Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 38

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 38

”زیرو….ون….ٹو……زیرو ون ٹو…..“
امرحہ اور امرحہ جیسے چونک کر ادھر اُدھر دیکھنے لگے ۔بہت تیز اور مرتب آواز تھی۔
”زیرو ون….اسٹارٹ ساونڈ…..ایکشن آن۔“
فوجیوں کی طرح پیر زمین پر مارے گئے اور جو جہاں کھڑا تھا وہاں کھڑا ہو گیا….جامد….فریز….کئی سو اسٹوڈنٹس…..کئی سو مختلف انداز میں…..
امرحہ اور عالیان جیسے دوسرے اسٹوڈنٹس سر اٹھا اٹھا کراردگرد دیکھنے لگے۔دور دور تک یہی منظر تھا ،جو اسٹل تھے۔ان کے درمیان جو اسٹل نہیں تھے وہ اڑسے پھنسے کھڑے تھے۔کلاسز لے کر نکلتے دوسرے اسٹوڈنٹس اپنی اپنی جگہ کھڑے ہو کر یہ منظر دیکھنے لگے…..دور دور تک یہ ساکن انسانی مجسمے کھڑے تھے۔
امرحہ دو لڑکیوں اور ایک لڑکے کے درمیان پھنسی ہوئی کھڑی تھی۔عالیان پانچ لڑکوں میں گھرا کھڑا تھا۔سمجھنے میں وقت نہ لگا بڑے پیمانے پر کچھ ہونے جا رہا ہے۔کچھ وقت ایسے ہی گزر گیا،جب یونی کے اندار سے اپنی آخری کلاسز لے کر دوسرے اسٹوڈنٹس بھی نکل آئے تو روبوٹک آواز پھر گونجی۔
”کیپ کام….اسٹے اسٹل….ایکشن آن۔“
کوئی گھوم گیا،کسی نے سر گھما لیا،کسی نے پیر کسی نے ہاتھ اور کوئی جھک گیا اور وہ نئے روبوٹک شکل میں ڈھل گئے۔جیسے روبوٹ رک رک کر بھاگ رہے ہوں….اور پھر اگلے ایکشن میں انہوں نے ایک ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ لیے اور چوکور خانوں کی شکل اختیار کرگئے اور ان چکور خانوں میں جونیئرز آگئے۔عالیان اور امرحہ آمنے سامنے کے خانوں میں تھے۔
”ہائے عالیان میں یہاں ہوں۔“امرحہ نے خوشی سے اسے آواز دی۔
غیراردی طور پرعالیان نے فوراً گردن موڑ کر دیکھا،وہ اپنے موبائل سے ویڈیو بنا رہا تھا۔
”میں تمہارے لیے کچھ لائی ہوں۔“اس نے ہاتھ میں پکڑے اسکیچ کو لہرا کر کہا ۔عالیان نے واپس ایسے گردن موڑی ،جیسے کچھ دیکھا ہی نہیں۔
ایکشن آن کی ایک زور دار گونج اورپیروں کی دھمک چوکور خانے تکون کی شکل اختیار کر چکے تھے۔دور،دور تک ایک دوسرے سے جڑا تکونی جال بنا نظر آنے لگا۔کئی سو اسٹوڈنٹس اب کئی ہزار ہو چکے تھے۔وہ آہستہ آہستہ اس میں شامل ہوتے جارہے تھے۔یونی کے کونوں کھدروں سے نکل کر انہوں نے یقیناً اس کی مشق کی تھی۔کارل دور سے بھاگتا ہوا آیا اور درمیان میں کود گیا ۔ایسا ہی ان دوسرے اسٹوڈنٹس نے کیا جو اس تکونی جال سے باہر کھڑے تھے۔انہیں تو انتظار تھااس لمحے کا…..
”زیرو ون ٹو….ون ٹو….اسٹے فوکس…“
اس بار وہ گھومے ہاتھ چھوڑے،پھر ہاتھ پکڑے….اب وہ دائروں کی شکل اختیار کر چکے تھے۔لاتعداد دائروں کی….. ایک ساتھ جڑے دائروں کی……“
”اسٹے فوکس …..کیپ کام…..اٹس ٹربیوٹ ٹائم۔“
آوازیں اور….اور بلند ہو گئیں۔ہاتھ چھوڑے،گھومے پھر پکڑ لئے…..پہلے سے بڑے دائرے بن گئے تھے۔
عالیان امرحہ ایک دائرے میں آچکے تھے اور کارل سامنے والے میں۔
”اٹس ٹربیوٹ ٹائم۔“آوازیں پیروں کی دھمک کے ساتھ گونج رہی تھیں اور پھر انہوں نے ان کے گرد گول گول گومنا شروع کر دیا ۔فوجی مارچ کرنےکے انداز میں…..کئی پروفیسرز بھی آچکے تھے اور ڈین کو بھی آنا پڑا۔سینئرز کی آوازوں کے علاوہ ہر کوئی خاموش رہنا چاہتا تھا۔وہ کئی ہزار تھے اور جس انداز سے وہ یہ سب کر رہے تھے وہ قابل تحسین تھا۔ان کی ریہرسل کی اڑتی اڑتی خبریں ان تک پہنچی تھیں۔
we are champion
ان کے گرد گول گول مارچ کرتے انہوں نے اپنی آواز کو ایک ساتھ ملا کر گانا شروع کیا۔انہوں نے کامیاب ریہرسل کی تھی۔ان کی آواز کورس میں تھی۔وہ گا رہے ہیں……وہ جو یونی سے جا رہے ہیں……ٹو ون،زیرو ایکشن ریلوڈڈ…..اسٹے اسٹل گول دائروں میں گھومتے وہ رک گئے۔ان کا رک جانے کا عمل قابل داد تھا ۔ایکشن ری لوڈڈ…..ایکشن آن..“
دائروں سے باہر نکلے کھڑےسنئرز نے دائروں کے درمیان آکر بڑے بڑے غبارے چھوڑے اور جیسےہی وہ تھوڑا اوپراُٹھے انہیں فائر کر کے پھوڑ دیا گیا…..
وہ اور بلند آواز سے گانے لگے ۔ساتھ تالیاں بجانے لگے اور داستان گو نے اپنا پین اور ڈائری بیگ میں رکھ کر شمولیت اختیار کی اور آواز کے ساتھ آواز ملائی۔
غبارے جو فضا میں پھوٹے تھے ان سے نکلی افشاں بکھرنے لگی۔سنہری،سرخ،سبز ،پیلی ہر رنگ کی …..ان کے بالوں اور سروں پر….ان کے ہاتھوں اور چہروں پر……
امرحہ نے ہاتھ میں پکڑا اسکیچ کھول کر پھیلا لیا۔افشاں اس پر گرنے لگی ۔اس نے اسے افشاں سے بھیگ جانے دیا ،خود کو بھی۔
ہر چہرہ سج گیا ،رنگ گیا…..کاش تالیوں کی گونج،قدموں کی دھمک اورگانے کے بول کبھی ختم نہ ہوں۔کاش فضا میں بکھری افشاں کبھی سمیٹی نہ جائے اور کاش کوئی جادوگر کمال کر دیکھائے ،وہ وقت کو ٹھہرا جائے۔
مانچسٹر یونیورسٹی کو یہ یاد رکھنا پڑے گا….. جاتے ہوئے سنئرز نےاسے کیسا خراج پیش کیا تھا۔
رہ جانے والوں کی آنکھوں میں نمی آنے میں وقت نہ لگا ۔دائروں میں موجود اسٹوڈنٹس نے اسے عزاز سمجھا ۔ان کے لیے جو گانا گایاانہیں وہ ترانہ لگا۔ اور امرحہ کو یہ ٹربیوٹ اس لیے بھی زیادہ اچھا لگا کہ اس نے ایک ہی دائرے میں خود کو اور عالیان کو کھڑے پایا ….کاش ایسے دائرے روز بنیں…..اور پھر کبھی نہ ٹوٹ سکیں۔
سینئرز نے ایک پارٹی کا اہتمام کیا تھا جو ایک اسٹوڈنٹ کے گھر کے لان میں ہو رہی تھی ۔امرحہ آچکی تھی ۔ویرا نے کہا تھا وہ دیر سے آئی گی ۔البتہ کارل وہاں پہلے سے موجود تھا ۔عالیان بھی کہیں نظر نہیں آرہا تھا ۔پارٹی میں سب نارمل تھا ۔بس تین چیزیں ذرا سی ابنارمل تھیں۔”روئی سے بنی شرٹس “
جنہیں تین اسٹوڈنٹس نے پہن رکھا تھا۔مختلف نظر آنے کے لیے یا ایونٹ کو یادگار بنانے کے لیے روئی کے گول گول گیندوں کو سی کر شرٹ کی صورت دی گئی تھی۔بقول ان کے اپنی طرز کا مختلف پہناوا۔
”بھالو ہی لگ رہے ہیں۔“امرحہ اس طرف دیکھنے اس اجتناب کر رہی تھی کہ پھر اس کی ہنسی نہیں رکنی تھی ۔ایک لڑکی آئی اس کے پاس اسے اپنی لیپ اسٹک پکڑائی ”اسے تھوڑی دیر کے لیے پکڑومیں ابھی آئی اپنا پاوچ کہیں رکھ کر بھوک گئی ہوں۔“
امرحہ نے لیپ اسٹک پکڑی اور جیسے ہی لڑکی گئی اسے کھول کر دیکھا کہ اس کا شیڈ کیسا ہے ،لیکن شیڈ کے بجائے آگ کا شعلہ نکلا۔وہ ٹھیک اسی دوران اس ست زرا دور شور اُٹھا،اسے آگ کے شعلے نظر آئے ساتھ چلانے کی آوازیں۔میزوں پر سجے مشروبات ان پر اچھالے گئے،ان پر جنہوں نے روئی سے بنی شرٹس پہن رکھی تھیں اور جن کی شرٹس میں آگ بھڑک اُٹھی تھی۔تینوں بری طرح سے اچھل رہے تھے،اچھا خاصا ہنگامہ ہو گیا تھا پارٹی میں۔
”آگ بجھا دی گئی لیکن یہ آگ ان کے شرٹس میں لگائی کس نے ؟“
”اس نے۔“کارل نے امرحہ کی طرف اشارہ کیا۔
ہر وقت مزاق کا وقت نہیں ہوتا کارل۔۔امرحہ نے بہت سخت انداز میں کہا ۔ماحول بہت سنجیدہ ہو چکا تھا ان تینوں کو فرسٹ ایڈ کے لئے اندر لے جایا گیا ۔ساری پارٹی کا ماحول بدل چکا تھا اس وقت کارل کا یہ مزاق
یعنی تم نے مذاق میں نہیں سنجیدگی سے یہ حرکت کی
امرحہ کی سنجیدگی سب نے دیکھ لی کارل نے سب سے پوچھا ۔۔۔جھوٹ بول رہا ہے مجھے کیا ضرورت تھی یہ سب کرنے کی امرحہ نے دیکھا سینرز کا موڈ ایک دم بدل گئے ۔
میں نے خود دیکھا اسے آگ لگاتے اس کے ہاتھ میں لائٹر بھی ہے کارل مذاق کے موڈ میں قعتاً نہیں تھا ۔یہ حرکت صرف تم کر سکتے ہو امرحہ بھی مذاق میں نہیں تھی
لیکن اس بار تم نے کی امرحہ تم نے انتہائی گٹیا حرکت۔
ایسے کام میں نہیں تم کرتے ہو اور یہ لائٹر مجھے اس نے پکڑایا کہہ کر آس پاس نظریں دوڑائیں اس لڑکی کی تلاش میں مگر وہ وہاں کی نے ایک تھی ۔
کس نے کسرل نے پوچھا
وہ یہیں ہے اور وہ تم ہو ۔
اس لڑکی نے مگر اب وہ یہاں نہیں ہے
امرحہ نے چلا کر کہا کہ وہ تم ہو سب جانتے ہیں ایسی حرکت تم کرتے ہو
ہاں مگر اس بار تم نے کی مجھے پھسانے کے لیے انہیں جلایا ایسی جان لیوا حرکت میں نے کبھی نہیں کی ۔
تو تم مجھ پر کیسے الزام لگاسکتے ہو اس کی آواز میں تیزی تھی ۔یہاں اور لوگ بھی تو ہیں ۔
کیونکہ میں نے خود تمہیں دیکھا اور میرا دعوا ہے اور لوگوں نے بھی دیکھا ہو گا ۔جھوٹ غلط مجھے تو ہنسی بھی نہیں آ رہی ایسے گٹیا الزام پر ۔
شرمندگی تو ہونی چاہیے نا کارل اور سنجیدہ ہو گیا ۔
جس نے مجھے آگ لگاتے دیکھا وہ بتائے امرحہ نے سب کے چہروں کو دیکھا
جو ہوا جانے دیں مگر امرحہ تمہیں ایسے نہیں کرنا چاہئے تھا پارٹی ہوسٹ نے قدرِ تاسف سے کہا ۔
امرحہ حیران رہ گئی تم بھی مجھ پر شک کر رہے ہو کارل کی بات مان کر۔بات کارل کی نہیں ان لوگوں کی جان کی ہے مجھے اچھا نہیں لگا تم نے یہ کہا
جب میں نے کچھ کیا ہی نہیں تم دونوں ملے ہوئے ہو۔
میرا خیال ہے اب بات ختم کر دینی چاہئے
پارٹی شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گئی ۔
امرحہ سینئر لڑکی سارہ نے نے سر ہلا کر افسوس کہا
ان سب سے کتنی اچھی ہیلو ہائے تھی مگر پھر بھی وہ کسرل کی بات مان گئے ایک لائیٹر ہاتھ میں تھا اور کیا ثبوت تھا ان کے پاس۔۔امرحہ کی آنکھیں بھیگ گئی اور یہ بھی خیال آیا کے سب مل کر مذاق کر رہے ہیں مگر ان کی شرٹس پر آگ لگی تھی ماحول بتا، رہا تھا مذاق، نہیں وہ شک کر رہے ہیں ۔۔۔میں نے آگ نہیں لگائی میں پاگل ہوں جو ایسی حرکت کروں گی سب نے کارل کا یقین کیا یہ تو میرا دشمن ہے اور اسے بھی لگاتی اور مان بھی جاتی اگر یہ جل جاتامر جاتا۔اس کی آنکھیں چھلک جانے کے قریب تھی ۔میں نے بھی تمہیں آگ لگاتے دیکھا تھا امعحہ جیک نے پیشانی رگڑتے ہوئے کہا۔۔۔امرحہ نے جیک کو بے یقینی سے دیکھا کیا تم سب میرے ساتھ پرانک کر رہے ہو
پرانک تو تم کر رہی ہو جیک کے اس الفاظ پر اس کی آنکھیں چھلک پڑی اب کوئی فائدہ نہیں تھا ایسے ماحول میں رہنے کا میرا خیال ہے اب مجھے یہاں سے چلے جانا چاہیے اسے یقین تھا اب اسے کوئی نہیں روکے گا مگر جیک کی آواز آئی تم ایسے نہیں جا سکتی امرحہ
کیوں تم پولیس بلوانا چاہتے ہو ۔اس نے مڑ کر دیکھا
نہیں
تو کیا اور بےعزتی کرنی ہے میری۔
نہیں بس یہ بتانا تھا کے تماری روتی شکل دیکھے بنا کوئی بھی یہاں سے جانا نہیں چاہتا تھا جیک نے ایک طرف اشارہ کیا تینوں بھالو نیو شرٹس میں دانت نکال رہے تھے
کارل نے کہا ان کو میری مدد چاہیے تھی اور میں انکار نہیں کر سکا امرحہ یہ دیکھ رہی تھی ۔۔آخر بڑھاپے میں ہمارا کچھ تو اثاثہ ہونا چاہئے معاف کرنا اور ہمیں یقین ہے تم جانے والوں کو معاف کر دو گی۔وہ مرد جو اس کی رونے والی آنکھوں پر فدا ہوا تھا وہ اسے روتا نہیں دیکھ سکتا تھا یہ اسے اب معلوم ہوا تھا اس نے پہلے کیوں نہیں سوچا کہ ابتدا کہا سے ہوئی تھی
آخری لموں میں عالیان پارٹی میں آ چکا تھا اور اس نے محسوس کر لیا تھا وہ اس میں غلط نہیں ہو سکتی وہ اب بھی دھاڈیں مار کر رونے لگے گی کیا اسے اس کی شکل سے لگے گا کہ اب بھی وہ اسکے ساتھ رونے کو تیار ہے ۔
عالیان نے دیکھ لیا تھا اور فورا اپنی نظریں پھیر لی۔ کل رات ہی مارگریٹ کالفاظ اپنے زہین میں نقش کیے تھے ۔میں ہر رات اس سے نفرت کا عہد کر کے سوتی ہوں اور ہر صبع عہد توڈ کر اٹھتی ہوں ۔دنیا میں ہر بیماری کا علاج ہو گا محبت کا نہیں ۔بے شک محبت ایک بیماری ہے جو ختم ہونے کا نام نہ لے اور ختم کر دے۔وہ خود کو ختم نہیں کرنا چاہتا تھا اور اس بے لگام رشتے کو ختم کر دینا چاہتا تھا
وہ باقاعدہ مارگریٹ کی ڈائیریاں پڑھنے لگ گیا تھا ۔جس درد کے احساس کو پڑھتا تھا پہلے خود پر کندہ کر لیتا جن الفاظ کو روکے جانے سے کشید کیا گیا تھا یہ عام الفاظ نہیں تھے ۔یہ وہ الفاظ تھے جنہیں لیے کوئی مر چکا تھا عا لیان مارگریٹ کو اب یہ ڈائریاں پڑتے رہنا تھا۔
#امرحہ_کی_ڈائری_کا_ایک_صفحہ
وہ سب چلے گئے اس وقت کو بھی ساتھ لے گئے دنیا کے کونوں میں بکھرنے اور پھر کبھی نہ ملنے کے لئے جیت کا جشن منانے اور شورکرنے والے اب اس کو بچپنا سمجھے گے
کسی اداس شام کسی سڑک کے کنارے چلتے دریا کے کنارے کسی کیفے میں یونیوسٹی پر مبنی فلم دیکھ کر اداسی میں ہوا کریں گے ۔اس پارٹی میں سب نے ایک ایک منٹ کی تقریر سب سے پہلے ویرا نے الوداعی روسی گانا گایا میں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لی اور دور جا کر بیٹھ گئی اس کے لئے جو دل میں ناپسندیدگی چھپا رکھی تھی اب وہ باہر بھی آنے لگی تھی مجھے کوئی افسوس نہیں ہو رہا تھا
کارل نے تقدیر میں کہا کہ اسے افسوس رہے گا کے ان میں سے چند ایک کو الو نہیں بنا سکا کیونکہ باقی الوؤں نے وقت لے لیا تھا ۔عالیان نے بہت کچھ کہا اور میرا دل کے وہ بس بولتا ہی رہے ۔اس نے کہا میں تم سب کو تمہاری عادتوں سمیت یاد رکھوں گا ۔بھلا میں کیسے بھول سکتا ہوں تم سب نے اپنی اپنی برتھ ڈے پارٹی پر ایک ایک پونڈ کے کیک سے ساٹھ ستر اسٹوڈنٹس کے پیٹ بھرے تھے ۔پھر اترا اترا کر اسے گرینڈ پارٹی کا نام دیا تھا ۔تم میں سے اکثر جب بھی کسی نے مجھے ٹوئیٹ دی میرے ہی ساتھ بیٹھ کر ساتھ ساتھ کھا لی آدھی اور جب بھی واپس لی پوری لی
اپنے خالی والیٹ دیکھا دیکھا کر مجھے ترس دلوایا
اور جب کبھی میں نے اپنا والٹ تمہارے اگے کیا تم نے منہ بنا وہ بھی دی ہک جتنا بڑا سبز۔
عالیان کے بعد میں کھڑی ہوئی تقریر کے لئے اس کے ساتھ اور اس کے بعد میرا نام ہی آنا چاہیے نا میں نے کہا ۔
مجھے اگر سمیٹ لینے کا ہنر ہوتا تو میں تم سب کو چھوٹے چھوٹے بونے بنا کر ایک میں ڈال کر ساتھ رکھ لیتی۔
کئ نہ جانے دیتی میری اس بات پر سب نے زور دار تالیاں بجائی۔اور سائی پورے دو منٹ تک کھڑا روتا رہا اسکی جگہ کارل نے تقریر کی ۔۔میں نے ایک کتاب لکھ لی ہے جس میں سب کے راز عیاں ہو گئے جاتے جاتے سب ہزار ہزار پونڈ میرے پاس جمع کروا جانا اور کتاب میں سے اپنا نام اور راز کٹواتے جانا ورنہ جند سالوں بعد اخبارات کی سرخیاں بننےکے لئے تیار ہو جاؤ ۔شکریہ سائی ان بھس کارل
میں نے عالیان کو اسکیچ نہیں دیا تھا ایگزمیز کی تیاری کے دوران کئ بار جا کر پلٹ آئی کے کئ اپ سٹ نہ ہو جائے اور اس کا رزلٹ خراب نہ ہو جائے کیونکہ ہرحال میں اتنا تو جان گئ تھی کہ میں اس کے لئے وبال بن گئی ہوں۔امتحانات کے بعد کھیلوں کے مقابلے ہوئے تھے ۔
کشتی رانی کے مقابلے میں عالیان اور کارل کی کشتی الٹ گئی اس وقت کنارے پر کھڑے میں نے خود کو پانی میں ڈبویا تھا اور اس حالت میں مجھ پر بہت سے انکشاف ہوئے ۔۔
سب اسٹوڈنٹس کتابیں کپڑے دوسری چیزیں سالوں کے لئے خرید رکھا تھا اب ساتھ نہیں لے جا سکتے تھے اس سامان کو ہم نے نیلام کر دیا ۔۔اوک ہاوس میں اگٹھا کیے جانے والا ساز وسامان سے ایک ڈائری ملی۔جس پر سائی کو دے دی جائے لکھا تھا ۔سائی کو دینے سے پہلے اس کے پیج ورق گردانی کرنے سے خود کو روک نہیں پائی ڈائری لکھنے والا بہت حساس طبیعت کا تھا اس نے خزاں میں گرنے والے پتوں پر بھی آنسو بہائے ڈائری کے آخر پر میں نے خود کا نام دیکھا اس کے اگے صرف اتنا لکھا تھا ۔
میں نے اسے روتے دیکھا وہ بار بار اپنی آنکھیں مسل رہی تھی مانچسٹر سے دور دنیا کے کسی کونے میں ریتے ہوئے یہ ضرور سوچوں گا ۔کیا وہ دونوں ایک ہو گئے
ان ستروں نے میرے اندر سناٹا بھر دیا اور پھر میرے وجود نے سب سے چھپ کر عالیان عالیان کا ورد کیا
میری آنکھوں میں بہت خوبصورت مناظر قید ہیں ۔
جب عالیان کے بکھرے بالوں پر پلکوں پر افشاں گرنے لگی
وہ اچھل رہا تھا ان کے ساتھ گا رہا تھا میں نے اس پل کا جامد کر لیا اور اس کے قریب ہو کر اس کی پلکوں کو پھونک مار کر افشاں کو ہتھیلی میں قید کر لیا ۔میری مٹھی کھول کر افشاں کسی کی ہمت نہیں چرا سکے۔وہ ویڈیو بنانے میں مصروف تھا میں آنکھوں میں منظر سمٹ رہی تھی ہمجھے کچھ خبر نہیں تھی میرے اگے پیچھے کیا ہو رہا ہے ۔مجھے اس سے مطلب بھی نہیں تھا ۔میں اسے چند بار سائیکل سے گرا چکی ہوں میرا خیال ہے وہ اتفاق تھا
لیکن دیکھنے والوں کا کہنا ہے یہ اتفاق نہیں ہے میں اس پر میں اب وضاحت نہیں دوں گی وضاحتوں سے دور رہنا، چاہتی ہوں میری کلاس فیلو کا کہنا ہے سوچیں ادھا حسن کھا جاتی انسان مکمل ہوا ہی کب ہے
ہر رات پیغامات لکھ کر رکھنا اپنا معمول بنا لیا تھا ۔
میں جانتی ہوں اپنی زات کا حساب کتاب دوسروں سے لینے پر ہمیشہ غلط ثابت ہوتے ہیں اور خود ہمیں حساب کتاب کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی میں نے اب اجازت لیے بغیر اپنی زات کے سارے سوال نکال لیے ہیں اور جوابات میں عالیان کو نکلتے پایا ہے
گوشوارہ امرحہ بنام عالیان
ڈائری کے آخری صفات تک آتے آتے میں نے سوچنا کم کر دیاکیونکہ میں نے ایسا کرنا شروع کیا تو میری مھٹی کھل جائے گی اور میری افشاں اڑ جائے گی ۔۔۔

Read More:  Shamsheer Be Niyam By Inayatullah Altamash – Episode 14

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: