Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 44

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 44

اپنے لیے نکلی تھی۔اپنے خاندان کے مان سمان کے لیے، اُس کا انداز تلخ ہو گیا
“کچھ ہوا ہے کیا؟
تمہاری آنکھیں سرخ ہیں اور چہرہ ماتم زدہ “وہ طنزیہ ہنسی ۔ہان ایسا ہی ہے “کہتے ہیں اُس نے نظریں نہیں چرائیں۔تم کچھ اور نہیں تم کچھ اور نہیں دیکھ رہیں سادھنا؟؟
کچھ اور ۔سادھنا کی پیشانی کی کھال سمٹ گئ۔ کیا میں تمیں بدلی بدلی جُرات مند نہیں لگ رہی؟
نہیں تم مجھے نڈر لگ رہی ہو ۔اس کے چہرے کے عضلات سکڑ گئے۔ایک ہی بات ہے۔ امرحہ بیٹھ کے اپنے جوتے کے تسمے کھولنے لگی ۔نہیں جرات مند بہادر کو کہتے ہیں اور نڈر نہ ڈرنے والے کو ۔بے حس کو بھی ۔تسمے کھولتے امرحہ کے ہاتھ رُک گئے “تم نے کس کتاب میں نڈر کو بے حس پڑھا ہے؟ تسموں کی گرہ کھولنے کے بجائے اُس نے گرہ لگا دی۔
اپنی زندگی کی کتاب میں سادھنا نے دیکھ لیا اُس نے گرہ لگا دی ہے۔
امرحہ سر اُٹھا کے سادھنا کو دیھکنے لگی “تم نہیں سمجھو گی ۔
میں بھی اپنی بہن سے یہ ہی کہا تھا ۔تسموں میں ایک اور گرہ لگ گئ۔
کیا وہ عالیان ہے؟ تسموں کو دوسری گرہ لگتے بھی سادھنا نے دیکھ لی تھی ۔
وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئ ۔کیا تمیں عالیان پسند نہیں؟؟ میرے بیٹے کو زندگی دینے والے فرشتوں میں سے ایک وہ بھی ہے۔وہ مجھے کیوں پسند نہیں ہوگا ”
تو تم نے سوال ایسے کیا جیسے تمیں اعتراض ہو۔****
ہمیں ہی تو اعتراض نہیں ہوتا امرحہ……
سادھنا اتنی زہین ہو گی امرحہ کو اندازہ نہیں تھا ۔ایک لفط میں ساری بات سمیٹ دی ۔پوری توجہ اُس نے تسمے کھولنے میں لگا دی اور اٹھ کر وارڈروب تک آئ ۔لیکن یہ سوچ کر نہیں کھولی کہ خالی وارڈروب دیکھ کر سادھنا اور سوال کے گئ۔
مجھے کوئ تو جواب دو ۔وہ دونوں ایک ہی حطے سے تھی ۔اور سادھنا اپنی طرف سے اُسے وہ سب سمجھانا چاہ رہی تھی ۔جو خود اُس نے بعد میں سمجھا تھا۔
مجھے اعتراض نہیں ہے سادھنا ۔اور میری بلا سے ساری دُنیاکو ہو۔ تھوڑا بہت اگر عالیان کے آگے پیچھے کا پتا چلے تو ٹھیک۔ ورنہ اب مجھے کوئ پروا نہیں ۔مجھے اپنے دل کے سوا کیسی کی بھی پروا نہیں۔میں نے دیکھ لیا ہے اسے کھو کر کیسا لگتا ہے ۔اور اس احساس کے ساتھ جینے کی مجھے کوئ خواہش نہیں۔میری آنکھوں سے دیکھوں مجھے اب اس کے سوا کوئ نظر نہیں آرہا۔میں پہلے ہی بہت بُرا کر چکی ہوں۔پھر نہیں کروں گئ۔
تم نے اپنے دادا سے بات کی ۔سادھنا کو سن کے حیرت نہیں ہوئ۔
کی تھی اور جواب وہی آیا تھا جس کی تواقع تھی ۔انہیں اچھے انسان سے مطلب نہیں ہے۔ انہیں ایک اچھا خاندان چاہیے تیز آواز میں کہہ کے وہ واش روم چلی گئ۔تاکہ سادھنا کمرے سے چلی جائے۔وہ زبان سے کہہ رہی تھی کہ وہ بہادر ہو گئ ہے ۔اور واش روم میں وہ پسینہ پسینہ ہو رہی تھی ۔
فون کرنے سے پہلے اس نے اپنے دماغ کو سُلا دیا تھا ۔اس سے پہلے بھی جب اُس نے فون کیا تھا وہ گبھرا رہی تھی ۔
ہیلو ۔ہان۔جی۔نہیں میں اپنا نام نہیں بتاؤں گئ ۔مجھے صرف یہ معلوم کرنا ہے کہ مار گریٹ کی اولاد کے بارے میں کون معلوم کرنا چاہتا ہے ؟؟
تمیں اس بارے میں فکر مند ہونا چاہیے کھردرے انداز سے کہا گیا ۔
مجھے کچھ معلومات مل جائے تو شاید میں کچھ کر سکوں۔ اُس نے بات بنائ۔
پیسے دیے جائے گے معلومات نہیں ۔
میرا صرف ایک سوال ہے ۔کون ہے جو یے سب جاننا چاہتا ہے۔مارگریٹ کا شوہر؟؟
تھوڑی دیر خاموش رہی فون بند کر دیا گیا۔
اُس نے لوکل فون بوتھ سے فون کیا تھا ۔لیکن اس بار اُس نے اپنے موبیل سے فون کیا تھا۔ میں بتانے کے لیے تیار ہوں۔لیکن اس کے فوراً بعد مجھے بتایا جائےگا کہ کون یہ سب معلوم کرنا چاہتا ہے؟؟
کچھ دیر خاموش رہی پھر اُسے ہولڈ کروایا گیا ٹھیک ہے۔
عالیان ۔مارگریٹ ۔اسٹوڈینٹ آف مانچسڑ یونیورسٹی۔ ایم بی اے ۔رہائشAnselm۔ہال وہ روانی سے بول گئ کہ مبادا وہ اپنا ارادہ ہی بدل دے۔اب مجھے میرے سوال کا جواب دیں ۔خوف نے یک دم اس کے گرد گیھرا تنگ کر دیا۔ ۔عالیان کا باپ کہہ کے فون بند کر دیا ۔اُس نے بہت پُر سکون سانس لی اُس کے دل کا سارا بوجھ ہلکا ہو گیا تھا۔۔
اب اُس کا باپ غیر مسلم ہو تو موجود تو ہو گا ۔اس پر موجودہ سوالیہ نشان تو مٹے گا ۔وہ دادا کو منانے کی کوشش کرے گئ کے وہ ایک مسلمان سے شادی کرنے جا رہی ہے ۔باقی کی گنجائش اگر نہیں بھی نکلی تو اب وہ اس بارے میں نہیں سوچے گی ۔بہت سوچ لیا بہت رولیا یک دم سے خیال آیا کہ اسے معلوم ہوا کے عالیان کے کاغذات میں وہ مذہٰب لکھوانے گئے تھے ۔ایک مذٰہب اسلام تھا یعنی اس کا باپ مسلمان ہی تھا ۔اس سوچ نے اسے اور ہلکا پلکا کر دیا ۔اس نے اپنا دماغ منفی سوچو ں سے آذاد کر دیا اور اپنا سامان کھول دیا ۔*******
ویرا نیویارک اپنے بھائ کے پاس آئ تھی ۔ایلکسی نے درمیانے درجے کی ایک فلم میں پوسٹ پروڈکشن کا کچھ کام کیا تھا اور اب فلم کا پریمیر تھا ۔روس سے اُس کے ماما۔پاپا بھی آئے تھے پریمیر رات کو تھا اور شام کو وہ پاپا کے ساتھ نیویارک کی سڑکوں پے چہل قدمی کر رہی تھی ۔تمہارے نیویارک آنے کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آئ ۔انہوں نے ویرا کا ہاتھ اپنے بازو کے خم میں دیا ۔اور کے چہرے پر دبے دبے اُس جوش کو جانچا جس کے لیے وہ انہوں چہل قدمی کے لیے لائ تھی ۔
میں ایلکسی کے لیے آئ ہوں اور آپ سے ملنے بھی۔
تم کرسمس کی چھٹیوں کے لیے پیسے اکھٹے کر رہی تھی اس ملاقات میں کیسے ویسٹ کر دیے ۔؟؟
میں اتنی بھی کنجوس نہیں پاپا ۔
تم اتنی بھی شاہ خرچ نہیں ویرا ۔
میں آپ کو یاد کررہی تھی آپ کو ملنا چاہتی تھی آپ سے ۔اُن کے بازو کو تھامے وہ پوری اُن کے ساتھ چِپک گئ۔
جب جب تم۔مجھ سے یے کہتی ہو مجھے محتاط کر دیتی ہو ۔ ایک سال پہلے تم نے یے تب کہا تھا جب تمیں مانچسڑ جا کے پڑھنا تھا ۔
مانچسڑ جاکےپڑھنے کافیصلہ غلط تو نہیں تھا ؟؟
نہیں ۔لیکن روس میں سب ہے یونیورسٹی بھی ۔
میں نئے ماحول میں آنا چاہتی تھی ۔
امرحہ سے ۔کارل سے ۔عالیان سے۔؟
بلکل مجھے ان سب سے مل کو بہت اچھا لگا ۔
یہ روس میں مجھے نا ملتے ۔
روس میں جو روسی تم سے ملتے وہ ان سے بُرے نہ ہوتے ۔رُک کر انہوں نے ویرا کو جتایا ۔
آپ ہمیشہ اس ایک بات کو ثبوت کیوں دیتے رہتے ہیں ۔کہ آپ بہت محب وطن ہیں۔۔
میں ہوں ۔اور اس میں کیا بُرا ہے۔ ہر انسان کو اپنی سر زمین سے محبت کرنی چاہیے ۔اور اس کی حمایت کرتے رہنا چاہیے۔اپنی اولاد کے سامنے تو حاص کر۔۔
محب وطن ہونے کے ساتھ محب دنیا بھی ہونا چاہیے۔ اس دنیا کا بھی کچھ حق ہے ہم پر ۔ تمہارا نکتہ کافی اہم ہے اوت مجھے پسند بھی آیا اور مجھے یہ خیال بھی آ رہا ہے کے تم نے یہ محب دنیا کا فلسفہ یہاں مانچسٹر آ کر سیکھا آکر سیکھا ہے ۔ اپنے بازو کے خم میں موجود اُس کے بازو کو دوسرے ہاتھ سے تھپک کے اُنہوں نے مسکرا کر کہا ۔
کسی سے ملوانا ہے آپ کو اُس نے ایک دم سے کہہ دیا۔۔
میری کچھ کچھ سمجھ میں آ رہا تھا ۔انہوں نے اپنے سر کو ہلایا۔۔
کیسے ۔وہ ہنسی ۔۔
تم مجھے بار بسر یہ کہتی تھی تم۔پڑھ پڑھ کے تھک چُکی ہو تمہاری آنکھو کے گِرد جھریاں نمودار ہونے لگی ہیں دوسرے معنوں میں تم بوڑھی ہو رہی ہو ۔کتابوں کے صفحات پڑھ پڑھ کے تم اوبنے لگئ ہو ۔ اور زندگی کو بس درس گاہوں تک ہی تو نہیں رہنا چاہیے نا ۔
وہ زور سے ہنسی ۔یہ سب تو میں مزاک میں کہہ رہی تھی ۔
لیکن میں سنجدگئ سے سنتا رہا ہوں ۔ تمیں شادی کرنی ہے ۔؟؟
نہیں کرنی چاہیے۔؟؟
ضرور کرنی چاہیے۔
آپ نے پوچھا نہیں کون ہے۔؟
پوچھنا نہیں ۔ملنا چاہتا ہوں۔۔
پھر بھی۔
ضرور پوچھ لیتا ۔اگر تمیں نہ جانتا ۔کافی عقل مند ہو تم۔ بے وقوفی تو نہیں کی ہوگئ۔
وہ بہت زہین ہے۔

اوہ تو مسئلہ زہانت ہے۔ شادی کر کے مات دینا چاہتی ہو۔ایسے ہراؤ گی اُسے۔
نہیں۔نہیں۔مجھے اُس کی شرافت پسند ہے ۔۔
کیتنے شریفوں سے مِل چُکی ہو جو اُس کی شرافت کو اولین کر رہی ہو؟؟؟
آپ جانتے نہیں کیتنا صفر کر چُکی ہوں دنیا کا ۔
تو تم نے اپنے تجربے کی بِنا پر اُسے چُنا؟؟
میں اس کا فیصلہ نہیں کر سکی ۔ اُس نے جھوٹ نہیں بولا ۔۔
کب آنا چاہتی ہو گھر ؟؟
ڈگری لینے کے بعد۔اُس کا نام عالیان ہے ۔
اوہ عالیان میں اُسے جانتا ہوں ۔میری بیٹی ویرا اکثر اُس کا زکر کرتی ہے ۔ویرا دل کھول کر ہنسی اور سر اُن کے کندھے پر رکھ دیا۔میں اکثر سب کا ہی زکر کرتی ہوں پاپا۔
ٹہرو ۔مجھے اپنی یاداشت کنھگال لینے دو ۔میری بیٹی ویرا نے اُس کے بارے میں کیاکیا کہا ہے ۔انہوں نے اپنی کنپٹی کو مسلا۔
کل عالیان کا برتھ ڈے ہے اور میں پندرہ دن سے مالز کی خاک چھان رہی ہوں اور کوئ ایک بھی تحفہ دریافت نہیں کر سکی جو اُسے پسند آسکے تو آخر میں کیا کروں۔ میں پھر سے مال جا رہی ہوں ۔انہوں نے ویرا کے انداز کی نقل اُتاری ۔
۔۔بابا۔۔وہ اور ہنسنے لگے اور زیادہ شدومد سے کنپٹی مسلنے لگے اور ویرا نے اُن کے ہاتھ کو سختی سے اپنے ہاتھ میں بینھچ لیا ۔۔
عالیان کو ساتھ لے آتی۔۔
اُس نے کہا وہ اپنی کلاس نہیں چھوڑ سکتا ۔۔
تو امرحہ کو ہی ساتھ لے آتیں مجھے اُس سے باتیں کرنی تھی بہت ساری ۔۔
اُس نے بھی کہا وہ اپنی کلاس نہیں چھوڑ سکتی ۔۔
“دونوں نے ایک ہی بات کی… دونو بہت اچہے دوست ہیں نا ؟”
“تقریباً…امرحہ نے یہ بات عالیان سے سیکھی ہے ۔”
“اور اس پر سختی سے عمل بھی کرتی ہے؟” روک کر انہوں نے ویرا کو دیکھا اور ویرا نے اپنی گردن ان کے شانے سے ہٹالی۔
——————-
رات کو اس نے اپنے لئے کافی بنائ اور کمرے مے جا کر اسکو یاد آیا کہ مگ وہ کچن میں ہی بھول آیا ہے۔ پھر کچن سے مگ لا کر سامنے رکھ کر وہ اسے پینا بھول گیا۔ پھر وہ بلا وجہ ہال میٹس کے کمروں میں چکر لگاتا رہا۔ کچھ اسے بیٹھنے کے لیۓ کھتے تو وہ کمرے سے ہی باہر چلا جاتا۔
دو بار اس نے اپنا بستر ٹھیک کیا، تکیے سیٹ کیۓ اور لیٹ کر کتاب پڑھنے لگا پھر اس نے اس فلور پر جانے کا فیصلہ کیا جہاں ہفتہ وار خود ساختہ تھیٹر لگا تھا، اتوار کی رات تھی اور کارل شاہ ویز مل کر پروفیسرز اور فریشرز کی نقل اتار رہے تھے۔ وہ کوریڈار کے آخری سرے پر اپنے ڈرامے کر رہے تھے اور باقی کوریڈور میں ہال میٹس کرسیوں پر بیٹھے گلے پھاڑ پھاڑ کر ہنس رہے تھے۔ درمیان درمیان میں شاہ ویز زنانہ کپڑے بھی پھن لیتا اور کسی لڑکی فریشر کا کردار نبھاتا، کارل نے اسے بھی گھسیٹا۔ “کہا تھے تم کب سے بلارہے ہیں تمھیں۔”
“پڑھ رہا تھا۔” اس نے جھوٹ بولا۔ “چلو پروفیسر oope set کو بہت دنو سے ہم یاد کر رہے ہیں۔”
اپنے ذہن کو بہلانے کے لیۓ وہ اپس سیٹ بن کر کھڑا ہو گیا۔ آنکھوں پر چشمہ لگا لیا۔ بالوں کو پانی لگا کر سر پر جما لیا اور زرا سا کب نکال کر سر کو کھجانے لگا۔ دس اسٹوڈینٹ سامنے بیٹھ گۓ۔موبائل
“Oops..oops…pick up the call”
کی مضحقہ خیز ٹون کے ساتھ بجا پروفیسر اچھی طرح جانتے تھے کہ یونی میں انہیں کیا کہا جاتا ہے، ٹون کی آواز پر گردن کو جھٹک کر انھوں نے ایسے تاثرات دیۓ جیسے کسی نے پیچھے دبۓ پاؤں آکر ان کی کنپاٹی سے گن لگا دی ہو”فریز پروفیسر” اور پروفیسر فریز۔۔ حرکت کا سوال ہی نہیں۔
“کس کا فون ہے یہ” ہلے بیغر کہا گیا۔
ایک لڑکی (شاہ ویز)نے ہاتھ اٹھا کر زرا دور بیٹھے لڑکے کی طرف اشارہ کیا”اس کا پروفیسر” اس تیسرے لڑکے نے چوتھے کی طرف اس طرح یوں دس لوگوں کے بیس بازؤوں کا جال بن گیا ہے جس میں پروفیسر الجھ گۓ۔ فون ابھی الجھ رہا ہے۔
ہر ایک ہاتھ بلند ہونے پر پروفیسر کے تاثرات کا مظاہرہ کرتے وہ سب کے پیٹ میں بل ڈال دیتا اور آخر ایک لڑکی “کاکروچ ” جیسی بلا کو دیکھ کر ایسے چلاتی ہے کہ پروفیسر کلاس کے باہر پاۓ جاتے ہیں۔ کوریڈور میں بیٹھے وہ سب اپنی کرسیوں سے نیچے لڑھک گۓ۔
پروفیسر صاحب کے ساتھ ایسے oops وہ کئ بار کر چکے تھے۔
“آج تمھاری پرفارمنس ہی لاجواب تھی یا خود بھی اپ سیٹ ہو۔”
“میں ٹھیک ہوں۔”
“تم مجھے اپنےٹھیک ہونے کا مت بتایا کرو۔ ویسے میرا خیال تھا کہ ویرا مجھے پسند کرتی ہے۔” کارل نے کوریڈور کی دیوار سے کمر ٹکائ اور ہاتھ باندھ لیے کارل بہت سی لڑکیوں کے بارے میں یہ دعوا کرتا تھا کہ وہ دل ہی دل میں اسے پسند کرتی ہیں اور کچھ وقت بعد جب وہ لڑکی کسی بھلے انسان کے ساتھ دیکھائ دیتی تو کارل کہتا کہ اس نے مجھے پروپوز کیا تھا، لیکن مجھے اس کی نیلی آنکھيں پسند نہیں تھیں تو انکار کر دیا۔ بلکہ اکثر ہال میٹس یا کلاس فیلوز اسے بتاتے کہ کارل وہ جو سبز آنکھوں والی معصوم سی لڑکی، جس کا تم پر کرش تھا نا، وہ آج فلاں ریسٹورنٹ میں ایک
ہینڑسم لڑکے کے ہاتھ سے اپنی انگلی میں انگھوٹی پہنتی پائ گئ ہے۔افسوس اسے یہ کام بجھے دل سے کرنا پڑا جب کہ وہ تو تمھیں پسند کرتی تھی۔”
“تو تم ویرا کو پسند کرتے ہو۔” عالیان اسکی تاریخ جانتا تھا، اسے چڑا رہا تھا۔
“میرا دماغ تھوڑا بہت کام کرتا ہے بڑی۔” وہ فلہال چڑنے والا نہیں تھا۔
“ویرا کا بھی تھوڑا بہت کام کرتا ہے نا بڈی۔!”
“تمھاری ناک توڑ دوں گا میں۔”اس نے گھونسا تان کر کہا۔
“پھر بھی لڑکیاں تمھے پروپوز نہیں کریں گی۔” اپنے ہاتھ کے گھونسے سے عالیان نے اس کے گھونسے کو روکا۔
“کیونکہ ان کی نظر کمزور ہے انھیں لگتا ہے کہ تم کوئ شہزادےویہزادے ہو۔”
شاید،لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کی نظریں کمزور نہیں ہے، انھیں یقین ہے کہ تم کوئ شیطان ویطان ہو۔”
“زیادہ اچھلو مت، رم میں صرف ایک خوبی ہے کہ تم سگريٹ نہیں پیتے اور لڑکیوں کو سگریٹ سے نفرت ہوتی ہے۔”
“اور تم میں صرف ایک خرابی ہے کہ رم سگريٹ کے ساتھ ساتھ خون بھی پیتے ہو۔”
“تم بچ گۓ ہو ابھی تمھارا خون پینا ہےـ”
اس نے اس کی گردن کو دبوچا۔
“فرشتے کا خون تمھے بد ہضمی کردے گا۔ہضم نہیں ہوگا تمھیں۔” عالیان نے اپنی گردن اس سے دور کی۔
“فرشتے تو فرشتوں کا خون پیتے ہی نہیں تو یہ کام مجھے ہی کرنا ہےاور میںاسے ہضم بھی کروالوں گا اور سنو دی اینجل !اگلے ہفتے دو الوؤں کے ساتھ ریس ہے،انعامی رقم پچیس پونڈ میں نے طے کروالی ہے۔”اس نے آنکھ ماری۔
ساری یونی جانتی تھیکہ وہ کیسے اسٹوڈینٹس کو بھڑکاتا تھا اور پھر انہیں مقابلہ کرنا ہی ہوتا تھا۔یعنی ہر صورت مقابلہ،ورنہ ان کی غیرت کی موت۔
“ہاں ایک اور بار میں تمھارا اور ویرا کا بریک اپ بھی کرواسکتا ہوں،تمھیں یاد ہے نا تم نے میرے کتنے بریک اپس کرواۓ تھے۔”
کارل کھ کر دبارہ تھیٹر کی طرف لپکا، عالیان کے تاثرات ایک دم سے بدلے، کارل نے مزاق کیا تھا مگر اسے وہ ہتک یاد آگئ تھی جو ہارٹ واک میں اسکی ہوئ تھی۔ وہ اپنے کمرے میں آگیا۔
“امرحہ ۔۔وہ کون ہے۔۔ میں اسے نہیں جانتاـ”
پھر سے پرانی تکرار۔ جب انسان کا دل ٹوٹ جاتا ہے تو ان ٹکڑوں میں جابجا خوف،وہم اور بے عتباری قابض ہوجاتی ہے۔درزوں اور درازوں ہی میں۔۔ پھر یہ درزے پہاڑ بننے لگتی ہیں اعر پھر ان پہاڑوں کو سر کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
اب اس وقت وہ خود کو ان پہاڑوں میں گہرا پا رہا تھا اور ان پر “ویرا ” نام کی صدا لگا رہا تھا جو پلٹ کر امرحہ کی صورت آرہی تھی۔
ایک دروازہ اس نے اپنے اندر کھلتا پایا کہ وہ ویرا کے کتنے بھی پلس پوائنٹس نکال لے، ایک پوائنٹ فلحال شاید کبھی ان میں شامل نہیں ہوسکے گا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔
اس نے خودکو وقت دیا۔۔ جلدبازی ہتک نہیں ہوگی اور آخری بار جب وہ اس کے پاس آئ تھی تو اس کے لیۓ کچھ لائ تھی۔۔ پیغامات۔۔ ان میں کیا لکھا تھا اس نے یہ جاننا نہیں چاہا تھا لیکن اب وہ یہ سوچ رہا تھا کہ کاش چپکے سے اس کے کمرے سے چرا کر وہ انہیں پڑھ لے۔ یہ کوئ ایسا مشکل کام نہیں اس کے کمرے تک وہ بہت آسانی سے جا سکتا تھا۔
———————
یونیورسٹی میں ویرا کے پروپوزل کی خبر اسٹوڑینٹس اور گروپس میں سنی اور سنائ گئ عالیان کے پروپوزل کو دبے دبے انداز میں زیر بحث لایا گیا تھا۔ کیونک اس کے پروپوزل کی خبر ہارٹ راک سے نکلی تھی۔
اور اس انداز میں نکلی تھی کہ اسٹوڈینٹس نے اسے کمال رحمدلی سے نظر انداز کر دیا تھا، کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو عالیان کے لیے تکلیف کا باعث بنتے ان سب کی ہمدردیاں عالیان کے ساتھ تھیں اور بہت سے اسٹوڈینٹس کے نزدیک امرحہ خودغرض تھی بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ ایسے تعلقات میں اتارچڑھاؤ آتے ہی رہتے ہیں اور کچھ کا مانناتھا کہ بات شروع ہوئ۔۔اور ختم ہوگئ۔۔ بس۔
“اور اب یہ ہیرا کہاں سے آگئ؟”بون فائر پارٹی میں آگ کے گرد بیٹھے ان سب کے گروپ میں پلیٹ اور مگ ہاتھ میں پکڑے بیٹھتے شرلی نے کہا۔
“جب دو میں فاصلہ اتنا زیادہ ہوگا تو تیسرا تو آۓ گا ہی۔”للی نے چچ چچ کے انداز میں کہا اورطشرلی کی پلیٹ سے چکن پیس اٹھا کر اپنی پلیٹ میں رکھ لیا۔
“تم نے دیکھا تھا وہرا کو پروپوز کرتے؟”شرلی نے بیٹی لو سے پوچھا۔
ہاں مجھے اسٹوڈینٹس کی تالیونج نے متوجہ کیا وہاں زیادہ بزنس ڈیپارٹمنٹ کے اسٹوڈینٹس ہی موجود تھے۔”بیٹی لو کافی پی رہی تھی۔
“عالیان نے کیا کہا ؟” ازرا نے پوچھا
“اس کا جواب مبہم تھا۔جارحیا بتا رہی تھی کہ اس نے کہا جواب کے لیے اسے کچھ وقت چاہیے۔”
“اور کیا جواب ہوگا اسکا؟”ہانا نے سہم کر کہا۔
ظاہر ہے ہاں۔اگر ہاں نہ ہوتا تو ویرا کے پروپوز کرنے کی نوبت ہی کیوں آتی۔”عزرا نےسنگ دلی سے کہا۔
تو ثابت ہوا عالیان کو امرحہ سے کوئ دلچسپی نہیں ہے۔شرلی نے ہونٹ سکوڑ کر راۓ دی۔
“میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ ایک کرسچن عورت کے بیٹے سے کوئ تعلق نہي بناۓگی” عزرا نے شانے اچکا کر اپنی راۓ کی تصدیق چاہی اور سب کی طرف دیکھا۔
“جب وہ نئی نئی یہاں آئ تھی تو تم نے کہا تھا یہ بہت بگڑ جاۓ گی۔”شرلی نے عزرا کو اسکی ایک اور راۓ یاد دلائ۔
“بگڑنے سے میرا مطلب یہ تھا کہ وہ غیر مناسب کپڑے پہننے لگے گی،بارز میں جاۓگی، پارٹیز اٹینڈ کرے گی، اس کے دوستوں کے حلقے میں بہت سے لوگ ہونگے۔ ٹھیک ہے میری راۓ غلط ثابت ہوئ،اس نے ویسٹرن کپڑے پہنے لیکن غیر مناسب نہیں، وہ ریسٹورنٹ اور کیفے میں دیکھی گئ لیکن نائٹ کلب میں نہیں۔”
“تو ۔۔۔؟” ہانا نے پوچھا۔
“تو اس سے ثابت ہوا کہ وہ اپنی روایات کے ساتھ جڑی ہوئ ہے۔ یہاں اسے کوئ بھی نہیں دیکھ رہا پھر بھی اس نے وہ سب نہیں کیا جو اکثر اسٹوڈینٹس کیا کرتے ہیں۔ آزادی کا بےجا استعمال۔”
“اسے یہ یاد تھا کہ اسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ “شرلی نے بہت وثوق سے کہا۔
وہ بزدل ہے اگر عالیان مجھے پروپوز کرتا تو میں ساری دنیا سے لڑ کر اسے ہاں کھ دیتی۔۔۔ بہاڑ میں جاۓ ۔۔دنیا۔۔ اصول۔۔ قانون۔۔”للی نے سنجیدگی سے کہاـ “اسی لیے اس نے تمھیں پروپوز نہیں کیا۔ “عزرا نے اسے چڑایا۔
“عالیان کو پوری یونی میں وہی ملی تھی؟” شرلی نے کہتے ہوۓ مگ ہانا کے آگے کیا کہ خیر سے ایک مگ کافی اور لادے۔
“ویرا کے بارے میں کیا خیال ہے؟”ہانا مگ لے کر اٹھتے ہوۓ بولی۔” ویرا کی شخصیت کا ریکارڈر اتنا صاف ہے کہ اسے انکار کرنا بےوقوفی ہوگی۔” عزرا نے کہا۔
“مجھے کہانی کے کلائمکس کا انتیظار ہے” ہانا واپس آکر بیٹھ گئ۔
“مجھ سے سن لوـ عالیان ویرا کا ہاں کہے گا۔ امرحہ کو عالیان کی پرواہ ہوتی تو ایسے اس کی بے عزتی
نہ کرتی۔ کس انداز میں وہ عالیان کے بارے میں بات کر رہی تھی۔” چھوٹے ذہن کی۔”عزرا نے نخوت سے کہا
“اگر امرحہ ایسے اس کی بے عزتی کر چکی ہے اور اسے عالیان سے کوئ مطلب نہیں تو وہ عالیان کے پاس بار بار جاتی کیوں رہی ہے؟”
“اس کا ضمیر ملامت کرتا ہوگا،شادی تو وہ اپنے پاپا کی مرضی سے ہی کرے گی”شرلی نے ایسے کہا جیسے وہ امرحہ کو اچھی طرح سے جان گئ ہے۔
تو پھر عالیان کو اتنا پاگل بننے کی ضرورت کیا تھی۔ہر وقت عالیان اس کے ساتھ رہا کرتا تھا۔ ہانا کے انداز میں ساری ہمدردیاں عالیان کے لیے تھیںـ
“ضرورت نہیں خودغرضی۔۔”عزرا نے سر کو جھٹک کہ کہا۔
“لگتی نہیں۔۔لیکن ہوگئ ہے۔کوئ بھی ہوسکتا ہے۔ کوئ لڑکا ایسے آگے پیچھے ہو تو کوئ بھی ہو سکتا ہے۔۔”
“ویسے مجھے امرحہ نے کافی کمپلیکس دیا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ ایسی بونگی لڑکی میں اسے ایسا کیا اچھا لگا ہے۔”تھوڑی دیر خاموش رہ کر جیسے عزرا نے اقرار کیا۔اب اس کے بال کافی بڑے ہو چکے تھے اور اس پر جچ بھی رہے تھے۔
چاروں نے قدرے حیرت سے عزرا کو دیکھا کہ کیا وہ مزاق کر رہی ہے۔ لیکن مزاق کے آثار نظر نہیں آۓ۔
“شاید اسکا بونگا پن۔۔”شرلی ہسنے لگی اور آگ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے لگی۔ “وہ کہتا تو میں بھولی بن جاتی ۔۔” اف عزرا کا سنجیدہ انداز۔
“تم کہنے سے بنتی وہ بنی بنائ تھی۔”للی نے کھ کر قہقہ لگایا۔
“میں سمجھتی تھی کہ عالیان مجھے پسند کرتا ہے۔۔”عزرا آج رات رو کر سونا چاہتی تھی۔
“تم یہ کیسے سمجھی۔۔؟”ہانا کو اس کی سنجیدگی پر حیرت ہورہی تھی۔
“وہ مجھے ٹوئٹس دے کر لینا بھول جاتا تھا۔”
“بس اتنی سی بات پر تم سمجھی کہ وہ تمھیں۔۔”ہانا نے بمشکل اپنی ہنسی دبائ جبکہ عزرا نے اسے گھور کر دیکھا۔
یہی موضوع دو اور لوگوں میں زیر بحث تھا۔دائم اور نوال میں۔
“اب مجھے امرحہ پر ترس آتا ہے۔” نوال نے سوپ پیتے ہوۓ کہا۔
“مجھے نہیں لگتا کہ وہ عالیان کو پسند کرتی ہے۔ نجانے کیوں لیکن مجھے ہمیشہ سے ہی لگا کہ وہ مختلیف خیالات کی لڑکی ہے۔ “دونوں ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے۔
“تمھارا مطلب عجیب خیالات کی؟”نوال امرحہ کے ساتھ تھی۔
“شاید۔۔”
“عالیان کوپسند کرنے میں ایسی کون سی سائنسں چلانی تھی اسے۔”
“یار، سیدھی سی بات ہے۔جب تمھارے گھر میرا پروپوزل گیا تو تمھارے نانا نے کیا کہا تھا۔؟”
“کہا تو کچھ نہیں تھا انہیں تنھارے خاندان کے بارے میں معلومات چاہیے تھیں۔”
“میرا شجرہ نسب۔۔ میری ذات۔۔ میری ماماکی طرف کے خاندان کے بارے میں معلومات۔۔ میرے پاپا کی طرف کے خاندان کے بارے میں بھی۔۔”دائم نے جتایا۔
“کم ان یار، انہوں نے یہ سب ایسے ہی پوچھا تھا، ویسے بھی وہ ذرا پرانے خیالات کے انسان ہیں اور پھر بڑے ہیں۔ اگر کچھ پوچھ بھی لیا تو یہ کوئ ایسا بڑا ایشو نہیں ہے۔ بس یہی خیالات امرحہ کے ہونگے۔”
“وہ اتنی دقیانوسی نہیں ہو سکتی ماسٹرزکر رہی ہے، روشن خیال ہےـ”
“چلو پھر یہ مان لیتے ہیں کہ وہ روشن خیال ہے لیکن اس کے گھر والے نہیں۔”
“تمھارا مطلب اس نے اپنے گھر بات کی ہوگی۔۔؟”

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: