Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 47

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 47

“تمہاری غیر مسلم ماں کے بارے میں آسانی سے یہ سوچ لیا جاۓ گا کہ وہ کس طرح کی۔۔ تم اس معلون عورت کا خون ہو۔۔”
“معلون عورت ۔۔معلون عورت۔”
آتش فشاں پھٹنے سے پہلے جو اس کے اندر دھماکے ہوۓ تھے، وہی دھماکے اس میں زلزلہ برپا کرنے لگے،ایک خیال اس خیال اس کے ذہن سے ہو کر گزرا، اسے سڑک کی مخالف سمت میں گھس جانا چاہیئے اور سامنے سے آنے والی کسی بس سے ٹکرا جانا چاہیے۔
ولیدالبشر اسے کیسے جتا گیا تھا کہ اسکا نام اس کے لیے ضروری ہے۔ اس کی پاک باز ماں کے لیے آج بھی وہی انداز اپنایا گیا تھا۔ وقت اس زندہ کے لیے بھی نہیں بدلہ تھااور اس مردہ کے لیے بھی نہیں۔ وقت نے اس کے درجات میں تبدیلی کی تھی تو بس اتنی کہ اسےاور پستی کی طرف لے گۓ تھے۔
اس عورت نے ایسا کون سا گناہ کیا تھا کہ اسے عزت کے لائق سمجھا جا رہا تھا نہ محبت کے،اس نے کہاں کیا گستاخی کی تھی کہ مرنے کے بعد اسے زندہ رہ جانے والے روند رہے تھے۔ اسکے لیے رویا نہیں گیا۔۔ پچھتایا نہیں گیا۔ اس کی ریاضت اتنی کوٹھی تھی کہ اسے لفظوں میں سب سے بدتر الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے۔
اور عالیان نے پہلی بار سوچا کہ۔” میری ماں مارگریٹ جیسی بدنصیب عورت نہیں ہونی چاہیے تھی۔”
ولید اسے بھی استعمال کر گیا تھا۔ اور اسے بھی استعمال کربے ہی آیا تھا۔ جو عورت اس کے فراق میں مر گئ تھی۔وہ اس پر پہر سے لعنت بھیجنے آیا تھا۔اس کا اکلوتا رشتہ اس کا خون پی گیا تھا۔
اس کے جسم میں جابجا سراخ ہوگے تھے اور ان سراخوں سےوہی کراہیں سنائ دینے لگی تھیں جو اس کی ماں کے وجود سے پھوٹتی تھیں۔
اس نے سائکل کو اسٹور کے باہر پھینکا اور بھرپور طاقت سے شیشے کے دروازے کو دھکیل کر اس کے سر پر پیچھا۔
دور کھڑے ورکرز نے اس کے انداز کو حیرت سے دیکھا وہ اس لڑکے کو جانتے تھے وہ کافی عرصے بعد اسٹور میں آیا تھا اور ایک نئے اور عجیب انداز میں آیا تھا۔ وہ اس کے سر پر پھنچا اور اس کا بازو گھیسٹ کر کھڑا کیا اور اسٹور سے باہر لے گیا۔
“ولید کو فون کر کے تم نے بتایا تھا میرے بارے میں۔؟”
اس کی آواز بلند تھی اور اس کا انداز۔ اس کی آنکھيں ۔اف۔! امرحہ کا دل چاہا، وہ اپنی آنکھيں بند کر لے اور اپنے سکڑتے ہوۓ دل کو بند ہوجانے کا عندیہ دے دے۔
اس کی پلکھیں لرز رہی تھیں اور اس کا انداز اس کے گال پر موجود خراشوں سے رستا خون تکلیف سے اس کی بے نیازی ظاہر کر رہا تھا۔ اس کے بازو پر موجود اس کا ہاتھ اتنا گرم تھا کہ اس کی کھال میں سلاخ کی طرح گھس رہا تھا۔
وہ سہم گئ۔۔ اس نے اسکا ایسا شدت پسندانہ انداز پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
“عالیان۔۔!”اتنی ہی آواز نکل سکی۔
” ولید کو فون تم نے کیا تھا۔؟”وہ دھاڑا۔
اسٹور کا مینیجر اسٹور سے باہر نکل آیا تھا۔ اسٹور کے اندر کام کرتے ورکرز کام روک کر اور کسٹمرز جوتوں سے نظرئیں ہٹا کر شیشے کی دیوار کے پار کھڑے انھیں دیکھ رہے تھے۔ سڑک پر چلتے کچھ دوسرے لوگ چونک کر ان کی طرف دیکھ کر گزر رہے تھے۔
“کیاہوا۔۔ ہے۔ تمھیں ۔؟” خوف سے اس کا سانس روک جانے کو تھا۔
“تم نے فون کیا ہے نا۔؟” وہ پوری قوت سے پہر سے چلایا۔ اور اسکا گرم ہاتھ اس کی کھال میں گھسنے لگا اور وہیں اس کا خون جم گیا۔ اس کے دل میں تکلیف اُٹھی، اور اس نے مر جانا چاہا۔
“صرف اس لیے عالیان کہ مجھے۔”
pg#189
اسکا جملہ گال پر پڑنے والے طاقتور تھپڑ کے درمیان میں ہی رہ گیا تھا۔اور اسکے سفید گال پر ثبت ہونے کا نشان چھوڑ گیا۔ ہونٹوں کےکنارے تھرتھراۓ، آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہوگئ اور اس نے جان لیا کہ”سب ختم”یورپ کا سفر پچھم میں ہوا اور سورج ڈوب گیا۔ پروگ(جدائ) نے اپنی آمد کا طبل بجایا۔۔ اب وہ اس کا عالیان نہ رہانہوہ اس کی امرحہ۔۔ اور پھر اس قمراش نے بدہیت ہوتے ہوۓ انگلی اُٹھا کر اس کی طرف اشارہ کیا۔۔
“یہ تھپڑ تمھیں اس روز پڑنا چاہیے تھاجب تم نے میری ماں کی بے عزتی کی تھی۔۔ یہ تھپڑ ولید کو بھی اس عورت کے ہاتھوں پڑنا چاہیے تھا جو میری ماں تھی۔ اب میں دنیا میں کسی شخص کو یہ اجازت نہیں دوں گا کہ وہ میری ماں پر انگلی اٹھائے ۔”الفاظ کی ادائ میں ایسی ٹوٹ پھوٹ تھی کہ جیسے وہ صدیوں سے لکنت زدہ رہے ہوں۔
آج سے پہلے اس کی آواز اتنی اونچی نہیں ہوئ تھی۔آج سے پہلے وہ ایسے بے قابو نہیں ہوا تھا۔
امرحہ کا عالیان وہ اس روپ کا سوداگر کیونکر ہوا۔۔؟
اگر اسکے ہاتھوں میں مشعل دی جاتی تو وہ دنیا کو آگ لگانا شروع کر دیتا اور شروعات خود سے کرتا۔
“میری ماں کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ولید سے محبت تھی اور میری تم سے ۔”اسکے لکنت زدہ جملوں ادائ میں پھر وقت لیا۔۔
“تم ہر بار نئے انداز سے دکھ دیتی ہو۔۔ کتنی ظالم ہو تم امرحہ ۔۔” ان الفاظ نے صدیوں سے کہیں آگے کا سفر طے کیا اور اسکی زبان سےادا ہوۓ۔۔۔ اس کے ان الفاظ پر امرحہ کا جی چاہا، مرجاے۔۔
وہ اسٹور کے ایک طرف گری اپنی سائیکل کی طرف لپکا۔ اس کی ناک سے خون نکلنے لگا تھا۔۔ اس کی ویسٹ پر قطرے گر رہے تھے۔۔ اس کے پاس اس خون سے نبٹنے کا خذبہ باقی نہیں رہا تھا وہ کس کس زخم کی رک کر دیکھ بھال کرتا۔
امرحہ اس کے پیچھے لپکی اور اس کا بازو پکڑلیا “مجھے معاف کردو عالیان ۔۔”
اس نے جھٹک کر اپنا بازو اس سے آزاد کروایا اور گری ہوئ سائیکل کو اٹھانے لگا۔خون کے قطرے سڑک پر گرے۔
“میں نے یہ سب اس کیے کیا۔۔ تمھارے لیے کیا عالیان !بہت محبت کرتی ہوں تم سے۔۔”پہلی بار اس نے عالیان کے سامنے اس محبت کا اقرار کیا۔۔ نا حق کیا۔
“یہ سب دادا کے لیے۔۔ میں تو ۔۔ میری بات سنو اللہ کے لیے ۔۔”
“میرے لیے اب تم مر چکی ہو امرحہ ۔۔”گیلی ناک کو اس نے آستین سے رگڑا۔
اس کے خون اور اس کی آنکھوں پر امرحہ کی نظریں گڑی تھیں۔
“تمھارے بیغر میں مر ہی جاؤں گی۔۔ پلیز میری بات سن لو۔۔” اس نے لپک کر پھر اس کا بازو مضبوطی سے تھام لیا۔
وہ سائیکل پر بیٹھ چکا تھا۔ “جا کر۔ دیکھو یہ بھی مجھے کوئ فرق نہیں پڑے گا۔۔”خون آلود آستین کو اس نے امرحہ کی گرفت سے آزاد کروایا۔
“اگر فرق ہی نہیں دیکھنا ہے عالیان تو چلو مر کر دیکھتے ہیں۔” وہ استہزاء ہنس دی اور ساتھ ہی رودی۔ وہ سائیکل لے کر چلا گیا۔
برہ کی نزولیت نے آسمان تک بلند قعلےکھڑے کرنا شروع کر دیے۔ اس نے اسے جاتے دیکھا۔۔ وقت نے اپنے تھال سے”رمز حقیقی” کا پہلا سکہ اُچھالا۔
اس نے خود کو اکیلے کھڑے پایا۔
وقت نے اسی تھال سے”خط تقدیر” کا دوسرا سکہ اچھالا۔
اس پر انکشاف ہوا۔وہ اسے اپنے ساتھ نہ لے گیا ۔ تیرے سکے کا وار وقت نے اس کے دل پر کیا جو”فراق یار” کا تھا اور وہ رونے لگی۔
اے آنکھ تو کیوں روتی ہے
نگاہِ محبوب نے مجھے ایک داستان سنائی
اے آنکھ تو پھر کیوں روتی ہے
وہ داستان عشق تھی
اے آنکھ پھر تو رونا بند کر
اس میں میرا نام تھا’جو اب مٹ چکا
ہاں اب تو رو۔۔
✡ ✡ ✡
اندھیرا رات کی تاریکی سے نہیں’ نصیب کی تاریکی سےبڑھ جاتا ہے۔
اندھیرا دکھ کا ہم جولی۔
ایسا اندھیرا پھر جس کی تاریکی میں جلد کوئی سورج طلوع نہیں ہوتا۔
ناک سے بہنے والا خون تھک کر رک چکا تھا۔اس نے اتنی بھی زحمت نہیں کی تھی کہ ٹشو ناک پر ہی رکھ لیتا درپردہ اس نے جان لینے کی کوشش کی شاید۔ وہ اس وقت اس کیفیت میں نہیں تھا جس میں “میں کتنا دکھی ہوں” سوچا جایا کرتا ہے، وہ اس وقت اس کیفیت میں تھا جس میں کوئی سوچ کام نہیں کرتی۔وہ کرسی پر چپ بیٹھا تھا۔ ہاتھ گود میں تھے اور کمرہ اندھیرے میں۔۔اور خود”گمشدہ”.
سائی اس کے کمرے کا دروازہ بجا رہا تھا لیکن ایسا نہیں تھا کہ وہ کھول نہیں رہا تھا۔بس ایسا تھا کہ وہ سن نہیں رہا تھا۔ سائی کو سادھنا نے فون کیا تھا اور وہ فوراً اس کے کمرے کی طرف لپکا تھا۔ کارل موجود نہیں تھا،جاب سے آف ہونے کی وجہ سے وہ کلب چلا گیا تھا اور یقیناً پاگلوں کی طرح ناچ رہا ہوگا اسی لیے فون نہیں اٹھا رہا تھا۔ صرف وہی اس کا کمرہ کھول سکتا تھا اور جب اس نے فون اٹھا لیا تو اسے آنے میں زرا وقت نہیں لگے گا۔۔ سائی نے مختصراً اسے سب بتایا اور کمرہ کھول کر کارل سائی کو باہر ہی چھوڑ کر عالیان کے پاس آگیا۔
کارل اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تو عالیان کو اس کی موجودگی کی خبر ہوئی۔ اس نے آنکھیں اٹھا کہ کارل کو دیکھا تو کارل کے لیے گھٹنوں کے بل بیٹھنا
مشکل ہو گیا اسکا دل رک کر پھر چلا۔
“عالیان! اس نے اس کے زخم خوردہ گال پر ہاتھ پھیرا اور اس کی اپنی آنکھیں نمی سے چھلک جانے کو ہو گئیں جب اس پر پہلی بار یہ ادراک ہوا تھا کہ وہ دنیا میں اکیلا ہے تو اس کی آنکھیں ایسی ہوگئیں تھیں۔ اور اس کے بعد اب۔
اس نے زندگی میں جس پہلے انسان سے محبت کی تھی وہ عالیان تھا اور جس کے لیے وہ آگ میں کود سکتا تھا وہ بھی عالیان ہی تھی۔
اس نے گود میں رکھے اسکے ہاتھ اپنے
لیے اور اس پر ظاہر ہوا جیسے اس نے کسی مرچکے انسان کے ہاتھوں کو چھو لیا۔ان ہاتھوں میں زندگی کی بوجھل تپش بھی ناپید تھی۔
اس کے بائیں ہاتھ کی انگلیوں کے دو ناخن جڑ سے اکھڑے ہوئے تھے
اور اتنی تکلیف پر بھی وہ کیسے خاموش تھا۔اس میں سہن زیادہ تھی یا فراموشی۔
‘تم کب بڑے ہوگئے عالیان۔؟؟” اس نے اس کے سر کے بال نرمی سے مسلے اور اسکی لاپتا نظروں کا پتا کرنا چاہا۔ پھر وہ اٹھ کر اسکی وارڈروب تک آیا اور نچلے خانے میں رکھا فرسٹ ایڈ باکس نکالا اور گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ کے روئی سے اسکے گال صاف کرنے لگا۔ اسکی ناک کے پاس خون کے لوتھڑے جمے تھے۔ انہیں اس نے نرمی سے صاف کیا اور پھر ان ناخنوں کو جو سارے اکھڑ چکےتھے۔ اور زرا سے جڑ کے ساتھ چپکے ہوئے تھے۔ کٹر سے کاٹا اور عالیان نے “سی” بھی نہ کی۔
تمہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ میری کچھ سانیں تم میں سے راستہ بنا کر مجھ تک آتی ہیں اور یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ کارل کا شمار بھی بدنصیبوں میں ہوتا،اگر اسکے پاس عالیان نہ ہوتا”
وہ مجھ سے ملنے بھی آیا تو اپنے فائدے کے لیے
Pg#191
“کارل ! میرا باپ اس نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ اس کے بیغر کیسے رہا۔ اتنے سال۔ اس کے بیغر میں نے کیسے گزارے۔ میری ماں کب اور کیسے مر گئ۔ اس کی قبر کہا ہے۔ وہ کتنی تکلیف میں رہی۔ اس پر کیا کیا بیتی کوئ ایک بھی بات اس نے نہیں پوچھی۔”
عالیان نے بولنا شروع کر دیا اور کارل نے خود کو کئ راتوں اور دنوں تک سننے کے لیے تیا کر لیا۔ اس نے عالیان کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے رکھے تھے اور وہ انہیں نرمی سے تھپک رہا تھا۔
دوسری طرف امرحہ سائ کے سامنے کھڑی تھی۔ دونوں ہال کے بیرونی گیٹ کے باہر کھڑے تھے۔
“ابھی وہ ٹھیک نہیں ہے۔ تمھارا اس سے ملنا ٹھیک نہیں ہے۔” سائ نے قدرے سختی سے کہا۔
ایسی سختی سے جو اس کے مزاج کا خاصا نہیں تھی۔
“وہ غصہ میں نہیں تکلیف میں ہے سائ! میں نے سب نیک نیتی سے کیا۔ میرا یقین کرو۔”
“نہیں۔ تم نے نیک نیتی سے نہیں سنگدلی سے کیا۔ اپنے لیے امرحہ ! تمھیں اپنے خاندان کے لیے اس کا خاندان چاہیے تھا۔ تمھیں اس سوال کا جواب معلوم کرنا تھا کہ وہ جائز ہے یا ناجائز۔ تمھیں اس پر ایک لیبل چاہیے تھا۔ اس کے خاندانی ہونے کا۔”
“تم ہر بات میں مجھ سے مشورہ کرتی ہو نا امرحہ ! تم نے اس بات کو لے کر مجھ سے مشورہ نہیں کیا، اگر تم مجھ سے پوچھتی تو میں منع کر دیتا۔ امرحہ اتنی سیدھی سی بات نہیں سمجھ سکیں کہ خاندان لاپتا نہیں ہوا کرتے وہ خود کو لاپتا کر لیتے ہیں۔ اگر کوئ اس کا باپ تھا تو اب تک کہاں تھا۔ اس نے بےسہارا بچو کے ادارے میں پرورش کیوں پائ، ایک دوسری خاتون نے اس کی ماں ہونے کا فرضہ کیوں ادا کیا اور اسی خاتون نے اس کے باپ کو اس کے بارے میں کیوں نہیں بتایا۔ وہ اسی حالت سے ڈرتی تھیں جس حالت میں اب عالیان ہے۔ تم تھوڑی سی عقل استعمال کرتیں تو سب سمجھ جاتیں۔”
امرحہ کی آنکھوں نے اس کی ذات کے اندر کی ویرانیاں بہت تفصیل سے دیکھیں۔
“میں اس سے محبت کرتی تھی اس کے لیے ہر حد سے گزر گئ۔”
“ہر حد سے۔ ہاں تم گزر گئ ۔ دیکھو اسے کتنی تکلیف ہوئ۔ کیا کبھی عالیان نے تمھیں تکلیف دی۔”
امرحہ نے ناں میں سر ہلانا فرض جانا۔
“امرحہ ! پہلے تم خود فیصلہ کرلو کہ تمھیں کیا کرنا ہے۔ جب اس نے تمھیں پروپوز کیا تو تم نے کہا کہ تم اس سے محبت کرتی ہو،لیکن اس محبت کو اپنا سکتی ہو نہ اعلان کر سکتی ہو۔ تمھیں اس سے الگ رہنا ہے۔ پھر تم نے کہا تم اس کے بیغر رہ نہیں سکتیں اور تم اپنے گھر والوں سے بات چاہتی ہو۔”
“میں نے دادا سے بات کی تھی۔”اس کی روح نے اس کے جسم کو اکیلا چھوڑنا شروع کردیا۔
“امرحہ ! سیدھی سی بات ہے وہ جہاں ہے جیسا ہے تمھیں اسے ایسے ہی قبول کرنا ہے۔ تم اس کے معاشرتی رتبہ کو بدل کر ہی اسے اپنا نہیں سکتی۔ یہ منافقت ہوگی تم اسے اس کا حساب کتاب نہیں کر سکتیں۔ یہ کوئ کھیل نہیں ہے کہ جب تم کھیل سکو تو ٹھیک ورنہ چھوڑ کر چلی جاؤ کہ تم جیت نہیں سکتیں اور جاتے جاتے اسے ہرا جاؤ۔ کبھی تم نے غور کیا ہے کہ تم نے اس شخص کا کیا حال کر دیا ہے۔ تم سے پہلےو وہ اور کارل سب کا ناک میں دم کیۓ رکھتے تھے۔ پڑھنے کے علاوہ جو انہیں دوسرا کام ہوتا وہ شرارتیں تھا، یہاں سے جانے والا ہر اسٹوڈینٹ یونیورسٹی کو بھول سکتا ہے لیکن اسے نہیں ۔ اس کی ایک زندگی تھی ہنستی مسکراتی، کھلکھلاتی ہوئ۔ اور تم نے خود یہ قبول کیا تھا کہ تم یہ جانتی تھیں تھی کہ وہ کس قدر تمھیں پسند کررہا ہے اور تم نے یہ ہونے دیا۔ تم کیا اختتام چاہتی ہو اب اس سارے قصے کا امرحہ ۔ کہ سب ٹھیک ہوجاۓ۔ تم امرحہ پہلے خود کو ٹھیک کرو۔ فیصلہ کرو اور خود کو سناؤ۔”
سائ ذرا دیر کے لیے روکا۔
pg#192
“لیکن اس سے پہلے میں تمھیں مشورہ دوں گا کہ فلحال عالیان سے دور رہو۔”
“امرحہ نے گیلی ہوچکی دل کی دھرتی سے آنکھیں اٹھا کر سائ کو دیکھا۔” ہر طرف سے اسے دور رہنے کے فیصلے سناۓ جا رہے تھے۔
“اس کے فارر اسے پہلے سے ہی ڈھونڈ رہے تھے۔”
“ہاں۔ میں جانتا ہوں۔ لیڈی مہر نے مجھے پہلے ہی بتادیا تھا سب۔ جب اتنے عرصے سے وہ انہیں عالیان سے دور رکھتی رہیں، توتم نے انہیں یہ کامیابی کیوں حاصل کرنے دی۔”
“تمھیں لگا کہ وہ عالیان کے ساتھ ٹھیک نہیں کر رہیں؟ اسے اس کے باپ سے ملنے نہیں دے رہیں؟”
“ہاں۔ “اس نے سچ بولا۔
“جب تم نے مجھے بتایا تو میں نے دعا کی کہ یہ حرکت تمھارے حق میں جاۓ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ امرحہ ہم میں سے کون ہے جو تمھارے بارے میں برا سوچتا ہے۔ امرحہ تمھیں ہماری کوئ بات تو ماننی چاہیے تھی۔”
سائ کتنا ٹھیک کھ رہا تھا۔ اس نے اسے مشورہ دیا تھا کہ دادا کے پاس چلی جاۓ اور انہیں سمجھاے۔ لیکن اسے خوف تھا کہ دادا اسے واپس ہی نہیں آنے دیں گے۔
“پہلی بار مجھے دکھ ہوا امرحہ کہ میں ایک سخت دل انسان کا دوست ہوں۔”
“اس کے جدا ہونے کے خیال سے میرا دل سخت ہوگیا۔” اس نے اپنا جرم مان لیا۔
“اس نے خود کو ویرا کے قریب کیوں ہوجانے دیا۔” یہ وہ دکھ تھا جو اسے ساری زندگی نہیں بھولنے والا تھا۔ جو اس کی آخری سانس تک اسے بنجر کیے رکھنے والا تھا۔
“تم نے اسے دور کیوں ہوجانے دیا؟”
“اس کی محبت میرے لیے اتنی جلدی ختم ہوگئ۔”
اب تمھاری محبت اس کے لیے ایک دم سے اتنی جاگ اٹھی کہ تم یہ سب کر گزریں۔ یا یہ سوچ کر تمھیں سکون ملتا رہا کہ وہ محبت تو تم ہی سے کرتا ہے نا۔ اور تمھیں یہ دکھ ہوا کہ وہ کسی اور کی طرف متوجہ کیوں ہوا ۔ اسے تمھارے پیچھے ہی رہنا تھا اور پھر جو چاہے تم اس کے ساتھ کرتیں۔ ویرا نے اسے خود پروپوز کیا اس نے اسے بڑھاوا نہیں دیا تھا۔ وہ اس کا دوست تھا۔ اگر۔۔ محبت کو ایک طرف رکھ دیا جاۓ۔ تو امرحہ اور ویرا میں سے عالیان کے لیے بہتر کون ہے۔ میں چاہو گا تم اس بارے میں بھی سوچو۔”
امرحہ نے سیاہ۔۔ پتلیاں غیر مرئی نقطے سے ہٹا کر سائی کی طرف دیکھا اور دیکھتی ہی رہی۔ “ویرا” اسے کچھ وقت لگا یہ نام بڑبڑانے میں۔
“ہاں اگر محبت کو ایک طرف رکھ دیاجاۓ تو امرحہ میں کیا ہے؟” اس نے خود سے سوال کیا۔
“کتنی ہی امرحہ ہوں گی دنیا میں لیکن کتنے بہت سے عالیان نہیں ہونگے۔”
“پال کے حملے کے بارے میں جب ہمارے ہال میٹ نے بتایا تو ہم سب پیٹ پر ہاتھ رکھے شاہ ویذ اور کارل کے تھیٹر پر ہنس رہے تھے اور اس کی ہنسی ایسے رک گئ کہ جیسے دوبارہ وہ کبھی نہیں ہنس سکے گا۔وہ ساری رات نہیں سو سکا امرحہ۔ جے پیٹر سن نے تین لوگوں کی ڈیوٹی نہیں لگائ تھیں اس نے لگائ تھیں۔ وہ کارل اور ویرا کتنی ہی راتیں تمھیں خاموشی سے بحفاظت تمھیں گھر تک چھوڑ کر آتے رہے،انھوں نے ظاہر کرکے تم پر احسان نہیں جتایا۔ تمھاری ہمت، بہادری، حکمت کو انھوںنے صرف تمھارا ہی رہنے دیا۔ تمھیں ایسے لوگوں کی قدر کرنی چاہیے۔ تمھیں ان کے ماضی کے بدنما داغوں کی طرف دیکھنا نہیں چاہیے۔ وہ جہاں ہیں جیسے ہیں، تمھیں قبول کرنا چاہیے۔ امرحہ ہم ب نے ہارٹ راک میں چلنے والی ریکارڈنگ سنی اور کبھی یہ ظاہر نہیں کیا کہ ہم نے کچھ سنا ہے۔ اور تم نے۔ تم نے اب تک کیا کیا؟”
“دعائیں ۔ بس دعائیں ــ”
pg#193
“میں تھمیں شرمندہ نہیں کر رہاـ”
“اسے میرے آنے کے بارے میں مت بتانا سائی۔!”
“میں ضرور بتاؤں گا۔ لیکن تم ابھی گھر جاؤ۔ میرا لہجہ اور انداز برے ہوسکتے ہیں لیکن میرا مقصد غلط نہیں ہے۔”
“میں جانتی ہوں سائی۔ لیکن میرے آنے کے بارے میں تم اسے نہ بتانا۔ میرے دادا کبھی نہیں مانیں گے۔ اور اب تو عالیان بھی نہیں مانے گا۔ میں اسکے لیے” کوئی نہیں ” بھی نہیں رہی اب۔ اور وہ اپنی جگہ ٹھیک ہے اور وہ پہلے بھی غلط نہیں تھا۔
“میں چاہتا ہوں تم پرسکون رہو۔”
“ہاں میں بھی یہی چاہتی ہو لیکن چاہنے سے سب کہاں ہوتا ہے۔”
“تم گھر جاؤ آرام کرو۔”
“ہاں مجھے آرام کرنے ہی کی راہیں ڈھونڈنی پڑیں گی اب۔!”
وہ اندر آئی تو پولیس کی ایک گاڑی کھڑی تھی اور اندر آفسر لیڈی مہر کے پاس بیٹھا کچھ لکھ رہا تھا۔
“عالیان کا باپ آیا تھا امرحہ۔”سادھنا اس کے قریب آئی۔
“دونوں میں بہت دیر بات چیت ہوتی رہی۔پھر پولیس بلوانی پڑی۔” سادھنا اس کی شکل پر کچھ کھوج رہی تھی۔
“تم نے ٹھیک نہیں کیا امرحہ۔” اس نے گہرا سانس بھر کر کہا۔
امرحہ کے پچتاوے پر یہ بات، آخری سل کی طرح آکر گری اور امرحہ پوری کی پوری دفن ہو گئی۔
لیڈی مہر نے بہت سرد نظروں سے امرحہ کو دیکھا اور جو تھوڑی بہت قوت امرحہ میں بچی تھی وہ بھی جاتی رہی۔ اسکا جی چاہا کہ دیوار پر ٹنگی بندوق اتار کر اس میں کارتوس بھر کر اپنی کھوپڑی اڑا دے۔ اور بس پھر سب ٹھیک۔
———————
ایک لڑکی ہے امرحہ۔۔۔
کشمیر کے سبزہ زار سی۔۔۔
داستان کے گلاب سی۔۔۔
زمرد جڑے عطردان سی۔۔۔
وہ کمرے میں آگئی اور بیڈ پر بیٹھ گئ پھر اٹھ گئ وہ اتنی پتھر جگہ پر نہیں بیٹھ سکی، پھر وہ کرسی پر بیٹھی اور اسی ایک تکلیف کو محسوس کرتے اٹھ کھڑی ہوئ۔ اس نے واش روم میں بہت دیر منہ پر پانیکے چھینٹے مارے اس کے گال کی سرخی پھر بھی کم نہ ہوئ۔
وہ کمرے میں جگہ بدل بدل کر بیٹھنے لگی اور آخری وقت میں وہ کرسی پیچھے، نیچے کونے میں خود کو محفوظ سمجھنے لگی۔ اس کی کیفیات میں کوئ سودائ حلول کر گیا۔ اور اس کی ہوش مندی کو کوئ وحشی لے اڑا۔
اس نے اپنا سر گھٹنوں میں دے لیا۔ اسے بہت دیر تک اپنے زندہ رہ جانے کے خیال سے خوف آیا۔
ایک لڑکی ہے امرحہ۔۔۔
نافرمان کی بددعا سی۔۔۔
ساحر کے جلال سی۔۔۔
اور موت کے الہام سی۔۔۔
اس کی زندگی کہیں بہت لمبی نہ ہوجاۓ،اس پر یہ خیال کوڑے برسانے لگا۔
“تم کتنی ظالم ہو امرحہ؟”
“ہاں میں بہت ظالم ہوں۔۔ مجھے اب معلوم ہوا کہ میں بہت بری ہوں ۔۔ میں نے اب ٹھیک ٹھیک خود کو پہچان لیا ہے۔”
زمین کا وہ کونا۔۔مشرق۔۔ اس کی مٹی کی زرخیزی میں ہی “بنجر پن” کی گانٹھیں گندھی ہیں۔
مشرق کایہ کونا امرحہ ۔۔ اس کی زرخیز جڑوں میں گندھی گانٹھیں کھلنے لگیں اور اس پر اس کا بس نہیں چلا، اور وہ اس بس نہ چلنے پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
کئ گھنٹے ایسے ہی گزر گۓ۔ رات نے اپنا سفر نا تمام کرنے کی قسم اٹھالی اور قسم نہ ٹوٹنے کا عہد باندھ لیا۔ ساری نزاکتیں اس کے اندر دم توڑنے لگیں اور سارے ارمان خود کو خود دفنانے لگے۔۔
pg#194
۔۔وہ روتی رہی اور پریم روگی جڑیں اس میں پھوٹنے لگیں۔
میز پر رکھا اس کا فون کب سے بج رہا تھا۔ رات کے تین بجے تھے۔ فون بہت ہیر تک وقفے وقفے سے بجتا رہا۔
“امرحہ تمھارے دادا کا فون ہے تم فون کیوں نہیں اٹھا رہیں، وہ بہت پریشان ہورہے ہیں۔” بہت دیر تک اس کا دروازہ بجانے کے بعد سادھنا تیز آواز میں چلانے لگی۔
“وہ کھ رہے ہیں، انہیں تم سے ابھی بات کرنی ہے وہ بہت گھبراۓ ہوۓ ہیں۔۔ شاید ان کی طبعیت ٹھیک نہیں۔۔ امرحہ کہاں۔۔ امرحہ ۔۔ دروازہ کھولو۔۔”
اپنا منہ صاف کر کے امرحہ نے دروازہ کھول کر یہ کہنا چاہا کہ ان سے کھ دو وہ سو رہی ہے اور کل دن میں بات کرے گی،لیکن سادھنا کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ تھا اور دادا سامنے ہی تھے۔
دادا نے اسے دیکھا اور جیسے کسی خدشے کی تصدیق ہوگئ۔ وہ اس سے ناراض تھے اور کتنے ہی دنوں سے اس سے بات نہیں کر رہے تھے۔
“امرحہ !”وہ اس کا نام لےکر آگے بولنا ہی بھول گۓ۔
سادھنا لیپ ٹاپ کو میز پر رکھ کر بہت دکھ سے امرحہ کو دیکھتی ہوئ چلی گئ۔
“تم ٹھیک ہو؟”دادا کو نظر آگیا تھا پھر بھی پوچھا۔
“بلکل۔”اس نے اپنی آنکھیں صاف کیں۔
“تمھاری آنکھوں کو کیا ہوا ہے اور تمھارا چہرا۔۔؟”
“ٹھیک تو ہے سب ۔۔” کھ کر وہ مسکرائ دادا پر جیسے بجلی گری۔
“نہیں مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔” دادا نے ہمت کر کے کھ دیا۔
“کیوں اب آپ کو ٹھیک کیوں نہیں لگ رہا۔ اب ہی تو سب ٹھیک ہوا ہے۔ میں نے آپ کے لیے سب ٹھیک کردیا۔ اب آپ کو فکرمند نہیں ہونا چاہیے۔”
“تم ناراض ہو مجھ سے؟”اس کی حالت کے مقابلے میں انہیں یہ سوال بہت بودا لگا۔
“نہیں ۔ ناراض تو آپ مجھ سے ہوسکتے ہیں۔۔ میں نہیں ۔۔ یہ حق مجھے کہاں دیا گیا ہے۔۔”
“تم طنز کر رہی ہو مجھ پر۔؟”
“یہ گستاخی میں کیسے کرسکتی ہوں؟”
“تمھیں کیا ہوا ہے امرحہ مجھے بتاؤ۔۔ میں سوتے سے اٹھ بیٹھا۔۔ میرا دل بند ہوجانے کو ہے۔۔”
“آپ کو معلوم ہے دل بند ہونا کسے کہتے ہیں؟”آنسوں آنکھوں سے ٹپ ٹپ گرنے لگے۔
“امرحہ ۔۔ “دادا۔ کانپ سے گۓ۔
“مجھے معلوم کرنا ہے دادا، دل بند ہونا کسے کہتے ہیں، آپ کو بتانا ہی پڑے گا مجھے۔۔”
“جب۔۔ جب جان سے پیارا کوئ تکلیف میں ہو میری بچی۔۔”دادا کو بولنا پڑا۔
“اور جان سے پیرا کون ہوتا ہے؟”
“تم ہو مجھے جان سے پیاری ۔۔ تم” ان کی اپنی آواز کانپ کر رہ گئ۔
“ہونھ ۔۔ دادا دل تب بند نہیں ہوتا جب جان سے پیارا تکلیف میں ہوتا ہے، یہ دل تب بند ہونے لگتا ہے جب کوئ جان سے پیارا جان چھڑا لیتا ہے۔۔ جب وہ خود سے دور کر دیتا ہے۔۔ جب وہ منہ پر تھپڑ مار دیتا ہے اور جب وہ کہتا ہے” جاؤ آج سے تم میرے لیے مرگئیں” اس کی کئ گھنٹوں تک رو چکی آنکھوں نے پھر سے خود کو آنسوؤں کے حوالے کردیا۔
“امرحہ ۔”دادا اتنا ہی بول پاۓـ
اور جاننا چاہیں گے کیا ہوتا ہے۔۔ جب وہ یہ کھ دیتا ہے تو مر جانے کو دل چاہتا ہے۔۔ دل چاہتا ہے حلق میں ہاتھ ڈال کر سانسیں کھینچ لیں اور زندگی سے جڑا ان کا تعلق کاٹ ڈالیں،جسم چیر کر دل باہر نکال پھینکیں، اور رگوں کو چھید کر ان میں دوڑتا خون بہا ڈالیں۔
Pg#195
“امرحہ !کیا کرنے جا رہی ہو تم؟”دادا کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور اپنے بیڈ پر بیٹھے رہنا ان سے مشکل ہوگیا ۔
“سنیں دادا۔۔ سب سنیں اب۔۔ میں آپ کو سب بتاتی ہوں۔” لیپٹاپ میز پر رکھا اور وہ سامنے نچے آلتی پالتی جما کر بیٹھی تھی، اس نے اپنی ناک رگڑی اور ایک گہرا سانس لیا۔
انسانوں کے ہجوم میں مجھے ایک انسان ملا۔۔ ایک انسان دادا۔۔ جانتے ہیں انسان کسے کہتے ہیں۔ جس کی آنکھوں میں احترام ہو اور الفاظ میں نرمی۔۔ جس کے اخلاق میں رحم دلی ہو اور مقاصد میں اعلاظرفی ۔۔ وہ ساتھ ہو تو شان ہو ورنہ سب گمان ہو۔
ایسا انسان جو بولتا ہے تو زخموں پر مرہم رکھتا ہے اور نہ بولے تو زخم ہرے نہیں کرتا۔ جو احساسات پر کمندے نہیں ڈالتا، بلکہ ان پر پھوار بن کر برستا ہے۔۔ وہ انسان دادا۔۔ مجھے اپنی قسمت پر شک رہا تھا اور یہ شک اس انسان سے ملنے پر رشک ہوگیا۔ کبھی ملے ہیں آپ ایسے انسان سے؟ اس نے کبھی میرے بارے میں کوئ سوال نہیں کیا اور سوال کیابھی تو اتنا کہ “مجھ سے شادی کرو گی؟”
“امرحہ !چپ ہوجاو میں نے کہا نا!”
اس کی کیفیات ممیں کوئ سودائ حلول کر چکا تھا۔ اس سودائ سے دادا کو خوف آرہا تھا۔
“کیوں چپ ہوجاؤ اب میں؟”وہ روکر بولی۔
“مجھے تکلیف ہو رہی ہے تمھارے انداز پر”
“آپکو صرف مجھے دیکھ کر تکلیف ہورہی ہے۔۔ صرف دیکھ کر۔۔ خوش قسمت ہیں آپ ۔۔ کہ آپ امرحہ نہیں ہیں۔”
“کیا ہوا ہے۔ تم کی کرنے جا رہی ہو؟”
“ڈریں مت میں مرنے نہیں جا رہی۔ اس کی نوبت نہیں آۓ گی، اس نے جب کہا تم میرے لیے مرچکی ہو ۔۔ یہ کام تب ہی ہوگیا تھا۔”
“امرحہ! میری بات سنو خا کے لیے۔”
“آپ چپ کر کے مجھے سنیں۔ خدا کےلیے آپ کو یہ شکوہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ سے سب کہا نہیں گیا۔ وہ اعلان سنیں جو مجھے بلندی پر چڑھ کر کرنا تھا۔ کل عالم کو اکھٹا کر کے۔ اب صرف ایک آپ کے سامنے کرتی ہوں۔” خشک ہونٹوں کو اس نے زبان سے گیلا کیا جیسے اسے یہ گوارا نہیں تھا کہ وہ اس حالت میں اس کا نام لے۔
“مجھے انسانوں سے دلچسپی نہیں تھی ۔ لیکن مجھے کیا پتا تھا انسانوں میں کوئ عالیان بھی ہے۔” دادا نے اپنے لب بھینچ لیے۔ ہم مشرقی لوگ بہت عجیب ہوتے ہیں دادا۔ بیٹیوں کی رخصتی کے خیال سے ہی گھنٹوں روتے رہتے ہیں اور ان کے دل کے ارمانوں پر ایک آنسو نہیں بہاتے ہمیں یہ مان رہتا ہے کہ ہماری اولاد ہمارا سر نیچا نہیں کرتی۔ اور ہم یہ غرور حاصل نہیں کر پاتے کہ ہم نے اولاد کی خوشیوں کو نیچا ہونے نہیں دیا۔ دادا ہمارے سروں پر خاندان کی عزت کی پگڑیاں سجائ جاتی ہیں اور ہمارے دل کے تخت سونے رہ جاتے ہیں اور کوئ ان پر اہ بھی نہیں بھرتا۔ مشرقی عورت ارتقاء کا ذریعہ کیوں ہے۔۔ خود ارتقاء کیوں نہیں ؟ یہ سوال میں نے خود سے کئ بار پوچھا اور خود کو یہ بھی بتایا کہ مشرق ایک گنجال خطہ ہے، فلسفیوں کے ان فلسفوں سے بھرا ہوا جن کے پیندے میں تعصب ہوتا ہے اور کنارے پر منافقت۔
آپ بھی وہی مشرقی فلسفی نکلے۔ میں نے آپ سے اس کی بات کی اور آپ نے مجھے چپ ہوجانے کے لیے کہا۔۔ یہ چپ کا تالا۔۔ اس کی چابی کہاں گم رہتی ہے۔ کبھی تو اس تالے کو کھلنے کی اجازت دیں، ہمارے یہاں کی حکم کی پٹاریوں کے غلام، جن بنیوں پر ناچتے ہیں، ان بنیوں کو بھی تو توڑا جاۓ۔
pg #196
اب آپ مجھے بتائیں کہ میں آپ کے خطہ کے کس حکیم کے پاس جاؤں کہ وہ میرے درد کو ٹھیک کردے، لیکن زخم پر مرہم رکھے، پر میرے تو جسم پر کوئ چاٹ ہی نہیں، مجھے کسی بزرگ سے دم کروانا چاہیے کی اب آنکھيں بند کرنے پر مجھے نیند آجایا کرے اور منہ کھولنے پر سانس۔۔ ایک بات آپ ہی مجھے سیکھا لر بھول گئے، جب میں نے اپنی ایک کالج کی دوست چھوڑ دی تھی، آپ نے کہا تھا کہ قیمتی انسان روٹھ جاۓ تو تمہیں اپنے نقصان پر پیشمانی سے رونا چاہیے، چیزوں سے لاپرواہی برتو اور انہیں گم کردو۔۔ قیمتی انسانوں کی پرواہ کرو اور انہیں گم نہ ہونے دو۔۔”
اتنا کہتے کہتے وہ بیٹھے بیٹھے امرحہ سے برزن(بڈھی)ہوگئ، جوانی قصہ پارینہ ہوگئ۔
“دادا قیمتی انسان سے اپ کا مطلب “حسب نصب والا قیمتی انسان ” ہوگا۔ اور باقی سب بےکار۔۔ ہے نا۔۔ میں نے آپ سے کہا تھا میری زندگی ختم ہورہی ہے، مجھے آگے زندگی نظر نہیں آرہی۔۔ اور کس طرح کہتی دادا۔۔! کہ آپ سمجھ جاتے۔ ایک انسان آپ کے سامنے ختم ہونے کی نشانیاں بیان کررہا ہے اور آپ کہتے ہیں آپ کی سماعت پر گراں گزر رہا ہے۔ میں یہاں آرہی تھی تو آپ نے کہا تھا کی ہمت سے کام لینا، ہر مشکل کا مردانہ وار مقابلہ کرنا اور اس۔۔ اس جدائی کا ۔۔ اس کا مقابلہ میں نے سکندرانہ وار بھی کیا تو بھی شکست میرا ہی مقدر ہوگی۔۔ میں ختم ہونا شروع ہو گئی ہوں اور اس عمل کی تکمیل میں بہت وقت نہیں لگے گا۔ آپ دادا۔”اس نے آہ بھری۔
” آپ چاہتے تھے میں آپ کے سامنے ڈٹ جاؤں یا آپ چاہیتے تھے میں دو میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلوں تو دادا میں نے آپ کا انتخاب کرلیا، میں ڈٹ سکتی تھی، اکیلے ہی فیصلہ کر کے آگے بڑھ سکتی تھی، لیکن میں نے آپ کے مان سمان کو گرنے نہیں دیا، میں نے اپنے ساتھ برا کر لیا، لیکن آپ کے ساتھ برا ہونے نہیں دیا۔ آ”پ ایک اچھے انسان ہیں۔۔ میں بھی۔۔ وہ بھی۔۔ ہم تین اچھے انسان ایک دوسرے کے لیے اچھے نہیں ہوسکے۔”
اس کی بھیگی آواز خشک تر ہو گئ تھی۔
“اب میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں، اپنا دل نکال کر میں آپ کو دے دوں یا اسے کہیں باہر پھینک دوں کیونکہ اب یہ مجھے زندہ رکھنے کے بجاۓ مار ڈالے گا۔”
“امرحہ تم ۔۔ تم کیا کرنے جا رہی ہو۔۔؟”
“ڈریں نہیں دادا۔۔ میں خودکشی نہیں کروں گی۔۔ اس کی ضرورت نہیں پڑے گی، اب مجھے طبعی موت مرنے میں ویسے بھی زیادہ وقت نہیں لگے گا۔۔”
“میری حالت پر رحم کرو امرحہ ـ” دادا نے ہاتھ جوڑ دیے۔
“آپ نے میری حالت پر رحم کیا۔۔ بلکل ٹھیک نہیں کیا آپ نے میرے ساتھ۔۔ کتنی معمولی وجہ تھی جس پر میں پہلے خودکشی کر چکی ہوں۔ اور اب میرے ہاتھ میں وہ معمولی وجہ بھی نہیں رہی جو مجھے زندہ رکھ سکے۔”
سادھنا امرحہ کے کمرے کا دروازہ بجا رہی تھی جو وہ لاک کر چکی تھی۔ سادھنا کے ہوتھ میں فون تھا اور فون پر دادا تھے جو سادھنا کی منت کر رہے تھے کہ وہ اندر اس کے پاس جاۓ، اس کے پاس جو آلتی پالتی مارے کسی پرچھائیں کی طرح اپنے آپ بولتی جا رہی تھی۔۔ بولتی جا رہی تھی۔
———————
(کیا عالیان کی زندگی میں ویرا کو امرحہ برداشت کر پاۓ گی، یہ صدمہ اسکا دل سھ پاۓ گا؟ عمر بھر کا پچھتاوا دادا جان کا مقدر رہے ؟

Read More:   Uqaab by Seema Shahid – Episode 6

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply