Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 45

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 45

ویراور عالیان…سائی نے نرمی سے اسے کچھ سمجھانا چاہا.
ان دونوں کا نام ساتھ ساتھ نا لو سائی…خدا کے لیے..
تو تم حقیقت کا مقابلہ ایسے کرنا چاہتی ہو..خود کو بدلو امرحہ.
کتنا تو بدل لیا ہے_تم جانتے ہی نہیں, اس رات سے اب تک میں کتنا بدل چکی ہوں.
سائی کو اس میں انوکھے پن کا احساس ہوا_اس کے چہرے کے تاثرات میں کچھ اور بھی نمایاں ہونے لگا.
میں نے عالیان کے باپ کو فون کیا ہےوہ اسے ﮈھونﮈ رہے تھے.انکا بھیجا ایک آدمی مجھ تک بھی آیا تھا.اور اب میں نے انھیں عالیان کے بارے میں بتا دیا.لیﮈی مہر کو کوئی حق نہیں کہ وہ اسے اس کے خاندان سے دور رکھیں…عالیان کو اسکا خاندان مل جاۓ گا.دادا عالیان سے ضرور ملنا چاہیں گے__
سائی نے سہم کر امرحہ کو دیکھاتو اس کے چہرے پر نمایاں ہونے والا تاثرخودغرضی کا تھا.اس کے اپنے ہی اندر کچھ چھن سے ٹوٹ گیا_اس نے اپنا نچلا ہونٹ کاٹا_اگر وہ خود کو عہد توڑنے کے اجازت دیتاتو امرحہ کو بتاتاکہ عالیان اپنے باپ کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتا_وہ اس کی ماں کو مرنے کے لیے چھوڑ گیا تھا اور اسے بھی__
یہ تم نے کیا کیا امرحہ..وہ بے آواز بڑبڑایا_عالیان کو اپنے باپ سے ملنا ہوتاتو وہ خود اسے ﮈھونڑ لیتا_تم نے اپنے اور اس کے تعلق کو تابوت میں دفنا کراس میں وہ آخری کیل ٹھونک دی.جو اب قوت سے نکلے گی نا تدبیر سے_اب وہ قسمت کی رحمدلی کا محتاج ہوگااور قسمت کو رحمدلی پر اکسانےکے لیےبہت آنسوبہانے پڑتے ہیں.. وہ خاموش کھڑا سوچ رہا تھا..
تم مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہوسائی…
میں چاہتا ہوں تم اپنے لیے دعا کرو..بہت ساری دعائیں کرو..کہہ کر سائی پلٹ آیا.اس کا دل برا ہوگیاتھا.اور اسے امرحہ پر غصہ سا آیا تھا…..
رات کے آخری پہر وہ چونک کر اٹھا.
اس کے سینے پر مارگریٹ کی ﮈائری تھی اوراسکی آنکھ میں نمی تھی..وہ چھت کو دیکھنے لگا پھر آس پاس.اسے یہ یاد کرنا پڑا کہ وہ کہاں ہے اور اس کےساتھ کیا ہوتا رہا ہے.
ان کیفیات کا شکار وہ بچن میں ہوا کرتا تھا.جب بستر پر روتےروتے سوجایا کرتا تھا.اور پھر سوئی جاگی حالت میں اسے لگا کرتا تھا کہ کوئی اس کے سرہانےبیٹھے سرگوشیاں کرتا رہا ہے.ایسی سرگوشیاں جو اسے بوجھل نہیں کرتی تھیں اور آنکھ کھلنے پر اسے رو دینے پر مجبور کردیتی تھیں.وہ اس خوشبو کو بہت قریب محسوس کرتا.جو مارگریٹ کے سوتھ لگ کر سونے سے اس کے اندر حلول کر گئی تھی.اور جسے اس نےاپنے اندر سے کبھی جدا نہیں ہونے دیا تھا.
وہ سرگوشیوں کی رات تھی.وہ مارگریٹ کی خوشبو کوبہت وضاحت سے محسوس کر رہا تھا.وہ اٹھ کر بیٹھ گیا.اور اسے لگا وہ بس ہاتھ بڑھا کر اپنی ماں کو ﮈھونڑ نکالے گا.اس نے کمرے میں اندھیرا ہی رہنے دیا.اور خود وہ بچہ ہی بن گیا.جو اپنی ماں کےساتھ سویا کرتا تھا.اس نے بہت دھیمی آواز میں مارگریٹ کو پکارا
“ماما!”
اور پھر وہ اپنی آنکھیں مسلنے لگا.ﮈائری کو ہاتھوں سے چھوا اور لیٹ کر پھر سےاسے اپنے سینے پر رکھ لیا..
صبح آنکھ کھلتے ہی اس نے وہ سب یاد کرنا چاہا جو رات بھر اس کے ساتھ ہوتا رہا تھا.کافی دیر تک بستر میں پڑا وہ ﺫہین پر زور ﮈالتا رہا_ کہیں سرگوشیاں تھیں. کہیں امرحہ اور دیرا اور کہیں وہ خود__
بھاگ پڑنے..ہانپ جانے اور رو دینے کی کیفیات غالب رہیں..
اس نے محسوس کیا کہ وہ ﺫہنی طور پرکچھ زیادہ ہی الجھا ہوا ہےاسے خود کو معول پر لانے کی کوشش کرنی چاہیے.اسے خود کو وقت دینا چاہیےاور خود کو تھکا دینے کے بجاۓپرسکون رہنے کے طریقوں پر غور کرنا چاہیے.
اپنا بستر اور کمرہ صاف کرنے میں اسے معمول سے زیادہ وقت لگا پھر اس نے خود کو ﺫرا زیادہ اچھی طرح سےتیار ہونے دیا.تاکہ زیادہ ہشاش بشاشنظر آۓ.اس نے سائی کی گفٹ کی چیک شرٹ پہنی کارل کا گفٹکیاکوٹ اور بالوں کوہیئرجیل لگا کر شیٹ کیا.
کارل اس کے کمرے میں آیا”یہ لو اپنا ناشتہ”
لیپ ٹاپ کو بندکرتے اس نے کارل کی لائی ٹرے کو دیکھا تین عدد موٹے تازے سینڑوچز اور کافی کا مگ…مجھے نہیں کرنا ناشتہ..!” اس نے ہنسی دبا کر کہا.
برننگ مین ایونٹ میں آگ کے مختلف کرتبوں میں عالیان نے کارل کو ہرایا تھا.اب کارل کو اسے لنچ کروانا تھا.اور لنچ سے پہلے وہ اسکا پیٹ اچھی طرح سے بھر دینا چاہتا تھا جبکہ اپنی باری وہ تین تین وقت رہا کرتا تھا.
“آج تم فوج بھی لے آؤتو آج میں ناشتہ نہیں کروں گا”عالیان نے اسے اور جلانا چاہا.
” فوج کا سربراہ آگیا ہے کافی ہے…”اسنے بڑھ کر دروازہ لاک کیا.
شرافت سے انھیں کھا لو ورنہ مجھے تمھارا منہ کھول کر انہیں اندر ﮈالنا پڑے گا.اور یہ کوٹ اتار دو اس پر کافی کے داغ لگ سکتے ہیں. ”
عالیان نے اپنا موبائل نکالا اور دو منٹ بعد لاک کھلنے کی آواز آئی.شاہ ویزاور سائی دروازے میں کھڑے تھے.عالیان نے پہلے سے ہی چابی شاہ ویز کو دے دی تھی.اور اس نے موبائل پر بیل دی تھی اور دونوں نے کارل کی لائی ٹرے پر ہلا بول دیااور عالیان دروازے کے باہر کھڑا ہوگیا.
میں نے رات کا کھانا بھی نہیں کھایا.اپنی جیب بھر کے نکالنا آج…آج لنچ میں میں تھیں بھی کھا جاؤں گا”کہہ کر وہ بھاگ گیا.
اچھا کیا تم نے یہ سینڑوچز کھا لیےورسٹ فلور پر جو جوئیل ہے نا,اسے میں جا کر بتا آتا ہوں کہ اسکی جو ناشتے کی ٹرے غائب ہوئی ہے وہ کہاں ہے.کارل دانت نکال کر فرسٹ فلور کی طرف بھاگا.
یونیورسٹی سے عالیان ہارٹ راک آگیا.کارل نے لنچ ٹال دیا تھاوہ جانتا تھا کارل ایک دو دن ایسے ہی ٹالے گا, پھر بھی وہ ایک بھاری بل کی ادائیگی سے نہیں بچ پاۓ گا.
ہارٹ راک میں داخل ہوتے ہی اسے سامنے مینیجر نظر آیا.جو غیر معمولی بات تھی.اس کے تاثرات کافی حیران کن تھے.اور اس کی آنکھوں میں ایسا اچھنبا تھا جیسے وہ پہلی بار عالیان کو دیکھ رہا تھا.
تم ٹھیک ہو.کارل نے شرارت سے اسکی ٹھوری کو چھوا.
“ہاں…!” اس نے بھی مسکرانے کی کوشش کی.
آج کیفے خالی کیوں ہے کوئی ایشو..
“پرائیوٹ بکنگ” کہتے اس نے ترچھی نظروں سے تن کر کھڑے اور چاق و چوبند نظر آتے دو گارﮈ نما آدمیوں کو دیکھا.
“اوہ..” اس نے سیٹی بجائی..”پورا کیفے”
ہاں…”
اور اسٹارف…”
تم اس طرف چلے جاؤ..”مینجر نےاندر ایک ہال کی طرف اشارہ کیا.
اسٹاف میٹنگ ہے..”?
مینجر نے اسکا سوال سنا لیکن جواب دیے بغیر وہ اپنے آفس کی طرف چلا گیا.مینجر کے انداز پر اسے حیرت ہوئی.لیکن پھر بھی وہ اسکی ہدایت پر عمل کرتے اسٹاف میٹنگ کا سوچتے اسہال کی طرف آگیا جس کی طرف اسے جانے کا کہا گیا تھا.
یال میں چوکور میزوں میں سے ایک کے گرد ایک شخص قیمتی تھری پیس میں ملبوس ,عجلت کا انداز لیے اپنی گھڑی کو دیکھ رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سےاپنی ٹھوڑی کو مسل رہا تھا..
Pg#178
تھوڑی کو مسل رہا تھا۔ اس کا سر اس انداز میں اور ایسی بے نیازی لیے ہوۓ اٹھا ہوا تھا جیسے اس کی سلطنت کی رعایاء سامنے زمین پر بیٹھی تھی اور وہ ان پر اپنے من چاہے احکامات نافد کرنے جا رہا تھا۔ اس کا پہلا تاثر مطلق الغان کا تھا اور اگلا تاثر پہلے کی گواہی۔۔
سامنے میز پر پرچ میںکافی کپ اوندھا پڑا ہوا تھا۔ آہٹ پر احکام صادر کرنے والے شخص نے سر اٹھایا اور عالیان پر اس کی طرف آنے والی روشنی روک لیتے وجود کی حقیقت کھل گئ۔
سیاہ تل نے ساری روشنیاں کسی سیاہی چوس کی طرح جزب کرلیں۔
چھناکے سے ہال کی چھت سے جھولتے قمقے ٹوٹے۔۔
گزر چکے سب ہی وقت کی دبی دبی سسکیاں اور آہیں اپنی قبروں سے اگل دیں۔
کچے گوشت کے جلنے کی بو اس کے نتھنوں میں گھسی اور دنیا بھر کی مخلوق اور ماداوں کا درد زہ اسکے وجود سے لپٹ گیا۔۔ ہال میں پھیل گیا۔۔آہیں اٹھیں۔
یہ اس کے اندر شدید خواہش رہی تھی یا شدید نفرت کہ اس کی نظریں آنکھ کے کنارے پر برجمان تل پر ٹھر گئیں اور جیسے ایسا تل ساری دنیا میں کل انسانیت میں ایک ہی انسان رکھتا تھا ۔۔ اور یہ وہی انسان ہی تو تھا۔ کھڑے کھڑے وہ اپنی ہی پرچھائیں بن گیا اور اس پر اپنے گپت ہونے کا ادراک ہوتا۔۔ سمعی بصری قوتیں در فنا میں پناہ لینے کو ہوئیں اور عالم فنا کا شور عالم وجود میں کانوں کے پردے پھاڑنے لگا۔
اس کی سانسوں نے باد سموم (زہریلی ہوا)کی موجودگی کو محسوس کیا۔
چار بھوری آنکھیں اٹھیں۔ایک دوسرے کی سمت۔۔
“اورجس دن میں اور ولید پہلی بار ایک چھت تلے اکھٹے ہوۓ، مجھے یقین ہوگیا کہ اس سے تعلق مجھ پر واجب تھا۔۔ اور اس سے محبت مجھ پر فرض۔۔”
اٹھ کر ملیں اور ٹھر گۓ۔۔
“جب وہ سو جایا کرتا تھا میں جاگ جاگ کر اسے دیکھا کرتی تھی، میں اپنی سانسوں کی آمدورفت کو اتنا بے ضر بنا لیا کرتی تھی کہ وہ اس کی نیند میں مخل نہ ہوسکیں اور اسے جی بھر کر دیکھتے رہنے کا میرا خواب ٹوٹ نہ جاۓ۔۔”
عالیان نے اتنا لمبا سانس لیا جیسے آخری سانس۔۔
“جب وہ مجھے دیکھاکرتا تھا تو مجھے یقین ہوجایا کرتا تھا کہ مجھے خاص اسی مقصد کے لیے بنایا گیا ہےـ اگر وہ مجھے نہیں دیکھے گا تو میرے ہونے کا مقصد ختم ہوجاۓ گا۔۔”
وہ کھڑا ہوا اور چل کر اس انداز میں اس کی طرف آیا جیسے سدھاتے ہوۓ جانور کی پشت پھیرنے کا ارادہ ہو۔
وہ مہزوم(شکست خوردہ)بنا کھڑا تھا کہ اس کی پشت پر ہاتھ پھیرا جا سکتا تھا۔
اس کے اندر دفن بند تابوتوں کے ڈھکن ایک جھٹکوں سے کھلے اور اسے صاف صاف مارگریٹ دیکھائ دینے لگی۔۔ رونا۔۔ تڑپنا۔۔ ہاتھ کاٹ لینا۔۔ بڑبڑانا۔۔ چلانا۔۔ بھول جانا۔۔ بھٹک جانااور پھر “سرد ” ہوجانا۔۔
آہیں۔۔ صدائیں۔۔ واویلا اور خاموشی۔
“میں نے تمھیں پھچان لینے میں وقت نہیں لیا۔”
ولیدالبشر نے اپنے دونوں ہاتھ کہنی سے اوپر اس کے بازوؤں پر رکھے اور اسے جوش سے جھنجھوڑا۔
“اس کے ہاتھ کو ہاتھوں میں لے کر بیٹھے رہنے کے خواب میں نے ہر رات دیکھے۔ میں ہر رات ایک ہی خواب دیکھ لینے پر قدرت حاصل کر چکی ہوں۔ جو بھی ہے۔۔ میں ہر رات اہتمام سے اس خواب کے لیے خود کو تیار کرتی ہوں۔”
“تم میں میری کتنی شباہت ہے”
ولیدالبشر نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ عالیان بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
اس کے لوٹ آنے کی دعائیں میں نے اتنی
کثرت سے کیں،جیسے لمحوں میں بنجر زمین پر جنگل اُگ آۓ اور اس جنگل میں ، میں نے اپنی باقی مندہ قوتوں کو اکھٹا کر کے اس کے نام کی صدائیں لگائیں۔۔”
pg#179
“میرے بیٹے دیکھو۔۔ دیکھو اپنے باپ کو” اس نے اسکے سینے کے مقام پر جوش سے ایک گھوسا مارا۔
“اب ہم ایک ساتھ ہیں۔۔ میں تمھارے سامنے کھڑا ہوں۔۔ تمھارا باپ۔۔ ولیدالبشر۔۔”
“میں نے ایک افریقی جادوگر کو اپنی جماپونجی تھما دی اور اس کے کہے پر ایمان لے آئ کہ ولید ضرور آۓ گا۔”
“وہ آگیا ہے”عالیان بڑبڑایا۔۔ “افریقی جادوگر نے وقت کیوں نہ بتایا۔؟” آواز اس کے اندر چکراتی رہی۔
“کچھ بولو مائ سن۔۔ میں نے تمھاری آوازیں خوابوں میں سنی ہیں۔!”
” جان لو مارگریٹ۔۔ آفاق ایک احرام ہے جس نے تمھاری ساری دعاوں کو حنوط کر دیا ہے اورکوئی ایک بھی دوا آسمان کو چھید کر ولید کو چین لانے کی طاقت ن نہیں رکھتی،مجھے اپنی قوت دوا پر ملال رہے گا ۔۔”
حال کی دیوار پر مارگریٹ کی فلم چل رہی تھی ایک کے بعد اگلا منظر۔۔پھر اگلا۔۔آخری منظر میں وہ سرد تر ہوتی جارہی تھی، یس کی آواز کی لکنت یس کی ناپید ہوتی قوت کا نشان دی رہی تھی۔
“اس کے ساتھ گزری ساعتیں میں گنوانا نہیں چاہتی مے اپنی آنکھیں بینڈ کر لینے کو ہوں اور ان آنکھوں میں اسے مقید۔۔ مے ماضی کا حصّہ بننے جا رہی ہوں لیکن میں انھے ماضی کے سپرد نہیں کرونگی ۔۔اگر ارواحکو دیا کا موقع دیا جایگا تو میری پھیلی پھر سے وہ ہوگا اور آخری بھی۔۔”
یس کی کندھے پر ایک ہاتھ آکر ٹھر گیا۔۔وہ ہاتھ اس کے داۓ گال پر آیا اور گال کو نرمی سے مسلنے لگا۔۔
“عالیان !”یس نی آواز کو روح میں اور انگلی کو دل پر محسوس کیا۔ ہال کی دیواروں پر بھاگتی دوڑتی مارگریٹ کی فلم اندھیروں میں گم ہونے لگی۔
“عالیان !”ہاتھ گال مسل رہا تھا۔
اسے دق مائیں ملی تھیں۔۔ باپ نہیں۔۔ اسکی آنکھيں لبالب بھر گئیں۔ اسکے باپ کا ہاتھ اسکے گال پر تھا۔وجود میں آنے والا ، وجود میں لانے والے کی بہت قدرکرتا ہے۔ خون میں ایک ابال ہوتا ہے جو دنیا کی کسی آگ سے نہیں ابلتا اور خونی رشتے کی صرف آنچ سے ابل کر چھلکنے لگتا ہے۔دنیا میں کسی بھی انسان سے دل کھول کر نفرت کی جاسکتی ہے۔ خونی رشتے سے نفرت کرنے کے لیے پتھر سا دل چاہیے۔ اسکا دل چاھا۔۔ حتہ کہ وہ مٹتے بنتے مارگریٹ کی زندگی کے مناظر دیکھ رہا تھا کہ وہ اس چوڑے سینے میں سر دے لے اور پھوٹ پھوٹ کر روۓ اسنے چاہا کہ وہ اپنی یاداشت کو گم کردے اور ولیدالبشر سے ناپسندگی کا جذبہ بھولہ بسرا کردے۔ ہاں وہ خود سے کیے گیے وعدے سے وعدہ خلافی کردے۔۔اس کے سامنے اسکا باپ کھڑا تھا۔۔اس کے قد کے عین برابر۔۔ اسکی آنکھوں کے عین سامنے۔۔اسکے گال اور شانے اس گرمی سے دہک رہے تھے جو اسکا باپ اسکے وجود میں منتقل کر رہا تھا۔اسکے دل کے مقام پر گھونسا پڑا۔ وہ اسے گمشدہ مسرت سے لبریز کر دینے کو تھا۔
“بہت بڑے ہو گۓ ہو تم ہاں۔۔!تمھیں ہونا ہی تھا۔” ہاتھ اسکے سر کے بالوں تک گیۓ!اسنے خود کو ایک قدم پیچھے کیا۔
ولیدالبشر نے ذرا چونک کر اس خاموش کہڑے مجسمے کو دیکھا جسے عربی ہاتھوں نے بغربی ڈھب میں ڈھالا تھا جس کے چوڑے شانے اور اونچا قد اسکے مضبوط ہونے کی دلیل دے رہے تھے اور جس کی عرب رنگ آنکھيں اتنی بے تاثر تھیں جیسے وہ سدا روشنی سے انجان رہی ہیں اور جن کی بینائ کا واسطہ صرف اندھیرے سے رہا ہے۔
” دیکھو عالیان۔۔!میں نے تمھیں ڈھونڈ نکالا۔۔” دو قدم خود کو پیچھے لے جاتے ولیدالبشر نے دونوں بازو وا کر دیے۔۔ اس اونچے، لمبے، طاقتور مرد لو قابو کرلینے کے لیے نس اتنا ہی کافء تھا۔
عالیان کے جسم میں سنسناہٹ ہونے لگی۔
pg#180
وہ چار قدم پیچھے ہوا ور نامحسوس انداز میں گہرے گہرے سانس لیے مارگریٹ کی ڈوبتی ابھرتی تصویروں پر ابھی بھی اسکی نظر تھی۔
“مجھے گم کیوں کیا تھا؟” الفاظ کو اس نے جان لگا کر بے تاثر رکھا۔
ولیدالبشر ٹھٹک کے رہ گیا۔عالیان کے سوال پر اس کے تاثرات نے حکم عدولی کی مہر لگائ۔اس نے اپنی نظریں بدلیں پھر ان میں معملہ فہمی چہلکنے لگی۔ عالیان نے ان بدلتے تاثرات کو بھانپ لیا۔
“تمھارا باپ تمھارے پاس پہلی بار آیا ہے۔۔اس کے سینے سے لگنے سے پہلے ایسا سوال کوئ بھٹکا ہوا ہی کر سکتا ہے۔”آواز میں دبا دبا سا جلال تھا اور الفاظ سے زیادہ ان کی ادائیگی میں ایسی طاقت تھی کہ عالیان نے سوچا کہ اگر یہ شخص ” میں مر رہا ہوں، میری بانہوں میں آجاو” کھ دیتا تو وہ اسکے قدمو میں جا بیٹھتا۔ اب میرا باپ میرے پاس پہلی بار کیوں آیا؟ اس نے خود کو مضبوط کرنا چاہا جبکہ اسے یقین ہونے لگا تھا کہ سامنے کھڑے شخص کو اس کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کی سب آوازیں سنائ دے رہی ہیں۔ ” تمھیں سب معلوم ہوجاۓ گا۔۔ میں بتاؤں گا ۔۔ آو میرے ساتھ یہاں بیٹھو۔۔ ” پیشانی پر ناگواری کی لکیریں ابھریں اور اسکی آواز کی خود ساختہ نرمی معدوم ہونے لگی۔
عالیان ، مارگریٹ جوزف نہیں بننا چاہتا تھا۔ وہ ڈٹ کر کھڑا تھا،گو ایسا کرنے میں بہت سی قوت حائل تھیں۔
“مجھے کھڑا رہنے دیں تاکہ ہم دونوں کو چلے جانے میں آسانی رہے۔”اس کی آواز کھردری ہوگئ۔
کرسی کو اس کے لیے باہر نکالتے ولیدالبشر کے ہاتھ روک گۓ اور جم زدہ گردن پر ناگواری کی چھپی ہوئ۔۔ نسسیں بھی ابھر آئیں مگر انہیں فوراً چھپا لیا گیا۔ لیکن عالیان دیکھ چکا تھا۔اسکی نظر سامنے موجود انسان کی ایک ایک جنبش پر تھی۔
“ہم جائیں گے تو ایک ساتھ جائیں گےـ” ولید مسکرایا۔
“ایک ساتھ کا مطلب جانتے ہیں آپ۔۔۔”
اب ولیدتھوڑی کو مسلتے اسے دیھکنے لگا ایک ایسےکہلاڑی کی طرح جسے اپنا اگلا مہرہ چلنا تھا ورنہ بساط اُلٹ جاتی۔
“پتہ نہیں اس عورت نے تمھیں میرے بارے میں کیاکیا کہانی بنا کر سنائ ہے۔”
“انہیں لیڈی مہر کہۓ۔۔ میں ان کے لیے احترام کی درخواست کروں گا۔”
“میں مارگریٹ کی بات کر رہا ہوں۔”
ولیدالبشر کے منہ سے اس نام کے نکلتے ہی وہ ٹھیک اس جگہ پر جا کے کھڑا ہوگیا جہاں سے چلا تھا۔” سرد مردہ ہاتھ سے ہاتھ چھڑاۓ جانے سے۔”
“ایسی سختی اور نخوت سے ماما کا نام مت لیں۔ـ” وہ چلا اٹھا۔
ولید نے اسے سرد نظروں سے دیکھا۔ “تمھارا انداز بتا رہا ہے کہ تمھیں میرے بارے میں غلط بتایا جاتا رہا ہے۔”
“ہوسکتا ہے اب آپ ٹھیک بتا دیں۔۔” ولیدالبشر نے بائیں ہاتھ کی انگلیوں کو انگھوٹے کے ساتھ رگڑا۔۔شاید عادتاً اس کی جھکی ہوئ بھنوئیں ذرا سا اور جھک گئیں،اور عالیان نے ان میں وہ رنگ دیکھا جو آسمان پر ُاڑتے باز پر نشانہ باندھے شکاری کی آنکھ میں اس وقت ابھرتا ہے جب وہ ٹریگر پر انگلی کا دباؤ بڑھانے والا ہوتا ہے۔اور باز کا شکاری تند خو اور دورفہم ہوتا ہے۔۔آسمان سے جالینے والا۔۔۔ صرف شست ہی باندھ کر مار دینے والا۔
میں نے مارگریٹ کو اچھی عورت سمجھ کر شادی کی.وہ مجھے چھوڑ گئی اور تمھیں بھی لے گئی اور میں پاگلوں کی طرح تمھیں ﮈھونڑتا رہا.اتنے سال میں کہاں کہاں نہیں گیاپھر مجھے معلوم ہواکہ اس کی موت واقعہ ہو گئی ہےمیں بہت مشکل سے تم تک پہنچا ہوں عالیان…
اور جس آنچ سے اسکے خون میں ابال اٹھے تھےوہ خون ایک دم سےسرد ہوگیا.وہ استہزائیہ ہنس دیا
“ناروۓ کے ہوٹل میں کس عورت کو طلاق اور دھتکار دی تھی آپ نے?.
ولیدالبشر کو جھٹکا سا لگا.اسے بتایا گیا تھاکہ وہ بہت چھوٹا تھا جب اسے بے سہارا بچوں کے ادارے میں داخل کروایا گیا تھا اسے توقع نہیں تھی کہ اسےاس بارے میں بھی معلوم ہوگا.
جس فلیٹ میں شادی کر کے انہیں رکھا تھاوہ اسی فلیٹ میں مر گئی تھیں تو آپ انہیں کہاں پاگلوں کی طرحﮈھونڑتے رہے تھے.میری پیدائش سے پہلے آپ انگلیڑ چھوڑ چکے تھے.بہت آسانی سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہےکہ دوبارہ آپانگلینڑ آۓ…
میں اپنے دوست کو بھیجتا رہا تھا تمھیں ﮈھونڑنے…اپنے انداز کی تلخی کواس نے بمشکل قابو میں کیا..
آپ خود کیوں نہیں آۓ?
مجھے انگلینڑ سے نکال دیا گیا تھا. میرے کاغزات میں گڑبڑتھی.مارگریٹ نے مجھ سے رابطہ ختم کر دیا تھا”
آپ کی نیت میں گڑبڑ تھی مجھے یقین ہے اس کا.انگلینڑ سے نکلتے ہی آپ نے ناروے میں شادی کر لی تھی فورا…
وہ میری مجبوری تھی.
میں کیا تھا….ضرورت…مجبوری…خواہیش…وقت گزاری…?
میں صرف اسلیۓ غلط نہیں ہو سکتا کہ تم سے الگ رہا…تم غصے میں ہو.
آپ جھٹ بول رہے ہیں ..ایک ساتھ اتنے جھوٹ بول دیےآپ نے…”
خود کو پر سکون کرو…تھوڑے نارمل ہو جاؤ..
ٹھیک ہے ..اگلی بار پھر اتنے ہی سالوں بعد آئیں گا شاید میں نارمل ہو چکا ہوں.وہ پلٹ کر جانے لگا.
کیا چاہتے ہو تم?
آپ کیا چاہتے ہیں?
میں تمھیں لینے آیا ہوں..”اتنے سالوں بعد کیوں? مجھے صرف سچ سننا ہے ورنہ کچھ نہیں..
ولیدالبشر نے اپنے اندرتیزی سے جوڑ توڑ کیے.
میں نے مارگریٹ کو طلاق دے دی تھی, یہ میرا حق تھا اور وہ غصے میں آگئی…
جب ناروے میں وہ آپ کو میرےبارے میں بتا رہی تھیں تب آپ نے کیا کہا تھا.
میں سمجھا وہ جھوٹ بول رہی ہے.
نہیں آپ سمجھے میں آپ کا نہیں کسی اور کا بچہ ہوں.ہتے وہ ﺫرا شرمندہ نہیں ہوا.حکم عدولی کرنے والوں کودی ھانے والی سزاکے اعلان کرنے کے انداز کو ولید نے بمشکل دبایا.
“کسی اور کے بچے کو اب کیوں سمیٹنے آۓ ہیں?”
یہ غلط ہے …جھوٹ ہے.
عالیان ایک کرسی گھسیٹ کر اس پر بیٹھ گیااور خود کو سوچنے کے لیے وقت دیااس کے سامنے ایک صحت مند خوش شکل,قیمتی لباس اور جوتوں میں ملبوساسکا باپ کھڑا تھا اس کے ہاتھ میں وہ گھڑی تھی.جو ایک معروف کمپنی آرﮈر پر صرف “ایک” تیار کرتی ہے.ولیدالبشر کی کھال پر ایکجھری نہیں تھی وہ اپنی صحت کا بہت خیال رکھتارہا تھا.وہ اسکن سرجری سے کئی بار گزر چکا تھا.اسکی خوبصورتی اسکا لباس اسکا انداز اسکے الفاظ اسکےتاثرات کوئی ایک بھی چیزاس بات کی گواہی نہیں دے رہی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے غم میں گھلتا رہا ہے.اسکی ماں گھل گھل کر مر چکی تھی.اور اسکا باپ کھلا گلاب بنا
اس کے سامنے موجود بیٹے کی جدائ پڑ رونا چاہتا تھا …
‘یہ صرف میرے لیے یہاں نہیں آیا ‘ عالیان نے اپنا سر پکڑ لیا اور ولیدالبشر نے آ گے بڑھ کر اسکے سر بوسہ لیا
‘تم خود کو پر سکون رکھو اور آؤ میرے ساتھ. یہ میری بدنصیبی تھی کہ میں نے تمہیں کھو دیا .. زندگی نے بہت برا کیا میرے ساتھ .. مجھے معاف کر دو.. لیکن اس میں میرا کوئ قصور نہیں تھا’
عالیان سر جھکائے ہی رکھا ..اسکی ماں کا ایک آنسو گرتا تھا تو وہ تڑپ اتھٹآ تھا اسکا باپ رو کر اس کا بوسہ لے رہا یے اور وہ بت بنا بیٹھا ہے ..
‘آپ میرے باپ بننے آئے ہیں اور مجھے آپ کا بیٹآ نہیں بننا مجھے آپ میں دلشسپی نہیں ھے اور ہو گی بھی کیوں ? ‘ عالیان نے بہت کھردرے اور غیر جذباتی انداز سے کہا وہ ایسے سپاٹ ہو گیا جیسے مشین ھو
‘تمہارا باپ ایک کامیاب بزنس مین ھی اور تمہیں اس میں دلچسپی نہیں’الٹی طرف سے ولیدالبشر نے وہ پتا پھینکا جسے سیدھے سیرھےاور صاف صاف عالیان نےپڑھ لیا وہ ذرا سا چونکا اور اس کی نظروں سے ٹپکتی لالچ ولیدالبشر نے تاڑ لی اور خود کو داد دی
‘ میرا سب کچھ تمھارا ھی ھے میں سمجھ سکتا ھوں کہ تم نے کیسے زندگی گزاری ھوگی میرا پاس بہت کچھ ھے عالیان .. میں تمہیں بہت کچھ دے سکتا ہوں’
اور اس باز کو مار گراتے وہ چوک گیا اسکا انداز کا روباری ھو گیا اور وہ بھول گیا کہ اسے فیالحال ایک غم زدا باپ کا ہی کردار نبھاتے رہنا تھا …
خصلت پانی میں تیرتا ھواکاگ ہے جو زیر پانی رہ ہی نہیں سکتا اسے اوپر آنا ہی ھے …
‘میں نہیں مانتا کہ آپ کے پاس کچھ ھوگا چند ہزارڈولرز کے سوا ‘ اس نے لالچی اندازاپنا لیا
‘اس پورے ہارٹ راک کو بک کروانے کے لیے جا نتے ہو کتنے ہزار پونڈز چاہیں’
:وہی چند ہزار نا میرے پاس اس سے زیادہ پیسے ہیں ماما مہر کے پاس اس سے زیادہ دولت ہے’
‘تمھاری ماما مہر کے پاس میری دولت کا ایک حصہ بھی نہیں ہوگا’ولید چڑگیا
‘اچھی بڑ ہے ‘ عالیان بھر پور استہزائیہ ہنسا
‘بڑ نہیں ھی یہ ‘ ولید غصے سے بھڑک اٹھا .
شاید اسے اپنی دولت اتنی پیاری تھی کہ اس پہ طنزاسکا گوارہ نہیں تھا ..وہ تیزی سے ہال سے باہر گیا اور وا پس آ کر ایک فائل اسکے سامنے رکھ دی
‘اسے کھولو اور پڑھو میری کمپنی اور اس کے شیئرز کتنی مالیت کے ہیں ‘اسکا انداز ایسا تھا جیسے کہتا ھو … دیکھو .. پڑھو .. ولیدالبشر کےنا قیمتی ہے کیا سمجھ کر تم ایسے قیمتی انسان سے ایسی بات کر رہے ہو
اور بس ایک پل لگا عالیا ن کو بات سمجنے میں .. اسکا شک یقین میں بدل گیا اور اس پقین پر اسکا دل پاش پاش ہو گیا موہوم سی جو امید تھی وہ دم توڑ گئی اندر ہی اندر اس حقیقت پر وہ رو دینے کو ہو گیا وی اس سے نفرت کرتا تھا اب اسے اب خود سے بھی نفرت محسوس ہونے لگی .. تو بس یہ حیثیت ہے اسکی
اسکا باپ ایک بیو پاری… بیوہ امیر عورت ..کمپنی …. شیئرز… سگی اولاد .. سوتیلی اولاد …
ولیدالبشر نہیں جانتاتھا کہ وہ بز نس کا کتنا زہین اسٹوڈنٹ ہے عالیان نے فائل پر سرسری نظر بھی نہیں ڈالی تھی.. اسکی ضرورت ہی نہیں رہی تھی
‘میرے علاوہ آپکی کوئاولاد ہے? ‘ اپنی آواز کی لرزش کو قابو پا کر اس نے عام انداز اپنا کر یہ سوال پوچھا.
دکھ کا ایک سایہ ولیدالبشر کے چہرے کے پار ہوا ..
‘ہاں.. ایک بیٹا تھا’
‘تھا?’اب عالیان ساری کہانی ہی سمجھ گیا..
‘کار کے حادثےمیں اس کی ڈیتھ ہو گئ ‘ نیم دکھ کے تاثر کے ساتھ ولید خا موش ہو گیا…

Read More:   Allama Dahshatnak by Ibne Safi – Episode 3

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply