Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 36

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 36

”مجھے اچھا لگا امرحہ نے میرے لیے اتنی دردناک چیخ ماری ۔“
”مجھے تو یہ لگنےلگا کہ یہ پرانک الٹا ہمارے گلے ہی پڑ جائے گا۔خواتین کی چیخوں کی حالت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔“
”میں دیکھ رہاہوں بات بدلنے میں تم کافی ماہر ہو چکے ہو۔“
”تمہیں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے کہ مجھے بات بدلنی پڑے یا جس کا میں جواب دینا نہ چاہوں۔“
”عالیان ! میں اچھا برا سب سنتا ہوں لیکن صرف وہ کہنے کی کوشش کرتا ہوں جو ٹھیک ہو ۔میری بات غور سے سنو عالیان ! اگر میری جگہ گولی تمہیں لگتی تو تم دیکھتے کہ ہال امرحہ کی چیخوں سے گونج اُٹھتا اور تم یہ بھی دیکھتے کہ…“
”یہ تمہارا وہم ہے ،مجھےایسی کوئی خوش فہمی نہیں ،نہ ہی پالنی ہے۔“
”تم سائی پر وہم کا الزام نہیں لگا سکتے۔“
”ٹھیک ہے لیکن اب میں اس سے آگے نکل آیا ہوں ۔“
”پلٹ کر دیکھو،کسے پیچھے چھوڑ آئے ہو۔اور یاد رکھنا ہمیں صرف گمان ہی ہوتا ہے کہ ہم آگے بڑھ آئے ہے ۔صرف گمان…میں چاہتا اس گمان کے غلط ثابت ہونے سے پہلے تم خود ہی اسے غلط ثابت کر دو۔“
”سائی ہم خود کو کتنی بھی بلندی پر کھڑا کر لیں،کچھ لوگوں کے لیے ہم ہمیشہ پستیوں کے پاس رہتے ہیں،ان دیکھے سیاہ دائرے جو ہمارے گرد کھینچ دیے جاتے ہیں ہمیں نظر آئیں نہ آئیں،ان لوگوں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوتے۔“
”میں اختلاف نہیں کروں گا تم سے ۔“
”تم میں یہ خوبی ہے سائی کہ تم ہر بات کو جلد سمجھ جاتے ہو۔“
”عالیان میں بات کو نہیں ،جس حالت میں بات کی جاتی ہے،بس اسے سمجھ جاتا ہوں۔اور تم سے بھی یہی کہوں گا اس حالت کو سمجھنے کی کوشش کیا کرو جس میں ناپسندیدہ باتیں کی جاتیں ہیں۔“
”میرا خیال ہے ہمیں سب چھوڑ دینا چاہیے اور پرسکون ہوجانا چاہیے ۔کیا تم مجھے اجازت دو گے کہ میں کوئی اور بات کروں ؟“
سائی نے ٹھنڈا سانس لیا۔”تم چاہتے ہو تو ٹھیک ہے ۔کرو کوئی اور بات۔“
”کیا تم نے کبھی کسی کا انتظار کیا ہے کہ وہ تمہارےپاس آئے اور تم اسے سنو۔“
”بہت سے ہیں اور ان میں سےایک کارل ہے۔لیکن میں جانتا ہوں وہ کبھی میرے پاس نہیں آئے گا۔“”ہاں وہ کبھی نہیں آئے گا وہ خود پر یہ نوبت کبھی نہیں لائے گا،جانتے ہو وہ اپنا اتنا بڑا مداح ہے کہ اپنے کمرے میں لگے شیطان کے پوسٹر کے پاس کھڑے ہو کر کہہ رہا تھا۔”کارل کے بعد میں تمہاری ذہانت کا مداح ہوں۔“
”شیطان کہتا ہو گا ”خود سے پہلے میں بھی تمہاری مداح ہوں جناب کارل !“کہہ کر سائی اور عالیان دیر تک بچوں کی طرح ہنستے رہے۔
جناب کارل کہیں اور دل ہی دل میں قہقہے لگارہے تھے۔
”این ! تم بیٹھے بیٹھے اتنی موٹی کیسے ہو گئیں ؟ایک دم سے اسے سائیکل وزنی لگنے لگی تھی۔
”موٹی نہیں موٹا ۔“نیلی آنکھیں مٹکا کر وہ مسکرایا۔
اپنے خدشے کے سچ ہونے کے خوف سے اس نے گردن موڑ کر دیکھا۔اس کے پیچھے کارل بیٹھا تھا اور این ذرا دور کھڑی دانت نکال رہ تھی۔
”کیا ہوا چلاؤ نا سائیکل ۔“
”کھڑے ہو کر اس نے سائیکل کو جھٹکا دیا کہ وہ گر جائے گا بھلا وہ کوئی عالیان تھا جو جھٹ سے گرجاتا ۔وہ آرام سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔
”اگر تم مجھے اپنے سائیکل پر بیٹھا لو تو میں اس وقت تھا بیٹھا رہ سکتا ہوں جب تک پاکستان نہ آجائے ۔حتی کہ چاند تک لے جانا چاہو تو بھی ۔“
”میں تمہیں اس وقت تک ضرور بیٹھائے رکھ سکتی ہوں جب تک جہنم نہ آجائے ۔“
”ٹھیک ہے اپنے ٹھکانے تک لے چکو آگے جنت تک میں پیدل چلا جاؤں گا ۔“
امرحہ پیدل ہی سائیکل لے کرآگے آگے چلنے لگی اس کے ہوتے ہوئے وہ سائیکل چلانے کی غلطی نہیں کرنا چاہتی تھی کہ اسے ایسے گرا دے کہ وہ بستر سے ہی نہ اٹھ پائے۔
”میں دیکھ رہا ہوں کہ تم سائیکل اچھی چلا لیتی ہو ایک ریس ہو جائے؟“
امرحہ کو اس کی بات پر ہنسی آئی لیکن وہ ہنسی نہیں سنجیدگی سے آگے آگے چلتی رہی وہ ساتھ آنے سے باز نہ رہا ۔
تم مجھے نظر انداز کر رہی ہو ۔چلو میں تمہاری اس حرکت کو نظر انداز کرتا ہوں۔سنوچند سالوں بعد جب میں مئیر بن جاؤں گا اور پھر بہت جلد وزیرعظیم ،تو میرا اردہ تیسری عالمی جنگ شروع کروانے کا ہے تاکہ تم جیسے بے کاراور ڈرپوک لوگ ختم ہو جائیں،تم سمجھ ہی رہی ہو گی کہ میں کہنا چاہ رہا ہوں کہ مجھ جیسی عالمی شخصیت جس پر کئی ہزار کتابیں لکھی جا رہی ہوں گی۔“
”اور جو کہی ملکوں کے پولیس اور فوج کو مطلوب ہو گا ۔“امرحہ نے معصومیت سے اس کی بات مکمل کی۔
”تمہیں مجھے ٹوکنا نہیں چاہیے تھا،لیکن میں تمہیں اس کے لیے معاف کرتا ہوں تو مجھ جیسے عظیم ہستی سے ہار جانا بھی بہت زیادہ قابل فخر ہو گا۔“
”یونی میں اس فخر کو حاصل کرنے کا اعزاز تم کسی اور کو کیوں نہیں دیتے ۔“
”میں اپنے مقابلے پر عام لوگوں کو نہیں لاتا اس پر خوش ہو جاؤ کہ تم خاص ہو ۔“
”تم اور عالیان ایک ریس کیوں نہیں لگاتے ۔میں عالیان پر بیٹ لگانا چاہتی ہوں۔“
”تم عالیان کی سپوٹرر ہو….آئی سی۔“
”بالکل….“
”ابھی بھی…؟“
”ہمیشہ رہوں گی…“
”بے چارہ عالیان “
”دی گریٹ عالیان۔“اس نے گردن کو فخریہ اٹھا کر کہا کہ کارل اسے دیکھتا ہی رہ گیا ۔
”میں تمہیں بتا دوں میں اس سے حسد رکھتا ہوں نہ اسے ہرانے کی خواہش،میں اسے کہی بار ہرا چکا ہوں۔اگر تم نے مجھے ہرا دیا تو میں تم دونوں کی دوستی کروا سکتاہوں یہ میرے بائیں ہاتھ کھیل ہے۔تمہیں میری قابلیت پر شک نہیں ہونا چاہیے۔”
”اس سے دوستی کے لیے مجھے تم سے مدد نہیں لینی چاہئے یہ میرے دماغ کے بائیں حصے کا مشورہ ہے۔مجھے اس بائیں حصے کے مشورے پر شک نہیں کرنا چاہیے۔“
”ریس تو ہو گی امرحہ …ورنہ تمہاری بہت بےعزتی ہو گی۔“
”دیکھتے رہو خواب۔“وہ سائیکل لئے چلی گئی۔

*…………*…………*
دادا آج کل بہت خوش رہتے تھے جیسے وہ مل گیا ہو جس کی تلاش ہو۔وہ پوچھتی تو ہنس کر خاموش ہو جاتے۔ان کے ایسے انداز کے بعد اسے بے سکونی سی رہتی۔وہ کلاس میں توجہ سے لیکچر سن پاتی نہ سٹور پر کام ٹھیک سے ہو پاتا ،دادا کے روایے اسے سہما دیتے اتنا کہ وہ بزنس ڈیپارٹمنٹ تک جاتے جاتے واپس پلٹ آتی۔
”میں کہی بار مل چکا ہوں اس سے اور میں بتا نہیں سکتاکہ میں کتنا خوش ہوں، میں اسے ہر طرح سے آزما چکا ہوں ،ابھی میں نے گھر میں بات نہیں کی۔“
اسے پہلی بار داد کی آواز بھدی لگی اور الفاظ بدنما۔
”آپ کو مجھ سے ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیئں دادا“وہ بہت مشکل سے یہ کہہ پاتی۔
دادا حیران ہوئے”تم شرما رہی ہو تو نہیں کرتا ۔“
”بالکل نہیں بس مخھے تعلیم مکمل کرنے دیں۔“
”شادی تمہاری ڈگری کے بعد ہی ہو گی امرحہ۔“
”میری شادی نہیں ہو گی ،مجھے شادی نہیں کرنی۔“
”شہریار بہت روشن خیال ہے اور “
”وہ ورلڈ بینک کا صدر یا کسی یونیورسٹی کا چانسلر ہی کیوں نہ ہو۔“
”تو تم فیصلے کا اختیار اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہو۔“دادا کا انداز ایسے سنجیدہ ہو گیا کہ پہلے کبھی نہیں ہوا ہو گا۔
دونوں کے درمیان سکوت چھا گیا جس سے دادا کے خدشات کی تصدیق ہو گئی۔
”ٹھیک ہے لیکن مجھے تم سے یہ توقع نہیں تھی۔“
”میں صرف ہاں،ناں کا اختیار استعمال کر رہی ہوں۔“
”میں تمہاری ناں سے بھی واقف ہوں اور ہاں سے بھی انجان نہیں ،مجھے پاگل مت بناؤ۔“
”تو آپ چاہتے ہے میں خود کو پاگل کر لوں۔“وہ چٹخ کر بولی۔
ایک بار پھر دونوں کے درمیان سکوت تن گیا ۔دادا اس کے انداز پر حیران رہ گئے۔
”کون ہے وہ امرحہ ! برطانوی ،پاکستانی،روسی،مصری، امریکی،کون ہے وہ مسلم….غیر مسلم….مجھے بتانے لگو تو اس کا حسب نسب ہاتھ میں رکھ کر بیٹھنا ،تمہیں ملک سے باہر پڑھائی کی اجازت دی تھی،بغاوت کی نہیں،جانتی ہو نا تم سے متعلق سوال مجھ سے ہوتے ہے یہ بھی جان لو تم سے پہلے انگلیاں مجھ پر اٹھیں گی۔“دادا کا انداز بھی تیز تھا آواز بھی۔
”آپ غلط سمجھ رہے ہے ایسی کوئی بات نہیں ہے،وہ اندار ہی اندار چٹخ کر ٹوٹ گئی۔
”ڈگری لے کو پھر بات کرتے ہے۔“دادا نے مزید اسے سننا گوارہ ہی نہ کیا۔
”حسب نسب ہاتھ میں لیے بیٹھنا۔“کتنے ہی دن کتنے ہی باراس نے سر کو جھٹک لیکن وہ اس فیقرے کی گونج سے جان نہیں چھڑا سکی،اس کے دل پر اس پہاڑ کا بوجھ آگرا جسے کبھی سر نہ کیا جا سکا ہو ۔یونی میں وہ عالیان کے راستے کی طرف جاتی اور پلٹ آتی۔
”کیا فائدہ ؟“خود سے کہتی بھی اور پوچھتی بھی۔
سمسٹر ختم ہونے کو تھا لیکن زندگی تو ختم نہیں ہوئی نا۔اس ایسے لوگوں کی زندگی ویسے بھی لمبی ہوتی ہے ۔جو من چاہئے رستے پر چلے بھی ہوں اور واپس آنے پر مجبور بھی ہوں ۔وہی لوگ بے اختیار ہو کر جاتے ہیں اور کسی اختیار والے کے خوف سے لوٹ آتے ہیں ۔
اس نے سیف روم جا کر کئ نوٹ دیواروں پر چپکا دیے۔
کاش اللہ بندے کی پیشانی پر لکھ دیتا کے یہ میرا بندہ ہے یہ میرا بندہ نہیں ۔پھر حسب نسب مذہب پر سوال نہ اُٹھتے ۔۔۔
وہ کالی سیاہی سے سنہری حروف لکھتی جاتی۔
مجھے افسوس رہے گا کائنات کی بہترین چیز اٹھا لینے کا حق میری ہتھیلیوں کو نہیں دیا گیا اور اس نے یہ بھی لکھا لاچاری اور بے بسی اپنے عروج پر ہے میں اپنی آنکھوں کو مائل ہونے اور کانوں کو متوجہ ہونے سے روکنے سے معذور ہوں ۔سمعی اور بصری حسین میرے سے پہلے نکلیں اور پھر مجھے یاد نہیں رہا کے یہ کبھی میرے حلقہ اختیار میں تھے میں دنیا میں کسی انسان کو ٹھیک سے یہ سمجھا نہیں سکوں گی کے میر اپنے اختیار سے کب نکلنا شروع ہوئی اور پھر ختم ہو جانا ممکنات میں سے ایک ہو جاتا ہے میں ایک کمزور انسان ہوں ۔ناممکنات کی طرف پیش قدمی کیسے کروں؟؟ مجھے رک جانے کا عندلیہ نہ دیا جائے مجھے چلتے رہنے کی نوید سنائی جائے کوئی سجدے میں میں میرے لئے سر جھکائے صرف میرے لئے دعا مانگے میں جہاں پابند ہوں آزاد کروا لے جائے ۔
______________
میری چھوٹی بہن ہے فیشن ڈیزائننگ پڑھ رہی ہے ماسکو میں ۔اور چھوٹا بھائی نیویارک فلم اکیڈمی کا اسٹوڈنٹ ہے ۔ماما پاپا دونوں ریسٹورنٹ دیکھتے ہیں میں اپنے ریسٹورنٹ میں بہت کام کیا ہے ان فیکٹ پاپا نے مجھ سے کام لیا ہے وہ خود بھی بہت کام کرتے ہیں اگر تم ہمارے ریسٹورنٹ آؤ تم اچھی طرح مشاہدہ کرنے کے بعد بھی نہیں بتا سکو گے کہ کتنی پرانی ہے اور کتنے عرصے سے زیرِاستعمال ہے ۔
یعنی تمارے پاپا، چیزوں کو سنبھالتے نہیں ان سے پیار کرتے ہیں؟
ہاں بالکل ۔ویسے وہ تم سے مل کر بہت خوش ہوں گے
واقعی ہی؟
ہاں وہ کہتے ہیں اچھے انسان کا دنیا میں ہونا قدرت کی طرف سے انعام ہوتا ہے
میں اچھا انسان ہوں؟ عالیان گھاس پر نرمی سے ہاتھ پھر رہا تھا یہ سوال کرتے اس کے ہاتھ رک گئے ۔
بالکل ۔ویرانے سر کو خم دے کر مسکرا کر کہا
تمہیں کیسے پتہ؟
اچھے انسان کے بارے میں پتہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی وہ اچھائی کے پتے اپنی ذات میں رکھتا ہے ۔
اگر میں اچھا ہوں تو ماما کی وجہ سے ۔
تم یہ کیوں نہیں مانتے کے اپنی وجہ سے اچھے ہو؟
کیونکہ میں نہیں ہوں مجھے یہ بتاؤ مستقبل میں تمھارا ہوٹل کھولنے کا ارادہ ہے؟
ابھی اس بارے میں نہیں سوچا ۔ڈگری کے بعد دنیا گھومتے کا ارادہ رکھتی ہوں ۔جب سے پیدا ہوئی ہوں پڑھ ہی رہی ہوں ۔اچھا کیا میں تمہیں وہ باتیں بتا سکتی ہوں جو مجھے تم میں اچھی لگتی ہیں؟
نہیں
میں پھر بھی بتاؤں گی اور اس سے پہلے یہ بتانا چاہوں گی جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا تو تم ڈیپارٹمنٹ کے کسی اسٹوڈنٹ کے ساتھ آنکھیں بھیگی کرنے کی مشق کر رہے تھے پھر تم دونوں زبان تھوڈی سے لگانے لگے آئی مسٹ سے تمہاری زبان لمبی ہے پھر تم دونوں نے کانوں کو پھڑپھڑانا شروع کیا میں نے اپنی کلاس فیلو سے پوچھا کیا اسپیشل لوگ بھی یہاں پڑھتے ہیں پھر اس نے آنکھ مار کر تماری طرف دیکھ کر کہا یہ تو واقعی ہی اسپیشل ہے
ہاہاہا اچھا
ہاں کلاس میں جب بیٹھتے تم ایسے پھولوں کی پتیاں بنا رہے تھے جو تخیل میں ہو سکتا ہے زمین پر نہیں
تو یہ اچھی بات ہے؟؟
ہاں کیونکہ تم ان چیزوں کے بارے میں بھی سوچتے ہو جو سرے سے موجود ہی نہیں ہیں ۔ان کے بارے میں کتنا سوچتے ہو گے جو موجود ہیں تم انجان رہنے والوں میں سے نہیں ہو۔
اپنے بارے میں جان کے اچھا لگاویرا۔تم سمجھ دار لڑکی ہو عالیان مسکرا دیا
تم ایک اچھی لڑکی ہو کہتے تو مجھے زیادہ اچھا لگتا
تم ایک اچھی لڑکی ہو ۔
ہاں اب ٹھیک ہے
ویرا مزید اسکی خوبیاں بتانے لگی اور کاغز کا بنا جہاز اڑنے لگی جو ان کے درمیان آکر گرا اس نے اسے اٹھایا اور پڑھا۔پہلے وہ حیران ہوئی پھر مسکرانے لگی۔
اچھا عالیان پھر ملتے ہیں ہاتھ ہلا کر وہ چلی گئی
عالیان جہاز اٹھا کر پڑھا امرحہ ؛؛اس کی نظر وہی ٹھر گئی
ویرا امرحہ کے سر پر پہنچ چکی تھی تم نے میرا سر فخر سے بلند کر دیا ہے میں روز تمہیں دو تین گھنٹے مشق کروا سکتی ہوں ۔صبع جلدی اٹھ جایا کرنا
کیا کہہ رہی ہو اور کس چیز کی مشق؟
سائیکل کی
وہ کیوں؟
کارل کو چیلنج دیا ہے نا تم نے اب کیا ریس میں ہارنا ہے
وہ کریم کافی پینے کی تیاری کر رہی تھی ۔پورا مگ گرا بیھٹی کس نے کس کو چیلنج کیا؟
تم نے کارل کو ۔
ویل ڈن امرحہ ۔اسی دوران آرٹ ڈیپارٹمنٹ کی ثنا خاص اس کے پاس آئی۔۔
میں نے تم پر پندرہ پونڈ شرط بھی لگا دی ہے
امرحہ اس کی شکل دیکھنے لگ کے آخر ہو کیا رہا ہے ۔
شکر ہے کسی نے تو کارل کو ٹکر کا سوچا
امرحہ دیوانوں کی طرح ثنا اور ویرا کو دیکھنے لگی۔دونوں کے ہاتھوں میں کاغز کے بنے جہاز تھے جس کے ایک کونے امرحہ کارل سائیکل ریس اور دوسری طرف وقت جگہ ٹائم لکھا تھا ۔نیچے یہ لکھا کے امرحہ نے کارل کو چیلنج کیا اور کارل نے قبول کر لیا ۔
یہ جہازیونی بھر میں خوب اڑے ایک امرحہ کے سر آ لگا دور کار کھڑا دانت نکال رہا تھا۔امرحہ فوراً اس کے پیچھے لپکی تو وہ بھاگ گیا ۔اس نے ڈھونڈا نہیں ملا جب وہ پیر پٹخ کر مڑی تو وہ اس کے سامنے آ گیا ۔
مجھے ڈھونڈ رہی ہو؟ میں حاضر ہوں
یہ کیا ہے؟ اس نے جہاز اس کے اگے لہرایا
ہماری ریس ۔اگلے ہفتے ۔امرحہ اور کارل
ساتھ ساتھ
میری طرف سے ہزار دو ہزار جہاز اور اڑا دو یونی میں مجھے فرق نہیں پڑتا۔
”فرق پڑے گا تمہاری بہت بےعزتی ہوگی،ریس
ضرروہوگی۔،،
”اگرمیں تمہیں قتل کردوں
تو …..تو تمغہ ملےگا ۔“
”نہیں سلیوٹ
……جومیں خود تمہیں دوں گا،اگر تم
مجھے قتل کرنے میں کامیاب ہو گئیں تو….سنو
امرحہ ،بلکہ دیکھو ڈی کوئین تم ڈر کیوں
رہی ہو….چلو تم یہاں کھڑے کھڑے مان
لو کہ آئی ایم کارل دی گریٹ ۔اور تم
کارل دی گریٹ سے ڈرتی ہو ۔“
”ہونہہ …..کارل
دی گریٹ ….کارل دی گریٹ…..“کارل
سے بحث فضول جان کر وہ پلٹ آئی،اسے کوئی
دلچسپی نہیں تھی،نہ فکر کہ کارل یونی
میں کیا علان کرتا پھر رہا ہے،وہ کیا
پاگل تھی جو اس کے ساتھ ریس لگاتی۔
”چلو
آؤ میں تمہیں مشق کروا دوں۔“رات کو ویرا
اسے کمرے سے لے جانے آئی۔
”پاگل ہو گئی
ہو تم بھی،چار دن مجھے سائیکل چلاتے
نہیں ہوئے کہ میں ریس لگانے چل پڑوں….ناممکن
اور مجھے کوئی دلچسپی بھی نہیں ۔“
”ناممکن
کا سوچ کر بیٹھی ہو تو اسے ممکن کیسے
کر سکتی ہو بھلا۔“
”یہ پاگل پن ہے ویرا
۔“
”کر گزرو یہ پاگل پن…..پاکستانی
اور انڈین کافی جذباتی ہو رہے ہیں۔تم
پر شرط لگائی ہے۔تم لوگ عجیب ہو ویسے
،مقابلے میں کوئی تیسرا غیر ملکی ہو
تو تم پاکستانی ہندوستانی ایک ہو جاتے
ہو ….اینی وے تم اب پیچھے نہیں ہٹو
گی۔“
”ویرا مجھ سے توسائیکل ہی نہیں
چلے گی۔“
”میدان میں اترو گی تو دیکھنا
کیسا جوش آئے گا تم میں ۔“
”ہوش آئے
گا تو جوش آئے گا نا ۔“
سادھنا اور لیڈی
مہر کو معلوم ہوا تو انہوں نے بھی ہاتھ
لہرا لہرا کر تقریریں کیں کہ معمولی
سی ریس ہی تو ہے کون سا اولمپک کی دوڑ
ہے۔این اون بھی آگئی اور جاپانی مقولے
تر جمعہ کر کر کے سنانے لگی ۔ساتھ اس
نے کھڑےکھڑے تین،چار شجاعت اور بہادری
سے لبالب بھری جاپانی کہانیاں بھی سنا
دیں ۔اس کے علاوہ سب بہت پرجوش تھی اور
اس میں ناک تک جوش بھر دینے کو تیار
تھیں۔نشت گاہ میں رات بھر چار خواتین
اسے اپنے نرغے میں لیے بیٹھی رہیں اور
تب تک نہیں چھوڑا جب تک اس کا سر ہاں
میں نہیں ہل گیا۔صبح وہ سب سے پہلے
وہ بزنس ڈیپارٹمنٹ گئی۔کارل اور عالیان
کھڑے باتیں کر رہے تھے۔….وہ ان کے
قریب گئی۔
”میں ریس کے لیے تیار ہوں
۔“اس نے این کی کہانی کے کردار کی طرح
گردان کو بلند کرکے کہا اور صرف عالیان
کو مسکرا کر دیکھ کر آگئی۔
”پوری یونی
میں تمہیں امرحہ ہی ملی تھی ریس لگانے
کے لیے؟“
”ہاں…..جیسے پوری دنیا میں
تمہیں ایک وہی ملی تھی پرپوز کرنے کے
لیے۔“کارل نے مذاق بالکل نہیں کیا تھا،وہ
یہ بات کہتے سنجیدہ تھا۔

*………*………*
وہ
لائبریری کے اطراف میں ٹہل رہی تھی کہ
کب وہ آتا اور وہ اسے آتا نظر آگیا۔وہ
جلدی سے اس کے پاس آگئی۔
”ہائے عالیان
کیسے ہو….بال کٹوا کر بڑے اچھے لگ
رہے ہو ،اچھا سنو ہفتے کو میری ریس ہے،تم
آؤ گے؟“
وہ خاموش چلتا رہا …..اور
اچھا لگ رہا تھا ایسا کرتے۔
”کیا تم
مجھے تھوڑی سی مشق کروا سکتےہو ،میں
نےکارل سے اس لیے ہاں کہی کیونکہ تم
نے ایک بار کہا تھا ہار جانے والےان
لوگوں سےہزار درجےبہتر ہوتےہیں جومقابلہ
کر نے کی ہمت ہی نہیں کرتے جواب کےانتظا
ر میں وہ اس کی طرف دیکھنے لگی،لیکن
وہ خاموش تھا۔دونوں ہاتھوں کو پینٹ کی
جیبوں میں ڈالے وہ بے نیاز نظر آنے کے
نئے انداز ترتیب دے رہا تھا

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: