Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 40

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 40

“تو لاہور میں ایسا فوری مار دینے والا ڈینگی ہے ورنہ دو تین گھنٹے تو دنیا کا ہر ڈینگی مچھر دے دیتا ہے مرنے کے لیے۔۔”
ہمارے پاس وی آئی پی ڈینگی ہے۔ اپنے رسک پر لاہور آنا مجھ سے شکایت نہ کرنا۔”
کیا وہ لاہور والوں کو نہیں کاٹتا۔۔؟؟
نہیں یہی تو اسکی خصوصیت ہے وہ غیر ملکی پر حملہ آور ہوتا ہے۔
“جب میں لاہور جاؤں گا تو کیا میں بھی غیر ملکی ہوں گا اس کے لیے۔”
“ڈینگی کے لیے۔۔؟”
“نہیں لاہور کے لیے۔۔’
“روس کی برف کو جانتے ہونا، پھر نہ کہنا بتایا نہیں۔۔”
“ہاں’اس کے کاٹنے سے انسان مر جاتا ہے۔”
“ہاہاہا، برف کاٹتی نہیں عالیان۔۔۔!”
ہلکی سی جھرجھری کا شکار ہوا۔ وہ ویرا تھی اور ہنستی جا رہی تھی۔
میں نے تو ولید کو اتنا لمبا عرصہ سنا بھی نہیں تھا، مٹھی سے ریت کی طرح پھسل جانے والے زندگی کے، صرف چند سال ہی اور ان چند سالوں میں ہی اس نے مجھے اپنے سوائے سب کے لیے بہرہ کر دیا اور دوسروں کے لیے گونگی تو میں تب ہی ہو گئی تھی جب میں اس سے ہمکلام ہونا شروع ہوئی تھی۔ یہ وہ ابتدا تھی جو اس کے جانے کے بعد انتہا کو پہنچی۔
میں عالیان کو دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں اتنی غلطیاں کر چکی ہوں اور نہ کروں، اور میں پھر غلطی کر جاتی ہوں، میں ولید کے لیے آنسو بہانے لگتی ہوں۔ میں یہ غلطی اپنی ہر سانس کے ساتھ کرتی ہوں اگر دنیا میں مجھے کسی کو نصیحت کرنے کا موقع دیا جائے تو میں نصیحت کروں گی کہ”خود کو ختم کردینے کے ہزاروں طریقوں میں سے”محبت” کو سب سے آخر پر بھی نہ رکھیں۔۔۔زندہ درگور ہونے کے لیے کسی اور جذبے کا انتخاب کریں۔
مجھے اس ایک کمرے کے گھر میں ہر وقت چلتا ہوا نظر آتا ہے۔ میں پیدائشی اندھی ہوجاتی لیکن ایسی اندھی نہ ہوتی کہ مجھے میرا بیٹا نظر نہ آئے، لیکن اسے دھتکار دینے والا شخص ہر جگہ نظرآئے ۔۔۔تو کیا مجھے ایسی بے اختیاری پر کوڑے نہیں برسانے چاہییں۔۔
عالیان نے اپنی ہتھیلی میں بارش کی پھوار سمیٹی۔
“ٹھیک ہے ہم ضرور چلیں گے ویرا!” اپنی بے اختیاری کو اس نے بھی معاف نہ کیا۔
چند دنوں بعد وہ رات کو شٹل کاک آیا اور ماما مہر کی گود میں سر رکھ کر لیٹا رہا۔ وہ چھت کو دیکھ رہا تھا پھر دیوار پر ٹنگی تصویر دیکھنے لگا پھر اس کی نظریں کھڑکی سے باہر بھٹکنے لگیں۔
کیا تلاش کر ہو۔۔؟
” آپ کو کچھ بنا کر کھلاؤں ؟” سائی ٹھیک کہتا ہے وہ بات بدلنے میں ماہر ہو چکا ہے۔
” رات کے اس وقت۔؟”
“کیا وقت ہوا ہے؟”
“تمہیں آئے آدھا گھنٹہ گزر چکا ہے اور تم ایسے خاموش ہو کہ مجھے لگ رہا ہے تم نے کئی دنوں سے کسی سے بات بھی نہیں کی این بتا رہی تھی کہ یونی میں بھی تم ایسے ہی رہتے ہو، منہ کھولو اور مجھے اپنی زبان دکھاؤ ، اس میں ضرور کوئی مسلہ ہوگا۔
اس نے فرمابرداری سے منہ کھول کر زبان دکھا دی۔
“اب کھڑکی کے پاس جاؤ زور سے چلاؤ مجھے معلوم ہو کہ تم میں کتنی قوت باقی ہے۔”
وہ کھڑکی کے پاس آیا۔۔۔باہر امرحہ کھڑی اسی کھڑکی کو دیکھ رہی تھی بظاہر اس کے ہاتھ میں فون تھا اور وہ ٹھنڈ میں ٹہل رہی تھی۔
چلانہ پڑتا۔۔ آجاؤ
وہ واپس آکر بیٹھ گیا۔۔این کو آپ نے میری جاسوسی کے لیے لگا رکھا ہے۔۔”؟
اسے چھوڑو” یہ بتاؤ اتنے مشینی مشینی کیوں ہو رہے ہو؟” تم میں جو خاصی نرمی کا عنصر ہوا کرتا ہے وہ کہاں ہے؟
کیا میرا رویہ برا ہے ماما
برا نہیں عجیب ہے ۔سہارا دینے والا یا یونی میں کسی لڑکی نے تمہیں پرپوز کر دیا ہے تم نے انکار کر کے اس کا دل توڑا ہے اور تم اس کے لیے احساس ہو رہے ہو ۔
نہیں اس نے ہنسنے کی کوشش کی
تو کیا تم نے کسی کو پرپوز، کیا اس نے انکار کر دیا تو تم نے ان آٹھ دس لڑکیوں سے بدلے لے لیے ہیں ۔
کرسمس کی چھوٹیوں میں میرے ساتھ چلے گی ماما
مجھے کہاں سنبھالتے پھرو گے
کارل تم ویرا امرحہ سب مل کر جانا
آپ ہر بار انکار کر دیتی ہیں
میں انکار نہیں کرتی تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی کیا تم مجھے سویڈن لے کر جانا چاہتے ہو؟
ہرگز نہیں مجھے سوئیڈن نہیں پسند
تم کتنا بدل رہے ہو عالیان جب تم واپس آئے تھے تو تم نے کیا کہا تھا ۔
وہ بیان غیر حقیقی تھا حقیقت یہ ہے کہ مجھے نہیں پسند
تمہیں تو جلدی شادی کر لینی چاہیے اس سے پہلے کے سب
غیر ضروری لگنے لگے۔
میں ایک نارمل انسان ہوں ماما فکر نہیں کریں
تمہیں امرحہ کیسی لگتی ہے؟
آپ کو ویرا کیسی لگتی ہے؟ اس نے فورا کہا ویرا؟؟؟؟؟
جی وہ ایک سمجھ دار لڑکی ہے سب سے بڑی بات عزت کرنا جانتی ہے ۔اسکی دوسری بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ انسانی نفسیات کو سمجھتی ہے میں نے اسے بے غرض اور پرخلوص پایا وہ ہر ایک کی مدد کو تیار ریتی ہے وہ حسد رشک سے پاک ہے اس کی بہت ساری خوبیاں ہیں ماما۔
تم نے ایک دم ویرا کی ایسے بات کی جیسے اس کی وکالت کر رہے ہو۔لیکن میری سمجھ میں نہیں آیا یہ وکالت تم نے میرے لیے کی یا خود کے لیے ۔
آخری بات سے عالیان کے چہرے کے سب رنگ نچوڑ لیے۔
دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں جو مجھے نا پسند ہو۔
میں کسی نہ کسی طرح قابل نفرت لوگوں سے بھی محبت کا رستہ نکال لیتی ہوں ۔
میں کسی سے نفرت نہیں کرتا ماما سوائے ایک کے ۔۔
ہم کتنوں سے محبت کرنے کے قابل ہو چکے ہیں اس سے اہم ہے کے ہم کتنوں سے نفرت کر چکے ہیں محبت کورا ہو نہ ہو نفرت کورا ہوتی ہے
میں اس شخص سے محبت نہیں کر سکتا میں مارگریٹ نہیں بن سکتا
میں صرف اس کی بات نہیں کر رہی انہوں نے بہت سنجیدگی سے دیکھا
پھر مجھے نہیں پتہ آپ کس کی بات کر رہی ہیں
مجھے ڈر تھا عالیان کے تم ایک دن مارگریٹ کو لے کر بہت سوچا کرو گے
ماما کے بارے میں سوچنا برا ہے کیا .؟؟
مارگریٹ کے بارے میں سوچنا نہیں جو اس کے ساتھ ہوا اس کے بارے میں سوچنا تم میری اولاد ہو میں تمہاری آنکھ کی پتلی کی حرکت بھی پہچانتی ہوں
ان آنکھوں کی چمک کہاں گم کر آئے ہو یہ پوچھا ہی نہیں میں نے ابھی بھی نہیں پوچھوں گی۔بس یہی کہوں گی پرسکون رہو جلد باز میت بنو خود کو وقت دو
میں جلد باز تو نہیں ماما۔۔
Pg#257
ہاں میں ہوں،لیکن بعض معاملات میں ہم ہوجاتے ہیں اور ہمیں خود کو پتہ نہيں چلتا۔”وہ خاموش ہوگیا۔ ایک جملہ اس کے ذہن میں بجنے لگا۔
پہلے اس نے مجھے یہ بتایا کہ میں اس کے لیے کس قدر ضروری ہوں پھر اس نے یہ ثابت کر دکھایا کہ میں کتنی غیر ضروری تھی۔
———————
دادا کا اجاڑ پلاٹ بک گیا تھا۔ اور انہوں نے لیڈی مہر سے قرض لی رقم واپس کرنے کے لیے اسے دی تھی اور کچھ مزید رقم کہ وہ دائم کو دے سکے۔ ”
دائم کو پیسے میں دوں گی۔”
“اب جب پیسے ہیں تو اسے دےدو امرحہ! تم صرف دل لگا کر پڑھو، بےشک جاب چھوڑ دو۔۔”
“نہیں دادا ! جوکام میں نے اپنے ذمہ لیے ہیں وہ ہیں خود ہی کروں گی۔۔”
“تمھارا آخری سال ہے میرا مشورہ ہے کہ تم جاب چھوڑ کر پڑھو، تمھیں اب اخراجات کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، میں نے سب پیسے تمھارے اور دانیہ کے لیے رکھے ہیں۔”
“سب دانیہ کے لیے رکھ دیں مجھے کچھ نہیں چاہیے۔”
“تو اب تمھیں کیا چاہیے امرحہ۔۔ تمھیں باہر آنا تھا تم آگئیں اب سے پہلے تک تم بہت خوش خوش مجھ سے بہت ساری باتیں کیا کرتی تھیں،پچھلے دنوں تم اس لیے اداس رہی کہ تمھارے بہت سے یونی فیلوز چلے گئے، اب نئی وجہ کون سی ہے مجھے بتاؤ، تمھارا آخری سال ہے یونی میں۔۔ دل لگا کر صرف پڑھو۔”
“یاد ہے مجھے،یہ میرا آخری سال ہے۔ لگتا ہے دادا زندگی کا ہی آخری سال ہے۔”
“اب ایسی باتیں کرنے لگی ہو۔۔؟”
“معلوم نہیں دادا !لیکن اس سے آگے مجھے زندگی نظر نہیں آئی۔ سب ختم ہوا سا لگتا ہے۔”
“تم مجھے اپنی طرف سے مزید فکرمند کر رہی ہو امرحہ۔۔!”
“دادا ! کبھی میں خوش ہوتی ہوں تو فوراً غم زدہ ہوجاتی ہوں، زندگی اچھی لگتی ہے تو فوراً بری بھی لگنے لگتی ہے، بھاگتے بھاگتے پھر نہ چلنے کی ہمت رہتی ہے نہ چاہ۔ میری ایک کلاس فیلو کہتی ہے کہ ایسی کیفیت خطرناک ہوتی ہیں آپ کسی کنارے کھڑے ہوتے ہیں،اس طرف آتے ہیں نہ اُس طرف جاتے ہیں۔”
“تمھیں کس طرف جانا ہے ہو بتاؤ امرحہ۔؟” دادا کی آواز کھردری ہوگئ۔
“حسب نسب نہیں ہے میرے پاس کیسے بتاؤ۔”سر پر لٹکتی تلوار کو اس نے گر جانے دیا، دونوں کے درمیان سکوت رہا اگلی بات کرنے میں دادا نے کافی وقت لیا۔
“کون ہے وہ؟”ان کے انداز میں حوصلہ افزائی ناپید تھی۔
“دوست۔”
“خرابی دوست سے ہی شروع ہوتی ہےـ” اگلی بات کرنے میں دادا نے پھر وقت لیا۔
“تو تم نے فیصلہ کر لیا ہے۔”
“مجھ سے یہ نہ پوچھیں، جو میں آسانی سے بتا رہی ہوں، وہ میرے لیۓ اتنا آسان نہیں رہا۔”
“میری سماعت پر یہ جتنا گراں گزرا ہے تمھاری زبان پر نہیں گزرا ہوگا۔ تم پاکستان آؤگی تو یہ باتیں ہوں گی۔”
وہ تلخی سے ہنسی۔”دادا ! آپ چاہتے ہیں کہ میں بس پاکستان آجاؤ۔ آپ کی احتیاظ اچھی ہے کہ اس طرح دور بیٹھے باتیں کرنے سے بات بڑھ جاۓگی۔ میں آپ کے ہاتھوں سے نکل جاؤں گی، میں جو یہاں اتنی دور اکیلی ہوں۔ کچھ بھی کر سکتی ہوں اور اگر یہیں کی یہیں رہ گئ تو آپ کیا کرلیں گے۔”
دادا نے کوئ جواب نہیں دیا۔
“میں نے اتنی بڑی بات کھ دی اور آپ خاموش ہیں۔”
pg#258
“تم بھی خاموش رہو امرحہ میں جان گیا ہوں کہ اس میں ضرور ایسی کوئ خرابی ہے کہ اس کے بارے میں بات کرتے تمھارا انداز ایسا ہے۔”
“وہ ایک عیسائی عورت کا بیٹا ہے اور میں اس کے بارے میں نہیں جانتی وہ ایک اچھا انسان اور ایک اچھا مسلمان ہے بلکہ۔۔۔”
“امرحہ میں پاکستان میں تمھارا انتیظار کر رہا ہو۔ تمھیں پاکستان آنا ہےـ”
اور دادا نے بھی وہی اندار اپنا لیا جس کی وہ توقع کر رہی تھی۔وہ خاموش ہوئ اس نے محسوس کیا کہ وہ کئ گھنٹے بت بنے تو رہ سکتی ہے۔ لیکن دادا کے اس انداز کے بعد بولنے کی ہمت نہیں کر سکتی۔ وہ دادا کو بتانا چاہتی تھی،کہ اس نے کسی کی پلکوں سے افشاں چن لی ہے وہ جو چار قدم اس سے دور جاتی تھی اور دو قدم اس کی طرف بڑھاتی پھر پلٹ جاتی تھی وہ ان عین اسکے سامنے جا کھڑی ہوئ ہے اور وہ دادا کو یہ بھی بتانا چاہتی تھی کہ ان کا اس پر اور خود اس کاخود پر اختیار نہیں رہا اور یہ بھی کہ اب اگر وہ پلٹی تو پھتر کی بن جاۓ گی، نہ وہ ان کے کام کی رہے گی نہ اپنے۔۔ اس نے اتنا سب جان لیا ہے تو ہی دادا سے بات کی ہے نا۔۔
“امرحہ میں پاکستان میں تمھارا انتیظار کر رہا ہوںـ”دادا کو پھر سے کہنا پڑا۔
اسے دادا کے انداز پر غصہ آگیا،دکھ بھی ہوا اس کا دل کیا جواب دیے بیغر لاگ آف ہوجاۓ لیکن وہ بھڑک کر خود کو یہ کہنے سے روک نہيں سکی۔
“آپ چاہتے ہیں میں خود پر زندگی حرام کرلوں اس دروازے پر دستک دوں جو صرف مرنے والوں کے لیے کھلتا ہے۔”
“مرنے کی بات کر رہی ہو امرحہ ۔۔! پھر یہ بھی یاد رکھنا بوڑھوں پر مات بنا کسی تردّد کے جلد مہربان ہوتی ہے۔”
امرحہ جہاں کی تہاں رہ گئ۔
دادا چلے گئے۔
“کیا ہوا ایسے کیوں بیٹھی ہو۔؟”سادھنا نے کمرے کے آگے سے گزرتے اسے دیکھا پو اندر آگئ۔
“زندگی میں کون سا مقام ایسا ہوتا ہے سادھنا کہ لگنے لگتا ہے کہ بس اب زندہ رہنےکا کوئ فائدہ نہیں ہے۔؟”
“جب ہم کچھ ایسا کر گزرے جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے۔” سادھنا کچھ کچھ سمجھ رہی تھی۔
“ایسا کیا ؟”
“میں دوسروں کے بارے میں کچھ کھ نہیں سکتی لیکن میں نےاپنے بارے میں ایسا محسوس کیا تھا، آریان کے پاپا سے پسند کی شادی کی تھی۔ ہم دو مختلف ذاتوں سے تھے۔ میرے گھر والے نہیں مان رہے تھے، پھر ہم نے خود شادی کرلی، اور پھر جب ہمیں آریان کی بیماری کے بارے میں معلوم ہوا، مجھے لگا میرے ماتا پتا کی بددعا لگی ہے۔ میں ان سے پہلے ہی معافی مانگ چکی تھی، وہ مجھے معاف کرچکے تھے لیکن میری ماں نے ایک بات کہی تھی، وہ بولیں “تم نے
تو اپنی خوشی جی لی اور اب ہمیں اپنا دکھ مرن سمے تک کاٹنا ہے۔ ہم تمھارے دشمن نہیں تھے بس سماج میں سر اٹھا کر چلنا تھا۔تم نے ہمارا سر ہی کاٹ ڈالا۔دھن دولت قسمت سے،مان سمان سماج سے۔”
غلطوہ نہیں تھے،غلط میں بھی نہيں تھی۔ نہ جانے کیوں مجھے ایسا لگتا ہے امرحہ ماں باپ اور اولاد اگر آمنے سامنے ہوں اور دونوں ہی غلط ہوں،اور دونوں ہی ٹھیک۔۔ تو بھگوان ان دو میں سے ماں باپ کا ساتھ دیتا ہے،کیونک جو مان سمان ان کا ہوتا ہے وہ ہمارا نہیں ہوتا۔۔ اس وقت میں نے سوچا تھا۔ میرے پاس رمیش نہ ہوتا ، آریان بھی نہ ہوتا۔ میرے ماتا پتا کے پاس ان کا مان سمان ہوتا۔”
امرحہ جہاں کی تہاں رہ گئ۔
اگلے دنوں دادا نے اس سے بات چیت ہی بند کردی۔ وہ کتنی ہی فون کالزکرتی وہ فون نہ اٹھاتے، لاگ نہ ہوتے،یہ ان کی ناراضگی کا عملی ثبوت تھا،
pg#259
صرف ابھی بات کرنے پر امرحہ کو اس صورت حال کا سامنا تھا۔ اس نے فیصلہ سنا دیا تو وہ جان دے کر ثبوت دیں گے کہ دیکھو دو ضدیوں میں سے بڈھے ضدی کی جیت ہوئ۔
دانیہ نے اس سے بات کی۔
“کیا اہا ہے دادا سے تم نے ایسا۔۔۔ وہ تو کسی سے بات ہی نہیں کر رہے۔”
“میں نے ان سے پیسے لینے سے انکار کیا تھا۔”
“اب وہاں جا کر تم اتنی بڑی ہو گئ ہو امرحہ !کہ دادا کو انکار کرنے لگی ہو، تمھاری تو جان ہے دادا میں ہیں نا؟”
دانیہ طنز کر رہی تھی، یہ بات اسے تھپڑکی طرح لگی۔ وہ علان کیا کرتی تھی کہ دادا اس کی جان ہیں تو اب۔۔ اس جان کا خیال کیوں نہیں رہا اسے۔ وہ اسے جزباتی بلیک میل نہیں کر رہے تھے،بس پرانے وقتوں کے آدمی تھے تو بس اتنی بڑی بات سنبھال نہیں سکے۔
عیسائی ماں۔۔ لاپتا باپ۔۔ گھر نہ خاندان، نام نہ نشان۔۔
وہ ان پیغامات کو کس دل سے عالیان کو دیتی جو کئ راتوں سے وہ لکھ رہی تھی وہ دادا کی جان پر رحم کرتی تو اپنی جان کا کیا کرتی۔ دادا سے بات کرنے سے پہلے ہی تو اس نے ان پیغامات کو عالیان کو دینے کی کوشش کی تھی اور اچھا ہی ہوا اس نے انہیں نہیں لیا۔
———————
“یہ تمھارے لیے چند پیغامات میں نے بہت جرات سے لکھے ہیں پلیز انہیں پڑھ لو۔”
“انہیں بھی سیف روم میں جا کر لگادوـ”
“دنیا دکھاوے کے لیے نہیں ہیں یہ عالیان۔!”
“ان میں جو لکھا ہے وہ میں ہارٹ راک میں سن چکا ہوں۔”
“ان میں جو لکھا گیا ہے ،وہ سنا گیا ہے نہ کہا۔۔”
“امرحہ ۔! اب تمھیں جو کہنا ہے وہ سننے کے لیے میں خود کو موجود نہیں پاتا۔ ”
“تم کس قدر ضدی ہو عالیان ۔”
“ہاں، میں بہت ضدی ہوں۔”
“تم نے کہا تھا،تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔”
“کرتا تھا اور بکواس کر رہا تھا۔”
“جھوٹ بول رہے ہو نا تم۔ جھوٹ۔ ایسی ہی بات تھی تو سائ کے منہ سے پال کے حملہ کا سن کر تم اپ سیٹ کیوں ہوگۓ تھے۔ پال مجھ پر دوبارہ حملہ نہ کردے تم اسٹور سے گھر تک مجھے چھوڑنے کیوں آتے رہے تھے۔ رافیل کو تم نے جھیل میں دھکا دے دیا کیونکہ وہ بار بار مجھے تنگ کر رہا تھا کارل کو تم نے فائر کر کے گرا دیا تاکہ میں ریس جیت لوں۔ اتنے سارے سچ ہیں اور تم جھوٹ بول رہے ہو۔”
” تم خوش فہمی میں مبتلا ہو امرحہ! کارل پر فائر کرنے کے لیے مجھے ویرا نے کیا تھا،وہ جانتی تھی کہ اگر تم ہار گئیں تو دبارہ کبھی کسی سے مقابلہ نہیں کر سکوگی۔۔ وہ ہرحال میں تمھیں جیتا ہوا دیکھنا چاہتی تھی۔ کارل کے ساتھ کوئ بھی یہ کرنے کو تیار نہیں تھا تو میں نے کردیا صرف ویرا کے لیے۔”
“صرف ویرا کے لیے ۔” امرحہ کے کانوں میں سائیں سائیں ہونے لگی۔
“تم نے کبھی یہ غور ہی نہیں کیا کہ دوسرے تمھارے لیے کیا کچھ کرتے ہیں، انہیں تمھاری کتنی فکر۔ تمھیں صرف اپنی نادانی کی فکر ہے۔ پال نے تم پر حملہ کیا۔ مجھے یہ جان کر دکھ ہوا، تمھاری جگہ کوئ بھی ہوتا مجھے دکھ ہوتا۔ کارل نے خاص جا کر پال کو سمجھایا۔ یعنی اسے بھی دکھ ہوا۔ ایسا ہونا نارمل ہے اور جے پیٹرسن کے کہنے پر ہم تین لوگ تمھیں گھر تک چھوڑتے رہے تاکہ پال دوبارہ ایسی حرکت نہ کرے۔ خود جے پیٹرسن کتنی ہی راتیں یہ ڈیوٹی دیتا رہا۔ میری ڈیوٹی تھی امرحہ۔! اور رافیل کو صرف اس لیے دھکا دیا کیونکہ وہ پرانک کا ماسٹرمائنڈ تھا۔ اس نے ماما کو اداس کر دیا تھا۔”
“یہ سب جھوٹ ہے عالیان۔۔ یہ سب تم خود کرنا چاہتے تھے۔ خود۔”
Pg#260
“جو میں خود کرنا چاہتا ہوں وہ صرف اتنا ہے کہ میں تم سے دور رہنا چاہتا ہوں۔”
“جن سے ایک بار محبت کی جاتی ہے ،ان سے نفرت کرنےکاگناہ نہیں کرنا چاہیے ۔”
“جن سے ایک بار دھتکار ملے ان کے پاس واپس پلٹ کر جانے کا جرم نہیں کرنا چاہیے، میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی پریڈ میں تمھارے پیچھے آنا تھا۔ میں تمھارا کھولونا نہیں ہوں امرحہ۔۔!”
“تمھیں کیا پتا میں کس کس کا کھلونا ہوں۔”وہ سوچ کر رہ گئ کھ نہ سکی۔
“یونیورسٹی بھری پڑی ہے جا کر کسی کو بھی دوست بنا لو۔” اس کا انداز کبھی بھی اہیسا نہیں تھا جیسا اب ہو چکا تھا۔
امرحہ اس کی طرف دیکھتی رہ گئ۔۔ “دوست”ہاں وہ دوست۔۔ دوستی ہی تو کر رہی تھی تب بھی۔۔ اب بھی۔
“ٹھیک ہے وہ دادا سے بات کرےگئ ۔” اس نے اپنی اور اس کی آخری ملاقات میں سوچا تھا۔ وہ بات کر چکی تھی اور دادا کے ایسے ناراض ہونے پر سوچ رہی تھی کہ ابھی وقت اس کے ہاتھ میں ہے۔
“وقت اس کے ہاتھ میں تھا۔” یہ اس کا اپنا خیال تھا کیونکہ ” برننگ مین” جانے کے لیے تیار ہوچکا تھا۔ وہ پورا کا پورا جل جاۓ گا آگ کی لپیٹیں اس اے اٹھیں گی اور وہ دیکھتی رہ جاۓ گی۔
“بلیک روک ڈیزرٹ” میں ہونے والے برننگ مین طرز کا فیسٹیول ایک دوسری کمپنی مانسچڑ شھر سے ذرا دور کروارہی تھی۔ یہ فیسٹیول ایک رات پر مشتمل تھا جو بہت بڑے میدان میں ہورہا تھا۔ وہ جاب سے گھر جا رہی تھی کہ این اسے لینے آئ۔ ویرا اس سے پہلے ہی جانے کا کھ چکی تھی لیکن وہ نہیں گئ، وہ اپنے آپ میں اتنی گم صم سی ہوگئ تھی کہ نہ کسی سے بات کرنے کو جی چاہتا تھا نہ ہی ملنے کو۔
“چلو وہاں ساری یونی اکھٹی ہوئ ہوگی۔ مرے جا رہے تھے سب وہاں جانے کے لیے۔”
“عالیان بھی ہوگا وہاں۔؟”اس نے پوچھا۔
“ہونا تو ضرور چاہیے۔”
عالیان بھی وہاں ہوگا وہ سوچ کر این کے ساتھ آہی گئ۔ ایک سو بیس فٹ اونچا برننگ مین میدان کے عین درمیان میں ایستادہ تھا۔ آس پاس آگ کے کئ کرتب ہو رہے تھے ہر طرف آگ ہی آگ تھی۔ کوئ منہ سے نکال رہا تھا، کوئ ہاتھ میں لے کر اچھال رہا تھا، کوئ کمر کے گرد گھوما رہا تھا، کہیں آگ کی سائیکل چلائ جا رہی تھی،آگ سے جلتی تنی رسّی پر چلا جا رہا تھا اور کہیں آگ سے جلتے دائروں میں قلابازیاں لگائ جا رہی تھیں۔ ہر دس قدم پر آگ ایک انئے انداز سے موجود تھی رش بہت زیادہ تھا۔ وہ، این اور این کی ایک دوست کے ساتھ ساتھ گھومتے رہے،وہ عالیان کو ڈھونڈ رہی تھی۔ این نے بھی منہ میں تیل ڈال کر آگ منہ سے نکالی اور ایسا کرتے اس کی بھنوؤں کے بال صفائ سے صاف ہوگۓ۔
“اتنی پیاری لگ رہی ہو اب تم،ویسے ہی تمھاری بھنوؤں میں چار بال تھے وہ بھی تم سے برداشت نہیں ہوۓ۔”این کی دوست ہنسے جا رہی تھی۔ “تم بھی کرو امرحہ۔”امرحہ نے ناں میں سر ہلایا۔
“کب لگے گی اسے آگ۔؟”امرحہ نے پوچھا۔
“بارہ بج کر ایک منٹ پر۔”
“یورپ والے بھی اچھے فارغ لوگ ہیں پتا نہیں کیا کیا کرتے رہتے ہیں۔” امرحہ نے تبصرہ کیا سب بہت انجواۓ کر رہے تھے۔ لیکن اسے کوئ مزہ نہیں آرہا تھا۔
“دنیا ان ہی کھیل تماشوں سے سجی ہے امرحہ ۔۔!”
“اچھا!ویسے تم آج کل کس جاپانی فلسفی کو پڑھ رہی ہو؟ “امرحہ چڑ گئ۔
“این اون کو۔” این نے دانت نکالے جو امرحہ کو اچھے لگے چھوٹے چھوٹے بچو سے۔
“یہ تمھارے دودھ کے دانت ہیں ناں؟”
“نہیں ! دانت کے دانت۔۔” اسنے اور زیادہ دانت نمایاں کر کے کہا۔
“بہت زبان چالنے لگی ہے تمھاری۔” امرحہ ہنس ہی دی۔
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: