Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 4

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 4

اس دوران بار بار اسکی نظر ڈربی کے ان چند بالوں کی طرف اٹھ جاتی تھی۔جنہیں ڈربی نے سر سے بہت اوپر اٹھا کر چنی منی سی پونی میں باندھ رکھا تھا۔اور خدا معاف کرے پونی ٹیل کے نام پر خاصہ گہرا کلنک کا ٹیکہ تھا۔ہوا میں لہراتے وہ کسی چھوٹی چڑیا کی دم جیسے لگ رہے تھے۔ جو اک ہی جگہ پر پھدکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی
ڈربی سنجیدگی ومتانت سےایسےسائیکل چلارہی تھی، جیسےشاہ اردن کی سونےکی بگھی دوڑارہی ہو، ساراراستہ وہ امرحہ کی ہنسی کے آبشاروں کی بوچھاڑسہتی رہی تھی، اسے اتار نے کے بعد وہ بولی بھی توصرف اتنا، کتنی موٹی ہوتم! جاگنگ کیاکرو، ڈربی کیسےاسےاپنی سائیکل پر گھسیٹ کروہاں تک لائ تھی، اسکی پیشانی کاپسینہ بتاسکتاتھا، cognition, sapientia, humanitasاب وہ آکسفورڈروڈپربرطانوی طرزتعمیرکی تاریخ سازعمارت کےعین سامنےکھڑی ہے، یونیورسٹی میں کیمپس کی آرک کے نیچے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس کےاوپربڑےسنہرےحروف میں یونیورسٹی آف مانچسٹرجڑاتھاجس کی بنیاد1824میں رکھی گئ تھی، علم حکمت، انسانیت، جس درسگاہ کاماٹوہے، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جوقریباً چالیس ہزار کے قریب اسٹوڈنٹس کوفیضیاب کررہی ہے، دنیاکی دس بہترین درسگاہوں میں سےایک “دی یونیورسٹی آف مانچسٹر”. وہ مین کیمپس کواورآرک کومگن انداز میں دیکھنےلگی، اس طرزتعمیرکی عمارتیں اس نےلاہورمیں بھی دیکھی تھیں اسےکچھ کچھ لاہورعجائب گھرجیسی بھی لگی، اسےیہ نہیں معلوم تھاکہ اندرکیساجہان آبادہے، دنیاکےکیسےلائق فائق قابل اساتذہ یہاں اکٹھےکئےگئےہیں -وہ کیسےکیسےشاگردوں کےاستادبنادیےگئےہیں،­ ہاں ابھی فی الحال وہ کچھ نہیں جانتی تھی اوروہ یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ بہت جلدبہت کچھ جان جائےگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت کچھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سٹوڈنٹس کاجم غفیرایسےاندرجارہاتھا­جیسےاندرکوئ چیزمفت تقسیم کی جارہی ہو، جیسےکہ “بریانی”،”اٹلی کاوہ مشہورپیزا، جواٹلی میں بھی نہیں ملتا”. آجاؤامرحہ! “ڈربی کافی آگےجاچکی تھی امرحہ اس کے ساتھ چلنےلگی، “اس نےسائیکل کواسٹینڈپرکھڑاکیا، اسکی آنکھیں تیزی سےاطراف کاجائزہ لے رہی تھیں اوراسکی سمجھ میں نہیں آرہاتھاکہ کس طرف دیکھےاورکس طرف کوچھوڑدے، دل بھی یہی چاہ رہا تھا کہ سب ایک ہی بارجلدی سےدیکھ لے، ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی سب کو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سٹوڈنٹس کی آمدورفت میں تیزی بھی تھی اورپھرتی بھی اوروہ ایسےتھی جیسےکہ پھرتی اورتیزی سےہم کبھی ملےنہیں اورسست روی سےہماری بہت دوستی چل رہی ہے، امرحہ! تیزچلونا، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ،ڈربی نےبیس قدم آگےجاکرگردن موڑکرآوازدی ۔ ۔ ۔ ۔ ،اس آواز پراس نے ذراسی تیزی دکھائ، اوراس سےپندرہ قدم قریب ہوگئ ڈربی سرسبزگراؤنڈ میں ایک گروپ کےپاس جاکرکھڑی ہوگئ اور اس کی طرف اشارہ کیا. ۔ ۔۔ ۔ امرحہ کااتنی دورسےہی ذرادم سانکل گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔،وہ دس بارہ لڑکے لڑکیوں کا گروپ تھااور ان میں شرلی کواس نےفوراً پہچان لیاتھا، باقی عذرا، کوپہچاننے میں اسے تھوڑاوقت لگا، کیونکہ اس نے سرپرسیاہ نیٹ باندھ رکھی تھی السلام علیکم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اس نےانکےقریب جاکرذراگھبرائ آواز میں کہا، اگرڈربی کےساتھ اسکی سائیکل پربیٹھےوہ ہنسنےسےذراجلدی فارغ ہوجاتی تواس سےکچھ معلومات ہی لےلیتی، ان سب کےبارےمیں، خاص کردائم کےبارےمیں جواس سےرابطےمیں رہاتھا، اورجس کی مددسےوہ یہاں آئ تھی سب نےاپنااپنانام لےکرتعارف کروایا، اس دوران وہ جس خلوص سےمسکراتےرہےامرحہ ہلکی پھلکی ہوتی گئ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بلاوجہ ہے انکےدباؤمیں آگئ تھی یہ سب توبہت اچھےہیں دائم اوردولڑکیاں اسےساتھلےکریونیورسٹی­ کینٹین میں آگئ اوراسےکافی پلائ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب وہ کافی کی آخری چسکی لےچکی اورگروپ کےلیڈردائم اورگروپ کی لڑکیوں، نوال اوربریرہ کی خوبصورتی کودل ہی دل میں داد دے چکی تو دائم نے کچھ یوں بات شروع کی۔
مس امرحہ! کیا آپ مجھے کیلئے نہیں کہیں گی۔
“میں وعدہ کرتی ہوں”-اس نے ٹھیک اسی انداز میں کہی،جس میں بچےایک ھاتنب میں چاکلیٹ تھام کر دوسرا ہاتھ آھے کر کے بولتے ہیں،” پکا عچدہ میں رات کو چاکلیٹ نہیں کھاؤں گا۔۔۔”
غڈ۔۔۔۔۔۔کیانکہ مجھے شک ہے،اس لئیے پھر کہہ رہا ہوں کہ درمیاں میں مت بولئیے گا۔۔۔امرحہ کو اسکی بات میں شک کچھ بری لگی،لیکن اس نے نظر انداز کر دیا وہ اور کر بھی کیاسکتی تھی”
آپ مانچسٹر آ چکی ہیں؟
مجھے نظر آ رہا ہے۔۔۔امرحہ کو دائم کی بے وقوفی پر ھنسی آئی۔
دائم نے اسے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو کہ، دیکھا میں جانتا تھا تم ضرور درمیان میں بولو گی۔
امرحہ نے اسکے تاثرات جان لئیے۔۔۔اوہ مجھ بے چاری پر رحم کرو(میں تو بس بھول گئی تھی کا سا تاثر دے دیا اسکی طرف دیکھتے ہوئے)
“ھم تین لوگ جو آپکے سامنے بیٹھے ہیں،ھم نے اور کچھ ان دوستوں نے جنہوں نے تعلیم مکمل کر لی ہےایک منصوبہ بنایا ہے کہ،ھم اپنی ذاتی کوششوں سے پاکساتن کے لائق فایق سٹوڈنٹس کو جمع کرکے یہاں اپنے فنڈز کے ذریعے بلوائیں،جو غربت کی وجہ سے آگے پڑھ نہیں سکتے اور آگے بڑھنے کا اور غیر ملکی سطح پر خعد کو منوانے کا موقع نہیں مل رہا واآ کے خود کو ثابت کریں۔ ھم تیس لوگوں نے ملکر مختلف طریقوں سے فنڈ اکھٹے کئے،ایونٹس کئے،اس ٹالز لگائے،کچھ میوزک و تھیٹر کیا۔۔۔۔کچھ تھوڑی بہت ہماری اپنی سیونگز تھیں۔۔۔ھم نے مطلوبہ ھدف نبٹ لیا۔
ھم صرف پانچ سٹوڈنٹس ہی افورڈ کت سکتے تھے،وہ بھی اس صورت میں کہ آتے ساتھ جتنا جلد ہو سکتا وہ اپنی رہائش کا بندوبست کر لیں،بصورت دیگر صرف تین لوگوںکو بلوایا جا سکتا تھا۔
ہمیں ایک ہزار سے ذیادہ درخواتیں موصول ہوئی۔۔۔ہم نے ان میں سے پانچ کا انتخاب کیا،وہ گاؤں اور چھوٹے قبصوں سے تھے اور مانچسٹر آنا انکے لئیے ایک خواب ہی تھا –وہ سب ایک ہفتہ پہلے ہی آ گئے تھاے اور آتے ساتھ ہی ان سبھی نے اپنے لئیے رہائش کا انتظام کر لیا، کیونکہ وہ علم کے ساتھ ساتھ ہنر کے بھی عالم تھے۔اس لئیے ان سبھی کو آتے ساتھ ہی جاب مل گئی-
ان میں ایک کو گاڑئیوں کے لاک ٹھیک کرنا آتا ہے،مجھے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ ھم یہاں ایسے طالب علم لانے میں کامیاب ہوئے جو اپنی پائیویٹ تعلیمی قابلیت ساتھ پنجاب بورڈ ٹاپ کیا ۔۔۔۔بلکہساتھ ساتھ گاڑئیوں کے لاک بھی تھیک کرتا رہا اور ایک دن کا بھی ناغہ نہیں کیا اپنے کا م و تعیمی سرگرمی سے –
ہمیں جتنی بھی درخواستیں موصول ہوئی تھیں،وہ سب کم و بیش ایسی ہی تھیں۔۔۔۔آپ کی تعلیمی اسناد میں کچھ قابلِ ذکر نہیں تھا۔۔۔۔۔۔آپ ان ہزار میں سے صفر تھیں۔آپ لاہور میں رہتی تھیں۔۔۔جہاں اچھے تعلیمی اداروں کی بھر مار ہے۔۔۔۔۔آپ پڑھنے کیلئیے اچھے سے اچھے کالج جاتیں،آپکے والد کا پاکستان میں ایک نام ہے،انکا اپنا ذاتی قالینوں کا سٹور ہے پاکستان میں۔آپ کا تو اپنا ذاتی مکان بھی ہے۔۔۔آپ تو کوئی کام بھی نہیں کرتی تھیں پھر بھی آپ کی تعلیمی قابلئیت میں کچھ قابلِ ذکر نہیں۔۔۔۔آپ کسی بھی ظرح اس اسکالرشپ کی مستحق نہیں
تھیں۔۔۔آپکی درخواست پر جواب بھی نہیں دیا جانا چاہیئے تھا۔۔۔لیکن ہم نے جواب دیا۔۔۔آپ کی تعلیمی قابلیت دیکھ کر نہیں آپکی ذہنی حالت دیکھ کر ۔۔۔اپنی آخری میل میں آپ نے لکھا تھا میں ہوں ہی منحوس ماری میں جل کر مر جاوں تو ہی اچھا ہے۔اس سطر پر ہم نے ذرا توجہ دی۔۔۔۔
ہماری ایک گروپ ممبر نے جو نفسیات کی طالبہ تھی آپکی بھیجی گئی دوسری میلز بھی پڑھیں اور اس نے اپنی رائیں دی کہ آپکی ذہنیحالت بہت تباہ کن ہے کسی بھی طرح کی ناکامی اٹھانے کے بعد مذید ناکامی آپکو بالکل توڑ دے گی اور مایوس ہوکر آپ کچھ بھی کر سکتی ہیں۔اس لئے ہم نے ایک مہینے کا وقت لیا آپ سے۔۔۔۔ہم اس صورت حال پر کافی پریشان تھے ہم اپنے اسکالرشپ دے چکے تھے۔۔۔۔
آپ کو کیا دیتے۔۔۔۔لیکن آپکو اس کیفیت میں بھی نہیں چھوڑ سکتے تھے۔اس لئے اس بار ہم نے اپنی پاکٹ منی نکالی۔۔۔کچھ دوسرے اسٹوڈنٹ سے رابطے کئے اور پھر سے چالیس اسٹوڈنٹس نے آپ کے لیے فنڈز اکٹھے کیے۔۔۔اور بہت مشکل سے۔۔۔اتنی مشکل سے کہ آپ سوچ بھی نہی سکتیں ہم نے مطلوبہ ہدف پورا کرنے کی کوشش کی۔۔۔ان چالیس اسٹوڈنٹس میں عیسائی،مسلم،انڈین،جا­پانی،بنگالی،امریکن،ف­رنچ سب شامل ہیں۔اس لیے خاس طور میں آپکو یہ ذہن نشین کروادوں کہ ان افراد کا اور انکی قوم کا احترام آپ پر لاذم ہے۔۔
ہم نے آپ سے پوچھا کیا آپ پچاس فیصد افورڈ کر سکتی ہے؟آپ نے کہا نہیں۔۔۔مجھے یقین ہے اس پچاس فیصد کے لیے آپ نے اتنی کوشش نہیں کی ہوگی جتنی ہم آپ کے لیے کر رہے تھے لیکن آپ تیس فیصد ادائیگی پر مان گئیں۔۔۔اگر آپ تیس فیصد پر بھی نہ مانتیں تو آپ کیلئے مجھے وہ کار بیچنی پڑتی جو میں نے اپنے کالج کے ذمانے میں اپنی پارٹ ٹائم جاب کی سیونگ سے خریدی تھی۔۔یہ بات یاد رکھنے لائق ہے کہ جن چالیس اسٹوڈنٹس نے آپ کیلئے فنڈز دئیے ہے وہ بہت امیر کہیں نہی ہیں۔۔سب پڑھنے کیساتھ جاب کرتے ہیں۔۔اور ایک ایک پینی بچاتے ہیں۔۔آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ آپ ہوا میں اڑ کر یا جادو کے ذور سے یہاں نہیں آگئیں۔۔۔ہر روز ہم نے آپ کیلئے میٹنگ کی ہے۔۔صورت حال پر غور کیا ہے۔۔۔کوئی ایک بھی ہاں کرکے پیچھے نہیں ہوا۔۔۔کمائے گئے اور بچائے گئے ایک ایک پونڈ کو انہوں نے آپ پر انویسٹ کیا۔۔۔انویسٹمنٹ کرنا سمجھتی ہے آپ۔۔۔؟انویسٹمنٹ اس لئے کی جاتی ہے کہ پیسے لگانے والے کو نفع ہو اور یہ فائدہ وہ اس طرح سے لے رہے ہیں کہ تیسری دنیا کا تیسری دنیا کا ایک باشندہ تعلیم یافتہ ہو جائے،وہ اپنے ملک وقوم کا سہارا بنے۔۔انیہں آپ ان کے دئیے گئے پورے پورے پیسے واپس کرے گی۔۔ایک پونڈ کم نہ ایک پونڈ ذیادہ۔۔۔اور سارا منافع آپ لے جائیں گی۔۔اس سارا منافع یا فائدہ کیلئے انہوں نے انوسٹمنٹ کی ہے۔۔میری بات کو برائے مہربانی سمجھیں اور یاد تو ضرور رکھیں۔۔
جنہوں نے فنڈذ دئیے ہے وہ آپکوں نہیں جانتے کوئی ایک بھی آپ کو نہیں جانتا۔۔شکل سے تو کوئی بھی نہیں تاکہ آپ کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔۔ہم تین ک سوا کوئی نہیں جانتا ک وہ فنڈز آپ کیلئے اکٹھے کئے گئے ہیں۔۔ہم نے آپکی عزت نفس کا پورا خیال رکھا ہے۔۔ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ کوئی آپ کے پاس آکر آپ کو کچھ بھی جتائے۔۔۔اب میں دوسری طرف آتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ سے کہا گیا اپنی رہائش اور کھانے کا زمہ آپ کو لینا ہوگا۔۔آپ نے کہاں آپ یہاں آکر دیکھ لیں گی۔۔۔۔
بہت اچھا۔۔۔صرف یہی ایک اچھی اور مثبت بات تھی جو آپ نے کی تھی۔۔۔جن پانچ لڑکیوں کے ساتھ آپ رہیں ان سے ہم نے خاص درخواست کی تھی کہ آپ کو عارضی طور پر چند دن اپنے پاس رکھ لے لیں۔۔آپ کو ائرپورٹ ریسیو کرنے کیلئے جانے والے جس شخص کا ایکسیڈنٹ ہوا وہ ہمارے لئے رضاکار بنا تھا جو آپ کو ائرپورٹ سے لے کر گئی وہ اپنے اس دوست کیلئے آپ کی مدد کر رہی تھی جس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔۔جس بستر پر آپ کل سوئیں وہ میٹرس ان دونوں نے۔،،
اس نے نوال اور بریرہ کی طرف اشارہ کیا۔” اپنی باقی ماندہ بچی ہوئی سیونگ سے خرید کر وہاں رکھا۔۔
اس نے نوال اور بریرہ کی طرف اشارہ کیا۔۔اپ ی باقی بچی ہوئی ماندہ سیونگ سے خرید کر وہاں رکھا۔۔آپ کو ہانا نے منع کیا تھا کہ کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگانا لیکن آپ نے لگایا پرفیومز کو اور ایسی ہی دوسری چیزوں کو بلکہ مجھے کہنا چاہئیے کتابوں کے سوا ہر چیز کو۔۔۔۔آپ نے دو نوڈلز کے پیکٹ نکال کر کھائے۔۔مس امرحہ وہ سب بہت اچھی میزبان ہیں۔۔ان فیکٹ ہم سب جانتے ہے میزبانی کسے کہتے ہے۔۔لیکن ہم سب اور وہ سب اپنے گھروں میں نہیں ہیں۔ہم اپنے گھروں،ملکوں،شہروں سے دور اکیلے یہاں رہ رہے ہیں۔اپنی مدد آپ کے تحت۔۔کاش رات ہی ہانا تھوڑا بہت آپ کو اپنے بارے میں بتا دیتی۔وہ صرف دو وقت کھاتی ہے۔صبح وہ نوڈلز کا پیکٹ کھاتی ہے اور رات کو جہاں وہ جاب کرتی ہے وہاں اسے ایک برگر ملتا ہے۔۔۔ اور ایک کپ کافی۔۔وہ ایک ایک پونڈ بچاتی ہے کیونکہ اپنے تعلیمی اخراجات وہ خود ہی اٹھا رہی ہے۔کوریا میں رہنے والے اس کے گھر والے اخراجات کے نام پر اسے پاکستانی ایک روپیا بھی نہیں بھیج سکتے۔اس نے تن تنہا مانچسٹر میں اپنے پڑھنے کا خواب پورا کیا ہے۔شاید یہ باتیں آپکو معمولی لگیں۔آپ جو لاہور کے تعلیمی اداروں میں پڑھتی ہیں اور جن کی فیس والدین ادا کرتے ہیں آپ جنہوں نے کبھی جاب نہیں کی۔۔۔نہ آپ کو جاب کی ضرورت پیش آئی۔۔آپ کو یہ سب معمولی لگے گا کیونکہ آپ نے کبھی زندگی میں سخت جدوجہد نہیں کی،وہ بھی مسکرا کر حوصلے سے۔۔۔یہاں بہت سے ایسے اسٹوڈنٹس ہے جو زیادہ کھانا نہیں کھاتے کیونکہ انہیں زیادہ کتابیں خریدنی ہوتی ہے۔۔وہ ایک جینز دو ٹی شرٹس میں یہاں سے اپنی ڈگری لے جاتے ہیں۔اور مسکراتے ہوئے آتے ہیں مسکراتے ہوئے ہی جاتے ہیں۔شرلی جن کے فلیٹ میں آپ رہ رہی ہیں،ان کے پاس رہنے کیلئے آپ کے پاس زیادہ سے ذیادہ آج کی رات ہے۔۔فائنل ڈیڈلائن ٹھیک ایک مہینے کی ہے۔۔آپ کے ایک مہینے کا کھانے کا سامان وہاں موجود ہے۔۔۔آپ آج ہی اپنی رہائش اور جاب کا انتظام کرلیں۔۔وہ رکا۔۔
ویلکم ٹو مانچسٹر مس امرحہ۔۔۔۔۔اس نے سانس بھی نہ لیا اور پھر سے شروع ہوگیا۔۔یہ تو ہوگئیں آپ کے یہاں رہنے کے بارے میں کچھ تفصیلات۔۔اب آپ کو میں کچھ تجاویز دیتا ہوں۔۔یعنی اچھی باتیں۔۔۔وہ مسکرایا۔۔۔۔۔
برا نا مانئیے گا لیکن یہاں یہ کہاں جاتا ہے۔۔کہ پاکستان،انڈیا،سری لنکا،اور ایسے ہی دوسرے ترقی پزیر ممالک سے آنے والے بہت شکایتی ہوتے ہیں۔۔۔سست کاہل۔۔۔۔بہانے باز۔۔۔انہیں لگتا ہے۔۔۔بلکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ سب مشکلیں،تکلیفیں،دکھ ان ہی کو مل گئے ہیں۔رونے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔آپ کی شکل بھی کچھ ایسی ہی لگتی ہے۔۔بلکہ اس وقت لگ بھی رہی ہے۔۔۔روئے لیکن دکھ پر،تکلیف پر،لیکن مشکلات پر نہیں۔یہاں آپکو کوئی چپ نہیں کروائے گا اس لئے نہیں کہ یہاں سب خودغرض ہیں جیسا کہ یہاں کے لوگوں کے بارے میں سوچا اور کہا جاتا ہے۔بلکہ وہ سمجھتے ہے کہ رونا بےوقوفی ہے۔میں بھی یہی سمجھتا ہوں۔نوال اور بریرہ بھی یہی سمجھتی ہیں۔اگر چھوٹی بڑی مشکلات پر رونے والے کو بار بار چپ کروایا جائے گا وہ بزدل بن جائے گا بہادر نہیں۔۔
مس امرحہ! اپنی سستی کاہلی،اور بہانا بازی کو یہاں وہاں کوئی کوڑا دان دیکھ کر اس میں ڈال دیں۔یا آگ لگا دیں۔۔اصل جل مرنا تو انہیں چاہئیے۔آپ لڑکی ہے کمزور نہیں ہے۔ہمارے مذہب نے کہاں لڑکی کو کمزور کہاں ہے؟قرآن پاک میں جتنی بار مرد کا ذکر آیا ہے اتنی بار عورت کا بھی ذکر آیا ہے۔۔یعنی آپ مرد کے برابر ہیں۔لیکن برابر ہونے اور برابر کا ثابت کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔لیکن میں یہ صرف اس لئیے کہ رہا ہوں۔کہ خود کو کمزور مت سمجھئیے اپنی طاقت کو پہچانئیے مس امرحہ!آپ مانچسٹر یونیورسٹی آچکی ہیں۔آپ دوڑ میں شامل ہوچکی ہیں۔۔۔۔یا گولڈ میڈل لیں۔۔۔یا دوڑ سے الگ ہو جائیں اور جاکر تماشائیوں میں بیٹھ جائیں اور یاد رکھیں تماشائیوں کی بھیڑ میں آپ کو فوراً جگہ مل جائیں
گی۔۔۔لیکن دوڑ میں اگر آپ صرف انجوئیمنٹ کے لئے آئی ہیں تو آخری نمبروں پر آنے سے بہتر ہے کہ آپ دوڑ سے نکل کر کسی اور کو آگے آنے دیں۔۔۔میرا یقین کریں،دنیا میں جوہریوں کی کمی تو یقیناً ہوگی لیکن ہیروں کی بہرحال نہیں۔۔۔۔،،،
اس بار رکا اور کافی دیر رکا ہی رہا۔
یونیورسٹی میں ویلکم ویک چل رہا ہے۔۔۔پھر آپ کی کلاسز شروع ہو جائیگی۔۔۔اس ایک ہفتے کے درمیان آپ زمین کھو دے یا گول گول گھومیں آپ کی رہائش کا بندوبست ہو جانا چاہئے۔۔۔آپ کی جاب کا۔۔۔آپ کے فوڈ کا۔۔۔۔اگر آپ بھوکی نہی رہ سکتیں تو۔۔۔یہ سب آپ کے مسئلے ہیں۔۔۔اور یہ سب آپ حل بھی کر سکتی ہیں۔ ۔کیا نہیں کر سکتیں۔؟
اس کی گردن فوراً نفی میں پھر ہاں میں ہلی۔
آپ سب سمجھ گئیں نا؟
جی اس نے اوپر سے سر ہلایا اندر سے آنسوں کا ریلا دبایا۔
گڈ۔۔۔۔اب آپ جائیں اور ذمین کھودیں۔۔اوہ میرا مطلب جاب ڈھونڈیں۔۔۔اپنی ڈگری کے دوران آپ کو ہر صورت تھرٹی پرسنٹ واپس کرنا ہوگا۔۔۔اپنے اخراجات کو آپ کو ایسے سنبھالنا ہوگا کہ آپ یہ تھرٹی پرسنٹ جلد سے جلد واپس کر سکیں۔۔۔سمجھ گئیں آپ۔،،
جی اس نے سر ہلا کر بمشکل کہا۔۔
نوال اور بریرا اردو سمجھ لیتی ہیں تھوڑی بہت لیکن بول نہیں سکتیں۔۔۔آپ کو زیادہ اچھی طرح سے سمجھ میں آجائے اس لئے میں نے آپ سے خطاب کیا۔۔آپ کو برا نہیں لگنا چاہئے۔۔۔،،،،
مجھے برا نہیں لگا۔۔۔۔
ویل۔۔۔۔آپکی شکل تو کچھ اور ہی کہ رہی ہے۔۔۔۔
میری شکل ایسی ہی ہے۔۔۔۔
ایسی کیسی۔۔۔۔؟
جھوٹ بولنے والی۔۔۔
اچھا۔۔۔اب آپ کیا کرے گی۔،،
مجھے جاب ڈونڈھنی ہے جلد سے جلد اسکی آواز رندھ گئی۔۔
بالکل ٹھیک کہاں۔۔۔ویسےآپ کی شکل بہت تیزی سے اور بہت سخت قسم کا جھوٹ بول رہی ہے
مس امرحہ۔۔۔اگر آپ کو رونا آئے تو کسی ایسی جگہ چلے جائیے گا جہاں آپ کو کوئی دیکھ نہ سکے۔۔۔ ٹھیک ہے؟
جی ٹھیک ہے۔۔۔
پہلے جا کر اپنا اسٹوڈنٹ کارڈ بنوائیں۔۔۔اپنی کلاسز کا معلوم کریں
وہ سہم سی گئی کہ ابھی یہ سب بھی کرنا ہے،،،کارڈ۔۔۔۔یہ کہا سے بنے گا۔؟
آپ یونیورسٹی میں کھڑی ہے۔۔۔۔اور سب کچھ یہی ہوتا ہے یہ جو آپ اتنے سارے اسٹوڈنٹس دیکھ رہی ہیں یہ بنا ڈرے اپنے سب ہی کام کر رہے ہیں۔۔۔آپ بھی یونیورسٹی میں گھومیں پھریں کہ آپ کے کام کیسے ہوسکتے ہیں۔۔۔یا آپ کو کیسے کرنے ہیں۔۔۔
وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
پلیز دل ہی دل میں مجھے برا بھلا مت کہیئے۔۔
امرحہ کا رنگ فق ہوگیا وہ یہی کہ رہی تھی،
لیکن اسے کیسے پتا چلا۔۔۔

Read More:  Shamsheer Be Niyam By Inayatullah Altamash – Episode 8

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: