Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 34

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 34

میں اب بھی پولیس کو فون کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں
تم جلد ہی مجھے فون کرو گی اتنے پیسے کم نہیں ہوتے کہہ کر وہ چلا گیا۔
اس کے جانے کا انداز ایسا تھا جیسے اسے یقین تھا کے اسے ضرور فون کیا جائے گا کیوں کے اس نے مبالغے کی حد تک ایک بہت بڑی رقم آفر کر دی تھی۔اس کے لئے کسی کا بھی لالچ میں آ جانا فطری ہے
امریحہ خود کو کسی فلم کا کردار محسوس کرنے لگی
مارگریٹ جوزف کے بیٹے عالیان جوزف کو کوئی ڈھونڈھ رہا ہے۔کون؟ مارگریٹ کے خاندان کا کوئی شخص یا اس کے باپ کے خاندان کا کوئی یا اس کا باپ ہی یہ شخص عالیان کا باپ یا کوئی انکل نہیں ہو سکتا کیوں کے ایک تو وہ سیاہ فام تھا اور دوسرا چالیس سے کم
مگر عالیان کے لئے لیڈی مہر نے درخواست کی تھی کے کوئی کچھ بھی پوچھے نا بتایا جائے لیکن کیوں؟ وہ عالیان کو کیوں چھپا رہی تھی؟
گھر آنے تک وہ کافی دیر اس معاملے میں سوچتی رہی اور پھر لیڈی مہر کے کمرے میں جا کر انہیں سب بتا دیا وہ اس شخص کا حلیہ پوچھنے لگی
تم کسی سے ذکر نا کرنا اسکا خاص کر عالیان سے
یہ کون تھا؟
امریحہ یہ سب معاملات اتنے نازک ہیں کے میں اس بارے میں کسی سے بات نہیں کر سکتی اور تمہارے لئے یہ جاننابھی ضروری نہیں
کیا آپ عالیان کو اس کے ماں یہ باپ کے خاندان سے دور رکھ رہی ہیں؟امریحہ نے سنگدلی سے پوچھا
انہیں اس بات سے تکلیف ہوئی۔نہیں عالیان کے لئے کر رہی ہوں
امریحہ کو تھوڑا غصہ آیا وہ سب معاملات اپنے ہاتھ میں کیوں رکھنا چاہتی ہیں انہیں عالیان کو اس معاملے سے با خبر رکھنا چاہیے اسے لگا کے وہ اس معاملے میں خود غرضی دکھا رہی ہیں انہیں شاید عالیان کے چھن جانے کا ڈر ہے وہ عمر کے اس حصّے میں ہیں کے کسی کے ساتھ اسے بانٹنا نہیں چاہتی یہ انہیں لگتا ہو گا ایسے وہ ان سے بہت دور چلا جائے گا امریحہ کے بیگ میں اس شخص کا دیا کارڈ رکھا ہے امریحہ اس بات کو گول کر گئی
اس نے اس بات کو مختلف انداز میں سوچا اور اندر ہی اندر اس کے منفی پہلووں پر غور کرتی رہی
عالیان کا ایک خاندان ہو گا بہن بھائی آنٹی انکل نا جانے کون کون ۔۔۔
کسی وجہ سے اگر وہ عالیان سے دور ہووے بھی تو اب وہ عالیان کو ڈھونڈھ رہے ہیں نا۔ ۔۔۔یونی میں امریحہ نے عالیان کو دیکھا تو اسکا دل چاہا کے اسے جا کر بتاے کے کوئی اسے ڈھونڈھ رہا ہے یہ اتنی بڑی بات تھی کے اس کے اپنے اندر رکھی نہیں جا رہی تھی اور خود کو بھی اس بارے میں بار بار سوچنے سے روک نہیں پا رہی تھی
سادھنا کے ساتھ وہ اس سے ملنے اس کے حال آئ تھی اور وہ دونو ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے تھے
آپ نے یہاں آ کر مجھے حیران کر دیا
اگر میں تمہارے جیسی ہوتی تو میں بھی تمہاری کھڑکی سے آتی تم سے ملنے
اسی لئے تو میں چاہتا ہوں کے میں سپر مین بن جاؤں اور آپکو اپنے ساتھ اڑاؤں۔
اگر تم سپر مین بن بھی گئے تو میں تمہارے ساتھ کسی چوٹی یہ بادل کے ٹکڑے پر جانے کے لئے تیار نہیں ہوں گی
آپ کو تیار ہونے کی ضرورت نہیں ہو گی آپکو صرف آنکھیں بند کرنے کی ضرورت ہو گی
اپنے ساتھ اڑانے کے لئے تم کسی اور کو تیار کرو ڈگری کے بعد کیا پلین ہے تمہارا مزید ایک اور ڈگری کے ساتھ کوئی بزنس شروع کروں گا
ٹھیک ہے میں سوچ رہی ہوں ہم کسی اور ملک چلے جائیں
کس ملک اور کیوں ماما؟
کسی بھی ملک تم دیکھ لینا جو تمہیں اچھا لگے
آپ نے ایک دم سے برطانیہ چھوڑنے کے بارے میں کیوں سوچ لیا
کافی عرصے سے سوچ رہی ہوں بس تم یہ بات ذہن میں رکھنا
ٹھیک ہے لیکن میں حیران ہوں میں جانتا ہوں آپکو مانچسٹر سے کتنی وابستگی ہے
مجھے اپنے بچوں کے علاوہ کسی سے کوئی وابستگی نہیں
میں سمجھا نہیں ماما
تم اسے چھوڑو مجھے یہ بتاؤ امریحہ اور تمہارے درمیان کیا چل رہا ہے
کیا مطلب
دوستی ختم کردی ہے اس سے؟تم ایسے تو نہیں ہو دوست بنا کر چھوڑ دینے والے۔۔امریحہ لوگوں کو جلد ناراض کر دیا کرتی ہے لیکن اسے جلد ہی اس بات کا احساس بھی ہو جاتا ہے اس میں خوبیاں اور خامیاں ساتھ ساتھ ہیں اور یہ کوئی ایسی غیر معمولی بات نہیں ہوتی ہم سب ایسے ہی ہوتے ہیں کہہ کر انہوں نے عالیان کی طرف سے جواب کا انتظار کیا
دیکھو جواب میں تم خاموش ہو یہ تمہارا ذاتی مسلہ ہے مجھے تم سے ایک اور بات پوچھنی ہے عالیان میں تمہاری ماں ہوں شاید تمہارا دل دکھے
مجھے اس شخص سے نہیں ملنا ماما نا مجھے اسے ڈھونڈھنا ہے
شاید اسے مل کر اچھا لگے؟
وہ میرے لئے گالی ہے اور گالی کبھی اچھی نہیں لگتی
مجھے اس شخص کے تضکرے سے بھی اتنی تکلیف ہوتی ہے کے مجھے لگنے لگتا ہے
ٹھیک ہے بات ختم بس خاموش رہو پر سکوں رہو میں شارلٹ کی طرف سے مطمئن نہیں ہوں فون پر اسکی ساس نے بہت سخت اور چھبھتے ہووے لہجے میں مجھ سے بات کی
آپ جورڈن کا سوچیں اسکی ماما کا نہیں
پریشان نا ہوں
پریشان نہیں دکھی ہوں اس نے کڈز سینٹر میں پرورش پائی ہے ایک مسلم خاتون کی لے پالک بیٹی ہے کتنی بری وجوہات ہیں یہ
عالیان سے زیادہ کون جان سکتا تھا اب کے یہ کتنی بڑی وجوہات ہیں
اچھی بات تو یہ ہے ماما کے جورڈن شارلٹ سے محبت کرتا ہے
اس ایک شخص کی محبت نا کافی ہونے لگتی ہے جب اس سے جڑے دوسرے لوگوں کی نا پسنددیدگی بڑھنے لگتی ہے
نہیں ماما پھر دوسروں کی نا پسنددیدگیوں کی پروا نہیں رہتی
تو تم محبت کے بارے میں سوچتے ہو اس شخص اور اس شخص کے بارے میں
نہیں آپ جانتی ہیں مجھے ماما مارگریٹ نہیں بننا
تو تم ماما مہر بن جاؤ میں نے اپنے شوہر سے بے لوث محبت کی ہے
اور آپ کو بدلے میں بے لوث محبت ملی بھی
تمہیں بھی میلے گی مجھے خوف محسوس ہو رہا ہے یہ جان کر کے تم محبت سے دور بھاگ رہے ہو تم جوان ہو زندگی کے عملی میدان سے ابھی دور ہو اپنے ذہن و دل کو وسعت دو اور یاد رکھو بھاگ جانا کسی جذبے سے ہو یا عمل سے نقصان دھ ہوتا ہے
نا بھاگنا بھی فائدے مند نہیں ہوتا ماما۔۔۔۔
یہ اور برا ہے تمہاری زندگی صرف ایک تعلق تک محدود نہیں ہونا چاہیے انہوں نے عالیان کو گہری نظروں سے دور تک دیکھا
تم آج کل مارگریٹ کی ڈائریاں پڑھ رھے ہو؟ تم اپنی عمر سے بہت بڑے لگ رھے ہو
کیا آپ مجھے وہ ڈائری بھی دے سکتی ہیں جو آپ کے پاس ہے ؟
جب تم شادی کر لو گے اور اپنے بچوں کو سائیکل ریس میں ہرا دیا کرو گے تب تمہیں وہ میلے گی تم نے پھر سے مارگریٹ کی باتیں شروع کر دی ہیں اسے یاد کرو لیکن اسکے اہ کے انداز سے نہیں خوش ہو کر یاد کرو اسے
جو انسان زندگی میں خوش نہیں رہا اسے اس کے مرنے کے بعد خوشی سے یاد نہیں کیا جا سکتا اور ہم اس شخص کی بد قسمتی کا موازنہ اپنی قسمت کے ساتھ کرنے پڑ مجبور ہو جاتے ہیں
تم بد قسمت نہیں ہو تمہیں میرے عالیان کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیے
اگر دنیا میں آپ نا ہوتی تو میں دنیا کے ہر انسان سے نفرت کرتا
میں نا ہوتی تو کوئی اور ہوتا
نہیں ماما کوئی اور نا ہوتا آپ کے علاوہ کوئی اور مجھ سے ایسی محبت نا کرٹا آخر کار میں نے یہ جان لیا ہے
بہار کی دلہن کی شادی کی تیاریاں اتنے زور و شور سے جاری تھی جیسے وہ شاہی خاندان کا آخری چشم و چراغ ہو ڈیزائنرز، ویڈنگ پلینیرز اور انکی ٹیم گھر میں ایسے آتے جاتے جیسے وہ اسی گھر میں رہتے ہوں بس کچھ دیر کو گھر سے بھر چلے جاتے ہوں
ماما آپ اتنے پیسے کیوں برباد کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔
تم یہ کہنا چاہ رہی ہو کے تم پے مزید احسان نا کروں کرسمس پڑ تحائف لیتے بھی تم سب کو شرم آتی ہے اب تم مجھے دینا چاہتے ہو کچھ لینا نہیں ایسا کر کے تم سب لاگ مجھے دوسری عورت دوسری ماں ہونے کا احساس دلاتے ہو میرا سب کچھ تمہارا ہے میری آنکھوں کا نور اور میری زندہ رہنے کی قوت بھی تم مجھ سے فرمائش نہیں کرتے کیوں کے میں دوسری عورت ہوں وہ خفا ہو گئی
شادی کے دن مجھے ہاتھی چاہیے دس بارہ تو ضرور ہی ہوں جھیل کنارے چہل قدمی کریں شارلٹ نے ان کے گلے میں بانہیں ڈال دی فرمائشیں شروع ہو گئی
اگر تمہیں ہاتھی چاہیے تو شادی سری لنکا میں کرنی ہو گی یا پھر افریقہ میں انہیں ہاتھیوں سے اب بھی مسلہ نہیں تھا
نہیں مجھے تو مانچسٹر میں ہی ہاتھی چاہیے اگر اب آپ نے مجھے اور جزباتی کیا تو میں سفید چیتوں کی بھی فرمائش کر سکتی ہوں آپ ہی میری آنکھوں کا نور اور زندہ رہنے کی قوت ہیں
تم اور جذباتی ہو سکتی ہو لیکن صرف اتنا بتا دو کے تم شادی کرنا چاہتی ہو یا جنگل آباد کر کے شکار کرنا چاہتی ہو
ماما مہر نے قہقہ لگایا شارلٹ نے دھڑا دھڑ انکا منہ چمنا شروع کر دیا
شادی سے ایک ہفتہ پہلے جورڈن کا خاندان امریکہ اور دوسرے ملکوں سے مانچسٹر میں اکٹھا ہو گیا اور وہ سب عارضی رہائش گاہ میں رہنے لگے
شارلٹ انکے استقبال کے لئے گئی اور کافی پریشان حال واپس آئ
جورڈن ماما مہر کے بلانے پڑ اپنے ماما پاپا کے ساتھ ڈنر پڑ آیا تھا تمام وقت ماحول میں تناو رہا اسکی ماما عصاب تانے سارا وقت خاموش بیٹھی رہی اور پاپا نشست گاہ میں ٹنگی مشور پینٹنگز دیکھتے رہے کھانے کے نام پر چند نوالے کھایے گئے اور جانے میں جلدی کی گئی
تمہیں یقین ہے جورڈن تمہیں خوش رکھ سکے گا،اس کی ماں کی آنکھوں میں واضح حقارت تھی تمہارے لیے،اگر تم اس سے محبت نہیں کرتیں چھوڑ دو اسے،میں نہیں چاہتی دنیا میں کوئی بھی تمہیں ان نظروں سے دیکھے۔“لیڈی مہر کی آنکھیں اس وقت سے نم سے تھیں۔
”جورڈن مختلف مزاج کا ہے ماما!“وہ کہہ نہ سکی کہ وہ اس سے محبت کرتی ہے اب اسے چھوڑ نہیں سکتی وہ بھی صرف اس کی ماں کی حقارت کی وجہ سے……
”محبت کرتا ہے تم سے،خالی خولی بڑ تو نہیں مار رہا….“
”مجھے یقین ہے اس کے جذبے پر…..آپ ایسے پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا۔“
”تمہار یہ یقین ہمیشہ قائم رہے…..میں دعا گو رہوں گی۔“
لیڈی مہر نے سادھنا اور امرحہ کو جورڈن کے گھر بھیجنا چاہا ،جورڈن کے کچھ اور رشتے دار بھی آچکے تھے وہ چاہتی تھیں کہ دونوں جا کر زرا جانچ پڑتال کرکے آئیں کہ جورڈن کے باقی افراد خاص کر خواتین کس مزاج سے تعلق رکھتی ہیں تاکہ شادی کے انتظامات میں وہ ان کی پسند کے مطابق ردو بدل کر دیں۔میڈیا کو بلانے کا خیال تو انہوں نے دل سے ہی نکال دیا تھا،اتنے نازک مزاج لوگ تھے نہ جانے کس بات سے بھڑک اٹھتے۔

Read More:  Khaufnak Imarat by Ibne Safi – Last Episode 13

*………*……….*
یہ فرمائش سنتےہی امرحہ اور سادھنا کا دم سا نکل گیا۔جورڈن کی ماما کی تنی ہوئی بھنوؤں کو دیکھ کر ہی وہ ڈر گئی تھیں کہاں اب دوسری خواتین سے ملنا ۔
”ہم بہانہ کیا کریں گے کہ کیوں آئے ہیں ؟“امرحہ گھبرا گئی۔
”سادھنا ! تم کہہ دینا میں جورڈن کو ابٹن لگانے آئی ہوں ،مارکیٹ سے تھال لیتی جانا ،بتا دینا شارلٹ میری چھوٹی بہن جیسی ہے ابٹن کی رسم کرنی ہے۔“سادھنا کا رنگ ابٹن جیسا پیلا ہو گیا۔
امرحہ شلوار قمیص ،سادھنا ساڑھی میں”دلہا جورڈن “کو ابٹن لگانے آگئیں۔
”تمہیں فون کرکے آنا چاہیے تھا جورڈن گھر نہیں ہے۔“جورڈن کی ماما نے بھنوؤں کی کمانوں میں تیر رکھتے ہوئے کہا۔
”اس رسم میں بنا بتائے آتے ہیں۔“امرحہ نے مسکرا کر کہا۔شکرہے۔ایسی باتیں گوگل نہیں ہو سکتیں ۔وہ دونوں چھ عدد خواتین کے نرغے میں بیٹھی تھیں کچھ ادھر ادھر ٹہل رہی تھیں۔امرحہ نےایک ہی نظر میں اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ سب بہت نازک مزاج اور جدید فیشن کے دلدادہ ہیں۔ان سب نے ایسے ملبوسات اور زیورات پہن رکھے تھےکہ اگر ان میں سے صرف ایک خاتون کو اٹھا کر بھاگ لیا جاتا اور مارکیٹ میں بیچ دیا جاتا تو ساری عمر پیسے کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہ رہتی۔یا امرحہ کے سامنے بیٹھی جورڈن کی آنٹی کا ایک ہاتھ ہی کاٹ کر ساتھ لے جایا جاتا تو بہت ہوتا بلکہ بہت زیادہ ہوتا۔دن روشن تھا اور وہ سب قلعے نما عمارت کے سامنےدور تک پھیلے لان میں بیٹھے تھے جن میں کئی لمبے لمبے درخت بھی تھے۔دو مرد اور تین لڑکے درختوں سے ذراآگے نشان بازی کا کھیل کھیل رہے تھے اور کافی ہنگامہ کر رہے تھے۔امرحہ اورسادھنا کو اُٹھنےکی جلدی تھی کہ کہی دلہا جورڈن نہ آجائے اور انہیں ابٹن کی رسم کرنی ہی پڑے،لیکن جورڈن کی ماما نے چائے کا آرڈر دیا تھااور آرڈر تھا کہ آکر ہی نہیں دے رہا تھا ۔
”آنٹی جولیا ! اب آپ کی باری ۔“نشانچیوں کے ہجوم میں سے ایک لڑکا آیا اور بندوق آگے کی۔
”میں نے مردوں کو ہرانا چھوڑ دیا ہے رافیل !“آنٹی جولیا جواہرت سے سجی انگلیوں کو لہرا کر مسکرائیں۔اسی دوران رافیل کی نظریں سادھنا سے ہو کر امرحہ پر آکر ٹھہر گیئں۔
”یہ کون ہیں ؟“وہ امرحہ کو دیکھے جا رہا تھا۔
”یہ شارلٹ کے گھر سے آئی ہیں کوئی ہندوستانی رسم کرنے….“
”کیا رسم ہو گئی ؟“اس نے بندوق کی نال امرحہ کے کندھے پر رکھ کر پوچھا ۔امرحہ کو اس کی جرات پر حیرات ہوئی۔وہ مسلسل مسکرا رہا تھا۔
”ہمیں چلنا چاہیے “سادھنا جلدی سے اُٹھ کر کھڑی ہوئی۔
”چاہیے پی کر جانا …..بیٹھ جاؤ تم ہندوستانی لوگوں کو نشست و برخاست کے آداب کب آئیں گے؟“آنٹی جولیا کی آواز ناپسندیدگی جذبے سے پر تھی۔امرحہ نے کندھے پہ رکھے بندوق کی نال کو ہاتھ سے جھٹکا ”یہ کن آداب میں سے ہے ؟“آنٹی جولیا کا منہ بن گیا ،رافیل مزے سے امرحہ کو دیکھتا رہا ۔
”رافیل! تم انہیں لے جاؤ ان کی نشان بازی دیکھو۔“انداز استہزیہ تھا لیکن ہتک سے بھرا۔
”اوہ ہاں …..“رافیل نے کس قدر کمینگی سے اپنی تھوڑی مسلی۔
”انہیں تو گانا آتا ہو گا یا ناچنا ،ایسے کام ان کے مرد کرتے ہیں ،یہ تو مردوں کے پیر چھوتی ہے صرف جھک جھک کر…..“جورڈن کی ماما کہہ کر دیر تک ہنستی رہیں۔
سادھنا ضبط سے سرخ ہو گئی اگر بات شارلٹ اور لیڈی مہر کی نا ہوتی تو دونوں اتنا ضبط بالکل نہ کرتیں،سادھنا خاموشی سے دوبارہ بیٹھ گئی۔
”دنیا بھر میں بے حس لوگوں کے اندازواطور ایک جیسے ہوتے ہیں وہ ہتک کرکے شرمندہ ہوتے ہیں نہ خوفزدہ،انہیں دوسروں کو گراتے رہنے کا مشغلہ محبوب ہوتا ہے۔ وہ سب ان دونوں کو ہندوستانی سمجھ رہے تھے۔رافیل نے بلند و بانگ قہقہہ لگایا اور سادھنا اپنی انگلیا چٹخانے لگی۔امرحہ کھڑی ہو گئی اور ہاتھ آگے کیا کہ بندوق اسے دے دی جائے۔
”آہاں…..“وہ مسکرایا یعنی اسے چڑایا۔بندوق اس کےہاتھ میں ہی تھی۔سادھنا اپنی جگہ سے گرتے گرتے بچی۔”چلو جلدی گھر چلیں“وہ اس کے قریب جلدی سے اُٹھ کر آئی۔
”رکو ذرا…..“امرحہ رافیل کے ساتھ چلنے لگی۔
”کیا پاگل پن ہے۔“ہندی میں سادھنا چلائی۔
”آج یہ پاگل پن ہو جانے دو…..دنیا میں کسی بھی انسان کو کسی بھی ہنر یا قابلیت کی بنا پر کسی دوسرے انسان کی بے عزتی کرنےکا کوئی حق نہیں۔“
درختوں سے ذرا اس طرف پانچ بناوٹی کھوکھلے کدو مختلف فاصلوں پر رکھ دئیے گئے تھے۔ایک سے دوسرا دور تھا دوسرے سے تیسرا اور پہلے سے آخری…..پہلے رافیل نے نشانے لگائے اور دیکھتے ہی دیکھتے کدو ہوا میں منتشر ہو گئے پانچواں نشانہ چوک چکاتھاپھر بھی سب اس کے لیے تالیاں بجا رہے تھے،یعنی پانچواں کدو ذرا مشکل سے ہی منتشر ہوتا تھا اس کا فاصلہ زیادہ اور نشانہ ذرا مشکل تھا۔
”دیکھنا تمہاری کلائی نہ ٹوٹ جائے۔“رافیل نے بندوق اس کے آگےکی۔وہ سب استہزائیہ ان دونوں کو دیکھ رہے تھے،یعنی ان کا خیال تھا کہ وہ سراسر جزباتی ہو رہی ہے۔ناچ گانے کے علاوہ کیا آتا ہو گا انہیں بھلا ۔ امرحہ نے بندوق پکڑی اور پکڑکر ایسے اس میں کارتوس بھرا کہ رافیل کے ہونٹوں سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔امرحہ دادا جان کےساتھ بلوچستان جاتی رہتی تھی نا ،دددا کے اس دوست کے گھر میں تین لڑکے اور اس کےہم عمر چار لڑکیاں تھیں۔وہ سب دن رات یہی نشانے لگانے کا کھیل کھیلا کرتے تھے۔دادا کے دوست کو شوق تھا سالانہ مقامی مقابلے میں ان کےبیٹے اول آئیں اور وہ آتے بھی تھے۔لڑکے دن رات مشق کیا کرتے تھے تو لڑکیاں بھی کر لیتیں اور جب امرحہ وہاں جاتی تو امرحہ بھی یہی کھیل کھیلا کرتی تھی۔امرحہ کی ہم عمر لڑکیاں تو اتنی ماہر تھی کہ اپنے بھائیوں کو ہرا دیتی تھیں۔
بائیں آنکھ بند کرکے،سانس کو اندرگم کرکے،صرف ہدف پرنظر رکھ کے،آنکھ کی پتلی ہو ساکت رکھ کر امرحہ نے ٹریگر دبا دیا….اور

Read More:  Jahan Pariyan Utarti Hain By Dr. Muhammad Iqbal Huma – Read Online – Episode 5

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: