Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 42

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 42

بعد امرحہ کو اپنی رہائش اور اپنے اخراجات کا خود بندوبست کرنا ہوگا۔ یہ سب باتیں برطانیہ پہنچنے کے بعد اسے دائم بتاتا ہے۔ دادا جی امرحہ کے لیے پیسہ اکٹھا کر کے برطانیہ بھجواتے ہیں۔۔باقی اسے خود اپنے بل بوتے پر کرنا ہو گا۔ عذرا،شرلی اور للی کول سے اسکی ابتدائی ملاقات ہوتی ہے۔
امرحہ پڑنے کے ساتھ ساتھ ایک کافی شاپ پر جاب کرنے لگتی ہے اور لیڈی مہر کے گھر اسکی رہائش کا بندوست بھی ہوجا تا ہے۔۔ لیڈی مہر بے اولاد خاتون ہیں۔ انہوں نے شٹل کاک نامی اپنے ہاسٹل نما گھر میں مختلف بچوں کو اولاد کی طرح رکھا جاتا ہے۔۔انہی میں ایک عالیان مارگریٹ ہوتا ہے۔۔وہیں سادھنا، ویرا اور این اون سے اسکی دوستی ہو جاتی ہے۔ جاب کے دوران وہ ڈیرک کے ساتھ مل کر ڈاکومنٹریز فلم بنانے لگتی ہے۔
اسی دوران امرحہ کے بابا جنکی اعظم مارکیٹ میں قالین کی دوکان ہوتی ہے آگ لگ جاتی ہے جس سے انکا بیس پچیس لاکھ کا نقصان ہو جاتا ہے۔ انہیں اٹیک ہو جاتا ہے۔
امرحہ انہیں تسلی دیتی ہے اور ڈاکومنٹری فلم سے ملنے والے پیسے ان کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروا دیتی ہے۔ اسکے علاؤہ لیڈی مہر بھی اسے ایک چیک دیتی ہے۔ امرحہ وہ رقم بھی انہیں بھجوا دیتی ہے۔ امرحہ کے والد بہت خوش ہوتے ہیں۔ امرحہ اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑی ہوتی ہے جب عالیان مارگریٹ کسی سپائیڈر مین کی طرح اسکی کھڑکی میں جھانکتا ہے۔ امرحہ کی چیخ نکل جاتی ہے۔
عالیان بتاتا ہے یہ اسکا گھر ہے، وہ اسکے کمرے کی کھڑکی سے کود کر باہر نکل گیا، تھوڑی دیر بعد گھر میں آوازیں گونجنے لگی تو سادھنا نے بتایا لیڈی مہر کا بیٹا آیا ہے۔
وہ لیڈی مہر کے کمرے میں گئی تو اس نے دیکھا کہ وہ بیڈ پہ بیٹھا لیڈی مہر کو کیک کھلا رہا تھا۔۔ اسے یاد آیا ایک بار لیڈی مہر نے اسے بتایا تھا کہ انکا بیٹا بھی اسی یونیورسٹی
میں پڑھتا ہے اور بہت قابل ہے۔
امرحہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا اسکا نام عالیان تھا اور اسکی ماں کا مارگریٹ۔۔اسے عجیب سا لگا۔۔ناجائز؟؟
دوسرے دن لیڈی مہر کی سالگرہ تھی جو انکے بچوں نے بڑے اہتمام سے منائی۔۔انہوں نے امرحہ کو عالیان کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے ایک ادارے سے لیا تھا اور بڑی تندہی سے اسکی تربیت کی۔۔
امرحہ کو افسوس ہوا اسکی اماں نے کبھی بھی بیٹوں کی تربیت پر توجہ نہیں دی تھی۔۔
ویرا کا ساتھ امرحہ کو احساس دلا رہا تھا کہ عورت بھی بہادر ہوسکتی ہے۔ عالیان کی توجہ نے امرحہ کو ایک عجیب احساس سے دو چار کر دیا، وہ لاشعوری طور پر عالیان سے متاثر ہو رہی تھی۔
ہاٹ راک میں امرحہ اور ویرا کی باتیں ریکارڈ کر کے چلانے پر امرحہ دیر تک اس سے ناراض ہو جاتی ہے۔۔ امرحہ کو شدت سے احساس ہوتا ہے کہ عالیان کے بارے میں اس نے یہ کہہ کر اچھا نہیں کیا۔
ہاٹ راک کیفے کے باہر امرحہ اسکا انتظار کرتی ہے مگر اس سے صحیح سے بات نہیں کرتا ۔ رات کو عالیان ویرا کو شٹل کاک چھوڑ جاتا ہے۔ امرحہ کو یہ بات بری لگتی ہے کہ عالیان اپنی سائیکل پر ویرا کو چھوڑنے ایا ۔ ویرا امرحہ کو بتاتی ہے وہ گر گئی تھی اور اس کے پاؤں پر چوٹ آئی تھی۔ اس لیے عالیان اسے گھر تک چھوڑنے آیا تھا۔۔
امرحہ ہمت کر کے عالیان سے دوبار ملنے جاتی ہے ۔ وہ اسے ٹوئیٹ میں چاکلیٹ دیتی ہے۔ عالیان حیران ہوتا ہے۔۔ پھر اسکی ٹوئیٹ لینے سے انکار کر دیتا ہے۔۔ اس پر امرحہ کہتی ہے اگر تم ٹوئیٹ دو تو میں ابھی بھی تیار ہوں۔
عالیان لاجواب ہو جاتا ہے۔
اس کے بیگ بیڈ پر رکھے تھے وہ بری طرح سے ہانپ رہی تھی ۔تیاری ہو چکی تھی یہاں سے جانے کی ۔
وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کی طرف دیکھنے سے گریز کر رہی تھی ۔یہاں سے کبھی وہ کودا تھا جزبات کے کنارے پر کھڑی تھی جہاں سے سے ٹوٹا نظر آتا تھا
خود پر حملہ آور ہو چکی تھی ۔اپنی کپکپی پر قابو پانے کے لئے اپنے گرد اپنے پازو لپیٹ لئے تھے
عروج پیچھے رہ چکا تھا محبت اس سے اگے نکل چکی تھی وہ عالمِ فنا میں تھی دنیا میں بہت کچھ ضروری ہو گا
لیکن عالیان سے پہلے نہیں اس سے پہلے سب فنا ہو گا اس کے بغیر بھی ہاں یہی بات تھی جو بہت پہلے طے ہو چکی تھی کے جو اب اس کے بغیر ہو گی وہ زندگی نہیں ہو گی
اب پھول کھلے نہ بہار آئے نہ خوشیوں کا دور ہو گا نہ مسکراہٹ کی آمد کوئی گیت سہانہ نہیں لگے گا نہ کسی کی داستان میں دل اٹکے گا اب موت کی نشانیوں کا انتظار کیا جائے گا ۔
نہ بولنے کی غرض رہے گی نہ سننے کی چاہت۔
صبع تک وہ اپنے فیصلے پر جھولتی رہی
وہ مرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی نہ مر مر کے جینے کا
ویرا گھر آ چکی تھی اور این بھی ویرا نیویارک جانا چاہتی تھی جس ٹیکسی میں گھر آئی تھی اسی میں ائرپورٹ جانا، تھا وہ واپس بیٹھ کر چلی گئی این اس کا دروازہ بجاتی رہی۔لیکن اس نے کھولا نہیں ۔
تم نا صرف خود پاگل ہو بلکہ دوسروں کو بھی کر دینے کی طاقت رکھتی ہو۔۔۔ وہ رات بھر اسے فون کرتی رہی اس نے اٹھایا نہیں وہ سمجھی کئ اور ہے اور وہ گھر پر تھی ۔
اس عمارت میں جاتے ہی اس کی نی زندگی سانسیں لے لگ گئی تھی اور اس عمارت سے نکلتے ہی زندگی آخری سانسیں لینے لگی لگے گی وہ مانچسٹر پر اڑان بھرتے پرندے آخری بار دیکھ کر اسٹور میں چلی گئی
تماری ڈیوٹی تو شام میں ہوتی تو پھر؟ منیجر نے پوچھا
اسڑور روم میں کچھ جوتے ہیں وہ مجھے خریدنے ہیں وہ آٹک کر بولی
اچھا خرید لو
وہ اسٹور روم گئی اور جوتے اٹھا لائی جنہیں عالیان نے پہن کر دیکھا تھا اس نے ایسی جگہ چھپا دیے تھے کے کوئی اور نہ خرید سکے۔
جوتوں کے وہ تین عدد جوڑے تھے ۔مینجر نے انہیں دیکھا اور شرارت سے مسکرانے لگا۔بے شک ان میں نقص معمولی ہے ۔لیکن میں پھر بھی تمہیں مشورہ دوں گا کہ تم اس شاہی خاندان کے فراد کے لیے ےم انہیں بھی معمولی سمجھو اور ان تین کے بجائے تم ایک وہ لےلو جسے میں نے ایک میگزین میں پرنس ہیری کو پہنے دیکھا تھا ۔اُس نے مسکرا کر کہا لیکن اس کی تاریک سنجیدہ تھی ۔
مسکرا نہیں سکی اور بتا بھی نہیں سکی کہ جوتے عالیان کے لیے معمولی ہی ہو گئے ۔لیکن اُس کے لیے بہت حاص ہیں وہ انہیں اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے ۔وہ ان باقیات کو اکٹھا کر رہی جو پورا عالیان نہیں بنا سکتیں ۔پر کیا ارادہ ہے پرنس ہیری کے جوتے کے بارے میں ۔
جس انداز سے عالیان اسٹور آتا تھا سب کو اندازہ ہو چُکا تھا کہ وہ جوتے لینے تو ہرگز نہیں آتا بلکہ ایک بار مینجر نے شیشے کے پار سڑک کی طرف اشارہ کیا اور کہا ۔۔دیکھو یہ وہی ہے جس نے آج تک ہمارے اسٹور سے کچھ نہیں لیا۔سوائے تہمارے قیمتی وقت کے۔
امرحہ چِڑ جاتی ۔۔پتا نہیں۔
اُُس کی آئیس کریم ختم ہو چکی ہے ۔اور تمہاری جاب ٹائمنگ بھی ۔ ویسے وہ تم سے کیا کہتا ہے کہ میں یہاں سے گزر تھا تو سوچا تم سے ھاے ہیلو کرتا جاؤں۔یا وہ یہ کہتا ہے کے میں مانچسڑ کے فلاں کونے میں واقع فلاں ریسٹورنٹ دریافت کر لیا ہے جہاں ملنے والا فش سوپ اتنے مزےکا ہے کہ گمان ہوتا ہے کہ اس کے شیف نے کوئ جادو پڑھ کر پھونکا ہے ۔اور سنو وہ پیچھلے پندرہ مینٹ سے ادھر اُدھر ٹہل رہا ہے جو گزر رہے ہوتے ہیں ۔وہ ایسے پندرہ مینٹ تک انتظار نہیں کرتے۔اگر وہ تمہارے سامنے یہ جھوٹ گھڑے تو تم مسڑی سے مسکرا سکتی ہو۔
اب وہ اداسی میں مسکرا دی اور نفی میں سر ہلادیا کہ ہیری کے جوتے نہیں چاہیں۔جوتے اسٹور میں ہی رکھوا کر وہ باہر آ گئ۔وہ اپنے واجبات لینے آئ تھی ۔لیکن فی الحال اُس نے اپنے واجبات کو چند گھنٹوں کے لیے ٹال دیا۔اُس نے خود کو بھی چند گھنٹوں کے لیے ٹال دیا ۔اُسے شکوہ ہونے لگا کے مانچسڑ پر جو دھند اُتر رہی ہے وہ اس کی آنکھوں میں کیوں گھس رہی ہے کہ اُسے چلنے پھرنے میں دشواری ہو رہی ہے ۔اگر ایسا نا ہو تو وہ جلدی سے اپنے کام سمیٹ لے۔بلکہ بہت تیزی اور پُھرتی سے۔اور وہ جو بار بار اپنے وجود پر کسی چیز کے قایم ہونے کا پتا معلوم کر رہی ہے تو اُس سے بھی اُسے فُرست ملے اور اُس کے کالے کوٹ کے اندر کیا چیز پاش پاش ہو چُکی ہے زارا دم لے کر اُس کا بھی حال چال پوچھے۔
اُس نے خود کو مانچسٹر کو کھوجتے پایا ۔اچھا خیال تھا ۔وہ مانچسٹر کو کھوج رہی ہے ۔کئ لوگوں نے اُس کے گلابی گالوں اور سرخ آنکھو ں کو ٹھٹک کر دیکھا۔اُس پر ترس کھایا جا سکتا تھا اور اُس نے خود کو قابلِ رحم ہی بنایا تھا ۔
اُس کے اندر ایک جذبہ بار بار سر اٹھا رہا تھا کہ وہ دنیا کو آگ لگا سے اور سب سے پہلے خود کو ۔ اُس نے نفرت سے اپنے خاندان کے بارے میں سوچا ۔اور پھر آخری نقطے پر ٹہر کر وہ خود سے نفرت کرنے میں مشغول ہو چُکی تھی اُس نے دبے دبے غصے سے دادا کے بارے میں سوچا اور چاہا کہ انہیں اپنے ساتھ کھڑا کر لے۔اور اُس شخص کی طرف دیکھتے رہنے کا حُکم دے جو برنٹنگ مین کے ساتھ جل راکھ ہو چُکا تھا اور کیا پھر بھی دادا یہ کہنے کا حوصلہ کر پائے گے ۔
حسبِ نسب لاؤ۔اُکی راکھ کے ڈھیر پر کھڑے ہو کر بھی وہ اپنا سوال نہیں بدل پائیں گئے کیا تب بھی وہ اس کے دل کی بات مان لینے پر مجبور نہیں ہو جائیں گئے ۔ٹنھڈی پھوار اُس کا سر بیھگو رہی تھی اور وہ ان قِصے کہانِیوں میں غلطاں ہو چُکی تھی جو معاشرے میں کتابوں میں اِدھر اُدھر بکھری پڑی تھیں ۔وہ جن میں سب ہوتا ہے پر ملن نہیں
ہوتا
داستان امرحہ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔بہت کچھ اس نے الٹا پلٹا کر دیا اور باقی حالات نے
وہ کسی کو راضی نہ رکھ سکی نہ خود کو نہ عالیان کو
دونوں ایک ہی رستے پر چلتے چلتے ایک دوسرے کی پشت پر آ گئے وہ اپنی وجوہات کی وجہ سے نہیں دیکھ رہا تھا یہ اپنی گھوم پھر کر وہ پھر اسٹور آ گئی اپنی واجبات لینے
تمہارا کوئی پوچھنے آیا تھا اسے دیکھتے ہی منیجر نے کہا
عالیان سانس، سے بھی پہلے اس نے نام حلق سے نکالا
کوئی سائی تھا میں نے کہہ دیا وہ آئی تھی چلی گئی ۔
سائی وہ بڑبڑائی وہ کافی بار اسے فون کر چکا تھا اس نے کال نہیں ریسو کی اس نے سائی کے لیے اپنے اندر نفرت محسوس کی غصہ بھی ۔
مجھے میرے بقاجات چاہے اس نے ہاتھ مسلتے ہوئے کہا
تم جاب چھوڑ رہی ہو؟
ہاں اس نے نظر چرا کر کہا
کئ اور جاب مل گئی؟
مجھے اب جاب کی ضرورت نہیں رہی۔
تم ٹھیک تو ہو امرحہ
جی بالکل ٹھیک ہوں
بیٹھ جاؤ امرحہ منیجر نے نرمی سے کہا
وہ پاس پڑے اسٹول پر بیٹھ گئی اور باہر سڑک دیکھنے لگی
کہیں جا رہی ہو؟
امرحہ نے چونک کر دیکھا اسے کس نے بتایا
اتنا وقت تمہارے ساتھ گزارا اور تم کیسے خاموشی سے روپوش ہو رہی ہو اگر تمہارا جانا ضروری ہے اچھے انداز سے بائے کر کے جاؤ ورنہ مجھے موقع دو میں تمہیں اس انداز سے الوداع کہوں. جس انداز میں میں نے تمہیں خوش آمدید کہا تھا
وہ اتنی سی بات پر رونےلگی اور آنکھیں مسلتے ہوئے منیجر کو دیکھا
میں نہیں جا رہی کہیں نہیں جا ر
پھر جاب کیوں چھوڑ دی؟
یہ دیکھنے کے لیے کے کیا کچھ چھوڑ سکتی ہوں میں سب چھوڑ سکتی ہوں لیکن اسے نہیں پوری شدت سے جانے کا فیصلہ کرنے کے باوجود میں ساری قوتیں لگا کر خود کو روک لینا چاہتی ہوں
رہ جاؤ یہاں
دنیا کے کسی اور کونے میں اب وہ کیسے رہ سکتی ہے اب بھلا؟
دنیا کے کسی اور کونے میں رہنے کی اب تمہیں کوئی ضرورت نہیں
یہاں بھی اب میری ضرورت نہیں رہی یہاں بھی نہیں رہ سکتی میں اور جا بھی نہیں سکتی
اسے اتنی جلدی کیوں تھی مجھے ہنسانے اور رولانے کے کام اتنی جلدی کیوں کیے وحسن اسے دیکھ رہا تھا
وہ جوتوں والا؟؟ بہت کچھ سمجھ چکا تھا اب اور سمجھ
رہا تھا
میں اپنے جانے کے سامان کر رہی ہوں اور خود کو روکنے کے بھی میں بری طرح سے منتشر ہوں۔
میرا ایک حصہ میری مٹھی میں ہے اور ایک اس کے وجود میں.. مے خود کو کہا کھڑا کروں اور کہاں سے چلتا کروں، میں فصلہ نھیں کرپا رہی.. ولسن! میں نے اسے کھیل نہیں سمجھا تھا، مگر کھیل کی طرح ہی کھیل گئ۔۔ اسی لیےتو محبت میں ہار جیت ہوتی ہے۔ اگر ہم اس سے نہ کھیلیں تو ایسا تو نہ ہو نا۔۔ صرف جیت ہی ہو۔۔ بس جیت۔۔”
ولسن میز کے کنارے سے ٹک کے کھڑا ہوگیا۔ امرحہ اردو میں بول رہی تھی، اسے الفاظ سمجھنے مے دِقت تھی.. محسوسات سمجھنے مے ہر گز نہیں۔۔
“میں نے ہر خوبصورت شےکی طرف سر اٹھا کے دیکھا ہے.. آنکھیں گاڑ کر.. دل جما کر .. پھر بھی میں یہ یقین حاصل نہ کر پائ کہ میں ان کے سہارے جی لوں گی وہ میرے لیے کچھ تو سہارا بن جائیں گی۔۔ دیکھو یہ سڑک پر چلتے لوگ، ہستے مسکراتے لوگ مجھے کتنے ہیبت ناک لگ رہے ہیں اور یہ آسمان سے برستی پھوار مجھے اس پر ترس بھی آرہا ہے مجھے یہ کیسی حقیر بھی لگ رہی ہے۔یہ میرے آنسووں سے مقابلہ کر رہی ہے۔۔ اور میں نے ساری بڑ ی نعیمتوں کو گِن کر دیکھ لیا ہے ۔ ان کے انبار بھی مجھے دیے گۓ تو میرے لئے رائی برابر بھی خوشی کا سامان نہ ہوسکے گا .. میں کبھی حساب میں اچھی نہیں رہی اور دیکھو،آج ہر غم کے جواب میں وہ نکلتا ہے اور ہر خوشی کی سوال میں بھی۔۔ میرا حساب اچھا ہوگیا ہے ”
میز پر رکھے ٹشو باکس کو ولسن نے آگے کرنا قابل تحقیر جانا۔۔وہ بچوں کی طرح اپنے کسی پیارے کھلونے کے ٹوٹ جانے پر رو رہی تھی.. اسے لاڈ سے چپ کروایا جا سکتا تھا یا تسلّی سے، صرف اسکی انکھیں خشک کر دینا کافی نہیں ہوگا۔
“میں سوچتی ہو اگر اپنی ہتھیلیوں پر انسو بہاتی رہوں تو شید میری قسمت بدل جاۓ” اس کی آواز اتنی دھیمی تھی کہ اسے سننے کے لیۓ کان اس کے منہ کے پاس لے جانا پڑتے تو ثابت ہواکہ وہ اپنے آپ سے بات کر رہی تھی۔
میں اسے کبھی یہ بتا نہیں سکی کہ وہ مجھے کتنا اچھا لگتا ہے۔اب اسے کون بتاۓگا کہ امرحہ نے اسے کتنا پسند کیا، اتنا کی میں نے اس کی پلٹ جانے پر اس کی پشت کو اوجھل ہو جانے تک دیکھا اور اسکے سامنے آنے پر میں نے اپنی نظر سے اس کی نظر اتاری۔۔ اگر وہ مجھے نہ ملا ہوتا تو مجھہے یہ کبھی معلوم نہ ہوتا کہ خدا کی رحمت کیسے انسانی صورت مجسم ہوتی ہے اور اگر کرم اور مہربانی کی کوئی پہلی صورت ہے تو وہ اس جیسے انسان کی زندگی مے شامل ہونا ہے۔ اندھیروں پر قابض ہوجانے والا وہ روشن ستارہ جو طلوع ہوا کرتا ہے غروب نہیں۔
رات کو انکھیں بندکرنے سے پہلے مجھے یہ منظر دیکھنا یاد رہتا ہے کہ کیسے وہ سر اٹھا کر قہقہے لگاتا ہے.. مجھے دلی سکون ملتا ہے اس منظر کو دہراکر جب وہ میرا ماسک اٹھانے جھکا تھا۔ جو مسکراھٹ اس وقت اس نے اپنےہونٹوں پر سجا رکھی تھی، وہ ان جذبو کو عطاکی جاتی ہیں جو اب ناپید ہوتے جا رہے ہیں اس مسکراہت سے میں اسکی مداح ھوگئی اور طلب گار بھی۔ میں اسے یہ بھی نہیں بتا سکی کہ وہ خاموش رہتا ہے تو گنگناتا ہوا لگتا ہے اور اگر وہ گنگنا لے تو ساری خاموشیوں کو جگاتا لگتا ہے ۔ میں نے تو اے کچھ بھی نہیں بتایا اور نہ اس نے مجھے سنا۔ اس نے اپنے کان ویرا کے منہ کے آگے کر دیے،کتنی جلدی میں تھا وہ بدہیت ہوتی ہےایسی عجلت کہ مٹھی میں قید کر لینے والے مٹھی کھول دینے پر مائل ہوں۔”
اپنے وجود کو ساکت رکھے، دونو ہاتھ گود مے رکھے اسے دیکھتے ولسن کی نظروں میں ترحم بڑھتا جا رہا تھا۔
“تمھیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں، وہ ایک دن خود تمھرے پاس آۓگا ۔”
“مجھے بھی یہی خوش گمانی تھی۔ ”
“جوش گمان ہونا اچھا ہے، بجاے بد گمان ہونے کے۔۔ اپنے دل کو اور ہلکا کرلو۔۔ لیکن کہیں مت جاؤ۔

Read More:   Tery Ishq Nachaya by Hoor e Shumail – Episode 1

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply