Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 48

0

یارم از سمیرا حمید قسط نمبر 48

شعلہ زن غاروں سے چمگادڑیں اسکے وجود کے اردگرد منڈلانے لگی اور پاتال نے اپنی موجودگی میں اسکی موجودگی کا بگل بجایا۔
عالیان مارگریٹ
اس نے آنکھیں کھولی اور جانا کے اندھیرے کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا جس سفر کی چا نہیں تھی اس سفر کو اب شوق سے ساتھ گھسیٹ رہا تھا ۔اس کا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اس کا فیصلہ کرنے والا وہاں کوئی موجود نہیں تھا ۔اس نے ایک گہری سانس لی وہ اپنے زندہ مردہ کی تصدیق کر رہا تھا ۔اپنے زندہ ہونے کا صدمہ بہت صدمے سے جیھلا تھا وہ اس احساس سے گزرہ جو زندہ لوگوں کا شیوہ نہیں تھا
اس رات لیڈی مہر اسے اپنے ساتھ امریکہ شارلٹ کے گھر لے آئی تھیں…اسے سکون آور ادویات اور نیند کی گولیاں دی گئی تھیں… پھر بھی وہ ایک اچھی نیند حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا… وہ غنودگی میں بڑبڑاتا رہا اور ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا… لیڈی مہر نے اسکا سر اپنی گود میں رکھا ہوا تھا اور وہ مسلسل اس پر پڑھ پڑھ کر پھونک رہی تھیں… انہیں ڈر تھا کہ اسکا نروس بریک ڈاؤن نہ ہو جائے…اسکی آنکھوں کے گرد ویسے ہی گہرے گڑھے بن گئے تھے جو اسکی آنکھوں پر قابض رہے تھے….
مارگریٹ کو وہ اس اسپتال سے جانتی تھیں’جہاں وہ اپنے چیک اپ کے لیے جایا کرتی تھی…مارگریٹ اکثر ان سے عالیان کا ذکر کرتی… اسکے مرنے کی خبر معلوم ہونے کے بعد انہوں نے بہت مشکل سے عالیان کو ڈھونڈا تھا…. انہیں مارگریٹ جیسی معصوم دل لڑکی کی موت پر اتنا دکھ تھا کہ وہ کئی راتیں روتی رہی تھیں…
عالیان کو پہلی بار دیکھنا کسی صدمے جیسا تھا…. اتنے سے بچے کی صورت میں مارگریٹ کے آخری ایام رچے بسے تھے…اسکے مجسمہ وجود میں مارگریٹ کے رنگ اتنے گہرے تھے کہ انہیں خوف محسوس ہوا کہ یہ بچہ نارمل زندگی نہیں گزار سکے گا.وہ دنیا میں رہ کر دنیا سے الگ ہونے میں وقت نہیں لے گا اور اسی خوف کے سہارے انہوں نے پھونک پھونک کر قدم رکھے تھے…. اسے ریزہ ریزہ جوڑا تھا… اسے دعاؤں اور محبت سے تعمیر کیا تھا…. اس میں “انسان”لقب کند کیا تھا …
اور انکے شاہکار کو ولید ایک دھکے سے پاش پاش کر گیا تھا… انہیں اس سب کا ڈر تھا…. اسی لیے ولید کو اس سے دور رکھا رہی تھیں…. جن بچوں کے والدین کے ساتھ سانحات گزرے ہوں’وہ بچے اس سانحے کی پرچھائیں بن جاتے ہیں…. وہ نارمل ہو کر ابنارمل ہونے میں وقت نہیں لیتے…انہیں سوئی بھی چبھے تو وہ اپنے پرانے دردوں پر رونے بیٹھ جاتے ہیں… ایسے بچے جنہوں نے معمول سے ہٹ کر بچپن گزارا ہو وہ کرب کی ساری سرحدوں کو چھو کر آئے لگتے ہیں’وہ رونے کیلئے کسی جلد باز کی طرح تیار رہتے ہیں اور خوش ہونے پر وہ خود کو خود ہی حیرت سے دیکھتے ہیں….
بمشکل دو گھنٹے کی نیند لے کر اٹھ بیٹھا اور گھنٹوں ہی پانی سے کھیلتا رہا…. پانی کی بوندوں کو دیکھ کر اس نے سوچا ‘وہ پانی ہی ہوتا….بہہ جاتا….نشان چھوڑ جاتا اور مٹ جاتا… واش روم میں موجود ایک چیز پر نظر رکھتا’سوچتا اور اگلی کی طرف ٹھہر جاتا…..خود کو بے وقعت کرنے میں اس نے وقت نہ لیا اور وضاحت سے جان لیا کہ بدقسمتی “زندہ ہونا ہے”… اور خوش قسمتی بے جان ہونا…
اس نے گرم پانی کا استعمال نہیں کیا تھا اور ٹھنڈے پانی کے استعمال نے بھی اسے ٹھنڈا نہیں کیا تھا….
اسکی شکست وریخت کے ذرے سال خوردہ ہو چکے لمحوں کی سطح پر تیرتے اسے ترس کھائے دیکھ رہے تھے… وہ ابھی یہ طے نہیں کر سکا تھا کہ اسے سب سے زیادہ ماتم کس کا منانا تھا…. اپنی ماں کا …..ماں کے شوہر کا یا ان دونوں کی اولاد یعنی اپنا….اور سب سے ذیادہ نوحہ کناں اسے کس احساس پر ہونا چاہیئے ‘اپنی محبت پر….مارگریٹ کی محبت پر یا”تھو”سے بھی کمتر اپنی حیثیت پر…….
“جورڈن اور شارلٹ کسی فلمی پارٹی میں جارہے ہیں’تمہیں لے جانا چاہتے ہیں….”آخر کار جب وہ واش روم سے باہر آ چکا تو صبر سے اسکا انتظار کرتی …ماما مہر نے انداز میں شوق بسا کر اسے لالچ سا دیا….
“میں کیا کروں گا جا کر؟”تو لیے سے وہ اپنے گیلے بال رگڑر رہا تھا اور اپنی آنکھوں کی سرخی چھپا رہی تھیں… آنکھیں اندر کو دھنسنے کے سفر میں مبتلا لگتی تھیں اور ان پر تین کمانیں زخمی گھڑسوار کی طرح بس زمین پر آ گرنے کو تھیں اور اسکی خوبصورتی وہ بازگشت لگنے لگی تھی جو صحراؤں میں پیاسے جانور ریت میں…
Pg#181
ریت ہونے سے پہلے سنتے ہیں۔
“فلمی ستاروں کو دیکھنا۔ اگر میں تمھاری جگہ ہوتی تو فوراً چلے جاتی۔” انہوں نے آواز میں اتنا جوش بھر لیا کہ بس وہ چلا ہی جاۓ۔
“خدا نہ کرے کہ آپ میری جگہ ہوتیں۔” قد آدم کھڑکی کے پاس بیٹھ کر وہ شارلٹ کے گھر کے وسیع باغ کو دیکھنے لگا۔ شارلٹ پودوں کی کاٹ چھانٹ میں مصروف تھی۔
“میں عالیان ہوتی تو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان ہوتی۔” وہ بھی کھڑکی کے پاس اس کے سامنے ذرا سے فاصلے پر بیٹھیں تھیں۔ شارلٹ نے کٹر سے ایک غیر ضروری شاخ کو کاٹا۔ اسے لگا اس کٹر سے کئ غیر ضروری شاخ وہ ہے۔
“آپ مجھ سے اتنا پیار کیوں کرتیں ہیں؟”
وہ باپ کا ڈسا تھا اب اسے ہر محبت پر شک تھا۔
“میں تم سے اس سے بھی زیادہ پیار کیوں نا کروں۔ مہر کی محبت پر تمھیں شک نہیں کرنا چاہیے۔ میں نے محبت کو ہمیشہ باوضورکھا ہے، میں ایک مکمل انسان نہیں ہوں۔ لیکن اپنی محبت کو میں نے نامکمل رہنے نہیں دیا۔”
“مجھ میں ایسا کیا ہے ماما جو آپ۔۔آپ مجھ سے۔۔” اس کی آنکھيں نم ہو کر اور اندر کو دھنسنے لگیں، جس نے خود پر محبت کو فرض کر لیا تھا۔ وہ اب “محبت”پر سوال اٹھا رہا تھا۔ وہ محبت پر اپنے ایمان سے جا رہا تھا۔
“تم میں ایساکیا نہیں ہے جو تمھیں سینے سے لگا کر نہ رکھا جاۓ۔ تم ایک شخص کے پیمانے سے دوسروں کے پیمانے ناپ نہیں سکتے۔”
شارلٹ غیر ضروری شاخیں کاٹتی ہی جا رہی تھی اسنے خود کو قریب الوقت کٹ جانے والی شاخ پایا اور وہ اپنے ہی اندر سہم گیا۔
“آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ وہ مجھے ڈھونڈ رہا ہے۔؟”
“کیونکہ میں یہ جانتی تھی کہ وہ تمھیں کیوں ڈھونڈ رہا ہے، اس کے پاس وہ وجہ نہ ہوتی تو میں فوراً اسے تمھارے پاس لے آتی۔ عالیان میں نے بہت محنت سے سب بچو کو ان کے دکھوں سے نکالا تھا اور تمھیں خاص طور پر۔۔ تم بہت حساس رہے ہو، میری گود میں سوتے تم ان باتوں کو دہرایا کرتے تھے جو مارگریٹ کیا کرتی تھی، میں نے اینٹ اینٹ تمھیں جوڑا ہے۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ آکر تمھیں مسمار کر جاۓ اور میں یہ نہیں چاہتیکہ کام تم اپنے ساتھ اب کرو۔۔ اگر میری محبت کی کچھ قدر کرتے ہو تو پھر سے میرے عالیان بن جاؤ۔”
“آپ جانتی تھیں سب؟”
شارلیٹ کے کٹر میں تیزی آگئ تھی۔ شاید وہ سارا باغ کاٹ ڈالے۔۔ کوئ پھول باقی نہ رہے ۔۔۔ سارے باغ کی بہار اجڑ جاۓ۔
“ہاں ! دو سال پہلے اس کا ایک آدمی آیا تھا۔ اس وقت اسے صرف شک تھا کہ تم میرے پاس ہو، خوش قسمتی سے ایک خاتون کو اسی سینٹر سے بچہ گود لے گئ تھیں اس بچے کی ما کا نام مارگریٹ تھا وہ عورت برطانیہ چھوڑ کر کسی دوسرے ملک چلی گئ۔یہ لوگ اسے ڈھونڈتے رہے۔ کڈذ سینٹر نے کسی بھی طرح کی غیر ضروری معلومات کسی کو بھی نہیں دی تھی، لیکن یہ تھوڑا بہت معلوم کرنے میں کامیابہو گۓ انھوں نے وہ سارے والدین کھنگال لیے جنھوں نے بچے گود لیے تھے۔ آخر میں ان کا شک پھر مجھ پر ٹہر گیا۔ ڈینس کو ناروے بھیج کر میں نے سب معلوم کروالیا تھا اور اس نے مجھے بتایا کہ ولید کو عالیان کیوں چاہیے مجھے اس کی کم ظرفیپر دکھ ہوا اور میں جانتی تھی تمھیں حقیقت معلوم ہوگئ تو تم بھی اچھا محسوس نہیں کروگے۔ مجھے تمھاری تعلیم کی فکر تھی۔ لیکن ایک وقت میں، میں یہ بھی چاہتی تھی کہ تم خود اس سے مل لو۔۔ ایک بار۔۔ سب جان کر، اس طرح تمھیں تکلیف نہ ہوتی۔ اگر ڈینس، مارک اور باقی سب دوسرے ملکلوں میں نہ ہوتے تو وہ تم تک جلدی پھنچ جاتا۔ انھیں یہی شک رہا کہ تم دنیا میں کہیں اور موجود ہو۔”
pg#182
عالیان کی آنکھيں سرخ ہوتی جارہی تھیں۔ اسکے سامنے ہارٹ راک کا وہ ہال گھوم رہا تھا جس کی زمین پر ولید کھڑا تھاـ اس کی انگلی اس کی طرف اٹھی ہوئ تھی اور تمسخرانہ قہقہے لگانے کے لیے اس کا ذہن بےتاب لگتا تھا۔
“تم اسے معاف کردو عالیان، تم میرے بیٹے ہونا؟”
“میں اس کے پاس جاؤں گا اور تمام شیئرز اپنے نام لگواؤں گا۔”
“تم مجھے دکھ دے رہے ہو۔۔ تم میرے عالیان کو گم کر رہے ہو۔”
“میری ماں کی زندگی کے نقصان کے ہرجانے میں اس کا کچھ تو نقصان ہونا چاہیے نا ماما۔”یہ کہتے اس کا انداز سخت ہوگیا۔
“نقصان اس کا نہیں تمھارا ہوگا۔ اپنی زندگی کے قیمتی وقت کو تمھیں اس شخص کے لیے برباد نہیں کرنا چاہیے۔ میں جان گئ ہوں کہ تم اس کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو۔ تم ان شیئرز کو کوڑیوں کے مول بیچ دوگے۔ لیکن”
“نہیں۔۔ میں چیرٹی کردوں گا۔”
“تمھیں خود کو تھکانے کی ضرورت نہیں ۔۔ تمھیں بدلہ لینے کے لیے نہیں پیدا کیا گیا۔ انصاف کا ترازو آللّہ کے ہاتھ میں ہی رہنے دو۔ تم بس آگے بڑھو۔”
“میں تو بہت پیچھے چلا گیا ہوںـ”
“شارلٹ کچھ دیر سستا کیوں نہیں لیتی۔” کہہ کر اس نے شارلٹ کے بارے میں سوچا، جس کاکٹر والا ہاتھ تیزی سے چل رہا تھا۔
آج سے بہار ختم ہونے کو ہے۔۔ ستم ظرفی قسمت پر راج کرنے کو ہے۔۔ مقاصد زندگی پر نظر ثانی کی جاۓ اور متاع جان کی تعریف بدلی جاۓ۔
“تو آؤ پھر بھاگ کر واپس اپنی جگہ پر۔ کیا میرے ہوتے تمھیں کہیں لاپتا بھٹکنے کی ضرورت ہے۔ میں جانتی ہوں کہ تم اس وقت کیا سوچ رہے ہوگے، لیکن عالیان انسان کے پاس دو آنکھیں ہوتی ہیں جو وہ دیکھتی ہیں جو اس کے سامنے ہوتا ہے۔ قدرت کی ہر ساعت آنکھ ہے۔ ہر ساعت انصاف ہے۔ ہر ساعت حساب ہے۔ تم مارگریٹ کے لیے دعاۓ مغفرت کرتے ہو، اس سے بڑھ کر اس کے لیے کیا انعام ہوگا۔ تم ولید کا نام بھی لینا پسند نہیں کرتے، اس سے بڑھ کر اس کے لیے کیا سزا ہوگی۔ عالیان ہم چاہتے ہیں کہ جو برا کرے، جو برا ہو اس کے ساتھ اس سے بھی زیادہ برا ہو۔ بس اسی ایک خواہش سے ہم بھی اس برے انسان جیسے بن جاتے ہیں۔ تم اسے فراموش کردو اور یہی سزا کافی ہے اس کے لیے۔ اگر تم بدلے کے پلڑے میں جا بیٹھے تو میری محبت کا پلڑا کبھی نہیں جھکے گا۔ تم سوچ لو، تمھیں ولید اور مہر کے پلڑے میں سے کس کے پلڑے کو وزنی کرنا ہے۔” آنسوں بڑی روانی سے لیڈی مہر کی آنکھوں سے نکلے۔ ان کا انداز ایسا تھا جیسے کوئ ان کی عمر بھر کی کمائ لے جا کر کنویں میں پھینکنے والا تھا۔
عالیان ان کے قریب زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر آنکھوں سے لگا لیے۔
“مجھے خوشی ہے کہ تم نے میری پرورش کی لاج رکھ لی اور تن وہاں سے آگۓ۔ تم میرے بیٹے ہو۔ تم نے یہ ثابت کر دیا۔ تمھیں اللّہ کے انصاف پر ایمان رکھنا چاہیے۔” اس کی نظریں پھر سے شارلٹ پر جا ٹہریں۔
“اسے فراموش کر دینے کی سزا دوں؟” اس نے خود سے پوچھا۔
“اسے معاف نہیں کر سکتے تو اس کے خیال کو ترک کردو۔ دنیا میں اس انسان سے بڑھ کر کوئ بد نصیب نہیں ہوتا، جس کے وجود کو لا وجود مان لیا جاۓ۔ اس کے ہونے کو نہ ہونا کر دیا جاۓ۔”
شارلٹ نے ایک طائرانہ نظر باغ پر ڈالی اس نے بہت دل لگا کر کانٹ چھانٹ کی تھی۔
pg#183
“امرحہ کو بھی معاف کردو۔۔” ان کی آواز نرم ہوگئ۔
“کردیا معاف اور ترک بھی کردیا۔” اس نے ٹھنڈے انداز میں کہا اور پھول کو گرتے دیکھا جو شارلٹ کے کٹر سے حادثاتی طور کلپر کٹ کر نیچے ہی گر رہا تھا۔ شارلٹ کے چھرے پر افسردگی چھا گئ جیسے اس نے کسی زندہ قنسان کا قتل کر ڈالا ہو۔
“میں نگار عالم ۔۔ میں سنگ آستاں۔”
میں لوح نگینہ ساز۔۔ میں لوح شعلہ بیاں۔”
عفونت میری رہ گزرگاہیں
میں جمال۔۔ میں کمال۔۔ میں ابہام۔۔
میں گپت ہوں
“میں قسمت ہوں۔”
———————
ویرا ایلکسی اور پاپا کے ساتھ اسکیٹنگ کر رہی تھی۔ ایک راؤنڈ میں اس نے دونوں کو ہرا دیا۔ اب وہ دوسرے راؤنڈ کی طرف بڑھ رہی تھی اور کافی آگے نکل آئی تھی کہ اس کی جینز میں رکھا فون فل وائبریشن کے ساتھ بجنے لگا۔ سواۓ ایک کال کےطاس نے سب کالز کو “سائلنٹ” پر رکھا تھا اور وہ ایک کال عالیان کی تھی۔ اپنی رفتار آہستہ کر کے اس نے فون نکال کر سنا۔
“کہاں تھے فرش میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے۔”
جواب میں خاموشی ملی،پھر یہ سوال “کیا برننگ مین نائٹ پر پوچھا گیا اپنا سوال تمھیں یاد ہے ویرا؟”
ہاں،اپنی رفتار کو اس نے بلکل روک لیا اور سڑک کے کنارے لگے لیمپ پوسٹ کے ساتھ ٹک کر کھڑی ہوگئی۔ اس کے چہرے پر جابجا خون کی لہریں دوڑ گئیں اور اس نے اپنے دل کی دھڑکن کسی ساز کی طرح سنی، جسے سنتے ہی ایڑیاں بل کھانے لگتی ہیں۔
“مجھے تم جیسی لڑکی کو اپنی زندگی میں شامل کر کے بہت خوشی ہوگی ویرا۔”
ایلکسی جوش سے نارے لگاتا ویرا کے پاس سے گزرا۔ “ویرا ! تمھارا یہ پرانک اب نہیں چلے گا۔” وہ چلاتا دور ہوتا گیا۔
وہ مسکرانے لگی۔”اور۔۔”
“میں مانسچڑ میں تمھاری واپسی کا انتظار کروں گا۔” کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔
وہرا اور زیادہ مسکرانے لگی۔
“تم ہار جاؤگئ ویرا۔۔” اس کے پاپا بھی چلاتے ہوۓ قریب سے گزر کر آگے نکل گۓ۔
ویرا نے موبائل جیب میں رکھا اور اپنے جوتوں تلے لگے پہیوں کو اس نے اس زور سے سڑک پر رگڑا جیسے وہ کسی جہاز کے پہیے ہوں اور اڑان بھرنے سے پہلے رفتار پکڑ رہے ہوں۔
پہلے اس نے پاپا کو پیچھے چھوڑا اور پھر وہ ایلکسی کے پیچھے لپکی۔
دوسری طرف امرحہ اپنی کلاس لے کر نکل رہی تھی کہ کارل اسکے پاس آیا۔ دو دن اسے بخار رہا تھا۔وہ آج ہی یونی آئی تھی۔
“کیسی طبیعت ہے تمھاری امرحہ ؟”
“میں ٹھیک ہوں۔ شکریہ ۔” وہ الفاظ ضائع نہ کرتی تو اس کی شکل بتا رہی تھی کہ وہ کتنی ٹھیک ہے۔
“مجھے تم سے بات کرنی ہے۔”
“مجھے معلوم تھا تم آؤ گے۔۔ حساب لینے۔”
“نہیں، اس بار تم نے غلط سمجھا مجھے، میں حساب لینے نہیں بات کرنے کرنے آیا ہوں۔”
دونوں ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیوں پر بیٹھ گۓ۔
“میں گھر گیا تھا تم سے ملنے۔ تم کافی بیمار تھیں، میں واپس آگیا۔”
“مجھے سادھنا نے بتایا تھا اور مجھے خوف آیا تھا تم سے۔”
“اور میں تمھارے بیمار ہوجانے سے ڈر گیا۔”
“کہ میں جلدی نہ مر جاؤں؟ ”
“تمہیں مرنے کی بات نہیں کرنی چاہیئے امرحہ…..زندگی کی روشنی کو ایسی باتوں سے مدھم نہ کرو.”
امرحہ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں مسلیں.
کارل گردن اسکی طرف موڑے اسے ہی دیکھ رہا تھا اور اسے لگ رہا تھا کہ وہ دوسرے عالیان کو ہی دیکھ رہا ہے.اسکی خاموشی بھی اس کی خاموشی جیسی تھی.
“عالیان امریکہ میں ہے. “اس نے یہاں سے بات کرنا شروع مناسب سمجھا.
“میں جانتی ہوں.”امرحہ کی ایک دوسرے میں پیوست ہتھیلیاں لرزنے لگیں.
“تم ایک اچھی لڑکی ہو امرحہ!”وہ نرمی سے بولا.
“اب اس پر مجھے یقین نہیں رہا.”وہ تلخی سے بولی.
“میں دعوا کرتا ہوں کہ تم عالیان کو سمجھیں ہی نہیں.تمہیں کچھ وقت لگا کر اور کچھ عقل استعمال کر کے سمجھنا چاہیے تھا امرحہ!جب اس نے تمہیں پروپوز کیا تھا تو میرے لیے یہ عام سی بات تھی.عالیان نے میرے کتنے ہی بریک اپ کروائے.وہ صرف اتنا کرتا کہ میری فرینڈز کے ساتھ اچھی طرح بات کر لیتا اور انکے ساتھ کچھ وقت گزار لیتا ‘اور انکے لیے کافی یہی ہوتا.یہ سب میرے لیے عام باتیں تھیں.مجھے معلوم ہوتا کہ وہ تم سے بریک اپ کے بعد اس حالت میں آ جائے گا تو میں کبھی ایسا نہ کرتا .میرے لیے وہ ایک مذاق تھا اور اب اندازہ ہوا کہ وہ کافی بےہودہ مذاق تھا.مجھے بعد میں احساس ہواکہ اسے کس قدر برا لگا کہ اسکی مدر پر سوال اٹھے.میں اپنی ماما سے نہیں ملا ‘لیکن اگر کوئی میرے والدین پر سوال اٹھاتا تو میں اسے سبق سکھا دیتا.لیکن عالیان نے کچھ نہیں کیا.اس نے میرے پوچھنے پر کہا کہ اگر انسان درگزر نہ کر سکے تو اسے صبر کرنا چاہئیے. اسنے درگزر بھی کیا اور وہ خاموش بھی رہا.اسکی ڈائری جو کہ میں اسے بتائے بغیر بہت آرام سے پڑھ لیتا ہوں.میں اس نے ایک جگہ لکھا تھا .”میرا یہ افسوس جاتا ہی نہیں کہ مجھ سے کسی کھلونے کی طرح کھیلا گیا .میرا یہ دکھ کم ہونے میں نہیں آ رہا کہ جو مجھے سب سے سچا لگا تھا وہ میرے ہی منہ پر مجھ سے جھوٹ بول گیا.”
اور اس نے ایک جگہ لکھا کہ”جو لڑکی میرے لیے پہلی تھی اس کے لیے میں آخری بھی نہیں تھا.”
اور اس میں لکھا تھا کہ “بہت دکھ ہوتا ہے اس وقت کہ جس کے لیے ہم ساری دنیا کو پیچھے چھوڑ دیں اور وہ خود دنیا میں آگے نکل کر ہمیں پیچھے اکیلا چھوڑ دے.”
کہہ کر کارل خاموش ہوا اور پھر بولا.
“پھر بھی مجھے یقین تھا کہ تم عالیان کو منا لو گی’فاصلہ کم کر لوگی اور ساتھ ہی مجھے یہ خوف بھی تھا کہ تم یہ سب نہیں کر سکو گی’کیونکہ تم بند بند لڑکی ہو….تم نے کبھی اپنی صلاحیتیں آزمایئں ہی نہیں…..اور امرحہ!میں سوچتا ہوں کہ تم نے “بہت کچھ کر سکتی ہوں میں”میں سب کچھ خراب کیسے کر دیا.اور میں تو یہ بھی اب تک نہیں سمجھ سکا کہ تم چاہتی کیا ہو؟تم نے عالیان کو انکار کر دیا اور عالیان کے آس پاس بھی رہیں…..سیف روم کی دیواروں کو تم نی پیغامات سے بھر دیا.یہ سب کیا تھا امرحہ…؟”
“پاگل پن…”وہ رو دینے کو ہو گئی.
“ویرا نی اسے پروپوز کیا تو وہ ایسے خوش نہیں تھا جیسے تمہیں کرنے سے پہلے تھا.امرحہ ہماری زندگی میں شامل ہونے والے شخص میں اتنی ہمت تو ہونی چاہیے کہ وہ جاکر ہمیں جیت لائے اور وہ تمہیں جیت لاتا’اگر تم نے سوال اسکی جان کے پیارے پر نہ اٹھائے ہوتے….عالیان کے فادر اسے ڈھونڈ رہے تھے اور یہ بھی ٹھیک رہتا’اگر تم انہیں بتا دیتیں’لیکن جس وجہ کے لیے تم نے عالیان کا بتایا وہ وجہ ٹھیک نہیں تھی کہ تمہیں اسکے فادر کی موجودگی کی ضرورت ہے.ایک ایسے انسان کی موجودگی کی ضرورت جو اسکے نزدیک اسکی مدر کا قاتل ہے.
Pg#185
کارل رک کر اسے دیکھنے لگا کہ آگے بولے یا نہ بولے۔
امرحہ بس ایک کوشش کر رہی تھی کہ وہ اس کے سامنے رو نہ پڑے۔ اسکی پور پور سے آنسوں ٹپک رہے تھے۔ ایک آنکھوں کو سمبھالنا زیادہ مشکل نہیں لگا اسے۔ وہ عام انسانو کی طرح سیڑھیوں پر بیٹھی تھی، پھر بھی عام انسان نہیں لگ رہی تھی، اس کے دکھ نے اسے نمایاں کر دیا تھا اور اس کے پاس رک کر گٹھنوں کے نل نیٹھ کر اسے تسلی دینے کو جی چاہتا تھا، لین اتنا حوصلہ نہیں پڑتا تھا۔
کیا وہ قسمت کا وہ الہام تھی جس کا ڈھنڈورا قسمت اپنی بنیاد سے پیٹتی ہے۔
“عالیان نے ویرا کو شادی کے لیا ہاں کہہ دیا ہےـ” کارل نے اس کے لیے اپنے انداز کو حد سے زیادہ نرم بنا لیا۔
سائ کے زریعے اسے یہ بات معلوم ہوچکی تھی، لیکن دبارہ یہ سن کر اسے ایسا لگا جیسے یونیورسٹی نے اپنا رخ آتش فشاں کے دہن کی طرف موڑ لیا ہو۔
“اس نے یہ فیصلہ کسی بھی ذہنی حالت میں کیا ہو۔۔ لیکن امرحہ ! اب کوئی نیا ردعمل اسے نئی تکلیف دےگا۔۔ تم سمجھ رہی ہو ناں امرحہ ؟”
“میں پہلے سے ہی سمجھ چکی ہو۔۔ میں یونیورسٹی چھوڑنے کےلیے بھی تیار ہوں۔”
کارل کو اس بات سے صدمہ ہوا “ایسے نہ کہو پلیز۔۔ میں صرف یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ جس حالت میں وہ مجھ سے باتیں کر رہا تھا، وہ ایک ایسی حالت تھی جو اسکی پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔۔ اب کوئی نئی تکلیف اس پر کیا کر گزرے گی اس کا اندازہ میں لگا سکتا ہوں۔۔ تو امرحہ ! میں تم سے صرف یہ درخواست کرتا ہوں کہ اس سے دور رہنا ۔۔ اب تم نے کچھ کرنے کی کوشش کی تو۔۔”
“مجھے کچھ نہیں کرنا۔۔ میں یہ یقین رکھتی ہوں کہ ویرا ایک اچھی لڑکی ہے، عالیان نے ٹھیک فیصلہ کیا۔ میرے سارے عمل جزباتی اور بےوقوفانہ تھے۔ مجھے اپنے ایک ایک عمل پر دکھ اور شرمندگی ہے۔ میں نے تمھارے دوست کو بہت تکلیف دی۔ پاکستان میں میرے بارے میں کہا جاتا ہے کہ میں سب کچھ تباہ کر دینے والوں میں سے ہوں۔ میں وہ سیاہی ہوں جو ساری روشنیاں نگل لیتی ہے۔ میں دوسروں کی خوشیوں پر بجلی بن کر گرتی ہوں۔”
“کیا پاکستان والوں کے پاس وہ آنکھیں نہیں ہیں جو میرے، ویرا، سائی اور عالیان کے پاس ہیں۔۔؟” کارل نے بہت سنجیدگی سے پوچھا۔
امرحہ نے سر جھکا دیا وہ بلکل پھوٹ پھوٹ کر رو دینے کو تھی بس اب۔
کارل نے بہت غور سے اسے دیکھا، “میں جانتا ہوں کہ میں نے میس کیا، اگر وہ ریکارڈنگ عالیان نہ سنتا تو تمھیں لے کر اتنا تلخ نہ ہوتاـ”
“یہ سب ایسے ہی ہونا تھا یہی میری قسمت تھی۔”
“میں قسمت کے بارے میں نہیں سوچتا۔ سب ہمارے اپنے ہوتھ میں ہوتا ہے۔”
“تم مجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہو ۔۔ میں تمھاری طرف سے ملامت کے لیے تیار ہوں۔”
“ملامت کی حق دار صرف میں ہوں۔ صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ مجھ سے دور رہنا۔”
“ہم دوست ہیں امرحہ ۔”کارل دکھی سا ہو گیا۔
“نہیں۔۔ اب ہم کچھ بھی نہیں ہیں۔ ہم اس پر عمل کریں گے تو اچھا رہے گا۔” وہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی اور کارل کو دیکھے بنا تیزی سے آگے بڑھ گئی۔ اور کسی ایسے کونے کو ڈکونڈنے لگی جہاں چھپ کر وہ بیٹھ جاۓ۔
کچھ اس کے ذریعے، کچھ سادھنا کے ذریعے دادا کو سب معلوم ہوگیا تھا۔ وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ جوڑ کر روتے رہے کہ وہ ان کی جان پر رحم کھاۓ ۔
pg#186
۔۔اپنی جان کے ساتھ کچھ نہ کرے۔ ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ اڑ کر مانسچڑ آجائیں۔
ان کے رونے اور ان کی منت سماجت نے امرحہ کو شرمندگی سے زمین میں دھنسا دیا۔ اپنے دل کو وہ کفن میں لپیٹ چکی تھی، دادا کو اذیت میں مبتلا رکھنا نہیں چاہتی تھی۔ دو دن وہ بستر پر پڑی رہی اور دو دن دادا اس کے سامنے رکھے لیپ ٹاپ پر ساکت اسے دیکھتے رہے۔ اس کی آنکھ کھلتی تو وہ سامنے موجود ہوتے جیسے انھوں نے اس دوران پلکھیں بھی نہیں جھپکیں۔ اس بوڑھے شخص کے لیے یہ بہت جان لیوا مشقت تھی۔ غنودگی اور بےہوشی میں وہ جو بڑبڑاتی رہی وہ وہسب سنتے رہے۔ بار بار دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے اور روتے رہتے۔ انھیں یقین تھا کہ جو پھونکیں وہ اسے مار رہے ہیں وہ اس پر کارگر ثابت ہونگی۔ امرحہ سے زیادہ وہ جان کنی میں لگنے لگے، تو امرحہ اس پیارے انسان کی بے مثال محبت میں بستر سے اٹھ بیٹھی، انھیں کھا کر دکھایا، بول کر دکھایا، چل کر دکھایا، ہنس کر دکھایا۔۔ وہ ایک اچھی اداکارہ بن گئی۔ اس نے ایک محبت کے نقصان پر دوسری محبت کو نقصان میں نہیں جانے دیا۔ وہ نہادھو کر یونی آگئی اور ساتھ ساتھ دادا کو دکھاتی رہی کہ وہ کلاس لینے جا رہی ہے۔ اب وہ لائبریری جا رہی ہے۔ اب کینٹین۔ اب جاب پر۔۔
اور فون کو جیب میں رکھتے ہی وہ ایسی ہوجاتی جیسے چار اطراف سے کوئی اس کا خون نچوڑ رہا ہے اور اس کے جسم میں خون سے بھری نالیاں خالی ہوتی جا رہی ہیں۔
دادا اسے یہ سمجھانا بھی نہیں بھولے کہ وہ وہاں پڑھنے کے لیے گئی ہے۔ اور اسے اپنے مقصدحیاتکو پانے پر توجہ دینی چاہیے۔ وہ دادا کو کہہ نہ سکی جب حیات ہی نہ رہے تو “مقصد حیات”کہاں رہ پاتے ہیں۔
دادا ہر پندرہ بیس منٹ بعد اسے فون کرتے تھے۔ “محبت ایسے ہی کمزور کر دیتی ہے اور لاچار بھی۔”
وہ ان کی آواز جو کسی انہونی کے ڈر سے لرز رہی ہوتی سنتی تو سوچنے لگتی۔ شاید آپ کو معلوم ہوجاۓ کہ بے بسی کسے کہتے ہیں اور اپنے کسی پیارے کے بیغر رہنا کیسا لگتا ہے۔ میرے لیے آپ وہاں سو نہیں پاتے، کسی کے لیے میں یہاں سو نہیں پائی، میں ہار بھی گئی اور آپ کو جتوا بھی ڈالا، ایسے کھلاڑی آپ کو صرف “محبت” میں ملیں گے۔ میں کسی کے لیے مر بھی گئی اور آپ کے لیے زندہ بھی ہوں۔ ہاں میں صرف آپ کے لیے زندہ ہوں۔ ———————
ایک لڑکا ہے عالیان۔
عرب کے سلطان سا۔
داستان کے جمال سا۔
آسمانی فرمان سا۔
وہ شارلٹ کے ساتھ آگیا تھا، صرف اور صرف ماما کے لیے۔ وہ اس پر سے اپنی نظریں نہیں ہٹا رہی تھیں اور وہ ٹھیک سے سو بھی نہیں پائی تھیں۔ وہ چاہتا تھا وہ کچھ دیر آرام کرلیں۔ ماما نے اس کی لیے بہترین سوٹ آڈر پر منگوایا تھا، اپنے ہاتھوں سے اس کی ٹائی باندھی تھی، جورڈن سے اس کا ہیر اسٹائل بنوایا تھااور اس کی بھوری آنکھوں کو باری باری چوم لیا تھا۔
“حسن کی تعریف کے لیے تمھارا خیال پیش کر دینا ہی کافی ہے۔ شاید تمھیں کوئی ڈائریکٹر دیکھ لے اور اپنی فلم میں سائن کرلے۔۔ میں تمھیں پہلے ہی بتا دوں تمھیں پہلے ایک ایکشن فلم کرنی ہے۔” وہ چاہتی تھیں کہ وہ مسکرادے۔
“اگر ایسا ہوا تو میں ضرور فلم کروں گا یونی چھوڑ دوں گا۔” وہ اپنی ماما کے لیے مسکرا دیا۔
تم چاہو تو ابھی بھی یونی چھوڑ دو۔۔ یہاںشارلٹ کے پاس رہو، ہوتی رہے گی پڑھائی۔ میں بھی یہیں رہ لوں گی تمھارے ساتھ، ہم اپنا گھر لے لیں گے۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: