Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 41

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 41

“بلکل جیسے تمہاری سائیکل چلتی ہے۔”
امرحہ کی نظر کارل پر گئی جو منہ سے آگ نکال رہا تھا ” آگ ،اگ کو آگ لگا رہا ہے۔۔۔خدا کرے آگ ہی لگ جائے۔۔”
این کارل کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی۔۔ کارل کافی کرتب دکھا رہا تھا آگ سے۔۔۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسے دیکھ رہی تھی۔ سائی بھی اسے وہی مل گیا۔
” تم نے تو کہا تھا تم نہیں اوگی” سائی کچھ خوش نہیں ہوا تھا اس کے وہاں آنے سے۔
بس این لے آئی ۔۔۔ عالیان کو دیکھا ہے تم نے۔۔۔۔ آیا ہے وہ؟
” ایا تو ہے اب وہ پتا نہیں کس طرف ہے۔۔۔تم نے وہ ڈھانچہ دیکھا ہے جس پرسب اپنی زندگی کے پچھتاوے لکھ رہے ہیں۔۔۔پھر وہ ڈھانچہ بھی جلایا جائے گا۔۔۔ آؤ وہاں چل کر لکھیں۔۔۔”
وہ سائی کے ساتھ آگئ ۔۔ ایک روتے بسورتے آدمی کا ڈھانچہ تھا صرف سر جو میدان میں پڑا تھا اتنا بڑا تھا کہ کوئی سو افراد اس پر بیک اپنے پچھتاوے لکھ رہے تھے۔
” میں تا عمر پچھتاؤں گی کہ میں نے تمہارا دل دکھایا، میں تمہارے لیے تکلیف کا باعث بنی عالیان۔۔’
سائی کو وہیں چھوڑ کر وہ عالیان کو ڈھونڈنے لگی وہ تو اسے نظر نہ آیا ویرا اسے پشت سے نظر آگئی ۔ وہ کسی کے کان بات کر رہی تھی اور جب وہ زرا پیچھے ہوئی تو امرحہ کو معلوم ہوا وہ کان عالیان کا تھا۔
دونوں نے سیدھے کھڑے ہو کر منہ سے آگ نکالی ایک ساتھ پھر انکے دو کلاس فیلوز نے نکالی جو کافی دور تک گئی ۔ شاید ان دونوں کے گروپس میں شرط لگی تھی۔
مجمعے میں کھڑی امرحہ اکیلی ہوگئی ۔
جب وہ منہ سے آگ نکالنے سے فارغ ہوچکے تو ویرا نے عالیان کو کھڑے ہونے کا اشارہ کیا اور ہاتھ میں فائر پوئی (fire poi) تھام لی اور اسے اپنے ساتھ تیزی سے گھمانے لگی ۔ آگ کی لہریں اسکے جسم کے ساتھ گول دائروں میں مختلف اشکال میں کئی رنگوں میں بنتی چلی گئیں۔۔وہ اسے کمر کے پیچھے لے گئی، سر سے اوپر، دونوں پیروں کے نیچے سے پھر سر کے اوپر۔۔۔
فائر پوئی اسکے وجود کے ہم آہنگ ہوگئی وہ اتنی تیزی اور کمالیت سے اس کے نے نئے کرتب دکھا رہی تھی کہ لگتا تھا کہ وہ ساری عمر صرف اسی کھیل کو کھیلتی رہی ہے اس نے صرف اسی کی مشق کی ہے۔
اگر وہاں اس کے سامنے عالیان موجود نہ ہوتا تو امرحہ ضرور دادو تحسین سے اسکی طرف دیکھتی ۔۔
لیکن اب جتنی آگ ویرا کے ہاتھ میں تھی اس سے کہیں زیادہ امرحہ کی نظر میں تھی ۔۔۔امرحہ کا دم گھٹ رہا تھا اسکی سبھی حسیں انگشت بدنداں تھیں۔
اب ویرا نے عالیان کے گرد گھومنا شروع کر دیا۔۔
آ س پاس موجود پوئی فیلوز ان دونوں کو دیکھنے لگے ۔۔
امرحہ نے اپنے دل پر آگ کی لپٹیں محسوس کیں۔۔
اس نے زرا غور کیا اور اپنی غلط فہمی دور کرنی چاہی ، لیکن وہ اور بڑھ گئی ویرا نے وہی لباس پہن رکھا تھا جو اس نے پینٹ ہاؤس کے شو کیس سے ڈرا کیا تھا اور جو بن کر اسے اتنا اچھا نہیں لگا تھا وہ ایک دو بار یونیورسٹی پہن کر جاچکی تھی پھر وہ ایک عرصے تک اسکی وارڈروب میں پڑا رہا تھا۔ امرحہ کو لگا وہ اسے پھینک دے گی لیکن اسے پھینکا نہیں گیا تھا۔۔
عالیان کھڑا تھا اور ویرا کے کرتب ختم ہونے میں نہیں آرہے تھے اور پھر وہ رک گئی، عین عالیان کے سامنے، بہت ہی کم فاصلہ رکھ کے۔۔اس نے کچھ کہا۔
عالیان خاموش اسے دیکھتا رہا۔۔
اتنی دور سے۔۔اتنی زیادہ دور سے بھی اسے سننے میں زرا مشکل نہ ہوئی کہ ویرا نے اس سے کیا کہا ہے۔۔
“میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں”میرے ساتھ روس چلو گے پاپا سے ملنے؟؟۔۔بارہ گھنٹے بجے۔۔اور مجمع میں سکوت چھا گیا۔۔ اور پھر بارہ ایک کا گھنٹہ بجا مجمع نے سکوت کو شور سے توڑا
ستر فٹ اونچے ڈھانچے میں آگ بھڑکی اور وہ جلنے لگا۔سر سے گردن گردن سے سینے تک پورے کا پورا آگ نے قیامت کا منظر کر دیا۔جیسے سب جل جانے کا وقت آ چکا ہو ۔
عالیان نے ویرا کے ہاتھ کو نرمی سے چھوا اور مسکرایا ۔
اسی پر بات ختم نہیں ہوئی ویرا نے یونی فیلوز کو تالیاں بجا کر متوجہ کیا عالیان کی طرف اشارہ کیا اور بولنے لگی۔پھر عالیان کی طرف بیٹھ گئی اور دونوں ہاتھ جوڈ دیے۔
اور تیز تیز بولنے لگی انداز بچگانہ بھی تھا دل ربا بھی ۔
یونی فیلوز دلچسپی سے انہیں دیکھ رہے تھے ۔
اور پھر عالیان نے کچھ کہا تو تالیاں بجنے لگی ویرا اٹھ کر مسکرانے لگی۔ایسی مسکراہٹ ویرا کے ہونٹوں پر دیکھائی نہیں دی ۔۔سائی اس کے عین پیچھے گھڑا تو امرحہ یہاں کھڑی کیا کر رہی ہو ۔سائی کی آواز لرز رہی تھی ۔
امرحہ نے اسے دیکھا سائی کی حالت دیکھ کر ڈر گئی ۔
ویرا عالیان سے کیا کہہ رہی ہے تم جانتے ہو نا؟
سائی نے اس سے آنکھیں چرائی تو وہ سمجھ گی کہ جانتا ہے ۔ویرا تمہارے پاس آئی تھی سائی کیا کہا اس نے امرحہ چلا اٹھی۔سائی کھڑا رہا وہ کسی کا راز کسی کو کیسے دے سکتا تھا ۔امرحہ جھٹکے سے پلٹی۔
زندگی میں سب کو اگے بڑھنا ہوتا ہے امرحہ سائی نے نرمی سے کہا ۔امرحہ کے آنسو زمین پر گرنے لگے۔
عالیان اس کے ساتھ اگے بڑھ رہا ہے کہانی کا یہ وہ موڑ تھا جو دل اور آنکھوں سے پوشیدہ تھا ۔
اگر ہم کسی کو نہیں پاسکتے تو ظاہری بات ہے اسے کوئی اور پا لے گا ۔سائی کے لئے مشکل ترین ہو گیا اس کی طرف دیکھ کر بولنا ۔
امرحہ تیزی سے اگے بڑھی
کہاں جا، رہی ہو امرحہ
گھر
اتنی جلدی گھر دیکھو ابھی تو شروع ہوا اس نے اپنی طرف سے اسے بہلانے کی بہت کوشش کی
وہ تو کب کا جل چکا امرحہ رش کو ہٹاتی ہوئی جا رہی تھی سائی اس کے پیچھے لپکا۔لیکن نہیں پہنچ سکا۔ایک چنگاری اڑتی ہوئی اس کے فرشی دوپٹے پر گر گئی ۔
یہ تو ہونا ہی تھا وہ بڑبڑائی
وہ ساری یادیں زہن سے کھرچ ڈالے گی ۔صرف ایک منظر کو ذہن سے مٹانے کے لیے ۔جو اس نے ابھی ابھی دیکھا تھا عالیان اور ویرا ویرا اور عالیان
وہ اس پسند کرتی تھی یہ جانتی تھی اس شادی کے لیے شادی کرے گی وہ نہیں جانتی تگگ مرحہ تمارا دوح پٹہ این چلایا۔
این اسکے پاس آیا دوپٹہ زمین پر رگڑ تھا نظر نہیں آتا
آتا ہے نظر چل کر مرنے لگی ہوں سب آوو ہوو کر رہے تھے چنگاریاں اڈ ری
ہر طرف آگ ہی آگ تھی۔۔
“امرحہ سنو۔۔کیا ہوا ہے تمہیں؟” این نے اس کی حالت پر غور کیا۔
اسے جواب دیے بنا وہ چلی آئی ، آگ سے بھرے میدان کو پار کر کے۔۔۔ اس سے باہر نکل کر اسے ٹیکسی کے لیے دور تک چل کے جانا تھا وہ لمبی سڑک پر پیدل چلنے لگی اس کی پشت پر برننگ مین ایستادہ تھا ۔۔ اسے لگا وہ ہاتھ اٹھا کر اسکی طرف اشارہ کر رہا ہے۔۔۔ وہ دیکھو وہاں بھی کوئی جل رہا ہے اور مجھ سے زیادہ جل رہا ہے۔۔۔ وہ مجھ سے پہلے جل کر راکھ ہو جائے گا۔
اسے پیدل چلنے میں کوئی قباحت نہ ہوئی کیونکہ اسے معلوم ہی نہیں ہو رہا تھا کہ وہ کہاں کیا کر رہی ہے۔
✡ ✡ ✡
اس کے محسوسات چلا رہے تھے کہ اس نے دیر کر دی۔۔ اسکی آنکھ کی پتلی اسے بار بار چند مناظر دکھا رہی تھی۔
وہ جھک کر اس کا ماسک اٹھا رہا ہے۔۔۔ ویرا اس آگے جھکی ہوئی ہے۔۔۔ وہ ہزاروں کی پریڈ میں اسے ڈھونڈ رہا ہے۔۔ وہ ہزاروں کے مجمع میں ویرا کا ہاتھ نرمی سے تھپک رہا ہے۔۔ وہ اس کے کمرے کی کھڑکی سے کود رہا ہے وہ اسی کھڑکی سے رخ موڑے جا رہا ہے۔۔۔
دور۔۔۔بہت دور۔۔۔وہ دور جاچکا ہے۔
اور یہ رات کے آخری پہر کا قصہ ہے۔۔
آنسو ٹپ ٹپ اس کی آنکھوں سے گرنے لگے اس نے باکس کھولا اور سب سے پہلی چیز جو اس کے ہاتھ نے اٹھانی چاہی وہ رول ہوا کاغذ تھا۔ اس نے اسکا ربن کھول کر اپنے سامنے پھیلا لیا گھٹنوں کے بل نیچے ایسے بیٹھ گئ جیسے عقیدت کے پیشِ نظر ایسا کرنا لازم تھا۔
“سویڈن جاتے میں نے ٹرین میں اسے بنانا شروع کیا تھا پھر جہاں جہاں میں گیا میرے ساتھ رہی میں نے ہر خوبصورت جگہ رک کر اسکی نوک پلک سنواری۔۔دریا کے ساتھ چلتے میں نے ان بیلوں میں رنگ بھرے، چار اطراف پہاڑوں میں گھر کر مجھے ان بیلوں میں پھول بنانے کا خیال آیا اور ہزاروں کے ہجوم میں گھومتے میں نے یہ سوچنے اور فیصلہ کرنے میں کافی وقت لیا ، یہ زمین کو چھوئے گی یا نہیں۔۔۔ اور کیا تم نے کبھی پھولوں کو کمر کے گرد لپیٹا ہے دیکھو یہ فراک کے گرد لپیٹے کیسے لگ رہے ہیں۔۔”
اس نے اس تصویر کو ان خوبصورت جگہوں پر بیٹھ کر بنایا تھا جہاں جہاں وہ چاہتا تھا کہ وہ اس کے ساتھ ہو۔۔۔وہ اسے ساتھ لے گیا تھا۔۔۔
“سوئیڈن سے صرف یہی لائے ہو میرے لیے۔۔؟”
“یہ صرف نہیں ہے۔۔” اسکا منہ بن گیا وہ بہت اداس ہو گیا۔
“تم نے کبھی آرٹ کی کوئی کتاب نہیں پڑھی ، ہر تصویر بولتی ہے۔” وہ اداسی سے گویا ہوا ۔ جو کہانی وہ لکھ کر لایا تھا امرحہ نے اسے نہیں پڑھا تھا۔
“مجھے انسان کی زبان سمجھ میں اجائے یہی کافی ہے۔”
اداسی کو جھٹک کر اس نے ایک نئی داستان کراس بیگ میں سے نکالی اور ایسا کرتے وہ بہت خوش تھا۔۔
اداسی ختم ہو چکی تھی جیسے وہ جانتا تھا کہ یہ جادو ضرور چلے گا۔
وہ ایک لکڑی کا پل تھا جو بہت بڑی جھیل کے اوپر بنا تھا۔ پل کے اس طرف ایک لڑکا کھڑا منہ پر ہاتھ رکھے کسی کو آواز دے رہا تھا پل دوسری طرف جنگل اور پہاڑ تھے۔ ایک درخت کے پیچھے کھڑی ایک لڑکی اپنی ہنسی دباتی چھپی کھڑی تھی۔
وہ کتنی زبانیں اور داستانیں اپنے ساتھ لایا تھا، وہ اسے کچھ سنا رہا تھا کیا کچھ بتا رہا تھا۔ جیسے ہی اس نے گھاس پر اس ماڈل کو نکال کر رکھا امرحہ نے اپنا سانس گم ہو تے پایا۔
“تو کیا وہ اس سے سوال کردیگا۔۔اور اسے انکار کر دینا ہو گا جیسے کہ اس نے سوچ رکھا ہے یہ خواب اتنی جلدی ختم ہو جاتے ہیں پھر وہ ایسے اس کے آس پاس نہیں رہے گا
یہ کس بچے کے لیے لائے ہو اس نے سنگ دلی سے اس کا خواب توڑ دیا ۔
بچے؟؟؟ وہ دیر تک سوچتا رہا جیسے اس کا نھنا سا دل بھی ٹوٹ گیا ہو زمین سے پھوٹتی پھولوں سے لدی بیلیں دلکش رنگوں میں لپٹی۔
لڑکی لمبے بال کندھے پر بکھرے آ رہی تھی
وہ امرحہ تھی
کیسی ہے؟ اس نے شوق سے پوچھا اس متعلق پوچھا جس کی کہانی وہ بنا کر لایا تھا
اچھی ہے
تم زرہ تفصیل سے دیکھو اسکی آواز کمزور ہو گئی ۔
بہت تفصیل سے دیکھ چکی اس نے لا پروائی سے کہا ۔تصور میں ایک سایہ لڑکی کی طرف آتا نظر آ رہا تھا جو پھولوں کا ہی حصہ لگ رہا تھا جیسے پہلی نظر دیکھا نہیں جا سکتا تھا امرحہ نے خود کو دیکھنے سے پہلے اس کو دیکھ لیا وہ عالیان تھا جس پر اس نے انگلی نہیں رکھی تھی ۔اس پر امرحہ نے نظر رکھ لی تھی ۔
اسے ایک پل لگا جیسے وہ سب سمجھ گئ تھی ۔وہ اس کھڑکی کے نیچے کھڑا مسکرا کیوں کر رہا تھا ۔وہ یونی میں اسکے پیچھے پیچھے کیوں رہتا ہے وہ کئ سے گزرے وہ سامنے آ جاتا ہے ۔وہ شو اسٹور میں اس کی منت کیوں کرنے آیا تھا ۔مانچسٹر میں پہلی برف دیکھتے ہی اس اپنے چاروں اطراف محسوس کرتے ہی سب جان لیا تھا وہ کہانی سمجھ گئ تھی جو اسے سنائی نہیں گئی تھی ۔
اسی وقت وہ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی وہ اپنے پیچھے اس کے قدموں کی چاپ نہیں سنتی تو بے چین ہوجاتی۔
جب وہ سامنے نہیں آتا تو اسے سامنے آتا کوئی اچھا نہیں لگتا۔وہ اسے ڈھونڈ نہ لیتا تو یہ اس کے پاس پہنچ جاتی
تو یہ کھلونا نہیں ہے؟
اس نے مزید اس کا دل توڑ دیا وہ اس کی مشق بہت پہلے سے کر رہی تھی ۔نہیں یہ ایک تصویر کی عملی شکل ہے امرحہ اس چھوا جا سکتا ہے بدلا بھی جا سکتا ہے
دیکھو پل کے اس طرف لڑکا کھڑا لڑکی کو آواز دے رہا ہے جس کے ساتھ مل کر مچھلی کا شکار کرنا ہے اسے ۔اور ہاتھ پکڑ کر تیتلیوں کے پیچھے بھاگیں گے ۔
تو کھلونا ہی ہوا نا تیتلیوں کے پیچھے بچے ہی بھاگتے ہیں
بچے نہیں امرحہ مصوم دل تیتلیوں کے پیچھے بھاگتے ہیں
کیا تمارا دل نہیں چاہتا کے تمارا لاہور یہ مانچسٹر سارا گھر تیتلیوں سے بھر جائے رنگ برنگی تتلیوں سے ہمارے اگے پیچھے اڑیں
تم بزنس کہ اسٹوڈنٹ ہو نا عالیان؟
میرا دماغ بزنس اسٹوڈنٹ ہے دل نہیں ۔تم کتنی معمولی بات بھی نہیں سمجھتی تم۔ میں تمھیں ہر بات تفصیل سے سمجھا سکتا ہوں۔۔ اس نے حوصلہ نہیں ہارا۔ ہر بات وہ تفصیل سے سمجھ چکی تھی اس وقت وہ یہی چاھتا تھا نا کہ پل کے اس طرف کھڑا عالیان جو اسے آواز دے رہا ہے تو اس کی آواز پر وہ درخت کی پیچھے سے نکل کر چلتی اس کے پاس آجاۓ اور کہے۔
“لو میں آگئ تم اپنی بے سُری آواز کو تھوڑا سُریلا کر کے آواز نہیں دے سکتے۔؟”
“جب تم میرے پاس نہیں ہوتی تو یہ
بے سُری ہوجاتی ہے ۔۔ اب سنو کیا اس میں سُر آۓ ”
“ہاں اب کچھ بہتر ہےـ” ہیٹ کو سر پر جماۓ وہ اس سے اگے چلے گی ۔۔
“اس ٹوکری میں کیا ہے۔؟” وہ اس کے پیچھے آۓگا۔۔ ضرور آۓگا۔۔
“چیری۔”وہ مڑے بیغر ادا سے کہے گی۔
“اتنی سی چیری۔” اسے صرف بات کرنے کا بہانہ چاہیے ہوگا۔
“میں اتنی ہی کھتی ہوں۔۔ ہاہاہا۔۔ تمھارے لیے نہی لائ۔۔”
“لیکن میں تو تمھارے لیے لایا ہوں۔”وہ لینے سے زیادہ دینے کے لیے تیار رہے گا۔
“کیا۔؟” اب وہ پلٹے گی اسے دیکھے گی۔
“یہ ۔۔” اس نے مٹھی کھول دی اور تتلی اڑتی ہوئ اس کے سر پر سے گزر گئ وہ سمجھ گئ کہ وہ کیا چاہتا ہے۔۔ تتلیوں کے پیچھے بھاگنے کا بہانا کرتے دراصل اس کے پیچھے بھگنا۔۔ اسے تتلیاں نہیں چاہیں تھیں، ان کے پیچھے بھگتی امرحہ چاہیے تھی۔۔ اسے مچھلیوں سے مطلب نہیں تھا اسے اس کے ساتھ بیٹھنے سے غرض تھی۔۔ اسے پھول اچھے لگتے تھے اگر وہ اس کی پوشاک میں گندهے ہوں، اسکی کمر سے لپٹے ہوں یا سر پر تاج کی صوررت رکھے ہوں۔
“یہ جو تمھیں کھلونا لگ رہا ہے جس دن یہ تمھیں کھلونا نہ لگے مجھے بتانا۔۔”
“اچھا! تم کیا کروگے۔؟” اس کا دل ڈوب گیا۔
“جس دن اسے سمجھنے کی سمجھ لے آؤ گی اس دن یہ سوال نہیں کروگی۔ ”
“اگر مجھے کبھی بھی سمجھ نہ آئ تو۔” اپنے خوف کو اس نے زبان دے دی۔
“ایسا ہونا ممکن نہیں۔۔ یہ پھر کوئ بددعا ہی ہوگی جو تمھاری عقل کو دی گئ ہوگی۔” بددعا اسکی عقل کو نہیں قسمت کو دی گئ تھی۔ اس نے درخت کے پیچھے کھڑی لڑکی کو لے جا کر اس کے ساتھ کھڑا کر دیا۔۔ دونوں کو جھیل کے کنارے بیٹھا دیا۔۔سورج ڈھلنے لگا۔۔ وہ وہی بیٹھے رہے۔۔ وہ یہ چاہتا تھا تو وہ بھی یہی چاہتی تھی۔۔ لیکن اسکا چاہنا بند کمرے میں ایک عملیتصور کے ساتھ ہی کر سکتی تھی، اس نے مانا کہ وہ ایک نحس وجود ہے، وہ عالیان کے لیے نحوست لے کر آئ تھی۔ ایک ایسے شخس کے لیے جو بچوں سے زیادہ معصوم تھا، جو اس کے لیے نت نئی کہانیاں بنتا تھا، اور ایسا کرنے وہ کتنی ہی راتیں جاگتا رہا ہوگا۔
———————
“اچھا چلو ایک کہانی سنو۔” رات کو یہ بہانا کرتے کہ وہ بس اس کے اسٹور کے سامنے سے گزر رہا تھا وہ گھر تک کے لیے اتفاق سے اسکا ہم راہی بن گیا اور راستے میں اسے کہانی سنانے لگا۔ ”
تم سب کو کہانیوں کا اتنا شاق کیوں ہے۔ سنتے بھی ہو۔۔ سناتے بھی ہو۔۔”
کہانی کا بہانا کر کے رات کو وہ اس سے ملنے آیا تھا یا کہانی کے لیے بہانا بنایا تھا، امرحہ اس سے پوچھ لینا چاہتی تھی۔
“ہم فرشتے ہیں نا۔!”
“فرشتے۔”
“ہاں،بچے فرشتے ہی تو ہوتے ہیں۔۔” شٹل کاک اے کتنی ہی دور وہ اسے لے کر بس سے اتر گیا۔
“کتنےاسٹاپ پہلے اتر گۓ تم!” وہ چلا اٹھی۔
ﮈاکٹرز کہتے ہیں رات کو چہل قدمی کر کے سویا جاۓ تو بہت گہری نیند آتی ہے.
یقینا ان ﮈاکٹرز میں سے ایک ﮈاکٹر عالیان ہوں گے
ہاہاہا تمھیں میری باتوں پر یقین کرنے کی عادت ﮈالنی چاہیے
مجھے تمھارے جھوٹ پکڑنے کی کوشش کرنی چاہیے.چلو کہانی سنو.ایک جادوگرنی نےایک شہزادے کو جادو سے غائب کردیا.غائب مطلب وہ موجود ہے.لیکن کسی کو دکھائی نہیں دیتا وہ سن سکتا ہے لیکن بول نہیں سکتا.اسے ایک شہزادی سے محبت ہوتی ہے.لیکن شہزادی اسے لاعلم ہوتی ہے.جادوگرنی شہزادے سے کہتی ہے کہ اگر اس نے شہزادی کو اپنی محبت کا یقین دلا دیا.تو وہ اس کے جادو سے آزاد ہو جاۓ گا.
اچھا پھر…?
“پھر اب تم پوری کرو”
کیا?
“کہانی…”
“پر کہانی تو تم سنا رہے تھے”
“یہ ایسی ہی کہانی ہے نا …آدھی سنانے والے کی آدھی سننے والے کی…اب تم یہ بوجھو شہزادہ کیسے شہزادی کو اپنی محبت کے بارے میں بتائے گا…”
اس کے سرہانے پھول رکھ کر…”
پھولوں سے اسے کیسے یہ معلوم ہوگاکہ یہ وہی رکھ رہا ہے..”
بہت عجیب پہیلی اور غریب کہانی ہے…
کوشش تو کرو.
کبھی بہت فارغ ہوئ تو کرو گی.اور ﮈاکٹرز ٹھیک کہتے ہیں مجھے بہت گہرینیند بس آنے ہی والی ہے…”اس نے اسے خاموش کروا دیا جبکہ وہ فورا کہانی بوجھ چکی تھی..
شہزادہ پیغامات لکھے گا اور اسےکسی ایسی جگہ باندھ دے گاجہاں سے شہزادی کا گزر ہوتا ہے.چلو مان لیتے ہیں شہزادی کے کمرے کے باہر لگے درخت کے ساتھ,رات کے وقت وہ ان کے ساتھ گھنٹیاں باندھ دے گااور ان گھنٹیوں کو ہلاۓ گا شہزادی نیند سے جاگ جاۓ گی اور اسے جاگے ہی رہنا پڑے گاجب تک وہ درخت کے پاس آکرپیغامات پڑھ نہیں لیتی.وہ درخت کی شاخوں میں جا بجا بندھے پیغامات کو پہلے حیرت سے دیکھے گی.پھر وہ انہیں ایک ایک کر کے پڑھے گی.اور پھر ہر رات کو وہ گھنٹیوں کے بجنے کا انتظار کرے گیاور پھر ایک دن شہزادہ جادو سے آزاد ہو جاۓ گا.
اس رات وہ سو نہ سکی ایسی کہانی سن کر نیند کیسے آسکتی تھی.اور آخری پہر کی اس رات اسنے اسکیچ کے پیچھے وہ ساری کہانی لکھ دی.لیکن یہ کیا جادو الٹاہوگیا.اب وہ سن رہا تھا نا ہی بول رہا تھااور یہ سب خود اسکی اپنیوجہ سے ہوا تھاوہ سب سمجھتی تھی اور انجان بنتی تھی اسے یہ فجر حاصل ہو گیا تھا کہ کوئی اس پر ایسے فدا ہے.اور اس نے خود ایسی خود غرضیسیکھ لی کہ اسے فاصلہ رکھا نہ اپنے پلان کے مطابق اسے پہلے یہ بتایا کہ وہ پاکستان میں اپنی بات پکی کروا کر آئی ہے.
اس نےاسے انکار کیا نہ اقرار کے قابل سمجھا.اس نے اپنے اس پورے پلان پر بھی ٹھیک سے عمل نہیں کیا.جس کے تحت انہیں صرف دوست رہنا تھا..اگر وہ اسے ہر حال میں انکار کرنے کا ارادہ ہی کیے ہوۓ تھیتو اسے خود کو اتنا آگے نہیں لانا چاہیے تھا..ایک بار میں سکس کے مڑٹرم اگزیمز میں فیل ہو گئی.اتنا روئی اتنا روئی کہ بے حوش ہو گئی,پھر ہوش میں آئی پھر روئی اور پھر بے حوش ہو گئی… میرے رونے کی وجہ یہ تھی کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں فیل ہوگئی ہوں.خواب سچا ہو گیا.یعنی اب وہ خواب بھی سچا ہوگا.جس میں میری گردن کٹی ہوئی ہےاور سمندر کے پانی کے اوپر تیر رہی
عالیان اسکی شکل کی طرف کئی لحظے دیکھتا رہا اور پھر اسکے قہقہے تھمنے میں آدھے گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگا اس نے سر پر ہاتھ رکھ لیا۔۔ہنس ہنس کر اسکا سر درد کرنے لگا تھا۔
اسکی ایسی ہنسی دیکھنے کے لیے وہ اپنے ماضی کو کھنگال کر چند واقعات اسکے روبرو لائی تھی۔۔ وہ خود کو بھی ٹھیک سے یہ بتا نہیں سکتی تھی کہ جب وہ اس کی کسی بات پر ہنستا ہے تو اسے لگتا ہے کہ اس نے ثواب کمایا ہے۔۔۔اسکی بھوری آنکھیں پانی سے بھر جاتی ہیں تو مشرقی ساحرہ کو اپنے سحر پر پیار آنے لگتا ہے۔
وہ ہنسنے میں ایسے مصروف رہتا ہے کہ وہ اسے دیکھنے میں مشغول ہو جاتی ہے۔
“کیا تم مجھے ہمیشہ ایسے ہنسا سکتی ہو؟” وہ ہنسی کے درمیان پوچھتا ہے۔
وہ خاموش ہو جاتی ہے جیسے سوال سنا ہی نہیں۔
ایسے وقت وہ دوسرے حصے والی امرحہ بن جاتی ہے۔جسے معلوم ہے کہ انہیں ہمیشہ ساتھ نہیں رہنا۔
وہ بیک وقت خودغرضی اور خود ترسی کی انتہا پر پہنچ جاتی ہے۔
وہ خود سے بھی اقرار نہیں کرتی کے وہ کیا چاہتی ہے اور۔۔۔
چینی خاتون نے ربن دیتے ہوئے اس سے پوچھا ” اگر تم شادی شدہ ہو یا جلد ہی شادی کرنے والی ہو یا تم جانتی ہو کہ تمہیں کس سے شادی کرنی ہے تو تم اسکا نام سن پر لکھوا سکتی ہو۔۔”
امرحہ نے خاتون کو دیکھا اور مسکرا نہ سکی۔ کیا وہ اس کے دل کا چور پکڑنے کو ہیں۔
“میں چینی میں تم دونوں کے نام لکھ دوں گی” وہ پھر سے مسکرائیں جیسے وہ چوری پکڑ چکی ہوں۔
اس سے سوال کیا جارہا تھا۔۔اسکا سر گھومنے لگا جو کام خود سے بھی چھپا کر کیا جارہا تھا۔۔اسکا اقرار کسی کے سامنے کیسے کر لیتی وہ پلٹ کر جانے لگی پھر جیسے اس نے اسے بدشگونی جانا۔ جب دل میں کوئی ہو تو دل سب شگونوں اور بدشگونوں کے حساب رکھنے لگتا ہے۔۔وہ خطرہ مول لینا نہیں چاہتا۔۔۔پھر وہ تہوار کا موقع تھا اور پھر تہواروں پر ویسے ہی بہت سی اجازتیں دے دی جاتی ہیں تو اس نے خود کو یہ اجازت دے دی۔۔اور اسے یہ بھی لگا کہ آسمانوں سے اس سے پوچھا جارہا ہے۔
“کس کا نام لکھوانا ہے اپنے نام کے ساتھ امرحہ؟”
وہ جو پلٹ گئی تھی واپس پلٹی”میرا نام امرحہ ہے اور اس کا۔۔۔”
“اس کا؟” خاتون مزید مسکرانے لگیں۔
“وہ۔۔۔اسکا۔۔۔عالیان۔۔”
خاتون نے سر کو جنبشِ دی اور دونوں کے نام چینی میں لکھ دیے۔
ان دو ربن کو لے کر اسکا چلنا دوبھر ہو گیا۔ اس کے دل کی دھڑکن اتنی تیز ہو گئی کہ اسے لگا کہ وہاں موجود ہزاروں لوگ جو ادھر اُدھر دیکھ رہے ہیں تو دراصل اس کی دل کی دھڑکن کو تلاش کر رہے ہیں۔۔۔اسی کو لیکر سرگوشیاں کر رہے ہیں۔۔۔اسی پر مسکرا رہے ہیں۔۔۔اور سر ہلا کر اسے بتانا چاہتے ہیں کہ ہاں ہم جان گئے ہیں تم کیا کر آئی ہو۔۔۔دیکھو تم پکڑی گئی۔۔
وہ مسکرائی اور مسکراہٹ غائب بھی کرلی ۔۔۔اسے یہ بھی لگا کہ اس نے کوئی بڑا گناہ کر لیا ہے۔۔ اور یہ بھی کہ زندگی میں اب اسے ایسی چیز ملی ہے جو اتنی قیمتی ہے کہ اسے دنیا کا ہر محفوظ کو نا غیر محفوظ لگنے لگا ہے اور اسے لگنے لگا ہے کہ دنیا میں ہر کوئی اس کے ان ربنز کو چرا لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔۔۔ اگر عالیان ڈریگن پریڈ میں آتا تو وہ اگلے کئی دنوں تک اس کا سامنا نہ کرتی ۔۔۔ چینی اسٹالوں پر گھومتے اس بہت کچھ دیکھا۔۔۔ادھر عالیان۔۔۔ ادھر عالیان۔۔۔،ہر انکھ،ہر انداز،ہر مسکراہٹ عالیان، اس خود کو شیشے میں دیکھا اور وہاں بھی عالیان کو پایا۔۔۔
“ہم اچھے دوست بنے رہے گے پھر میں پاکستان pg#268
“چلی جاؤ گی اگر اس نے کچھ کہا تو میں کھ دوں گی کہ میری بات میرے کزن کےساتھ طے ہے۔”
یہ تھا اس کا پلان جو اس نے ترتیب دے رکھا تھا اور اس پلان کی وجہ یاد بنی تھی جو اسے عالیان کو دیکھ کر آیا کرتی تھی۔
——————–
“جب تک اسے کوئ نوکری نہیں مل جاتی۔۔ تم اسے رکھ لو واجدـ”
“جب ایک بار کھ دیا نہیں ۔۔ تو نہیں ۔”
“کیوں اتنے انتہا پسند بن رہے ہو۔۔؟”
“جی میں ہوں انتہا پسند۔۔ اور کیا سننا ہے مجھ سےـ”
“انسان کو اتنا سخت دل نہیں ہونا چاہیے۔”
“میرے اپنے اصول ہیں بابا ! آپ مداخلت نہ کریں بابا۔۔!”
“اصول ہیں شریعت نہیں کہ بدلی نہ جا سکے۔”
“شریعت ہی سمجھ لیں۔”
“شریعت ہی سمجھ لیں ۔”یہ جملہ اس کے کانوں میں اس وقت ضرور گونجتا جب جب اس کی نظر عالیان پر پڑتی۔
ان کی کالونی کا چوکیدار عیسائی تھا ، اپنے بیٹے کی نوکری کے لیے پریشان تھا جو ایک ٹانگ سے معزور تھا اور صرف بیٹھنے والا ہی کام کر سکتا تھا۔ اس کے دو بچے تھے اور اس کے گھر کے حالات ٹھیک نہیں تھے، جہاں وہ کام کرتا تھا وہ نوکری کسی وجہ سے جاتی رہی۔
چوکیدار دادا کے پاس کئی بار آیا تھا کہ بابا اسے عارضی طور پر اپنی شاپ پر رکھ لیں لیکن بابا نےلاکھ منت پر بھی نہیں رکھا۔ چند ہزار دے دیۓ کے اس کی امداد کر دیں۔
“امداد ہی لینی ہوتی تو نوکری کےلیے تڑپ نہ رہا ہوتا۔” دادا نے پیسے واپس کر دیے۔
جو اپنی شاپ پر ایک عیسائی لڑکے کو ملازم نہیں رکھ رہے تھے وہ ایک عیسائی عورت کے بیٹے کو گھر میں داماد ہونے کی حیثیت سے گھسنے دیتے۔ جسے نوکری نہیں دی تھی اسے بیٹی دیتے۔ جس کے لیے ضد نہیں توڑ رہے تھے اس کے لیے روایت توڑتے؟
وہ عالیان کو پاکستان لے جاتی اور اس کی تزلیل کرواتی۔
اور رات کے آخری پہر کی اتنی ہی کہانی ہے کہ گھٹنوں کے بل وہ زمین پر جھکی اا تصویر کو سینے سے لگاۓ رو رہی ہے،جس میں نظر آتے اس کے مہیب عکس کو اس نے پینسل سے گہرا کر لیا تھا۔ وہ ڈریگن کے ماسک تلے بھی روتی رہی تھی۔ وہ جیسے جان گئی تھی کہ اب اسے رونا ہی ہے۔ وہ روتی رہی۔۔ روتی رہی کیونکہ وہ جانتی تھی اسیے اس سے الگ ہی رہنا ہے۔ وہ اسے دوستی کے لیے منا لے گی، محبت تک بات نہیں لاۓ گی۔
لیکن اب اس رات برننگ مین کو اپنی پشت پر دور چھوڑتے وہ بات محبت تک لے آئ تھی۔ اس نے اس بار محبت کا ترازو ہاتھ میں پکڑا تھا، اور دونوں طرف عالیان کو بیٹھایا تھا۔
خوف کو دل میں ہی لیے وہ بےخوف ہو کر آگے بڑھی تھی۔ ہاں اب تو۔۔ اب ہی تو اس نے وہ دھن تشکیل دینی شروع کی تھی جو عالیان کے وجود سے پھوٹتی روشنی سے مل کر رقص کناں ہونےکو تھی۔ اب ہی تو اس نے اس کی آنکھوں پر تنی کمانوں کے کنارے سے جا ملنے کی ٹھانی تھی۔ اس نے انہیں تصور میں کتنی ہی بار اپنی پوروں سے چھوا تھا۔ عالیان کو روک کر اسے ساکت کر کے اب ہی تو اسے سامنے بیٹھا کر دیکھتے رہنے کا کنول آسن جمایا تھا۔
سسکیوں نے سناٹے سے ہمکلام ہونا چاہا۔ وقت نے بےدردی سے بڑھ جانا چاہا۔
تقدیر نے ترحم کے آنسوں ٹپکاۓ۔
اندھیرے، آگے سے روشن ہوتے اس راستے پر چلتے “خلیفہ ” نے اپنی داڑھی کو بھیگ جانے دیا۔
ساری عمر دیکھتے رہنے سے اس کا جی نہیں بھرنے والا تھا۔۔اب وہ آخری بار دیکھ آیا تھا۔ وہ جو عشق مجازی میں آقا تھا وہ عشق حقیقی کی باندی کو چھوڑ آیا تھا۔۔۔
اب وہ محبوب کے محبوب کو پانے نکلا تھا۔۔۔رات کے ایسے آگ آگ ہوتے پہر میں لامنزل چلتے خلیفہ نے ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔۔۔اسکا دل دائمی جدائی کے خوف سے کرلا رہا تھا۔۔۔اسکی سیاہ داڑھی سفید ہونے جارہی تھی۔
“اور عشق۔اس پر یہ جائز نہیں کہ غفلت برتی جائے۔۔”
نار کو پیچھے چھوڑتے نار کو وجود میں لیے اسے لگا وہ تب سے چل رہی ہےجب سے پیدا ہوتی ہے۔۔۔ آخر اسکا سفر کب ختم ہوگا۔۔۔ہوگا بھی یا نہیں۔۔۔اس کے پیروں کے ساتھ اسکے آنسوؤں نے جو سفر کیا وہ کہاں جاکر رکے گا اب۔۔۔
کئی ٹیکسیاں اسکے قریب سے گزر گئیں اس نے کوئی ایک بھی نہیں لی۔۔وہ کوٹ کے کالر سے اپنی آنکھیں رگڑتی رہی۔۔اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔وہ کئی بار گرنے لگی تھی۔۔اسے اپنی آنکھیں صاف ہونے میں نہیں آرہی تھیں۔
اسکے کانوں میں لفظوں کی دھمال مچی تھی۔۔
” مجھ سے شادی کرو گی امرحہ۔۔؟” مجھ سے شادی کرو گی امرحہ؟ شریعت ہی سمجھ لیں۔۔ حسب نسب لے کر بیٹھنا۔۔اسے ایک شہزادی سے محبت ہے لیکن شہزادی اس بات سے لاعلم ہے۔۔میرے ساتھ روس چلو گے پاپا سے ملنے۔۔میں تمہارا کھلونا نہیں ہوں ۔
امرحہ۔۔اب تمہیں جو کہنا ہے وہ سننے کے لیے میں خود کو موجود نہیں پاتا۔۔۔جن سے ایک بار دھتکار ملے ان کے پاس پلٹ کر جانے کا جرم نہیں کرنا چاہیے۔۔”
اور اسکا وہ گیت جو پورا بنایا گیا تھا نہ آدھا ، وہ سڑک پر اسکے قدموں تلے بکھرتا چلا گیا۔۔لفظوں کی دھمال میں کرلانے لگا۔
“آغاز بہار کی آمد ہے۔۔”
سانسیں معطر ہونے لگی ہیں
مرتسم ہے دھنک بھی آنکھوں میں
نیا جہاں دل میں سجنے لگا ہے
اب وہ سجنے لگا ہے۔۔”
“ٹیکسی کو وہ بمشکل روک کر وہ اس میں بیٹھ سکی اور گھر آگئی۔۔اور اس سامان کو پیک کرنے لگی جسے ساتھ لے کر پاکستان جانا تھا۔ ۔ ۔اپنے سامان میں اس نے سب سے پہلے چھپا کر رکھے باکس کو باہر نکال کر رکھا۔۔۔وہ پہلی فلائٹ سے ہمیشہ کیلئے پاکستان جانے کے لیے خود کو تیار کر چکی تھی۔۔کیونکہ وہ جان چکی تھی اس نے اس شخص کو کھو دیا ہے جسے اب کوئی اور پاچکا ہے۔
امرحہ زندگی میں کبھی عالیان کو دیکھ سکے گی؟
کیا عالیان ہمیشہ کے لیے امرحہ کو اپنی زندگی سے نکال چکا ہے؟ امرحہ اسکے بغیر کیسے جی پائے گی؟

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: