکی کیا بات ہے یہ تو نیکی کا کام ہے۔“اس کی زبان سے پھسلا۔
”تو یہ نیکی کا کام تم نےسب سےکہا کرنے کے لیے ….؟“وہ استہزائیہ ہنسا۔
”نہیں….“امرحہ کو اس کا انداز برا لگا۔
”تو پونڈز دئیے ہوں گے سب کو تم نے….“طنزیہ کہہ کر وہ جانے لگا۔
یہ بات اس کے انداز سے زیادہ بری لگی …..”وہ سب میں نے لکھے ہیں….داد دو مجھے عالیان میں نے سیکرٹ روم کو ہزاروں خطوط سے بھر دیا….“
”ایسے بے کار کام کے لیے داد دیتا ہوں تمہیں….“اس نے پلٹ کر کہا۔
”تم مجھ سے ناراض ہونا پسند کرتے ہو مجھ سے…..وہ گھوم کر اس کے سامنے آکرکھڑی ہوئی۔
”نا ہی تم سے ناراض ہوں اور نا ہی تمہیں نا پسند کرتا ہوں کیونکہ یہ کرنے کے لیے کسی تعلق کا ہونا ضروری ہے اور ہمارے درمیان …..“
”تم تو کہا کرتے تھے۔تم میرے دوست ہو ….“
”اب میں کہہ رہا ہوں میں تمہارا دوست نہیں ہوں۔“
”تم مجھے معاف کیوں نہیں دیتے….“
”میں معاف کر چکا ہو …“
”تو تم مجھ سے بات کیوں نہیں کرتے….“
”کیونکہ میں سب باتیں ختم کر چکا ہوں…..کہہ کر وہ رکا نہیں چلا گیا۔
اب یہ وہی مقام تھا کہ وہ گلستان بھر کے گل اس کے قدموں میں بچھا دے گی تو بھی وہ انہیں پھلانگ کر گزار جائے گا….کیونکہ ایک بار وہ کانٹے بچھا چکی تھی…اب آسمان کے ستاروں کی جھرمٹ بھی اسکی راہوں میں ڈھیر کر دینے پر اس کی اندھیری راہوں میں روشنی نہ کر سکے گی…..
ماحول انگشت بدنداں تھا اور ہوا نےاپنے پر اپنی آنکھوں پر لپیٹ کر آنکھیں میچ لی تھیں….قسمت سے پوچھ پڑتال نہیں کی جا سکتی کیونکہ کبھی یہ چنگیز خان کی خون آلودہ تلوار ہوتی ہے اور کبھی حاتم طائی کا کمال سخاوت….”قسمت“

*…….*…….*
”اگر ساری دنیا تباہ ہو رہی ہو اور کسی ایک چیز کو آئندہ انسانی زندگی کی ترقی کے لیے قائم رہنے کی اجازت ہو تو میں یہ اجازت سائیکل کے لیے لینا پسند کروں گی …..سائیکل….تکبر سے پاک،چلانے والے کی شاہی سواری “
شٹل کاک کے سامنے والے سٹرک پر اس نے این اون کے ساتھ مل کر کافی مشق کر لی سائیکل چلانے کی ۔سیدھی سٹرک پر وہ بنا ڈرے ڈرے چلا لیتی،سادھنا اور این اون کو پیچھے بٹھا کر بھی مشق کی،کسی کو پیچھے بیٹھا کر سائیکل چلانا اپنے لیے سائیکل چلانے والے کے لیے مشکل ہوتا ہے لیکن اس نے تھوڑا بہت اس سلسلے میں ڈر خوف نکال ہی لیا۔دو بار وہ یونیورسٹی کے راستے تک بھی گئی این اون پیچھے بیٹھی ہوتی۔
”سب ہمیں ہی دیکھ رہے ہیں نا؟“اس کا سانس گم ہو ہو جاتا۔
”کیا واقع ؟“این اون اپنا ہیر بینڈ ٹھیک کرنے لگی۔
”پاگل مجھے دیکھ رہے ہیں …..“سائیکل ڈگمگائی۔
”کیوں تم ہو کیا جو تمہیں دیکھا جائے….“ حسد۔
”پاکستانی….پاکستانی لڑکی سائیکل چلا رہی ہے….نا“فخر۔
”پاکستانی لڑکی سائیکل چلائے تو اسے سب دیکھتے ہیں….کیوں ایسا تضاد کیوں“ شکوہ….
”چپ کر جاؤ این اون میں نے تمہیں گرا دینا ہے “دھمکی….
”تم مجھے گرا دو….لیکن سائیکل تو تھوڑی تیز چلاؤ۔کم سے کم میں آخری لیکچرتو لے کو۔“
”ٹھہرو اس بس جو گزار جانے دو اس کے ڈرئیور کو بہت جلدی ہے “اس نے سائیکل روک دی،کوئی پچاسویں بار اس نے سائیکل روکی کہ یہ کار گزار جائے،یہ شرارتی بدتمیز لڑکا گزار جائے،ذرا ٹریفک کم ہو لے سٹرک خالی ہولے،وغیرہ وغیرہ،مزید وغیرہ وغیرہ بھی۔
جو بس ہمارے پیچھے ہے ،اسے بھی گزار جانے دو اور جو بسساس کے پیچھے ہے اس بھی آگے آ لینے دو،آگے آ کر اسے بھی گزار جانے دو….ٹھہرو مجھے بس میں ہی بیٹھ جانے دو….“
خبردار جو تم اتریں این…..
”اس رفتار سےتمہارے سائیکل چلانے کے دوران میں دس بار اتر کر بیٹھ چکی ہوں بیٹھ بیٹھ کر تھک جاتی ہوں تو کھڑی ہو کر ساتھ چلنے لگتی ہوں،اور اس ایشین فلیگ کو تھوڑے اور بل دو گردن میں ،میں تابوت میں بند ہو کر جاپان واپس جانا نہیں چاہتی۔“
سائیکل روک کر اس نے ایشین فلیگ کو دو اوع بل دئیے گردن میں ،اس نے جینز پر ٹاپ پہن رکھا تھا تاکہ زیادہ یورپین لگے۔سر پر اس نے کیپ پہن رکھی تھی جس کی جھری سے اس کے لمبے بالوں کی ٹیل باہر نکلی ہوئی تھی۔
یونی کی طرف جاتے دائم اور راما نے اسے دیکھا اور دونوں نے سارے دانت نکال دئیے اور چلتے چلتے روک کر اسے دیکھنے لگے۔دائم نے ہاتھ سے پرفیکٹ کا اشارہ بھی کیا اور اتنی سی بات پر وہ سائیکل گرا بیٹھی…..این اون بھاگ کر یونی چلی گئی وہ اکیلی پیدل سائیکل کو لیے یونی کے اندار آئی۔”یہ پاکستانی،ہندوستانی برداشت ہی نہیں کر سکتے کہ ان کی خطے کی لڑکیاں ایسے سائیکل چلائیں الٹا حواس باختہ کر دیتے ہیں…..“وہ غصے سے بڑبڑانے لگی۔
آنے والے دنوں میں آدھا راستہ وہ چلاتی اوع آدھا این اون ،تب کہی جاکر وقت پر یونی پہنچ پاتے،کبھی ویرا ان کے آگے ہوتی گارڈ کی صورت ۔وہ تیز سیٹی بجاتی اور دوسرے سائیکل سواروں کو پیچھے کرتی جاتی کہ ینگ لیڈی آف پاکستان اپنی سواری چلا رہی ہے تھوڑا ڈرتی ہے ذرا پیچھے ہو جائیں…..
ایک دن ایسے ہی راستے میں وغیرہ وغیرہ سے ڈر کر سائیکل کو روکے وہ بمشکل یونی روڈ تک آئی کہ پیچھے سے ایک دم سے عالیان کی سائیکل عین اس کے پہلو میں دائیں طرف برابر میں آئی۔وہ بھی اپنے دھیان میں تھا اور امرحہ بھی اور جب امرحہ کی اس پر نظر پڑی تو وہ اتنی بری طرح گھبرا گئی کہ دائیں رخ ٹھیک اس کی سائیکل کے اوپر سائیکل گرا بیٹھی
این اون جاپانی میں چلائی جس کا اردو ترجمہ یہ ہے
ہائے اماں جی میں مر گئی
امریحہ کی سائیکل پوری کی پوری عالیان کی سائیکل کے اوپر تھی خود وہ بھی پورے اور یہ سب ایسے ہوا کے۔۔۔
وہ آیا اسے دیکھا اور گرا دیا
دو سائیکلوں کے اس ٹکراو سے مانچسٹر روڈ ہل سا گیا اور اس کے نتیجے میں جو کام سب سے برا ہوا وہ یہ تھا کے اسکی سائیکل کے آگے لگے اسٹینڈ باکس میں سے کچھ سینڈوچز ٹشو میں لپیٹے رکھے تھے شاید وہ ناشتہ کر کے نہیں آیا تھا اور وہ ناشتہ آکسفورڈ روڈ پر نکل کر گر گیا تھا اور دو عدد سینڈوچ روڈ پر پیچکے بکھرے پڑے تھے وہ کچھ بھی ہون گے لیکن سینڈوچ نہیں ہوں گے
عالیان نے ایک غصیلی نظر امریحہ پر ڈالی اور پھر سینڈوچز کو دیکھا اور جیسے رو دینے کو ہو گیا اس بیچارے کا کتنا بڑا نقصان ہو گیا
میری غلطی نہیں امریحہ بھی رو دینے کو ہو گئی
اس نے اپنی سائیکل اٹھائی بے چارے ہو چکے سینڈوچز سمیٹے اور جانے لگا
عالیان این اون نے آواز دے کر روکا اور اس کے پیچھے سائیکل پر بیٹھ گئی
اب سارا مانچسٹر اسکی سائیکل کے پیچھے بیٹھے گا سوائے اس کے
یونی کے اندر جا کر این اون کو ڈھونڈا اسے برگر لے کر دیا
کہنا تمہاری طرف سے ہے
یعنی تمہاری طرف سے مجھے اور میری طرف سے عالیان کو
پاگل کہنا ٹویٹ ہے لے لو
پر میں تم سے ٹویٹ لینا نہیں چاہتی اور اسے دینا نہیں چاہتی
امریحہ نے اسکی پونی کھینچی اور آدھا گھنٹہ لگا کر اسے ساری بات سمجھائی
این اون برگر ہاتھ میں لے کر بزنس اسکول کی طرف جانے لگی کچھ فاصلہ رکھ کر امریحہ بھی اسکے پیچھے پیچھے تھی اسے یقین تھا کے وہ ضرور کوئی گڑ بڑ کرے گی اور گڑ بڑ ٹھیک اس کے سامنے آ گئی
کارل نے برگر ہاتھ میں لئے ایک ننھی بچی کو جاتے دیکھا تو روک گیا اور اسکا حال احوال پوچھنے لگا اور پھر برگر اس سے لے لیا
این اون پلٹی ہی تھی کے اس نے برگر کی ایک بڑی بائیٹ لی
تم نے کارل کو برگر کیوں دیا امریحہ رو دینے کو ہو گئی
اس نے کہا وہ عالیان کے پاس ہی جا رہا ہے وہ اسے دے دے گا میں نے اسکا شکریہ ادا کیا اور آ گئی
ایک بار پھر جاؤ اسکا سر پھوڑو اور آ جاؤ
یہ کام اب تم خود کر لو میں تھک گئی ہوں کہہ کر وہ ننھی بچی چلی گئی
بڑی بچی دل مسوس کر رہ گئی کاش کوئی عالیان کو ٹویٹ دے دے
ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کچھ کرنے کا کے ویرا ہاتھ میں برگر اور کوفی لئے ڈیپارٹمنٹ کی طرف جاتی ہوئی نظر آئ
امریحہ کا دھاڑیں مار مار کر رونے کو دل چاہا اتنے برے روس میں کوئی یونی نہیں تھی کے ویرا وہاں پڑھ سکتی اسے مانچسٹر آنے کی ضرورت کیا تھی بھلا؟
اندھیرے گار میں پڑے رہنے کی سی کفیت تھی
کسی ایک طرف روشنی کی لکیر بناتی نظر آ رہی تھی روشنی کی لکیر بڑھتی ہی جا رہی تھی غار کا دھن کھل رہا تھا پر سکوں اور آزاد ہونے کی کفیت تھی کے دوڑ سے آتی چاپ قریب آتی سنائی دی سہما دینے والی چاپ کو گھٹنوں میں سر دئے لیا جائے کان لپیٹ لئے جائیں ایک ہیولا بنتا قریب سا آیا لمبے سایے کے اس پار روشنی کے دھن کے عین سامنے کھڑا ہوا اور روشنی کو پیچھے دھکیل دیا اور اندھیرا
عالیان ہر بڑا کر اٹھا نیم اندھیرے کمرے میں وحشت زدہ خود کو بستر پر پایا اسکی سانسیں تیز تیز چل رہی تھی جیسے رات بھر بھاگتا رہا ہے کوئی اس کے پیچھے تھا اسکے کانوں میں وہ التجائی چاپ اب بھی زندہ تھی وہ اسے محسوس کر رہا تھا وہ خواب میں سے ہو کر آیا تھا جیسے خود کو کھینچ کر خواب سے باہر نکالا تھا وہ خوف زدہ بھی تھا یہ کچھ اور تھا جو بھی تھا اسکی دائیں آنکھ میں آنسو تھا
امریحہ رات کو جاب سے واپس آ رہی تھی کے سڑک پر چلتے ایک مہذب انسان نے اسے روکا
خاتون اپکا تھوڑا سا وقت چاہیے
امریحہ روک گئی جی فرمایئں
آپ خاتون مہر کی بیٹی ہیں؟
نہیں امریحہ سمجھی آدمی مہر کے مرحوم شوہر کے رشتےداروں سے کوئی ہے
انکی لے پالک بیٹی نہیں ہو؟
نہیں میں تو پاکستان سے ہوں یونی میں پڑھتی ہوں ان کے گھر میں پیانگ گیسٹ کے طور پر رہتی ہوں
اچھا۔۔۔۔مطلب تم انکے سب بچوں کو جانتی ہو گی جتنے اس خاتون نے لے کر پالے ہیں
امریحہ کو ایک دم لیڈی مہر کی بات یاد آ گئی اور وہ آگے چلنے لگی
میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کر سکتی آپ جائے یہاں سے
انہوں نے دس بچے پالے ہیں کیا تم ان سب کے نام جانتی ہو انکی شکلیں امریحہ اور تیزی سے چلنے لگی وہ بھی ساتھ چلنے لگا
مجھے صرف لڑکوں کے برے میں معلومات چاہیے کے وہ کہاں ہیں کس ملک میں ہیں کون کون ہیں انکی تصویریں مل سکیں تو بہتر ہو گا تم یہ چوٹی سی جاب کرتی ہو کتنا کما لیتی ہو میں تمہیں پورے ایک لاکھ پاؤنڈ دوں گا
امریحہ حیرت سے رک کر دیکھنے لگی یہ کون تھا جو اتنی بڑی رقم دینے کو تیار تھا
اگر چاہو تو زیادہ بھی دے سکتا ہوں
میں پولیس کو بلا لوں گی جناب
دو لاکھ پاؤنڈ۔۔۔۔۔تین لاکھ پاؤنڈ۔۔۔۔۔جواب دو
جانتی ہو کتنے پیسے ہوتے ہیں یہ تحمل سے میری بات سنو تم جذباتی ہو کر بھاگ رہی ہو تمہیں کچھ زیادہ کام نہیں کرنا صرف اتنا کے وو سب لڑکے اس وقت کہاں ہیں کس کس ملک میں ہیں اور انکے نام کیا ہیں بس اتنا ہی اور اتنے سے کام کے اتنے پیسے اتنے کے تم ساری زندگی شاید ہی کما سکو
پہلے بچوں کو چھوڑ جاتے ہو پھر انھیں ڈھونڈتے اور خریدتے پھرتے ہو؟امریحہ نے طنز سے کہا
اسنے بہت سکوں سے امریحہ کے طنز کو سہا ہاں کچھ ایسا ہی ہے اگر تم تھوڑا سا تعاون کر دو کچھ بہتر ہو گا
میں کسی بھی قسم کا تعاون نہیں کروں گی
چار لاکھ پاؤنڈ
میں پولیس کو فون کرنے لگی ہوں امریحہ نے فون نکال کر ہاتھ میں لیا
پانچ لاکھ پاؤنڈ
امریحہ نے آجز آ کر اسکی شکل کی طرف دیکھا اور نمبر ڈائل کرنے لگی تمہارا کام بہت آسان ہے تمہیں صرف یہ معلوم کرنا ہے کس لڑکے کی ماں کا نام مارگریٹ جوزف تھا؟
امریحہ فون کان سے لگانا بھول گئی وہ اس انسان کی شکل دیکھ رہی تھی

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: