Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 37

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 37

”دیکھو مجھے تمہاری ساری باتیں یاد ہیں۔ایک بار پھر مجھے داد دو ،میں ہمیشہ یہ بھول جاتی ہوں کہ مجھے کس نمبر کا جوتا آئے گا،لیکن مجھے یہ یاد ہے کہ میرے اسٹور میں تمہیں کس نمبر کا جوتا فٹ آیا تھا ،کس نمبر کا ذرا تنگ تھااور کس جوتےکو اُٹھا کر تم نے کہا تھا۔”اتنا مہنگا جوتا….اگر مستقبل میں ،میں اتنا مہنگا جوتا لینے کا اردہ کروں گا تو میں سمجھ جاؤں گا میرا دماغی توازن کھو چکا ہے۔اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ تم اپنے بے کار جوتوں کے کار آمد لیسز دوسرے جوتوں میں بدل بدل کر استعمال کرتے ہو اور یہ بھی کہ تمہارے پاس ایک بند ریسٹ واچ ہے جسے ہفتے میں تم ایک بار ضرور پہنتے ہو،وجہ میں نے جان لی ہے ،تم چیزوں کو صرف اس لیے نہیں پھینک دیتے کہ وہ بے کار ہو چکی ہیں۔تم ان سے وابستہ ہو جاتے ہو ،تمہارے لیے ان سے الگ ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔تم چیزوں کے ساتھ خود غرضی کا مظاہرہ نہیں کر سکتے ۔تم اس وقت میرے ساتھ کچھ اتنا رحم دلی کا مظاہرہ نہیں کر رہے ،لیکن فی االحال میں اسے نظر انداز کر دیتی ہوں۔رک کر اس نے سانس لیا اور اسے دیکھا…..ابھی بھی وہ بولنے پر راضی نہیں تھا۔
”ایک بار پھر مجھے سراہا جانا ضروری ہے،میں نے تمہاری سائیکل کی کہانی بھی معلوم کر لی ہے۔سائی جیسا ایک فرشتہ صفت لڑکا تمہارا دوست تھا تم دونوں ایک دوسرے کے سائیکلوں کے پیچھے بیٹھ کر آیا جایا کرتے تھے۔ڈگری لینے کے بعد وہ جاتے ہوئے یادگار کے طور پر اپنی سائیکل تمہیں دے گیا اور تمہاری لے گیا اس نے ایک اچھا کام یہ کیا کہ وہ یادگار کے طور پر تمہیں ہی اُٹھا کر نہیں لے گیا….میرے ڈیپارٹمنٹ کی کچھ شرارتی لڑکیوں کا کہنا ہے کہ تمہیں اغواکرنا ضروری ہو گیا ہے اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر انہیں کسی نائیٹ رائیڈر کی خدمات حاصل ہو ہو گئیں تو وہ کر گزاریں گی۔تم کتنے لوگوں کو مطلوب ہو عالیان ….خیر….مجھے ایک اور بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ سینئرز میں کوئی لنڈا نامی لڑکی تھی ۔وہ جب تک رہی بہانے بہانے سے تم سے ٹکراتی رہی یہ ٹکریں اتنے مشہور ہو گئیں کہ اسے ”لنڈا دی بل“اور تمہیں ”عالیان دی فائٹر “کہا جانے لگا۔اسے دیکھتے ہی تم ادھر اُدھر ہو جایا کرتے تھے۔پھر بھی وہ تمہیں ڈھونڈ لیتی تھی۔ویسے اچھا ہوا وہ لڑکی چلی گئی۔میں اسے ایسی بچکانہ حرکتیں کرتی دیکھتی تو یقینا اسے سمجھا دیتی کہ ”دی بل “آخر کہتے کسے ہیں۔
میں نے یہ بھی نہیں سنا ہے کہ جو تمہارا دوست بھی نہیں ہوتا وہ بھی چاہتا ہے کہ تم اس کی پارٹی میں آؤ،اور یہ بھی کہ ایک ڈری سہمی معصوم دل لڑکی نےاس وقت تمہیں دیکھتے ہی مار دیا تھا۔جب تم نے کارل سے کوئی گیم ہارنے پر اپنے سر کے بال صاف کروا لئے تھے۔”اپنا سر کٹوا لیتے بال کیوں کٹوا ئے“اس نے تم سے یہ کہا تھا۔ویسے وہ کچھ زیادہ ہی کہہ گئی تھی ۔اسے کہنا چاہیے تھا”کارل کا سر کٹوا دیتے ۔اپنے بال کیوں کٹوائے۔“
اور مجھے تم سے ایک شکایت یہ بھی ہے۔چند دن پہلے مجھ پر انکشاف ہوا کہ پچھلے سال ہالوین پر تم اور کارل کسی اونچی عمارت پر چڑھ کر ہالوین کدو آنے جانے والوں پرلڑھکا رہے تھے۔مجھے تم سے شکوہ یہ ہےکہ تم نے کارل کو اوپر سے نیچے کیوں نہیں لڑھکایا….اگر تم یہ کر دیتے تو کتنا ثواب کماتے…ویسے عالیان ایک اور راز کی بات بتاؤں….اگر میں عالیان ہوتی تو فوراً امرحہ سے دوستی کر لیتی…اسے ٹوئیٹ میں چاکلیٹ کا ڈبہ دیتی اور پھر یہ ٹوئیٹ واپس بھی نہ لیتی اور ہر روز ٹوئیٹ دیتی رہتی اور لینا بھول جاتی۔“اس کے بولنے کا انداز قابل دید تھا۔اگر میں عالیان ہوتی۔
”میں باتوں میں بھٹک چکی ہوں،لیکن ایک اور بات سن لو،میں زندگی میں بہت بار فیل ہوئی ہوں۔ایف ایس ای میں ٹاپ نہیں کر سکی ۔بی اے میں پلس نہیں لے سکی تمہیں اندازہ نہیں میری زندگی میں بے چاری سی رہی اب میرا دل ہے مشق میں تم میرا ساتھ دو تاکہ میں ہاروں بھی تو زرا فخر سے لیکن شاید تم مجھے جتوا ہی دو ۔۔۔۔ہے نا
بسٹ آف لک دو قدم اگے چلتے عالیان نے بغیر مڑے اس سے کہا اور چاکلیٹ کھاتے ہوئے لائبریری کے اندر چلا گیا ۔
امرحہ واپس پلٹ آئی وہ یہ محسوس نہیں کر سکتی تھی
اگے اگے چلتے عالیان نے اپنی رفتار آہستہ کر لی تھی ۔
اس نے لائبریری میں آنے کے لئے اتنا وقت کیوں لیا تھا ۔
ویرا کے ساتھ جی جان سے مشق کرتے وہ ایک بار بھی ویرا کو ہرا نہیں سکی تھی ۔وہ جانتی تھی کے کارل کو وہ کسی صورت ہارا نہیں سکے گی مگر مقابلہ اہم ہے نا کے جیت۔
گراؤنڈ میں ان دونوں کو جاننے والے کافی اسٹوڈنٹ موجود تھے سب کی خواہش تھی کارل ہار جائے مگر سب جانتے تھے یہ ممکن نہیں ہے
ویرا اسکی کوج اس کے کان میں گھسی ہوئی تھی
بھول جاؤ کے یہاں کوئی کارل موجود ہے ۔پوری قوت لگا کر سائیکل دوڑانا بس آج تمہیں یہی کرنا ہے ۔

امرحہ نے دعا کی بلکہ منت کی کے کارل سے جیت جائے تو کتنا مزا آئے گا۔اگر سائیکل چلاتے کارل کو فالج آ جائے تو کیسا رہے گا اسکی نظریں دھندلا جائیں بلکہ وہ نابینا ہو جائے ۔
اگر تم نے مجھے ہارا دیا تو تم جو کہو گی کروں گا مینڈکی
کارل نے سائیکل اس کے برابر لا کر کہا۔
اگر میں جیت گئی تو پتہ نہیں کیا کر گزروں گی۔اف اس نے دل میں سوچا
ریس کا فائیر ہوا اور دیس شروع ہوئی ساری دنیا غیب ہو گئی بس ایک ٹریک رہ گیا اور اس پر سائیکل چلاتی خاتونِ پاکستان امرحہ
کارل بہت آرام سے پیڈل چلا، رہ تھا اور امرحہ بہت اگے جا چکی تھی ۔کارل کو کوئی جلدی نہیں تھی وہ سہانے موسم کا مزا لے رہ تھا ۔سیٹی بجاتا جا رہا تھا امرحہ بہت اگے نکل گئی تو اس نے ایک دم سپیٹ پکڑی اور اس کے اگے نکل گیا ۔پھر کارل نے رفتار آہستہ کر لی ۔امرحہ پوری جان مار کر
کارل سے تھوڑی اگے نکلی۔کارل نے پھر تیز چلا کر اگے گیا اور پھر آہستہ کر کے سیٹی بجانے لگا۔وہ عام انداز سے نہیں شاندار انداز سے ہرانا چاہتا تھا ۔امرحہ نہ اسے دیکھ رہی تھی نہ اسے پتہ تھا کارل یہ کر رہا ہے ۔یہ سب اسے بعد میں بتایا گیا اسے تو بس ریس لائن نظر میں تھی ۔اسکی جتنی بھی قوت تھی اس نے سائیکل پر لگا دی ۔
کارل آرام سے سیٹی بجاتا جا رہا تھا اور کچھوے خرگوش والی ہوئی جو خرگوش کے ساتھ ہوتا ہے ۔عین میں کارل سائیکل سے گر گیا اس کا کہا تھا کے ایک چھترا اس کی کان پٹی سے لگا تھا اس کا سر گھوم گیا اور وہ گر گیا ڈرامے باز کارل کی بات کا کسی نے یقین نہیں کیا ۔سب کا یہی کہنا تھا کے جب ہار نظر آئی تو ایسے کر رہا ہے
لیکن امرحہ لائن کے اس طرف تھی میں سو بار پہاڑ پر چڑھا اور گرا پھر پہاڑ کو اپنے اگے جھکا ہوا پایا میدان حشر کے پرندے میدانِ عمل میں گرا نہیں کرتے ۔مقابلہ دیکھنے والے یہ نہیں جان سکتے کے جیت جانے والے کسی آسمان کا سفر کر کے لوٹے ہیں ۔
امرحہ سب لوگوں میں اسے ڈھونڈ رہی تھی جس کی وجہ سے اس نے یہ کیا اور جیت بھی گئی ۔اس شخص کی باتیں اسے دعا کی طرح لگتی تھی وہ خود بھی ایک دعا ہی تھا ۔
__________________
وہ فائر تم نے کیا تھا کارل کو صرف عالیان پر شک تھا
مجھے کیا ضرورت تھی؟
کیونکہ تم مجھے ہرانا چاہتے تھے
میں کون سا مقابلے میں تھا
تم نے کہا تھا ایسے بچگانہ کھیل میں تمہیں کوئی شوق نہیں پھر تم آئے کیوں؟
تمہاری سپوت کے لئے
سپوٹ کے لیے آئے تھے مگر میرے لئے نہیں
میری ساتویں حس کہتی ہے کہ وہ تم ہی تھے
میری پہلی حس کہتی ہے کہ بکواس بند کرو
اگر وہ تم نکلے تو وہ دن تمہارا زمین پر آخری دن ہو گا۔
اگر میں نہ نکلا تو تماری ساتویں حس پر لعنت ہے ۔شاید یہ کسی نے اس لیے کیا کے اگر وہ ہار جاتی تو پھر ساری زندگی کسی مقابلے میں نہ آتی۔
بھاڑ میں جائے میرا ریکارڈ خراب کر دیا ۔کارل کو چڑھنے کے لیے عالیان منہ گھول کر ہنسا سب ہی ہنس چکے تھے کہ وہ ایک لڑکی سے ہار گیا ہے ۔وہ بھی امرحہ سے
انہوں نے دیوار پر کارل کے کارٹون بنائے اور موٹے موٹے آنسو بھی بنائے۔
میں تمارے دانت توڑ دوں گا عالیان
کس کس کے توڑو گے اس نے سب کھی کھی کرنے والوں کی طرف اشارہ کیا ۔
شروعات تم سے کرتا ہوں پاس پڑا گلاس اس نے عالیان کو دے مارا اور اس نے کیچ کر لیا ۔کیچ نہ کرتے تو گلاس کے پیسے تم سے وصول کرتا کاونٹر بوائے چلایا تو کارل نے اس بھی ایک گلاس دے مارا جو وہ کیچ نہیں کر سکا، اور گلاس ٹوٹ گیا اب تم بھی بھرنا پیسے کارل نے تیسرا گلاس بھی اٹھا لیا ۔جس کے لئے لڑا جا رہا تھا ۔وہ یونی کے اس طرف اداس سی کھڑی تھی وہاں بچھڑے بکھرے دوستوں کا ٹولا موجود تھا ۔
وہ چار تھے اور دنیا کے مختلف ملکوں میں رہتے تھے وہ اٹھارہ سال پہلے یونی پڑھ کے نکلے تھے ان اٹھارہ سالوں میں ہر سال ایک دن وہاں آتے تھے اسٹوڈنٹس ان کے گرد جمع تھے اور وہ اپنے پانچویں دوست کا انتظار کر رہے تھے
”یہ عالیان ہے….“ جو ان میں سب سے زیادہ خوبصورت تھا۔اسے امرحہ نے عالیان کا خطاب دیا تھا۔
”یہ لمبی لڑکی ویرا….اور وہ نرم خو،گلابی گلابی لڑکی امرحہ اور وہ….“
”وہ سائی…“وہ کارل کا نام لینا نہیں چاہتی تھی۔وہ چاروں بار بار گھڑی دیکھ رہے تھے۔انہیں پانچویں دوست کا انتظار بہت شدت سے تھا۔
”لو وہ آگیا…..“ویرا چلائی۔
”اتنی دیر….“عالیان نے آنے والے کو سر کے بالوں سے پکڑا ۔
”فلائیٹ میں سیٹ نہیں مل رہی تھی ۔بہت مشکل سے ایک بڈھے کو یقین دلانے میں کامیاب ہو سکا کہ آج رات ہوا کا دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ پچاس سے اوپر والوں کو جہاز میں ہارٹ اٹیک کا جان لیوا خطرہ ہے۔انتظامیہ یہ بات چھپا رہی ہے۔لیکن جان کا رسک لینا بےوقوفی ہو گی۔“
”کارل!“امرحہ نے منہ بنایا۔وہ ریس جیت گئی تھی اور اس نے کارل سے کہا تھا۔” تمہارے سر اور بھنوؤں پر پورے ایک سال تک ایک بھی بال نہیں رہنا چاہئے۔“اور کارل نے یونی میں موجود دوسرے کارل کو سر اور بھنوؤں کو صاف کر لینے پر راضی کر لیا اور اس کے سامنے لا کھڑا کیا۔
”کارل نے یہ کر دیکھایا۔“اس نے دوسرے کارل کی طرف اشارہ کیا اور دانت دکھا کر چلا گیا۔
ان پرانے دوستوں کا ٹولہ تصویر بنوانے لگا ۔اسٹوڈنٹس جن کےہاتھوں میں ان کی پرانی تصویریں تھیں انہیں ہدیات دینے لگے ۔مسٹر مارٹن آپ کا ہاتھ مس کرولین کے کندھے کے اوپر ہو گا…..ہاں ذرا سا اوپر….بس….اور مسٹر بلاٹر آپ کی گھڑی کلائی پر مضبوطی سے بندھی ہے ۔ڈھیلی نہیں ہے،مس لینا آپ اپنے چھنگلی کو ذرا کھولیں۔“
ان کی سالانہ تصویر بن گئی تو اسٹوڈنٹس ان کے ساتھ تصویریں بنوانے لگے ۔امرحہ پر رقت سی طاری ہونےلگی۔
”وی یہاں سے چلی جائے گی تو سالانہ تصویر کے لئے بھی نہیں آسکے گی۔وقت گزار جائے گا۔وہ بوڑھی ہو جائے گی ،ویرا روس میں بزنس کر رہی ہو گی ،کارل مر چکا ہو گا۔سائی دنیا کے مفلوک الحال ملکوں میں ٹرسٹ چلا رہا ہو گا اور عالیان؟“
وہ سوچوں میں ہی خاموش سی ہو گئی۔
ایک جگہ اکھٹے رہنے والے آنے والے وقت میں اکھٹے نہیں ہو گے۔یہ تصور بہت بھاری گزارتا ہے دل پر،اس کا دل بھر آیا کہ وہ رونے لگی۔

کتنا مشکل ہوتا ہے ایک ہو کر دور ہو جانا ،چار،چھ،آٹھ ہو جانا۔“
کارل نے اسے ٹشو دیا ۔وہ بھی پرانے اسٹوڈنٹس کے ساتھ تصویریں بنوا رہا تھا۔امرحہ نے ٹشوں لے لیا تو وہ حیران ہوا ۔
”تم اپنے گھر والوں کو یاد کر کے رو رہی ہو ؟“
”نہیں…تم سب کو ….“
”ہم سب کو ….؟“
”ہاں….ایک دن سب ختم ہو جائے گا ۔میں پاکستان چلی جاؤں گی،ویرا روس، سائی افریقہ،این جاپان اور تم… تم مر چکے ہوں گے۔“
کارل کو ان سب میں اکیلے اپنے مرنے پر افسوس ہوا ۔”اور عالیان؟“
”وہ دنیا کے کسی گمنام خطے میں بزنس کر رہا ہو گا۔“
”وہ بزنس کر رہا ہو گا اور میں مر چکا ہوں گا۔تم کبھی ایک اچھے انسان ہونے کا ثبوت نہیں دے سکتیں امرحہ!“اس کے ہاتھ سے ٹشو چھن کر وہ چلا گیا اور پھر گردن موڑ کر اسے دیکھا ۔وہ اس قدر اداس تھی کہ اسے دیکھ کر اسے بھی اداسی ہونے لگی ۔
وہ عالیان کے پاس جانے لگی،ٹھیک ہے وہ بولتا نہیں ہے لیکن سنتا تو ہےنا….اتنا بھی کافی ہے….سن لینا بھی ایک نعمت ہے۔
گھاس پر بیٹھی ویرا جو گٹار بجا رہی تھی اسکی نظر عالیان پر پڑی سارے الفاظ اپنے اپنے پنجروں میں پھر سے مقید ہو گئے ۔
ویرا کوئی روسی گانا ہی گا رہی ہو گی۔لیکن دنیا میں کتنا ہی اچھا گانا ہو وہ اتنا اچھا نہیں ہو سکتا نا کے ویرا عالیان کے سامنے گائے اور عالیان اتنی توجہ سے اسے سنے۔
آس پاس اور بھی اسٹوڈنٹس بھی گٹار اور گانا، سن رہے تھے دھوپ اس کے سہنری بالوں سے چھن کر اس کے گالوں پر پڑ رہی تھی اسکی لمبی گردن دائیں بائیں ہل رہی تھی
سر ایسے جھوم رہا تھا جیسے روسی گیت فراک کا کونا ہاتھ میں پکڑے پیروں کے بل محور رقص ہو ۔
ویرا کی آواز اچھی تھی اور انداز بھی ۔وہ اسے بھی کئ گانے سنا چکی تھی ۔
لیکن اسے عالیان کو نہیں گانا سنانا چاہئے ۔
کارل میربن چکا تھا عالیان بزنس کر رہا ہو گا ۔اور روس کے طوفانی برفانی میں گر کر ویرا مر چکی ہو گی ۔
اس نے کھڑے کھڑے اپنے خیال میں ردو بدل کی اس نے خود کو تسلی دی تھی ۔لیکن بونڈے انداز میں
کارل عالیان اور ان کے ہال سیٹس اینڈی اور نیل رات گئے لڑکوں کے سامنے کھڑے تھے انہوں نے ہاتھ سر سے اوپر اٹھا کر ایک ایک بورڈ پکڑ رکھا تھا ۔جس میں اندھیرے میں دکھائی دینے والی روشنائی سے well you marry me
مطلب کیا تم مجھ سے شادی کرو گی لکھا تھا ۔
وقفے وقفے سے کارل تیسری منزل کی ایک کھڑکی پر سرچ لائٹ کی تیز روشنی ڈال رہا تھا لیکن کھڑکی کھول رہی تھی ۔اور کوئی ہل چل دکھائی دے رہی تھی ۔
وہ تمہیں پسند نہیں کرتی۔کارل نے بیان جاری کیا ۔
نہیں ایسا نہیں ہے ۔میں جانتا ہوں اسے اسی انداز میں پرپوزل چاہئے تھا ۔وہ اسی قسم کی فلمی سی لڑکی ہے
اگر فلمی سی ہے تو ایفل ٹاور میں گھول گھومتے ہوئے پرپوز کرنا چاہئے تھا نا۔تم نے بھونڈا انداز اپنایا ہے
میں یہی افوڈ کر سکتا ہوں ۔نہ میں ٹام کروز ہوں نہ میرا باپ جارج کلوفی۔
کیا تم نے اسے کہا تھا کے آج رات تم آؤ گے عالیان نے پوچھا
نہیں یہ تو سرپرائز ہے
وہ گہری نیند سو رہی ہو گی۔جب اسے خواب آئے گا کے تم کھڑکی کے نیچے کھڑے ہو تو آئے گی۔تمیں کوئی جواب دے گی۔۔۔کارل بھنا گیا ۔
ہر گز نہیں اس نے کہا نہیں لیکن میں سمجھ گیا تھا وہ ہر رات میرا انتظار کرتی ہے
میں تمہیں یاد دلا دوں کے ہمارا صبع تک کھڑے رہنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے
کارل سے لائٹ لے کر عالیان نے کھڑکی پر ماری۔
اندھیرے میں کھڑا کوئی مجھ نظر آیا وہ جوش سے بولا۔
اینڈی نے سرچ لائٹ کھڑکی پر ماری وہاں اندھیرا تھا کوئی بھی کھڑا نہیں تھا ۔جب کھڑے کھڑے تھک چکے تو کارل نے انسو صاف کرنے کے لئے اینڈی کے اگے ٹیشو کیا ۔اور بورڈ نیچے کر کے اپنی سائیکلوں پر جانے لگے ۔تو ایک دم تیزی سے حال کی کئ کھڑکیاں کھولی۔ان میں سرچ لائٹ پڑیں تھیں کے سٹرک روشن ہو گئی اور چلا کر ان سب نے کہا ۔
یس۔۔۔۔۔۔لڑکیوں کی آواز میں اتنی شرارت تھی
یس کی تان اتنی لمبی تھی کے چاروں نے اپنی انگلیاں کانوں میں دے لی۔
تم اتنی ساری لڑکیوں سے شادی کرو گے کارل نے دانت نکالے۔
اگر سارہ نے اجازت دی تو ۔۔۔اینڈی کے بھی دانت نکل آئے۔
پھر سب کھڑکیوں میں یس کے بورڈ نظر آنے لگے ۔فلمی انداز سے پرپوز، کو فلمی انداز میں جواب ملا ۔
میں سارا مانچسٹر اکھٹا کر لو گا۔اپنی کھڑکی کے باہر تم جب دیکھو گی تو تمہیں ہاں کا بورڈ سب کو دیکھانا پڑے گا
ان سب بوڑوں پر عالیان کو اپنے الفاظ لکھے نظر آئے ۔
اس کا جوش ٹھنڈا پڑ گیا اس نے اینڈی کے مسکراتے چہرے سے نظریں پھیر لیں ۔
خوشی کے مارے اینڈی سے سائیکل ہی نہیں چلائی جا رہی تھی ۔وہ دو تین بار خوش میں سائیکل گرا چکا تھا ۔سب اگے نکل جاتے وہ گرا پڑا، ہوتا، اور اٹھنے کی جلدی بھی نہیں کرتا ۔
پرائیویٹ ہال میں انہوں نے کئ پرچیاں چپکائی ہوئی تھی یہ وہ پیغامات تھے جو نیل کی طرف سے ابچیل کے لئے ثبت تھے ۔جب سب پرچیاں چپکا چکے تو انہوں نے ایک بڑا بورڈ درخت پر ٹھونک دیا جس پر تھا میسج فار ابچیل بڑے حروف میں لکھا تھا ۔عالیان نے ہال اپنے کمرے میں آ کر وارڈ روب میں سے ایک بڑا بکس نکالا اور اس میں نھنے ہاتھ سے بنا کارڈ جلا دیا۔یہ کارڈ اس نے رنگ برنگے دھاگوں سے پرو کر شٹل کاک میں کھڑکی کے سامنے لگے درخت پر باندھے تھے اور جو ساتھ لگی گھنٹیاں کو کوڑے دان میں پھینک دیا ۔ان سب کے ساتھ یہ بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا
وہ رات بھر خود سے کہتا رہا ۔
شٹل کاک کے باغ میں لگے تناور درخت کے سامنے کی کھڑکی میں بیٹھی وہ رنگ برنگے مختلف مارکروں سے پیغامات لکھ رہی تھی وہ کئ گھنٹوں سے بیٹھی یہی کام کر رہی تھی ۔یہ پیغامات اسے سیف روم کی دیواروں پر نہیں چپکانے تھے ۔
ان پیغامات کو عالیان کو دینے کا ارادہ رکھتی تھی ۔
کب کیسے وہ نہیں جانتی تھی ۔اس نے اس بارے میں بھی نہیں ساچا تھا ابھی پیغامات لکھنے کی جرت کر رہی تھی
____________________
دیر رات کا وقت سٹرکیں سنسان کہیں دور کسی کے کراہنے کی بے ہنگم گٹار بجائے کی آوازیں آ رہی تھی ۔ایسی آوازیں جن پر کان کھڑے ہو جاتے ہیں ۔اور مسام پسینے سے بھیگ جاتے ہیں ۔ہفتے کی رات ہے بڑی تعداد میں اسٹوڈنٹس اپنی جاب بار کلب سے واپس اپنے ہالز کی طرف آرہے تھے کچھ ہوش سے بے گانے بھی جنوں نے پی رکھی تھی ۔رات کے اس سنسان گوشے میں انہوں ایک جوکر نظر آتا ہے وہ اسے کسی فاسٹ فوڈ کمپنی کا ورکر سمجھتے ہیں ۔جوکر کے ہاتھ پشت پر ہیں ۔اور پھر ایک دم ہاتھوں کو اوپر اٹھاتا ہے اور ہاتھ میں پکڑے ہتھوڑے کو زمین پہ پڑی کھوپڑی پر دے مارتا ہے ۔
انسانی کھوپڑی پاش پاش ہو جاتی ہے ۔خون فوارے کی شکل میں سڑک پر بکھرتا ہے زرا دور سے یہ منظر دیکھ لینے والے اسٹوڈنٹس اپنی چیخیں دباتے ہیں تاکہ وہ ان کی طرف متوجہ نہیں ہو جائے اور وہ الٹے پاؤں بھاگتے ہیں عین ان کے پیچھے دوسرا جوکر نمودار ہوتا ہے۔اس کے ہتھوڑے سے خون ٹپک رہا ہے اور دوسرے جوکر خر
خر کی آوازیں نکال کر ان کی کھوپڑی کا نشانہ لگا رہے تھے
تیسرا جو قہقہے لگا کر گٹار بجا کر ماحول کو اور خوفناک کر رہا تھا ۔
سڑک اسٹوڈنٹس کی چیخوں سے گونج اٹھی خاص کرتب کا تو مزا ہی اور ہے
جب ان کے ٹولوں میں بڑی تعداد لڑکیوں کی ہوتی ہے تو سارا مانچسٹر ہل جاتا ہے اگے اگے وہ پیچھے ہتھوڑا مار جوکرز۔
عالیان کارل سائی اور شاہ ویز نے سڑک پر چھپ کر ڈرامے کی پہلی قسط دیکھی تھی ۔اور ہنس ہنس کر ان کے پیٹ میں درد ہو گیا تھا ۔انہیں اسکی خبر پہلے ہی مل چکی تھی کارل کا تو دل تھا وہ بھی ہتھوڑے والا رول کر لے مگر عالیان نے منع کر دیا تھا کہ ہم وقت آنے پر سب کریں گے ۔
یونی کی لائبریری کے رستے میں ایک مجسمہ تھا جس کے ایک ہاتھ میں کتاب اور دوسرا تھوڑی کے نیچے تھا پھر ایک دن ایسا ہوا جو گزرتا سر میں کتاب لگنے کی وجہ سے موڑ کر دیکھتا دو تین ہارٹ اٹیک ہونے لگتے جو مجسمہ کتاب پڑھ رہا تھا اس نے مارا اور ہنس کر ہاتھ اگے بڑھنا رہا ہے
دھوکے کے لئے وہاں بہت دن اصلی مجسمہ رکھا گیا تھا ۔پھر کچھ دن میں اسٹوڈنٹس میں سے کسی نے مجسمہ کا روپ دھار لیا۔کبھی گزرنے والے کو بائے کہتا کبھی اپنی جمائی رکتا اور کبھی بال ٹھیک کرنے لگتا کبھی اچانک انہیں ڈرا دیتا۔
کئ ڈرپوک لڑکیاں پوری طاقت سے چلاتی ان میں سے ایک امرحہ بھی تھی ۔وہ بے ہوش ہوتے ہوتے بچی تھی ۔
جتنے مذاق یونی میں کیے جاتے اس سے زیادہ ہالز میں ہو رہے تھے ۔عالیان اپنے کمرے کو لاک کرنا، بھول گیا تھا اور یہ وحد غلطی ہوتی ہے جو مر کر بھی نہیں کرنی چاہئے جب تک لوٹ کر آو سارا سامان باہر پڑا ہوتا اور ہر ایک پر پرائزز ٹیگ ہوتی ہے عالیان یاد آنے پر گیا تو اس کے دو سوٹ پرفیوم اور جوتے کچھ سامان بک بھی چکا، تھا ۔اور اس دن بہت سارے لوگ لاک کرنا بھول گئے تھے کیونک رات سہی سےسو نہیں پائے تھے اور رات فائر الارم بجنے لگا
سب ہڑ بڑا کر اٹھے اپنے کمروں سے نکلے اور بجلی چلی گئی
گرتے پڑتے باہر پہنچے تو غبارے جن میں پٹاخے بھرے تھے ان کے پیروں میں پھوٹنےلگے ایک دوسرے پر گرتے وہ زخمی بھی ہوئے عالیان کی ناک پر چوٹ آئی اس کی ناک پر بینڈیج لگاتے کافی شرم سی آئی۔
یہی لڑکیوں کے ہال میں بھی ہوا تھا عینی شاہدین کا کہنا تھا کپٹاخوں اور لڑکیوں کی آواز سے عمارت چند فٹ اوپر اٹھانے کا ریکارڈ بھی بنایا تھا ایسا ہونا ممکن ہے ۔
بالکل
لا تعداد اوپر ان کے کالز کی گئی ایک عاد کال امرحہ کے دادا کو بھی گئی کے امرحہ نے ایک عیسائی لڑکے سے شادی کر لی دادا کی صحت اچھی تھی ورنہ ان کو ہسپتال جانے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا امرحہ دادا کو سمجھنا محال ہو گیا کے یہ لڑکیوں کی شرارت تھی اور کچھ نہیں
ویرا کے پاپا کو بتایا گیا ویرا ماسک پہن کر مانچسٹر میں چاقو سے لوٹتے ہوئے کئ بار دیکھی گئی لیڈی مہر کو کال گئ کے عالیان نے ہال کی بلڈنگ سے کود کر خود کش کی کوشش کی ۔ایک مصری لڑکی نے امرحہ بن کر لمبا دوپٹہ پہنا اور سب اس میں پھنس کر گرنے کا ڈرامہ کرتے رہے کارل نے ایک تصویر بنائی جس میں عالیان کی آنکھیں بھنگی تھی پوسٹر لگائی گئی کارل نے اسکی ایک فوٹو کاپی اپنے پاس رکھ لی تھی ۔ان دنوں ٹوئیٹ یونی میں بہت عام ہو گئی تھی سارہ نے ایک چاکلیٹ امرحہ کے اگے کی امرحہ نے ایک بڑی سی بئٹ لی اسکا منہ صابن اور نہ جانے کسی کسی سے بھر گیا جھاگ ادھر عالیان کا بھی یہی حال تھا ۔ہنس ہنس کر ان کی آنکھوں میں پانی آ گیا ۔تم مانو یا نہ مانو عالیان ہم دونوں ایک جیسے ہیں
اور تم یہ مان لو دنیا میں نہ تم سا کوئی ہے نا مجھ سا
وہ چابی کی گڑیا کی طرح سر مٹکا کر کہہ گئ۔
جوجو سے کہہ کر عالیان کا ایک سکیچ بنایا تھا اور اسے دینے جانے والی تھی کے کئ دن کی محنت سے تیار کیا ۔
آخری کلاس لے کر وہ نکلا ہی تھا اس نے اسکیچ ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا اگے پیچھے اسٹوڈنٹس ٹہل رہے تھے وہ عالیان سے کچھ دور تھیآس پاس والے اسٹوڈنٹس نے ایسی آوازیں نکالی اونچا بھی تھا اور سر بھی جیسی اسپیکر سے نکل رہا ہو۔

Read More:   Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 1

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply