Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 39

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 39

عالیان کی ڈائری کا صفحہ
میرے بہت سے یونی فیلوز جا چکے تھے اور ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ میں سہم گیا ہوں ۔۔میرا مانچسٹر میری ماما میری دنیا ہیں مگر ایک بار پھر میں خود کو خالی محسوس کر رہا تھا کیا یہ سب کے جانے سے ہوا ہے ۔
میں نے خود کو فصول کام کرتے بھی پایا. سڑک پر چلتے سب کے چہروں میں جانے کیا ڈھونڈا چلتے انداز جوتوں کی بناوٹ پرغور کیا۔
کبھی کبھی لگتا میں بے مقصد زندگی گزار دوں گا۔اور عملی طور پر کچھ نہیں کر سکوں گا ۔مجھے خود کو پر جوش کے لیے ماما مہر کو یاد کرنا پرتا ہے ۔اور ماما مارگریٹ کو خیال آتے ہی میں کسی تکلیف کی کیفیت میں آ جاتا ہوں ۔مسکرانا آسان تھا مگر خوش رہنا مشکل ۔وہ ساری چھوٹی چھوٹی کہانیاں سنا کرتا تھا ان سب سے نفرت کیوں ہو گئی تھی ۔
اور میں نے جو خود کو ماما کے خطوط اور ڈائریوں سے دور رکھا۔اب ان کو ہر وقت پڑھنے پر کیوں مائل رہتا ہوں ۔
میں ماما کی ڈائریوں سے سبق لے رہا ہوں مجھے وہ نہیں بننا جو ماما بن گئی تھی ۔اسے کمزوری تھی میں بھی کمزور ہوں۔۔لیکن کسی کو ہمت دکھانی ہی پڑھے گی۔
میں خود کو مجبور بھی پاتا ہوں اور پابند بھی ۔میں دو حصوں میں بٹا ہوا ہوں مگر مجھے پر سکون زندگی گزارنی ہے مجھے دوحصوں کو ایک کرنا ہو گا مجھے ویرا کو ہاں کر دینی چاہیئے ۔روس دیکھنے کے لئے اس کا روس اچھا ہی ہو گا ۔اس کی طرح اب مجھے زندگی زیادہ خوشی سے جینی ہو گی۔تا کے بے خودی مجھے ہرا نہ دے ۔
**********
امتحانات کے بعد میں روس جانا چاہتی تھی مجھے پاپا سے ملنا تھا ۔برف پر پھسلنا تھا میں ساری تیاری کر کے بھی نہیں گئ۔میں بھی کیوں نہیں گئی عالیان ہاں کر دیتا تو اب تک ہم روس بیٹھے ہوتے ۔اس نے کہا ابھی وہ روس دیکھنا نہیں چاہتا تو میں نے کہا ٹھیک ہے میں نے بھی اپنا سامان کھول دیا۔مجھے اپنے اس پاس کے لوگوں سے محبت کرنی آتی ہے ۔اسی لئے میں اس وقت عالیان کا بہت خیال رکھ رہی ہوں ساری دنیا سے زیادہ اسے ضرورت ہے ۔اس وقت
*********************
امرحہ نے جو ڈائری مجھے دی اسے پڑھ کر میں کئ ٍراتیں سو نہیں سکا۔وہ اایسے اسٹوڈنٹ کی تھی جو احساسات سے بھری پڑی تھی ۔جو بہت دن فیصلہ کرنے میں ناکام رہا کے اس کی دوست ہے یا اس سے محبت ہو گئی ہے لڑکی اس کے گاؤں میں ان کے گھر کے سامنے رہتی تھی ۔ایک رات اسے اس لڑکی کی موت کی خبر موصول ہوئی تھی لڑکی کر. دماغ کی نس پھٹ گئی تھی اس کے لئے اسے فیصلہ کرنا آ آسان تھا ہم دائمی جدائی سے طے ہاتے ہیں تو احساس اور میں بہت لوگوں کو یہ حساس دلا نے کی کو شش کرتا ہوں ۔کے ٹھیک ٹھیک وہ یہ تحریر سمجھ سکیں ۔۔۔
کن مراحل سے گزر کے۔
کچھ کا خیال تھا اسامی سب بتا سکتے ہیں یہ بھی اکسفوروڑ سے کہاں کہاں لے جاتے ہیں یہ بھی کے برگر کتنے کا ہے کافی کتنے کی ۔ایک نے یہ بھی پوچھ لیا کے اس کا دوست ڈمی کہاں ہے ۔ان دنوں یونی مشہور تھا کہ کس کی ڈرسنگ کر کے مشہور ہو جائے گی
ایک سال پہلے عالیان نے اس کے ساتھ بالکل ٹھیک کیا تھا ۔
کیونکہ ہر ایک کی برداشت ایک حد تک ختم ہوتی ہے جس جس مقام سے یہ گزرا اس اس مقام سے وہ گزرے گی تو جان پائے گی ۔
جیسمین تماری گردن پر کیا ہے وہ چلائی کیا ہے؟؟؟؟؟
گردن تو نیلی پڑ گئی لگتا ہے زریلا کیڑا ہے اف یہ تو اتر ہی نہیں رہا لگتا ہے اس نے ڈنگ اندر ڈالا ہے زہر تماری گردن میں پھیل رہا ہے یہ سن کر جیسمین نے زور سے چلایا
ان کے تاثرات دیکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی امرحہ کی ہنسی نکل گئی ۔ان سب میں معاہدہ ہوا تھا کارل کے بارے میں کوئی اپنی زبان نہیں کھولے گا ۔
ڈرگ آیا اس کے پاس میری جگہ کھڑی ہو کیسا لگ رہا ہے
کاش میری بھی ناک لمبی ہوتی میں بھی اپنے احساسات جان پاتی۔
ہاہاہا جس طرح تم میرے ناک کو گور رہی تھی اسی رات میں نے ناک کی سرجری کا سوچ لیا تھا ۔
پھر سوچنا ترک کیوں کیا اس نے دانت نکالے
اسے چاکلیٹ ٹویئٹ دے کر گپ شپ لگا کر چلا گیا ۔ایک لڑکا پینٹ کوٹ پہنے کالا چشمہ پہنے ڈرم بجاتا یونی داخل ہوا ساتھ اور بھی تین لوگ اور فوٹو گرافر
امرحہ منہ کھولے دیکھ رہی تھی کیا وہ اتنا ہی خوبصورت ہے ہمیشہ سے اگر گارڈ اور فوٹو گرافر نہ بھی ہوتے تو بھی ہجوم کو روک لینے کا کمال رکھتا تھا اس کا فیورٹ سپر سٹار اس سے کچھ ہی فاصلے پر تھا ۔کیا یہ سچ ہے؟؟
سب گردن موڑ موڑ کر دیکھ رہے تھے فوٹوگرافر فوٹو کے لیے مرے جا رہے تھے ۔
مسٹر جین نے مانچسٹر یونی میں پڑھنے کا فاصلہ کیا ہے ۔میں اس بات کی تفتیش میں ہوں کے اس کے لاکھوں فینز کو یونی نظامہ روک پائیں گے ۔
مجھے خدشہ ہے وہ ایسا نہیں کر پائیں گے ۔
پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر گردن اٹھا کر یونی کو دیکھنے لگا۔ایسا کرتے اس نے گردن کو ایسا خم دیا امرحہ سانس لینا بھول گئی ۔سارے اپنا کام چھوڑ کر مسٹر جین کو دیکھ رہے تھے ضرور یہ کوئی سٹار ہے یا شاہی خاندان سے ہے ۔بہت لوگ پاگلوں کی طرح فوٹو ویڈیو بنانے لگے
تا کہ اپنے مقامی اخبارات میں دے سکیں ۔اسی دوران لڑکیوں کا ٹولا ان کا جانب لپکا گارذ نے لڑکیوں کو دور سے ہی روک لیا ۔۔
آنے دیں انہیں اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا
لڑکیوں نے بےہوش ہونے سے پہلے پہلے آٹوگراف کے لیے اگے ہاتھ بڑھائے۔اور برلڑکے لڑکیاں آنے لگے حلقہ توڑنے کی کوشش کی سب کو خوشی تھی کے کوئی سٹار ان کی یونی میں پڑھے گا ۔۔سب سے بڑی بات کے مسٹر جین نے اتنی کامیابیوں کے بعد بھی پڑھنے کا فاصلہ کیا
اس کی آواز اتنی اونچی تھی آدھی یونی سن سکتی تھی آرام سے
وہ آیا اور آتے ہی چھا گیا ۔چند منٹ لگے فریشرز اس کے گرد
گھیرا بنا کر کھڑے ہو گئے اور جو ادھر اُدھر تھے وہ بھی اسی کی طرف دیکھنے لگے کہ کون آیا ہے سب کے موبائلوں والے ہاتھ بند تھے اور اس کے کھیرے کے اندر بورڈ بلند ہوا جس کے ایک طرف لکھا تھا
ویلکم فریشز دی ار یو سینٹرز تھینکس فادری اٹینشن
اور بورڈ کے دوسری طرف لکھا تھا
یو ار آسم فولز
نیے آنے والے لوگوں کی طرح بورڈ پڑھتے رہ گئے اور پھر ان بلند بانگ قہقہوں کو سننے لگے
جب عالیان سے آٹوگراف لے رہے تھے وہ بھی فوراً اس کے پاس آ گئی اور ایک سادہ پیپر اگے کر دیا اس پر اپنا نام لکھ دوامرحہ نے اس کے سامنے آ کر بہت خوش ہو کر کہا
وہ اس انسان کے سامنے تھی جو پوری یونی کا مرکز بنا ہوا تھا
عالیان نے ایسے ہی کاغذ پر لکیریں کھینچ دی
مجھے تمھارا نام چاہئے لکیریں نہیں اس نے اردو میں کہا
نا چار اس نے نام لکھ دیا تو وہ کارڈ بنے کارل کو دھکا دے کر حلقے سے باہر آ گئی ۔
رپورٹنگ کرتی ویرا کے پاس سے گزری اور خود کو ہجوم سے دور لے گئی اس کا خیال تھا وہ ایک مرکعہ سر کر آئی ہے اس کا نام لکھوا لائی ہے اس سے پہلے اس نے بے نیازی سے اپنے فینز، کو دیکھا تو امرحہ دنگ رہ گئی ۔اس میں کتنی ادائیں ہیں ختم ہوتی نہیں گنتی میں
جب وہ اس کا نام لکھوا کر لے گی تو عالیان کو لگا وہ اس کا مزاق اڑاوائے. گی۔
اور اب اسے شدت سے لگنے لگا تھا وہ اس کا کھلونا ہے
دل چاہا کھیل لیا ورنہ توڑ پھوڑ کے پھینک دیا
اس نے نیے آنے والوں کو الو بنایا وہ سب ہنس رہے تھے یہ عالیان کا ظاہر تھا لیکن اندر سے وہ خاموش تھا اور سوچ رہا تھا ایک مزاق تو اس کے ساتھ ہوا جو عملی تھا اور اسے ہی بے عمل کر ڈالا۔
#امرحہ_کی_ڈائری_کا_صفحہ
میں نے اسے انکار کر دیا مجھے ایک مسلمان سے شادی کرنے میں دلچسپی نہیں تھی پھر میں نے ہر رات جاب سےواپسی
پر اس اپنے رستے میں کھڑا پایا۔ہر رات ہر صبع وہ مجھے دیکھتا رہتا اور میں اسکے پاس سے گزر جاتی اتنا مستقل مزاج کے میرے انکار پر بھی وہ میرے رستےپر کھڑا رہتا
میرے ساتھ بس میں سفر کرتا خریداری کے وقت پاس پاس رہتا پھر کتنے مہنوں بعد ایک دن اسے وہاں کھڑے نہیں پایا
تو میں نے اپنی انکھوں کی روشنی کم ہوتی محسوس کی
اسکے وہاں کھڑے نہ ہونے سے دنیا میں کچھ کیوں نہیں رہا
میں نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا خدا مجھے بتائے ایسا ہی ہے
میں گھر واپس آ گئی اور رات صدیوں پر میحط ہو گئی
پلکوں کی جنبش کے سوا میرے وجود نے حرکت نہیں کی۔
مجھے اس سے محبت تو نہیں ہو گئی تھی مگر وہ میرے لیے ضروری ہو گیا تھا اب اگر وہ مجھے صبع شام نظر نہیں آیا تو میری بینائی پر اثر ہو گا اب اگر اسکا سایہ میرے ساتھ نہیں رہ تومیرا سایہ بے وجود ہو جائے گا اس رات میں نے سوچا اسے ہاں کہنے میں مجھے تامل کیوں ہے
کیا میں مغرور ہوں یا بہت خوبصورت ہوں یا، اور فرق غالب ہے ۔۔
لیکن دو انسانوں کی پہلی شناخت انسان ہونا ہوتا ہے نا۔
یہ میری قابلیت تھی یا اس شخص کی قوت میں نے ایسا فلسفہ خود کو سیکھا دیا۔محبت دنیا کا سب سے بے اختیار جزبہ ہے اور یہی اس کی بڑی خوبی ہے
عالیان نے کئ با اسے اپنے رستوں میں دیکھا وہ ایسے ظاہر کرتا جیسے اس نے دیکھا ہی نہیں وہ جانتا تھا اس شخص اور امرحہ میں ایسی خامیاں اور خوبیاں ہیں پہلے جکڑ لینا پھر جھٹک دینا پہلے ہنسانا پھر رولانا اپنے ساتھ زندہ رکھنا پھر دور کر کے مردہ کر دینا یہ لوگ ایک جیسے ہوتے ہیں برباد کرنے والے لوگ سراب ہوتے ہیں ان کے پیچھے بھاگو تو پا کر دلدل بن جاتے ہیں اس میں دھنس کر دم توڈ دیا جائے یہی چاہتے ہیں
تو مارگریٹ اور اس کی زندگی میں آنے والا شخص اور آنے والی لڑکی ایک جیسے تھے
امرحہ پر ترس کھاؤ عالیان
سائی تمہیں ہر وقت اس کا وکیل بنے رہنے کا بہت شوق ہے
تم غلطی پر ہو وکیل میں تمارا ہوں خود کو دیکھو عالیان بڈی تم کسی کو دھوکہ دے رہے ہو ۔
دھوکے سے ہی تو نکل آیا ہوں
یہ سال وہ چلی جائے گی تو چلی جائے گی
جب چلی جائے گی تو اتنی آسانی سے کہہ سکو گے؟
بالکل
دیکھو وہ ایک مختلف ماحول سے آئی ہے
مارگریٹ کا شوہر بھی مختلف ماحول سے آیا تھا سب بے حس لوگ ایک ماحول سے آتے ہیں خود غرض
وہ بے حس نہیں ہے
ٹھیک ہے تو پھر میں ہوں بے حس
تمہیں اس پر اتنا غصہ ہے یاد رکھنا غصہ اپنوں پر ہی ہوتا ہے
اپنا وہ ہوتا ہے سائی جس کےلئے تمہارے دل میں احساس ہوتا ہے اور امرحہ۔۔ٹھیک ہے سنو امرحہ کیا ہے وہ جانتی تھی میں اس کے لئے کیا جزبات رکھتا ہوں بے وقوف نہیں تھی وہ پھر مجھ سے دور کیوں نہیں ہوئی؟
اس نے مجھے روک کر یہ کیوں نہیں کہا کے تم ایک غیر مسلم عورت کے بیٹے ہو تمہارے باپ کی خبر نہیں مجھے تم سے کوئی تعلق نہیں رکھنا اگر میری ماما نے میری تربیت نہ کی ہوتی اگر ایک مسلمان حثیت درس نہ لیا ہوتا تو جانتے ہو میرے ساتھ کیا ہوتا میں پاگل ہو جاتا مجھے بےوقوف بنا کر ایسا سلوک کیا گیا ہے میں اس پر بھڑکا نہیں چلایا نہیں اس بتایا نہیں کے وہ کتنی خود غرض ہے ۔میں یہ نہیں بھول سکتا کے وہ سب کچھ جانتے ہوئے میرے ساتھ رہی
جیسے میرا دل توڑنا اس کا مقصد تھا ۔کیا محبت اور دوستی میں فرق نظر نہیں آتا۔۔صاف نظر آتا ہے اگر دوستی ہی تھی تو دوستی کا لحاظ کر کے بے عزتی نہیں کرتی ویرا کے سامنے میری اور میری ماں کی کیسے بےعزتی کی
احترام وہ ہوتا ہے جو تہنائی میں بھی کیا جائے اور دل دماغ سوچوں میں بھی ۔سائی اگر میری ماں کے ساتھ محبت کرنے والا احترام کا رشتہ بھی رکھتا تو آج میری ماں زندہ ہوتی
امرحہ کو ایک کھلونا چاہئے تھا دوست یونیوسٹی کو سب سے موسٹ وانٹڈMost wanted
ایک اسٹوڈنٹ اس کے ساتھ ہے اس کے آس پاس رہتا ہے بس یہی حثیت تھی اس کے لیے میری وہ آج بھی میرے پاس آتی ہے کہ میں اس کا دوست بن جاؤں جب تک اسے ثبوت نہیں مل گیا اس نے مجھے لامذہب سمجھا مجھے لے کر وہ فام بھرتی رہی اور خانوں میں ٹک مارک کرتی رہی اتنی ہمت تو میری ماں نے بھی نہیں کی سائی میں کسی بلندی سے زمین بوس ہوا تھا تم سمجھ سکتے ہو کیونکہ تم نے گڈ سینڑ میں پرورش پائی ہے نہ ہی تمھاری ماں مارگریٹ رہی ہے ۔
سائی کو دکھ ہوا اسے آٹ آل نہیں ہونا چاہیے تھا اسے سن کر وہ کیسے سکون سے سو پایا کرے گا عالیان کی آنکھوں میں نمی تھی اور وہ رو دینے والا تھا
میں کئ حصوں میں بٹا ہوا ہوں مجھے خود کو سمیت لینے دو فیصلہ کر لینے دو
فیصلہ دماغ سے کرنے جا رہے ہو سائی نے پوچھا
نہیں تجربات سے اپنی ماں کے
تو تم اس سے محبت کرنا چھوڑ چکے ہو یہ سوال کرتے سائی کا دل بھر آیا۔
میں اس بارے میں سوچنا چھوڑ چکا ہوں ۔
تم اپنی زندگی اور ماں کی زندگی کا موازنہ کر کے غلط کر
رہے ہو ۔
جب ٹھیک کر رہا تھا تب بھی غلط ہوا تھا
تمہارے لیے دعا گو ہوں کاش میں تمہیں ایک ڈائری دے سکتا جو میرے لیے اوک ہاوس ایک اسٹوڈنٹ چھوڑ گیا تھا
اس نے ایک جگہ لکھا کے اب وہ اس چیز کی قدر جان گیا جو اسکے پاس نہیں رہی۔
میرے ہاتھ بھی خالی ہیں کچھ نہیں ہے ان میں
اس نے لکھا کہ زندگی کی حقیقت میرے سامنے کھل چکی ہے اور یہ کام امرحہ نے کیا
اور اس نے یہ بھی لکھا
میں نے اپنے جزبات کو سلاتارہا اسے نہیں بتایا اب وہ سو چکی اور میں خود کو بتاتا پھرتا ہوں
میں اسے بتا چکا، تھا سائی بتا چکا تھا عالیان چلا اٹھا
اور آخری بات اس ڈائری میں یہ
اور میں نے جان لیا محبت واقع ہونے سے زیادہ قیام پر قائم رہنا ضروری ہے
سائی عالیان نے اسے شیٹ کے کالر سے پکڑا کیا تم سسکتی مارگریٹ کو بھی یہ مشورہ دیتے مارگریٹ کی ڈائریاں بھی لے جاؤ پھر مشورہ دینا میں دیکھوں گا تم کتنے انسان دوست ثابت ہو سکتے ہو سائی میں دیکھوں گا۔
سائی بالکل چپ ہو گیا اس کے جسم میں سنسناہٹ ہونے لگی ۔
_______________________
موسم پھر سے سرد ہونے لگا تھا اتنا گرم تھا ہی کب کے سرد ہونے میں وقت لگتا ۔چلتے چلتے بارش ہونے لگتی ہے اس پھر چلتے ہی رک بھی جاتی ہے فریشز کے بارے میں آئے دن کچھ نا کچھ سنانے کو ملتا. کاش وہ ان میں سے ہی ہوتی وہ سب نہ ہوتا جو ہو چکا وہ عالیان سے ملتی اور اس بار زیادہ سمجھ داری کا ثبوت دیتی اور پھر اسے سڑک پر اکیلے نہ چلنا پڑتا موسم کے بدلنے پر اسے اداسی نہ ہوتی
کسی نے فرصت نکال کر اسے بدعا دی تھی کہ وہ اس حال
آچکی تھی۔عالیان اس کے ساتھ زیادہ سختی سے پیش آنے لگا تھا۔ اس میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی تھیں۔ ہر دن وہ پہلے سے زیادہ سخت اور بدلا ہوا لگتا تھا۔
“زندگی کی بدترین صورت جانتے ہو کون سی ہوتی ہے سائ! دو پیاروں میں سے ایک کو چننا۔۔”
“اور دو میں سے ایک کو چھوڑ دینا۔۔”
“ہاں اور اس سے بھی بدترین صورت وہ ہوجاتی ہے جس میں جسےچنا ہو اس کے ساتھ خوش نہ رہ پانا۔۔”
“اپنے بارے میں سوچ سوچ کر تھک چکی ہوں سائ،کیا شخصیت ہر میری،ساری زندگی روتی رہی،اتنی ہمت نہ کر سکی کہ اپنے ماحول کے خلاف ڈٹ جاتی۔۔ اسے بدل دیتی۔۔ احساس کمتری کا شکار رہی۔ میرے ماضی میں کچھ بھی قابل ذکر نہیں،میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میری زندگی کا مقصد کیا ہے۔میں کسی کو خوش رکھ سکی نہ خود کو،میری ایک دوست کہتی ہے کہ دوسروں سے پہلے اپنا بننا ضروری ہے۔میں کبھی اپنی نہیں بنی،بس ہر وقت بےچارے بنے رہنا،کیا ہوں میں، کمزور ہوں، جھوٹی، خودغرض، بےحس۔۔کیا ہے میرے ہاتھ میں ۔۔؟”
“تمھارے ہوتھ میں یہ سوچ ہے کہ تم کیا ہو۔۔ جب انسان خود سے سولات پوچھنے لگتا ہے تو وہ خود کو بلندی کی طرف لے جارہا ہوتا ہے۔”
کیسی بلندی سائ۔۔ میں نے عالیان کے ساتھ کیا کیا۔۔ ویرا کے سامنے میرے معاشرے کی بےعزتی نہ ہوجاۓ۔میں نے عالیان کی کھل کر بےعزتی کردی الفاظ تو وہی ہوتے ہیں نا جن پر احترام کی لگامیں ہوں، ورنہ تو سب ہتک ہے۔ انداز۔۔ آواز سب۔۔ اگر میں عالیان کی جگہ ہوتی تو ساری عمر امرحہ کی شکل نہ دیکھتی۔ میں اس جگہ کو ہی چھوڑ دیتی جہاں امرحہ ہوتی، میرے خاندان میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن سے میں سالوں نہیں ملی، بات نہيں کی، سلام نہیں کیا، انہیں دیکھ کر منہ پھیر لیا۔۔ یہ سب لوگ وہ ہیں جنھوں نے میرا دل دُکھایا تھا،میری تزلیل کی تھی، میری انتہا پسندی دیکھو کہ کالج کی میریی دوست جو میرے بارے میں سب جانتی تھی ،ایک دن میرے ساتھ چلتے چلتے گر گئ اور مزاقاً کہنے لگیـ”تمھارے ساتھ چل رہی تھی گرنا تو تھا۔”اور پھر اس کے لاکھ منانے پر بھی میں نے اس سے کبھی بات نہیں کی۔ اس کے فادر کی ڈیتھ ہوگئ۔ میں نے اس سے صرف افسوس کیا جبکہ اسے میری اس سے زیادہ ضرورت تھی۔
“مجھے بس یہ یاد رہتا ہے کہ مجھے تکلیف ہوئ۔۔ میں۔۔ میں۔۔ بس عالیان کے کھردرے سخت رویۓ سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ اور میں اس تکلیف کو لے کر بیٹھ جاتی ہوں۔ مجھے اپنی کتنی فکر رہتی ہے۔ میرا اور عالیان کا کوئ مقابلہ نہیں، جانتے ہوں، سادھنا کو آریان کے لہے سب سے زیادہ پیسے جمع کرکے وہ دیتا ہے، سادھنا سے زیادہ اسے یاد رہتا ہے کہ آریان کی سرجری کب ہونا ہے۔ وہ بھڑکتا نہیں ہے چلاتا نہیں ہے۔ وہ کتنا ذہین ہے جتاتا نہیں ہے، اس کے خیالات کس قدر عظیم ہیں۔ وہ سکھاتا ہے۔ اتراتا نہیں ہے۔”
“یہ سب تمھیں اب معلوم ہواہے امرحہ؟” سائ اتنا فسردہ ہوگیا کہ امرحہ جان ہی نہیں سکتی تھی۔
“معلوم تو تھا، قدر نہیں تھی سائ! کہانا مجھے افسوس ہے خود پر مجھ میں کچھ قابل ذکر نہیں ہے۔ مجھے ویرا اچھی نہیں لگتی، مجھے اس کی ضرورت پڑتی ہے تو میں اس سے کام نکلوالیتی ہوں، اس سے مسکرا کر بات کر لیتی ہوں اور منہ پھیر کر ناپسنديدگی سے اس کے بارے میں سوچتی ہوں۔ اسے معلوم ہو کہ میں اس کے بارے میں کیسے سوچتی ہو تو اسے بھی دکھ ہو۔۔ وہ مجھ سے ایک ہی سوال پوچھے۔”میں نے تمھارے ساتھ ایساکیا بُرا کیا ہے؟”
میں سب کے ساتھ بُرا کرتی ہوں اور بیچاری بھی خود ہی بن جاتی ہوں۔ یہ منافقت اور سنگدلی ہے۔”
“تم ایک مشکل وقت سے گزر رہی ہو۔۔ لیکن امرحہ ! انسان جب اپنا احتساب کرتا ہے تو وہ وقت بہت خاص ہوتا ہے۔”
Pg#254
“تم پاکستان کیوں نہیں جاتی اپنے گھر والوں سے ملو، انہیں نئے ماحول کی اچھی اچھی باتیں بتاؤ، لوگوں سے جب تک ملا نہ جاۓ وہ برے اور عجیب ہی لگتے ہیں۔۔ تم ذہنی طور پر اچھا محسوس کروگی۔”
“کیا واقعی۔؟”
ہاں، یونی میں ایک لڑکی جب جب میرے قریب سے گزرتی، اسے دیکھ کر مجھے لگتا کہ یہ مجھے پسند نہیں کرتی۔ ایک لمبا عرصہ ایسے ہی چلتا رہا، پھر ایک دن ایک اسٹوڈینٹ نے مجھے اس کی طرف سے ایک رقعہ دیا جس پر لکہا تھا۔” تم مجھے پسند نہیں کرتے۔۔ پر کیوں۔۔؟”
“فاصلے ابہام پیدا کرتے ہیں اور ابہام شیطان کا پہلا ہتھیار ہے کیوں کے یہ ہر مثبت جزبے اور سوچ پر حملہ آور ہو کر اسے چت کر ڈالتا ہے۔”
“تم ٹھیک کھ رہے ہو سائ! لیکن عالیان کیوں اس ابہام کے زیرِاثر آرہا ہے۔”
“تم جانتی ہو امرحہ! میں کسی کی بتائ کوئ بات نہیں کر سکتا۔۔”
“ٹھیک ہے لیکن مجھے کوئ مشورہ دو۔۔”
سائ اسے دیکھ کر رہ گیا وہ اسے ایسا کیا مشورہ دےسکتا تھا جو سب ٹھیک کرسکتا۔۔ اس کے پاس بلاشبہ ایسے لفظ تھے نہ جادو۔۔
“بہت دیر نہیں ہونی چاہیے کہ انتیظار پر فرمان غالب آجاۓ۔۔ اور فراق کو رخصت ہونے کی اجازت نہ ملے۔”
سائ ہولے سے بڑبڑایا اتنا کہ امرحہ نے سن لیا۔ اسے یاد آرہا تھا یہ جملہ اس نے کہیں پڑھا تھا۔ کہاں۔۔ ہاں اوک ہاوس سے ملنے والی ڈائری میں۔۔ اس جملے کو استعمال میں لاۓ جانا امرحہ کو نحس لگا۔
——————–
ویرا اسے کافی کے لیے کیفے لے آئ تھی۔ وہ ہر بار اسے انکار نہیں کرسکتا تھا کیونک اسے احساس تھا کہ انکار کتنا بھی ٹھیک ہو تکلیف دہ ہوتا ہے۔
کافی پینے کے بعد انہوں نے پُل پر چہل قدمی شروع کردی، شام رات کے ساتھ جا ملنے والی تھی، بارش پھوار کی صورت برس رہی تھی اور ویرا ننّھے بچوں کی طرح سر اٹھا اٹھا کر آسمان کو دیکھ رہی تھی۔ ساتھ اسے روس کے کھانوں کے بارے میں بتارہی تھی۔
“کرسمس کی چھوٹیوں میں تو روس چلوگے نا؟”
“نہیں ویرا میں ماما کے ساتھ جانا چاہتا ہوں، ہم گرم علاقوں کی طرف سفر کریں گے۔”
ٹھیک ہے۔ لیکن کیا وہ روس نہیں آسکتیں؟”
“بہت زیادہ ٹھنڈ ان کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔”
“پھر ڈگری کے بعد۔۔؟”
“ابھی تو بہت وقت ہے۔”
“تم بہت وقت پہلے ہی مجھے ہاں کھ دو نا۔۔۔”
وہ خاموش ویرا کے بالوں پر گرنے والی پھوار دیکھ رہا تھا۔ وہ کہیں اور تھا۔
“میں لاہور آنا چاہتا ہوں۔”
“کیوں؟”
“کیوں نہ آؤں؟”
“تم نے تو کہا تھا کہ ابھی تم ایشیا کے سفر کا ارادہ نہیں رکھتے۔”
“میں ایشیا کے سفر کا ارادہ اب بھی نہیں رکھتا۔ میں لاہور کی بات کر رہا ہوں۔”
“لاہور ایشیا میں ہی ہے۔”
“لاہور ایشیا میں نہیں، میری ٹاپ لسٹ میں ہے جہاں پہلی فلائٹ سے جایا جاۓ۔”
“اچھا۔۔ دیکھ لو ویسے لاہور میں مچھر بھی ہوتے ہیں۔”
“تم مجھے مچھروں سے ڈرا رہی ہو۔۔ ہاں تم یہی کر رہی ہو۔”
“بلکل نہیں صرف خبردار کر رہی ہوں۔۔ تم نے ڈیئگی کا نام سنا ہے اس کے کانٹتے ہی انسان فوراً سے پہلے مرجاتا ہے۔۔ بلکل جھٹ پٹ۔”

Read More:   Rishtay Pyar Kay by Fairy Malik – Episode 4

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply