Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 46

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 46

اگلی بات کرنے کے لئے عالیان نے چند کہرے

سانسں لیے۔ اس کا دل چاہا وہ اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھ کر ہال سے باہر چلا جاۓ اسے اپنے دل سے رونے کی واضح آوازیں آرہی تھیں۔
” یعنی اس کے پاس اتنی مہلت بھی نہیں کہ وہ اپنے شئیرز قانونی طور پر منتقل کر جاتا۔ ان بیوہ خاتون کا بھی سگا بیٹا ہونے کی حیثیت سے اس کےحصہ میں “ففٹی پرسینٹ” شیئرز آۓ ہوں گے۔۔ کچھ آپ کی سوتیلی اولادیں بھی ہوں گی اور اب آپ کی دوسری سگی اولاد ہے تو یہ شیئرز کمپنی کے طے کیے اصولوں کے مطابق صرف اسے منتقل ہو سکتے ہیں ورنہ یہ واپس کمپنی کے پاس جائیں گے۔ جو یقیناً آپ کو گوارا نہیں ہوگا۔ میراا اور آپ کا ڈی این اے بھی ہوگا ورنہ آپ کسی کو بھی اپنی سگی اولاد بنا کر پیش کر دیتے اور ایک مخصوص مدت کے بعد آپ کچھ کر نہیں سکیں گے۔ آپ کو ہر صورت ایک بالغ اولاد چاہیے۔” وہ رکا۔ “اس لیے آپ مجھے ڈھونڈتے رہے”
فائل کو اس نے نخوت سے کھسکا دیا اور اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ اسے اطمینان تھا کہ اپنے باپ کے جال کو اسی پر الٹ دیا تھا۔
“مجھے اس سب میں کوئ دلچسپی نہیں ۔”اس نے بہت آرام سےاس شخص کو الو بنادیا تھا۔
“تم یہ نہیں کر سکتے۔”ولید تڑپ اٹھا۔
“میں یہ کر رہا ہوں۔” وہ استہزاء ہنسا۔
“میں تمھارا باپ ہوں، تم کس طرح پیش آرہے ہو میرے ساتھ؟”
وہ ایک بزنس مین سے پھر ایک “باپ” بن گیا۔۔ ایسا کرنا پھر سے ضروری ہو گیا تھا۔
“مجھے اس باپ سے کوئ لگاؤ نہیں ” اس نے انگلی سے اس کی طرف اشارہ کیا۔
“تم میرا خون ہو عالیان۔۔”
“آپ کودیر سے یاد آیا۔۔”
“ہمیں اب ایک ساتھ مل کر رہنا چاہیےــ”
“ٹھیک ہے ۔۔”اس نے دونوں جیبوں میں ہاتھ دیے اور پہلے سے زیادہ مضبوط نظر آنے لگا۔ “صرف یک سچ بتا دیں۔۔ ماما کو کیوں چھوڑ دیا تھا۔۔ سچ بتائیں گا پھر میں سب کرنے کے لئے تیار ہوں۔”
ولیدالبشر نے جھوٹ بول کر دیکھ لیا تھا اس نے سچ کو بھی آزما لینا چاہا۔
“آپ نے انہیں ذلیل کیا۔۔؟”
“مجھے ڈر تھا کہ وہ مجھ عدالت میں گھسیٹ لے گی۔۔۔ مارگریٹ کے ساتھ میرا تعلق کچھ بھی رہا ہوں ،میں تمھارا باپ ہوں، کیا برا کیا ہے تمھارے ساتھ میں نے۔۔؟”
“اس کیفے ے باہر نکلیں اور ملنے والے پہلے انسان کو بتائیں کہ اپنی اولاد کو میں نے ماننے سے انکار کر دیا تھا اور اتنے سالوں بعد آج اس سے مل رہا ہوں تو وہ آپ کو بتادےگا کہ آپ نے کیا کیا۔۔”
“میں شرمندہ ہوں۔۔”
عالیان نے افسوس سے اتنے رنگ بدلتے اس انسان کی طرف دیکھا جس کے ایک رنگ “محبت “کے جال میں اس کی ماں آگئ تھی۔
“تم بہت تلخ ہورہے ہو۔۔ میری توقع سے زیادہ۔۔ میرے ساتھ چلو۔۔ سب ٹھیک ہوجاۓ گا۔۔”
“میں پھر اپنا سوال دہراوں گا۔۔ ماما کو کیوں چھوڑ گئےتھے۔؟”
ولیدالبشر ایسے اپنی تھوڑی مسلنے لگا جیسے اپنے مزاج کے برخلاف کچھ برداشت کر رہا ہو اور اسے سوال پوچھے جانے کی عادت رہی ہو،سوالوں کا جواب دینے کی نہیں ۔۔
“میں اسے پسند کرتا تھا پھر میری اس میں دلچسپی ختم ہوگئ تھی۔”
وہ جیسے کسی گلستان سے توڑ لیے گئے پھول کی بات کر رہا تھا یا راستے میں آنے والے کسی پھول کو پیر تلے مسل دینے کی۔ اس کا انداز اس سے بھی بدتر تھا۔
عالیان نے بہت تک اس خوش شکل انسان کو دیکھا، جس نے یہ بات اتنی آسانی سے کھ دی تھی۔۔ اس عورت کے لیے جس کی زبان اس کے نا کی ادائی کرتے کرتے نہیں تھکی تھی۔
pg#184
جو ایسے ایڑیاں رگڑتی رہی تھی جسے یس کی وجود سے زہریلے حشرات لپٹے اسے ڈنگ پر ڈنگ مر رہے ہوں۔ اس وقت عالیان کو اپنی ماں پر بہت ترس ایا۔ اسکا پھوٹ پھوٹ کر رونے کو جب چاہا۔ اتنی محبت اور ایسے کرب کے بعد بھی۔۔ اسکی ماں کے ہوتھ میں کیا ایا۔۔ شرمندگی۔۔ پچھتاوے،احساس ،دکھ کا ایک لفظ بھی نہیں۔۔ “اگر مارگریٹ اس وقت نہ مرتی تو اب مر جاتی۔۔”اس کے اندر آلاؤ سا دہکا،اسکے ہاتھ کی پوریں اتنی گرم ہوگئ کہ ولید انہیں چھو لیتا تو جل جاتا۔۔
“میں آپ سے نفرت کرتا تھا۔اب اور زیادہ کرتا ہوں آپ سے مزید بات چیت کا میرا کوئ ارادہ نہیں۔۔” اس نے ولیدالبشر کے منہ کےعین سامنے اپنا منہ لے جا کر کہا۔
ولید ایک قدم پیچھے ہوا ۔اس ٹھکرادی گئ عورت کی اولاد کے ایسے انداز نے اسے سیخ پا کردیا اس نےخود کو بمشکل روکا کہ وہ اس لٹکے کی بھی وہی تزلیل کردے،جو اس کی ماں کی،کی تھی۔
“تم لاکھوں ڈالرز ٹھکرا رہے ہو۔” اب وہ صاف صاف ایک کاروباری انسان بن گیا۔
“وہ کروڑوں ہوں تو بھی۔۔”
“ہوں۔۔تو تمھے زیادہ حصہ چاہیے۔۔؟”
عالیان استہزاء ہنسا۔۔
“بولوکتنا چاہیے۔۔وہ میری ساری زندگی کی کمائ ہے۔۔ تمھیں راضی ہونا پڑے گا۔”
اب عالیان اسے ترحم سے دیکھنے لگا۔ “پیسوں کو کمائی کہ رہے ہیں۔انسانوں کو کس گنتی میں گنتے ہیں۔ مجھے مجبور نہ کریں کہ میں آپ کے ساتھ وہ کروں جو آپ دوسروں کے ساتھ کرنے کا شوق رکھتے ہیں۔۔”
“تمھیں میرے کام آنا ہی پڑے گا۔”
“میں اس کے لیے تیار نہیں ہوں۔”
“تو تم اپنی قیمت بڑھا رہے ہو۔۔؟”
“اگر آپ اس مدد کا سوال ماما سے کرتے تو وہ کبھی انکار نہیں کرتیں۔۔میں مارگریٹ نہيں ہوں۔”
“تو ٹھیک ہے مارگریٹ کے لیے ہی سہی” اسے سودا کسی بھی صورت کروانا تھا۔
“اگر وہ میرے لیۓ زندہ رہتیں تو شاید۔۔ وہ آپ کے لیے مر گئیں تو بلکل بھی نہیں۔۔”عالیان سب حساب لے لینا چاہتا تھا،جو اپنی ماں کیططرف سے اسے چکانے تھے۔
“میں آفیشلی مارگریٹ کو اپنی بیوی تسلیم کرلوں گا۔۔”
“اس کی ضرورت ہے، نہ اسکا فائدہ انہیں حاصل ہوگا۔۔”
“تمھیں یہی شکوه ہے نہ کہ میں
نے اس کی بےعزتی کی۔۔ٹھیک ہے میں اسے عزت بھی دوں گا اور اپنی بیوی ہونے کا خطاب بھی۔۔میں پریس کانفرنس کروں گا۔۔”
“انہیں مار دینے کا عتراف کون کرےگا۔۔؟”اس کی پیشانی پر کئی لکیریں بن گئیں۔
ولیدالبشر کی آنکھوں سے شرارے نکلنے لگے،اس کیببرداشت کی حدیں ختم ہورہی تھیں۔
“تم یہ ثابت کر رہے ہو کہ تم میرا ہی خون ہو۔۔ تم اپنی اہمیت بڑھا رہے ہو۔۔ تمھیں ایسا ہی ہونا چاہیے۔۔اور بڑھالو اپنی قیمت۔۔ میں دینے کے لیے تیار ہوں۔۔مہنگی چیزیں خریدنے کا مجھے شوق ہے۔۔”کبھی خود بک چکے ولید کو لگتا تھا دنیا میں سب بکنے کے لیے ہی موجود ہے۔
عالیان اندر ہی اندر ہنسا۔۔ یہ شخص تھوڑی دیر کے لیے بھی ایک اچھا باپ ہونے کی اداکاری نہیں کر سکا۔
“میری قیمت آپ نہیں چکا سکتے۔۔” طنز سے کہہ کر وہ تیزی سے جانے لگا۔۔ کبھی ایسے ہی اس کی ماں بھی اس کے سامنے کھڑی ہوگی اورطوہ پشت دکھا دکھا کر جاتا ہوگا۔۔
“اگر مجھے تمھاری ضرورت ہے تو تمھیں بھی کہیں نہ کہیں میری ضرورت ضرور ہوگی عالیان ولید۔۔!”
pg#185
قریب رکھے میز پر انگلیاں بجا کر اس نے کہا۔
“دنیا میں کوئ ایسا کھیل نہیں جسے ایک ہی انداز سے جیتا جاسکے۔”ولیدالبشر اس فلسفہ پر یقین رکھتا تھا۔ عالیان پہلے سے زیادہ نفرت سے پلٹا۔
“دنیا میں آپ وہ آخری انسان بھی نہیں ہونگے۔۔ جس کی مجھے ضرورت ہوگی ۔۔ لکھ کر محفوظ کر لیں۔۔میں کبھی آپ کی طرف نہیں لوٹوں گا۔”
“ہوں۔۔” ولیدالبشر کے لب وا ہوۓ ۔۔
“عالیان ولید۔۔ تمھیں میرے نام کی۔۔ میری موجودگی کی ضرورت ہے۔۔”انگلیاں اور تیزی سے میز پر بجنے لگیں۔
“باقی ماندہ زندگی کے لیے یہ خوش فہمی آپ پال سکتے ہیں۔”وہ پلٹ کر جانے لگا۔
“پھر سوچ لو۔۔ ان کاغزات پر سائن کردو اور میرے ساتھ چلو۔”
یہ ایک ایسا انداز تھا کہ ولیدالبشر اس پر کوئ احسان کر رہا ہے۔
“مجھے اپنا باپ مانو نہ مانو۔ اہک تجربہ کار انسان مان لو۔۔ اس ایشیائی لڑکی کے پاس کوئ تو وجہ ہوگی جو اسے تم سے زیادہ ضروری تھی۔۔”
پہاڑیوں میں چھپ کر بیٹھے دشمن کے زہر بجھے تیر کی طرح جو فاتح کی پشت پر لگتا ہے اور اس پر فتح کا سورج حرام کر دیتا ہے۔عالیان کی پشت پر تیر بن کر یہ آخری بات لگی اور اسنے جھٹکے سے گھوم کر اسے دیکھا۔۔ دنیا میں جتنی کراہیت آمیز چیزیں تھیں ان کے بوجھ تلے اس نے خود کو پایا۔
——————–
اجنبی نمبر سے کال تھی۔ وہ آخری لیکچر لے کر نکل رہی تھی۔
میں ولیدالبشر،عالیان کا باپ بات کر رہا ہوں۔ اس کی ہیلو کے جواب میں فوراً کہا گیا۔۔۔اس کی سمجھ میں نہیں ایا کہ اس سےآگے کیا بولے۔
“تم نے پیسے لینے سے انکار کیوں کر دیا۔؟”
“میں نے یہ پیسوں کے لیے نہیں کیا۔”وہ ٹھر ٹھر کر بولی، اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
“پھر کس کے لیے کیا ہے۔؟”
“عالیان میرا دوست ہے میں صرف یہ چاہتی تھی کہ وہ اپنے پاپا سے ملے۔۔”
“بس صرف اس لیے۔؟”
“جی۔۔”
“تمھارا تعلق کہا سے ہےــ؟”
“پاکستان سے۔۔”
“مسلمان ہو۔۔؟”
“جی۔۔”
بہت دیر خاموشی رہی کہ اسے لگا فون بند کر دیا جاۓ گا۔
“عالیان تمھارا کتنا اچھا دوست ہے۔؟”
وہ خاموش رہی۔
“تم نے اس سے کبھی پوچھا نہیں کہ اس کا باپ کہاں ہے۔؟”
“میں نے پوچھنا چاہا تھا۔۔” وہ بات کرتے جھجک رہی تھی۔
“تو۔۔؟”
“وہ اس بارے میں بات کرنا نہیں چاہتا تھا۔”
ل”یکن تم میرے بارے میں جاننا چاہتی تھیں ۔۔کیوں۔؟”
وہ پھر سے خاموش ہو گئ اور دوسری طرف بھی خاموشی چھائ رہی۔
“عالیان سے شادی کرنا چاہتی ہو؟”
اس سے کوئ جواب نہیں دیا گیا۔
“میں نے تمھاری دونوں فون کالزکی ریکارڈنگ سنی ہے۔۔ مجھے یہ اندازہ فوراً ہو گیا تھا۔۔ گھبراؤ نہیں۔۔ مجھے بتاؤ میں تمھارے لیے کیا کر سکتا ہوں۔۔؟” آپ کو اپنے بیٹے کے پاس ہونا چاہیے۔۔ اسے یہ معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ میں نے آپ کو سب بتایا ہے۔۔ شاید اسے اچھا نہ لگے۔۔” اس کی آواز اور زیادہ۔
کانپنے لگی
اسے اس کے باپ سے ملنا اچھا ضرور لگے گا۔۔میں سب سمجھ گیا۔۔تمہارا شکریہ۔۔تم یقیناً “میرے بیٹے کے لیے اچھے جذبات رکھتی ہو۔۔کیا نام ہے تمہارا؟”
“امرحہ!”
امرحہ تم سمجھدار ہو۔ کیوں کہ تم جانتی ہو کہ ایک باپ کا ہونا کس قدر ضروری ہے۔۔اس پر اصرار کرتی رہنا امرحہ۔۔میں اور میرا بیٹا جلد تم سے ملیں گے۔

Read More:   Us Bazar Mein by Shorish kashmiri – Episode 8

🌻 🌻 🌻
تم بہتر طور پہ سمجھ سکتے ہو کیا وجہ ہوگیا۔۔اس نے پیسے لینے سے بھی انکار کر دیا۔ اور تمہارے بارے میں سب بتا بھی دیا۔ اس نے یہ نیکی یقیناً اپنے لیے کی۔ مجھے معلوم ہوا ہے تم نے مذہب اسلام اپنایا ہے اور وہ لڑکی بھی مسلمان ہے۔۔”
اس کے وجود میں جلتی آگ کی تپش نقطہ عروج کو جا پہنچی کہ اسکی کھال پگھل جانے کو ہو گئ۔
اچھے مسلمان خاندان بنا باپ کہ ناجائز اولادوں کو اپنی بیٹیاں نہیں دیتے۔۔”
عالیان سن سا ہوگیا۔
اس کے منہ پر چانٹا پڑا
“اس نے میرے آدمی سے ایک ہی سوال کیا تھا۔۔
مارگریٹ کے بیٹے کو اس کا باپ ہی ڈھونڈ رہا ہے نا۔۔
اور جب اسے معلوم ہو گیا باپ ہی ہے تو جیسے اسکی کوئی بڑی مشکل آسان ہوگئ۔ تم ایک آزاد معاشرے میں رہتے ہو۔لیکن باپ کا سوال آج بھی مہذب معاشروں میں پہلے پوچھا جاتا ہے۔۔۔باپ کے نام کے بغیر تم ناجائز ہو۔۔۔میں کہاں ہوں اس بارے میں لوگ پوچھتے تو ہوں
گے۔۔”
ولید رکا۔۔جیسے اب سارے کام ہو گئے۔
اس عورت کے نام کے ساتھ تم کسی مسلم خاندان میں شامل ہونے کا سوچھ بھی نہیں سکتے۔میرے بغیر تمہاری حیثیت ہی کیا ہے۔۔ولید البشر نے اس آخری بات سے عالیان کو ایسے ذلیل کردیا٬جیسے مارگریٹ اور اسکی اولاد کی ہتک لاحق صرف اسی کے پاس ہے۔
اور اس نے اس حق کا ٹھیک ٹھاک استعمال کیا۔
تمہاری غیر مسلم ماں کے بارے میں آسانی سے یہ سوچ لیا جائے گا کہ وہ کس طرح کی۔۔۔”
اپنی زبان کو لگام دو۔۔”عالیان دھاڑا
کس نام اور کس خون کی بات کر رہے ہو۔لعنت تو تم ہو۔۔”
تم اس ملعون عورت کا خون نہ ہوتے تو جانتے کہ باپ کے ساتھ کس طرح پیش آیا جاتاہے۔۔”
میں تمہارا ملعون خون نہ ہوتا تو اچھا ہوتا۔
اس نے اس کرسی اور میز کو طیش میں پیر سے ٹھوکر ماری۔۔جس کہ پاس وہ کھڑا تھا۔ باہر کھڑے گارڈز اندر لپکے
ولید نے اشارے سےانہے روکا۔
تم میرے کام آجاؤ٬میں تمہارے کام آجاؤں گا۔کم ڈیل سمجھ لو ۔اتنے جذباتی نہ ہو۔”
تھو ہے اس ڈیل پر۔۔
پر سکون ہو جاؤ۔ تم جانتے نہیں تم کس عورت کی اتنی طرف داری کر رہے ہو؟؟
ہاں جسے تم نے مار ڈلا۔”اس نے غصے میں ایک اور کرسی کو ٹھوکر ماری۔”تم نے اسے اپنے جال میں پھانس لیا تھا وہی جال کاٹتے کاٹتے وہ مرگئ۔۔”
اور اپنے پیچھے ان مردوں کو روتا چھوڑ گئی جن کے ساتھ وہ ہر رات۔۔۔”
عالیان نے جھپٹ کر اسکے کوٹ کا کالر پکٹرا اور گھونسا اسکے منہ کے قریب لایا دونوں گارڈز فوراً اس پر جھپٹے۔ میری تربیت اچھے ہاتھوں میں نہ کی ہوتی میں ایک مسلمان نہ ہوتا تو تمہارا گلہ دبوچ لیتا۔ اور دنیا کی کوئی طاقت تمہیں مجھ سے بچا نہ سکتی ولید۔۔” گارڈز اسے پوری قوت سے پیچھے کھینچ رہے تھے اور وہ چلا رہا تھا۔
“اگر ایک بھی اور لفظ ماما کے بارے میں کہا تو یہ بھی کر گزروں گا۔”
اس نے گارڈز سے خود کو آزاد کروایا اور انگلی اٹھا کر چلایا۔۔
pg#187
“تم وہ غلازت ہو جس مہیں میری ماں اپنی بد نصیبی سے جا گری۔ اگر میرا بس چلے تو میں اپنا جسم چھیل ڈالوں تاکہ تمھارے غلیظ خون کا ایک قطرہ میرے جسم میں نہ رہے۔”ولیدالبشر ششد رہ گیا۔
“ساری دنیا کی دولت میرے آگے ڈھیر کروگے، تو بھی اب مجھ سے اپنے لیے احترامکا ایک لفظ نہیں سن سکو گے۔مجھے تمہاری ضرورت کبھی نہیں پڑے گی ۔وہ میری آخری سانس ہی کیوں نہ ہو۔ میں زندگی مستعار لینے کے لیے تب بھی تمھارے پاس نہيں آؤں گا۔”
———————
پرنٹ ورک کی حدود سے وہ ایسے نکلا جیسے بندوق سے گولی۔اگر وہ تھوڑی دیر اور روک جاتا تو ولیدالبشر کا گلا اس وقت تک دبوچے رکھتا جب تک وہ حلق سےآخری سانس نہیں اگل دیتا۔اس نے زندگی میں کبھی اس شخص سے ملنے کی چاہ نہیں کی تھی۔وہ جانتا تھا وہشخص اسکے سامنے آۓ گا تو خود وہ انسانی رتبے سے گِر جاۓ گا۔
“اگر وہ کبھی تمھارے سامنے آجاۓ تو تحمل سے کام لینا۔” ماما مہر اسے نصیحت کر چکی تھیں۔ “مجھ سے وعدہ کرو۔”تم صبر سے کام لوگے۔ تم ایک اچھا انسان ہونے کا ثبوت دوگے۔ تم میری تربیتکی لاج رکہوگے۔”
وہ سائیکل کو ہوا میں اُڑا رہا تھا،اسے سڑک پر بس،گاڑی نظر نہیں آرہی تھی۔ اپنا گرم کوٹ وہ ہارٹ راک میں پھیک آیا تھا۔اپنی شرٹ کے بٹن اس نے کھول چکا دیے تھے،کف الٹ دیے تھے۔ اس کی شرٹ ہوا سے باتیں کر رہی تھی۔ اتنی ٹھنڈ بھی اس کی گرمی کم کرنے میں ناکام تھی۔
اس کی خون رنگ آنکھيں ٹمٹما رہی تھیں۔ اب اس کے سمجھ میں آرہا تھا کہ ماما نے اسے گھر پر آنے سے منع کیوں کر دیا تھا۔وہ اسکا پیچھا کرتے ہوۓ گھر تک پہنچ چکا تھا اور گھر والوں تک بھی۔ گر ماما کی اولادیں نہ ہوتیں تو وہ اس سے پہلے اس تک پہنچ چکا ہوتا۔ اس کا پاب اسے ڈوبتے ہوۓ جہاز کو بچانے کے لیے اسے ڈھونڈ رہا تھا۔
اپنی لین میں چلتی کار سے آگے نکل جانے میں وہ اسی کار سے ٹکرا گیا اور رگڑ کھاتا ہوا۔۔ سڑک پر گرا۔ اسے کوئ دعا لگی۔ کار اس کے اوپر سے نہیں گزری۔ اس کے ہاتھ اور گھٹنے چھل گۓ جس گال پر ولیدالبشر اپنا ہاتھ رگڑتا رہا تھا،وہاں سرخ لکیریں بن گئیں۔ اور اس سے خون رسنے لگا۔
اس نے اسے ایک ٹوکن سے زیادہ اہمیت نہ دی، جس کے ڈالتے ہی اس کے پیسوں کی مشین چلنے لگتی۔
“کیا تم ٹھیک ہو۔؟”کار والا جلدی سے نکل کر اس کے پاس آیا جبکہ وہ اپنی سائیکل کھڑی کرکے اس پر سوار ہوچکا تھا۔ ٹھنڈی ہوا اس کے تازہ زخموں کو ادھیڑنے لگی اور اس میں سے گرم خون رسنے لگی۔ وقت ایک شرارہ ہے جلا دینے پر قادر۔ دونوں ماں بیٹا ایک سے نصیب کے حامل تھے۔ دونوں نے ایک ہی انسان کے ہاتھوں ذلت اُٹھائ۔ دوبارہ وہ کسی کار سے نہ ٹکرا جاۓ،اس نے اپنی آنکھيں رگڑیں۔
“مجھے تم سے بات کرنی ہےـ”
“مجھے غلط مت سمجھنا۔ سمجھنے کی کوشش کرو۔ مجھے اپنے ماضی کے بارے میں کچھ بتاؤ۔”
“تم غلط وقت پر پوچھ رہی ہو۔”
“جانتی ہوں۔۔ وہ سب کہنے سے پہلے پوچھنا چاہیے تھا پہر بھی۔۔مجھے اپنے فادر۔۔”
“میراکوئ باپ نہیں امرحہ۔۔!صرف ایک ماں تھیں جو مر گئیں۔۔”
“اچھے مسلمان خاندان بنا باپ کی ناجائز اولادوں کو اپنی بیٹییا نہیں دیتے۔”
“باپ کا سوال آج بھی مزہب معاشروں میں پہلے پوچھا جاتا ہے۔ باپ کے نام کے بیغر تم ناجائز ہو۔”

Read More:   Allama Dahshatnak by Ibne Safi – Episode 7

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply