Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 43

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 43

جس حالات میں وہ بیٹھی تھی اسی حالت میں اٹھ کرباہر
آگئ۔
وقت کے ساتھ ساتھ محبت نے شدت اختیار کرلی تھی۔ ڈریگن پریڈ تک وہ کچھ اور تھی۔ اب کچھ اور تھی۔ چشمہ دریابن چکا تھا اور دریا ایسے پانیوں میں گرتا تھا جس کی وسعت کی کوئ حد نہیں تھی۔
جو کچھ ان کے درمیان ہوچکا تھا وہ اب سے پہلے عام اور معمولی لگتا تھا ۔ کہانی کا ایک علمیہ حصہ.. جو ہر قصے کہانی سے جڑا ہوتا اور پھر سے سب خوش.. اور اب جب واقعی عالیان کسی اور کے سپرد ہوا تھا تو سب خوش فہمیاں، غلط فہمیاں دور ہو گئ تھیں۔ سب اتنا آسان نہیں تھا۔ حقیقت، سوچوں اور اندازوں سے کہیں آگے کی چیز ہوتی ہے۔
اس نے ہاتھ میں پکڑے شاپر کو دیکھاـ “کیا وہ اتنے سے عالیان پر راضی ہوجاۓ گی۔”
” نہیں۔۔ہاں نہیں۔۔”
خود سے کئ ہزار بار یہ سوال پوچھ چکے اور اس کا جواب جان چکے اور اپنا سب کچھ ہار چکے عالیان کو جیتنے کے لیے اس نے ایک آخری جوا بھی کھیل لےنا چاہا۔
اس کے خاندان کو حسب ونسب چاہۓ تھا اور اسے وہ۔۔
خاندان کے نام پر اسکے پاس کچھ تو ہوگا۔۔ کوئ تو۔۔ اور نہ جانے وہ کوئ کتنا معتبر ہو کہ عتراض کا سوال ہی نہ اٹھے۔۔
وہ ویرا کو ہاں کھ چکا ہے تو نہ بھی کھ دے گا۔۔ امرحہ کی ہاں کے بعد کسی نہ کی گنجائش نہ رہے گی۔ اس نے کوٹ کی جیب سے فون نکالا اور کافی عیر تک اسے دیکھا۔ وہ پہلے بھی ایک بار اس نمبر پر فون کر چکی تھی۔اسے کچھ نہیں بتایا گیا تھا بلکہ الٹا انہیں یہ شک ہوگیا تھا کہ وہ صرف پیسوں کے لیۓ یہ ظاہر کر رہی ہے کہ وہ ان کی مدد بھی کر سکتی ہے۔
برننگ مین اسکے سامنے آکے کھڑا ہوگیا اور اسے یہ بتانےلگا کہ اب اسے ساری زندگی اسی طرح جلنا ہوگا اور برننگ مین یہ نہیں جانتا تھا کہ آگ سے جل جانا جدائ کی آگ سے بہت کم تکلیف دہ ہوتا ہے۔
———————
نیویاک سٹی کا مقامی ریسٹورنٹ ہے جس کی چھت کی زیبائش آنے والوں کو سر اٹھا کر دیکھنے پر مجبور کر دیتی اور جس کے ساۓ تلے بیٹھ کر کھانے میں وہ راحت محسوس کرتے ہیں۔ ہال میں پھیلی
میزوں پر بیٹھے لوگ کھانے کو محبت اور نرمی سے برت رہے ہیں اور اپنے سامنے بیٹھے شخص کی آنکھوں میں دیکھنے کو پسند کر رہے ہیں۔ افراتفری کو وہ باہر چھوڑ آۓ ہیں اور فرش سے چھت تک تنی شیشےکی دیواروں سے دیکھائ دیتی نیویاک شھر کی روشنیوں کو اپنے ساتھ ساتھ،لیکن پس منظر میں رکھتے ہیں۔
وہ بلندی پر ہیں اور یہی تو انہیں پسند ہے۔
سامنے ہال کی اس دیوار کے سامنے جس پر مقامی مصور نے اپنا شہکار ثبت کیا ہے کی دو فٹ اونچی ڈائس پر مائیک کے سامنے سفید فراک میں ملبوس وہ کھڑی ہے ۔۔ ویرا۔۔
“میری شام بنام عالیان”اسنے یہ فقراہ مسکرا کر کہا، لیکن وہ آواز کو زیادہ بلند نہیں کر سکی اور اس نے اپنی نظریں میزوں پر سجی بلوری شمعوں پر بھٹک نھٹک جانے دیں۔
“پہلی بار میں تب چونکی تھی جب اسنئمنٹ بناتے بناتے میں تھک کر رک گئ اور ہاتھ میں پکڑے پین سے میں نے عالیان کا نام لکھا اور پہر میں نے صفحے کو اس نام سے بھر دیا اور میں زرا نہیں تھکی۔ اپنے اعلاوہ کسی اور کا نام لکھنا، یہ کام کرنا مجھے اچھا لگا۔پھر جب وہ نوٹ پیڈ میرے لیۓ بیکار ہوگیا تو بس میں نے اس صفحے کو نکال کر سنبھال لیا۔”
ریسٹورنٹ اپنے قیام کی سالانہ تقریب کا ایک سلسلہ شام بنام بنا رہا تھا اور وہاں موجود لوگوں سے درخواست کی گئ تھی کہ وہ اس شخص کے نام کا اعلان کریں جو دنیا میں ان کے لیۓ سب سے زیادہ خاص ہونے کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔چند سالوں بعد مجھے اپنی اس حرکت پر ہنسی آے گئ.مجہے اب بی آرہی ہےلیکن مجھے اس ہنسی پر کو شرمندگی نہیں. کہہ کرہ تک گئ. اسے اس کئ رورت محسوس ہوئ. اسے چاہت الفاظ کا استعمال کرنا چاہئے. اس نے سوچا.
میں زندگی میں اتنی پر یکٹیکل رہی ہوں کہ منہ میں وہ احساسات ہی کم ہونے لگے جو نان پر یکٹیکل ہوتے ہیں. پہلے میرا خیال تھا کہ میں اسیے شخص سے شادی کروں گئ جو پاپا کئ طرح کاہوگا. شاہد ہر لڑکی ہی ایسا چاہتی ہے. مجھے یقین تھا کہ میں کبھی اپنے پاپا جیسے انسان سے نہیں نل سکوں گئ اور ابھی تک ملی بھی نہیں اور اب یہ اتنا قوری بھی نہیں رہا. مجھے ذہانت سے لینا دینا تھا اور یہ عالیشان کا میدان تھا لیکن ایک دن ایسا ہوا کہ اس کی سایکل کے پیچھے بیٹھے جب میں نے اسے پکڑنا چاہا اور پھر میں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ مجھے خیال آیا کہ وہ برا مان جاے گا اور اس خیال کے آتے ہی مجھے خبر ہوئ کہ مجھے اس کی یہ ہیبات اچھی لگتی ہے. وہ ہنسی اور رک گی اور ہلکے سے گردن کو م دیا اور ایسا کرتے اس کے کھلے با ل لہرگے _اج اس نے ترچھی ما نگ نکال کر سامنے سے بالوں کی لٹ کو اٹھا لر اسے بل سے لر چمک دار سنہری پن لگائ تھی . وہ وہاں اپنی ساری خوب سورتیوں اور مترنم ادائ ں سمیت موجود تھی .
“میں ابھی تک اس کی سب اچھی باتوں کئ فہرست نہیں بنا ذکی اور ایسا مجھے کرنا بھی نہیں.” ہاتھ کو ہلکا سا لہرا کر اس نے ایسے اشارہ کیا کہ ہال میں ہلکی ہنسی کئ آوازہ گونج اٹہیں.”میرا خیال تھا کہ وہ یونی میں بس ایسے ہئ مشہور ہے جیسا کہ خوبصورت اور ذہین اسٹوڈنٹس ہو جاتے ہیں. پھر مجھے معلوم ہوا کہ ہر تیسری لڑکی کا اس پر خرد ہے اور ہر دوسری لڑکی کے بارے میں ابھی تک نہیں جان سکی کہ وہ کیا کرتی ہوائ. ”
پال میں ہنسی پھر گونجی اور اس بار دیر تک گونجتی رہی. سب اسے توجہ سے سننے پر خوش تھے.
اور مجھے کبھی اس خبط کئ سمجھ نہیں آی. معلوم ہوا تو یہ کہ اس میں کچھ تو ہے, کچھ بہت زیادہ, جب اسے اپنا منہ بند لر لیتا ہے اور میرےنزدیک یہ ہی اصل طاقت ہے. دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہوںگے جو ایک انسان کو اٹھا لر زمین پر پٹھ دینے کئ طاقت رکہتےہوں گے لیکن ایسے کتنے لوگ ہوں گت جو زبان کو ہلانےکی معمولی لیکن بے بس لر دینے والی قوت کو قابو میں رکہتےہوں گت. میںنے جب جب اسے کچھہ سنانا چاہا اسے ہمہ تن گوش پایا اسے بد مزاج اور چڑچڑاتے نہیں دیکھا.
ہاں اگر مجھے فہرست تیارکرنی ہئ ہو تو میں اس کے اخلاق کو سب سے اوپر رکہوں. وہ مضبوط اعصاب کا مالک ہے. اگر میں ایک آئیرن لیڈی ہوں, جیسا کہ میرے بارے میں کہا جاتا ہے تو میں اس کے سامنے خود کو سرف انسان محسوس کرتی ہوں. وہ وہی سانچہ ہے جو لفظ انسان پر پورا اترنا ہے. اس کی موجودگی میں وقت جلدی گزرتا ہے اور اس کئ غیر موجودگی میں وقت کو اس تک لے جانے کئ تمنا کئ جاتی ہے. پاپا کہتے ہیں وہ انسان بلاشبہ خوش قسمت ہوتا ہے حس کے گرد خاندان کا جہرمٹ سجتا ہے. میں اس میں ا سافہ کرنا چاہوں گئ کہ وہ خاندان خوش قسمت ہو گاجس کا جہرمٹ عالیان کے گرد سجے گا. ”
اس کی آنکھوں کئ چمک اتنی بڑہ گئ تھی کہ عین اس کے سر پر لگے فانوس کئ چمک کو مانند کرنے لگی تھی.
تو میں نے سوچنے میں زیادہ وقت نہیں سریع کیا. اکثر لوگ کر جاتے ہیں نا اور میں اور میں نے اس چیز کا انتظار بہی نہیں کیا کہ وہ مجھ سے آکر کہرا. “آؤ نل کر زندگی گزرایں. ” مجھے اندازہ تھا کہ اب مشکل سے ہی وہ کسی سے یہ کہے گا. ایک بار کہہ کر ہئ اس کے ساتھ برا ہوا تھا . مجھے خوشی ہے کہ میں نے کہہ دیا. مجھے کہہ لینے دین کہ میں خوش ہوں مطمئن بھی ,کیونکہمیری ماما نے ایک بار کہا تھا ‘شادی اس انسان سے کرنا جس کی تمہیں نگرانی نہ کرنی پڑے ‘ میں نے بھی کہا کہ اسکے اخلاق کو میں سب سے اوپر رکھتی ھوں تو مجھے ایسے اخلاق کے حامل انسان کی نگرانی کی کبھی ضرورت پیش نہیں آے گی مجھے یقین ھے وہ ان ھی لوگوں میں سے ھے جو انسانوں کو استعمال کرتے کیونکہ وہ انہیں کوئ چیز نھیں سمجھتے وہ جھوٹ بول لیتا ھے اور ایسے بولتا ھے کہ شہادتیں دیتا ھے کہ وہ جھوٹ بول رھا ھے ..اس سے مل کر میں نے ایک بات سیکھی ھے کہ بہت حال یہ انسان کہ ہاتھ ہوتا ھے کہ وہ اپنی ذات کو کس قدر خوبصورت بناتا ھے
اسے تین منٹ کا وقت دیا گیا تھا جیسے کو سب کو دیا تھا , لیکن وہ بیس منٹ لے چکی ےھی اور ابھی بھی بول رھی تھی بولنے والا شخص خاموش ھونے کو تیار نھیں تھا تو شھر کی روشنیوں کو پس منظر میں رکھ کر بیٹھنے والے لوگ اسے چپ کروانے پر آمادہ نھیں تھے وہاں اس شخص کے بارے میں ذکر کیا جا رہا تھا جس کے بارے میں بولتے اور سنتے وقت سے ٹھر جانے کی گزارشکی جاتی ھے
مائیک کے پاس کھڑے اسکے گال گلابی ھو چکے تھے اس نے محبت کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا اور کسے خبر تھی اس نے یہ لفظ چھپا کر رکھا تھا , وہ وہاں کھانا کھانے آئ تھی یہ سب کہنے نہیں لیکن اگر کہہ دیا تو اچھا ھی کیا شا ید بہت اچھا کیا ..
برننگ مین نائٹ ھے اور اس کے گرددیرا گول گول گھوم رھی ھےاسکی سماعتوں نے ھونی کی چاپ سن لی تھی اور اسے صاف صاف نظر آنے لگ گیا تھا وہ کسی اور کی زندگی میں جا رہا ھے
‘ یہ آنا اور جا نا ان کے معاملے کبھی صدیوں میں ملے ھو تے کبھی پلو ں میں, ‘وہ ایک مرد تھا اور اس پر یہ تصور گراں گزرتا تھا کہ اس کے سامنے سے اسے اپنا لینے کی خواہش کی جائے .یہ حق وہ اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا . یہ رسم اسے ادا کر نی تھی اسے یہ برا نہیں لگا کہ اسکا حق چھین لیا گیا ھے بس وہ ششدر سا رہ گیا ھے کوئ اسے اپنا لینے کی با ت کر رہاھے _ امرحہ نہیں _ بس کوئ _ ہاں بس پھر وہ کوئ ھی ھو ..
وہ جا نتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو اس موڑ پر لے آیاتھاجس پر وہ خود کو کسی اور کے حوالے کر دینا چاہتا تھا اور دوسرے معنوں وہ کھیل ختم کر دینا چا ہتا تھا .. لیکن کھیل ختم نہیں ہوا تھا .. اسے ہر آواز بری لگ رہی تھی…. ہر انداز پر اسے اچنبھا ہوا بر ننگ مین جل رہا تھا اور اپنی ساری تپیش اپنے اندر منتقل کر رہاتھا
جس زمین پہ وہ کھڑاتھا وہ اسء کھسکتی ھوئ لگی .. ویرا اس کے سامنے کھڑی تھی .. لیکن اس منظر نے اسکا دل نہیں لبھایا .. وہ جس کے سامنے کھڑاتھا وہ منظر ماضی کی اوراق سے نکل کر اس کے سامنے داستان بنا کر کھڑا تھا
آگ سے بھرے میدان کے دائرے اس کے گرد کھنچ گئے اور لاتعداد گھنٹے اس کے سر پر بجنے لگے
‘میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں ‘ اس نے یہ بات سن لی تھی..اور اسے یہ بات سنائ بھی نھیں دی تھی .. یہ ایک انہونی کے ھو جانے کی سناؤنی تھی اور ایک اعلان بھی کہ جوہرات جڑے بیش قیمت آنجورے کے پینڈے میں سوراخ ھو جائے تو پھر اسے یہ غرض نھیں رہتی کہ اس میں جوہرات محفوظ کیے جانے لگے ھیں یا کھنکتے سکے وہ تو بس اتنا جان لیتا ھے کہ وہ جام طہور ھونے کا فخر کھو چکا ہے اور یہ اعلان اسکی صداقت کی نشاندہی کرتا ہے جب یریم جل سے لب لباب ھوئے پیالا دل کے ساتھ یہ ھوتا ھے تو اسکو یہ فکر نہیں رہتی کہ اس نے کیا کھو کر اب کیا ھونے کا اعزاز پایاہے ..
اسکا دل اپنا فخر کھو نے جا رہا تھا اور یہ کیفیت بہت ہیبت ناک ھوتی ھے دل میں پہلے آنے والے کو ہم آخری سانس کے بعد بھی نہیں نکالنا چاہتے..اس عمد کو کر کے توڑنا ھی نہیں چاھتے ..
پودا لگنے لگتا ہے, کیونکہ ہمارا دل پڑھی جانے والی کہانی کا کوئ کردار نہیں ہے, جسے پڑھتے پڑھتے اس پر لعن طعن کی جاتی ہےاور اس پر دو حروف بھج کر ساری ہمدردیاں با وفا لٹا دی جاتی ہیں دل اپنی کہانی کاری بن ک پڑھ نیں سکتا اور اگر ہم کسی ناقدرے کو سزا دینا چاہتے ہیں تو بہت جلد یہ جان لیتے ہیں کہ سزا تو ہم نے اپنے لیے تجویز کر لی ہےاور تکلیف سب سے زیادہ ہم بھگت رہے ہیں ناقدر اور نا شکرا ہی سہی اس کے أگے پیچھے مہبوب کا لفظ لگتا ہے اور یہ وہ لفظ ہے جس کے وزن پر کوئ دوسرا لفظ پورا اترتا ہے نا أدھا
اس نے اپنی ماں کے بارے میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرلتی تو اس کے ساتھ ایسا نہ ہوتا امرحہ پر یہ الزام لگایا کہ وہ ولید البشر جیسی ہے اور خود اپنے بارے میں فیصلہ اسے اب کرنا تھااب وہ کیا چاہتا ہے “ویرا-”
اس نے اسکے ہاتھ کو نرمی سی چھوا- “جواب کے لیے اسرار نہ کرو – مجھے وقت دو….. ”
“جتنا چاہے ووت لیلو صرف اتنا بتا دو کہ میں تمھے اچھی لگتی ہوں؟”وہ اسکے سامنے بیٹھ کہ معصومانہ کہنے لگی.
وہ بہت پیاری تھی… پر خلوص اور معصوم… اگر وہ ویران نہ ہوتی تو اسکے لیے وہی امرحہ ہوتی..
ہاں تم بہت اچھی لگتی ہو مجھے اس نے خوش دلی سے کہا اور وہ اتنی زیادہ خوش ہوئی اور اتنی زیادہ خوش کے اسے حیران کر دیا اتنی سی بات پر اتنی خوشی اور امرحہ اتنی اہم بات سن کر مسکرا بھی نہیں سکی۔۔وہ ویرا کے لیے اتنا اہم تھا اور امرحہ کے لیے اتنا غیر اہم اسے دوستی کی ضرورت تھی اور وہ اسے دوست بنا، کر نہیں رکھ سکی تھی ۔۔اس نے ویرا کو دیکھا جو تالیوں کا جواب خود بھی تالیوں میں دے رہی تھی مسکرا رہی تھی
جیسے زندگی میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے اسکے لئے ایسے ہی مسکرانا چاہے پہلے اس پغام کو عزت دی جانی چاہیے پھر قبول کا احترام کرنا چاہئے اس پر بہت ادراک ہو رہے تھے اسے ان پر کان بھی دھرنے چاہئے تھے پھر فیصلہ کرنا چاہئے ۔۔لیکن جو فیصلہ بے اختیاری میں ہونا چاہئے جو فیصلہ اختیاری میں ہواس میں کیا ہوتا ہے جو اس میں نہیں ہوتا۔۔اس نے گھوم کر چاروں طرف نظر ڈالی تو اس کی ساری دلچسپیاں ختم ہو گئی ہر طرف اسے ایک ہی چیز نظر ائی آگ۔۔
برننگ مین خوش قسمت ہے کتنی آسانی سے ختم ہو رہا ہے
ویرا نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔اس کے ہاتھ میں نرمی تھی پھر بھی اس پر پہاڑ آ گرا۔۔۔وہ ویرا کی خوشیوں کے معترف تھا
پھر بھی اس نے بھاگ کر جانا چاہا۔وہ ایک خوبصورت لڑکی
تھی مسکراہٹ اس پر سجتی تھی
وہ ایک خوبصورت مرد تھا وہ اپنی مسکراہٹ گنوا رہا تھا ۔
یہ اگلی رات ہے وہ ہارٹ راگ کے اسٹور میں بند تھا ۔زمین پر بیٹھا اپنی ماں کو اندھیرے میں موجود پایا ایسا اس نے خود چاہا اس سے سوال کیے۔یہ سب اس لیے ہو رہا کے میں آپ کا خون ہوں اس لیے بھی کے قدرت کا آپ سے انتقام پورا نہیں ہوا
ڈی جے کے الفاظ سے mash up سے اس کی آواز زیادہ پر اثر نہیں تھی
میں ایک انسان ہوں ماما اور میں سب کچھ ٹھیک نہیں کر سکتا جو مجھے ٹھیک لگ رہا ہے ہو سکتا ہے وہ غلط ہو
جو غلط ہے ٹھیک ثابت ہو جائے میں کتنا بھی عقل مند ہو جاؤں مجھے یہ یاد رہتا ہے بہت سے معاملات میں عقل کا عمل دخل ہوتا ہی نہیں میرے دل کے ہر حصے میں یہ بات نقش تھی کے آپ نے بیوقوفی کی میرا دل مجھے یاد دلاتا ہے میں بیوقوفی کر رہا ہوں لیکن کہاں یا مجھے ٹھیک سے اندازہ نہیں ہو رہا میں آپ کے ماضی میں جینے لگا ہوں اور میرا حال میرا ماضی بن رہا ہے میں زندگی میں دوبار انتہاٰ تکلیف سے گزرا جب آپ کو سرد ہوتے دیکھا اور ایک تب جب امرحہ کے دل کو اپنے لیے سرد پایا ۔اس دوسری تکلیف نے مجھے پہلی تکلیف بھلا دی۔میں آپ کی اور اپنی محبت میں پھنس گیا ہوں ۔آغاز میں نہیں انجام میں۔سائ کہتا ہے کہ میں نے امرحہ کو معاف نہیں کیا ۔میں نے معاف کر دیا ہے ۔لیکن آگے کیا۔
اب میں اس پر سوچ رہا ہعں آگے کیا ؟ایک پُر خلوصِ دل ویرا کو مایوس کردوں یا ایک سخت دل امرحہ کے لیے خود کو تنہا کر لوں۔یہ ایسے بھی ہے کے میں ایک ایسے دل کے پیچھیے باگوں جومجھے ضمانت کے طور پر چند لفظ بھی نہیں دیتا ۔سائ کہتا ہے کے یے اس کی روایات ہیں جو وہ ایسے پابند ہے ۔توماما ایک انسان جس کی چاہت میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ اپنے جذبے کو روایات سے اوپر لے جائے۔
کیا ایک انسان ہر شے سے بلند نہیں رکھا جا سکتا ۔کیا ایک انسان کو ارفع بنانے کے لیے اس طاقت محبت کا استعمال نہیں کیا جا سکتا ۔کیا ایک انسان کو انسان ہونے کی حیثیت سے برتا نہیں جا سکتا ۔ایک انسان کیتنا قیمتی ہے. یہ مجھ سے زیادہ کون جان سکتا ہے جس نے اپنے آپ کو کھودیا،جو اپنا آپ کھونے جا رہا ہے ۔
کیا آپ کے محبت سے لبریز دل کے مقابلے میں کائنات کی کوئ چیز ٹھہر سکتی ہے ۔اور کیا یہ کہا نہیں جاتا کہ جس نے ایک انسان کو پالیا اس نے سب پالیا۔تو کیا میں وہ انسان نہیں ہوں جسے پاکر سب پالیا جاے؟ میں امرحہ کے لیے انسان کیوں نہیں ہوں؟
*********
سائ دوبارہ گھر آ چکا ہے تم کہا تھیں؟ اس کی شکل دیکھتے ہی سادھنا پوچھنے لگی۔
“میں جاب پر تھی۔
آج چھٹی ہے اوت تم صبح ہی گھر سے نکل گئں کہا گئ تھی تم؟؟
“ایسے ہی خریداری کرنے؟ وہ نشت گاہ کے سامنے کھڑی تھی ۔
“اتنی صبح؟
“اتنی صبح بھی نہیں گئ تھی ۔
اپنے کمر ے کی کھڑکی سے میں نے تمہیں جاتے ہوئے دیکھ لیا تھا، میں آریان سے بات کر رہی تھی ۔؛؛
“کیسا ہے آریان اب؟؟ سائ کہہ رہا تھا وہ اسٹور بھی گیا تھا ۔تم وہاں بھی نہیں تھی ۔وہ بہت پریشان تھا ۔”
“میری فون پر اس سے بات ہو چکی ہے.
میں نے اس سے پوچھا کہ تم دوبار آچکے ہو فون پر امرحہ سے رابطہ کیوں نہیں کرتے تو وہ خاموش رہا ۔
وجہ کچھ اور ہے۔؟؟
بس ایسا ہی پاگل سا ہے وہ۔ وہ چلتی اپنے کمرے تک آگئ پیچھے پیچھے ہی سادھنا تھی ۔امرحہ نہیں چاہتی تھی کے سادھنا اس کے کمرے میں آے۔ اس کے کمرے کی حالت ایسی اچھی نہیں تھی ۔
تم کہی جا رہی ہو؟؟ کمرے میں اتے ہی سادھنا کی بیڈ پر رکھے سوٹ کیس پر گئ۔
نہیں- اب نہیں۔ جوتوں کا شاپر اس نے ایک طرف رکھ دیا ۔
سادھنا نے ایک سوٹ کیس اٹھا کے دیکھا کافی وزنی ہے۔
اس میں فالتوں کا سامان ہے میں چیرئٹئ کے لیے دے رہی ہوں ۔۔
یہ دو اتنے بڑے سوٹ کیس چیرئٹئ؟؟
“ہان۔ “جھوٹ بولتے وہ زرہ نہیں گبھرائ ۔
تم کچھ چُھپا رہی ہو امرحہ؟؟ وہ اس کے قریب آ کے کھڑی ہو گئ ۔
نہیں سادھنا میں کچھ نہیں چُھپا رہی ۔ خود کو بہت پُر وقار بنا کر اس نے کہا ۔
پھر کیا کرتی پھر رہی ہو ۔اتنی صبح کیوں نکلی تھی تم۔گھر سے ؟؟***

Read More:  Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 11

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: